Az-Zukhruf 43:41

Az-Zukhruf · from ayah 41

43:41

فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ ۟ۙفَاِمَّا نَذۡهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنۡهُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَۙ‏

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whether [or not] We take you away [in death], indeed, We will take retribution upon them.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zukhruf

All translations of 43:41

اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اگر ہم تم کو (وفات دے کر) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اگر ہم تجھے یہاں سے لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تو یہی ہوگا کہ اگر ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، تب بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اگر ہم تمہیں لے جائیں تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تو تب بھی ہم اِن سے بدلہ لینے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اگر کبھی ہم تجھے لے ہی جائیں تو بیشک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

خواہ ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھالیں ہم ان سے بہرحال انتقام لیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس یا تو یہ ہوگا کہ ہم تم کو اٹھا لیں گے پھر ان سے بدلہ لیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اگر ہم آپ کو (دنیا سے) لے جائیں تب بھی ہم نے ان سے (ان کے کئے کرائے کا) بدلہ لے کر رہنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اگر ہم آپ کو اٹھالیں تو بھی ہم ان (کافروں) سے بدلہ لے کر رہنے والے ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اگر ہم آپ کو لے بھی جائیں تب بھی ان سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھا لیں تو ان لوگوں سے ہم انتقام لے کر رہیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We shall inflict retribution on them, whether We take you away from the world (before We do that),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, even if We take you away, We will surely take vengeance on them.

— Muhammad Taqi Usmani

So, even if We take you away, We will surely take vengeance on them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And even if We take you away, We shall indeed take vengeance on them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if We take thee away, We surely shall take vengeance on them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whether [or not] We take you away [in death], indeed, We will take retribution upon them.

— Saheeh International

We shall revenge them either after your death

— Muhammad Sarwar

But if We should take you away, still We shall inflict retribution on them;

— Muhammad Habib Shakir

And if We take thee away. We shall surely take vengeance on them.

— Abdul Majid Daryabadi

Even if We take thee away, We shall be sure to exact retribution from them,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 43:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–45

شیطان سے بچو ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ) 4۔ النسآء :115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–42

سورة الزُّخْرُف 37 اس ارشاد کا مطلب اس ماحول کو نگاہ میں رکھنے سے ہی اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے۔ کفار مکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ محمد ﷺ کی ذات ہی ان کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے، یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے تو پھر سب اچھا ہوجائے گا۔ اسی گمان فاسد کی بنا پر وہ شب و روز بیٹھ بیٹھ کر مشورے کرتے تھے کہ آپ کو کسی نہ کسی طرح ختم کردیا جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے رخ پھیر کر اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تمہارے رہنے یا نہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تم زندہ رہو گے تو تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی شامت آئے گی، اٹھا لیے جاؤ گے تو تمہارے پیچھے ان کی خبر لی جائے گی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–43

(آیت) وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ الخ۔ اس آیت کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جب تمہارا کفر و شرک ثابت ہوچکا ہے تو آخرت میں تمہاری یہ تمنا کچھ کام نہ آئے گی کہ کاش، یہ شیطان مجھ سے دور ہوتا کیونکہ اس وقت تم سب عذاب میں شریک ہو گے اس صورت میں اَنَّكُمْ فِي الْعَذَاب الخ لانکم کے معنی میں ہوگا اور ینفع کی ضمیر فاعل مقولہ یا لیت بینی الخ کی طرف راجع ہوگی۔ اور دوسری تفسیر یہ ممکن ہے کہ وہاں پہنچنے کے بعد تمہارا اور شیاطین کا عذاب میں مشترک ہونا تمہارے لئے چنداں فائدہ مند نہیں ہوگا۔ دنیا میں بیشک ایسا ہوتا ہے کہ ایک مصیبت میں چند آدمی شریک ہوجائیں تو ہر ایک کا غم ہلکا ہوجاتا ہے لیکن وہاں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

فامانذھبن بک فانا منھم منتقمرون، او نزینک الذین وعدتھم فانا علیھم مقتدون (42-41) یہ بھی اسی تسلی کے سلسلہ کی بات ہے۔ فرمایا کہ ان ظالموں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ اب یا تو یہ ہوگا کہ ہم تم کو اٹھا لیں گے اس کے بعد ان سے انتقام لیں گے یا جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے رہے ہیں وہ تمہارے ہوتے ہوئے آجائے گا اور تم بھی ان کا کا انجام دیکھ لوگے۔ ہم ان کو عذاب دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہ مضمون یونس آیت 46 اور الرعد آیت 40 میں بھی گزر چکا ہے۔ تفصیل معلوب ہو تو ان آیات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 یعنی تجھے موت آجائے، قبل اس کے کہ ان پر عذاب آئے، یا تجھے مکہ سے نکال لے جائیں۔ 41۔ 2 دنیا میں اگر ہماری مشیت طلب کرنے والی ہوئی، بصورت دیگر عذاب آخروی سے تو وہ کسی صورت نہیں بچ سکتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–45

13: یعنی ان پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان میں دیکھ لو کہ ان کو کیا تعلیم دی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 40–45

آیت نمبر 40 تا 45 قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 40–43

6 یعنی اندھوں کو راہ حق دکھلا دینا بہروں کو حق کی آواز سنا دینا اور جو صریح غلطی اور گمراہی میں پڑے بھٹک رہے ہوں ان کو تاریکی سے نکال کر سچائی کی صاف سڑک پر چلا دینا آپ کے اختیار میں نہیں ہاں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے آپ کی آواز میں تاثیر پیدا کر دے۔ بہرحال آپ اس غم میں نہ رہیے کہ یہ سب لوگ حق کو کیوں قبول نہیں کرتے، اور کیوں اپنا انجام خراب کر رہے ہیں۔ ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیجئے، وہ ہی ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ اگر آپ کی وفات کے بعد دی تب اور آپ کو دکھلا کردی تب، بہرصورت نہ ہمارے قابو سے نکل کر جاسکتے ہیں اور نہ ہم ان کو سزا دیے بدون چھوڑیں گے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ جو وحی آئے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 { فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ } ”تو اگر ہم آپ کو لے بھی جائیں ‘ تب بھی ان سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے۔“ اگر ہم آپ کو اپنے پاس بلا لیں تب بھی انہیں تو ان کے جرائم کی سزا مل کر ہی رہے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 41–42

41 مشرکین مکہ کا یہ خیال تھا کہ ان کی ساری پریشانیوں اور مصیبتوں کا باعث رسول اللہ کی ذات ہے۔ یہ کانٹا اگر درمیان سے نکل جائے تو سارا معاملہ درست ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ آپ کی جان کے لاگو بنے ہوئے تھے۔ اس آیت میں اگرچہ روئے سخن رسول اللہ کی طرف ہے لیکن یہ وعید دراصل مشرکین مکہ کو سنائی جارہی ہے۔ کہ رسول زندہ رہے یا نہ رہے۔ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا بہرحال مل کے رہے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا عذاب رسول کی زندگی میں ہی تمہیں پہنچ جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی وفات کے بعدآئے۔ لہذا جو کچھ تم رسول کے متعلق سوچ رہے ہو اس سے تمہاری پریشانیوں اور مصیبتوں میں اضافہ تو ہوسکتا ہے، کمی نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 41–42

32۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کا عصیان و طغیان خالی جانے والا نہیں، عذاب ان پر ضرور مرتب ہوگا۔ خواہ آپ ﷺ کی حیات ہی میں ہو یا آپ کے بعد ہو، ہم بہر صورت قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–45

آیت نمبر 36 تا 45 ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون۔ پس اگر ہم آپ کو (دشمنوں کو تباہ کرنے سے پہلے) دنیا سے اٹھا لیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 41–42

(41۔ 42) سو اگر ہم آپ کو اٹھا لیں تو ہم ان سے بذریعہ عذاب بدلہ لینے والے ہیں یا بدر کے دن جو ان سے بدلہ لینے کا وعدہ کر رکھا ہے وہ آپ کو دکھائیں غرض کہ ہم آپ کے وصال سے پہلے یا بعد ہر طرح ان پر عذاب نازل کرنے میں قادر ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 41–42

فاما نذھبن بک فانا منھم…: یہ بھی رسول اللہ ﷺ کو ایک اور طرح سے تسلی دلائی ہے کہ یہ کفار جو آپ کی موت کے منتظر ہیں اور ہر وقت آپ کو کسی نہ کسی طرح قتل کرنے کی کوشش اور مشورہ کرتے رہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ کی موت سے ان کی مشکل ختم ہوجائے گی اور سب کچھ ان کے حق میں ہوجائے گا۔ فرمایا ان کا یہ خیال غلط ہے، کیونکہ اگر ہم آپ کو اپنے پاس لے جائیں تو پھر بھی یہ لوگ سزا سے بچ نہیں سکیں گے، بلکہ ہم ہر حال میں ان سے انتقام لینے والے ہیں، یا آپ کی زندگی میں آپ کو اس سزا کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو یہ بھی کچھ بعید نہیں، کیونکہ ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ چناچہ ایسا ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–42

فاما نذھبن اس سے مراد یہ لی ہم آپ کو مکہ مکرمہ سے قریش کی اذیت سے نکال کرلے جائیں فانا منھم منتقمون۔ اونرینک الذی وعدنھم اس سے مراد تیری زندگی میں ان سے اتنقام لینا ہے فانا علیھم مقتدرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ منظر بدر کے روز دکھایا، یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، یہ مسلمانوں میں ہے اس سے مراد حضرت محمد کے بعد فتنے ہیں (1) نذھبن بک اسی پر ہم تجھے موت عطا کردیں گے نبی کریم ﷺ کے بعد شدید انتقام واقع ہو اللہ تعالیٰ نے اپنیی نبی کو عزت بخشی اللہ تعالیٰ آپ کو لے گیا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت میں نہیں دکھایا مگر وہی کچھ جس سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–43

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وحاکم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فاما نذھبن بک فانا منھم منتقمون “ (پس اگر ہم آپ کو دنیا سے اٹھالیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں) کے بارے میں انس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے چلے گئے اور انتقام باقی رہا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی امت میں ایسی چیز نہیں دکھائی جس کو آپ ناپسند کرتے ہوں یہاں تک کہ اس دنیا سے اٹھالئے گئے اور کبھی کوئی ایسا نہیں ہوا مگر اس نے اپنی امت میں عذاب کو دیکھا ہو مگر تمہارے نبی نے، آپ نے اپنی امت میں جو کچھ دیکھا وہ آپ کے اس دارفانی سے پردہ فرمانے کے بعد ہوگا (اس لئے) آپ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِمَّا [ پھر یا تو ] نَذْهَبَنَّ بِكَ [ ہم لے ہی جائیں آپ کو ] [فَاِنَّا مِنْهُمْ : پھر بیشک ہم ان سے ] مُّنْتَقِمُوْنَ [انتقام لینے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: ان آیات میں بالاجمال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت بیان ہوئی ہے، جس سے مقصود اس انتقام الہی کی تاریخی شہادت پیش کرنا ہے جس کا ذکر آیات 41 ۔ 42 میں ہوا ہے کہ رسول کی تکذیب کے بعد اس کی قوم کا فیصلہ لازما ہوجاتا ہے ، خواہ رسول کی زندگی میں ہو یا اس کی ہجرت یا موت کے بعد ۔ اللہ کا یہ انتقام اس کی ایک مقررہ سنت ہے جس کی گرفت سے کوئی قوم بھی نہیں بچی اس کے علاوہ ان آیات میں اس حقیقت کی عملی مثال بھی ہے جو آیت ۔ 40 ۔ میں بیان ہوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ ﴾ (الآیۃ) (سو اگر ہم آپ کو لے جائیں) یعنی دنیا سے اٹھالیں یا مکہ معظمہ سے نکال کرلے جائیں تو ان لوگوں کا پھر بھی عذاب سے چھٹکارہ نہیں، ہم ان سے انتقام لے لیں گے آپ کے سامنے ہو جسے ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کے بعد ہو ہمیں سب پر قدرت ہے، یعنی انہیں کفر کی سزا ضرور ملے گی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ غزوہ بدر میں جو مشرکین مکہ کو شکست ہوئی قتل بھی ہوئے قیدی بھی ہوئے آیت کریمہ میں اس انتقام کا تذکرہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–45

تنبیہ وتوبیخ برغفلت واعراض از ذکر خداوندی و حسرت وندامت مجرمین در آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن ....... الی ...... الھۃ یعبدون “۔ (ربط) اس قبل آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک خاص اسوہ یعنی توحید خداوندی پر استقامت اور کفر وشرک سے براء توبیزاری کا بیان فرمایا گیا تھا، ساتھ ہی دنیا کے سازوسامان اور اس کی آرائش و آسائش کی بےوقعتی کا ذکر تھا اور یہ کہ اصل شرف اور عظمت انسان کو صرف وحی الہی ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے، اب ان آیات میں حق تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غفلت واعراض پر تنبیہ وتوبیخ کی جارہی ہے، اور یہ کہ ایسے غافلوں اور بےحس لوگوں کا انجام نہایت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

27:۔ ” فاما نذھبن بک۔ الایتیں “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ معاندین اور کفر و شرک کے سرغنے دنیا میں بھی ہماری گرفت سے نہیں بچ سکتے ہم انہیں ان کے عناد و تعنت اور انکار و جحود کی دنیا ہی میں سخت سزا دیں گے اور اگر دنیا میں ہم نے کسی مصلحت سے کسی معاند و سرکش کو نہیں پکڑا تو آخرت کے عذاب سے تو کسی حال میں نہیں بچ سکے گا، اگر ہم آپ کو دنیا سے اٹھا لیں اور آپ کے سامنے ان کو عذاب نہ دیں تو بھی ان سے دنیا یا آخرت میں انتقام لے کر چھوڑیں گے اور اگر ہم چاہیں کہ ان پر آنے والا عذاب آپ کو دکھا دیں اور آپ ان کو بچشم خود عذاب میں مبتلا دیکھ لیں، تو ہم ایسا بھی کرسکتے۔ جیسا کہ جنگ بدر کے موع پر قتل ور قید و بند…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–45

ربط آیات پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِمَّا نَذْہَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ۝ 41 ۙ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ نقم نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–45

تفسیر : اس سے پہلے فرمایا تھا کہ ایسے بہرے اندھے کو جو ضلال مبین میں گرفتار ہو تو ہدایت نہیں دے سکتا۔ ایسی حالت میں ان ازلی گمراہوں کو اور بھی جرأت ہونا اور نبی کی تکذیب و ایذا پر کمر باندھ کر اس کہنے کا موقع ملنا (کہ تجھ سے ہماری ہدایت ممکن نہیں اور ہم ایسے بدراہ ہیں تو تیرا خدا اپنے وعدہ کے موافق ہمیں کچھ سزا دیوے تاکہ تیری سچائی معلوم ہو کہ تو اس کا بھیجا ہوا ہے) قرین قیاس ہے۔ ان کی اس شوخ چشمی کا جواب دیتا ہے فامانذھبن بک فانامنہم منقمون الخ کہ اگر تجھے اے محمد ﷺ ہم دنیا سے لے جاویں کیونکہ تو اپنا کام جو تھا سو کرچکا اور یہ ایک روز ہونا ہے تو یہ نہیں کہ پھر ہم ان سے بدلہ نہ لیں یا تیری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

فَاِمَّا نَذْھَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنْھُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ ۔ اَوْنُرِیَنَّـکَ الَّذِیْ وَعَدْنٰـھُمْ فَاِنَّا عَلَیْھِمْ مُّقْتَدِرُوْنَ ۔ (الزخرف : 41، 42) (پس یا تو ہم آپ کو لے جائیں گے، پھر ہم ان سے انتقام لیں گے۔ یا ہم آپ کو دکھا دیں گے وہ چیز جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے، ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کا تسلسل اشرارِقریش کا خیال یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ جس دین کی دعوت لے کر اٹھے ہیں اور جس کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کررہے ہیں اور اپنی جدوجہد اور بےمثال قیادت سے جس طرح معاشرے میں تبدیلی کے آثار پیدا کررہے ہیں اس کا تمام تر دارومدار آپ کی ذات پر ہے۔ اس انقلاب کو روکنے کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–42

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص پر شیطان مسلّط کردیا جائے وہ برائی کو اچھائی سمجھنے کی وجہ سے اندھا اور بہرا ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ جو شخص برائی کو اچھائی سمجھ کر کرتا ہے اسے جس طرح بھی سمجھایا جائے وہ نہ صرف اچھی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دل کے اندھے پن کی وجہ سے وہ اچھی بات پر غور کرنا اور اسے توجہ کے ساتھ سننا اپنے لیے بوجھ سمجھتا ہے۔ یہی صورت حال اہل مکہ اور اہل کتاب کی غالب اکثریت کی تھی۔ اہل مکہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر شرک و بدعات کرتے اور اہل کتاب اپنے آپ کو اہل حق سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کو جب بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہم ان سے انتقام لیں گے : آیت 41: فَاِمَّا۔ ماکو ان پر تاکید شرط کے لئے لائے۔ اسی طرح نذہبن میں نون ثقیلہ بھی اس غرض کے لئے ہے۔ نَذْہَبَنَّ بِکَ (ان کے خلاف تمہاری مدد سے پہلے آپ کو وفات دے دیں) اور اس سے مؤمنوں کے دلوں کو ٹھنڈک حاصل ہو۔ فَاِنَّا مِنْہُمْ مُّنْتَقِمُوْنَ (بیشک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں) آخرت کا سخت انتقام لیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 40۔ ، افانت تسمع الصم اوتھدی العمی ومن کان فی ضلال مبین، یعنی ان کا فروں کو جن پر عذا ب کا حکم ثا بت ہوچکا کہ وہ ایمان نہ لائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–41

36۔ 41۔ صحیح 5 ؎ مسلم اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور شیطان برے کام کی صلاح دیتا رہتا ہے صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکر الٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یاد الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پھر آ کر آدمی کی ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے ان صحیح حدیثوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–45

آیت 40 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے، نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انہیں ہدایت کی طرف بالئے۔ (افانت تسمع الصم) ” کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔ “ جو سنتے نہیں (اوتھدی العمی) ” یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ “ جو دیکھتے نہیں یا کیا آپ اس شخص کی راہنمائی کرسکتے ہیں (آیت) ” جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ؟ کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 22–60

تقلید کی تردید قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–42

54 منکرین کے لیے تنبیہ و تہدید : سو اس ارشاد میں پیغمبر کیلئے تسکین و تسلی اور کفار و منکرین کیلئے تہدید و دھمکی ہے۔ سو ان کفار کو سنایا جا رہا ہے جو آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے تھے کہ لاؤ وہ عذاب جس کی دھمکیاں آپ ہمیں دے رہے ہو۔ سو ان کو بتایا جا رہا ہے کہ عذاب لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں بلکہ وہ ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ اور ہم اسے جب چاہیں لاسکتے ہیں خواہ پیغمبر کی زندگی میں یا اس کے بعد۔ سو اس سے بہرحال کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ عذاب کب آئے گا کہ اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے کہ تم لوگ تو بہرحال ہمارے قابو اور کنٹرول میں ہو۔ کہیں بچ کر نکل نہیں سکتے۔ سو تمہیں تو اس سے بچنے کی فکر کرنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–56

برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–45

آیات 36 تا 45۔ اسرار ومعارف۔ اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔ ذکر الٰہی اور شیطان۔ ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 41–42

ف 7 یعنی ان سے انتقام لینے کے لئے ان پر عذاب ضرور بھیجا جائے گا چاہے یہ عذاب آپ ﷺ کی زندگی میں آئے یا آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد۔ 8 چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں بدر کے روز کافروں پر عذنب بھیجا۔ بہت سے مفسرین (رح) نے اس آیت کی یہی تشریح کی ہے اور ابن جریر (رح) نے اسے ترجیح دی ہے۔ حسن بصری (رح) اور قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ اور بعض الذی نعدھم سے مرادوہ فتنے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں میں نمودار ہوئے لیکن زیادہ صحیح پہلی ہی ہے ( قرطبی، ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(43:41) فاما نذھبن بل : فاما اصل میں فاء عطف کی۔ ان شرطیہ اور ما زائدہ برائے تاکید سے مرکب ہے اس لئے نذھبن میں نون تاکید ثقیلہ لانا ضروری ہوا۔ جملہ شرط ہے۔ نذھبن مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم ۔ ذھب ب لے جانا۔ وفات دینا۔ پس اگر ہم آپ کو لے جائیں یعنی آپ کو وفات دیدیں۔ فانا منہم منتقمون۔ جواب شرط۔ تو پھر بھی ہم ان سے بدلہ لیں گے۔ منتقمون اسم فاعل جمع مذکر انتقام (افتعال) مصدر۔ بدلہ میں سزا دینے والے۔ انتقام لینے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 36–45

لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–42

(ف 1) اے محبوب ان کو کفر کا عذاب ضرور پہنچے گا مگر وقت پر، یا تو یہ ہوگا کہ ہم تم کو دنیا سے اپنے پاس بلالیں گے اور تم وفات دیں گے پھر اس کے بعد ان سے بدلہ لیں گے یا یہ ہوگا کہ تم کو ان کا عذاب دکھائیں گے تمہاری زندگی میں تمہاری آنکھوں کے سامنے یہ سزا پائیں گے غرض یہ کہ ہم ہر طرح قدرت والے ہیں جو چاہیں گے کریں گے مگر عذاب ضرور ہوگا چناچہ غزوہ بدر میں حضرت ﷺ کے ہاتھوں سے سزا پائی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–44

یہ بہرے اور اندھے ہیں 1: یعنی ہرچند ان لوگوں کو اسلام کے معارف وحقائق سے آگاہ کیا گیا ہے مگر یہ ہیں کہ ان میں پذیرائی اور قبولیت کی قطعاً استعداد موجود نہیں ہے ۔ یہ کانوں کے بہرے ہیں ۔ کلمہ حق کو سننا ہی نہیں چاہتے ۔ آنکھوں سے اندھے ہیں ۔ مظاہر صدق وصفا اور خوارق ومعجزات کو دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہیں ۔ اس صورت میں اور گمراہی کی اس منزل میں آپ کا سمجھانا بالکل بےکار اور خبث ہے ۔ جب قومیں اس درجہ پست اور ذلیل ہوجائیں ۔ کہ سچائی کو قبول کرنا ان کے لئے موجب تنگ ہو ۔ تو پھر بہترین سزا قدرت کی طرف سے یہ ہوتی ہے ۔ کہ ان کو مٹا دیا جائے ۔ چناچہ ان لوگوں کو اللہ کی شدید ترین سزا کے لئے ہر لحظہ تیار…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کی موجودگی میں یا آپ ﷺ کے بعد ان کی جو سزا طے ہے وہ ان کو یقینا ملے گی 41 ؎ جس طرح ہر انسان کے لیے مرنا ہے نبی و رسول کے لیے بھی بہرحال مرنا ہے موت سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ ہوگا پیغمبر کا کام پیغام پہنچانا ہے وہ پہنچا دیا گیا اور پہنچایا جا رہا ہے اور پہنچایا جاتا رہے گا منکرین و معاندین کے لیے سزا کا دن مقرر ہے جب وہ روز آئے گا تو ان کو یقینا سزاملے گی۔ اس دنیا میں جو انہوں نے پیغام سنانے والوں کے ساتھ ظلم و زیادتیاں کیں ان کا بدلہ بھی ان میں سے ہر ایک سے لیا جانے والا ہے وہ آپ کی موجودگی میں لے لیا جائے یا آپ کی وفات کے بعد بہرحال ان کو ان کے کیے کی سزا مل کر رہے گی اور ہم کو ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–44

Good Fame is liked by Islam وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ‌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ (And certainly this Qur'an is a word of honor for you and your people... 43:44) The original word used in the text is dhikr which here means 'good name' or 'fame'. The verse means that the Noble Qur'an is a matter of great honour and good fame for the Holy Prophet t and his people. Imam Razi has concluded from this verse that good fame is a desirable thing, because Allah Ta ala has stated this as a matter of favor and that is why Sayyidna Ibrahim' (علیہ السلام) had supplicated: وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِ‌ينَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

37 This thing can be understood fully only by keeping in view the background in whicjit was said. The disbelievers of Makkah thought that the person of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's Peace) had become a source of trouble for them. If they could somehow get rid of him, matters would become normal. On the basis of this evil thought they were holding consultations day and night and planning to kill him. At this, Allah addresses His Prophet so as to tell them indirectly: "It doesn't make any difference whether you remain among them or not: if you live, you will see them meet their…

Read the full tafseer →