Az-Zukhruf 43:49

Az-Zukhruf · from ayah 49

43:49

وَقَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ— اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ ۟وَقَالُوۡا يٰۤاَيُّهَ السَّاحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ‌ۚ اِنَّنَا لَمُهۡتَدُوۡنَ

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they said [to Moses], "O magician, invoke for us your Lord by what He has promised you. Indeed, we will be guided."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:49

ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر اس عہد کے مطابق جو تیرے پروردگار نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر بےشک ہم ہدایت یاب ہو جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ یہ کہنے لگے کہ : اے جادوگر ! تم سے تمہارے پروردگار نے جو عہد کر رکھا ہے اس کا واسطہ دے کر اس سے ہمارے لیے دعا کرو، ہم یقینا راہ راست پر آجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہنے لگے: اے جادوگر! تو اپنے رب سے ہمارے لئے اُس عہد کے مطابق دعا کر جو اُس نے تجھ سے کر رکھا ہے (تو) بیشک ہم ہدایت یافتہ ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اے جادوگر ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کے ذریعے دعا کر جو اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، بیشک ہم ضرور ہی سیدھی راہ پر آنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (ہر بار) وہ یہی کہتے : اے ساحر ! تیرے پروردگار نے جو تجھ سے (دعا کی قبولیت) کا عہد کر رکھا ہے تو ہمارے لئے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے درخواست کی کہ اے ساحر، اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے، ہمارے لئے دعا کرو۔ اب ہم ضرور ہدایت پانے والے بن کے رہیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ (ہر موقع پر) کہتے اے جادوگر ! دعا کر ہمارے لئے اپنے رب سے اپنے اس عہد کی بناء پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہم ضرور بالضرور ہدایت پر آجائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ بولے کہ اے جادوگر اپنے پروردگار سے ہمارے حق میں اس چیز کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے (اب) ہم ضرورراہ پر آجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (ہر عذاب کے موقع پر) وہ کہتے : اے جادوگر ! تم اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہم ضرور ہدایت پر آجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہنے لگے کہ اے جادوگر ! اس عہد کے مطابق جو تیرے رب نے تجھ سے کر رکھا ہے اس سے دعا کر تو ہمیں ہدایت مل جائے گی

— محترمہ رفعت اعجاز

(Whenever they faced an affliction) they would say: “O magician, pray for us to your Lord according to your station with Him. We shall certainly be guided to the Right Way.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they said, :O magician, pray for us to your Lord by the covenant He has made with you; we will certainly come to guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

And they said, :O magician, pray for us to your Lord by the covenant He has made with you; we will certainly come to guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they said (to Musa): "O you sorcerer! Invoke your Lord for us according to what He has made a pact with you. Verily, We shall guide ourselves."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they said: O wizard! Entreat thy Lord for us by the pact that He hath made with thee. Lo! we verily will walk aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they said [to Moses], "O magician, invoke for us your Lord by what He has promised you. Indeed, we will be guided."

— Saheeh International

They said, "Magician, pray to your Lord for us through your covenant with Him (If he saves us from the torment), we shall certainly seek guidance".

— Muhammad Sarwar

And they said: O magician! call on your Lord for our sake, as He has made the covenant with you; we shall surely be the followers of the right way.

— Muhammad Habib Shakir

And they said: magician! supplicate thy Lord for us for that which He hath covenanted with thee; verily we shall let ourselves be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

And they said, "O thou sorcerer! Invoke thy Lord for us according to His covenant with thee; for we shall truly accept guidance."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–51

قلاباز بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں آپ کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہوجانا لکڑی کا اژدھا بن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے انہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الزُّخْرُف 44 فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ خدا کے عذاب سے تنگ آ کر حضرت موسیٰ سے اس کے ٹلنے کی دعا کرانا چاہتے تھے اس وقت بھی وہ آپ کو پیغمبر کہنے کے بجائے جادوگر ہی کہہ کر خطاب کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جادو کی حقیقت سے ناواقف نہ تھے، اور ان سے یہ بات چھپی ہوئی نہ تھی کہ یہ کرشمے کسی جادو سے رونما نہیں ہو سکتے۔ ایک جادوگر زیادہ سے زیادہ جو کچھ کرسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک محدود رقبے میں جو لوگ اس کے سامنے موجود ہوں ان کے ذہن پر ایسا اثر ڈالے جس سے وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ پانی خون بن گیا ہے، یا مینڈک ابلے پڑ رہے ہیں، یا ٹڈی دل چڑھے چلے آ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–51

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو) اپنے دلائل (یعنی معجزات عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون کے اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا، سو انہوں نے (ان لوگوں کے پاس آ کر) فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے (تم لوگوں کی ہدایت کے لئے) پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں (مگر فرعون و اہل فرعون نے نہیں مانا) پھر (ہم نے دوسرے دلائل سزاؤں کے رنگ میں ان کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے، یعنی قحط سالیاں وغیرہ مگر ان لوگوں کی پھر بھی یہ حالت رہی کہ) جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری (وہ) نشانیاں لے کر آئے (جو آیات تسعہ کہلاتی ہیں) تو وہ یکایک ان (معجزات) پر لگے ہنسنے (کہ یہ کیا اچھے معجزے ہیں، محض معمولی واقعات و حوادث…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 49–50

وقالوآیا یہ السحر ادع لنا ربک بما عھد عندک اننا لمھتدون، فلما کشفنا عنھم العذاب اذا ھم ینکثون (50-49) جب وہ کسی عذاب کی گرفت میں آتے تو بھاگے ہوئے حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آتے اور نہایت لجاجت سے درخواست کرتے کہ آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ اس عذاب کو دور فرمائے، اگر یہ عذاب دور ہوگیا تو ہم صحیح راہ پر آجائیں گے اور آپ کی بات ضرور ہی مان لیں گے لیکن جب اللہ تعالیٰ ان سے عذاب دور کردیتا تو وہ عہد توڑ کر اپنی ضد پر اڑ جاتے۔ ان تنبیہی عذابوں کی تفصیل سورة اعراف کی آیات 135-133 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم تو رات کی روشنی میں ہر بات کی وضاحت کرچکے ہیں۔ آیات ہم یہاں بھی نقل کئے دیتے ہیں۔ تفصیل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 ' اپنے رب سے ' کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور اللہ ہوتے تھے، موسیٰ ؑ اپنے رب سے یہ کام کروا لو ! 49۔ 2 یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔ 49۔ 3 اگر عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورة اعراف میں بھی گزرا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 49–54

15: اس میں فرعون کو بھی گنہگار کہا گیا ہے، اور اس کی قوم کو بھی۔ فرعون تو اس لیے گنہگار تھا کہ اس نے اپنی سلطنت کو خدائی کی علامت قرار دے کر خدائی کا دعوی کیا، اور اپنی قوم کو بیوقوف بنایا اور اس کی قوم اس لیے گنہگار تھی کہ اس نے ایسے گمراہ شخص کو اپنا حکمران تسلیم کیا، اور اس کی تمام گمراہیوں میں اس کی پیروی کی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی قوم پر کوئی گمراہ شخص مسلط ہوجائے، اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اسے ہٹانے کی کوشش کرنے کے بجائے ہر غلط کام میں اس کی اطاعت کئے جائے تو وہ بھی مجرم قرار پاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48 تا 50 یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔ یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔ وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 " ساحر " ان کے محاورات میں عالم کو کہتے تھے۔ کیونکہ بڑا علم ان کے نزدیک یہ ہی سحر تھا۔ شاید اس خوشامد اور لجاجت کے وقت حضرت موسیٰ کو بظاہر تعظیمی لقب سے پکارا ہو اور خبث باطن سے اشارہ اس طرف بھی کیا ہو کہ ہم تجھ کو نبی اب بھی نہیں سمجھتے۔ صرف ایک ماہر جادوگر سمجھتے ہیں۔ 5 یعنی تیرے رب نے جو طریقہ دعا کا بتلایا ہے اور جو کچھ تجھ سے عہد کر رکھا ہے اس کے موافق ہمارے حق میں دعاء کرو کہ یہ عذاب ہم سے دفع ہو۔ اگر تیری دعاء سے ایسا ہوگیا تو ہم ضرور راہ پر آجائیں گے۔ اور تیری بات مان لیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 { وَقَالُوْا یٰٓاَیُّہَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ } ”اور ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے : اے جادوگر ! تم اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے۔“ سورة الاعراف میں یہ واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ جب وہ لوگ ایک عذاب سے تنگ آجاتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کرتے اور وعدہ کرتے کہ اگر ہماری یہ تکلیف دور ہوگئی تو : { اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ } ”ہم ضرور ہدایت پر آجائیں گے۔“ سورة الاعراف میں ان کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : { لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَٓائِ یْلَ۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 سیدنا موسیٰ کو قوم کی طرف سے ایذا دہی :۔ اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ مثلاً (1) فرعون اور آل فرعون کو یہ پوری طرح معلوم ہوچکا تھا کہ آپ جادوگر نہیں بلکہ فی الواقع اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ ان کی دعا سنتا ہے اور اسے قبول بھی کرتا ہے۔ اسی لیے وہ عذاب اور مصیبت کے وقت آپ کی طرف رجوع کرتے اور دعا کی درخواست کرتے تھے۔ (2) ان کی اکڑ کا یہ عالم تھا کہ التجا کے وقت بھی وہ آپ کو ساحر ہی کہتے تھے۔ جیسا کہ تمام انبیاء کو اس لقب سے نوازا جاتا رہا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ انہوں نے اپنی قوم کو مطمئن رکھنے اور الو بنانے کے لیے ساحر کے طور پر ہی مشہور کر رکھا تھا۔ یہی وہ باتیں تھیں جن کے متعلق اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

36۔ فرعون اور فرعونی گو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شدید مخالف اور عقیدۂ نبوت کے یکسر منکر تھے تاہم ایک زبردست عامل کی طرح آپ کو سحر وکہانت وغیرہ میں کامل سمجھتے اور آپ کی قوت تسخیر تکوینی کے پوری طرح قائل تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ دنیوی بلائیں اور مصیبتیں آپ کی وساطت سے آبھی سکتی ہیں اور دور بھی ہوسکتی ہیں۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ” تب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بلایا اور کہا کہ خداوند سے شفاعت کرو کہ مینڈکوں کو مجھ سے اور میری رعیت سے دفع کرے اور میں ان لوگوں کو جانے دوں گا تاکہ وہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔ (خروج۔ 8: 8) ” اور فرعون بولا میں کہ میں تمہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 46–56

آیت نمبر 46 تا 56 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا یا یہ السحر ادع لنا ربک بما عھد عندک اننا لمھتدون اور انہوں نے کہا : اے جادوگر ! اپنے رب سے وہ بات طلب کر جس کا اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے۔ ہم ضرور راہ پر آئیں گے۔ فرعونیوں نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ دعا کر کے عذاب کو ان سے دور کرا دیں اور لالچ یہ دیا کہ ہم آپ کی ہدایت پر چلیں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے ‘ لیکن اس (مجبوری کی) درخواست کے بعد بھی نبی نہیں کہا بلکہ حسب سابق جادوگر ہی کہا ‘ کیونکہ انکے دلوں میں کفر بھرا ہوا تھا اور انتہائی حماقت ان پر مسلط تھی (گویا وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ موسیٰ بڑا جادوگر ہے اور ہم مقابلہ سے عاجز ہیں۔ اگر اس نے عذاب کو ہمارے سروں سے دور کردیا تو ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 49–50

(49۔ 50) انہوں نے کہا اے جادوگر یعنی عالم کیونکہ ان کے یہاں جادوگر کا درجہ بڑا تھا اس لیے یہ لفظ خودبخود نکل جاتا تھا۔ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کردیجیے جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے اور موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئے تو ان سے ع ذاب کو دور کردیا جائے گا، اسی لیے اس عہد کو یاد دلا کر کہا کہ ہم ضرور آپ پر اور جس چیز کو آپ لے کر آئے ہیں اس پر ایمان لے آئیں گے، چناچہ جب ہم نے ان سے اس عذاب کو ہٹا دیا تو انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا اور ایمان نہیں لائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقالوا یا یہ السحر ادع لنا ربک …: یہاں یہ بات اختصار کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ ہے، فرمایا (ولما وقع علیھم الرجز قالوا یموسی ادع لنا ربک بما عھد عندک لئن کشفت عذا الرجز لنومنن لک ولنرسلن معک بنی اسرآئیل (الاعراف : 133)”اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ ! اپنے رب سے ہمارے لئے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضروری بھیج دیں گے۔“ (2) یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی مشکل گھڑی میں جب وہ عذاب میں گرفتار تھے اور موسیٰ ؑ سے دعا کی درخواست کر رہے تھے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–50

وقالوا ایا یہ السحر جب انہوں نے عذاب کو دیکھا تو انہوں نے کہا، اے جادوگر ! انہوں نے اس طرح ندا کی جس طرح وہ پہلے عادت کے مطابق ندا کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ علماء کو سحرہ کا نام دیتے انہوں نے بطور تعظیم آپ کو اسی نام سے پکارا۔ حضرت ابن عباس نے کہا، یا یہ السحر، اے عالم ! ساحر ان کے نزدیک عظیم وہا کرتا وہ اس کی تعظیم بجا لایا کرتے تھے سحر صفت ذم نہیں تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے اے وہ شخص جو اپنے سحر کی وجہ سے ہم پر غالب آگیا ہے، یہ جملہ کہا اجتا ہے، ساحرتہ فسعرتہ یعنی میں سحر کی وجہ سے اس پر غالب آگیا جس طرح عربوں کا قول ہے : خاصمتہ نخمستہ یعنی میں خصوصیت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 48–56

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا) 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّهَ السّٰحِرُ [ اور ان لوگوں نے کہا اے جادوگر ] ادْعُ لَنَا [تو پکار (دعا کر) ہمارے لیے ] رَبَّكَ [ اپنے رب کو ] بِمَا [ اس کے ساتھ جو ] عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ [ اس نے عہد لیا تجھ سے ] اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ [ بیشک ہم یقینا ہدایت پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 47–54

﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–56

قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–50

31:۔ ” وقالوا یا ایہا اساحر۔ الایۃ “۔ ان کے عناد و استکبار کی تنہاء تھی کہ جب وہ کسی عذاب میں مبتلا ہوجاتے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر پکارتے اور کہتے اپنے رب کو پکار کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے کہ اگر یہ ایمان لے آئیں تو ان سے عذاب ہٹا لیا جائیگا۔ اس لیے اللہ سے دعا مانگ کہ اس عذاب کو ہٹا لے تو ہم پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئیں گے اور ہدایت قبول کرلیں گے۔ ای بما اخبرنا عن عہدہ الیک انا ان امنا کشف عنا، فسلہ یشف عنا (اننا لمھتدون) ای فیما یستقبل (قرطبی ج 16 ص 68) فلما کشفنا عنہم۔ الایۃ “ یہ بار بار ان کی عہد شکنی کا بیان ہے۔ ہر عذاب کے بعد وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پختہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا يٰٓاَيُّہَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝ 0 ۚ اِنَّنَا لَمُہْتَدُوْنَ۝ 49 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد، وما يفعله النمّام بقول مزخرف عائق للأسماع، وعلی ذلک قوله تعالی: سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–56

ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالُوْا یٰٓـاَیُّـہَ السّٰحِرُادْعُ لَنَا رَبَّـکَ بِمَا عَہِدَعِنْدَکَ ج اِنَّـنَا لَمُھْتَدُوْنَ ۔ (الزخرف : 49) (ہر عذاب کے موقع پر) انھوں نے درخواست کی کہ اے ساحر اس عہد کی بنا پر جو اللہ نے تم سے کر رکھا ہے اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے۔ ) اہلِ مصر کی پریشانی اور وعدہ جب یکے بعد دیگرے اہل مصر پر اس طرح کی آزمائشیں آئیں جنھوں نے انھیں بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا تو انھیں یہ تو یقین ہوگیا جس کی طرف اشارہ سورة النمل میں کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، لیکن وہ جس اسلوبِ زندگی کے خوگر ہوچکے تھے انھیں اسے چھوڑنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 46–50

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ غرور اور تکبر کی بنا پر نبی محترم ﷺ کو رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش کا کچھ حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ تاکہ مکہ والوں اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو کہ فرعون نے تکبر کی بنیاد پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی جس بنا پر اس کا بدترین انجام ہوا۔ اے مکہ والو ! تم نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غلام قوم کے ایک فرد تھے۔ جب جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں سرکاری پارٹی کا ایک آدمی سہواً قتل ہوا جس بنا پر موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف ہجرت کرگئے۔ مدین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 49: وَقَالُوْْا یٰٓـاَیـُّہَ السّٰحِرُ (اور انہوں نے کہا اے جادوگر) وہ عالم کو جادوگر کہتے تھے۔ کیونکہ وہ علم سحر کو بڑا معزز خیال کرتے تھے۔ قراءت : یٰٓایہا الساحرکو ہاء کے ضمہ اور بلا الف شامی نے پڑھا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مفتوحہ تھا الف سے قبل واقع ہونے کی وجہ سے۔ جب الف التقائے ساکنین سے گرگیا تو اس کی حرکت ماقبل کے تابع ہوگئی۔ ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَکَ (آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیجئے۔ جس کا اس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے) بما عہد عندک کا مطلب یہ ہے۔ اس عہد کے مطابق جو اس نے نبوت والا آپ سے لے رکھا ہے۔ یا جو آپ سے عذاب دور کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس شخص کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48، وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا، اپنی قرین و ساتھی سے جو اس سے پہلے تھی۔ ، واخذ ناھم بالعذاب، قحط، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک، خون اور مٹادینا۔ پس یہ تمام موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیلیں اور ان کے لیے عذاب تھے۔ پس ان میں سے ہر ایک اس سے بڑی ہے جو اس سے پہلے تھی۔ ، لعلھم یرجعون ، اپنے کفر سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 46–56

46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 46–56

آیت 46 جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

65 فرعونیوں کے کبر و غرور اور ان کی بدبختی کا ایک نمونہ ومظہر : کہ جب وہ کسی عذاب کی گرفت میں آتے تو حضرت موسیٰ سے کہتے اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر۔ اگر وہ ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے۔ سو حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ بات وہ لوگ اپنے خیال کے مطابق تعظیم کے لئے کہتے تھے۔ کیونکہ سحر اور جادوگری ان کے یہاں نقص و عیب کی نہیں عظمت و بڑائی کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ اور ممکن ہے ان کی پرانی عادت اور باطنی خبث کی بنا پر سبق لسانی کے طور پر یہ کلمہ ان کی زبانوں سے نکل جاتا ہو۔ آیت کریمہ میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں۔ اور حضرات مفسرین کرام نے ان دونوں ہی کا ذکر فرمایا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 46–54

آیات 46 تا 56۔ اسرار ومعارف۔ ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 2 کہ جب لوگ ایمان لے آئیں تو میں عذاب اٹھالوں گا۔ یا تیرے ملک نے جو عہد منصب نبوت تجھے دیا ہے اس کے واسطہ سے ( بما عھد عندک) کے یہ دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔ بعض نے اس کے یہ معنی کہے ہیں ” اس واسطے کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ تیری دعا قبول کروں گا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:49) ادع : امر کا صیغہ واحد مذکر غائب دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ تو مانگ ، تو دعا کر۔ ای تدعوا لنا فیکشف عنا العذاب۔ ہمارے لئے دعا کر کہ ہم پر سے عذاب ہٹ جائے۔ بما عھد عندک ب سببیہ ہے ما موصولہ عھد عندک صلہ اللہ نے تمہارے ساتھ عہد کیا ہے۔ یعنی تم نے ہم سے کہا ہے کہ تم اگر دعا کرو گے تو تمہارا رب عذاب دور کر دے گا۔ اس نے تم سے اس کا وعدہ کرلیا ہے۔ اس بہ سبب اس عہد کے تم اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہمارا عذاب دور کر دے۔ اننا لمھتدون : ای اننا لمؤمنون۔ بیشک ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ایمان کو ہدایت سے تعبیر کیا ہے اسے علم بیان میں تسمیۃ السبب باسم المسبب کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں اور جگہ ارشاد الٰہی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 46–56

لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے) تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 46–50

(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ جس طرح قریش کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تم کو رسول بناکربھیجا ہے اسی طرح فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ کو رسول بناکربھیجا گیا تھا اور جس طرح قریش تمہاری نصیحت کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں اسی طرح فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ کی نصیحت کو مسخراپن میں اڑایا۔ تب ہم نے طرح طرح کے عذاب ایک سے ایک بڑھ کر بھیجے، طوفان ، ٹڈی ، جوں، مینڈک ، خون ، قحط ، بیماری کہ کسی طرح تو یہ مانیں اور کفر چھوڑیں جب عذاب اترتا تو فرعون وغیرہ حضرت موسیٰ کو پکارتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کرکے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اب کی مرتبہ ہم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[25] وہ عہد یا تو یہ ہے کہ آپ کی دعا مستجاب ہے یا ایمان لانے والوں پر سے عذاب اٹھا لینا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–50

ف 2: ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ صرف تم لوگ ہی حق وصداقت کے منکر نہیں ہو ۔ تم سے پہلے لوگوں نے بھی بڑی سرکشی اور تمرد کا اظہار کیا ہے ۔ اور پھر اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہے ۔ فرعون کو اور اس کے بڑے بڑے سرداروں کو دیکھو جب حضرت موسیٰ تشریف لائے ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کا پیغام سنایا ۔ تو وہ ازراہ تحقیر ہنسنے لگے ۔ انہوں نے معجزات دکھائے ۔ تو ان کو بھادو اور سحر سے تعبیر کرنے لگے ۔ اس پر اللہ کی غیرت جوش میں آئی اور یہ خدا کے غضب وغصہ کا شکار ہوگئے ۔ حل لغات :۔ یضحکون ۔ خندہ وتحقیر مراد ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) اور ان فرعونیوں نے ہر موقعہ پر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے جادو گر تو اپنے پروردگار سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تجھ سے کررکھا ہے ہمارے لئے دعا کردے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم ضرور راہ پر آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–52

ف 7۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ 1۔ یعنی باعتبار مال و ترفع کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کرتے 49 ؎ مشرک افراد ہوں یا قومیں ان کا رویہ یہی رہا ہے اور آج بھی یہی ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوں گے تو ہر ایک سے دعا کی درخواست کریں گے اور اپنی مصیبت کو ٹالنے کے لیے وہ کبھی ایک اللہ پر انحصار کرتے ہوئے اس سے درخواست نہیں کریں گے بلکہ ہر ایک سے اس کا ذکر کریں گے اور ہر ایک کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے اور اس مصبت کے دور کرنے کی اپیل کریں گے ان کو ان کی قوت وہمہ کسی حال بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے گی اور وہ ہر ایک کے سامنے واویلا کریں گے۔ خانقاہوں پر جائیں گے ، قبروں پر سجدے کریں گے ، منتیں مانیں گے ، ایک درگاہ سے نکلیں گے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–52

وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (and can hardly express himself - 43:52). Although as a result of his own supplication, the stammering of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had been removed by Allah Ta` ala, Fir'aun remembered his previous state only, and hence this aspersion. And it is possible also that by saying this, Fir'aun did not mean stammering in speech, but he meant that Sayyidna Musa (علیہ السلام) could not put forward adequate logical arguments to satisfy him, although this was nothing but a false accusation, because Sayyidna Musa (علیہ السلام) had completely overwhelmed Fir'aun through his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

44 The stubbornness of Pharaoh and the chiefs of his people can be judged from the fact that when distressed by the torment they wanted the Prophet Moses to pray for its removal, even then they did not recognize him as a Prophet but addressed him as a magician, whereas they were not unaware of the truth about magic, and they also knew that those miraculous things could not be brought about by the power of magic. The most that a magician can do is that in a limited area he can so influence the people present in front of him as to make them feel that water has become blood, or frogs are coming…

Read the full tafseer →