Explained with ayahs 51–56
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 71
یعنی جو حالات تمہارے ساتھ پیش آ رہے ہیں ان کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرتے چلے جاؤ۔
سورة الْمُؤْمِن 72
اشارہ ہے اس وعدے کی طرف جو ابھی ابھی اوپر کے اس فقرے میں کیا گیا تھا کہ " ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد سے اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں "۔
سورة الْمُؤْمِن 73
جس سیاق وسباق میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر " قصور " سے مراد بےصبری کی وہ کیفیت ہے جو شدید مخالفت کے اس ماحول میں خصوصیت کے ساتھ اپنے ساتھیوں کی مظلومی دیکھ دیکھ کر، نبی ﷺ کے اندر پیدا ہو رہی تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ جلدی سے کوئی معجزہ ایسا دکھا دیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
خلاصہ تفسیر
ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں (جیسا اوپر موسیٰ ؑ کے قصہ سے معلوم ہوا) اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو کہ نامہ اعمال لکھتے تھے اور قیامت کے روز اس بات کی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے عمل تبلیغ کیا اور کفار نے عمل تکذیب، غرض وہ فرشتے گواہی کے لئے) کھڑے ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے، وہاں کی مدد کا حال ابھی کفار کے معذب بالنار ہونے سے معلوم ہوچکا ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی جس دن کو ظالموں (یعنی کافروں) کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی (یعنی اول تو کوئی معتدبہ معذرت نہ ہوگی اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرح ہوئی تو وہ نافع نہ…
Read the full tafseer →خلاصہ بحث
یہ بطور خلاصہ بحث نبی ﷺ کو تسلی دی کہ تم اپنی دعوت پر جمے رہو، اللہ کا وعدہ شدنی سے۔ یہ اشارہ اس وعدے کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر آیت 51 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں فتحمند کرے گا۔
’ ماستغفر لذنبک… الآیۃ، یہ تدبیر ارشاد ہوئی ہے اس صبر و استقامت کے حصول کی جو اس وعدے کے ظہور کے لئے شرط لازمی ہے کہ برابر اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتے اور اپنے رب کی تسبیح و حمد کرتے رہو۔ یہ بات اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ حصول صبر کے لئے وسیلہ ٔ ظفر استغفار و نماز ہے۔ اور یہ بات بھی اس کے محل میں واضح ہوچکی ہے کہ حصول صبر کے لئے وسیلہ ظفر…
Read the full tafseer →55۔ 1 گناہ سے مراد چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں، جو بہ تقاضائے بشریت سرزد ہوجاتی ہیں، جن کی اصلاح بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کردی جاتی ہے۔ یا استغفار بھی ایک عبادت ہی ہے۔ اجر وثواب کی زیادتی کے لئے استغفار کا حکم دیا گیا ہے، یا مقصد امت کی رہنمائی ہے کہ وہ استغفار سے بےنیاز نہ ہوں۔
55۔ 2 عشیی سے دن کا آخری اور رات کا ابتدائی حصہ اور ابکار سے رات کا آخری اور دن کا ابتدائی حصہ مراد ہے۔
Read the full tafseer →15: حضور اقدس ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک بنایا ہے، اس کے باوجود آپ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے، اور قرآن کریم میں بھی آپ کو اس کی تاکید فرمائی گئی ہے ؛ تاکہ آپ کی امت یہ سبق لے کہ جب آنحضرت ﷺ معصوم ہونے کے باوجود اتنی کثرت سے اپنے ایسے کاموں کی معافی مانگتے ہیں جو درحقیقت گناہ نہیں ہیں، لیکن آپ ان کو اپنے مقام بلند کی وجہ سے قصور یا گناہ سمجھتے ہیں تو جو لوگ معصوم نہیں ہیں، ان کو تو اور زیادہ استغفار کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت نمبر 51 تا 55
اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد…
Read the full tafseer →6 یعنی آپ بھی تسلی رکھیے، جو وعدہ آپ کے ساتھ ہے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ خداوند قدوس دارین میں آپ کو اور آپ کے طفیل میں آپ کے متبعین کو سربلند رکھے گا۔ ضرورت اس کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے شدائد و مصائب پر صبر کریں۔ اور جس سے جس درجہ کی تقصیر کا امکان ہو اس کی معافی خدا سے چاہتے رہیں اور ہمیشہ رات دن صبح و شام اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کا قولاً و فعلا ورد رکھیں۔ ظاہر و باطن میں اس کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ پھر اللہ کی مدد یقینی ہے۔ یہ حضور ﷺ کو مخاطب بنا کر ساری امت کو سنایا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے۔ ہر بندے کی…
Read the full tafseer →آیت 55 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبر کیجیے ! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے“
{ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنبِْکَ } ”اور اپنے قصور کی معافی چاہیں“
اگر آپ خیال کرتے ہیں کہ کسی درجے میں بھی آپ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ سے استغفار کیجیے۔ یہاں پر حضور ﷺ کے حوالے سے لفظ ”ذنب“ کے مفہوم اور اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ انبیاء کرام علیہ السلام کی روحانی کیفیات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مستقل استحضار کا مخصوص انداز اور معیار ہے۔ اگر استحضار کے اس مخصوص معیار میں کسی لمحے کوئی کمی آجائے تو اپنے احساس کی شدت کی وجہ سے انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا…
Read the full tafseer →71 انبیاء کے گناہوں سے مراد معمو لی قسم کی اجتہادی لغزشیں ہیں :۔ انبیاء سے عمداً کسی گناہ کا سرزد ہو ناممکنات سے ہے۔ ان کے گناہ سے مراد ان کی چھوٹی چھوٹی اجتہادی لغزشیں ہی ہوسکتی ہیں جو بھول چوک کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں اور یہ بشریت کا خاصہ ہے۔ یہاں ان لغزشوں کا تعلق یقیناً صبر سے ہے۔ جیسے آپ کو کبھی کبھی یہ خیال آجاتا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کفار مکہ کے مطالبہ کے مطابق کوئی معجزہ عطا فرما دے تو اس سے اسلام کو کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یا جب کفار آپ سے سمجھوتہ کی راہیں ہموار کرنا چاہتے تھے تو آپ کو ایسا خیال آنے لگا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی سختی سے روک دیا تھا۔ اس بنا پر یہاں آپ…
Read the full tafseer →53۔ (اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات سے تسلی حاصل کیجئے) (آیت) ” وعدہ اللہ “۔ وعدہ سے مراد وعدہ نصرت الہی ہے یہ (آیت) ” انا لننصر رسلنا “۔ میں ابھی مذکور ہوچکا ہے۔
54۔ (کہ یہ مشغولیت ذہن کو امور ملال انگیز کی طرف التفات کا موقع ہی نہ دے گی) (آیت) ” لذنبک “۔ عربی زبان میں ذنب اور اثم کے درمیان فرق ہے اردو میں ذنب کا مفہوم کوتاہی ہی سے ادا کیا جاسکتا ہے۔ نحملہ علی التوبۃ عن ترک الاولی والافضل (کبیر) (آیت) ” بالعشی والابکار “۔ محاورہ میں اس سے مراد دوام یا ہمیشگی بھی ہے۔ اے دوم علی عبادۃ ربک (کشاف) عبربالطرفین وارید جمیع الاوقات (روح) وبالجملۃ فالمراد منہ الامر بالمواظبۃ علی ذکر اللہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →فاصبر ان وعد اللہ حق واستغفر لذنبک وسبح بحمد ربک بالعشی والابکار پس (اے
محمد ﷺ ! دشمنوں کی ایذا پر) آپ صبر کیجئے ‘ اللہ کا وعدہ بلاشبہ سچا ہے اور خطا کی اللہ سے معافی طلب کیجئے اور صبح و شام اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے۔
اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ یعنی اللہ نے جو آپ سے نصرت کا وعدہ کیا ہے ‘ وہ ضرور پورا ہوگا ‘ اس کے خلاف ہونا ممکن نہیں۔ اس بات کے ثبوت کیلئے اللہ نے حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان فرما دیا۔
وَاسْتَغْفِرْ لِذَمنْبِکَ (رسول اللہ ﷺ گناہ سے معصوم و محفوظ تھے ‘ پھر آپ سے صدور گناہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ اور استغفار کا حکم کیوں دیا گیا ؟ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے حضرت مفسر نے کہا :)…
Read the full tafseer →سو اے نبی کریم آپ یہود و نصاری اور مشرکین کی تکالیف پر صبر کیجیے اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی مدد فرمانے اور دشمن کے ہلاک کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔
اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کے صحابہ کرام پر جو انعامات کیے ان کا شکر کی ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوگئی ہو اس کی معافی مانگیے اور اپنے پروردگار کے حکم سے صبح و شام نماز پڑھیے۔
Read the full tafseer →(1) فاصبر ان وعد اللہ حق : موسیٰ ؑ کو فرعون اور آل فرعون کی طرف سے جو ایذائیں پہنچیں، جن پر انہوں نے صبر کیا اور اس کے انعام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تائید و نصرت سے نوازا، اس کے ذدکر کے بعد اب ہمارے نبی کریم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے واسطے سے امت کے ہر آدمی کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ دعوت حق میں پیش آنے والی مشکلات اور کفار کی طرف سے ملنے والیا یذاؤں پر صبر کریں، یقینا اللہ تعالیٰ کا مدد کا وعدہ حق ہے، اس لئے بےصبری یا جلد بازی مت کریں، جیسا کہ فرمایا :(فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستغجل لھم) (الاحقاف : 35) ”پس صبر کر جس طرح پختہ ارادے والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لئے جلدی…
Read the full tafseer →( فاصبر ان وعد اللہ۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 161 2 ؎؎۔ ایضاً ، جلد 5 صفحہ 160 3 ؎۔ ایضاً 4 ؎۔ ایضاً ، جلد 5، صفحہ 161
5 ؎۔ سنن ابی دائود، کتاب الادب، الرجل ندب، جلد 2، صفحہ 313، ایضاً حدیث نمبر 4230، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔
فاصبر ان وعد اللہ حق اے محمد ﷺ ! مشرکین کی اذیتوں پر صبر کیجئے جس طرح ان لوگوں نے صبر کیا جو آپ سے پہلے تھے تیری مدد اور تیری جانب سے غلبہ کا وعدہ حق ہے جس طرح تو نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی مدد کی۔ کلبی نے کہا : یہ آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے واستغفر لذنبک ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصل میں لذنب امتک ہے مضاف حذف کردیا گیا ہے اور مضاف الیہ کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ابی الدنیا (فی ذم الغیبۃ) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردے گا پھر یہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ فرمایا کہ اس نصرت سے مراد دلیل میں (مدد کرنا ہے) کہ اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ [ پس آپ ثابت قدم رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ [ بیشک اللہ کا وعدہ پکا ہے ] وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ [ اور آپ مغفرت چاہیں اپنی (کمال صبر میں) کمی بیشی کی ] وَسَبِّحْ [ اور آپ تسبیح کریں ] بِحَمْدِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ [ شام کو اور صبح کو ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 55 میں جس سیاق وسباق میں لذنبک کا لفظ آیا ہے ۔ اس پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر ذنب سے مراد صبر میں کمی کی وہ کیفیت ہے جو شدید مخالفت کے اس ماحول میں خاص طور پر اپنے ساتھیوں کی مظلومی دیکھ دیکھ کر ، نبی کریم اللہ ﷺ میں پیدا ہورہی تھی ۔ آپ چاہتے تھے کہ کوئی معجزہ ایسا…
Read the full tafseer →صبر کرنے اور استغفار کرنے اور تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے کا حکم
ان آیات میں اول تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔ (یہ کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے واسطہ سے انہیں ملی تھی جو سراپا ہدایت تھی) یہ کتاب ہدایت تھی اور عقل والوں کے لیے نصیحت بھی تھی انہوں نے (قدر دانی نہ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایذائیں پہنچائیں اور توریت شریف پر بھی عمل نہ کیا) جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجیے اور اپنے گناہ کے لیے بھی استغفار کیجیے اگر صبر میں کمی آجائے تو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →57:۔ ” فاصبر “ یہ دوسری بار تسلی کا ذکر ہے۔ دعوت توحید کے سلسلے میں مشرکین کی طرف سے آپ کو تکلیفیں اور اذیتیں پہنچیں گی۔ آپ صبر و تحمل سے ان کو برداشت کریں، اللہ کا وعدہ برحق ہے وہ ضرور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو مشرکین پر غالب فرمائے گا۔ لیکن یہ وعدہ اپنے وقت معین پر پورا ہوگا جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم نے اسی پیغام توحید کی خاطر فرعون کے ہاتھوں مصیبتیں اٹھائیں۔ آخر اللہ نے ان کو غالب و منصور فرمایا اور فرعون اور اس کی قوم کو ان کی آنکھوں کے سامنے ذلیل ورسوا کر کے ہلاک کیا۔ آپ ان مصائب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور صبح شام شرک سے اللہ کی تنزیہ و تقدیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ 55
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔
تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں…
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ ۔۔ (المؤمن : 55)
(پس آپ صبر کریں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے، اور اپنے قصور کی معافی چاہیں اور شام و صبح اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اس کی حمد کے ساتھ۔ )
خلاصہ بحث
بحث کو سمیٹتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کی مخالفتوں اور ان کی اذیت رسانیوں کی طرف توجہ نہ دیں۔ ہم نے اس سے پہلے جس وعدہ کا ذکر کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا برحق اور پختہ وعدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ تو آپ تو اس کے آخری رسول ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت اور کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا اور بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنایا۔ جس میں عقل مندوں کے لیے نصیحت اور راہنمائی موجود ہے۔ کتاب سے مراد تورات ہے جو پہلی آسمانی کتابوں کی ترجمان ہے اور ہدایت سے مراد وہ راہنمائی ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو چلنے کی توفیق دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور علماء کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ اس کتاب کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کریں۔ جو عقل مندوں کے لیے راہنمائی اور نصیحت کا سرچشمہ تھی۔ اولی الالباب کی تخصیص اس لیے کی…
Read the full tafseer →تلقین صبر : فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجیے) ان امور پر جو آپ کی قوم کی طرف سے آپ کو پیش آتے ہیں۔ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے) جو آپ کی نصرت اور اعلائے کلمہ کے بارے میں کیا گیا بالکل سچا ہے۔ وَّاسْتَـغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ (اور اپنے گناہ کی معافی مانگیے) یعنی اپنی امت کے گناہوں کی معافی مانگیے۔ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ (اور اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے شام اور صبح) یعنی اپنے رب کی عبادت پر مداومت اختیار فرمائی اور اس کی ثناء کیجیے۔ ایک قول یہ ہے اس سے عصر و فجر کی نمازیں مراد ہیں۔ ایک اور قول کہ سبحان اللہ اور الحمد للہ کہتے رہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
تفسیر 53۔ ، ولقد اتینا موسیٰ الھدی، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ گمراہی سے ہدایت دی یعنی توریت ، واورثنا بنی اسرائیل الکتاب، کتاب سے مراد توریت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56۔ اوپر کی آیت میں رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کرنے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اس مدد کی ایک مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی بیان فرمائی اور فرمایا کہ بیشک دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت ھدے سے مفراد توریت اور نبوت ہے جس طرح اس آیت میں فرمایا انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدے ونور اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک اتارا ہم نے توراۃ کو اس میں ہدایت اور نور ہے اور وارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا بعد اس ذلت اور خواری کے کہ جس میں وہ مبتلا تھے فرعون کے تمام شہروں اور مال و زمین کا ان کو وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کی کتاب و رسول (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت 53
موسیٰ ٰ اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ کو (الھدی) ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نواز جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں (آیت) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا “ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
104 صبر و استقامت کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ ہمارے بھیجے ہوئے رسول اور قطعی طور پر حق پر ہیں اور رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و امداد سے متعلق ہمارا وعدہ قطعی ہے جس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے تو آپ ﷺ صبر۔ و استقامت ۔ ہی سے کام لیتے رہیں۔ کہ آپ بہرحال حق پر ہیں ۔ { اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ } ۔ اور انجام بہرحال حق ہی کا ہے ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ للتَّقْوٰی } ۔ اللہ کی نصرت و امداد بہرحال آپ ہی کے ساتھ ہے اور ان منکرین کی زیادہ فکر و پروا نہ کریں ۔ { وَدَعْ اَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ۔ اور آپ کے ذمے تو صرف پیغام حق کو پہنچا دینا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
ف 4 قصور سے مراد امت کے قصور ہیں یا وہ چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں جو بتقاضائے بشریت انبیاء ( علیہ السلام) سے سر زد ہوجاتی ہیں جیسے رائے اور اجتہاد کی غلطی یا شدید مخالفت کی فضاء میں کچھ نہ کچھ بےصبری کی کیفیت اور پھر انبیاء ( علیہ السلام) کو استغفار کا حکم اس لئے ہے کہ ان کے درجات زیادہ سے زیادہ بلند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ عبادت میں مشقت اٹھاتے حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پائوں ورم آلود ہوجاتے اور جب آپ ﷺ سے کہا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے ( افلا اکون عبدا شکورا) کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ ( قرطبی وغیرہ) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے گناہ سے ہر بندے سے قصور ہے،…
Read the full tafseer →(40:55) فاصبر : ای فاصبع یا محمد ﷺ اس میں فاء ترتیب کا ہے۔ م ترتیب علی قولہ تعالیٰ : انا لننصر رسلنا وقولہ تعالیٰ واتینا ۔۔ الخ۔
ان وعد اللّٰہ حق۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو آپ سے نصرت کا وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ اس ثبوت کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان فرمایا۔
واستغفر لذنبک۔ اور معافی مانگتے رہئے اپنی کوتاہی کی۔ انبیاء جو گناہ سے معصوم و محفوظ ہوتے ہیں۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :۔
ھذا اتعبد للنبی ﷺ بالدعاء والفائدۃ زیادۃ الدرجات وان یصبر الدعا سنۃ لمن بعدہ : یعنی یہ محض ارشاد الٰہی ہے تاکہ حضور دعا مانگا کریں اور اس میں حکمت یہ ہے کہ استغفار سے حضور ﷺ کے درجات بلند سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
منکرین کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی، یعنی توریت جو کتاب ہدایت تھی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کی تابعداری پر صبر کیا، اور جس کتاب کے وہ وارث کیے گئے اس میں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل کامل عطا فرمائی ، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب آپ کفار کی زبان درازی اور فریب بازی پر صبر کیجئے خدا کا وعدہ حق ویقین ہے ضرور تمہاری اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کی مدد ہوگی، اور دشمن ہلاک ہوں گے اور خدا سے اپنی امت کے واسطے استغفار اور بخشش چاہیں گے اور ہمیشہ رات دن صبح وشام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
[18] یہاں گناہ سے مراد بےصبری کی وہ کیفیت ہے جو کفار مکہ کی شدید مخالفت کی وجہ سے نبی ﷺ کے دل میں پیدا ہوئی تھی اور آپ چاہتے تھے کہ جلد کوئی معجزہ یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی بات ظہور میں آجائے جس سے کفار کے ظلم وعناد کا جوش ٹھنڈا ہوجائے اور وہ اسلام کی حقانیت کے قائل ہوجائیں۔ یہ خواہش شرع کی رو سے تو گناہ نہیں مگر آپ کے رتبہء عالی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں مثل گناہ کے تھی۔ لہذا ارشاد ہوا کہ اپنے گناہوں کی معافی چاہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
خدا حشر اجساد پر قادر ہے
1: جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اور اس حقیقت کو تسلمی نہیں کرتے کہ موت کے بعداللہ تعالیٰ حشر جساد پر قادر ہے ۔ ان کے لئے قرآن کہتا ہے ۔ کہ تم آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرو ۔ جب یہ طے ہے کہ ان دونوں چیزوں کو اس نے محض اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے ۔ اور اس میں کسی نوع کی دشواری محسوس نہیں کی ۔ تو پھر اس مشت غبار انسان کو دوبارہ پیدا کرتا کیونکر دشوار ہوگا ۔ جو خدا محض ارادہ کی حرکت سے ہزار جہاں منصہ وجود پر لاسکتا ہے ۔ جس کو وسائل کی ضرورت ہے اور نہ ذرائع کی حاجت ۔ جو زندگی کے عناصر کو پیدا کرنے والا ہے ۔ جس کا علم وسیع ہے ۔ جو یہ جانتا ہے ۔ کہ کہاں کہاں کے آخذ…
Read the full tafseer →(55) تو اے پیغمبر آپ صبر کرتے رہیے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور اپنے گناہ کی بخشش طلب کیجئے اور اپنے پروردگار کی حمدوثناء کے ساتھ صبح اور شام پاکی بیان کیا کیجئے۔ یعنی کفار کے مظالم پر صبر کرتے رہیے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین رکھیے کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے اور اگر صبر کرنے میں کچھ کوتاہی ہوجائے تو وہ آپ کی شان ومرتبے کے اعتبار سے آپ کے حق میں گناہ ہے۔ اس لئے اس کوتاہی پر معاف طلب کیا کیجئے اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کیجئے یعنی دائمی طور پر۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ ﷺ دن میں سو سو بار استغفار کرتے گناہ سے پر بندے سے قصور ہے اس کے موافق ہر کسی…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی اگر احیانا کمال صبر میں کچھ کمی ہوگئی ہو جو حسب قواعد شرعیہ واقع میں تو گناہ نہیں۔ مگر آپ کے ربتہ عالی کے اعتبار سے وجوب تدارک میں مثل گناہ ہی کے ہے، اس کا تدارک کیجئے۔
8۔ یعنی ایسے شغل میں رہئے کہ امور موجبہ حزن کی طرف التفات ہی نہ ہو۔
Read the full tafseer →قوم بنی اسرائیل کے ذکر سے قوم مسلم کو سبق لینے کی ہدایت
55۔ اوپر قوم بنی اسرائیل سے ایمان لانے والوں اور اپنے رسولوں سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون (علیہ السلام) کی مدد کا ذکر تھا اور اس طرح تمکن فی الارض دیئے جانے کا بھی جو بلاشبہ اس وقت ان کو فرعونیوں کے مقابلہ میں عطا ہوا لیکن قوم بنی اسرائیل اس وراثت کو سنبھال نہ سکی اس لیے ان کی دنیا بھی خراب ہوگئی اور آخرت بھی برباد ہوئی۔ زیر نظر آیت میں نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اس وقت جو معاملہ موسیٰ وہارون (علیہ السلام) کو پیش آۃ یا آج وہی معاملہ آپ کو درپیش ہے اور جس طرح ہم نے موسیٰ وہارون (علیہ السلام) کی مدد کی تھی یقینا آپ کی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
In verse 56, it was said: إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (there is nothing in their hearts but pride of greatness that they are not [ able ] to reach). It means that people who quarrel in the matter of the verses of Allah without having any valid argument really look forward to rejecting this faith simply because their hearts are filled with pride and arrogance. They would like to stay ahead in the game and are so dim-witted that they have taken for granted that they have this position of strength as a result of their staunch adherence to their faith, and if they…
Read the full tafseer →71 "Be patient"; "Bear up with a cool mind against these hardships through which you are passing."
72 The allusion is to the promise made above in the sentence: "We do help Our Messengers and the Believers in the life of this world."
73 A study of the context shows that here "error" implies the state of impatience that was being caused to the Holy Prophet on account of the severe antagonism, especially the persecution of his followers. He earnestly desired that either some miracle should be shown, which should convince the disbelievers, or something else should soon come down from Allah,…
Read the full tafseer →