Explained with ayahs 51–56
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 75
یعنی ان لوگوں کی بےدلیل مخالفت اور ان کی غیر معقول کج بحثیوں کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کی آیات میں جو سچائیاں اور خیر و صلاح کی باتیں ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں وہ ان کی سمجھ میں نہیں آتیں اس لیے یہ نیک نیتی کے ساتھ ان کو سمجھنے کی خاطر بحثیں کرتے ہیں، بلکہ ان کے اس رویہ کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا غرور نفس یہ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ ان کے ہوتے عرب میں محمد ﷺ کی پیشوائی و رہنمائی تسلیم کرلی جائے اور بالآخر ایک روز انہیں خود بھی اس شخص کی قیادت ماننی پڑے جس کے مقابلے میں یہ اپنے آپ کو سرداری کا زیادہ حقدار سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
(آیت) اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی آیات میں بغیر کسی حجت و دلیل کے جدال کرتے ہیں، اور مقصد دراصل اس دین سے انکار کرنا ہے جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے۔ یہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور اپنی بےوقوفی سے یوں سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ بڑائی ہمیں اپنے مذہب پر قائم رہنے سے حاصل ہے، اس کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ ریاست و اقتدا نہ رہے گا۔ قرآن کریم نے فرما دیا کہ مّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ یعنی وہ اپنی مزعومہ بڑائی عظمت اور ریاست کو اسلام لائے بغیر نہ پاسکیں گے۔ البتہ اسلام لے آئے تو عزت و عظمت ان کے ساتھ ہوتی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون… آیات : 56۔ 85
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین کے ساتھ نہایت واضح الفاظ میں فتح و نصرت کی بشارت اور قریش کے لیڈروں کو دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس بشارت اور وعید کے بیچ بیچ میں توحید اور قیامت کے ان آفاقی، انفسی اور اخلاقی دلائل کا حوالہ ہے جن پر یہ بشارت اور یہ وعید مبنی ہے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
منکرین کے انکار کی اصل علت
یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آج جو لوگ، بغیر کسی دلیل و سند کے، اللہ کی آیات کے باب میں تم سے جھگڑ رہے ہیں ان کی پروا نہ کرو۔ ’ آیات ‘ سے مراد توحید و آخرت کی وہ دلیلیں ہیں جو…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی وہ لوگ جو بغیر آسمانی دلیل کے بحث و حجت کرتے ہیں، یہ محض تکبر کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، تاہم اس سے جو ان کا مقصد ہے کہ حق کمزور اور باطل مضبوط ہو وہ ان کو حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →16 یعنی ان کو اپنے بارے میں جو گھمنڈ ہے کہ ہم کوئی بہت اونچے درجے پر فائز ہیں، یہ سراسر غلط ہے، نہ وہ اس وقت کسی بڑے مرتبے پر ہیں، اور نہ کبھی ایسے کسی مرتبے پر پہنچ پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
درس نمبر 225 ایک نظر میں
یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے…
Read the full tafseer →7 یعنی جو لوگ اللہ کی دلائل توحید اور کتب سماویہ اور اس کے پیغمبروں کے معجزات و ہدایات میں خواہ مخواہ جھگڑتے اور بےسند باتیں نکال کر حق کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں ان کے ہاتھ میں کچھ حجت و دلیل نہیں۔ نہ فی الواقع ان کھلی ہوئی چیزوں میں شک و شبہ کا موقع ہے۔ صرف شیخی اور غرور مانع ہے کہ حق کے سامنے گردن جھکائیں اور پیغمبر کا اتباع کریں۔ وہ اپنے کو بہت اونچا کھینچتے ہیں۔ چاہتے یہ ہیں کہ پیغمبر سے اوپر ہو کر رہیں۔ یا کم ازکم اس کے سامنے جھکنا نہ پڑے لیکن یاد رکھیں کہ وہ اس مقصد کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ پیغمبر کے سامنے سر اطاعت جھکانا پڑے گا۔ ورنہ سخت ذلیل و رسوا ہوں گے۔
8 یعنی اللہ کی پناہ مانگ کہ…
Read the full tafseer →آیت 56 { اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰٹہُمْ } ”یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو“
{ اِنْ فِیْ صُدُوْرِہِمْ اِلَّا کِبْرٌ مَّا ہُمْ بِبَالِغِیْہِ } ”نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ ‘ مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔“
ان کے دلوں میں صرف بڑائی کی خواہش ہے ‘ جو کبھی پوری نہیں ہوگی۔
{ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے ‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا ‘ ہرچیز کو دیکھنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →73 اللہ کی آیات سے مراد :۔ آیات الٰہی سے مرادیہاں دلائل توحید اور دلائل بعث بعد الموت ہیں۔ کیونکہ انہی دو باتوں میں کفار مکہ زیادہ تر تکرار کرتے تھے اور فضول قسم کی بحث اور استہزاء کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل تو ہے نہیں جس کی بنیاد پر وہ مدلل بحث کرسکیں بلکہ ان کے جھگڑا کی اصل وجہ ان کا تکبر ہے۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے رسول کی بات مان لی تو پھر ہمیں اس کا مطیع بن کر رہنا پڑے گا۔ اور یہی پندار نفس ان کے ایمان لانے میں آڑے آرہا ہے۔ مگر جس بڑا بنے رہنے کی انہیں فکر دامنگیر ہے وہ بڑائی ان کے پاس رہ نہیں سکتی۔ کیونکہ عزت اور ذلت تو…
Read the full tafseer →55۔ یعنی یہی اپنے کو بڑا سمجھنا ہی تو سبب مجادلہ باطل کا ہے دوسرے کے اتباع سے عار آتا ہے، سیادت کے مرتبہ پر خود ہی قائم رہنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ جس بڑائی کی ہوس میں ہیں وہ انہیں نصیب ہونا نہیں۔ عنقریب ذلیل و خوار ہوں گے۔ (آیت) ” یجادلوں .... اتھم۔ یعنی بغیر اس کے کہ کوئی بھی وجہ یا بنیاد اشتباہ کی موجود ہو۔
56۔ (اور آپ کی نصرت وحمایت پر ہر طرح قادر ہے) (آیت) ” فاستعذ باللہ “۔ یعنی اللہ سے پناہ مانگتے رہئے ان معاندین وحاسدین کے شروفتنہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →ان الذین یجادلون فی آیت اللہ بغیر سلطن اتھم ان فی صدورھم الاکبر جو لوگ بلا کسی سند
کے جو ان کے پاس موجود ہو ‘ اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ‘ ان کے دلوں میں برائی (ہی برائی) ہے۔
یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللہ یعنی قرآن کا انکار کرتے ہیں۔
بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتَاھُمْ یعنی بغیر خدائی سند کے۔
فِیْ صُدُوْرِھِمْ سینوں سے مراد ہیں دل۔ سینہ کے اندر دل ہوتا ہے۔
اِلاَّکِبْرٌ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی آپ کی تکذیب پر آمادہ کرنے والا محض ان کا غرور اور تکبر ہے جو ان کے دلوں کے اندر بھرا ہوا ہے۔ وہ اپنے کو آپ سے بڑا جانتے ہیں ‘ اسی لئے آپ کے پیرو ہونے سے نفرت کرتے ہیں۔
ماھم ببالغیہ کہ وہ اس…
Read the full tafseer →جو لوگ بلا کسی سند کے جو اللہ کی جانب سے ان کے پاس موجود ہو یعنی یہودی رسول اکرم اور قرآن کریم کے بارے میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں۔
اور یہ لوگ رسول اکرم سے دجال کی صفت اور اس بات پر کہ میں خروج دجال کے وقت پھر ان لوگوں کو سلطنت دوں گا اس میں بھی مباحثہ کیا کرتے تھے ان کے دلوں میں صرف اللہ سے برائی ہی برائی ہے اور وہ اس بڑائی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ خروج دجال کے وقت پھر ان کو بادشاہت ملے تو آپ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتے رہیں۔ وہ ان یہودیوں کی باتوں کو سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو اور خروج دجال اور اس کے فتنہ کو جاننے والا ہے۔
شان نزول : اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ…
Read the full tafseer →(1) ان الذین یجادلون فی ایت اللہ …: اس میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات کو ٹھکرانے کے لئے جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ ان آیات کو سمجھنا کچھ مشکل ہے، یا ان کے مضامین (توحید، قیامت اور رسالت وغیرہ) کے لئے بیان کردہ دلائلکم یا کمزور ہیں، بلکہ اس کا باعث ان لوگوں کا اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور اپنے مقام سے بہت اونچا بننے کی خواہش و کوشش ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی رسول پر ایمان لا کر اس کے تابع فرمان ہونا انہیں گوارا ہے۔ چناچہ وہ اپنی جھوٹی بڑائی برقرار رکھنے کے لئے رسول کو جھٹلاتے ہیں، حق کا انکار کرتے…
Read the full tafseer →ان الذین یجادلوں بیشک وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی آیات میں بغیر دلیل کے جوان کے پاس آئی ہو ان کے سینوں میں کبر ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے ان کے سینوں میں کبرہی ہے وہ اپنے ارادہ میں کامیاب ہونے والے نہیں۔ زجاج نے کلام میں حذف تسلیم کیا ہے تقدیر کلام یوں ہے ما ھم ببا لغی ارادتھم فیہ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے وہ اپنے کبرکو پانے والے نہیں اس میں حذف نہیں کیونکہ یہ ایسی قوم ہیں انہوں نے یہ رائے قائم کی اگر انہوں نے نبی کریم ﷺ کی اتباع کی تو ان کی بلندی میں کمی واقع ہوجائے گی اور ان کے حالات خراب ہوجائیں گے جب وہ آپ کی تابعداری نہیں کریں گے تو وہ بلند مقام پائیں گے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے انہوں نے کہا : دجال آخری زمانہ میں ہم میں سے ہوگا اور اس کے کاموں میں سے یہ چیزیں ہوں گی اور انہوں نے اس کے کاموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور کہنے لگے کہ وہ اس طرح کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) نازل فرمائی ” ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم ان فی صدورھم الا کبر ما ھم ببالغیہ “ (جو لوگ بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس موجود ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑن نے نکلا کرتے ہیں کہ وہ اس تک کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں) فرمایا جو وہ کہتا ہے اس تک نہیں پہنچے گا (آیت ) ” فاستعذ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ [ بیشک جو لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی نشانیوں میں ] بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ [ کسی ایسی دلیل کے بغیر جو ] اَتٰىهُمْ ۙ [ پہنچی ان کے پاس ] اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ [ نہیں ہے ان کے سینوں میں ] اِلَّا كِبْرٌ [ مگر ایک بڑائی ] مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ ۚ [ نہیں ہیں وہ اس کو پہنچنے والے ] فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭ [ تو آپ پناہ مانگیں اللہ کی ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ہی سننے والا ہے ] الْبَصِيْرُ [دیکھنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
اللہ کی آیات میں جھگڑا کرنے والوں کے سینے میں کبر ہے
پھر فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی دلیل کے جھگڑا کرتے ہیں قرآن کو نہیں مانتے اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں ان کے سینوں میں بس تکبر گھسا ہوا ہے وہ اپنے تکبر کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ ہم غالب ہوجائیں گے حالانکہ وہ غالب ہونے والے نہیں ہیں آپ اللہ کی پناہ لیجیے بلاشبہ وہ سمیع اور بصیر ہے۔
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہمارا مسیح یعنی دجال آخر زمانے میں نکلے گا اس کے ذریعہ ہمارا ملک واپس مل جائے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ ان کے سینوں میں تکبر نے جگہ پکڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →58:۔ ” ان الذین یجادلون “ یہ مجالدہ اور کٹ حجتی کرنے والوں پر زجر ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں میں دلیل و حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، وہ محض جدی اور معاند ہیں۔ اصل میں ان کے دلوں میں کبر و غرور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ پیغمبر (علیہ السلام) کو مان لیں تو انہیں متبع اور فرمانبردار بننا پڑے گا اور اس طرح ان کی سرداری اور بڑائی جاتی رہے گی۔ لیکن اگر پیغمبر (علیہ السلام) کو نہ مانیں تو ان کی عظمت و ریاست قائم رہے گی۔ فرمایا ان کا یہ خیال خام ہے پیغمبر (علیہ السلام) کی مخالفت وعداوت سے وہ اپنی بڑائی اور عظمت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ ہم ان کی اس آرزو کو خاک میں ملا دیں گے اور دنیا میں ان کو ذلیل ورسوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللہِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىہُمْ 0 ۙ اِنْ فِيْ صُدُوْرِہِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا ہُمْ بِبَالِغِيْہِ 0 ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 56
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔
تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـھُمْ لا اِنْ فِیْ صُدُوْرِ ھِمْ اِلاَّ کِبْرٌمَّا ھُمْ بِبَالِغِیْہِ ج فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ ط اِنَّـہٗ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 56)
(بےشک جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر کسی سند اور حجت کے جو ان کے پاس آئی ہو جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں ایک گھمنڈ ہے جس کو وہ کبھی پہنچنے والے نہیں ہیں، پس تم اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ )
ایک اشتباہ کا ازالہ اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت میں ایک اشتباہ کا ازالہ بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی۔ اشتباہ یہ ہے کہ سلسلہ کلام کو دیکھتے ہوئے ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح راہنمائی آجانے کے باوجود جو لوگ اس کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کے دلوں میں کبر ہوتا ہے۔
جو لگ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کے پاس جھگڑا کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ سوائے اس کے کہ ان کے دلوں میں یہ خواہش اور کوشش ہے کہ حق پر غالب آجائیں اور نبی ﷺ سے بڑا بن جائیں۔ مگر ان کی خواہش کبھی پوری نہ ہو پائے گی۔ اے رسول ﷺ ” آپ “ ہر قسم کے کبر، فخر سے پناہ مانگیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے اور سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ اس فرمان میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے ساتھ جھگڑا کرنے والوں کے پاس…
Read the full tafseer →حسد وبغض کی وجہ سے نبوت کے خود خواہاں ہیں :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ (جو لوگ بلا کسی سند کے جو ان کے پاس موجود ہو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا نکالتے ہیں)
نحو قراءت : اس پر وقف نہیں کیونکہ ان کی خبر ان فی صدورہم ہے۔
اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ (ان کے دلوں میں نری بڑائی ہے) بڑائی سے مراد آگے بڑھنے، سرداری کا ارادہ اور یہ خیال کہ کوئی اس سے اوپر نہ ہو۔ اسی لیے تو وہ آپ سے دشمنی کرنے والے ہیں۔ اور آپ کے معجزات کو مسترد کرنے والے ہیں کہ کہیں آپ ان سے بڑھ نہ جائیں۔ اور ان کو آپ کی ماتحتی ماننی پڑے اور آپ کے اوامرو نہی کا پابند ہونا…
Read the full tafseer →55، فاصبر، اے محمد ! ان کی تکلیفوں پر، ان وعد اللہ ، آپ کے غالب کرنے اور آپ کے دشمنوں کے ہلاک کرنے میں، حق، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ آیات قتال نے آیات صبر کو منسوخ کردیا ہے۔ ، واستغفرلذنبک، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور عبادت حکم ہے تاکہ اس کے ذریعے آپ (علیہ السلام) کے درجات زیادہ کریں اور آپ (علیہ السلام) کے بعد آنے والوں کے لیے سنت ہوجائے۔ ، وسبح بحمد ربک، آپ نماز پڑھیں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے ۔ ، بالعشی والابکار، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی عصر فجر کی نماز اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پانچ نمازیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56۔ اوپر کی آیت میں رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کرنے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اس مدد کی ایک مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی بیان فرمائی اور فرمایا کہ بیشک دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت ھدے سے مفراد توریت اور نبوت ہے جس طرح اس آیت میں فرمایا انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدے ونور اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک اتارا ہم نے توراۃ کو اس میں ہدایت اور نور ہے اور وارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا بعد اس ذلت اور خواری کے کہ جس میں وہ مبتلا تھے فرعون کے تمام شہروں اور مال و زمین کا ان کو وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کی کتاب و رسول (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →آیت 56
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو باطل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کا ابطال کرنے کے لئے کسی دلیل اور حجت کے بغیر جھگڑتے ہیں، ان کا یہ جلال، حق اور اس کے لانے والے کے بارے میں، ان کے سینوں میں موجود تکبر کی وجہ سے صادر ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطل نظریات کے ذریعے سے حق پر غالب آنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا مقصد اور یہی ان کی مراد ہے مگر ان کا یہ مقصد کبھی حاصل ہوگا نہ ان کی یہ مراد کبھی پوری ہوگی۔ یہ صریح نص اور واضح بشارت ہے کہ جو کوئی حق کے خلاف بحث وجدال کرتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جو حق کے خلاف تکبر کا رویہ رکھتا ہے وہ نہایت ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ (فاستعذ باللہ) ” لہٰذا آپ (ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →107 کبر و غرور باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے انکار کی اصل علت انکا کبر و غرور ہے جو ان کو قبول حق اور اتباع حق سے روک رہا ہے کہ اس طرح انہیں حق کے ماتحت رہنا پڑے گا۔ اور یہ انہیں گوارا نہیں۔ اس لئے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ حق اور اہل حق کو سر بلندی نصیب نہ ہو اور ان ہی کی کھڑپینچی اور سرداری چلتی رہے۔ اسی لئے یہ لوگ جاننے کے باوجود آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مگر کیا اس طرح یہ لوگ حق کو نیچا دکھا سکیں گے اور اپنی غرض کو پہنچ جائیں گے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ حق بہرحال غالب ہو کر رہے گا اگرچہ ایسے منکروں کو ناگوار گزرے۔ اور یہ لوگ اپنی مراد کو کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ذکر قیامت ‘ عبادت کی روح دعا
تشریح : ان آیات میں فرعون کی مثال دیکر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تمام نشانیاں خوب کھول کر بیان کردی گئیں مگر وہ نہ مانے تو ان کی بڑائی اور غرور نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ سب نشانیاں دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے تو پھر اس کو اندھا ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں قیامت ‘ دعا اور عبادت کا ذکر کیا گیا ہے اور آخرت کا بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کرنا کائنات کو پیدا کرنے سے آسان ہے۔ اب اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی جسم اور روح آج تک انسان کیلئے کافی پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جسمانی نظم و نسق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی وہ جو یہ چاہتے ہیں کہ محمد ﷺ سے اونچے ہو کر رہیں اور انہیں اپنے سامنے جھکا لیں، اس میں وہ ہرگز کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ ( کذافی الموضح)7 یعنی ان کی شرارتوں اور دھمکیوں کے مقابلے میں اللہ واحد وقہار کی پناہ مانگئے۔ جیسا کہ فرعون کی دھمکی کے مقابلے میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی پناہ مانگی تھی اور پھر بالکل بےفکر ہوگئے تھے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(40:56) ان الذین ۔۔ اتھم : ملاحظہ ہو 40:35 متذکرہ الصدر۔ ان فی صدورھم میں ان نافیہ ہے۔
کبر۔ اسم مصدر۔ غرور، باوجود بڑا نہ ہونے کے اپنے کو بڑا سمجھنا۔
ما ہم ببالغیہ : ما نافیہ ہے ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین یجادلون ہے۔ بالغی اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بلغ یبلغ (باب نصر) بلوغ مصدر سے۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ اس کا مرجع کبر ہے۔ بوجہ اضافت نون حذف ہوگیا۔ جس تک وہ کبھی پہنچنے والے ہی نہیں ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے اور رسول کریم ﷺ پر غالب آنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن وہ بڑائی تک کبھی بھی پہنچ نہیں سکیں گے۔
فاستعذ باللّٰہ : پس آپ (ان کی شرارتوں سے) اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
منکرین کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی، یعنی توریت جو کتاب ہدایت تھی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کی تابعداری پر صبر کیا، اور جس کتاب کے وہ وارث کیے گئے اس میں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل کامل عطا فرمائی ، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب آپ کفار کی زبان درازی اور فریب بازی پر صبر کیجئے خدا کا وعدہ حق ویقین ہے ضرور تمہاری اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کی مدد ہوگی، اور دشمن ہلاک ہوں گے اور خدا سے اپنی امت کے واسطے استغفار اور بخشش چاہیں گے اور ہمیشہ رات دن صبح وشام…
Read the full tafseer →[19] یعنی ان کی مخالفت صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کا غرور مانع ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر سے اوپر ہو کر رہیں یا کم از کم اس کے سامنے جھکنا نہ پڑے لیکن وہ اپنے مقصد کو کبھی نہیں پہنچ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
خدا حشر اجساد پر قادر ہے
1: جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اور اس حقیقت کو تسلمی نہیں کرتے کہ موت کے بعداللہ تعالیٰ حشر جساد پر قادر ہے ۔ ان کے لئے قرآن کہتا ہے ۔ کہ تم آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرو ۔ جب یہ طے ہے کہ ان دونوں چیزوں کو اس نے محض اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے ۔ اور اس میں کسی نوع کی دشواری محسوس نہیں کی ۔ تو پھر اس مشت غبار انسان کو دوبارہ پیدا کرتا کیونکر دشوار ہوگا ۔ جو خدا محض ارادہ کی حرکت سے ہزار جہاں منصہ وجود پر لاسکتا ہے ۔ جس کو وسائل کی ضرورت ہے اور نہ ذرائع کی حاجت ۔ جو زندگی کے عناصر کو پیدا کرنے والا ہے ۔ جس کا علم وسیع ہے ۔ جو یہ جانتا ہے ۔ کہ کہاں کہاں کے آخذ…
Read the full tafseer →(56) بلا شبہ وہ لوگ جو بغیر کسی سند اور دلیل کے جو ان کو پہنچی جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالا کرتے ہیں ان لوگوں کے دلوں میں کچھ نہیں مگر بڑا بننے کی ایک ایسی خواہش ہے کہ جس خواہش کے پورا ہونے تک یہ کبھی پہنچنے والے نہیں۔ اے پیغمبر آپ ان کے شر سے پناہ مانگتے رہیے بلا شبہ وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اہل تفسیر کا قول ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے وہ سرداری اور حکومت چاہتے تھے بعض نے کہا کفار مکہ مراد ہیں کیونکہ ہی روز روز جھگڑے نکالا کرتے تھے۔
بہرحال ! بغیر سند اور بغیر دلیل عقل نقلی کے جھگڑا کرتے ہیں اور آیات الٰہی میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تو ان لوگوں کے دلوں میں صرف غرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
ف 9۔ وہ اپنی صفات کمال سے اپنی پناہ میں آئے ہوئے کو محفوظ رکھے گا۔
Read the full tafseer →جو لوگ بغیر دلیل کے بات کرتے ہیں وہی جھگڑے کا اصل باعث ہیں
56۔ آیات آفاقی ہوں یا آیات قرآنی ان میں بات کرنے کے لیے دلیل وحجت ضروری ہے لیکن جب سے یہ دنیا قائم ہوئی اس وقت سے لے کر ہر نبی ورسول کے ساتھ ان کی قوموں کا الجھائو ہوا تا ہم کسی قوم نے دلیل کے ساتھ کسی نبی ورسول کی دعوت کو نہیں ٹھکرایا بلکہ ہر نبی ورسول کی مخالفت میں معترضین اور سردار لوگوں نے اتراتے ہوئے اور تکبروبڑائی کے بل بوتے پر انکار کیا بلکہ ان کا مذاق اڑایا اور اگر کسی نے دلیل پیش کی تو فقط یہ تھی کہ ہمارے سارے باپ دادا ایسا کرتے چلے آرہے ہیں کیا وہ سب غلط تھے ؟ کیا ہم اپنے سارے بزرگوں اور معزز لوگوں کو چھوڑ کر آپ کی بات کو سچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
In verse 56, it was said: إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (there is nothing in their hearts but pride of greatness that they are not [ able ] to reach). It means that people who quarrel in the matter of the verses of Allah without having any valid argument really look forward to rejecting this faith simply because their hearts are filled with pride and arrogance. They would like to stay ahead in the game and are so dim-witted that they have taken for granted that they have this position of strength as a result of their staunch adherence to their faith, and if they…
Read the full tafseer →75 That is, `The real cause for their opposition without any argument and Their irrational, crooked argumentation is not that they do not understand the myths and the themes of goodness and reform being presented before there in the form of the Revelations of Allah; therefore, they dispute about them in good faith in order to understand them; but the actual reason for their wrong attitude is that Their self-conceit dces not permit them tolerate that while they are living in Arabia the guidance and leadership of Muhammad (upon whom be Allah's peace) be accepted and acknowledged and ultimately…
Read the full tafseer →