Explained with ayahs 30–35
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔
اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
سورة الْمُؤْمِن 51
یعنی تمہاری گمراہی اور پھر اس پر ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ موسیٰ ؑ سے پہلے تمہارے ملک میں یوسف ؑ آئے جن کے متعلق تم خود مانتے ہو کہ وہ بلند ترین اخلاق کے حامل تھے، اور اس بات کا بھی تمہیں اعتراف ہے کہ انہوں نے بادشاہ وقت کے خواب کی صحیح تعبیر دے کر تمہیں سات برس کے اس خوفناک قحط کی تباہ کاریوں سے بچا لیا جو ان کے دور میں تم پر آیا تھا، اور تمہاری ساری قوم اس بات کی بھی معترف ہے کہ ان کے دور حکومت سے بڑھ کر عدل و انصاف اور خیر و برکت کا زمانہ کبھی مصر کی سر زمین نے نہیں دیکھا، مگر ان کی ساری خوبیاں جانتے اور مانتے ہوئے بھی تم نے ان کے جیتے جی ان پر ایمان لا کر نہ دیا، اور جب…
Read the full tafseer →(آیت) وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ۔ تناد بکسر دال مخفف ہے۔ تنادی کا جس کے معنی ہیں باہم ایک دوسرے کو نداء اور آواز دینے کے۔ قیامت کے روز کو یوم التناد اس لئے کہا گیا کہ اس روز بیشمار ندائیں اور آوازیں ہوں گی۔ جن کا کچھ ذکر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کا ایک منادی نداء دے گا کہ اللہ کے مخالف لوگ کھڑے ہوجائیں۔ اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو تقدیر کا انکار کرتے تھے۔ اور پھر اصحاب جنت دوزخ والوں کو اور دوزخ والے اصحاب جنت کو اور اصحاب اعراف دونوں کو نداء دے کر اپنی اپنی باتیں کریں…
Read the full tafseer →یوم التناد کا مفہوم
’ یوم التناد ‘ کے لغوی معنی ہیں ’ ہانک پکار کا دن ‘ یہ اس یوم عذاب کی تعبیر کے لئے آیا ہے جس سے لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے۔ جب کوئی بڑی ہلچل برپا ہوتی ہے تو دوڑو، بھاگو، لیجیو، چلیو کا ہر طرف شور ہوتا ہے اس وجہ سے یوم عذاب کی تعبیر کے لئے یہ نہایت موزوں لفظ ہے۔ اس میں اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ابھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے آپ لوگ اللہ اور اس کے رسول پر حملہ آور ہونے کے منصوبے بنا رہے ہیں لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حملہ ہوگا تو تولون مدبرین۔ ما لکم من اللہ من عاصم ‘ اس وقت پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے لیکن یہ بھاگنا بالکل بےسود ہوگا اس لئے کہ خدا کی…
Read the full tafseer →32۔ 1 تنادی کے معنی ہیں۔ ایک دوسرے کو پکارنا، قیامت کو یَوْمَ التَّنَادِ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ اہل جنت اہل نار کو اور اہل نار اہل جنت کو ندائیں دیں گے۔ (وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ 48 اَهٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ 49) 7۔ الاعراف :49-48)۔ بعض کہتے ہیں کہ میزان کے پاس ایک فرشتہ ہوگا جس کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کی بدبختی کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم
7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…
Read the full tafseer →2 عموماً مفسرین " یوم التناد " (ہانک پکار کے دن) سے قیامت کا دن مراد لیے ہیں جبکہ محشر میں جمع ہونے اور حساب دینے کے لیے سب کی پکار ہوگی۔ اور اہل جنت اہل نار اور اہل اعراف ایک دوسرے کو پکاریں گے اور آخر میں ندا آئے گی۔ " یا اہل الجنۃ خلود لاموت ویا اہل النار خلودلا موت۔ " کما وردفی الحدیث۔ لیکن حضرت شاہ صاحب نے " یوم التناد " سے وہ دن مراد لیا ہے جس میں فرعونیوں پر عذاب آیا۔ چناچہ لکھتے ہیں۔ " ہانک پکار کا دن ان پر آیا۔ جس دن بحر قلزم میں غرق ہوئے۔ اس وقت ڈوبتے ہوئے ایک دوسرے کو پکارنے لگا۔ (شاید) یہ اس مرد مومن کو کشف سے معلوم ہوا ہوگا یا قیاس سے کہ ہر قوم پر عذاب اسی طرح آتا ہے۔ "
Read the full tafseer →آیت 32 { وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنَادِ } ”اور اے میری قوم کے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے تم پر چیخ پکار کے دن کا۔“
جس دن ہر طرف فریاد و فغاں اور چیخ و پکار مچی ہوگی اور لوگ ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →46 یوم التناد کے مختلف مفہوم :۔ اکثر مفسرین نے (یَوْمَ التَّنَادِ ) سے مراد قیامت کا دن لیا ہے جس دن تابعداری کرنے والے اپنے بڑوں (مطاع حضرات) کے متعلق فریاد کررہے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو پکڑے ہوئے فریاد کر رہا ہوگا۔ عابد اپنے معبودوں سے نالاں ہوں گے وغیرہ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل جنت اہل دوزخ سے، اہل اعراف اہل دوزخ سے، دوزخی آپس میں جنتی آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہوں گے لیکن جن مفسرین نے (یوم التناد) سے مراد عذاب الٰہی کے نازل ہونے کا دن مرادلیا ہے ـ۔ـ وہ ربط مضمون کے لحاظ سے زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یعنی عذاب الٰہی کے وقت وہ سب آہ وفغاں کرتے ہوں گے اور اسی حال میں ان کا خاتمہ…
Read the full tafseer →32۔ یعنی سزائے دنیوی کے علاوہ عذاب آخرت کا بھی۔ (آیت) ” یوم التناد “۔ ” پکار والا دن “۔ یوم قیامت کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس روز بڑی ہی چیخ پکار پڑے گی۔ یوم ینادی الناس بعضھم بعضا من فزع نفخۃ الفزع (ابن جریر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
آیت نمبر 28 تا 37
ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…
Read the full tafseer →ویقوم انی اخاف علیکم یوم التناد۔ اور اے میری قوم والو ! مجھے تمہارے متعلق اس دن (کے عذاب) کا اندیشہ ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
(32۔ 33) اور اے قوم مجھے تمہاری نسبت اس دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جس دن تم میں سے ہر ایک دوسرے کو پکارے گا اور تمہیں اصحاب اعراف آواز دیں گے اور اس دن کو یوم الفرار بھی کہا گیا ہے جس دن تم عذاب خداوندی سے بھاگو گے اور تمہیں اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا اور جس کو اللہ ہی گمراہ کردے اس کو کوئی اللہ کے علاوہ ہدایت دینے والا نہیں۔
Read the full tafseer →(1) وی قوم انی اخاف علیکم یوم الثناد ”الثنا ”‘ ”ندائ“ سے باب تفاعل ہے، ایک دور سے کو آواز دینا۔ دنیوی عذاب سے ڈرانے کے بعد اس نے آخرت کے عذاب سے ڈرایا۔”یوم الثنا ”‘ (ایک دوسرے کو پکارنے کے دن) سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو محبت سے آواز دیں گے اور مشرکین کو اپنے شرکاء پیش کرنے کے لئے آواز دیں گے۔ اس دن اس کے فرشتے نیک و بد کو ان کی حیثیت کے مطابق آواز دیں گے۔ جنتی ایک دوسرے کو آوازیں دیں گے، اسی طرح جہنمی ایک دور سے کو آواز دیں گے۔ اہل جنت جہنمیوں کو اور وہ جنتیوں کو آواز دیں گے۔ حق لینے والے حق دینے والوں کو اور مظلوم ظالموں کو آوازیں دے رہے ہوں گے۔ جہنمی آگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
(یقوم لکم الملک۔۔۔۔۔۔ )
یقوم لکم الملک الیوم یہ آل فرعون کے فرعون کا قول ہے اس کا یہ قول لقوم اس امر پر دلیل ہے کہ وہ قبطی تھا وہ اسی وجہ سے اس نے انہیں اپنی ذات کی طرف منسوب کیا اس نے کہا : یقوم تاکہ اس کے وعظ کو قبول کرنے کے قریب ہوجائیں آج حکومت تمہاری ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ظھرین فی الارض یعنی غالب۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تمہارے غلبہ کی حالت میں یہاں ارض سے مراد ارض مصر ہے : یہ سدی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسی طرح فرمایا :” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج “ (یوسف : 56) مصر کے علاقہ میں ” فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللہ اِنْ جَآئَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
یوم التناد کون سا ہے :
1:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کو حکم دیں گے تو وہ نیچے اتریں گے اور ساری زمین کو اور جو کچھ اس میں سے ہے سب کو گھیر لیں گے پھر دوسرا آسمان پھر تیسرا آسمان پھر چوتھا آسمان پھر پانچواں آسمان پھر چھٹا آسمان اور پھر ساتواں آسمان پھٹے گا۔ سب فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے صفیں بنالیں گے پھر بڑا فرشتہ نازل ہوگا تاکہ جہنم کو چلا کرلے آئے جب اس کو زمین والے دیکھیں گے تو بھاگیں گے وہ زمین کے کناروں میں سے جس کنارے پر آئیں گے تو فرشتوں کو سات صفوں کو پائیں گے اور اپنی جگہ کی طرف…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ [اور اے میری قوم ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ بیشک میں ڈرتا ہوں تم پر ] يَوْمَ التَّنَادِ [ چیخ پکار کے دن سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
بندہ مومن کا سابقہ امتوں کی بربادی کو یاد دلانا اور قیامت کے دن کی بدحالی سے آگاہ کرنا
بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے تہدید اور تخویف سے بھی کام لیا اور یوں کہا کہ اے میری قوم تم جو حق کے انکار پر اور اس شخص کی تکذیب پر تلے ہوئے ہو تمہارا یہ رویہ خود تمہارے حق میں صحیح نہیں ہے تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تو قوموں نے ان کی تکذیب کی اور برباد ہوئے اس طرح کی ہلاک شدہ جو جماعتیں گزری ہیں ان میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی گزری ہے عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور بسے یہ سب قومیں حق کو ٹھکرانے کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئیں ان کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
41:۔ ” ویا قوم انی اخاف “ پہلے انہیں دنیوی عذاب سے ڈرایا، اب اخروی عذاب سے ڈراتا ہے۔ ” یوم التناد “ ایک دوسرے کو پکارنے کا دن، مراد قیامت کا دن ہے۔ قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکاریں گے۔ دوسرا یوم، پہلے یوم یوم سے بدل ہے۔ مومن نے کہا : اے میری قوم ! دنیا میں ہلاکت و بربادی اور ذلت و رسوائی کے علاوہ مجھے تمہارے لیے قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے، جب تم ایک دوسرے کو مدد کے لیے بلاؤ گے، لیکن کوئی کسی کی نہ سنے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا اس دن تم عذاب کو دیکھ کر بھاگنے کی کوشش کرو گے تاکہ عذاب سے بچ سکو، لیکن بھاگ کر عذاب سے اپنی جان نہیں بچا سکو گے۔ اس دن میں کوئی بھی تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ،…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ 32ۙ
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية .
قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تفسیر : یہ اس مومن کا ایک اور قول ہے یا قوم انی اخاف علیکم یوم التناد تناد کو جمہور نے تخفیف دال و حذف یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی اصل تنادی ہے، باب تفاعل ہے۔ نادیٰ ینادی نداء بمعنی آواز سے مشتق ہے کہ اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت آواز دینے کے دن سے ڈر ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ پکاریں گے اور اہل جنت کو ان کے مقامات کی طرف آنے کو کہیں گے یا ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکارے گا، جس طرح کہ مصیبت کے وقت پکارا کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس سے غرض اس کی دنیا میں مصیبت اور ہزیمت کا دن ہو، جس کے آنے کی خبر اس کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دی تھی یا اس کو خود سنت اللہ کو دیکھ کر معلوم ہوگیا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
وَیٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّـنَادِ ۔ یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ ج مَالَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ج وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (المؤمن : 32، 33)
(اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر خوف رکھتا ہوں ہانک پکار کے دن کا۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کے بھاگو گے، اور تم کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہوتا۔ )
یَوْمَ التَّـنَادِ کا مفہوم
یَوْمَ التَّـنَادِ ، ہانک پکار کا دن۔ ہمارے بعض مفسرین نے اس سے قیامت کا دن مراد لیا ہے۔ اور ہانک پکار کو انھوں نے مختلف آوازوں کا ہم معنی قرار دیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کے خطاب کے جواب میں فرعون کا جواب۔
مرد مومن نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قوم کو یہ کہہ کر مزید احساس دلایا کہ آج ملک پر تمہاری بادشاہی ہے اور تم مملکت مصر پر برسراقتدار ہو۔ لیکن یاد رکھو ! اگر ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو بتاؤ ہمیں کون اس کے عذاب سے بچائے گا ؟ مرد مومن نے اس قدر مؤثر اور جاندار انداز میں فرعون اور اپنی قوم کے نمائندوں کو خطاب کیا کہ جو فرعون توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وہ مرد مومن کے جواب میں صرف اتنی بات کہہ سکا کہ میں تو تمہیں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو کچھ میں دیکھتا اور سمجھتا ہوں۔ میرے خیال کے مطابق اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ فرعون…
Read the full tafseer →کثرت نداء کا دن قیامت ہے :
وَيٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (اور اے میری قوم مجھے تمہارے متعلق اس دن کا اندیشہ ہے جس میں کثرت سے ندائیں ہوں گی) ۔ یوم التناد سے قیامت کا دن مراد ہے۔
قراءت : التناد مکی، یعقوب نے دونوں حالوں میں پڑھا ہے۔ اور اصل میں اثبات یاء کے ساتھ آتا ہے مگر اس کا حذف کرنا زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ کسرہ یاء کی دلالت کے لیے کافی ہے اور ان آیات کے آخر میں آگے پیچھے دال آرہی ہے اور یہ وہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ذکر فرمایا : ونادی اصحاب الجنۃ اصحاب النار (الاعراف :44) اور ونادی اصحاب الاعراف (اعراف :48)
ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ نداء مراد ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
31، ویاقوم انی اخاف علیکم یوالتناد ، قیامت کے دن تمام لوگوں کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکاراجائے گا اور وہ ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ پس جنت والے جہنم والوں کو پکاریں گے اور جہنم والے جنت والوں کو اور اعراف والے بھی پکارے جائیں گے اور سعادت و شقاوت کے ساتھ آوازلگائے جائیں گے کہ سن لوفلاں بن فلاں نیک بخت ہوگیا۔ اس کے بعد وہ کبھی ناکام نہ ہوگا اور فلاں بن فلاں نامراد ہوا۔ اس کے بعد کبھی نیک بخت نہ ہوگا اور موت کو ذبح کرنے کے وقت آوازلگائی جائے گی۔ اے اہل جنت ! ہمشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہیں ہے اور اہل جہنم ! ہمیشہ کا رہنا ہے اب کوئی موت نہ ہوگی اور ابن عباس ؓ اور ضحاک (رح) نے یوم التناد دال کی شد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ اس ایماندار شخص کی نصیحت کے بیچ میں وہ بات فرعون نے کہہ دی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں تھا اب پھر اس ایماندار شخص کی نصیحت کا سلسلہ شروع ہوا اس ایماندار شخص نے اپنی اس نصیحت میں یہ جو کہا کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد یوں کہتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے اللہ تعالیٰ اور کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اس سے یہ مطلب اس ایماندار شخص کا نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبری کے مصر کے لوگ قائل تھے کیونکہ انہی آیتوں میں ہے فماز لتم فی شک مما جاء کم بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کے دھوکے طرح تم یوسف (علیہ السلام) کے معجزوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →68 { یَوْمُ التَّنَاد } کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : " تناد " کے معنیٰ چیخ و پکار کے ہیں۔ سو اس مرد مومن نے اپنے خطاب میں اپنی قوم سے مزید کہا کہ " مجھے تو تمہارے بارے میں سخت اندیشہ ہے چیخ و پکار کے دن کا "۔ جس میں لوگ ہول و خوف کی شدت کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ نیز فریاد رسی کے لئے پکاریں گے۔ نیز اس روز سعادت مندوں کے لئے ان کی کامیابی کا اور بدبختوں کے لئے ان کی ناکامی نامرادی کا پکار پکار کر اعلان کیا جائے گا کہ فلاں ابن فلاں کو دائمی سعادت نصیب ہوگئی۔ اور فلاں بن فلاں دائمی شقاوت و بدبختی کے حوالے ہوگیا وغیرہ۔ (جامع البیان، کمالین، ابن جریر، ابن کثیر اور خازن وغیرہ) ۔ سو اس طرح اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37:
اسرار و معارف :
چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ف 6 یعنی ایسے معجزے جن سے ان کا نبی ہونا قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے بادشاہ کے خواب کی تعبیر جس کی بدولت نہ صرف مصر بلکہ ارد گرد کے تمام علاقوں کو انتہائی خوفناک قحط سے نجات نصیب ہوئی تھی۔7 یعنی گو تمہارے بادشاہ نے انہیں اپنا ویزر بنا کر عملاً تمام اختیارات ان کے سپرد کردیئے تھے اور تم ان کے اخلاق اور ملکی انتظام میں مہارت کے بھی قائل ہوئے مگر تم نے جیتے جی ان کی نبوت کا اقرار نہ کیا بلکہ شک ہی میں پڑے رہے۔8 یعنی ان کی وفات کے بعد جب سلطنت کا بندوست بگڑا گیا تو تم ان کی عقیدت کا اظہار کرنے لگے کہ ان کا قدم مصر کے حق میں بڑا مبارک تھا لیکن عقیدت کے اس اظہار میں تم اس قدر بڑھے کہ کہنے لگے کہ…
Read the full tafseer →(40:32) یقوم : ای یا قومی اے میری قوم ۔ اے میری قوم کے لوگو !
یوم التناد۔ یہاں التناد سے پہلے اس کا مضاف محذوف ہے ای عذاب یوم التناد۔ ایک دوسرے کو پکارنے کے دن کا عذاب۔ التناد ندی مادہ سے باب تفاعل سے مصدر ہے پکارنا۔ ندا کرنا۔ فریاد کرنا۔ اصل میں تنادی تھا یوم کا مضاف الیہ ہونے کے سبب آخر سے ی جو حرف علت تھی حذف ہوگئی۔
اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت یا نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بناء پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بلند اور حسین ہوگی۔ یوم التناد ایک دوسرے کو پکارنے کا دن۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فتنادوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) اس مسلمان نے کہا جو قوم فرعون میں سے تھا کہ اے لوگو مجھ کو یہ خوف ہے کہ کہیں تم پر ایسا عذاب نہ آجائے جیسا کہ اگلی جماعتوں پر آیا ، جیسے قوم نوح کا حال ہوا تھا اور قوم عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد گزرے، دیکھو ان لوگوں کے سامنے پیغمبر ان برحق نے دعوی نبوت کیا، انہوں نے جھٹلایا اس کا نتیجہ یہ پایا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے کسی پر کسی قسم کا عذاب آیا کسی پر کسی قسم کا، پس اس لیے تم سے کہتا ہوں کہ ذراسوچ سمجھ کر کام کرو، اگر ان کا قول سچ ہوا، یعنی یہ اگر پیغمبر برحق ہوئے تو یاد رکھنا کہ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوجاؤ گے اپنے کیے کی سزا پاؤ گے دنیا میں برباد ہوگی، اور دین بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں
1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو…
Read the full tafseer →(32) اور اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہاری نسبت اس دن سے جو باہمی چیخ و پکار کا دن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
ف 4۔ یعنی وہ دن مشتمل ہے واقعات عظیمہ پر، کیونکہ نداوں کی کثرت واقعات کے عظیم ہونے میں ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →اے میری قوم کے لوگو ! میں تو قیامت کے عذاب سے تم کو ڈراتا ہوں
32۔ (یوم التناد) پکارے جانے کا دن یا ہانک پکار کا دن ، یہ اس عذاب کی تفصیل ہے جو گزشتہ آیت میں مذکور ہے اور یہ اس مرد مومن کی تقریر کا حصہ ہے جو اس نے اپنی قوم کے وڈیروں کو مخاطب کر کے کی تھی اور خصوصا فرعون کو مخاطب کر کے کہ مجھے تو اس بات کا خوف کھائے جا رہا ہے کہ تمہارا حال اس روز کیا ہوگا جب ایک طرح کی ہل چل مچ جائے گی اور کسی کو کسی کی خبر نہ رہے گی اگر تم نے کبھی کسی ناگہانی مصیبت کو آتے دیکھا ہے یا کبھی زلزلہ سے آپ کا واسطہ پڑا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایسے وقت میں کیا ہوتا ہے لیکن یہ ایک ادنی سے مثال ہے بلاشبہ وہ دن بہت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
In verse 32, it was said: يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (0 my people, I fear for you a day when people will call one another). The last word: تَّنَادِ (tanad) with a kasrah on the letter: دال (dal) is an abbreviated form of the word: تَنَادِی (tanadi) which means calling each other. The day of Qiyamah (the Day of Doom, or Judgment) was called: يَوْمَ التَّنَادِ (yowm-ut-tanad) for the reason that this horrendous day would be reverberating with countless calls and cries. According to a narration of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, "When comes…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
51 That is, "Your deviation, and then your stubbornness, is such that before Moses (peace be upon him) there came in your land the Prophet Joseph about whom you yourselves admit that he was a man of the highest morals, and you also admit that by giving the right interpretation of the king's dream he saved you from the dreadful effects of the seven-year-long famine, which had struck Egypt in his time; and your entire nation also acknowledges that Egypt has never witnessed a period of greater justice and prosperity than the period of his rule. But in spite of knowing and recognizing all his…
Read the full tafseer →