Explained with ayahs 41–46
عالم برزخ میں عذاب پر دلیل۔
قوم فرعون کا مومن مرد اپنا وعظ جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں توحید کی طرف یعنی اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی طرف بلا رہا ہوں۔ میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے کی دعوت دے رہا ہوں۔ اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلا رہے ہو ؟ تم چاہتے ہو کہ میں جاہل بن جاؤں اور بےدلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کروں ؟ غور کرو کہ تمہاری اور میری دعوت میں کس قدر فرق ہے ؟ میں تمہیں اس اللہ کی طرف لے جانا چاہتا ہوں جو بڑی عزت اور کبریائی والا ہے۔ باوجود اس کے وہ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس کی طرف جھکے اور استغفار کرے، لاجرم کے معنی حق و صداقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
سورة الْمُؤْمِن 57
یعنی ان کے شریک خدا ہونے کا میرے پاس کوئی علمی ثبوت نہیں ہے، پھر آخر آنکھیں بند کر کے میں اتنی بڑی بات کیسے مان لوں کہ خدائی میں ان کی بھی شرکت ہے اور مجھے اللہ کے ساتھ ان کی بھی بندگی کرنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
قوم کے بعض احیان کے اعتراضوں کا جواب
قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون نے ان کی تقریر میں بعض مداخلتیں کیں اسی طرح اس مرحلہ میں قوم کے بعض اعیان نے بھی ان پر بعض اعتراضات کئے۔ فرعون کی مداخلت کا تو، جیسا کہ آپ نے دیکھا، انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا اس لئے کہ اس سے انہیں کسی خیر کی امید نہیں تھی۔ لیکن قوم کے لیڈروں کی بات کا انہوں نے جواب دیا اور نہایت دلسوزی و ہمدردی کے انداز میں جواب دیا۔ ان لیڈروں نے ظاہر ہے کہ یہی اعتراض اٹھایا ہوگا کہ آپ کی ساری تقریر ہمارے ان معبودوں کے خلاف ہے جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے۔ آپ کو اپنے باپ دادا کے دین پر رہنا چاہئے نہ کہ کوئی الگ دین کھڑا کرنا…
Read the full tafseer →41۔ 1 اور وہ یہ کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور اس کے رسول کی تصدیق کرو، جو اس نے تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لئے بھیجا ہے
41۔ 2 یعنی توحید کی بجائے شرک کی دعوت دے رہے ہو جو انسان کو جہنم میں لے جانے والا ہے جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
10: ظاہر یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے طنز کے طور پر کہی تھی، کیونکہ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا، اور اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا مانا تو تمہیں قید کردوں گا (دیکھئے سورة شعراء : 29)
11: یعنی اس کی نفسانی خواہشات نے اسے سیدھے راستے پر چلنے سے روک رکھا تھا، اور یہ سمجھا دیا تھا کہ جو کام تم کر رہے ہو، وہ بہت اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
آیت نمبر 38 تا 44
یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔
یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا :
وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے…
Read the full tafseer →8 یعنی میرا اور تمہارا معاملہ بھی عجیب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم کو ایمان کے راستہ پر لگا کر خدا کے عذاب سے نجات دلاؤں۔ اور تمہاری کوشش یہ ہے کہ اپنے ساتھ مجھے بھی دوزخ کی آگ میں دھکیل دو ۔ ایک طرف سے ایسی دشمنی اور دوسری جانب سے یہ خیر خواہی۔
Read the full tafseer →آیت 41 { وَیٰــقَوْمِ مَا لِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !“
تم اللہ کے رسول علیہ السلام کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہو اور مجھ سے چاہتے ہو کہ میں بھی اس گناہ میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر جہنم کا مستحق بن جائوں ‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ آئو ‘ میرا راستہ اپنائو ‘ اللہ کے حضور توبہ کرو اور جہنم سے نجات پا کر جنت میں چلے جائو۔
Read the full tafseer →54 مرد مومن کی تقریر :۔ یہ ہے تمہاری بھلائی، خیر خواہی اور نجات کا راستہ کہ اللہ کے رسول پر ایمان لے آؤ اور نیک اعمال بجا لاؤ وہ بھلائی کی راہ نہیں کہ رسول کی دعوت کا نہ صرف یہ کہ انکار ہی کردیا جائے بلکہ اسے قتل کرنے کے ارادے کئے جانے لگیں۔ یہ بھلائی کی راہ نہیں یہ تو جہنم کی راہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ خدائے غالب وزبردست ایسا کہ وہ گرفت کرے تو کوئی چھڑا نہ سکے اور غفار ایسا کہ وہ مغفرت کرنا چاہے تو کوئی اس میں حائل نہ ہوسکے۔ (آیت) ” مالی “۔ کلمہ استعجاب ہے، مطلب یہ کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میں تو تمہیں راحت ابدی اور حقیقۃ الحقائق کی طرف بلارہا ہوں اور تم اس کے بالکل برعکس مجھے عذاب دائمی اور باطل محض کی طرف لے جانا چاہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
آیت نمبر 38 تا 50
ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے
ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…
Read the full tafseer →ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ وتدعوننی الی النار۔ اور اے میری قوم (کے بھائیو ! ) یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے دوزخ (کے راستہ) کی طرف بلا رہے ہو ؟
Read the full tafseer →اور حزقیل نے کہا بھائیو یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں طریق نجات یعنی توحید کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخیوں کے کام یعنی شرک کی طرف بلاتے ہو۔
Read the full tafseer →(1) ویقوم : یہاں زمخشری نے ایک سوال اور اس کا جواب ذکر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس نے بار بار ”یقوم“ کیوں کہا اور کیا وجہ ہے کہ اس نے تیسری دفعہ ”واؤ“ کے اضافے کے ساتھ ”ویقوم“ کہا، جب کہ دوسری دفعہ ”واؤ“ کے بغیر ”’ یقوم“ کہا ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ بار بار ”یقوم“ کہنے کا مقصد ایک تو انہیں خبر دار اور خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے، دوسرا اس بات کا اظہار ہے کہ تم میری قوم اور میرا خاندان ہو، اس لئے مجھ پر واجب ہے کہ میں تمہاری خیر خواہی کروں۔ چناچہ وہ ان سے نہایت نرمی اور محبت کے ساتھ بات کرتا ہے، ان کے بارے میں اپنے غم کا اظہار کرتا ہے۔ تاکہ وہ اس کی نیت پر شک نہ کریں، کیونکہ ان کی خوشی اس کی خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(وقال الذی امن یوم۔۔۔ )
وقال الذین امن یقوم اتبعون آل فرعون کے مومن نے جو کہا یہ اس کا تتمہ ہے یعنی دین میں میری اقتدار کرو اھدکم سبیل الرشاد۔ یعنی ہدایت کے راستہ کی طرف، اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت معاذبن جبل نے اسے الزشاد پڑھا ہے جبکہ اکثر عربوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ باب افعال سے یوں فعل ذکر کیا جاتا ہے ارشد یرشد۔ افعال سے فعال کا وزن نہیں ہوتا یہ ثلانی سے وزن آتا ہے جب تو رباعی سے کثرت کا ارادہ کرتا ہے تو مفعال کہتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رشاد، یرشد کے معنی میں ہو نہ کہ وہ اس سے مشتق ہو لیکن جس طرح یہ کہا جاتا ہے لا ال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
1:۔ فریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقوم مالی ادعوکم الی النجوۃ “ (اور اے میری قوم یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات (کے راستہ) کی طرف بلاتا ہوں) یعنی ایمان کی طرف (آیت ) ” لا جرم انما تدعوننی الیہ لیس لہ دعوۃ فی الدنیا “ (یعنی بات یہ ہے کہ جس چیز کی عبادت کی طرف تم مجھے بلاتے ہو وہ دنیا میں پکارے جانے کے لائق نہیں) فرمایا کہ بت کوئی چیز نہیں (کہ ان کی عبادت کی جائے) (آیت ) ” وان المسرفین “ (اور حد سے گزرنے والے) یعنی خون کو بہانے والے ناحق (آیت ) ” ھم اصحب النار “ وہ دوزخ والے ہیں۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت)…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ مَالِيْٓ [ اور میری قوم مجھے کیا ] اَدْعُوْكُمْ [میں تو بلاتا ہوں تم کو ] اِلَى النَّجٰوةِ [ نجات کی طرف ] وَتَدْعُوْنَنِيْٓ [ اس حال میں کہ تم لوگ بلاتے ہو مجھ کو ] اِلَى النَّارِ [ آگ کی طرف ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
مرد مومن کا فناء دنیا اور بقاء آخرت کی طرف متوجہ کرنا، اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا
مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے درمیان میں فرعون کی اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا اور یوں کہا کہ میں اس عمارت پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں گا، مرد مومن نے فرعون کی بات سنی اور قوم فرعون کو مزید نصیحت کی اول تو اس نے یہ کہا کہ تم لوگ میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا جیسے میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ اور یہ دنیا جس پر تم دل دئیے پڑے ہو اور اسی کو سب کچھ سمجھ رہے اور یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
47:۔ ” و یا قوم مالی “ میرے بھائیو ! یہ کیا ہے کہ میں تو تمہیں نجات کے راستے کی طرف بلاتا ہوں، لیکن تم مجھے دوزخ کی طرف بلاتے ہو میں تمہیں توحید کی دعوت دے رہا ہوں، جو عذاب جہنم سے نجات پانے کا ذریعہ ہے اور تم مجھے کفر و شرک کی طرف بلاتے ہو جو عذاب دوزخ کا موجب ہے۔ ” تدعوننی لاکفر باللہ الخ “ یہ ماقبل کی تفسیر ہے ” واشرک “ میں واؤ تفسیریہ ہے۔ بہ ای بمعبودیتہ (جلالین) تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اس کو خدا کا شریک بناؤں جس کے معبود ہونے کی میرے پاس (بلکہ تمہارے پاس بھی) کوئی دلیل نہیں، لیکن میں اس خدائے عزیز و غفار کی توحید کی طرف بلا رہا ہوں جو سرکشوں سے انتقام لینے پر قادر ہے اور یمان والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ربط آیات :
جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔
(نیکی کا راستہ)
فرعون کی اس بات…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ مَا لِيْٓ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ 41ۭ
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔
تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…
Read the full tafseer →وَیٰـقَوْمِ مَالِیْٓ اَدْعُوْکُمْ اِلَی النَّجٰوۃِ وَتَدْعُوْنَنِیْٓ اِلَی النَّارِ ۔ (المؤمن : 41)
(اور اے میری قوم کے لوگو ! یہ کیا بات ہے میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے نارِ (جہنم) کی طرف بلا رہے ہو۔ )
قوم کے بعض لوگوں کے رویے کا جواب
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مردمومن کے خطاب کے درمیان عمائدینِ سلطنت میں سے بھی کچھ لوگوں نے آپ کی تقریر کو روک کر اپنی بات کہنے کی کوشش کی۔ اور بعض لوگوں نے انھیں اپنے آبائواجداد کے خیالات سے بغاوت کا طعنہ دیا۔ اور جن لوگوں نے زیادہ شائستگی دکھائی انھوں نے دھیمے لہجے میں انھیں آباء پرستی کی تلقین کی اور اسی طریقے پر چلنے کو کہا جس پر اب تک ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
فہم القرآن
ربط کلام : مرد حق کے خطاب کا آخری حصہ۔
مردِ حق نے اپنی قوم کو پہلی اقوام کی تباہی کے حوالے سے بھی سمجھایا اور پھر دنیا کی بےثباتی بتلانے کے ساتھ جنت کی نعمتوں کی ترغیب بھی دی۔ مگر قوم سمجھنے کی بجائے الٹا اس پر دباؤ بڑھاتی ہے کہ تجھے یہ دعوت چھوڑ کر اپنی قوم کا ساتھ دینا چاہیے۔ نہ معلوم فرعون اور اس کے ساتھیوں نے مرد مومن پر کتنا دباؤ ڈالا ہوگا۔ جس سے مجبور ہو کر اللہ کا بندہ پکار اٹھتا ہے کہ اے میری قوم ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے اس بات کی طرف کھینچتے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ دوسروں کو…
Read the full tafseer →دونوں دعوتوں کا موازنہ :
ربط : پھر دونوں دعوتوں کا باہمی موازنہ پیش کیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہے جس کا انجام جنت ہے اور تم غیر اللہ کی طرف دعوت دیتے ہو جس کا انجام آگ ہے۔ وَيٰقَوْمِ مَالِيْٓ اَدْعُوْكُمْ اِلَى النَّجٰوةِ (اے میرے بھائیو ! یہ کیا بات ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں یعنی جنت کی طرف)
قراءت : مَالِی فتحہ یاء کے ساتھ حجازی اور ابوعمرہ نے پڑھا ہے۔
وَتَدْعُوْنَنِيْٓ اِلَى النَّارِ (اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔ )
Read the full tafseer →40، من عمل سیئۃ فلا یجزی الا مثلھا ومن عمل صالحا من ذخر او انثی وھو مؤمن فاولئک یدخلون الجنۃ یرزقون فیھا بغیر حساب، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ جنت میں جو خیر بھی دیئے جائیں گے اس کی کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
38۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
سورة المومن
ہامان کی تعمیر کردہ عمارت
قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔
Read the full tafseer →84 منکرین و مشرکین کے دلوں پر ایک زوردار دستک : سو یہ اس مرد مومن کی طرف سے اپنی قوم کے قلب و ضمیر پر ایک زوردار دستک تھی۔ سو اس مرد مومن نے اپنی قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ " اے میری قوم ! یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم لوگوں کو بلاتا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف "۔ یعنی میں تو تم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتا ہوں جو کہ کامیابی اور فلاح و نجات کی راہ ہے اور تم مجھے کفر و شرک کی دعوت دیتے ہو جو کہ نرا دوزخ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تم لوگ کیسے لوگ ہو اور تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اس قدر واضح فرق کو بھی نہیں سمجھتے اور ہدایت و نجات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50:
اسرار معارف :
اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی میں تمہیں توحید کی دعت دے رہا ہوں جس کا نتیجہ نجات ہے اور تم مجھے کفر و شرک میں پھنسانا چاہتے ہو جس کا انجام دوزخ ہے۔
Read the full tafseer →(40:41) مالی۔ (1) میرا بھی عجب حال ہے۔ (ضیاء القرآن، حقانی)
(2) مجھے بتاؤ یہ کیا بات ہے۔ عقل و دانش کے خلاف تمہاری یہ عادت کیوں ہے ؟ (مظہری)
(3) میرے لئے کتنا عجیب ہے۔ (عبد اللہ یوسف علی)
(4) یہ کیا ماجرا ہے ؟ میں بھی عجیب ہوں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (25:7) اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔
اور مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (18:49) یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ جھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید)
تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ
تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے…
Read the full tafseer →مرد مومن کی بقیہ تقریر
2: اس مرد مومن نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے کہا ۔ کہ میں تو تمہیں نجات اور مخلصی کی دعوت دیتا ہوں ۔ اور تم مجھے جہنم کی طرف بلاتے ہو ۔ تم یہ چاہتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کردوں اور اس کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراؤ ں ۔ جن کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ کیونکر خدا ہوسکتی ہیں ۔
میں تمہیں ایسے رب عزت اور خطا بخش خدا کی جانب بلاتا ہوں ۔ جو ساری دنیا کا مالک ہے اور تم جن معبودان باطل کے لئے میری عقیدت مندی کو حاصل کرنا چاہتے ہو ۔ وہ دنیا میں کام آسکتے ہیں ۔ نہ آخرت میں ۔ یاد رکھو ہم سب کو بالآخر اسی خدا کے جانب لوٹ کر جانا ہے ۔ اور وہاں وہ لوگ جو حد عبودیت سے تجاوز…
Read the full tafseer →(41) اور اے میری قوم کے لوگو ! آخر یہ کیا بات ہے اور مجھ کو کیا ہوا کہ میں تم کو نجات اور بچائو کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھ کو جہنم کی طرف بلاتے ہو۔ یعنی میں تم کو جہنم سے بچانا چاہتا ہوں اور تم مجھ کو دوزخ میں دھکیلنا چاہتے ہو کیونکہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ف 1۔ یعنی سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے نہ فرعون کا۔
Read the full tafseer →اس مرد مومن نے کہا کہ اے قوم کے لوگو ! میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں
41۔ اس نے قوم کو مخاطب کر کے بہت کچھ کہا جیسا کہ اس کا مسلسل ذکر ہوتا چالا آرا ہے لیکن قوم کی طرف سے کوئی جواب اس کو نہیں دیا گیا فرعون نے بات کی تو بھی اس کو مخاطب کر کے نہیں کی اور نہ ہی اس کی باتوں کا کوئی جواب دیا بلکہ اس کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے اپنے حاشیہ برداروں کو مخاطب کر کے کہا جو کچھ کہا لیکن اس مرد مومن نے بھی اس کی باتوں کو سنا اور اس کو جواب نہیں دیا بلکہ قوم ہی کی طرف سے وہ باتیں کر جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مجھے تعجب ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ تم وہ کام کرو جس کے نتیجہ میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
In verse 44, it was said: فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (Soon you will remember what I am saying to you. And I entrust my matter with Allah. Surely, Allah has all (His) servants in sight.). This is what the believer from the House of Pharaoh said at the end of his address to his people inviting them to accept the message of truth. Here, it was said that, should they not listen to him within that point of time, there would come a time when the punishment would seize them, and they would remember what he had told…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
57 That is, "About whom I have no scientific proof that they are God's associates. why should I then accept such a stupendous thing blindly that they also have a share in Godhead and that I have to serve them too along with Allah?"
Read the full tafseer →