Explained with ayahs 81–89
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے
اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 70
یہ قرآن مجید کی نہایت مشکل آیات میں سے ہے جس میں نحو کا یہ نہایت پیچیدہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وَقِیْلِہ میں واؤ کیسا ہے اور اس لفظ کا تعلق اوپر سلسلہ کلام میں کس چیز کے ساتھ ہے۔ مفسرین نے اس پر بہت کچھ کلام کیا ہے مگر کوئی تشفی بخش بات مجھے ان کے ہاں نہیں ملی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ صحیح بات وہی ہے جو شاہ عبدالقادر صاحب ؒ کے ترجمے سے مترشح ہوتی ہے، یعنی اس میں واؤ عطف کا نہیں بلکہ قسمیہ ہے، اور اس کا تعلق فَاَنّیٰ یُؤْفَکُوْنَ سے ہے، اور قِیْلِہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف پھرتی ہے جس پر یَا رَبِّ اِنَّ ھٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ کا فقرہ صریح دلالت کر رہا ہے۔ آیت کا…
Read the full tafseer →(آیت) وَقِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ یہ جملہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ ان کافروں پر غضب خداوندی نازل ہونے کے کتنے شدید اسباب موجود ہیں۔ ایک طرف تو ان کے جرائم فیہ نفسہ سخت ہیں، دوسری طرف وہ رسول جو رحمتہ للعالمین اور شفیع المذنبین بنا کر بھیجے گئے ہیں ﷺ جب خود ان لوگوں کی شکایت کریں اور یہ فرمائش کہ یہ لوگ بار بار فہمائش کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو کس قدر اذیت پہنچائی ہوگی، ورنہ معمولی تکلیف پر رحمت للعالمین ﷺ اللہ تعالیٰ سے ایسی پردرد شکایت نہ فرماتے۔ اس تفسیر کے مطابق وقیلہ ایک آیت پہلے کے لفظ…
Read the full tafseer →وقیلہ یوب ان ھولآء قوم لامنوکن (88)
وقتیلہ کا معطوف علیہ
قیلہ کا عطف اوپر والی آیت میں بالحق پر ہے۔ یعنی وہ صرف حق بات کہیں گے اور ان کی شہادت یہ ہوگی کہ اے رب ! ان کے ایمان نہ لانے میں اصلی قصور انہی کا ہے، یہ خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔ بیچ کی آیت محض استدراک کے طور پر بطور جملہ معترضہ آگئی تھی اس وجہ سے معطوف اور معطوف علیہ میں کوئی معنوی بعد نہیں پیدا ہوا۔ اس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ مشرکین قیامت کے دن اپنے جن مزعومہ شرکاء کو اپنی ضلالت کے لئے بطور عذر پیشک ریں گے وہ شرکاء ان کے اس الزام کو ان کے منہ پر پھینک ماریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
88۔ 1 اللہ کے پاس ہی قیامت اور اپنے پیغمبر کے شکوہ کا علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
23: یہ جملہ یہ واضح کرنے کے لیے لایا گیا ہے کہ ان کافروں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہونے کے کتنے شدید اسباب موجود ہیں۔ ایک طرف تو ان کے جرائم بذات خود بڑے سخت ہیں، اور دوسری طرف حضور نبی کریم ﷺ جو رحمۃ للعالمین اور شفیع المذنبین ہیں، وہ ان کی سفارش کے بجائے ان کی شکایت کریں تو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آپ کو کتنی اذیتیں پہنچائی ہوں گی، ورنہ معمولی بات پر آپ جو سراپا رحمت ہیں ایسی پر درد شکایت نہ فرماتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت نمبر 88 تا 89
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔
٭٭٭٭٭٭
Read the full tafseer →11 یعنی نبی کا یہ کہنا بھی اللہ کو معلوم ہے اور اس کی اس مخلصانہ التجاء اور درد بھری آواز کی اللہ قسم کھاتا ہے کہ وہ اس کی ضرور مدد کرے گا۔ اور اپنی رحمت سے اس کو غالب و منصور کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 88 { وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ } ”اور قسم ہے نبی ﷺ کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لا رہے۔“
یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میری یہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اترآئی ہے۔ نہ تو یہ لوگ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی بطور نبی کے میری تصدیق کرنے کو تیار ہیں۔
Read the full tafseer →80 ایسا وقت غالباً سب پیغمبروں پر آتا ہے۔ جب وہ اپنی قوم کو سمجھانے میں اپنی جان تک کھپا دیتے ہیں۔ پھر بھی اکثر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں تو پیغمبروں کی بات سمجھنے کی بجائے ان کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ تو اس وقت پیغمبر ایسی قوم کے ایمان لانے سے سخت مایوس ہوجاتے ہیں اور ان کی زبان سے بےساختہ ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) نے بھی اسی طرح مایوس ہو کر دعا کی تھی کہ : یا اللہ ! اب ان کافروں میں سے کسی ایک کو زندہ نہ چھوڑ۔ کیونکہ ان بدبختوں کے ہاں جو اولاد ہوگی مجھے ان سے بھی ایمان لانے کی توقع نہیں رہی۔ ان کی اولاد بھی فاسق اور کافر ہی پیدا ہوگی (71: 27) کچھ ایسی صورت حال رسول اللہ…
Read the full tafseer →70۔ (باوجود میری ہر کو شیش اور فہمائش کے) (آیت) ” قیلہ “۔ ضمیرہ رسول کی طرف ہے۔ والھاء یعود الی محمد ﷺ (مدارک) وھو قول الرسول (بیضاوی) قیل قول ہی کی طرح مصدر اس کے مرادف ہے۔ القیل مصدر کالقول (کبیر) القول والقیل واحد (راغب)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →وقیلہ یرب ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون۔ اور اس کو رسول (ا اللہ ﷺ کے کہنے کی بھی خبر ہے کہ اے میرے رب ! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے
Read the full tafseer →اور اس کو رسول اکرم کی اس درخواست کی بھی خبر ہے کہ اے پروردگار یہ لوگ تجھ پر اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے سو ان کے بارے جو کرنا ہے وہ کیجیے۔
Read the full tafseer →وقیلہ یرب ان ھولآء …:”قیل ، قال“ اور ”قول“ تینوں ’ قال یقول“ کے مصدر ہیں، معنی ہے کہنا۔”قتیلہ“ میں ضمیر ”ہ“ رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس آیت کی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سب سے واضح تین ہیں۔ پہلی یہ کہ ”وقیلہ یرب“ قسم ہے : ای اقسم بقولہ یا رب“ اور ”ان ھولآء قوم لایومنون“ جواب قسم ہے۔ یہ تفسیر زمخشری نے کی ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں رسول کے ”یا رب یا رب“ کہنے کی قسم کھاتا ہوں کہ یقیناً یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔ اگلی آیت میں فرمایا :(فاصفح عنھم و قل سلم) اس لئے ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
دوسری…
Read the full tafseer →قیبیلہ میں تین قرأتیں ہیں، نصب، جر اور رفع (1) جہاں تک جر کا تعلق ہے یہ عاصم اور حمزہ کی قرأت ہے جس نے اسے جر دی ہے اس نے اسے معنی پر محمول کیا ہے تقدیر کلام یوں ہوئی جس نے اسے غضب دی ہے اس نے اسے معنی پر محمول کیا ہے تقدیر کلام یوں ہوگی یہ زجاج کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے فراء اور اخفش نے کہا یہ جائز ہے کہ پر ہو ابن انباری نے کہا : میں نے ابو العباس محمد بن یزید مبرو سے پوچھا قیل کو تو کس چیز کے ساتھ نصب دیتا ہے ؟ کہاں میں اسے ہوئی
کے ساتھ نصب دیتا ہے اس توجیہہ کی صورت میں پر عطف اچھا نہیں اور عطف اچھا ہوگا فراء اور اخفش نے قیل کو اس معنی کی بناء پر نصب دی۔ جس طرح ہم نے انسے ذکر کیا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
21:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق وھم یعلمون “ یعنی فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) (حق کی گواہی دیتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات حق ہے) بلاشبہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک شفاعت ہے یعنی سفارش کرسکیں گے۔ )
22:۔ البیہقی (رح) نے الشعب میں مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق “ سے مراد ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے۔
23:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عوف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ایسے ۃ آدمی کے بارے میں جو اپنی شہادت…
Read the full tafseer →وَقِيْلِهٖ [ قسم ہے ان کے قول کی کہ ] يٰرَبِّ [ اے میرے رب ] اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ [ بیشک یہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يُؤْمِنُوْنَ [ایمان نہیں لاتے ]
Read the full tafseer →سورت کے ختم پر فرمایا ﴿وَ قِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَۘ0088﴾ اس میں لفظ قیلہ قول سے لیا گیا ہے یعنی قاف کے کسرہ کی وجہ سے واؤ یا سے بدل گیا ہے حضرت امام عاصم کی قرات میں وَ قِيْلِهٖ جر کے ساتھ ہے کہ ضمیر مجرور مضاف الیہ رسول اللہ ﷺ کی طرح راجع ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ ﴿ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ میں لفظ ﴿السَّاعَةِ ﴾ (مضاف الیہ مجرور) ہے اس پر عطف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قیامت کے وقت کا بھی علم ہے اور وہ اپنے رسول کی اس بات کو بھی جانتا ہے کہ جو انہوں نے اپنے مخاطبین کا حال بتاتے ہوئے عرض کیا کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
51:۔ ” وقیلہ “ واؤ بمعنی ” رُبَّ “ ہے یعنی بہت بار پیغمبر (علیہ السلام) کا یہ کلمہ کہنا ہوا ” ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون “ مشرکین کے ایمان سے مایوس ہو کر آپ سے اللہ کی مشرکین کی شکایت کر تھے کہ میرے پروردگار یہ قوم ایسی سرکش ہوچکی ہے کہ اب وہ ایمان نہیں لائیگی۔ قال ابن عباس شکا الی اللہ تعالیٰ تخلف قوما عن الایمان وقال قتادۃ ھذا نبیکم یشکوا قومہ الی ربہ (خازن ج 6 ص 191) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں قسم ہے اس کے کہنے کی یعنی، اس کے یہ کہنے اور دعاء مانگنے کے سبب سے میں ان کو سزا دوں گا۔ تائید : ” فدعا ربہ ان ھؤلاء قوم مجرمون “ یا واؤ قسمیہ ہے اور ان ” ھؤلاء قوم الخ “ جواب قسم ہے یعنی مجھے پیغمبر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں ان کا اعادہ سورة کے آخر میں کیا جا رہا ہے ۔ مکی سورة ہونے کے ناطے اس میں توحید اس کے عقلی اور نقلی دلائل ، شرک کا ابطال ، مشرکین کا رد ، رسالت و نبوت ، معاد اور جزائے عمل جیسے مضمون آنے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت خاتم النبین ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی آیا ہے۔ اب انہی مضامین کا خلاصہ سورة کے آخر میں بیان کیا جا رہا ہے۔
مسئلہ توحید
آج کے درس میں پہلے توحید کا مسئلہ بیان ہوا ہے وھو الذی فی ………… اور وہ وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور…… میں بھی معبود ہے یعنی اس کے سوا ارض و سما میں کوئی معبود نہیں۔ الوہیت کا مالک صرف…
Read the full tafseer →وَقِيْلِہٖ يٰرَبِّ اِنَّ ہٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ 88 ۘ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…
Read the full tafseer →وَقِیْلِہٖ یٰـرَبِّ اِنَّ ھٰٓـؤُلَآئِ قَوْمٌ لاَّیُؤْمِنُوْنَ ۔ (الزخرف : 88)
(قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے رب یہ وہ لوگ ہیں جو خود ایمان لانے والے نہ بنے۔ )
آیت کی نحوی تحقیق
اس آیت کی نحوی ترکیب میں مفسرین میں اختلاف ہوا ہے۔ بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وَقِیْلِہٖ کا عطف اوپر والی آیت میں بِالْحَقِّ پر ہے یعنی وہ صرف حق بات کہیں گے اور ان کی شہادت یہ ہوگی کہ اے رب ان کے ایمان نہ لانے میں اصلی قصور ان ہی کا ہے۔ یہ خود ایمان لانے والے نہیں تھے۔
بعض مفسرین کا گمان یہ ہے کہ اس میں ” وائو “ عطف کا نہیں بلکہ قسمیہ ہے۔ اور اس کا تعلق فَاَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَسے ہے۔ اور قِیْلِہٖ کی ضمیر رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ کسی کو شریک بناتے ہیں ان سے سوال کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی توحید سمجھانے کے لیے بیشمار اسلوب اختیار فرمائے ہیں جن میں ایک اسلوب اور طریقہ یہ بھی اختیار کیا ہے کہ مشرکوں سے پوچھا جائے کہ خود ان کی ذات کو کس نے پیدا کیا ہے۔ اس سوال کا یہ بھی مفہوم ہے کہ جن کو تم پکارتے ہو ان کو کس نے پیدا کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہر دور کے مشرک اور کافر یہی جواب دیتے ہیں اور دیتے رہیں گے کہ ہم سب کو صرف ایک ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے سوا دوسروں کو پکارنے کا کیا جواز ہے ؟ جو لوگ حقیقت مان کر بھی سچا…
Read the full tafseer →عظمت و شان پیغمبر ﷺ :
آیت 88: وَقِیْلِہٖ (اور اس کو رسول کے اس کہنے کی بھی خبر ہے)
قراءت : عاصم ٗ حمزہ ٗ نے جرّسے پڑھا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے وعندہ علم الساعۃ و علم قیلہ۔ اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے اور اس کے پاس اس قول کی خبر ہے۔
یٰرَبِّ (اے میرے رب ! ) قیلہٖ کی ہٗ ضمیر حضرت محمد ﷺ کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ آپ کا تذکرہ پہلے ہوا۔ اس ارشاد میں۔ قل ان کان للرحمان ولد فانا اول العابدین۔ ] الزخرف۔ 81[
باقی قراء نے نصب سے پڑھا ہے۔ اور اس کو الساعۃ کے محل پر معطوف کیا ہے۔ ای یعلم الساعۃ یعلم قیلہ۔ ای قیل محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا رب وہ قیامت کو جانتا اور محمد ﷺ کے قول کو جانتا ہے۔
القیل۔ القول ٗ…
Read the full tafseer →87، ولئن سالتھم من خلقھم لیقولن اللہ فانی یؤ فکون، اس کی عبادت سے پلٹے جارہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
85۔ 89۔ مشرکین مکہ کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو جن فرشتوں کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کریں گے۔ یہ مشرک لوگ قیامت کے توقائل نہیں تھے اس لئے اس سفارش کا مطلب ان لوگوں کے نزدیک یہ تھا کہ دنیا کی بہبودی کے باب میں فرشتے ان لوگوں کی سفارش کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح زمین میں اللہ کی مخلوقات ہے اسی طرح آسمان پر فرشتے ہیں کیونکہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کا ہی راج ہے اور اس کے حکم کے آگے سب عاجز اور بےاختیار ہیں اس واسطے ایسی بےاختیار مخلوقات میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت 84
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ (آیت) ” ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” اور آسمانوں اور زمین اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
شہادت ، علم کی بنیاد پر ہونی چاہیے
قول باری ہے (الا من شھد بالحق وھم یعلمون۔ ہاں جن لوگوں نے حق کے بارے میں گواہی دی اور وہ جانتے بھی ہیں) آیت دو باتوں کو متضمن ہے۔ اول یہ کہ حق کی گواہی علم کے ساتھ ہی نافع ہوتی ہے۔ نیز مسلک کی صحت کا علم نہ ہونے کی صورت میں اس کی تقلید کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوم یہ کہ حقوق اور غیر حقوق کے بارے میں دی جانے والی تمام گواہیوں کی شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والے کو ان کا علم بھی ہو۔
اس مضمون کی حضور ﷺ سے روایت بھی ہے آپ نے فرمایا (اذارایت مثل الشمس فاشھدوا الافدع۔ اگر تم نے کوئی واقعہ اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جس طرح تم سورج کو دیکھ رہے ہو تو اس کی گواہی دو ورنہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
119 منکرین سے صرف نظر اور متارکت کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے منکرین و معاندین سے صرف نظر اور ان کیلئے سلام متارکت کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور ایسے سلام کو " سلام متارکت " کہا جاتا ہے۔ یعنی سب کچھ پوری طرح واضح کردینے کے باوجود تم لوگ اگر نہیں مانتے تو تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنِ } ۔ سو اس میں پیغمبر ﷺ کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کیلئے یہ تعلیم و تلقین ہے کہ جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑ جائیں تو ان سے الجھنے کی بجائے انکو سلام متارکت کہہ کر ان سے الگ ہوجاؤ کہ ایسوں سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ پتھر پر جونک لگانے سے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ہم پیغمبر ﷺ کی اس درد بھری شکایت کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ کافروں کے مقابلہ میں اس کی ضرور مدد کی جائیگی۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب وقیلہ میں وائو کو قسمیہ مانا جائے۔ بعض مفسرین (رح) نے اسے برائے عطف مانتے ہوئے آیت کا تعلق ( وعندہ علم الساعۃ) سے قرار دیا ہے۔ یعنی اس کے پاس قیامت کا علم بھی ہے اور پیغمبر کے اس کہنے کا بھی کہ۔۔۔۔۔ واللہ اعلم ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(43:88) وقیلہ۔ واؤ عاطفہ ہے قیلہ مضاف مضاف الیہ (قیل قول ہی کی طرح ہے اور مصدر ہے اور اس کے مرادف ہے اس کا عطف الساعۃ پر ہے یعنی اللہ کو قیامت کا اور نبی ﷺ کے اس قول کا علم ہے کہ اے میرے رب مکہ کے یہ کافر ایمان نہیں لاتے ۔ بعض کے نزدیک یہ مجرور ہے اور حرف قسم مضمر ہے اور تقدیر کلام ہے واقسم بقیلہ معنی یہ ہوں گے مجھے اس کے (یعنی رسول کے) یہ کہنے کی قسم کہ اے رب یہ قوم ایمان نہیں لاتی۔ جواب قسم محذوف ہے ای لننصرنہ ہم ضرور اس کی (یعنی رسول کی) مدد کریں گے۔
یرب ان ھؤلاء قوم لا یؤمنون ۔ یہ مقولہ ہے۔ قیلہ کی تعریف : اے میرے پروردگار یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
(ف 2) نبی ﷺ نے شکایت کے طورجو کہا کہ اے رب، یہ لوگ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے، تیرے رسول و قرآن کو نہیں مانتے باوجود ہر وقت کی نصیحت کے کسی طرح راہ راست پر نہیں آتے، اللہ کے رسول کا یہ قول سچا ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی قوم کی قسم کھاکر اس کی صداقت کو جتلاتا ہے یہ اللہ تبارک وتعالی کا نبی ﷺ کے قول مبارک کی قسم فرمانا، حضور ﷺ کے اکرام اور حضور کی دعاوالتجا کے احترام کا اظہار ہے فرمایا، اے محبوب ﷺ درگزر کرو اور اپنا فرض تبلیغ ادا کرکے ادھر سے منہ پھیر لو اور کہہ دو کہ اچھا نہیں مانتے تو ہمارا اسلام لو، بس عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ کسی غلطی میں پڑے ہوئے تھے چناچہ کچھ تو دنیا میں ہی پتہ لگ گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
[38] یعنی نبی کا یہ کہنا بھی اللہ کو معلوم ہے اور اس کی مخلصانہ التجا اور دردبھری آواز کی اللہ قسم کھاتا ہے کہ وہ اس کی ضرور مدد کرے گا اور اپنی رحمت سے اسے غالب کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 1: یعنی جس خدا کی آسمانوں میں بھی پرستش ہوتی ہو اور زمین میں بھی ۔ جو سینے کے بھیدوں کو جانتا ہو ۔ جس کے ہر چیز تابع اور مسخر ہو ۔ جو کائنات کو تہ وبالا کردینے پر قادر ہو ۔ اور اس کے متعلق کامل معلومات بھی رکھتا ہو ۔ جس کے پاس سب چھوٹوں اور بڑوں کو جانا ہو ۔ اور اپنے اعمال کو محاسبہ کے لئے پیش کرتا ہو ۔ جس کے ہاں کسی کی سفارش نہ چلے ۔ بجز ان لوگوں کے جو اہل حق وصداقت ہی ۔ اور جن کو وہ خود اجازت دے گا ۔ اور جس کی وحدانیت کی گواہی فطرت انسانی دے ۔ اور پکار اٹھے ۔ کہ اس کے سوا اور کوئی کائنات کا خالق نہیں ہے اس کو اولاد کی بھلا کیا ضرورت ہے ؟ اور عزیز داری کی کون حاجت ؟ اس کی ذات کی بلندی اور…
Read the full tafseer →(88) اور قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے میرے پروردگار یہ کفار قریش ایک ایسی قوم ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
ف 1۔ یعنی ان کے ایمان کا اہتمام اور اس کی امید نہ کیجئے، کیونکہ جب ان کا یہ انجام مقدر ہے تو یہ کیا ایمان لاویں گے۔
Read the full tafseer →اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے ، آپ ﷺ کی یہ بات سنی جا رہی ہے
88 ؎ گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ” اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ کس نے انہیں پیدا کیا “ آپ ﷺ سے کون مراد ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس سے مراد نبی اعظم و آخر ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کی وساطت سے ہر ایک داعی الی اللہ۔ زیر نظر آیت میں { قیلہٖ } کی ضمیر نبی کریم ﷺ ہی کی طرف ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ہر داعی الی اللہ کی طرف کہ رسول اللہ ﷺ کی اس پکار کا علم بھی اللہ کو ہے اور اللہ کو علم ہے کہ ہر داعی الی اللہ کی بھی یہی پکار ہے کہ ” یہ لوگ ایمان نہیں لاتے “ اور ظاہر ہے کہ ان کا ایمان نہ لانا بھی اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور داعی الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
وَقِيلِهِ يَا رَبِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ (And [ Allah has the knowledge ] of His prophet's saying, "0 my Lord, these are a people who do not believe." 43:88) The point made by this sentence is that there are very serious reasons for Allah's wrath descending upon these infidels. On the one hand, there are their severe crimes themselves, and on the other when the Messenger ﷺ ، who has been sent as a "blessing for the world" and "interceder for the sinners", himself complains against them and says that these people do not believe, despite repeated good counsels given to…
Read the full tafseer →70 This is one of the most difficult verses of the Qur'an as it involves the complicated syntactic question of the kind of waw that has been used in wa qil-i-hi. From the translation of Shah 'Abdul Qadir it appears that the waw here is not conjunctive but for taking oath, and is related to fa-anna yu'fakun, and the pronoun in gili-hi turns to the Holy Prophet of Allah. Therefore, the verse means this: "By this saying of the Messenger: `O my Lord, these arc a people who would not believe'": they are so utterly deluded that although they themselves admit that Allah alone is their Creator and…
Read the full tafseer →