Az-Zukhruf 43:86

Az-Zukhruf · from ayah 86

43:86

وَلَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَـقِّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those they invoke besides Him do not possess [power of] intercession; but only those who testify to the truth [can benefit], and they know.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:86

اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

— مولانا فتح محمد جالندہری

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ لوگ اسے چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہیں، انہیں کوئی سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، ہاں البتہ جن لوگوں نے حق بات کی گواہی دی ہو، اور انہیں اس کا علم بھی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا (کوئی) اختیار نہیں رکھتے مگر (ان کے برعکس شفاعت کا اختیار ان کو حاصل ہے) جنہوں نے حق کی گواہی دی اور وہ اسے (یقین کے ساتھ) جانتے بھی تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے الا یہ کہ جس نے علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن کو یہ اس کے علاوہ پکارتے ہیں وہ سفارش پر اختیار نہیں رکھیں گے مگر وہ جو حق کی گواہی دیں گے اور وہ جانتے بھی ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے سوا جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں وہ تو کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے مگر جنہوں نے حق کی گواہی بھی دی ہو اور وہ علم بھی رکھتے ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انہیں تو سفارش (تک) کا اختیار نہیں ہاں جن لوگوں نے حق کا اقرار کیا اور تصدیق بھی کرتے رہے (وہ البتہ سفارش کرسکیں گے)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں وہ سفارش کرسکتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Those whom they call upon, instead of Allah have no power of intercession, except such that testify to the truth based on knowledge.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those whom they invoke besides Him have no power to intercede; but those who bear witness to the truth, while they have knowledge (may intercede for the believers with Allah‘s permission).

— Muhammad Taqi Usmani

And those whom they invoke besides Him have no power to intercede; but those who bear witness to the truth, while they have knowledge (may intercede for the believers with Allah‘s permission).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those whom they invoke instead of Him have no power of intercession -- except for those who bear witness to the truth knowingly, and they know.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those unto whom they cry instead of Him possess no power of intercession, saving him who beareth witness unto the Truth knowingly.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those they invoke besides Him do not possess [power of] intercession; but only those who testify to the truth [can benefit], and they know.

— Saheeh International

Those whom they worship besides God are not able to intercede, except for those among them who believe in the Truth (God) and who know whom to intercede for.

— Muhammad Sarwar

And those whom they call upon besides Him have no authority for intercession, but he who bears witness of the truth and they know (him).

— Muhammad Habib Shakir

And those whom they call upon beside Him own not the power of intercession save those who have borne witness to the truth and who know.

— Abdul Majid Daryabadi

And those whom they invoke besides Allah have no power of intercession;- only he who bears witness to the Truth, and they know (him).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–89

جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّخْرُف 68 اس فقرے کے کئی مفہوم ہیں ایک یہ کہ لوگوں نے جن جن کو دنیا میں معبود بنا رکھا ہے وہ سب اللہ کے حضور شفاعت کرنے والے نہیں ہیں۔ ان میں سے جو گمراہ و بد راہ تھے وہ تو خود وہاں مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔ البتہ وہ لوگ ضرور دوسروں کی شفاعت کرنے کے قابل ہوں گے جنہوں نے علم کے ساتھ (نہ کہ بےجا نے بوجھے) حق کی شہادت دی تھی۔ دوسرے یہ کہ جنہیں شفاعت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا وہ بھی صرف ان لوگوں کی شفاعت کرسکیں گے جنہوں نے دنیا میں جان بوجھ کر (نہ کہ غفلت و بیخبر ی کے ساتھ) حق کی شہادت دی ہو۔ کسی ایسے شخص کی شفاعت نہ وہ خود کریں گے نہ کرنے کے مجاز ہوں گے جو دنیا میں حق سے برگشتہ رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–87

معارف و مسائل (آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفعۃ الامن شھد بالحق وھم یعلمون 86 یہ والیہ ترجعون کی وضاحت ہے یعنی مشرکین اس وہم باطل میں مبتلا ہیں کہ ان کے مولیٰ و مرجع ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہوں گے جو سفارش کر کے ان کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ فرمایا کہ جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت پر کوئی اختیار نہیں رکھیں گے۔ اس دن فیصلہ تمام تر اللہ کے اختیار میں ہوگا اور وہ بالکل حق کے مطابق فیصلہ فرمائے گا۔ واللہ یقضی بالحق والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء (المومن :20) (اور اللہ بالکل حق کے مطابق فیصلہ فرمائے گا اور جن کو یہ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی بات کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔) جوگواہی دے گا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

86۔ 1 یعنی دنیا میں جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ان معبودوں کو شفاعت کا قطعًا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ 86۔ 2 حق بات سے مراد کلمہ توحید لا الٰہ الا اللہ ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو یعنی زبان سے کلمہ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 82–86

22: یعنی جن بتوں وغیرہ کو مشرکین نے اس اعتقاد سے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے تو درحقیقت ان کو سفارش کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ کسی کے بارے میں سچی گواہی دیں، اور پورے علم کے ساتھ دیں کہ وہ واقعی مومن تھا تو اس کی گواہی بیشک قبول کی جائے گی اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”جن لوگوں نے حق کی گواہی دی ہو“ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی گواہی دی ہو، ایسے لوگوں کی سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قبول کی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 84–86

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات : آیت نمبر 84 تا 86 یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اتنی سفارش کرسکتے ہیں کہ جس نے ان کے علم کے موافق کلمہ اسلام کہا اس کی گواہی دیں۔ بغیر کلمہ اسلام کسی کے حق میں ایک حرف سفارش کا نہیں کہہ سکے۔ اور اتنی سفارش بھی صالحین کریں گے جو سچائی کو جانتے اور اس کو زبان و دل سے مانتے ہیں۔ دوسروں کو اجازت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 { وَلَا یَمْلِکُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ } ”اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکار رہے ہیں اللہ کے سوا ‘ سوائے اس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں۔“ ظاہر بات ہے وہاں تو کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکال سکے گا ‘ لہٰذا وہاں پر گواہی صرف حق ہی کی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 85–86

78 سفارش کی اجازت کیسے لوگوں کو ہوگی اور کن کے حق میں ہوگی ؟:۔ یعنی ایسے معبود جن کو لوگوں نے معبود قرار دے لیا تھا حالانکہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حق کے گواہ اور اس کے علمبردار تھے، وہ سفارش کرسکیں گے۔ جیسے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) یا سیدنا عزیر (علیہ السلام) یا فرشتے یا وہ بزرگ جنہیں لوگوں نے الوہیت کا مقام دے رکھا تھا مگر وہ خود ساری عمر شرک سے منع کرتے رہے اور کلمہ حق یعنی توحید کے علمبردار بنے رہے ایسے لوگوں کو اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے گا مگر ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے انہیں معبود بنا رکھا تھا بلکہ صرف ان گنہگاروں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جنہوں نے کلمہ حق یعنی توحید کی علم و یقین کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ مسئلہ شفاعت جیسا کہ مسیحیوں اور بعض دوسری قوموں میں چلا ہوا ہے، سر تاسر باطل وبے اصل ہے، اس عقیدہ کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی بھی ہے جو اس معنی میں خدائی طاقت رکھتی ہے اور قیامت میں سابقہ اسی سے پڑے گا۔ وہ جسے چاہے معاف کردے۔ پھر یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ پر زور اور دباؤ ڈال کر فیصلہ اپنی اولاد اور اپنے متوسلین کے حق میں کرالے گا۔ اسلام نے ان سب لغویات کی تردید کی، اس نے بار بار بتایا کہ فیصلے تو سارے کے سارے صرف حق تعالیٰ کرے گا۔ علم اس کا کامل، مصلحتوں پر پوری پوری نظر اس کی۔ پھر اسے حاجت ہی کسی کی شرکت یا اعانت کی کیا ہے۔ ، البتہ خالق کے حضور میں مخلوق دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 68–89

آیت نمبر 68 تا 89 ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ الا من شھد بالحق وھم یعلمون اور اللہ کے سوا جن معبودوں کو یہ پکارتے ہیں ‘ وہ (ان کی) شفاعت کا اختیار نہیں رکھیں گے ‘ ہاں جن لوگوں نے (کلمۂ ) حق (یعنی ایمان) کا اقرار کیا تھا اور تصدیق بھی کرتے تھے (ان کو شفاعت کا اختیار ہوگا) ۔ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یعنی بت جن کو کافر پکارتے ہیں (اور ان کی پوجا کرتے ہیں) ۔ مَنْ دُوْنِہٖ اللہ کے سوا ‘ یعنی کافر جو خیال کرتے ہیں کہ بت ان کی شفاعت کریں گے ‘ ایسا نہیں ہوگا ‘ بتوں کو شفاعت کا اختیار نہیں ہوگا۔ اِلاَّ مَنْ شَھِدَ بالْحَقِّ جو لآ الٰہ الاّ اللہ کا اقرار کرتے ہیں۔ اس مطلب پر استثناء منقطع ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جھوٹے معبود اور فرشتے کسی کے لیے سفارش تک کا حق بھی نہیں رکھیں گے مگر جن لوگوں نے کلمہ طیبہ کا خلوص کے ساتھ اقرار کیا تھا اور وہ دل سے اس کی تصدیق بھی کیا کرتے تھے، بنو ملیح فرشتوں کو نعوذ باللہ اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ …: پچھلی آیت میں ”من دون اللہ“ کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور ان کے درمیان کی کسی بھی چیز کی ملک ہونے کی نفی تھی، اس آیت میں ان سے شفاعت کی مل کیت کی بھی نفی فرما دی۔ (2) اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، دونوں مراد ہوسکتی ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ پہلی یہ کہ مشرکین جن ہستیوں کو یہ سمجھ کر پکارتے ہیں کہ وہ ان کی شفاعت کریں گی ان کے پاس شفاعت کا کوئی اختیار نہیں، مگر وہ لوگ جنہوں نے کلمہ حق یعنی ”لا الہ الا اللہ“ کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ وہ اس کا یقین رکھتے تھے، مثلاً فرشتے، عیسیٰ ؑ اور اللہ کے دوسرے مقرب بندے۔ وہ چونکہ حق (توحید) کا یقین رکھ کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: محل جر میں ہے سے مراد حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیز اور ملائیکہ (علیہ السلام) ہیں، یعنی یہ شفاعت کا حق نہیں رکھتے مگر اس کے حق میں جو حق کی گواہی دے اور علم و بصیرت پر ایمان لائے یہ سعید بن جبیر اور دوسرے علماء کا قول ہے کہا : حق کی شہادت لا الہ الا اللہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : من محل رفع میں ہے یعنی جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ شفاعت کا حق نہیں رکھتے۔ مراد معبود ان باطلہ ہیں۔ قتادہ کے قول میں ہے : معبود اپنے عبادت گزاروں کے حق میں شفاعت نہیں کرسکتے مگر وہ معبود جو حق کی گواہی دیں جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ملائیکہ کیونکہ وہ حق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 86–88

21:۔ عبد بن حمید (رح) وعبد الرزاق (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق وھم یعلمون “ یعنی فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) (حق کی گواہی دیتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات حق ہے) بلاشبہ ان کے لئے اللہ کے نزدیک شفاعت ہے یعنی سفارش کرسکیں گے۔ ) 22:۔ البیہقی (رح) نے الشعب میں مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ الا من شھد بالحق “ سے مراد ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے۔ 23:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عوف (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ایسے ۃ آدمی کے بارے میں جو اپنی شہادت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ [ اور اختیار نہیں رکھتے وہ لوگ جن کو ] يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ [ یہ لوگ پکارتے ہیں اس کے علاوہ ] الشَّفَاعَةَ [ شفاعت کا ] اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے جس نے ] شَهِدَ بِالْحَقِّ [ گواہی دی حق کی ] وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ [ اس حال میں کہ وہ لوگ جانتے ہیں ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 86 ۔ میں اِلَّا مَنْ شَهِدَ میں استثناء منقطع ہے یعنی اس سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہیں ہوگا ، البتہ اللہ تعالیٰ جس کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دے گا اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کو گواہی دینے والے جانتے ہوں گے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ خدا کے سامنے صرف وہ لوگ زبان کھولیں گے جن کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–87

پھر فرمایا ﴿ وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ ﴾ (الآیۃ) اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اس بات کے بھی اقراری ہیں کہ خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اپنی حماقت سے غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اسی کو فرمایا ﴿ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ﴾ سو یہ لوگ کہاں الٹے جا رہے ہیں پیدا کیا اللہ نے اور عبادت کریں غیر اللہ کی یہ تو عقل اور فہم سے بہت دور ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–89

تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ ” ولا یملک۔ الایۃ “ اس سورت میں چونکہ یہی ایک زائد مضمون مذکور ہے اس لیے یہی سورت کا دعوی ہے اور مشرکین کے شبہہ کا جواب ہے۔ کہ ہم نے مان لیا کہ ہمارے معبود حاجت روا نہیں ہیں اور ساری کائنات میں متصرف اور سب کچھ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن ہم ان کی عبادت صرف اس خیال سے کرتے ہیں کہ وہ ہمارے سفارشی ہیں اور خدا سے ہمارے کام کرا دیتے ہیں۔ تائید : ” ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعہم ویقولون ھؤلاء شفعاءنا عنداللہ “ (یونس رکوع 4) تو جواب دیا گیا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن کو حاجات میں پکارتے ہیں انہیں شفاعت کا کوئی اختیار نہیں۔ ” الا من شہد الخ “ یہ استثناء منقطع ہے اور شہادت حق سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 84–89

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں ان کا اعادہ سورة کے آخر میں کیا جا رہا ہے ۔ مکی سورة ہونے کے ناطے اس میں توحید اس کے عقلی اور نقلی دلائل ، شرک کا ابطال ، مشرکین کا رد ، رسالت و نبوت ، معاد اور جزائے عمل جیسے مضمون آنے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت خاتم النبین ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی آیا ہے۔ اب انہی مضامین کا خلاصہ سورة کے آخر میں بیان کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ توحید آج کے درس میں پہلے توحید کا مسئلہ بیان ہوا ہے وھو الذی فی ………… اور وہ وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور…… میں بھی معبود ہے یعنی اس کے سوا ارض و سما میں کوئی معبود نہیں۔ الوہیت کا مالک صرف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ وَہُمْ يَعْلَمُوْنَ۝ 86 دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–89

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ یَمْلِکُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ الشَّفَاعَۃَ اِلاَّ مَنْ شَھِدَ بِالْحَقِّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزخرف : 86) (اللہ کو چھوڑ کر جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، بجز ان لوگوں کے جو حق کی گواہی دیں اور وہ علم بھی رکھتے ہوں۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ انسان اس بات کو خوب جانتا ہے کہ زمین و آسمان اور ان دونوں کے درمیان کس کی حکومت اور کس کا ارادہ کارفرما ہے۔ باایں ہمہ نہ جانے ان کے ذہنوں میں یہ بات کہاں سے آجاتی ہے کہ مخلوقات میں سے بعض مخلوقات ایسی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا حق دے رکھا ہے۔ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–86

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ جبکہ زمین و آسمانوں کا وہی بادشاہ ہے اور ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ملائکہ یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک یا اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں تاکہ وہ ان کی قیامت کے دن سفارش کریں۔ اہل مکہ کے سامنے جب بھی قیامت کا ذکر کیا جاتا تو وہ چلّا کر کہتے کہ قیامت کب آئے گی ؟ ہر موقع پر انہیں اس بات کا شافی جواب دیا گیا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہتے تھے۔ اس بار یہ جواب دیا گیا کہ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسی کی ملک ہیں۔ وہی قیامت کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شفاعت کا اختیار مسلمانوں کو : آیت 86: وَلَا یَمْلِکُ (اور اختیار نہ رکھیں گے) یعنی ان کے معبود الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ (جن کو یہ پکارتے ہیں) یعنی جن کو پکارتے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖ (اس کے سوا) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا الشَّفَاعَۃَ (سفارش کے) جیسا کہ ان کا خیال ہے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے سفارشی ہونگے۔ اِلاَّ مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ (مگر جس سے حق کا اقرار کیا تھا) یعنی لیکن جس نے حق کا اقرار کلمہ توحید کے ساتھ کیا۔ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ (اور وہ تصدیق بھی کیا کرتے تھے) کہ اللہ تعالیٰ ان کا سچا رب ہے اور اس کا دلوں سے اعتقاد رکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہونگے جن کو شفاعت کا اختیار دیا جائے گا۔ نحو : یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(85) و تبارک الذی لہ ملک السموات والارض وما بینھما وعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون، ابن کثیر اور کسائی رحمہما اللہ نے ، یرجعون، یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–89

85۔ 89۔ مشرکین مکہ کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو جن فرشتوں کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کریں گے۔ یہ مشرک لوگ قیامت کے توقائل نہیں تھے اس لئے اس سفارش کا مطلب ان لوگوں کے نزدیک یہ تھا کہ دنیا کی بہبودی کے باب میں فرشتے ان لوگوں کی سفارش کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح زمین میں اللہ کی مخلوقات ہے اسی طرح آسمان پر فرشتے ہیں کیونکہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کا ہی راج ہے اور اس کے حکم کے آگے سب عاجز اور بےاختیار ہیں اس واسطے ایسی بےاختیار مخلوقات میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 84–89

آیت 84 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ (آیت) ” ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” اور آسمانوں اور زمین اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 86–89

شہادت ، علم کی بنیاد پر ہونی چاہیے قول باری ہے (الا من شھد بالحق وھم یعلمون۔ ہاں جن لوگوں نے حق کے بارے میں گواہی دی اور وہ جانتے بھی ہیں) آیت دو باتوں کو متضمن ہے۔ اول یہ کہ حق کی گواہی علم کے ساتھ ہی نافع ہوتی ہے۔ نیز مسلک کی صحت کا علم نہ ہونے کی صورت میں اس کی تقلید کا کوئی فائدہ نہیں۔ دوم یہ کہ حقوق اور غیر حقوق کے بارے میں دی جانے والی تمام گواہیوں کی شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والے کو ان کا علم بھی ہو۔ اس مضمون کی حضور ﷺ سے روایت بھی ہے آپ نے فرمایا (اذارایت مثل الشمس فاشھدوا الافدع۔ اگر تم نے کوئی واقعہ اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جس طرح تم سورج کو دیکھ رہے ہو تو اس کی گواہی دو ورنہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

113 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید : سو اس ارشاد سے مشرکین کے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید فرما دی گئی۔ مشرکین کا کہنا یہ تھا اور یہ ہے کہ ہمارے یہ معبود اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ { ہٓؤُلآئِ شُفَعَائُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ } ۔ اور جیسا کہ کلمہ گو مشرکوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تو بس فلاں سرکار کا لڑ پکڑ لیا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ یہ وہاں پر اڑ کے بیٹھ جائیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے۔ اور ہمارا کام بن جائے گا۔ آخر جہاں سے اونٹ گزرے گا وہاں سے اس کی دم بھی گزر جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو اس ارشاد ربانی سے مشرکوں کے ایسے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی جڑ نکال دی گئی اور انکے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 68–89

فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 68–89

آیات 68 تا 89۔ اسرار ومعارف۔ اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔ آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ، حضرت عزیز ( علیہ السلام) اور فرشتے۔ وہ چونکہ حق توحید کا یقین رکھ کر اس کی گواہی دیتے تھے اور انہوں نے کبھی لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے سفارش کرسکیں گے۔ رہے بت اور دوسرے جھوٹے دیوتا جن کی مشرکین پوجا کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکیں گے بلکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ کسی کی سفارش کیا کریں گے ؟ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کافر خدا کے سوا جن کو پکارتے ہیں ان میں سے جن کو سفارش کرنے کا حق حاصل ہوگا وہ انہی کی سفارش کریں گے جنہوں نے دنیا میں صدق دل سے توحید کی گواہی دی اگرچہ عمل میں کوتاہی ہوگئی۔ بہر حال مشرکین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:86) ولا یملک الذین یدعون من دونہ الشفاعۃ : واؤ عاطفہ : لا یملک مضارع منفی واحد مذکر غائب ملک مصدر (باب ضرب) مالک نہیں ہے یا اختیار نہیں رکھتا ہے۔ الذین اسم موصول جمع مذکر۔ یدعون مضارع جمع مذکر غائب ۔ دعوۃ اور دعاء (باب نصر) مصدر۔ وہ پوجتے ہیں۔ وہ پکارتے ہیں۔ صلہ اپنے موصول کا۔ من دونہ اس کے درے۔ الشفاعۃ شفع یشفع (باب فتح) کا مصدر بحالت مفعول ہے۔ لایملک فعل ، الذین یدعون من دونہ فاعل۔ الشفاعۃ مفعول ۔ اللہ کے سوا جن کی بھی یہ پوجا کرتے ہیں وہ (یعنی معبودان باطل) سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ الا۔ حرف استثناء الحق ای التوحید ، شھد ماضی واحد مذکر غائب شھادۃ (باب سمع) گواہی دینا۔ اقرار…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–89

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 85–87

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جن فرشتوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں قیامت کے دن وہ فرشتے ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہوجائیں گے ، اور وہ فرشتے کسی کی سفارش ہرگز نہیں کرسکتے، مگر اس کی جس کے دل میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہو، ان مشرکوں کے بتوں میں یہ دونوں باتیں نہیں ، اس لیے یہ بت تو سفارش کے قابل نہیں اور جن کی مشکل کے وقت یہ بت ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہیں پھر ان مشرکوں کی سفارش کون کرے گا، اور یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قیامت کے آنے کا جو وقت ٹھہرچکا ہے اس وقت قیامت ضرور آنے والی ہے اور اس دن اس شرک کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو ضرور حاضر ہوناپڑے گا، اور سوا پچھتاوے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–86

[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 86–89

ف 1: یعنی جس خدا کی آسمانوں میں بھی پرستش ہوتی ہو اور زمین میں بھی ۔ جو سینے کے بھیدوں کو جانتا ہو ۔ جس کے ہر چیز تابع اور مسخر ہو ۔ جو کائنات کو تہ وبالا کردینے پر قادر ہو ۔ اور اس کے متعلق کامل معلومات بھی رکھتا ہو ۔ جس کے پاس سب چھوٹوں اور بڑوں کو جانا ہو ۔ اور اپنے اعمال کو محاسبہ کے لئے پیش کرتا ہو ۔ جس کے ہاں کسی کی سفارش نہ چلے ۔ بجز ان لوگوں کے جو اہل حق وصداقت ہی ۔ اور جن کو وہ خود اجازت دے گا ۔ اور جس کی وحدانیت کی گواہی فطرت انسانی دے ۔ اور پکار اٹھے ۔ کہ اس کے سوا اور کوئی کائنات کا خالق نہیں ہے اس کو اولاد کی بھلا کیا ضرورت ہے ؟ اور عزیز داری کی کون حاجت ؟ اس کی ذات کی بلندی اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(86) اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو یہ منکر پکارتے اور پوجتے ہیں وہ شفارش اور شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے مگر ہاں وہ لوگ جو حق بات کی زبان سے گواہی دیتے ہیں اور دل سے اس حق بات کو جانتے اور اس کا یقین رکھتے ہیں۔ یعنی جو لوگ کلمہ توحید کے قائل اور زبان سے گواہی دینے والے اور دل سے توحید کا یقین کرنے والے ہیں وہ بیشک اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی اجازت سے اہل ایمان کی سفارش کرسکیں گے تو ان کی شفاعت سے کفار کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اتنی سفارش کرسکتے ہیں کہ جس نے کلمہ اسلام کہا ان کی خبر میں اس کی گواہی دیتے ہیں بغیر کلمہ اسلام سب کے حق میں کہہ سکتے سو اتنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–86

ف 6۔ یعنی البتہ وہ باذن الہی اہل ایمان کی سفارش کرسکیں گے، مگر اس سے کفار کو کیا فائدہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کوئی شخص بھی سفارش کا حق نہیں رکھتا جیسا کہ مشرکین عقیدہ رکھتے ہیں 68 ؎ نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انسان کے درجہ سے اٹھا کر رحمن کے درجہ تک بڑھایا اور اللہ ، اللہ کا بیٹا اور اللہ کا تیسرا جزء قرار دیا۔ قریش مکہ نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور جِنّوں سے اس کا حسب و نسب جوڑا۔ بعض نے ستاروں میں بعض نے چاند میں اور بعض نے سورج میں اس کو جھانکا اور کتنے ہیں جن کو آگ میں نظر آیا اور پھر کتنے ہیں جو نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور دوسری کئی ایک مخلوق میں اس کو تاکتے ہیں یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ ان سب کے اذہان میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ یہ سب کے سب کسی نہ کسی رنگ میں ہم انسانوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–88

وَقِيلِهِ يَا رَ‌بِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ (And [ Allah has the knowledge ] of His prophet's saying, "0 my Lord, these are a people who do not believe." 43:88) The point made by this sentence is that there are very serious reasons for Allah's wrath descending upon these infidels. On the one hand, there are their severe crimes themselves, and on the other when the Messenger ﷺ ، who has been sent as a "blessing for the world" and "interceder for the sinners", himself complains against them and says that these people do not believe, despite repeated good counsels given to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

68 This sentence has several meanings: (1) Those whom the people have made their deities in the world, will not at all be their intercessors before Allah. Those of them who were wicked, will themselves be presented as culprits there. However, those who had borne witness to the Truth by virtue of knowledge (and not unconsciously) will certainly be able to intercede for others. (2) Those who will be permitted to intercede, will be able to do so only for those who had testified to the Truth consciously (and not heedlessly). They will neither intercede of their own will, nor will have the…

Read the full tafseer →