Explained with ayahs 81–89
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے
اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت (لَوْ اَرَاد اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ ۙ سُبْحٰنَهٗ ۭ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ) 39۔ الزمر…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 66
یعنی اس کی ہستی اس سے بدرجہا بلندو برتر ہے کہ کوئی خدائی میں اس کا شریک ہو اور اس عظیم کائنات کی فرماں روائی میں کچھ بھی دخل رکھتا ہو۔ زمین و آسمان میں جو بھی ہیں، خواہ وہ انبیاء ہوں یا اولیا، فرشتے ہوں یا جن یا ارواح، ستارے ہوں یا سیارے، سب اس کے بندے اور غلام اور تابع فرمان ہیں۔ ان کا کسی خدائی صفت سے متصف یا خدائی اختیار کا حامل ہونا قطعی ناممکن ہے۔
سورة الزُّخْرُف 67
یعنی دنیا میں تم خواہ کسی کو اپنا حامی و سرپرست بناتے پھرو، مگر مرنے کے بعد تمہارا سابقہ اسی ایک خدا سے پڑنا ہے اور اسی کی عدالت میں تم کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–87
معارف و مسائل
(آیت) قُلْ اِنْ كَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ڰ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِيْنَ (اگر خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرتا) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ خدا کی اولاد ہونے کا کسی بھی درجہ میں کوئی امکان ہے، بلکہ مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ میں تمہارے عقائد کا انکار کسی عناد یا ہٹ دھرمی سے نہیں کر رہا ہوں بلکہ دلائل کی وجہ سے کر رہا ہوں، اگر صحیح دلائل سے خدا کی اولاد کا وجود ثابت ہوجاتا تو میں اسے ضرور مان لیتا، لیکن عقل ونقل کی ہر دلیل اس کی تردید کرتی ہے، اس لئے ماننے کا کوئی سوال نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل باطل کے ساتھ مباحثہ کے وقت اپنی حق پسندی…
Read the full tafseer →وتبارک الذی لہ ملک السموت والارض وما بینھا ہوعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون (85)
تبارک میں خدا کی عظمت کا پہلو بھی ہے اور اس کے سپرا اخیر و برکت ہونے کا پہلو بھی۔ اس کے باعظمت اور بابرکت ہونے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اسی سے ڈرا بھی جائے اور اسی سے امید بھی رکھی جائے۔ وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا بادشاہ ہے اس وجہ سے کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے دم مار سکے یا اس کی مشیت میں کوئی دخل اندازی کرسکے۔ ساتھ ہی وہ عظیم رحمت و برکت والا ہے اس وجہ سے وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے لئے اس کی رحمت مقتضی ہوگی۔ اس رحمت کے لئے بندے کسی اور کی سفدش کے محتاج نہیں…
Read the full tafseer →85۔ 1 جس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔
85۔ 2 جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–86
22: یعنی جن بتوں وغیرہ کو مشرکین نے اس اعتقاد سے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہماری سفارش کریں گے تو درحقیقت ان کو سفارش کرنے کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ کسی کے بارے میں سچی گواہی دیں، اور پورے علم کے ساتھ دیں کہ وہ واقعی مومن تھا تو اس کی گواہی بیشک قبول کی جائے گی اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ”جن لوگوں نے حق کی گواہی دی ہو“ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضور اقدس ﷺ کے سچا پیغمبر ہونے کی گواہی دی ہو، ایسے لوگوں کی سفارش اللہ تعالیٰ کی اجازت سے قبول کی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات :
آیت نمبر 84 تا 86
یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں…
Read the full tafseer →7 یعنی قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اسی مالک کو ہے۔
8 یعنی وہاں پہنچ کر سب کی نیکی بدی کا حساب ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 85 { وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا } ”اور بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی ساری چیزوں کی۔“
فرعون کا خدائی کا دعویٰ تو صرف مصر کی حکومت تک محدود تھا ‘ مگر اللہ کی حکومت واقعتا آسمانوں اور دنیا ومافیہا پر محیط ہے۔
{ وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِج وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم ‘ اور اسی کی طرف تم لوٹا دیے جائو گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
78 سفارش کی اجازت کیسے لوگوں کو ہوگی اور کن کے حق میں ہوگی ؟:۔ یعنی ایسے معبود جن کو لوگوں نے معبود قرار دے لیا تھا حالانکہ وہ علیٰ وجہ البصیرت حق کے گواہ اور اس کے علمبردار تھے، وہ سفارش کرسکیں گے۔ جیسے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) یا سیدنا عزیر (علیہ السلام) یا فرشتے یا وہ بزرگ جنہیں لوگوں نے الوہیت کا مقام دے رکھا تھا مگر وہ خود ساری عمر شرک سے منع کرتے رہے اور کلمہ حق یعنی توحید کے علمبردار بنے رہے ایسے لوگوں کو اللہ سفارش کرنے کی اجازت دے گا مگر ان لوگوں کی نہیں جنہوں نے انہیں معبود بنا رکھا تھا بلکہ صرف ان گنہگاروں کے حق میں سفارش کرسکیں گے جنہوں نے کلمہ حق یعنی توحید کی علم و یقین کے ساتھ…
Read the full tafseer →67۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) داور محشر صرف وہی ذات حق تعالیٰ ہے۔ اس کے اس وصف میں بھی کوئی شریک نہیں۔ اس تردید کی زد براہ راست عیسائیوں پر پڑتی ہے۔ جنہوں نے داور محشر حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قرار دے رکھا ہے۔ (آیت) ” وعندہ علم الساعۃ “۔ یعنی آمد قیامت کے ٹھیک وقت کی خبر صرف حق تعالیٰ کو ہے دوسروں کو اختیار تو اور کیا ہوتا، اس اطلاع تک میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ (آیت) ” لہ ..... بینھما “۔ اس کی مالکیت کامل و محیط وبلاشریک ہے .... صفت علم وصف قدرت وملک کا اثبات قرآن مجید میں اکثر ساتھ ہی ساتھ آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیت نمبر 68 تا 89
ترجمہ : ان سے کہا جائے گا اے میرے بندو ! آج تم پر کوئی خوف نہیں اور نہ تم غم زدہ ہوگے، جو ہماری آیتوں قرآن پر ایمان لائے (الذین آمنوا) عبادی کی صفت ہے اور تھے بھی وہ فرمانبردار تم اور تمہاری بیویاں خوشی خوشی اور اکرام کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ (أنتم) مبتداء ہے (تُحْبَرُوْنَ ) اس کی خبر ہے ان کے پاس سونے کی رکابیاں اور گلاس لائے جائیں گے اکواب، کو بٌ کی جمع ہے، اس برتن کو کہتے ہیں جس میں ٹونٹی نہ ہو (مثلاً کٹورا اور گلاس) تاکہ پینے والا جدھر سے چاہے پیے، اور وہاں وہ چیزیں ملیں گی جن کو ان کا دل چاہے گا اور جن کو دیکھ کر آنکھیں لذت اندوز ہوں گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے اور…
Read the full tafseer →وتبرک الذی لہ ملک السموت والارض وما بینھما وعندہ علم الساعۃ والیہ ترجعون
اور بڑا عالی شان ہے وہ (خدا) جس کی حکومت آسمانوں پر اور زمین پر اور ان دونوں کی درمیانی کائنات پر ہے اور اسی کو قیامت کی بھی خبر ہے اور اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔
وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعِۃِ یعنی قیامت برپا ہونے کا وقت اسی کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →اور وہ ذات بڑی عالی شان اور اولاد اور شرک سے پاک ہے، جس کے لیے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو مخلوق ان کے درمیان ہے اس کی سلطنت ثابت ہے اور اسی کو قیامت کی بھی خبر ہے اور تم سب آخرت میں اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وتبرک الذی لہ ملک السموت والارض …: یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اکیلا معبود ہونے کی دلیل ہے کہ بیشمار خیر و خربی کا مالک ہے وہ کہ آسمانوں میں اور زمین میں ہر جگہ اسی کی بادشاہی ہے۔ قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور تم اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ لہٰذا وہی ہے جو تمہیں تمہارے نیک یا بد اعمال کا بدلا دے گا۔
Read the full tafseer →تبرک یہ برکت سے تفاعل کے وزن پر ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے اس کے قیام کا وقت اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے ابن کثیر، حمزہ اور نسائی نے اسے و الیہ یرجعون پڑھا ہے باقی قراء نے اسے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ابن محیصن، حمید، یعقوب اور ابن ابی اسحاق اپنے اصول کے مطابق علامت مضارع کو فتحہ اور باقی ضمہ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان کان للرحمن ولدا “ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر رحمن کی کوئی اولاد ہوتی) یعنی رحمن کی اولاد نہیں (آیت ) ” فانا اول العبدین “ (تو سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا) یعنی گواہی دینے والا۔
اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے :
12:۔ طستی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ کے اس قول (آیت ) ” فانا اول العبدین “ کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا میں سب سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو۔ پھر پوچھا جائے گا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں…
Read the full tafseer →وَتَبٰرَكَ الَّذِيْ لَهٗ [ اور بابرکت ہوا وہ جس کے لئے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں کی حکومت ہے ] وَمَا [اور اس کی جو ] بَيْنَهُمَا ۚ [ اور دونوں کے درمیان ہے ] وَعِنْدَهٗ [ اور اسی کے پاس ] عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ [ اس گھڑی کا علم ہے ] وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ [ اور اس کی طرف ہی تم لوگ لوٹائے جاؤگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
پھر فرمایا ﴿وَ تَبٰرَكَ الَّذِيْ﴾ اور وہ ذات عالی شان ہے جس کے لیے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی سلطنت ہے اور اس کے پاس قیامت کا یعنی اس کے وقت مقرر کا علم ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے وہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا اور کفر و معاصی کی سزا سامنے آجائے گی۔
مشرکین سے جب یہ کہا جاتا تھا کہ شرک بری چیز ہے تو شیطان کے پٹی پڑھا دینے سے یوں کہہ دیتے تھے کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے نزدیک ہمارے لیے سفارش کردیں گے۔
یہ ان کا ایک بہانہ تھا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے جن کو شفاعت کرنے کی اجازت نہیں دی وہ کیا سفارش کرسکتے ہیں اور بےجان کیسے سفارش کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–89
تنبیہ بر مخالفت از حق وبیان انعام واکرام مطیعین وذلت وناکامی مجرمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فاختلف الاحزاب من بینھم ...... الی ...... فسوف یعلمون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں مشرکین مکہ کے ایک لغو اور مہمل اعتراض کا جواب دیتے ہوئے حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کا ذکر تھا اور یہ کہ ان کی زندگی کو اللہ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی بنایا تھا، جب تک زمین پر رہے اللہ کی نشانیاں دکھاتے ہوئے اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی، اور جب قیامت کے قریب آسمان سے نزول فرمائیں گے تب بھی وہ یہی دعوت توحید دیتے ہوں گے، ان کی تعلیم وہدایت میں نہ کوئی ابہام تھا اور نہ اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
48:َ ” وھو الذی “ تا ” والیہ ترجعون “ یہ توحید پر دلیل عقلی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق ہے وہی آسمان اور زمین میں معبود برحق ہے اور وہی ساری کائنات میں متصرف و کارساز ہے۔ وہی حکیم و مدبر ہے اور وہی غیب داں ہے اس لیے اسے کسی نائب و متصرف کی ضرورت نہیں۔ ” وتبارک الخ “ زمین و آسمان میں متصرف اور غیب داں بھی وہی ہے اور برکات دہندہ بھی وہی ہے۔ ساری کائنات کا بادشاہ وہی ہے اور قیامت کا علم بھی اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ قیامت کے دن سب اسی کے سامنے حاضر ہوں گے۔ جب ساری کائنات میں متصرف بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی وہی ہے تو اسے کسی نائب متصرف کی حاجت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں جس قدر مضامین بیان ہوئے ہیں ان کا اعادہ سورة کے آخر میں کیا جا رہا ہے ۔ مکی سورة ہونے کے ناطے اس میں توحید اس کے عقلی اور نقلی دلائل ، شرک کا ابطال ، مشرکین کا رد ، رسالت و نبوت ، معاد اور جزائے عمل جیسے مضمون آنے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت خاتم النبین ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی آیا ہے۔ اب انہی مضامین کا خلاصہ سورة کے آخر میں بیان کیا جا رہا ہے۔
مسئلہ توحید
آج کے درس میں پہلے توحید کا مسئلہ بیان ہوا ہے وھو الذی فی ………… اور وہ وہی ذات ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور…… میں بھی معبود ہے یعنی اس کے سوا ارض و سما میں کوئی معبود نہیں۔ الوہیت کا مالک صرف…
Read the full tafseer →وَتَبٰرَكَ الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا 0 ۚ وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ 0 ۚ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 85
برك
أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء .
قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96]
( ب رک ) البرک
اصل میں البرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ جہنم کا فرشتہ ان کے جواب میں کہے گا انکم ماکثون ولقد جئناکم بالحق ولکن اکثر کم للحق کارھون اب یہاں ان کی کراہتِ حق کو بیان فرماتا ہے کہ حق کے قبول کرنے کا تو کیا ذکر بلکہ وہ اس کے رد کرنے میں سینکڑوں مکرو تدابیر کیا کرتے تھے مگر کیا کرسکتے تھے کیونکہ ام ابرموا امرا کیا وہ قضاء و قدر میں مداخلت کر کے کوئی بات اس کے برعکس قائم کرسکتے تھے۔ نہیں بلکہ فانامبرمون مدبر امور ہم ہیں اور اس پر لطف یہ ہے کہ جانتے تھے خدا کو ہماری ان تدابیر و مکرو زور کی خبر نہیں حالانکہ ہمارے رسول یعنی فرشتے ان کے پاس ان کی باتیں لکھ رہے تھے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا چھاپا عالم غیب میں لگ…
Read the full tafseer →وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَـہٗ مُلْـکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ج وَعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ج وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الزخرف : 85)
(اور بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضے میں زمین و آسمان اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
اللہ تعالیٰ سے تعلق کی نزاکتیں
تَبٰـرَکَ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا پہلو بھی ہے اور اس کے سراپا خیروبرکت ہونے کا بھی۔ یعنی وہ اتنا عظیم ہے کہ اس کے غضب و جلال اور اس کی نافرمانی کے انجام سے ڈرنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے اور جو اپنی فطرت کی آواز پر کان نہیں دھرتا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ جبکہ زمین و آسمانوں کا وہی بادشاہ ہے اور ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگ ملائکہ یا کسی اور کو اللہ تعالیٰ کا شریک یا اس کی اولاد ٹھہراتے ہیں تاکہ وہ ان کی قیامت کے دن سفارش کریں۔
اہل مکہ کے سامنے جب بھی قیامت کا ذکر کیا جاتا تو وہ چلّا کر کہتے کہ قیامت کب آئے گی ؟ ہر موقع پر انہیں اس بات کا شافی جواب دیا گیا۔ مگر پھر بھی وہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہتے تھے۔ اس بار یہ جواب دیا گیا کہ اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسی کی ملک ہیں۔ وہی قیامت کا…
Read the full tafseer →آیت 85: وَتَبٰرَکَ الَّذِیْ لَہٗٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَعِنْدَہٗٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ (اور وہ ذات بڑی عالی شان ہے۔ جس کے لئے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو ان کے درمیان میں ہے۔ ان کی سلطنت ثابت ہے۔ اور اس کو قیامت کی خبر ہے) یعنی اس کے قائم ہونے کی خبر ہے۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (اور تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جائو گے) قراءت : مکی ٗ حمزہ ٗ علی نے یُرجعون پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →(84) وھوالذی فی السماء الہ وفی الارض الہ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ زمین و آسمان میں اسی کی عبادت کی جاتی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ، وھوالحکیم، اپنی مخلوق کی تدبیر میں، العلیم، ان کی ضروریات کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
85۔ 89۔ مشرکین مکہ کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جو کوئی ان مورتوں کی پوجا کرے گا تو جن فرشتوں کی یہ مورتیں ہیں وہ فرشتے اللہ کے رو برو اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کریں گے۔ یہ مشرک لوگ قیامت کے توقائل نہیں تھے اس لئے اس سفارش کا مطلب ان لوگوں کے نزدیک یہ تھا کہ دنیا کی بہبودی کے باب میں فرشتے ان لوگوں کی سفارش کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح زمین میں اللہ کی مخلوقات ہے اسی طرح آسمان پر فرشتے ہیں کیونکہ آسمان و زمین دونوں میں اللہ کا ہی راج ہے اور اس کے حکم کے آگے سب عاجز اور بےاختیار ہیں اس واسطے ایسی بےاختیار مخلوقات میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
آیت 84
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ (آیت) ” ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ “ اور فرمایا : (آیت) ” اور آسمانوں اور زمین اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔ “
اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–85
قول باری ہے (وانہ لعلم للساعۃ اور وہ تو ایک ذریعہ ہیں قیامت کے یقین کا) ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے آیت کی تفسیر میں بیان کیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کے علم کا ذریعہ ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قرآن قیامت کے علم کا ذریعہ ہے۔
Read the full tafseer →110 معبود برحق کی عظمت شان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کیلئے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی "۔ اور جب آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز آسمان اور زمین اور انکے درمیان کی اس کائنات میں جتنی عظیم الشان نعمتیں پائی جاتی ہیں ان میں غور و فکر سے کام لینے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی ہی عظیم الشان رحمتوں اور برکتوں والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
فیصلے کا دن اور نیکو کاروں کے لیے خوشخبری اور گنہگاروں کے لیے سزا کی خبر
تشریح : شروع کی آیات میں رب العزت بڑے پیار اور شفقت سے اپنے بندوں کو بتا رہے ہیں کہ یہ دنیا تمہارے لیے امتحان گاہ ہے میرا مقصد تو لوگوں کو سزا دینا ہرگز نہیں لیکن قرآن کے مطابق جو زندگی نہیں گزاریں گے ان کو سزا ضرور ملے گی مگر نیکی پر چلتے ہوئے جو لوگ نیک، اچھی، پاکیزہ اور صاف ستھری زندگیاں گزاریں گے ان کو مرنے کے بعد انتہائی سکون کی زندگی ملے گی بلکہ ایسی بہترین زندگی کہ جس کا تصور تم آیات 68 سے 73 تک کے مضمون سے بخوبی کرسکتے ہو۔ یہ تمام باتیں ایسی ویسی نہیں بلکہ یہ اس الہ العٰلمین کی کہی ہوئی ہیں جو اپنی تمام صفات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–89
آیات 68 تا 89۔
اسرار ومعارف۔
اور جو ایک دوسرے کی نیکیوں کی اور نیکی کی طرف دعوت کی شہادت دیں گے انہیں اللہ کریم کی طرف سے بھی ارشاد ہوگا کہ اے میرے بندو آج کے دن تم ہر خوف سے آزاد ہو نہ کفار کا اندیشہ اور نہ عذاب کی فکر اور تمہیں کچھ کھونے کا غم کہ کافر کو تو دنیا کے کھونے کا رنج ہوگامگر مومن اس سے کہیں زیادہ اور حقیقی نعمتیں حاصل کرے گا کہ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان لائے اللہ کی اطاعت کی اور اس کے احکام کو تسلیم کیا۔
آج کے روز جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہارے گھر والے یعنی جو دن کفار ک لیے انتہائی سخت ہوگاوہی مومنین کے لیے کامیابی کا دن ہوگا اور وہ جنت میں بہت عزت سے داخل ہوں گے جہاں ان کے لیے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی ہر جگہ اسی کی بادشاہی اور فرماروائی ہے۔
2 ” نہ کہ کسی اور کی طرف، لہٰذا وہی ہے جو تمہیں تمہارے نیک یا بد اعمال کا بدلہ دے گا “۔
Read the full tafseer →(43:85) تبارک۔ وہ بہت برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے تبارک (تفاعل) مصدر۔ جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض لوگ اس کو اسم فعل بتاتے ہیں۔
لہ میں لام تملیک (ملکیت جتانے کے لئے) کا ہے لہ ملک السموت والرض وما بینھما آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کی بادشاہت اسی کی ہے۔ ما موصولہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–89
لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 89 : ابرمو (انہوں نے ٹھان لی ، طے کرلی) یخرضوا (وہ گھستے ہیں) یلعبوا ( وہ کھیلتے ہیں) اصفح (در گزر کرلے ، منہ پھیر لے) سلام ( سلامتی ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 79 تا 89 : کفار مکہ اس بات سے بہت ڈرے ہوئے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی مقناطیسی شخصیت اور کلام الٰہی سے عرب کے نوجوان بڑی تیزی سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ جو بھی ان کی زبان سے کلام سنتا ہے تو وہ فوراً ہی اسلام کی سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
کفار قریش نے نہایت خاموشی سے مکہ کے اہم لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے ان سے خفیہ مشورے کرنا شروع کردیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جن فرشتوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں قیامت کے دن وہ فرشتے ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہوجائیں گے ، اور وہ فرشتے کسی کی سفارش ہرگز نہیں کرسکتے، مگر اس کی جس کے دل میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہو، ان مشرکوں کے بتوں میں یہ دونوں باتیں نہیں ، اس لیے یہ بت تو سفارش کے قابل نہیں اور جن کی مشکل کے وقت یہ بت ان مشرکوں کی صورت سے بےزار ہیں پھر ان مشرکوں کی سفارش کون کرے گا، اور یہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قیامت کے آنے کا جو وقت ٹھہرچکا ہے اس وقت قیامت ضرور آنے والی ہے اور اس دن اس شرک کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو ضرور حاضر ہوناپڑے گا، اور سوا پچھتاوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–86
[37] یعنی قیامت کے دن سفارش کا اختیار تو کسی کو بھی نہ ہوگا البتہ اللہ تعالیٰ جن کو اجازت دے گا وہ حق بات کی گواہی دیں گے اور وہ گواہی اسی بات کی ہوگی جس کے بارے میں جانتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–85
ف 1: ان لوگوں سے خطاب ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر سے آگاہ نہیں ہیں ۔ اور اس کے لئے اولاد کو ثابت کرتے ہیں ۔ فرمایا : یہ بالکل غلط عقیدہ ہے ۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے کوئی بیٹا ہوتا ۔ تو ہمیں انکار کرنے سے کیا ملتا ۔ آپ لوگ دیکھتے ۔ کہ ہم سب سے پہلے اس کی پوجا اور پرستش کرتے ۔ کیونکہ ہمیں جب اس سے محبت ہے ۔ تو ان لوگوں سے بھی قدرتاً محبت ہوتی ۔ اور جو اس کے عزیز اور رشتہ دار ہوتے ۔ مگر واقعہ یہ ہے ۔ کہ اس کی ذات ہر نوع کے شرک سے پاک اور بلند ہے ۔ اس کا کوئی رشتہ دار نہیں ۔ وہ مجرد اور بسیط حقیقت ہے ۔ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز اس کے تابع اور مسخر…
Read the full tafseer →(85) اور اس کی ذات بڑی برکت والی اور بڑی عالیشان ہے جس کے لئے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کی حکومت ثابت ہے اور قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی آسمان و زمین اور ان دونوں کے مابین جو کچھ ہے سب پر اسی کی بادشاہی اور اسی کا راج ہے اور اسی کی حکومت ہے اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئیگی پھر اس کی قدرت اتنی وسیع ہے کہ تم سب کی بازگشت بھی اسی کے پاس ہے حکومت علم قدرت سب چیزوں میں کامل ہے وہ ذات بڑی بابرکت اور بڑی عالیشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
ف 6۔ یعنی البتہ وہ باذن الہی اہل ایمان کی سفارش کرسکیں گے، مگر اس سے کفار کو کیا فائدہ۔
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمینوں کی برکتیں اسی سے ہیں اسی کی طرف سے سب کو لوٹنا ہے
58 ؎ { تبارک } وہ بہت ہی برکت والا ہے۔ وہ بڑی برکت والا ہے { تبارک } کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اس فعل کی گردان نہیں آئی اور صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے آتا ہے اس لیے بعض نے اس کو اسم فعل بتایا ہے۔ قرآن کریم میں یہ لفظ 9 بار استعمال ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے سورة الاعراف :54 ، سورة المومنون :14 ، سورة الفرقان :61 , 10 , 1 سورة ال مومن : 64 سورة الزخرف :85 ، سورة الرحمن : 78 اور سورة الملک :1 میں۔ رب ذوالجلال والا کرام کی ذات وصفات سب میں برکت ہی برکت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
وَقِيلِهِ يَا رَبِّ إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ (And [ Allah has the knowledge ] of His prophet's saying, "0 my Lord, these are a people who do not believe." 43:88) The point made by this sentence is that there are very serious reasons for Allah's wrath descending upon these infidels. On the one hand, there are their severe crimes themselves, and on the other when the Messenger ﷺ ، who has been sent as a "blessing for the world" and "interceder for the sinners", himself complains against them and says that these people do not believe, despite repeated good counsels given to…
Read the full tafseer →66 That is, "He is far above it that another should be His associate in Godhead and may have any share whatever in ruling this great universe. Whatever is there in the earth and the heavens, whether the Prophets, the saints, the angels, jinn, spirits, stars or planets, they are His servants and slaves and subjects.. It is impossible for them to be characterized with a Divine attribute or be possessed with a Divine power."
67 That is, "You may have taken anyone as your helper and patron in the world, but after death you will have to face only One God and render an account of your deeds before…
Read the full tafseer →