Al-Ghaafir 40:33

Al-Ghaafir · from ayah 33

40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ ۚ— مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ ۚ— وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ ۟يَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِيۡنَ‌ۚ مَا لَكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ عَاصِمٍۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day you will turn your backs fleeing; there is not for you from Allah any protector. And whoever Allah leaves astray - there is not for him any guide.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:33

جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھرو گے، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اُسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، تمہیں اللہ سے بچانے واﻻ کوئی نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراه کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دم تم پیٹھ پھیر کر اس طرح بھاگو گے کہ کوئی بھی تمہیں اللہ سے بچانے والا نہیں ہوگا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا میسر نہیں آتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن پیٹھ دے کر بھاگو گے اللہ سے تمہیں کوئی بچانے والا نہیں، اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی راہ دکھانے والا نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تمہیں اللہ (کے عذاب) سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا اور جسے اللہ گمراہ ٹھہرا دے تو اس کے لئے کوئی ہادی و رہنما نہیں ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن تم پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے، تمہارے لیے اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگے بھاگے پھرو گے مگر تمہیں اللہ سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تم کو خدا سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور جس کو خدا گمراہ کر دے تو اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں بن سکتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس دن تم پیٹھ دے کر بھاگے جا رہے ہو گے مگر تمہارے لئے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا اللہ (کی گرفت و پکڑ) سے اور جس کو اللہ ڈال دے گمراہی (کے گڑھے) میں (اس کے سوء اختیار اور خبث باطن کی بناء پر) تو اس کو کوئی بھی ہدایت نہیں دے سکتا

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز تم پشت پھیر پھیر کر بھاگو گے تم کو اللہ کے مقابلہ میں کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن تم پیٹھ موڑ کر بھاگو گے لیکن اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچا نے والا کوئی نہیں ہوگا اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے پھر اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہوتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن تم پیٹھ پھیر کر قیامت کے میدان سے بھاگو گے اس دن تم کو کوئی عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

the day when you will turn around to retreat, there will be none to protect you from Allah. He whom Allah lets go astray, none will be able to show him the Right Way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a day when you will turn back on your heels, having no one to save you from Allah – but, whomever Allah lets go astray, for him there is no one to guide.

— Muhammad Taqi Usmani

a day when you will turn back on your heels, having no one to save you from Allah – but, whomever Allah lets go astray, for him there is no one to guide.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A Day when you will turn your backs and flee having no protector from Allah. And whomsoever Allah sends astray, for him there is no guide.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day when ye will turn to flee, having no preserver from Allah: and he whom Allah sendeth astray, for him there is no guide.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day you will turn your backs fleeing; there is not for you from Allah any protector. And whoever Allah leaves astray - there is not for him any guide.

— Saheeh International

On that day you will run away, but no one will be able to protect you from (God's Judgment). No one can guide one whom God has caused to go astray.

— Muhammad Sarwar

The day on which you will turn back retreating; there shall be no savior for you from Allah, and whomsoever Allah causes to err, there is no guide for him:

— Muhammad Habib Shakir

A Day whereon ye shall turn away retreating: for you there will be no protector from God; and whomsoever God sendeth astray for him there is no guide.

— Abdul Majid Daryabadi

"A Day when ye shall turn your backs and flee: No defender shall ye have from Allah: Any whom Allah leaves to stray, there is none to guide...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 30–35

مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔ اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 32–34

سورة الْمُؤْمِن 51 یعنی تمہاری گمراہی اور پھر اس پر ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ موسیٰ ؑ سے پہلے تمہارے ملک میں یوسف ؑ آئے جن کے متعلق تم خود مانتے ہو کہ وہ بلند ترین اخلاق کے حامل تھے، اور اس بات کا بھی تمہیں اعتراف ہے کہ انہوں نے بادشاہ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر دے کر تمہیں سات برس کے اس خوفناک قحط کی تباہ کاریوں سے بچا لیا جو ان کے دور میں تم پر آیا تھا، اور تمہاری ساری قوم اس بات کی بھی معترف ہے کہ ان کے دور حکومت سے بڑھ کر عدل و انصاف اور خیر و برکت کا زمانہ کبھی مصر کی سر زمین نے نہیں دیکھا، مگر ان کی ساری خوبیاں جانتے اور مانتے ہوئے بھی تم نے ان کے جیتے جی ان پر ایمان لا کر نہ دیا، اور جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 33–34

(آیت) يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ۔ یعنی جب تم پشت پھیر کر لوٹو گے۔ خلاصہ تفسیر میں بحوالہ امام بغوی اس کے معنی یہ بیان ہوئے ہیں کہ یہ اس حالت کا بیان ہے جب مجرمین موقف حساب سے جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے یہ ندائیں اور اعلانات جن کا ذکر یوم التناد کی تفسیر میں اوپر ہوا ہے، وہ سب ہو چکیں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ موقف حساب سے مڑ کر جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ اور بعض حضرات مفسرین کے نزدیک یہ حال دنیا میں نفخہ اولیٰ کے وقت کا بیان کیا گیا ہے، کہ جب پہلا صور پھونکا جائے گا اور زمین پھٹے گی تو یہ لوگ ادھر ادھر بھاگیں گے مگر ہر طرف فرشتوں کا پہرہ ہوگا، کہیں نکلنے کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 33–34

قوم کی ضلالت کی تاریخ اور اس کا فلسفہ یہ قوم کی ضلالت کی انہوں نے تاریخ بیان فرمائی ہے کہ اس سے پہلے حضرت یوسف ؑ بھی، نہایت واضح دلائل کے ساتھ، آپ لوگوں کے پاس آئے لیکن ان کی تعلیمات و ہدایات کے باب میں بھی آپ لوگ برابر شک ہی میں رہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ بادشاہ وقت کی غیر معمولی عقیدت کے سبب سے۔ جو اس کو حضرت یوسف ؑ کے ساتھ تھی، ان کے معاملے میں کوئی معاندانہ رویہ تو نہیں اختیار کیا گیا لیکن جن باتوں کی انہوں نے تعلیم دی ان کی کوئی خاص قدر بھی نہیں کی گئی۔ بلکہ ان کی تعلیمات کو نفس کی خواہشوں کے خلاف پا کر ان کے باب میں آپ لوگ بےپروائی اور شک میں مبتلا رہے۔ ’ حتی اذا ھلک قلتم من یبعث اللہ من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 یعنی موقف (میدان محشر) سے جہنم کی طرف جاؤ گے، یا حساب کے بعد وہاں سے بھاگو گے ۔ 33۔ 2 جو اسے ہدایت کا راستہ بتاسکے یعنی چلا سکے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–33

6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم 7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 28–35

آیت نمبر 28 تا 35 یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔ اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔ کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی محشر سے پیٹھ پھیر کر دوزخ کی طرف بھگائے جاؤ گے یا نزول عذاب کے وقت اس سے بھاگنے کی ناکام کوشش کرو گے۔ 4 یعنی میں تم کو سب نشیب و فراز پوری طرح سمجھا چکا۔ اس پر بھی تم نہ مانو تو سمجھ لو کہ تمہارے عناد و کجروی کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ارادہ ہی کرلیا ہے کہ تم کو تمہاری پسند کردہ غلطی اور گمراہی میں پڑا رہنے دے پھر ایسے شخص کے سمجھنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 { یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَج مَا لَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ } ”جس دن تم پیٹھ موڑ کر بھاگو گے ‘ لیکن اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچا نے والا کوئی نہیں ہوگا۔“ { وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ } ”اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے پھر اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 اس سے مراد قیامت کا دن بھی ہوسکتا ہے اور کسی قوم پر عذاب کا دن بھی۔ لیکن اس وقت اگر کوئی پیٹھ پھیر کر بھاگنا بھی چاہے تو وہ اللہ کی گرفت سے کبھی بچ نہیں سکتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33۔ روز حشر کی دہشت اور ہولناکی کا بیان ہے۔ یوم یولون ھاربین فی الارض حذر عذاب اللہ عقابہ عند معاینتھم جھنم (ابن جریر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–37

آیت نمبر 28 تا 37 ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم تولون مدبرین مالکم من اللہ من عاصم ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد جس روز کہ (کثرت سے) پکار مچی ہوگی ‘ جس روز کہ (موقف حساب سے) پشت پھیر کر (دوزخ کی طرف) تم لوٹو گے (اس روز) اللہ کے عذاب کے تم کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کر دے ‘ اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ مجاہد نے کہا : یعنی بھاگ رہے ہو گے ‘ لیکن چھوٹ نہ سکو گے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اس دن سے مراد ہے نفخۂ بےہوشی سے پہلے نفخۂ فزع کا دن (یعنی پہلی بار صور پھونکے جانے کا دن جب صور کی آواز سن کر لوگ گھبرا جائیں گے ‘ اس کے بعد نفخۂ ضعق ہوگا کہ صور کی آواز سے لوگ بےہوش جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 32–33

(32۔ 33) اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت اس دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جس دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کو پکارے گا اور تمہیں اصحاب اعراف آواز دیں گے اور اس دن کو یوم الفرار بھی کہا گیا ہے جس دن تم عذاب خداوندی سے بھاگو گے اور تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کردے اس کو کوئی اللہ کے علاوہ ہدایت دینے والا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یوم تولون مدبرین : اس میں ”یوم الثنا ”‘ کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں تم اللہ کے عذاب سے پیٹھ پھیرتے ہوئے بھاگو گے۔ (2) مالکم من اللہ من عاصم : مگر تمہیں اللہ سے، یعنی اس کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا (یقول الانسان یومئذ این المفر کلا لاوزر الی ربک یومئذ المستقر) (القیامۃ : 10 تا 12)”انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔ اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔“ (3) ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد : یعنی میں نے تمہیں نصیحت کردی، مگر تمہاری ضد اور عناد کی وجہ سے اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں گمراہی میں ہی پڑا رہنے کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–33

(یقوم لکم الملک۔۔۔۔۔۔ ) یقوم لکم الملک الیوم یہ آل فرعون کے فرعون کا قول ہے اس کا یہ قول لقوم اس امر پر دلیل ہے کہ وہ قبطی تھا وہ اسی وجہ سے اس نے انہیں اپنی ذات کی طرف منسوب کیا اس نے کہا : یقوم تاکہ اس کے وعظ کو قبول کرنے کے قریب ہوجائیں آج حکومت تمہاری ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ظھرین فی الارض یعنی غالب۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تمہارے غلبہ کی حالت میں یہاں ارض سے مراد ارض مصر ہے : یہ سدی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسی طرح فرمایا :” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج “ (یوسف : 56) مصر کے علاقہ میں ” فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللہ اِنْ جَآئَ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–33

یوم التناد کون سا ہے : 1:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کو حکم دیں گے تو وہ نیچے اتریں گے اور ساری زمین کو اور جو کچھ اس میں سے ہے سب کو گھیر لیں گے پھر دوسرا آسمان پھر تیسرا آسمان پھر چوتھا آسمان پھر پانچواں آسمان پھر چھٹا آسمان اور پھر ساتواں آسمان پھٹے گا۔ سب فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے صفیں بنالیں گے پھر بڑا فرشتہ نازل ہوگا تاکہ جہنم کو چلا کرلے آئے جب اس کو زمین والے دیکھیں گے تو بھاگیں گے وہ زمین کے کناروں میں سے جس کنارے پر آئیں گے تو فرشتوں کو سات صفوں کو پائیں گے اور اپنی جگہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ [ جس دن تم لوگ بھاگ کھڑے ہوگے ] مُدْبِرِيْنَ ۚ [ پیٹھ دینے والے ہوتے ہوئے ] مَا لَكُمْ [ تمہارے لئے نہیں ہوگا ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ] مِنْ عَاصِمٍ ۚ [ کوئی بھی بچانے والا ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [ اور جس کو بھٹکا دیتا ہے اللہ ] فَمَا لَهٗ [ تو نہیں ہوتا اس کے لئے ] مِنْ هَادٍ [ کوئی بھی ہدایت دینے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 30–34

بندہ مومن کا سابقہ امتوں کی بربادی کو یاد دلانا اور قیامت کے دن کی بدحالی سے آگاہ کرنا بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے تہدید اور تخویف سے بھی کام لیا اور یوں کہا کہ اے میری قوم تم جو حق کے انکار پر اور اس شخص کی تکذیب پر تلے ہوئے ہو تمہارا یہ رویہ خود تمہارے حق میں صحیح نہیں ہے تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تو قوموں نے ان کی تکذیب کی اور برباد ہوئے اس طرح کی ہلاک شدہ جو جماعتیں گزری ہیں ان میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی گزری ہے عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور بسے یہ سب قومیں حق کو ٹھکرانے کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئیں ان کے بعد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–45

قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

41:۔ ” ویا قوم انی اخاف “ پہلے انہیں دنیوی عذاب سے ڈرایا، اب اخروی عذاب سے ڈراتا ہے۔ ” یوم التناد “ ایک دوسرے کو پکارنے کا دن، مراد قیامت کا دن ہے۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ دوسرا یوم، پہلے یوم یوم سے بدل ہے۔ مومن نے کہا : اے میری قوم ! دنیا میں ہلاکت و بربادی اور ذلت و رسوائی کے علاوہ مجھے تمہارے لیے قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے، جب تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے، لیکن کوئی کسی کی نہ سنے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اس دن تم عذاب کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرو گے تاکہ عذاب سے بچ سکو، لیکن بھاگ کر عذاب سے اپنی جان نہیں بچا سکو گے۔ اس دن میں کوئی بھی تمہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–33

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ۝ 0 ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ عَاصِمٍ۝ 0 ۚ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ۝ 33 ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–35

تفسیر : یہ اس مومن کا ایک اور قول ہے یا قوم انی اخاف علیکم یوم التناد تناد کو جمہور نے تخفیف دال و حذف یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی اصل تنادی ہے، باب تفاعل ہے۔ نادیٰ ینادی نداء بمعنی آواز سے مشتق ہے کہ اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت آواز دینے کے دن سے ڈر ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ پکاریں گے اور اہل جنت کو ان کے مقامات کی طرف آنے کو کہیں گے یا ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکارے گا، جس طرح کہ مصیبت کے وقت پکارا کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس سے غرض اس کی دنیا میں مصیبت اور ہزیمت کا دن ہو، جس کے آنے کی خبر اس کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دی تھی یا اس کو خود سنت اللہ کو دیکھ کر معلوم ہوگیا ہو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 32–33

وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّـنَادِ ۔ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ ج مَالَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ج وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (المؤمن : 32، 33) (اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر خوف رکھتا ہوں ہانک پکار کے دن کا۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کے بھاگو گے، اور تم کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا۔ ) یَوْمَ التَّـنَادِ کا مفہوم یَوْمَ التَّـنَادِ ، ہانک پکار کا دن۔ ہمارے بعض مفسرین نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ اور ہانک پکار کو انھوں نے مختلف آوازوں کا ہم معنی قرار دیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–33

فہم القرآن ربط کلام : مرد مومن کے خطاب کے جواب میں فرعون کا جواب۔ مرد مومن نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قوم کو یہ کہہ کر مزید احساس دلایا کہ آج ملک پر تمہاری بادشاہی ہے اور تم مملکت مصر پر برسراقتدار ہو۔ لیکن یاد رکھو ! اگر ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو بتاؤ ہمیں کون اس کے عذاب سے بچائے گا ؟ مرد مومن نے اس قدر مؤثر اور جاندار انداز میں فرعون اور اپنی قوم کے نمائندوں کو خطاب کیا کہ جو فرعون توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وہ مرد مومن کے جواب میں صرف اتنی بات کہہ سکا کہ میں تو تمہیں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو کچھ میں دیکھتا اور سمجھتا ہوں۔ میرے خیال کے مطابق اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ فرعون…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

يَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِيْنَ (جس روز پیٹھ پھیر کر لوٹو گے) موقف حساب سے آگ کی طرف لوٹ رہے ہوں گے۔ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ (تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف نہ ہوگا) یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مِنْ عَاصِمٍ (کوئی بچانے والا) وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ (اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہ ہوگا) هَادٍ بمعنی سیدھے راہ پر لگانے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 32–33

31، ویاقوم انی اخاف علیکم یوالتناد ، قیامت کے دن تمام لوگوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکاراجائے گا اور وہ ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ پس جنت والے جہنم والوں کو پکاریں گے اور جہنم والے جنت والوں کو اور اعراف والے بھی پکارے جائیں گے اور سعادت و شقاوت کے ساتھ آوازلگائے جائیں گے کہ سن لوفلاں بن فلاں نیک بخت ہوگیا۔ اس کے بعد وہ کبھی ناکام نہ ہوگا اور فلاں بن فلاں نامراد ہوا۔ اس کے بعد کبھی نیک بخت نہ ہوگا اور موت کو ذبح کرنے کے وقت آوازلگائی جائے گی۔ اے اہل جنت ! ہمشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہیں ہے اور اہل جہنم ! ہمیشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہ ہوگی اور ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) نے یوم التناد دال کی شد کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 30–35

30۔ 35۔ اس ایماندار شخص کی نصیحت کے بیچ میں وہ بات فرعون نے کہہ دی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں تھا اب پھر اس ایماندار شخص کی نصیحت کا سلسلہ شروع ہوا اس ایماندار شخص نے اپنی اس نصیحت میں یہ جو کہا کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد یوں کہتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے اللہ تعالیٰ اور کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اس سے یہ مطلب اس ایماندار شخص کا نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبری کے مصر کے لوگ قائل تھے کیونکہ انہی آیتوں میں ہے فماز لتم فی شک مما جاء کم بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کے دھوکے طرح تم یوسف (علیہ السلام) کے معجزوں سے بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 33–35

74 اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر سند کے جھگڑنا باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے لوگوں کی صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے "۔ اس سے مراد وہ جدال اور جھگڑا ہے جو حق کو نیچا دکھانے اور اس میں کجی پیدا کرنے کے لئے ہو۔ ورنہ وہ بحث مباحثہ جو اللہ پاک کی آیتوں کو سیکھنے سکھانے اور سمجھنے سمجھانے کے لئے اور حجت و دلیل کی بنا پر ہو تو وہ محمود و مطلوب ہے کہ وہ ہوتا ہے سند اور دلیل کی بنا پر۔ جبکہ ایسے لوگوں کا تمام بحث و مباحثہ اور جدال و جھگڑا بغیر کسی سند اور دلیل کے محض نفس پرستی کی بنیاد پر اور اوہام و خرافات کے سہاروں پر ہوتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37: اسرار و معارف : چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–34

ف 6 یعنی ایسے معجزے جن سے ان کا نبی ہونا قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے بادشاہ کے خواب کی تعبیر جس کی بدولت نہ صرف مصر بلکہ ارد گرد کے تمام علاقوں کو انتہائی خوفناک قحط سے نجات نصیب ہوئی تھی۔7 یعنی گو تمہارے بادشاہ نے انہیں اپنا ویزر بنا کر عملاً تمام اختیارات ان کے سپرد کردیئے تھے اور تم ان کے اخلاق اور ملکی انتظام میں مہارت کے بھی قائل ہوئے مگر تم نے جیتے جی ان کی نبوت کا اقرار نہ کیا بلکہ شک ہی میں پڑے رہے۔8 یعنی ان کی وفات کے بعد جب سلطنت کا بندوست بگڑا گیا تو تم ان کی عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ ان کا قدم مصر کے حق میں بڑا مبارک تھا لیکن عقیدت کے اس اظہار میں تم اس قدر بڑھے کہ کہنے لگے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:33) تولون مضارع جمع مذکر پیٹھ موڑنے والے۔ ادبار (افعال) مصدر سے بوجہ ضمیر فاعل کا حال ہونے کے منصوب ہے دبر مادہ۔ آیات 32 و 33 میں یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ مالکم من اللّٰہ من عاصم تمہارے لئے نہیں ہوگا خدا کا عذاب سے بچانے والا کوئی بھی۔ یوم تولون ۔۔ من عاصم بدل ہے یوم التناد سے۔ من ھاد۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ ھدایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ ہدایت یاب کرنیوالا۔ ھاد اصل میں ھادی تھا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا۔ ی کو ساکن کیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے بوجہ اجتماع ساکنین ی گرگئی۔ ھاد ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–37

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی) تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 30–35

(ف 1) اس مسلمان نے کہا جو قوم فرعون میں سے تھا کہ اے لوگو مجھ کو یہ خوف ہے کہ کہیں تم پر ایسا عذاب نہ آجائے جیسا کہ اگلی جماعتوں پر آیا ، جیسے قوم نوح کا حال ہوا تھا اور قوم عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد گزرے، دیکھو ان لوگوں کے سامنے پیغمبر ان برحق نے دعوی نبوت کیا، انہوں نے جھٹلایا اس کا نتیجہ یہ پایا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے کسی پر کسی قسم کا عذاب آیا کسی پر کسی قسم کا، پس اس لیے تم سے کہتا ہوں کہ ذراسوچ سمجھ کر کام کرو، اگر ان کا قول سچ ہوا، یعنی یہ اگر پیغمبر برحق ہوئے تو یاد رکھنا کہ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوجاؤ گے اپنے کیے کی سزا پاؤ گے دنیا میں برباد ہوگی، اور دین بھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں 1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اس دن تم کو کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بچانے والا نہ ہوگا اور جس گم کردہ راہ کو اللہ تعالیٰ ہی لے راہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ یوم التناد قیامت کا دن ہے اس دن ایک دوسرے کو پکارے گا یا فرشتے پکاریں گے یا اہل دوزخ اہل جنت کو پکاریں گے حساب وکتاب اور نامہ اعمال کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کریں گے لیکن بھاگنے کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔ یا یہ مطلب کہ حساب کی جگہ سے پیٹھ پھیر کر عذاب کی طرف چلو گے اس دن اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں جو تم کو میدان حشر کی پریشانیوں سے بچا سکے یا عذاب سے بچا سکے اور جو شخص باوجود دلائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے پھر بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

ف 4۔ یعنی وہ دن مشتمل ہے واقعات عظیمہ پر، کیونکہ نداوں کی کثرت واقعات کے عظیم ہونے میں ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مجرمین کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم کو اللہ سے کوئی نہیں بچائے گا 33۔ اس مرد مومن نے جب تک اپنی حالت کو چھپائے رکھا وہ مخفی رہا لیکن جب اس نے بات شروع کردی تو گویا اپنی قوم کو پورا وعظ کرنا شروع کردیا اور جذبات سے بھرپور ہو کر بات کرنا شروع کردی اور قیامت کے روز کی حالت بیان کرتے ہوئے اس نے کہا کہ اس روز تم پیٹھیں پھیر کر بھاگ کھڑے ہو گے اور تم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے قانون مشیت کے مطابق جس کسی کو گمراہ کردے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں ہو سکتا اور ہدایت حاصل کرنے کے بارے میں قانون الہٰی یہی ہے کہ ہمیشہ تلاش کرنے والا ہی پاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 33, it was said: يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِ‌ينَ (a day when you will turn backon your heels,). In the summary of tafsir from Bayan-ul-Qur'an of Maulana Ashraf Thanavi (رح) (forming a part of the original Urdu edition of Ma’ ariful-Qur'an), it has been said with reference to Imam al-Baghawi that this is a description of the state in which culprits will be taken from the locale of reckoning out to the Jahannam. The outcome is that all calls and announcements mentioned in the explanation of 'yowm-ut-tanad' ('a day when people will call one another' ) would have been made and, after…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–34

51 That is, "Your deviation, and then your stubbornness, is such that before Moses (peace be upon him) there came in your land the Prophet Joseph about whom you yourselves admit that he was a man of the highest morals, and you also admit that by giving the right interpretation of the king's dream he saved you from the dreadful effects of the seven-year-long famine, which had struck Egypt in his time; and your entire nation also acknowledges that Egypt has never witnessed a period of greater justice and prosperity than the period of his rule. But in spite of knowing and recognizing all his…

Read the full tafseer →