Explained with ayahs 41–46
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔
قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
سورة الْمُؤْمِن 57
یعنی ان کے شریک خدا ہونے کا میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ہے، پھر آخر آنکھیں بند کر کے میں اتنی بڑی بات کیسے مان لوں کہ خدائی میں ان کی بھی شرکت ہے اور مجھے اللہ کے ساتھ ان کی بھی بندگی کرنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قوم کے بعض احیان کے اعتراضوں کا جواب
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون نے ان کی تقریر میں بعض مداخلتیں کیں اسی طرح اس مرحلہ میں قوم کے بعض اعیان نے بھی ان پر بعض اعتراضات کئے۔ فرعون کی مداخلت کا تو، جیسا کہ آپ نے دیکھا، انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اس لئے کہ اس سے انہیں کسی خیر کی امید نہیں تھی۔ لیکن قوم کے لیڈروں کی بات کا انہوں نے جواب دیا اور نہایت دلسوزی و ہمدردی کے انداز میں جواب دیا۔ ان لیڈروں نے ظاہر ہے کہ یہی اعتراض اٹھایا ہوگا کہ آپ کی ساری تقریر ہمارے ان معبودوں کے خلاف ہے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے۔ آپ کو اپنے باپ دادا کے دین پر رہنا چاہئے نہ کہ کوئی الگ دین کھڑا کرنا…
Read the full tafseer →42۔ 1 عزیز غالب جو کافروں سے انتقام لینے اور ان کو عذاب دینے پر قادر ہے غفار اپنے ماننے والوں کی غلطیوں کوتاہیوں کو معاف کردینے والا اور ان کی پردہ پوشی کرنے والا۔ جب کہ تم جن کی عبادت کرنے کی طرف مجھے بلا رہے ہو وہ بالکل حقیر اور کم تر چیزیں ہیں نہ وہ سن سکتی ہیں نہ جواب دے سکتی ہیں کسی کو نفع پہچانے پر قادر ہیں نہ نقصان پہنچانے پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
10: ظاہر یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے طنز کے طور پر کہی تھی، کیونکہ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا، اور اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا مانا تو تمہیں قید کردوں گا (دیکھئے سورة شعراء : 29)
11: یعنی اس کی نفسانی خواہشات نے اسے سیدھے راستے پر چلنے سے روک رکھا تھا، اور یہ سمجھا دیا تھا کہ جو کام تم کر رہے ہو، وہ بہت اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
آیت نمبر 38 تا 44
یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔
یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا :
وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے…
Read the full tafseer →9 یعنی تمہاری کوشش کا حاصل تو یہ ہے کہ میں (معاذ اللہ) خدائے واحد کا انکار کر دوں۔ اس کے پیغمبروں کو اور ان کی باتوں کو نہ مانوں اور نادان جاہلوں کی طرح ان چیزوں کو خدا ماننے لگوں جن کی الوہیت کسی دلیل اور علمی اصول سے ثابت نہیں۔ نہ مجھے خبر ہے کہ کیونکر ان چیزوں کو خدا بنا لیا گیا۔ بلکہ میں جانتا ہوں کہ اس کے خلاف پر دلائل قطعیہ قائم ہیں۔
10 یعنی میرا منشاء یہ ہے کہ کسی طرح تمہارا سر اس خدائے واحد کی چوکھٹ پر جھکا دوں جو نہایت زبردست بھی ہے اور بہت زیادہ خطاؤں کا معاف کرنے والا بھی (مجرم کو پکڑے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور معاف کرے تو کوئی روک نہ سکے وہ ہی اس کا مستحق ہے کہ آدمی اس کے آگے ڈر کر…
Read the full tafseer →آیت 42 { تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ} ”تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہرائوں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں“
{ وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِ الْغَفَّارِ } ”اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اس ذات کی طرف جو زبردست ہے ‘ بخشش کرنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →55 تم یہ چاہتے ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح سورج دیوتا کے آگے سر جھکاؤں اور گؤ ماتا کی پوجا کروں میری معلومات کی حد تک ایسی چیزوں کی پرستش کے لئے تم کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب سے یہ ثابت کرسکتے ہو یہ چیزیں بھی عبادت کے لائق ہیں۔ یہ تو بس باپ دادا کی تقلید کی اندھی روش ہے پھر تم یہ بھی چاہتے ہو کہ میں ایسے نظام حکومت کا کل پرزہ بن کر رہوں جو رسولوں کی مخالفت پر اتر آئی ہے۔ اور طبقاتی تقسیم کو ہوا دے کر بنی اسرائیل پر بےپناہ مظالم ڈھا رہی ہے۔ میں ان باتوں سے سخت بیزار ہوں۔ اس کے بجائے میں تمہیں اس پروردگار کی عبادت اور اطاعت کی طرف دعوت دیتا ہوں جس نے کائنات کی ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ خدائے غالب وزبردست ایسا کہ وہ گرفت کرے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور غفار ایسا کہ وہ مغفرت کرنا چاہے تو کوئی اس میں حائل نہ ہوسکے۔ (آیت) ” مالی “۔ کلمہ استعجاب ہے، مطلب یہ کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میں تو تمہیں راحت ابدی اور حقیقۃ الحقائق کی طرف بلارہا ہوں اور تم اس کے بالکل برعکس مجھے عذاب دائمی اور باطل محض کی طرف لے جانا چاہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
آیت نمبر 38 تا 50
ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے
ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…
Read the full tafseer →تدعوننی لا کفر باللہ واشرک بہ ما لیس لی بہ علم وانا ادعوکم الی العزیز الغفار تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کا منکر ہوجاؤں اور ایسی چیزوں کو اس کا شریک ٹھہراؤں جن (کے شریک ہونے) کی میرے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ؟ اور میں تم کو اس (ا اللہ) کی طرف بلا رہا ہوں جو سب پر غالب اور بڑا خطا بخش ہے۔
مَالِیْ یعنی مجھے بتاؤ کہ عقل و دانش کے خلاف تمہاری یہ عادت کیوں ہے ؟
اِلَی النَّجٰوۃِ یعنی میں اللہ واحد و لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہوں تاکہ تم کو دوزخ سے نجات حاصل ہو۔
اِلَی النَّار اور تم مجھے شرک کی طرف بلا رہے ہو جو دوزخ میں لے جانے والا ہے۔ خواب غفلت سے بیدار کرنے اور اس امر پر…
Read the full tafseer →اور یہ کہ ایسی چیز کو اس کا شریک بناؤں جس کے شریک ہونے کی میرے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اور اس کے بجائے اس بات کی دلیلیں ہیں کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تمہیں اس ذات کی توحید کی طرف بلاتا ہوں جو کافر کو سزا دینے پر غالب اور مومن کی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →(1) تدعوننی لاکفرباللہ …: یعنی میں تو اللہ پر ایمان لے آیا ہوں اور مجھے یقینی علم حاصل ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ان ہستیوں کو شریک مانوں جن کا مجھے علم ہی نہیں۔ علم نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ کہیں ہیں ہی نہیں تو میں ایسوں کو آنکھیں بند کر کے کیسے مان لوں۔
(2) وانا ادعوکم الی العزیز الغفار : اور میں تمہیں اس ذات عالی کی طرف دعوت دیتا ہوں جو سب پر غالب ہے، کوئی اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتا۔ اس کے باوجود وہ ظالم و جابر نہیں، بلکہ اپنے فرماں بردار بندوں کے گناہوں پر بہت پردہ ڈالنے والا اور انہیں بخش دینے والا ہے، اس لئے عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(وقال الذی امن یوم۔۔۔ )
وقال الذین امن یقوم اتبعون آل فرعون کے مومن نے جو کہا یہ اس کا تتمہ ہے یعنی دین میں میری اقتدار کرو اھدکم سبیل الرشاد۔ یعنی ہدایت کے راستہ کی طرف، اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت معاذبن جبل نے اسے الزشاد پڑھا ہے جبکہ اکثر عربوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ باب افعال سے یوں فعل ذکر کیا جاتا ہے ارشد یرشد۔ افعال سے فعال کا وزن نہیں ہوتا یہ ثلانی سے وزن آتا ہے جب تو رباعی سے کثرت کا ارادہ کرتا ہے تو مفعال کہتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رشاد، یرشد کے معنی میں ہو نہ کہ وہ اس سے مشتق ہو لیکن جس طرح یہ کہا جاتا ہے لا ال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
1:۔ فریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “ (اور اے میری قوم یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں) یعنی ایمان کی طرف (آیت ) ” لا جرم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا “ (یعنی بات یہ ہے کہ جس چیز کی عبادت کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ دنیا میں پکارے جانے کے لائق نہیں) فرمایا کہ بت کوئی چیز نہیں (کہ ان کی عبادت کی جائے) (آیت ) ” وان المسرفین “ (اور حد سے گزرنے والے) یعنی خون کو بہانے والے ناحق (آیت ) ” ھم اصحب النار “ وہ دوزخ والے ہیں۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت)…
Read the full tafseer →تَدْعُوْنَنِيْ [تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو ] لِاَكْفُرَ [ کہ میں ناشکری کروں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] وَاُشْرِكَ بِهٖ [ اور شریک کروں اس کے ساتھ ] مَا [ اس کو ] لَيْسَ لِيْ [ نہیں ہے میرے لئے ] بِهٖ [ جس کے بارے میں ] عِلْمٌ ۡ [ کوئی علم ] وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ [ حالانکہ میں بلاتا ہوں تم کو ] اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ [ بالا دست بہت بخشنے والے کی طرف ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
مرد مومن کا فناء دنیا اور بقاء آخرت کی طرف متوجہ کرنا، اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا
مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے درمیان میں فرعون کی اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا اور یوں کہا کہ میں اس عمارت پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں گا، مرد مومن نے فرعون کی بات سنی اور قوم فرعون کو مزید نصیحت کی اول تو اس نے یہ کہا کہ تم لوگ میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا جیسے میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ اور یہ دنیا جس پر تم دل دئیے پڑے ہو اور اسی کو سب کچھ سمجھ رہے اور یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
47:۔ ” و یا قوم مالی “ میرے بھائیو ! یہ کیا ہے کہ میں تو تمہیں نجات کے راستے کی طرف بلاتا ہوں، لیکن تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو میں تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں، جو عذاب جہنم سے نجات پانے کا ذریعہ ہے اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو جو عذاب دوزخ کا موجب ہے۔ ” تدعوننی لاکفر باللہ الخ “ یہ ماقبل کی تفسیر ہے ” واشرک “ میں واؤ تفسیریہ ہے۔ بہ ای بمعبودیتہ (جلالین) تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اس کو خدا کا شریک بناؤں جس کے معبود ہونے کی میرے پاس (بلکہ تمہارے پاس بھی) کوئی دلیل نہیں، لیکن میں اس خدائے عزیز و غفار کی توحید کی طرف بلا رہا ہوں جو سرکشوں سے انتقام لینے پر قادر ہے اور یمان والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ربط آیات :
جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔
(نیکی کا راستہ)
فرعون کی اس بات…
Read the full tafseer →تَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللہِ وَاُشْرِكَ بِہٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِہٖ عِلْمٌ 0 ۡوَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ اِلَى الْعَزِيْزِ الْغَفَّارِ 42
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔
تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…
Read the full tafseer →تَدْعُوْنَنِیْ لِاَکْفُرَ بِاللّٰہِ وَاُشْرِکَ بِہٖ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ز وَّاَنَا اَدْعُوْکُمْ اِلَی الْعَزِیْزِالْغَفَّارِ ۔ (المؤمن : 42)
(تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی ہستیوں کو شریک ٹھہرائوں جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں، حالانکہ میں تمہیں اس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بلا رہا ہوں۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
یہ آیت گزشتہ آیت کے مضمون کا تسلسل ہے۔ یعنی تم مجھے جس فکری راستے اور طرزعمل کی طرف بلا رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے کفر کروں۔ یعنی یا تو اسے ماننے سے انکار کردوں کہ ہمارا کوئی خالق ومالک اور اِلٰہ نہیں۔ اور یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : مرد حق کے خطاب کا آخری حصہ۔
مردِ حق نے اپنی قوم کو پہلی اقوام کی تباہی کے حوالے سے بھی سمجھایا اور پھر دنیا کی بےثباتی بتلانے کے ساتھ جنت کی نعمتوں کی ترغیب بھی دی۔ مگر قوم سمجھنے کی بجائے الٹا اس پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ تجھے یہ دعوت چھوڑ کر اپنی قوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ نہ معلوم فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مرد مومن پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا۔ جس سے مجبور ہو کر اللہ کا بندہ پکار اٹھتا ہے کہ اے میری قوم ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے اس بات کی طرف کھینچتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ دوسروں کو…
Read the full tafseer →جب معبود ہونے کی دلیل نہیں تو اسے معبود ماننا درست نہیں :
تَدْعُوْنَنِيْ لِاَكْفُرَ بِاللّٰهِ (تم مجھ کو اس بات کی طرف بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کروں) یہ پہلے تدعوننی سے بدل ہے عرب کہتے ہیں، دعاہ الی کذا و دعاہ لہ۔ دونوں کا معنی ایک ہے جیسا کہا جاتا ہے۔ ھداہ الی الطریق وھداہ لہ۔ دونوں صلے الی اور لام استعمال ہوتے ہیں۔ وَاُشْرِكَ بِهٖ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ (اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیز کو اس کا ساجھی بناؤں جس کی میرے پاس کوئی بھی دلیل نہیں) یعنی اس کی ربوبیت کی۔ اگرچہ یہاں نفی علم کی کی ہے مگر اس سے نفی معلوم کی گئی ہے۔ گویا اس طرح کہا اور میں اس کے ساتھ اس کو شریک…
Read the full tafseer →تفسیر 41۔۔۔۔۔۔۔۔ ، ویاقوم مالی ادعوکم الی النجاۃ، یعنی تمہیں کیا ہوگیا ہے جیسے عرب کہتے ہیں، مالی اراک حزینا ؟ ، یعنی (مالک) تجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں تجھے غمگین دیکھ رہاہوں۔ اب مطلب یہ ہے کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاراکیاحال ہے کہ میں تمہیں پر ایمان لانے کے ساتھ آگ سے نجات کی طرف بلاتا ہوں۔ ، وتدعوننی الی النار، اس شرک کی طرف جو جہنم کو واجب کرتا ہے۔ پھر تفسیر کرتے ہوئے کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
38۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
سورة المومن
ہامان کی تعمیر کردہ عمارت
قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
87 معبودان باطلہ کے لیے کوئی دعوت نہیں : سو مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے خلاصہ بحث ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور ان سے کہا کہ جن چیزوں کی طرف تم لوگ مجھے بلاتے رہے ہو ان کیلئے کوئی دعوت نہیں۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ نکرہ تحت النّفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ سو اس وحدہ لاشریک کے سوا جن کی بھی پوجا و پرستش کی جاتی ہے ان میں سے کسی نے بھی نہ کبھی اپنی بندگی و پرستش کی دعوت دی اور نہ ہی ایسی دعوت کوئی دے سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی دعا و پکار کو سن سکتے ہیں۔ غیر اللہ میں سے جن جن کی پوجا کی گئی ان میں سے لکڑی پتھر وغیرہ کے خود تراشیدہ بت تو ایسی کسی دعا و پکار کی کوئی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50:
اسرار معارف :
اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی جس کے خدا کا شریک ہونے کا کوئی دلیل نہیں جانتا اسے آنکھیں بند کرکے خدا کا شریک کیسے مان لوں ؟8 یعنی جو کفر کرے اس سے سخت انتقام لینے والا اور جو اس پر ایمان لائے اس کے گناہ معاف کرنے والا یا باوجود غلبہ اور بزرگی کے توبہ کرنے والے کے گناہ بخشنے والا۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(40:42) مالیس لی بہ علم۔ جس کا مجھے کوئی علم نہیں، علم کی نفی معلوم کی نفی ہے یعنی جس کے شریک ہونے کا مجھے کوئی علم نہیں۔ ما موصولہ ہے اور ہ ضمیر واحد مذکر حاضر اس کی طرف راجع ہے۔
الغفار۔ بہت بڑا معاف کرنے والا۔ صیغہ مبالغہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید)
تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ
تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–48
عذاب قبر کا ثبوت
1: اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ موت کے بعد ہر انسان عالم قبر یا عالم برزخ میں رہتا ہے اور یہ حالت ایک نوع کی تنویمی حالت ہوتی ہے ۔ سابقہ اعمال کا اس عالم پر اثر ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص نیک رہا ہو ۔ تو یہاں اچھے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور فرح ومسرت سے دوچار ہوتا ہے ۔ اور اگر اس نے دنیا میں برے اعمال کئے ہیں تو یہاں ان کو تکلیف کو محسوس کریگا ۔ یہ عذاب قبر ہے ۔ اس عقیدے کا ثبوت اس آیت سے ملتا ہے کیونکہ یہ مذکور ہے ۔ کہ فرعون اور آل فرعون کو صبح وشام جہنم کے سامنے پیش کیا جائیگا ۔ اور پھر جب باقاعدہ حساب و کتاب کی منزلیں طے ہوچکیں گی ۔ تو اس وقت ان کے متعلق کہا جائے گا ۔ کہ انہیں شدید…
Read the full tafseer →(42) تم مجھ کو بلاتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائوں اور ساجھی بنائوں جس کے شریک اور ساجھی بھی ہو نیکی میرے پاس کوئی دلیل نہیں اور میں تم کو اس کی طرف بلاتا ہوں جو کمال قوت اور کمال مغفرت اور بخشش کا مالک ہے۔ یعنی تمہاری دعوت اور تمہارا بلانا تو یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کردوں اور اس کے ساتھ ایسے معبودان باطلہ کو شریک ٹھہرائوں کہ جن کی مجھے خبر نہیں اور ان کی شرکت کی کوئی دلیل نہیں اور میں تم کو اس خدا کی دعوت دیتا ہوں جو زبردست ہے اور خطائوں کا بہت زیادہ بخشنے والا ہے بلکہشرک کے خلاف بکثرت دلائل موجود ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ف 1۔ یعنی سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے نہ فرعون کا۔
Read the full tafseer →تم مجھے اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی دعوت دیتے جب کہ میں تم کو دعوت الی اللہ دیتا ہوں
42۔ اس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کفر کروں اور اس شرک میں مبتلا ہو جائوں جس میں تم مبتلا ہو حالانکہ کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے کو ایسی دعوت دے جو دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کردینے والی ہو میں تم کو دعوت دیتا ہوں کہ تم اس رب کریم کی طرف لوٹ آئو جو غالب آنے والا بھی ہے اور بخش دینے والا بھی جس کی پکڑ بھی سارے پکڑنے والوں سے زیادہ مضبوط ہے اور جس کی رحمت بےپایاں کا بھی کوئی کنارہ نہیں ہے۔ میں تم کو اس ذات کی طرف دعوت دے رہا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
In verse 44, it was said: فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (Soon you will remember what I am saying to you. And I entrust my matter with Allah. Surely, Allah has all (His) servants in sight.). This is what the believer from the House of Pharaoh said at the end of his address to his people inviting them to accept the message of truth. Here, it was said that, should they not listen to him within that point of time, there would come a time when the punishment would seize them, and they would remember what he had told…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
57 That is, "About whom I have no scientific proof that they are God's associates. why should I then accept such a stupendous thing blindly that they also have a share in Godhead and that I have to serve them too along with Allah?"
Read the full tafseer →