Explained with ayahs 46–51
قلاباز بنی اسرائیل
حضرت موسیٰ کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں آپ کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہوجانا لکڑی کا اژدھا بن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
سورة الزُّخْرُف 43
ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کو دکھائیں، اور وہ یہ تھیں
(1) جادوگروں سے اللہ کے نبی کا برسر عام مقابلہ ہوا اور وہ شکست کھا کر ایمان لے آئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 88 تا 92، جلد سوم، طہ، حواشی 30 تا 50، الشعراء، حواشی 29 تا 40۔
(2) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے مطابق مصر کی سر زمین میں شدید قحط برپا ہوگیا اور وہ انکی دعا پر ہی دور ہوا۔
(3) ان کے پیشگی اعلان کے بعد سارے ملک میں ہولناک بارشوں اور ژالہ باری اور گرج اور کڑک کے طوفان آئے جنہوں نے بستیوں اور کھیتوں کو تباہ کر ڈالا، اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو) اپنے دلائل (یعنی معجزات عصا اور یدبیضا) دے کر فرعون کے اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تھا، سو انہوں نے (ان لوگوں کے پاس آ کر) فرمایا کہ میں رب العالمین کی طرف سے (تم لوگوں کی ہدایت کے لئے) پیغمبر (ہو کر آیا) ہوں (مگر فرعون و اہل فرعون نے نہیں مانا) پھر (ہم نے دوسرے دلائل سزاؤں کے رنگ میں ان کی نبوت ثابت کرنے کے لئے ظاہر کئے، یعنی قحط سالیاں وغیرہ مگر ان لوگوں کی پھر بھی یہ حالت رہی کہ) جب موسیٰ ؑ ان کے پاس ہماری (وہ) نشانیاں لے کر آئے (جو آیات تسعہ کہلاتی ہیں) تو وہ یکایک ان (معجزات) پر لگے ہنسنے (کہ یہ کیا اچھے معجزے ہیں، محض معمولی واقعات و حوادث…
Read the full tafseer →وما نریھم من ایۃ الا ھی اکبر من اختھا واخذنھم با عذاب یعلھم یرجعون 48
نریھم سے پہلے فعل ناقص، زبان کے معروف قاعدے کے مطابق، محذوف ہے۔ یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد تنبیہی عذاب کے طور پر نازل ہوئیں، تاکہ فرعونیوں کو خدا کی پکڑ کا کچھ انداز ہوا اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوں۔ یہ نشانیاں مختلف عذابوں کی شکل میں یکے بعد دیرگے ظاہر ہوئیں اور قدرتی طور پر ہر نشانی اپنی ماسبق سے زیادہ عبرت انگیز شکل میں نمایاں ہوئی۔ لیکن ان کے دلوں پر ایسی قساوت چھا چکی تھی کہ کوئی نشانی بھی کارگر نہ…
Read the full tafseer →48۔ 1 ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائیں گئیں، جن کا تذکرہ سورة اعراف، آیات۔ (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 133 وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
14: ان سے مراد وہ بلائیں ہیں جن میں مصر والوں کو یکے بعد دیگرے مبتلا کیا گیا، اور جن کی تفصیل سورة اعراف : 133 تا 135 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر 48 تا 50
یوں یہ مسلسل معجزات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے جا رہے تھے ذریعہ ایمان نہ بنے۔ حالانکہ ایک سے ایک بڑا معجزہ ظاہر ہو رہا تھا۔ یہ بات قرآن کریم کے اس اصول کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ جو دل ہدایت کے قابل ہی نہ ہو اس کو معجزات کے ذریعہ کبھی ہدایت نہیں ملتی اور یہ کہ کوئی رسول بہرے کو سنا نہیں سکتا اور اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا۔
یہاں قرآن کریم فرعون اور اس کے درباریوں سے جو بات نقل کرتا ہے اس میں عجیب بات یہ ہے جو وہ کہتے ہیں۔
وقالوا یا ایھا ۔۔۔۔ اننا لمھتدون (43 : 49) “ اے ساحر ، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے ، اس کی بنا…
Read the full tafseer →2 یعنی ایک سے ایک بڑھ کر نشان اپنی قدرت کا اور موسیٰ کی صداقت کا دکھلایا۔
3 یعنی آخر وہ نشان بھیجے جو ایک طرح کے عذاب کا رنگ اپنے اندر رکھتے تھے۔ جیسا کہ سورة " اعراف " میں گزرا۔ (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ ) 7 ۔ الاعراف :133) غرض یہ تھی کہ ڈر کر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔ "
Read the full tafseer →آیت 48 { وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا } ”اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن اپنے جیسی پہلی نشانی سے زیادہ بڑی ہوتی تھی“
یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی مزید سات نشانیوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان میں ایک بہت بڑی نشانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جادوگروں سے مقابلہ تھا ‘ جس میں شکست کھا کر وہ ایمان لے آئے۔ مزید برآں مصر میں شدید قحط ‘ ہولناک طوفانِ باد و باراں ‘ ٹڈی دل کا خوفناک حملہ ‘ چچڑیوں اور کھٹملوں کی بہتات ‘ مینڈکوں کا امڈا ہو اسیلاب ‘ کنوئوں اور چشموں کے پانی کا خون میں تبدیل ہوجانا…
Read the full tafseer →47 ان نشانیوں سے مراد وہ پے در پے عذاب ہیں جن کا ذکر سورة اعراف کی آیت نمبر 133 میں گزر چکا ہے۔ وہی حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔ یہ ہلکے ہلکے عذاب دراصل تنبیہات تھیں جن سے غرض یہ تھی کہ شاید وہ ڈر کر اپنی حرکتوں سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
35۔ (اپنے کفر وعناد سے) (آیت) ” وما نریھم ..... اختھا “۔ یہاں ایت یا نشانی سے قحط وغیرہ کے نو مشہور معجزے یا خوارق مراد ہیں۔ ” مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں، اور یہ مطلب نہیں کہ ہر نشانی ہر نشانی سے بڑی تھی، یہ ایک محاورہ ہے۔ جب کئی چیزوں کا کمال بیان کرنا ہوتا ہے تو یوں ہی بولتے ہیں کہ ایک سے بڑھ کر ایک۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولقد ...... فرعون “۔ ایات سے مراد یہاں دلائل ومعجزات دونوں ہیں۔ (آیت) ” موسیٰ ، فرعون “۔ ان پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ (آیت) ” انی رسول رب العلمین “۔ قوم فرعون ایک پروردگار عالم کے تخیل سے بھی ناآشناتھی اور نبوت و رسالت کے عقیدہ سے بھی۔ قرآن مجید کے مختصر سے فقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت نمبر 46 تا 56
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء یعنی قبطیوں کے پاس بھیجا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (جا کر) کہا کہ میں سارے جہانوں کے پروردگار کا رسول ہوں، پس جب وہ اپنی رسالت پر دلالت کرنے والی ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے، اور ہم انہیں جو عذاب کی نشانیاں دکھاتے تھے مثلاً طوفان کی نشانی اور وہ پانی تھا جو ان کے گھروں میں داخل ہوگیا تھا اور وہ بیٹھے لوگوں کے حلق تک پہنچ گیا تھا، اور یہ سات دن رہا، اور ٹڈیوں کی نشانی تو وہ سابقہ دوسری نشانی سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی، اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ اپنے…
Read the full tafseer →وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا واخذنھم بالعذاب لعلھم یرجعون اور ہم ان کو جو
نشانی دکھاتے تھے ‘ وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں۔
مِنْ اٰیَۃٍ یعنی عذاب کی نشانی جیسے کال ‘ طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ مینڈک ‘ خون وغیرہ۔ یہ سب حضرت موسیٰ کی صداقت کی نشانیاں تھیں۔
مِنْ اُخْتِھَا یعنی اپنی ساتھ والی سابق نشانی سے بڑی ‘ مطلب یہ ہے کہ ہر معجزہ اعجاز کی چوٹی پر پہنچا ہوا تھا۔ ہر معجزہ کو دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ پہلے معجزہ سے بڑا ہے کیونکہ ہر معجزہ انتہائی بڑا تھا ‘ جیسے ایک شاعر کا شعر ہے
مَنْ تَلْقَ مِنْھُمْ فَقَدْ لاَ قَیْتَ…
Read the full tafseer →اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی وہ ایمان نہ لائے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کو طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم سنین کے عذابوں میں پکڑا تاکہ وہ اپنے کفر سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →وما نریھم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا…: فرعون اور اس کے سرداروں نے جب موسیٰ ؑ کو جادوگر کہا اور ان کے معجزوں کو جادو قرار دے کر اپنے تمام ماہر جادو گر جمع کر کے ان کا مقبالہ کیا اور صاف شکست کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کردیا۔ اس پر انہوں نے موسیٰ ؑ سے عذاب ہٹانے کی دعا کی درخواست کی اور قحط دور ہونے پر ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کای۔ جب قحط دور ہوا تو وعدے سے مکر گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب بھیجے، جن میں سے ہر ایک پہلے سے بڑی نشانی تھا اور ان عذابوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ کفر و تکبر سے پلٹ آئیں اور ایمان قبول…
Read the full tafseer →ومانریھم من ایۃ الا ھی اکبر من اختھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بڑے معجزات میں سے تھے ان میں سے ہر ایک پہلے سے بڑا معجزہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلا معجزہ علم کا تقاضا کرتا تھا اور دوسرا بھی علم کا تقاضا کرتا تھا تو دوسرے کو پہلے کے ساتھ ملایا جاتا تو وضاحت میں اضافہ ہوجاتا۔ اخوت کا معنی مشاکلت اور مناسبت ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے : ھذہ صاحبۃ ھذہ۔ یعنی دونوں معنی میں قریب ہیں۔
واخذنھم بالعذاب انہوں نے معجزات کو جو جھٹلایا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہیں ولقد اخذنا ال فرعن بالسنین و نقص من الثمرت (اعراف : 130) عذاب سے مراد طوفان، مکڑیاں، جوئیں اور مینڈک ہیں۔ یہ آخری آیات ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–56
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نریہم من ایۃ الاھی اکبر من اختھا “ (اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) یعنی طوفان اور اس کے ساتھ اور نشانیاں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنھم بالعذاب “ (اور ہم نے ان کو عذاب کے ساتھ پکڑ لیا) اور وہ قحط سالی کا (عذاب تھا)
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخذنہم بالعذاب لعلہم یرجعون “ (اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تھا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں یعنی وہ توبہ کریں یا نصیحت حاصل کریں۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا…
Read the full tafseer →وَمَا نُرِيْهِمْ [ اور ہم نہیں دکھا تے تھے ان لوگوں کو ] مِّنْ اٰيَةٍ [ کوئی بھی نشانی ] اِلَّا [ سوائے اس کے کہ ] هِىَ اَكْبَرُ [ وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی ] مِنْ اُخْتِهَا ۡ [اپنی بہن سے ] وَاَخَذْنٰهُمْ [ اور ہم نے پکڑا ان سب کو ] بِالْعَذَابِ [ عذاب سے ] لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ [شاید کہ وہ لوگ رجوع کریں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–54
﴿فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ ﴾ ابن الاعرابی کہتے ہیں اس کا معنی ہے اس کی قوم کم عقلی و بےوقوفی کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ناسمجھ سمجھتی رہی، بعض نے کہا معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے فرعونیوں کے ظلم کو ہلکا سمجھا اور اس کی اطاعت میں لگے رہے کہا جاتا ہے مخالفت نے اسے ہلکا کردیا، اور اس نے اس کی اہانت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
قصہ موسیٰ (علیہ السلام) برائے تائید مضامین سابقہ و اثبات غلبہ حق برباطل :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا ........ الی ..... ومثلا للاخرین “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں اعراض ونافرمانی کرنے والوں پر توبیخ وتنبیہ تھی اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا مقصود تھا کہ ایسے لوگوں کے اعراض ومخالفت سے اللہ کے دین کو ہرگز کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچ سکتا اب اسی مناسبت سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب وہ اللہ کی نشانیاں لے کر فرعون کے سامنے آئے تو فرعون کی مخالفت اور مقابلہ اور فرعون کی تمام طاقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکی، نتیجہ یہی ہوا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
30:۔ ” ولقد ارسلنا موسیٰ “ یہ دوسری دلیل نقلی تفصیلی ہے۔ از موسیٰ (علیہ السلام) اور ” لولانزل ھذا القران الخ “ سے متعلق ہے۔ جس طرح مشرکین عرب آپ پر ازراہ عناد و مکابرہ اعتراض کرتے ہیں، اسی طرح کے اعتراضات فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر کیے تھے۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دلائل و معجزات دے کر فرعون اور اس کے ارکانِ سلطنت کے پاس بھیجا، جب وہ ہماری آیت کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ ان کو دیکھتے ہی استہزاء و تمسخر کے انداز میں ہنسنے لگے اور معجزات کو جادو کہنے لگے ” وما نریہم من ایۃ الخ “ ہم نے ان کو ایک سے ایک بڑھ کر اپنے نشانات اور معجزات دکھائے اور انہیں مختلف اقسام عذاب میں گرفتار کیا تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت بیان ہوئی۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا کے طور پر شیاطین مقرر کردیئے جاتے ہیں۔ جو انہیں ہمیشہ گمراہ کرتے رہیت ہیں اور دوزخ تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے وہاں پہنچ کر ایسے لوگ افسوس کا اظہار کرینگے مگر اس وقت کا تاسف کچھ مفید نہیں ہوگا اور پھر تابع اور متبوع سب عذاب میں مشترکہ طور پر شریک ہوں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ وحی الٰہی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے کھیں کیونکہ آپ صراط مستقیم پر ہیں اور نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ اپنے مقررہ وقت پر ضرور عذاب میں مبتلا کرے گا ۔ فرمایا یہ قرآن پاک آپ کے لئے اور آپ کی…
Read the full tafseer →وَمَا نُرِيْہِمْ مِّنْ اٰيَۃٍ اِلَّا ہِىَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا 0 ۡوَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ 48
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
ترکیب : بما عہد بعہدہ عندک من النبوۃ اومن ان یستجیب دعوتک او ان یکشف العذاب عمن اھتدی لوبما عہد عنک فوفیت بہ وھو الایمان والطاعۃ بیضاوی۔ وھذہ الانہار جملۃ حالیۃ ویمکن ان تکون الانہار معطوفہ علی ملک مصر و تجری حالمنھا فاستخف ای حملھم علی الخفۃ وقال ابن الاعرابی المعنی فاستجھل قومہ فاطاعوہ سلفا قرء الجمہور بفتح السین واللام جمع سالف کخدم و خادم و قریٔ سلفابضم السین و اللام قال القراء ھو جمیع سلیف نحو سرروسریر۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا واسئل من ارسلنا کہ پہلے رسولوں کا حال دریافت کر الخ اب ان میں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا تذکرہ جو آپ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور وہ مناسبت یہ ہے کہ جس طرح کفار…
Read the full tafseer →وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیٰـۃٍ اِلاَّ ہِیَ اَکْبَرُمِنْ اُخْتِہَا ز وَاَخَذْنٰـہُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (الزخرف : 48)
(اور ہم ان کو ایک پر ایک ایسی نشانی دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تھا کہ وہ رجوع کریں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی یہ کشمکش قرآن کریم میں مختلف جگہ بیان ہوئی ہے۔ موقع کی مناسبت سے اس داستان کے مختلف حصوں کو مختلف مواقع پر پھیلا دیا گیا ہے اور داستان کے بعض حصوں کو محذوف رکھا گیا ہے تاکہ دوسرے مواقع کی مدد سے ان کو سمجھا جاسکے۔ یہاں بھی اصل صورتحال یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ غرور اور تکبر کی بنا پر نبی محترم ﷺ کو رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے اس موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والی کشمکش کا کچھ حصہ بیان کیا جاتا ہے۔ تاکہ مکہ والوں اور دوسرے لوگوں کو معلوم ہو کہ فرعون نے تکبر کی بنیاد پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی جس بنا پر اس کا بدترین انجام ہوا۔ اے مکہ والو ! تم نبی ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو لہٰذا اپنا انجام سوچ لو۔۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غلام قوم کے ایک فرد تھے۔ جب جوان ہوئے تو ان کے ہاتھوں سرکاری پارٹی کا ایک آدمی سہواً قتل ہوا جس بنا پر موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف ہجرت کرگئے۔ مدین…
Read the full tafseer →ہر نشانی بڑی ہے مگر یہ باز آنے والے نہیں :
آیت 48: وَمَا نُرِیْہِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ اِلاَّ ہِیَ اَکْبَرُ مِنْ اُخْتِہَا (اور ہم ان کو جو نشانی دکھلاتے تھے وہ دوسری نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی) اختہا سے مراد پہلی نشانی کی ہم مثل جو عادت کو توڑنے کے لئے ظاہر کی جاتی۔ الفاظ کا انداز یہ ظاہر کر رہا ہے کہ بعد والی نشانی پہلی سے بڑھ کر ہوئی حالانکہ یہ مطلب نہیں بلکہ مراد اس کلام سے ہے۔ کہ یہ تمام نشانیاں ہی بڑی ہیں۔ ان میں ذرہ بھر فرق نہیں۔ عام محاورہ میں اسی طرح کہا جاتا ہے۔ ہما اخوان کل واحد منہما اکرم من الاٰخر۔ وہ دونوں بھائی ہیں ہر ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ وَاَخَذْنٰہُمْ بِالْعَذَابِ (اور ہم نے…
Read the full tafseer →47، فلما جاء ھم بایاتنا اذا ھم منھا یضحکون، استہزاء کرتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
46۔ 56۔ اوپر اس بات کا ذکر گزر چکا ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا جو تذکرہ آتا ہے اس تذکرہ سے ہر ایک مقام پر ایک خاص اور نیا فائدہ منظور ہوتا ہے۔ چناچہ ان آیتوں میں اللہ نے یہ فرمایا تھا کہ قریش اگر اپنی غفلت اور نافرمانی سے باز نہ آئیں گے تو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان سے ان کی غفلت اور نافرمانی کا بدلہ لے گا ان آیتوں میں پچھلی قوموں میں سب سے اخیر فرعون اور اس کی قوم کو جو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے بدلہ میں ہلاک کیا تھا اس کا ذکر فرمایا تاکہ قریش کو یہ معلوم ہوجائے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کے بدلہ لینے کا وقت مقررہ آجاتا ہے تو فوج حکومت ثروت کوئی چیز کام نہیں آتی فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
آیت 46
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” تو حضرت موسیٰ اور ان کی دعوت کا ذکر فرمایا جو انبیاء ومرسلین کی دعوت میں سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے، نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا سب سے زیادہ ذکر کیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا حال بیان کیا، فرمایا : (ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا) ” اور ہم نے موسیٰ کو نشانیاں دے کر بھیجا۔ “ جو قطعی طور پر دلالت کرتی ہیں کہ جو چیز حضرت موسیٰ لے کر آئے ہیں وہ صحیح ہے، مثلاً عصا، سانپ، ٹڈی ول بھیجنا، جوئیں پڑنا اور یدگر تمام آیات اور معجزات وغیرہ (الی فرعون وملاۂ فقال انی رسول رب العلمین) ” فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، تو اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →64 فرعونیوں کے لیے بڑی بڑی نشانیوں کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو ایک سے بڑھ کر ایک نشانی دکھاتے رہے تاکہ وہ باز آجائیں "۔ اپنے کفر وعناد اور مخالفت و عداوتِ حق سے۔ اور وہ راہ حق و صواب کو اپنا کر دائمی اور ابدی ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں اور عذاب الیم کی بجائے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان کرسکیں۔ سو یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد فرعونیوں کو دکھائی گئی تھیں۔ اور یہ نشانیاں تنبیہی نوعیت کی تھیں جو مختلف عذابوں کی شکل میں انکو دکھائی گئی تھیں تاکہ انکو اللہ پاک کی پکڑ اور انکے عذاب و انتقام کا کسی قدر اندازہ ہوسکے اور وہ اپنی سرکشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–54
آیات 46 تا 56۔
اسرار ومعارف۔
ان کفار کی مثال جو دولت کو معیار بنا رہے ہیں ایسی ہے جیسے ہم نے موسیٰ کو معجزات اور دلائل دے کر فرعون اور اس کے عمائدین سلطنت کی طرف بھیجا اگرچہ قوم کی طرف بھیجے گئے مگر حکمران چونکہ قوم کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرمایا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس پروردگار کا رسول ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور ان پر معجزات پیش فرمائے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا حالانکہ ہر وہ دلیل جو وہ دیتے اور ہر معجزہ جو ظاہر ہوتا وہ پہلے سے بڑھ کرہوتا مگر وہ نہ مانے تو اللہ کی طرف سے ان پر مختلف عذاب اور بیماریاں بھیج دی گئیں کہ یہ دکھ ان کے لیے توبہ کا سبب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 2 کہ جب لوگ ایمان لے آئیں تو میں عذاب اٹھالوں گا۔ یا تیرے ملک نے جو عہد منصب نبوت تجھے دیا ہے اس کے واسطہ سے ( بما عھد عندک) کے یہ دونوں مطلب ہوسکتے ہیں۔ بعض نے اس کے یہ معنی کہے ہیں ” اس واسطے کہ تیرے رب نے تیرے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ تیری دعا قبول کروں گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(43:48) وما ندیہم۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ۔ نری مضارع جمع متکلم اراء ۃ (افعال) مصدر ۔ ہم دکھاتے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ یعنی فرعون اور اس کے سرداران۔
من ایۃ۔ یعنی عذاب کی نشانی۔ جیسے قحط، طوفان، ٹڈیاں، مینڈک، خون وغیرہ۔ یہ سب موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کی نشانیاں تھیں
من اختھا : من حرف جر۔ اختھا مضاف مضاف الیہ۔ اخت، بہن ۔ اخ کی تانیث۔ ھا کا مرجع ایۃ ہے اکبر من اختھا۔ اپنی ساتھ والی سابقہ نشانی سے بڑی۔ مطلب یہ کہ ہر معجزہ اعجاز کی چوٹی پر پہنچا ہوا تھا۔ ہر معجزہ کو دیکھنے والا یہی سمجھتا تھا کہ یہ پہلے معجزہ سے بڑا ہے کیونکہ ہر معجزہ انتہائی بڑا تھا۔
لعلہم یرجعون : ای لکی یرجعوا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–56
لغات القرآن آیت نمبر 46 تا 56 : یضحکون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں ، ہنستے ہیں) اخت (بہن ، جنس) ینکثون (وہ توڑ ڈالتے ہیں) مھین (جس کی کوئی عزت نہ ہو) اسورۃ ( سوار) (کنگن ، پہننے کا زیور) مقترنین ( مقترن) (ملے ہوئے ، جڑے ہوئے) استخفف ( اس نے ہلکا کیا ، ذلیل کیا) اسفوا ( انہوں نے بھڑکایا) سلف (گزرے ہوئے)
تشریح : آیت نمبر 46 تا 56 : زیر مطالعہ آیات سے پہلے بتا دیا گیا تھا کہ جتنے پیغمبر بھی بھیجے گئے تھے انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو توحید کی تعلیم دے کر ان کے سامنے اس حقیقت کو پیش کیا تھا کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی ہر طرح کی عبادت و بندگی کا مستحق ہے۔ وہ خود بھی توحید پر عمل کرتے رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
(ف 1) حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے محبوب ﷺ جس طرح قریش کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے تم کو رسول بناکربھیجا ہے اسی طرح فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ کو رسول بناکربھیجا گیا تھا اور جس طرح قریش تمہاری نصیحت کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں اسی طرح فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ کی نصیحت کو مسخراپن میں اڑایا۔ تب ہم نے طرح طرح کے عذاب ایک سے ایک بڑھ کر بھیجے، طوفان ، ٹڈی ، جوں، مینڈک ، خون ، قحط ، بیماری کہ کسی طرح تو یہ مانیں اور کفر چھوڑیں جب عذاب اترتا تو فرعون وغیرہ حضرت موسیٰ کو پکارتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کرکے کہتا کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو اب کی مرتبہ ہم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[24] یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد تنبیہی عذاب کے طور پر نازل ہوئیں۔ ملاحظہ ہو سورة اعراف آیت 133 صفحہ 360۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ف 2: ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ صرف تم لوگ ہی حق وصداقت کے منکر نہیں ہو ۔ تم سے پہلے لوگوں نے بھی بڑی سرکشی اور تمرد کا اظہار کیا ہے ۔ اور پھر اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا ہے ۔ فرعون کو اور اس کے بڑے بڑے سرداروں کو دیکھو جب حضرت موسیٰ تشریف لائے ۔ اور انہوں نے ان کو اللہ کا پیغام سنایا ۔ تو وہ ازراہ تحقیر ہنسنے لگے ۔ انہوں نے معجزات دکھائے ۔ تو ان کو بھادو اور سحر سے تعبیر کرنے لگے ۔ اس پر اللہ کی غیرت جوش میں آئی اور یہ خدا کے غضب وغصہ کا شکار ہوگئے ۔
حل لغات :۔ یضحکون ۔ خندہ وتحقیر مراد ہے ۔
Read the full tafseer →(48) اور ہم ان کو جو نشانی دکھاتے تھے وہ نشانی پہلی نشانی اور اپنی قرین نشانی سے بڑھ کر ہوتی تھی اور ہم نے ان کو مختلف قسم کی سزائوں اور تکالیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلی نشانی کچھ چھوٹی ہوتی تھی اور دوسری بڑی ہوتی تھی بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عذاب آلود ہر نشانی بڑی ہوتی ہے۔ یہ ایسا محاورہو ہے جیسے کوئی کہے ھما اخوان کل واحدمنھا اکرم علی الاخر۔ بہرحال ! فرعونیوں پر ان مصائب کا سلسلہ جاری رہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
ف 5۔ مطلب یہ کہ سب نشانیاں بڑی ہی تھیں۔
6۔ یعنی وہ نشانیاں دلالات نبوت بھی تھیں اور ان کے لئے عقوبات بھی تھیں۔
Read the full tafseer →ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھائی گئیں کہ شاید وہ سنبھل جائیں
48 ؎ ان نشانیوں سے مراد وہی نشانیاں ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور جن کی تفصیل سورة الاعراف میں بیان کی گئی ہے کہ حالات نے پورے ملک کو اس طرح لپیٹ میں لے لیا کہ سارے ملک کے اندر پھلوں کو نقصان پہنچ گیا اور لوگ چیخنے لگے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی کہ درخواستیں پیش کرنے گے کہ تم تو اللہ کے رسول ہو اللہ سے دعا کرو کہ ہماری مصیبت ٹل جائے اور ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ظاہر ہے کہ جب کسی علاقہ کو اس طرح کی آسمانی بلیات اپنے نرغہ میں لیتی ہیں تو سب کے سب لوگ اس کے نرغہ میں آجاتے ہیں جہاں فرعون اور اس کے لوگوں کو تکیف کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (and can hardly express himself - 43:52). Although as a result of his own supplication, the stammering of Sayyidna Musa (علیہ السلام) had been removed by Allah Ta` ala, Fir'aun remembered his previous state only, and hence this aspersion. And it is possible also that by saying this, Fir'aun did not mean stammering in speech, but he meant that Sayyidna Musa (علیہ السلام) could not put forward adequate logical arguments to satisfy him, although this was nothing but a false accusation, because Sayyidna Musa (علیہ السلام) had completely overwhelmed Fir'aun through his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
43 This implies the Signs which Allah showed them through the Prophet Moses afterwards, and these were the following:
(1) A public encounter of Allah's Prophet with the magicians, who believed after their defeat. For details, see Al-A'raf: 112-126, Ta Ha: 68-73. AshShu'ara: 37-51.
(2) A severe famine which hit the land of Egypt according to the Prophet Moses' announcement and which left the country only on his prayer.
(3) Dreadful rain and hail-storms accompanied by lightning and thunder struck the country even as the Prophet had announced, which destroyed the crops and dwellings and which…
Read the full tafseer →