Explained with ayahs 36–45
شیطان سے بچو
ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں (عشی فی العین) کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت (وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا01105ۧ) 4۔ النسآء :115) ، یعنی جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں…
Read the full tafseer →سورة الزُّخْرُف 36
مطلب یہ ہے کہ جو سننے کے لیے تیار ہوں اور جنہوں نے حقائق کی طرف سے آنکھیں بند نہ کرلی ہوں، ان کی طرف توجہ کرو، اور اندھوں کو دکھانے اور بہروں کو سنانے کی کوشش میں اپنی جان نہ کھپاؤ، نہ اس غم میں اپنے آپ کو گھلاتے رہو کہ تمہارے یہ بھائی بند کیوں راہ راست پر نہیں آتے اور کیوں اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–43
(آیت) وَلَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ الخ۔ اس آیت کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جب تمہارا کفر و شرک ثابت ہوچکا ہے تو آخرت میں تمہاری یہ تمنا کچھ کام نہ آئے گی کہ کاش، یہ شیطان مجھ سے دور ہوتا کیونکہ اس وقت تم سب عذاب میں شریک ہو گے اس صورت میں اَنَّكُمْ فِي الْعَذَاب الخ لانکم کے معنی میں ہوگا اور ینفع کی ضمیر فاعل مقولہ یا لیت بینی الخ کی طرف راجع ہوگی۔
اور دوسری تفسیر یہ ممکن ہے کہ وہاں پہنچنے کے بعد تمہارا اور شیاطین کا عذاب میں مشترک ہونا تمہارے لئے چنداں فائدہ مند نہیں ہوگا۔ دنیا میں بیشک ایسا ہوتا ہے کہ ایک مصیبت میں چند آدمی شریک ہوجائیں تو ہر ایک کا غم ہلکا ہوجاتا ہے لیکن وہاں…
Read the full tafseer →افانت تسمع الصم اوتھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین 40
آنحضرت صلعم کو تسلی
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری تذکیر و موعظت کارگر ہو سکتی ہے تو ان لوگوں پر ہو سکتی ہے جن کے اندر دیکھنے سننے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زندہ ہے ان لوگوں کو آخر تم کس طرح سنا سکتے ہو جن کے کان بہرے ہوں اور جنہوں نے اپنی آنکھیں پھوڑ لی ہوں !
ومن کان فی ضلل مبین یعنی کسی کو گمراہ اگر کسی حقیت کے خفایا اس کی کم علمی و بیخبر ی کے سبب سے ہو تو اس کے ازالہ کی تدبیر کی جاسکتی ہے لیکن جو شخص بالکل کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہو، جس کا گمراہی ہونا خود اس پر بھی واضح ہو، اس کو ہدایت دینا کس کے امکان میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
40۔ 1 یعنی جس کے لئے شقاوت ابدی لکھ دی گئی، وہ وعظ نصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے دعوت و تبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
13: یعنی ان پر جو آسمانی کتابیں نازل ہوئی تھیں، ان میں دیکھ لو کہ ان کو کیا تعلیم دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت نمبر 40 تا 45
قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
6 یعنی اندھوں کو راہ حق دکھلا دینا بہروں کو حق کی آواز سنا دینا اور جو صریح غلطی اور گمراہی میں پڑے بھٹک رہے ہوں ان کو تاریکی سے نکال کر سچائی کی صاف سڑک پر چلا دینا آپ کے اختیار میں نہیں ہاں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے آپ کی آواز میں تاثیر پیدا کر دے۔ بہرحال آپ اس غم میں نہ رہیے کہ یہ سب لوگ حق کو کیوں قبول نہیں کرتے، اور کیوں اپنا انجام خراب کر رہے ہیں۔ ان کا معاملہ خدا کے سپرد کیجئے، وہ ہی ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ اگر آپ کی وفات کے بعد دی تب اور آپ کو دکھلا کردی تب، بہرصورت نہ ہمارے قابو سے نکل کر جاسکتے ہیں اور نہ ہم ان کو سزا دیے بدون چھوڑیں گے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ جو وحی آئے…
Read the full tafseer →آیت 40{ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَہْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے ‘ اور ان کو جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں !“
Read the full tafseer →40 یعنی آپ اپنی تمام تر توجہ ان لوگوں کی طرف مبذول کیجئے جو ہدایت کے خواہشمند ہیں یا جو اسلام لاچکے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کا کلام سننا ہی نہیں چاہتے اور اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ انہیں راہ راست پر لانا یا نہ لانا آپ کا کام نہیں۔ آپ ان کی فکر چھوڑ دیجئے جو اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →31۔ یعنی ایسے ارادی کج روؤں اور گمراہوں کی ہدایت آپ ﷺ کے اختیار سے خارج ہے۔ آپ ﷺ ذرا بھی اس کے درپے نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیت نمبر 36 تا 45
ترجمہ : اور جو شخص رحمٰن کے ذکر یعنی قرآن سے اعراج کرے تو ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں سو وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے کہ اس سے جدا نہیں ہوتا اور بلاشبہ وہ شیاطین ان اعراض کرنے والوں کو ہدایت کے راستہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں جمع لانے میں مَنْ کے معنی کی رعایت ہے یہاں تک کہ جب وہ اعراض کرنے والا اپنے ساتھی کے ساتھ قیامت کے روز ہمارے پاس آئے گا تو اپنے ساتھی سے کہے گا، کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کی دوری ہوتی یعنی جس قدر مشرق ومغرب کے درمیان دوری ہے یا تنبیہ کے لئے ہے تو میرا بڑا برا ساتھ ہے، (اے) اعراض کرنے والو ! آج ہرگز تم…
Read the full tafseer →افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین کیا آپ ایسے بہروں کو سنا سکتے ہیں
یا ایسے اندھوں کو اور ان لوگوں کو جو صریح گمراہی میں ہیں ‘ راہ دکھا سکتے ہیں ؟
وَمَنْ کَانَ کا عطف الْعُمْیَ پر ہے کیونکہ نابینا ہونا اور گمراہ ہونا ‘ دونوں صفتیں الگ الگ ہیں۔
اَفَانْتَ میں استفہام تعجبی انکاری ہے ‘ یعنی یہ کافر جب کفر کے خوگر ہوگئے اور گمراہی میں ایسے ڈوب گئے کہ ظلمت کفر کا پردہ ان کی آنکھوں پر پڑگیا اور ان کے کانوں میں ایسے گرانی آگئی کہ وہ آپ کا کلام گوش حق نیوش سے نہیں سنتے اور جو راستہ آپ ان کو دیکھا رہے ہیں ‘ وہ طریق حق ان کو نہیں سوجھتا تو ایسے بہروں کو آپ کلام حق نہیں سنا سکتے اور نہ…
Read the full tafseer →اے محمد کیا آپ ایسے بہرے کافر کو حق و ہدایت کی بات سنا سکتے ہیں یا ایسے اندھے کافر کو کہ وہ حق و ہدایت کو دیکھے یا ایسے لوگوں کو جو صریح کفر میں گرفتار ہیں آپ ان کو ہدایت پر نہیں لاسکتے۔
Read the full tafseer →افانت تسبح الصم …رحمن کے ذکر سے دانستہ آنکھیں بند کرنے کی سزا شیطان کو ایسے لوگوں کا ساتھی بنانے کی صورت میں دی جاتی ہے جو انھیں راہ حق سے اس طرح روکتےیں کہ وہ حق سننے سے بہرے اور اس کی نشانیاں دیکھنے سے اندھے ہوجاتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ غمزدہ نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کو راست پر لے آنا آپس کے بس میں نہیں، آپ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
Read the full tafseer →افانت تسمع الصم اوتھدی العمی خطاب سر وردوعالم ﷺ کو ہے ومن کان فی ضلل مبین۔ یعنی یہ آپ کے لئے نہیں اس لئے اگر وہ کفر کرتے ہیں تو آپ کا سینہ تنگ نہ پڑے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی ہے اس میں قدریہ اور دوسرے افراد کے لئے رد ہے دل میں ہدایت، رشد اور گمراہی یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں جس کے حق میں چاہتا ہے گمراہی تخلیق فرما دیتا ہے اور جس کے حق میں چاہتا ہے ہدایت مقدر کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
اللہ کے نافر مانوں پر شیطان کا مسلط ہونا :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن عثمان مخزومی (رح) سے روایت کیا کہ قریش نے باہم مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے ہر ایک پر آدمی مقرر کردو تاکہ ہو جاکر اس کو پکڑ لے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے لئے طلحہ بن عبداللہ کو مقرر کیا گیا۔ طلحہ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے ابوبکر ؓ نے پوچھا تو مجھے کس بات کی دعوت دیتا ہے ؟ طلحہ نے کہا میں تجھے لات اور عزی کی پوجا کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا لات کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا ہمارا رب۔ پوچھا عزی کیا ہے ؟ طلحہ نے کہا یہ الہ کی بیٹیاں ہیں ابوبکر نے پوچھا ان کی ماں کون تھی ؟ طلحہ…
Read the full tafseer →اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ [ تو کیا آپ سنائیں گے ] الصُّمَّ [ بہروں کو ] اَوْ تَهْدِي [ یا آپ راہ سجھائیں گے ] الْعُمْيَ [اندھوں کو ] وَمَنْ كَانَ [ اور اس کو جو ہو ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ کھلی گمراہی میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
﴿اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ ﴾ (الآیۃ) کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا اندھوں کو راہ پر لاسکتے ہیں جو صریح گمراہی میں ہیں اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ بہرے اور اندھے ہیں اور صریح گمراہی میں ہیں آپ انہیں ہدایت پر نہیں لاسکتے یعنی ان کو ہدایت دینا آپ کے اختیار سے خارج ہے اور آپ اپنی دعوت کا کام جاری رکھیں آپ کی اتنی ہی ذمہ داری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
تنبیہ وتوبیخ برغفلت واعراض از ذکر خداوندی و حسرت وندامت مجرمین در آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن ....... الی ...... الھۃ یعبدون “۔
(ربط) اس قبل آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک خاص اسوہ یعنی توحید خداوندی پر استقامت اور کفر وشرک سے براء توبیزاری کا بیان فرمایا گیا تھا، ساتھ ہی دنیا کے سازوسامان اور اس کی آرائش و آسائش کی بےوقعتی کا ذکر تھا اور یہ کہ اصل شرف اور عظمت انسان کو صرف وحی الہی ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے، اب ان آیات میں حق تعالیٰ کے ذکر اور اس کی یاد سے غفلت واعراض پر تنبیہ وتوبیخ کی جارہی ہے، اور یہ کہ ایسے غافلوں اور بےحس لوگوں کا انجام نہایت ہی…
Read the full tafseer →26:۔ ” افانت نسمع “ الایۃ۔ یہ زجر ہے حضرت رسول خدا ﷺ مشرکین کو توحید کی کی دعوت دینے میں انتہائی کوشش فرماتے اور افہام و تفہیم کا ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے مگر ان کی طرف سے انکار و جحود کے سوا کچھ بھی ظاہر نہ ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ حق سے اعراض کی انتہا کو پہنچ چکے ہوں جن سے مہر جباریت کی وجہ سے حق سمجھنے کی صلاحیتیں ہی سلب کرلی گئی ہوں اور وہ کھلی اور خود اختیار کردہ گمراہی میں مستغرق ہوں، کیا آپ ان کو راہ راست پر لاسکتے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے۔ یہ لوگ حق سننے سے بہرے اور دیکھنے سے اندھے ہوچکے ہیں، اس لیے وہ ہدایت کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
ربط آیات
پہلے توحید اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے رسالت کا ذکر فرمایا وکذلک ما ارسلنا من قبلک …81 (آیت 23- ) اسی طرح آپ سے پہلے ہم نے جس بستی میں بھی رسول یا نبی بھیجا تو وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے اس کا انکار کیا اور اپنے آبائو اجداد کی فرسودہ رسوم پر کاربند رہنے پر اصرار کیا۔ قالوا انا بما ارسلتم بہ کفرون (آیت 24- ) کہنے لگے کہ جس چیز کو تم لے کر آئے ہو ، ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔ عرب کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہوا کہ جب بھی ان کے پاس حق بات ائٓی قالوآ ھذا سحر وانا بہ کفرون (آیت 30- ) کہنے لگے یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرنے والے ہیں۔ اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہے تو اسے یکسر…
Read the full tafseer →اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَہْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 40
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
1 ؎ بعدالمشرقین ای بعدالمشرق و المغرب و من عادۃ العرب تسمیۃ الشیئینالتقا بلین باسم احد ہما 12 کبیر 12۔ منہ۔
Read the full tafseer →اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْتَھْدِی الْعُمْیَ وَمَنْ کَانَ فِی ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الزخرف : 40)
(اب کیا اے نبی آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
سابقہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ اپنے مسلسل انکار اور آپ کی دعوت سے تمرد کے باعث اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر شیاطین مقرر کردیئے ہیں جو دوستی کے انداز میں ہمیشہ انھیں بہکاتے رہتے ہیں۔ اور اگر کبھی آنحضرت ﷺ کی دعوت کے نتیجے میں ان کے اندر آمادگی کی کوئی لہر اٹھتی ہے تو وہ انھیں اس انداز سے برگشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
فہم القرآن
ربط کلام : جس شخص پر شیطان مسلّط کردیا جائے وہ برائی کو اچھائی سمجھنے کی وجہ سے اندھا اور بہرا ہوجاتا ہے۔
یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ جو شخص برائی کو اچھائی سمجھ کر کرتا ہے اسے جس طرح بھی سمجھایا جائے وہ نہ صرف اچھی بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دل کے اندھے پن کی وجہ سے وہ اچھی بات پر غور کرنا اور اسے توجہ کے ساتھ سننا اپنے لیے بوجھ سمجھتا ہے۔ یہی صورت حال اہل مکہ اور اہل کتاب کی غالب اکثریت کی تھی۔ اہل مکہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کے نام پر شرک و بدعات کرتے اور اہل کتاب اپنے آپ کو اہل حق سمجھتے تھے۔ ان لوگوں کو جب بھی…
Read the full tafseer →یہ کفر پر مریں گے :
آیت 40: اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ (کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں) یعنی وہ لوگ جن کی عقلوں کے کان غائب ہوچکے۔ اَوْ تَہْدِی الْعُمْیَ (یا تم اندھوں کو راہ پر لاسکتے ہو) یعنی وہ جن کی بصارت نہیں رہی۔ وَمَنْ کَانَ فِی ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (اور وہ جو کھلی گمراہی میں ہیں) اور وہ لوگ جن کے متعلق علم الٰہی میں کفر پر موت لکھی ہے۔
Read the full tafseer →39، ولن ینفعکم الیوم، آخرت میں ، اذظلمتم، تم نے دنیا میں شرک کیا۔ ، انکم فی العذاب مشترکون، یعنی تم کو عذاب میں مشترک ہونا نفع نہ دے گا اور یہ اشتراک تم سے عذاب کو ہکا بھی نہ کرے گا۔ اس لیے کہ کفاروشیاطین میں سے ہر ایک کے لیے عذاب کا وافرحصہ ہوگا۔
اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو آج کے دن عذر کرنا اور نادم ہونا نفع نہ دے گا۔ پس تم اور تمہارے قرین (ساتھ) آج کے دن عذاب میں مشترک ہو جیسا کہ تم کفر میں مشترک تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
36۔ 41۔ صحیح 5 ؎ مسلم اور ترمذی میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان تعینات ہے فرشتہ ہر وقت نیک کام کی صلاح دیتا رہتا ہے اور شیطان برے کام کی صلاح دیتا رہتا ہے صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آدمی اللہ تعالیٰ کی کچھ یاد اور ذکر الٰہی کرتا ہے تو آدمی کے ساتھ جو شیطان رہتا ہے وہ آدمی کی ہم نشینی سے الگ ہوجاتا ہے اور جب آدمی یاد الٰہی سے غافل ہوجاتا ہے تو وہ شیطان پھر آ کر آدمی کی ہم نشینی کو مستعد ہوجاتا ہے اور طرح طرح کے وسوسے آدمی کے دل میں ڈالنے شروع کردیتا ہے ان صحیح حدیثوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
آیت 40
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اہل تکذیب کے ایمان نہ لانے اور آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنے پر تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے، نیز واضح فرماتا ہے کہ ان میں کوئی بھلائی ہے نہ پاکیزگی جو انہیں ہدایت کی طرف بالئے۔ (افانت تسمع الصم) ” کیا آپ بہرے کو سنا سکتے ہیں۔ “ جو سنتے نہیں (اوتھدی العمی) ” یا اندھے کو راستہ دکھا سکتے ہیں ؟ “ جو دیکھتے نہیں یا کیا آپ اس شخص کی راہنمائی کرسکتے ہیں (آیت) ” جو واضح گمراہی میں مبتلا ہے ؟ کیونکہ وہ اپنی گمراہی اور اس کے بارے میں اپنی پسندیدگی کو خوب جانتا ہے۔ پس جس طرح بہرہ آوازوں کو نہیں سن سکتا اور اندھا دیکھ نہیں سکتا اسی طرح گمراہ شخص جو واضح گمراہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–60
تقلید کی تردید
قول باری ہے (بل قالوا انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ نہیں، بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک خاص طریقے پر پایا ہے) تاقول باری (قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابائکم اس پر ان کے پیغمبر نے کہا کہ اور اگر میں اس سے بہتر طریقہ، منزل پر پہنچا دینے کے اعتبار سے لایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ ) اس آیت میں تقلید کے ابطال پر دلالت موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بنا پر مذمت کی ہے کہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی تقلید کی اور جس طریقے کی طرف حضور ﷺ انہیں بلا رہے تھے اس کے متعلق غور و فکر کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔
Read the full tafseer →53 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کے لیے فرمایا گیا کہ یہ لوگ اگر نہیں سنتے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں بلکہ اصل رکاوٹ انکا عناد اور ہٹ دھرمی ہے جس کی بنا پر یہ اندھے بہرے بن کر رہ گئے ہیں۔ سو آپ کی تذکیر و موعظت ان ہی لوگوں کے اندر کارگر ہوسکتی ہے جو زندہ ہوں اور ان کے اندر دیکھنے سننے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی ہو۔ جبکہ ان لوگوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر علم وادراک کی صلاحیتوں کو تباہ کردیا ہے۔ اور یہ اندھے اور بہرے بن کر رہ گئے ہیں۔ اور اندھوں بہروں کو راستہ دکھانا کسی کے بس میں نہیں۔ یعنی یہ لوگ صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ گمراہی میں غرق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–56
برُوں کا انجام اور عبرت کا مقام
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کو تسلی کے طور پر مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کے دلوں سے کفر کو نکال کر ایمان کی روشنی ڈالنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ شروع دن سے یہی ہوتا آیا ہے کہ نبی آتے رہے لوگوں کو توحید و ایمان کی تعلیم دیتے رہے کچھ نے مانا اور بہت سوں نے نہ مانا اور جنہوں نے نہ مانا وہ اللہ کے غصے کا شکار ہوئے عذاب آیا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کو عذاب ہی ملے گا۔ تو فرمایا اے پیارے نبی ﷺ ! آپ اپنا تبلیغ کا کام کئے جائیں ان تمام لوگوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں بھری پڑی ہیں۔ ایک مثال تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
آیات 36 تا 45۔
اسرار ومعارف۔
اور جو کوئی اس عظیم ذات جو کہ بہت بڑا رخم کرنے والا ہے اس کی یاد سے منہ پھیرے جیسے یہ کفار اللہ کے قرآن سے منہ پھیر رہے ہیں تو اس پر ایک شیطان مسلط کردیاجاتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے اور اسے نیکی اور بھلائی کے راستے سے روکتا ہے نیز وہ اپنی گمراہی کو ہدایت اور برائی کو کمال خیال کرنے لگتا ہے۔
ذکر الٰہی اور شیطان۔
ذکر الٰہی کی بنیاد ایمان ہے دوسرا درجہ عمل ہے اور تیسرا السانی کہ فرائض وواجبات کے بعد زبانی تسبیحات اور تلاوت کی جائے اور کامل درجہ ذکر قنبی ہے کہ کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور ترک ذکر پر جو شیطان مسلط ہوتا ہے یہ اس سے الگ ہے جوہر انسان کے ساتھ پہلے سے…
Read the full tafseer →ف 6 اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ ﷺ غمزدہ نہ ہوں کیونکہ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لے آنا آپ ﷺ کے بس میں نہیں ہے۔ آپ ﷺ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ خود اللہ پر چھوڑدیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(43:40) افانت۔ استفہام انکاری تعجبی ہے اس کی تین صورتیں بیان کی ہیں :۔
(1) افانت تسمع الصم کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں ؟
(2) افانت تھدی العمی کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا سکتے ہیں ؟
(3) افانت تھدی من کان فی ضلل مبین : کیا آپ ان کو راہ راست دکھا سکتے ہیں جو صریح گمراہی میں ہیں (ومن کان کا عطف العمی پر ہے کیونکہ نابینا ہونا اور گمراہ ہونا دو صفتیں الگ الگ ہیں) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 45 : یعش (جو اندھا بنتا ہے ( آنکھیں بند کرلیتا ہے) نقیض (ہم ساتھ لگا دیتے ہیں ، ہم مقرر کردیتے ہیں) قرین ( ساتھی) یصدون ( وہ روکتے ہیں) یلیت (اے کاش) استمسک (مضبوط تھام لے) تسئلون ( تم پوچھے جائو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 45 : اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرماں برداری اور دین کے سچے اصولوں کی پابندی انسان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی اور نجات دلانے کا یقینی ذریعہ ہے لیکن جو لوگ ان سچائیوں سے منہ موڑ کر اللہ کی یاد سے غفلت اور کوتاہی اختیار کرتے ہیں ان پر قدرت کی طرف سے ایک ایسے شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہ کر برے خیالات اور وسوسوں کے ذریعہ…
Read the full tafseer →(ف 1) اے محبوب تم جو اتنی کوشش ان کے ایمان لانے میں کرتے ہو تو کیا ان کو خواہ مخواہ مسلمان کرلو گے کیا تم بہروں کو اپنی باتیں سناسکتے ہو جو بہرابن جائے بات سننا بھی نہ چاہے اس کو کیونکر حق سناسکتے ہو، کیا جو اندھے ہیں ان کو راستہ دکھادو گے اور جو کھلی ہوئی صاف گمراہی میں پڑا ہوا ہے اور نہیں نکلنا چاہتا تو ایسوں کو تم کیوں کر راہ پر لاؤ گے یعنی تم ان کے کفر کا رنج نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
[18] یعنی وعدہ عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–40
ف 1: ارشاد فرمایا : تمہارے نزدیک سونے اور چاندی کی بڑی قدرومنزلت ہے ۔ اور تم ان چیزوں کو معیار عظمت قرار دیتے ہو ۔ مگر ہم اس کو نہایت حقیر جانتے ہیں ۔ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ کمزور عقل ودین والے ابتلاء اور آزمائش میں گرفتار ہوجائیں گے ۔ اور اپنے لئے کفر کو اختیار کرلیں گے ۔ تو ہم یہ ساری دولت اپنے دشمنوں کو دے دیتے ۔ ان کے گھرچاندی اور سونے کے ہوتے ۔ گھروں کی چھتیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ دروازے اور سیڑھیاں اور استعمال میں آنے کی تمام چیزیں چاندی اور سونے کی ہوتیں ۔ اور بحیثیت مجموعی ان کی زندگی بڑی آرائش اور ٹھاٹ کی ہوتی ۔ ہم اس متاع کو متاع غرور سمجھتے ہیں اور ہمارے پاکباز سندے بھی ان…
Read the full tafseer →(40) سو اے پیغمبر کیا آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں یا آپ اندھوں کو اور ان کو جو کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں راہ پر لاسکتے ہیں۔ یعنی جو سماع قبول نہیں رکھتے اور جو ہیے کے اندھے ہیں صریح گمراہی سے وہ لوگ مراد ہیں جن کا گمراہ رہنا مرتے دم تک اللہ کے علم میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
ف 1۔ یعنی ان کی ہدایت آپ کے اختیار سے خارج ہے، آپ درپے نہ ہوں۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ نہ بہروں کو سنوا سکتے ہیں اور نہ اندھوں کو راستہ دکھا سکتے ہیں
40 ؎ قرآن کریم میں اکثر جگہ پر جہاں اندھوں ، بہروں اور گونگوں کا ذکر آتا ہے اس سے مراد دیکھی اَن دیکھی ، سنی اَن سنی اور سمجھی اَن سمجھی کرنے والے لوگ ہی لیتے جاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو جان بوجھ کر اندھا ، بہرہ اور گونگا بن چکا ہو اس کو راہ ہدایت کون دے سکتا ہے۔ قرآن کریم کا نزول انہی لوگوں کے لیے ہوا ہے تاکہ وہ جان لیں اور اچھی طرح سمجھ جائیں کہ ہماری حالت اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے مخفی نہیں ہے اور جو چالاکیاں وہ کر رہے ہیں ان میں سے ایک ایک کو اچھی طرح سمجھتے اور جانتے ہیں اور ہماری کوئی چیز چونکہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
Good Fame is liked by Islam
وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ (And certainly this Qur'an is a word of honor for you and your people... 43:44) The original word used in the text is dhikr which here means 'good name' or 'fame'. The verse means that the Noble Qur'an is a matter of great honour and good fame for the Holy Prophet t and his people. Imam Razi has concluded from this verse that good fame is a desirable thing, because Allah Ta ala has stated this as a matter of favor and that is why Sayyidna Ibrahim' (علیہ السلام) had supplicated:
وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ…
Read the full tafseer →36 It means to say: "Pay attention to those who are inclined to listen and have not closed their eyes to the realities, and do not consume yourself in showing the way to the blind and making the deaf to hear, nor consume yourself with the grief as to why your near and dear ones are not coming to the right path, and why they are making themselves worthy of Allah's torment."
Read the full tafseer →