Explained with ayahs 81–83
اللہ ہر چیز پر قادر۔
اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
سورة یٰسٓ 68
یا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختوں میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم لکڑیوں سے آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرْخ اور عَفَار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی تھی۔ قدیم زمانہ میں عرب کے بدّو آگ جلانے کے لیے یہی چقماق استعمال کیا کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
انما امرہ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون، مراد اس آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہیں تو انسانی مصنوعات کی طرح ان کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی کہ پہلے مواد جمع فرمائیں پھر اس کے لئے کاریگر بلائیں، پھر ایک مدت تک کام کر کے وہ چیز تیار ہو بلکہ وہ جب اور جس وقت جس چیز کو پیدا فرمانا چاہیں ان کو صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے کہ ”پیدا ہو جا“ تو جس چیز کو یہ حکم ملتا ہے وہ فوراً اس کے حکم کے مطابق وجود میں آجاتی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر چیز کی تخلیق دفعی اور فوری ہی ہو۔ بلکہ حکمت خالق کے تابع جس چیز کا فوری طور پر پیدا ہوجانا مصلحت ہے وہ فوری طور پر بلا تدریج و مہلت پیدا…
Read the full tafseer →آیت 83
’ ملکوت ‘ کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ یہ آخر میں تنبیہ فرمائی کہ جس خدا کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور جس کی طرف ہی تمہیں لوٹ کر جانا ہے وہ ہر نقص و عیب سے منزہ ہے تو اس کو ہر عیب سے منزہ مانو اور اس کی پاکی بیان کرتے رہو۔ اس کی ذات وصفات اور اس کے حقوق میں کوئی شریک نہیں۔ وہ ہر شرکت سے ارفع ہے، اس نے یہ دنیا عبث نہیں بنانی ہے اس وجہ سے ہر ایک کو خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرتی ہے۔ اس کے لئے لوگوں کو مرنے اور سڑگل جانے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ذرا مشکل نہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی چیز بھی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں اور…
Read the full tafseer →(1) یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر مبالغے کا صیغہ قرار دیتے ہیں۔ (فتح القدیر) یعنی ملکوت ملک کا مبالغہ ہے۔
83۔ 1 یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر تمہارا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے نہیں بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہوگا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کرلو۔ تمہیں ہر حال اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا، جہاں وہ عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
24: عرب میں دو درخت ہوتے تھے، ایک مرخ اور دوسرا عفار۔ اہل عرب ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، اور ان کو ایکد وسرے کے ساتھ رگڑنے سے آگ پیدا ہوجاتی تھی۔ فرمایا یہ جارہا ہے کہ جس ذات نے ایک سرسبز درخت سے آگ پیدا کردی ہے، اس کے لیے دوسرے جمادات میں زندگی پیدا کردینا کیا مشکل ہے ؟
Read the full tafseer →فسبحن الذی۔۔۔۔ ترجعون (83) ” “۔ لفظ ملکوت سے خالق و مخلوق کے تعلق کی اہمیت اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ اس کائنات کی ہر چیز مطلقا اللہ کی ملکیت ہے اور اس کائنات کی تمام مملوکات پر اللہ کا مکمل قبضہ اور کنٹرول ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمام چیزوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ آخری ضرب ہے اور اس سورت کی نہایت عظیم اور ہولناک فضا کے لیے یہ نہایت ہی مناسب تنبیہہ ہے۔ اس سورت کا موضوع بھی نہایت ہی عظیم اور اہم ہے۔ اور اس کے اندر جو حقائق اور دلائل بھی لائے گئے ہیں وہ بھی بہت ہی عظیم اور ہولناک ہیں اور اس عظیم حقیقت سے مربوط و متعلق ہیں جن کی تفصیلات اور موضوع اس سورت میں دی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →3 یعنی وہ اعلیٰ ترین ہستی جس کے ہاتھ میں فی الحال بھی اوپر سے نیچے تک تمام مخلوقات کی زمام حکومت ہے اور آئندہ بھی اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ پاک ہے عجزو سفہ اور ہر قسم کے عیب و نقص سے تم سورة یس وللہ الحمد والمنتہ۔
Read the full tafseer →آیت 83 { فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”تو بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہر شے کا اختیار ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔“
Read the full tafseer →75 ہر چیز پر حکومت و تسلط، ہر چیز پر تصرف و اختیار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر یہ مشرکین اللہ کے اختیارات دوسروں میں بانٹ کر اللہ پر جو کئی طرح کے عیوب، کمی، نقص وغیرہ کا الزام لگاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات مشرکوں کی ایسی تمام بےہودگیوں سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
آیت نمبر 68 تا 83
ترجمہ : اور جس کی ہم عمر دراز کرکے معمر (سن رسیدہ) کردیتے ہیں تو اس کی تخلیق کو پلٹ دیتے ہیں اور ایک قراءت میں تنکیس سے تشدید کے ساتھ ہے، تو وہ اپنی قوت و شباب کے بعد کمزور اور بوڑھا ہوجاتا ہے، تو کیا یہ سمجھتے نہیں کہ جو ذات اس بات پر کہ جو ان کو معلوم ہے قادر ہے، وہ بعث بعد الموت پر بھی قادر ہے کہ وہ ایمان لے آئیں، اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ ہے، اور ہم نے اس کو شعر گوئی نہیں سکھائی، یہ کافروں کی اس بات کا جواب ہے کہ محمد ﷺ کو کچھ قرآن کے نام سے پیش کرتے ہیں، وہ شعر ہے اور نہ گوئی آپ کی شایان شان ہے جس کو وہ پیش کرتے ہیں وہ تو محض نصیحت ہے، اور احکام وغیرہ کو ظاہر کرنے…
Read the full tafseer →فسبحن الذیبیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون . سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا
پورا اختیار ہے اور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
فَسُبْحٰنَ سبحان مصدر ہے ‘ یہ محذوف فعل کا مفعول مطلق ہے اورسببیت کیلئے ہے ‘ یعنی جب تم کو معلوم ہوگیا کہ انسان کو نطفہ سے پیدا کیا گیا اور اللہ بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ عطا کرنے پر قدرت رکھتا ہے اور وہ جب کسی چیز کو کرنا چاہتا ہے تو کہہ دیتا ہے ہوجا ‘ وہ چیز فوراً ہوجاتی ہے تو اب اس خدا کی پاکی بیان کرو جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے۔
ملکوت بمعنی ملک ہے اور ملک سے مراد ہے اقتدار۔ ملکوت میں واؤ اور تاء کو مبالغہ کیلئے بڑھا دیا گیا ہے۔
یعنی اللہ چونکہ…
Read the full tafseer →اس کی ذات پاک ہے جس کے ہاتھ میں ہر ایک چیز کے پیدا کرنے اور دینے کا اختیار ہے اور تم سب کو مرنے کے بعد اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دے گا۔
Read the full tafseer →فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ : ”مَلَكُوْتُ“ ”مُلْکٌ“ (مصدر) میں مبالغہ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”کامل بادشاہی“ کیا گیا ہے۔
وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ : یعنی یہ نہیں کہ مٹی میں رل مل کر تمہارا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔ نہیں، بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہوگا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کرلو، بلکہ تمہیں ہر حال میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا، جہاں وہ تمہارے اعمال کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت پر متنبہ فرمایا اور مردوں کو زندہ کرنے کے ساتھ اپنی کمال قدرت پر دلیل قائم کی ان چیزوں سے جنہیں وہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ تر لکڑی سے ایسی چیز نکالی جو جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور خشک ہوتی ہے اس استدلال کی وجہ یہ ہے کہ کافر نے کہا : نطفہ زندگی کی طبیعت کی وجہ سے گرم تر ہے اور ہڈی موت کی طبیعت کی بنا پر ٹھنڈی اور خشک ہے تو اس سے زندگی کیسے نکلتی ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فامیا کہ سبز درخت پانی سے جنم لیتا ہے پانی ٹھنڈا تر ہے جو آگ کی ضد ہے یہ دونوں چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں اللہ تعالیٰ نے اس سے آگ کو پیدا کیا تو وہ اس پر قاد رہے کہ ضد کو ضد سے نکالے وہ ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں ایک بوسیدہ ہڈی تھی اس نے اس کو اپنے ہاتھ سے توڑا پھر کہا اے محمد ﷺ اس کو اللہ تعالیٰ کیسے زندہ کرے گا اس حال میں کہ وہ بوسیدہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالیٰ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا) اور تجھ کو موت دے گا پھر تجھ کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قل یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ، وھو بکل خلق علیم “ (آپ فرمادیجئے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار ان کو زندگی عطا کی اور وہ سب طرح پیدا کرنا خوب جانتا ہے )
بروز قیامت دوبارہ زندہ ہونا :
3:۔ ابن…
Read the full tafseer →[فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ : تا پاکیزگی اس کی ہے ] بِيَدِهٖ [جس کے ہاتھ میں ] مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کی بادشاہت ہے ] وَّاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Read the full tafseer →(فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّاِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (سو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اس کی ذات ہر عیب اور نقص سے پاک ہے کسی بھی چیز کے پیدا کرنے سے عاجز نہیں، مردہ انسانوں کو دوبارہ زندہ پیدا فرمانا بھی اس کی قدرت سے باہر نہیں تمہیں لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے، اس کی قدرت کا انکار کرو گے تو سزا پاؤ گے۔
ولقد تَمَّ تفسیر سورة یٰسٓ والصلوٰۃ والسلام علی سیّد الانبیاء والمرسلین وعلیٰ اٰلہ و اصحابہ وَمَنْ تَبِعَھُمْ بْاِحْسَانٍ الٰی یوم الدّین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
بآشکار ونہاں ہر چہ کردی وگفتی جزا و بد بتو دانائے آشکارد نہاں
منکرین حشر کا ایک شبہہ یا وسوسہ اور اس کا جواب (1)
قال اللہ تعالیٰ اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ۔۔۔ الی۔۔۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شیء والیہ ترجعون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل اور براہین سے وحدانیت کو ثابت کردیا اور اس ضمن میں انکار حشر کا بھی زکر تھا اب آئندہ آیات میں ثبوت حشر ونشر پر دلائل قائم کرتے ہیں اور منکرین حشر کے ایک شبہ اور استبعاد کا جواب دیتے ہیں یہ لوگ حشر ونشر کو ناممکن اور محال اور بعید از عقل جانتے تھے اور عجیب عجیب باتیں کرتے تھے چناچہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز ابی بن خلف یا عاص بن وائل ایک بوسیدہ ہڈی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ٖف 51:۔ فسبحن الخ :۔ یہ آخر میں ساری سورت کا خلاصہ ہے اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں سے برتر اور پاک ہے جن کو مشرکین اللہ کے سوا معبود اور شفعاء بنائے ہوئے ہیں ساری کائنات کا مکمل قبضہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ ساری کائنات میں وہی مختار کل اور متصرف مطلق ہے اور آخرت میں بھی سب اسی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اس لیے اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں اور نہ کوئی اس کی بارگاہ میں شفیع غالب ہے اس لیے حاجات و مشکلات میں مافوق الاسباب اسی کو پکارا کرو۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔
سورة یسین میں آیات توحید
1:۔ وما لی لا اعبد الذی فطرنی۔ تا۔ لا تغن عنی شفاعتہم شیئا ولا ینقذون (رکوع 2) نفی شرک اعتقادی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
ربط آیات
گزشتہ دروس میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے توحید کے عقلی دلائل دیے جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہی دلائل وقوع قیامت کے لیے بھی کافی ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ کفار و مشرکین کی بیہودہ باتوں سے غمگین نہ ہوں ، ہم ان کے ظاہر و باطن کو جانتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال کا ضرور بدلہ دیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرکین کا رد فرمایا ہے۔
انسان کی پیدائش
ارشاد ہوتا ہے اولم یر الانسان انا خلقنہ من نطفۃ کیا انسان نہیں…
Read the full tafseer →فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِہٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 83ۧ
سبحان
و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر
«1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة .
( س ب ح ) السبح
۔…
Read the full tafseer →اس تقریر سے معتزلہ اور کر امیہ کا خیال بھی باطل ہوگیا کہ معدوم کو بھی شے کہتے ہیں اور یہ کہ اس کا ارادہ حادث ہے۔ اس آیت میں اس نے اپنی بےانتہا قدرت کا ثبوت کردیا اور راسخ الاعتقاد اور سلیم الطبع کو کامل یقین دلایا اور دعویٰ کو دلیل کر دکھایا۔
اس لیے اس کے بعد اس بحث کے نتیجہ کو کس عمدہ پیرائے اور اسلوب سے بیان فرماتا ہے کہ جو اصل الاصول مطالب کو گھیرے ہوئے ہے۔ فقال فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیئٍ والیہ ترجعون اور اس تمام سورة میں اصل الاصول تین ہی باتیں ہیں، توحید، اقرار رسالت اعتقاد حشر رسالت کو تو کئی مقام پر اس سورة میں ثابت کردیا ہے۔ ایک بار اول ہی میں فرمایا۔ والقرآن الحکیم انک لمن…
Read the full tafseer →فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَـکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 83)
(پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
مشرکین کی اصل کمزوری کی نشان دہی
سورة کی آخری آیت میں مشرکین کے مشرکانہ خیالات کا رد کرنے کے بعد ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جو درحقیقت مشرکین کی اصل کمزوری ہے۔ اگر وہ اس کمزوری سے نجات پالیں تو نہ وہ شرک میں مبتلا ہوسکتے ہیں اور نہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرسکتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ شرک جو اللہ کریم کی ذات وصفات میں کسی بھی نقص اور عیب کو تسلیم کرلینے کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ جس ذات کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری سے پاک ہے اور مشرک کے عقیدہ اور قیامت کے منکر کی سوچ سے اعلیٰ اور مبرّا ہے۔
مشرک کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اتنے وسیع و عریض نظام کو اکیلا نہیں چلا سکتا اس لیے اسے معاونین کی ضرورت ہے قیامت کا منکر اس لیے جی اٹھنے سے انکار کرتا ہے کہ ایسا ہونا اس کے نزدیک بڑا محال ہے۔ ایسے لوگوں کے نظریات کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی قوت وسطوت، اقتدار اور اختیار کا ذکر پورے جلال کے ساتھ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس ذات کے بارے میں ضعیف اور کمزور تصورات رکھتے ہو اس کے اقتدار واختیار کا عالم یہ ہے کہ ہر چیز کی بادشاہی اس کے پاس ہے وہی سب کا مالک اور خالق…
Read the full tafseer →83: فَسُبْحٰنَ (تو اس کی ذات پاک ہے) اس میں اللہ تعالیٰ کا اس سے منزہ ہونا بیان کیا گیا جو مشرکین بیان کرتے تھے اور ان کے مقولہ پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ (جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا پورا اختیار ہے) یعنی وہ ہر چیز کا بادشاہ ہے۔
نکتہ : مَلک میں وائو اور تاء کا اضافہ کر کے ملکوت کا لفظ لایا گیا اس سے مقصود مبالغہ ہے۔ مطلب یہ ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ وَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (ـاور تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔ تم موت کے بعد لوٹائے جائو گے اس سے پیچھے رہ نہیں سکتے۔
قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُوْنَ پڑھا ہے۔
فضائل :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر چیز…
Read the full tafseer →83، فسبحان الذی بیدہ ملکوت ، اسی کی بادشاہت ہے۔ ، کل شیء والیہ ترجعون، حضرت معقل بن یسار کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، اپنے مردوں پر یسین پڑھاکرو ۔ یہی روایت محمد بن العلاء ابن المبارک سے ہے۔۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
80 تا 83۔ انسان کی عقل کی رسائی سے باہر یہ اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کیوں کہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جاوے تو اس کی ٹہنیاں جل جاویں گی یہ ساری صاحب قدرت کی قدرت ہے کہ مثلاً بانس اور بعضے درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہری ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری ٹہنی سے رگڑا جاوے تو ان تنیوں میں سے آگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں۔ پھر فرمایا جس صاحب قدرت نے ان منکرین حشر کے سر پر بغیر ستون کے سات آسمان کھڑے کردیئے ان کے رہنے اور بسنے کے لیے پانی پر زمین بچھادی کیا ایک دفعہ پیدا کر کے پھر دوبارہ ان منکرین حشر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–83
آیت 77
ان آیت کریمہ میں، منکرین قیامت کے شبہات اور ان کے مکمل، بہترین اور واضح جواب کا ذکر کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا : (اولم یر الانسان) کیا قیامت کا منکر اور اس میں شک کرنے والا انسان اس معاملے پر غور نہیں کرتا جو اسے قیامت کے وقوع کے بارے میں یقین کامل عطا کرے اور وہ معاملہ اس کی تخلیق کی ابتدا ہے (من نطفۃ) ” نطفے سے “ پھر آہستہ آہستہ مختلف مراحل میں منتقل ہوتا ہے حتی کہ بڑا ہو کر جو ان ہوجاتا ہے اور اس کی عقل کا مل اور درست ہوجاتی ہے (فاذا ھو خصیم مبین) ’ دتو یکایک وہ صریح جھگڑا لو بن بیٹھتا ہے۔ “ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے نطفے سے اس کی تخلیق کی ابتد ا کی۔ اسے ان دو حالتوں کے تفاوت پر غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
کسی چیز کو پہلی بار پیدا کرنا مشکل، دوبارہ آسان ہوتا ہے
قول باری ہے (قال من یحی العظام وھی رمیم کہنے لگا ہڈیاں جب بوسیدہ ہوجائیں تو انہیں کون زندہ کرے گا ؟ ) پھر ارشاد ہوا (قل یحیھا الذی انشاھا اول مرہ۔ آپ کہہ دیجئے انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا) اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ جو ذات ابتداء کرنے پر قادر ہے وہ اعادے پر زیادہ قادر ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر کسی چیز کا اعادہ کرنا اس کی ابتدا کرنے سے زیادہ سہل ہوتا ہے۔ اس لئے جو ذات شروع میں کسی چیز کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتی ہے وہ اس صورت میں اس چیز کو دوبارہ پیدا کرنے پر زیادہ قادر ہوتی ہے جس میں اس چیز…
Read the full tafseer →85 اللہ تعالیٰ کے تنزیہ اور تقدیس کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے وہ ذات جسکے قبضہ قدرت میں ہر چیز کا پورا اقتدار و اختیار ہے "۔ یعنی اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا اختیار اس نے کسی اور کے حوالے نہیں کردیا بلکہ اس کا پورا قبضہ و کنٹرول بھی اس نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہے۔ پس جس طرح خالق وہ ہے اسی طرح مالک و مختار اور متصرف و کارساز بھی وہی ہے۔ اور تم سب نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب بہرحال دینا ہے اور اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ پانا ہے ۔ فَخُذْ بِنَوَاصِیْنَا یَا اللّٰہُ اِلٰی مَا فِیْہِ حُبَّکَ وَرِضَاکَ فَاِنَّکَ اَکْرَمُ الاَکْرَمِیْنَ وَاَرْحَمُ…
Read the full tafseer →خلاصہ سورة یس
سورة یس دل و دماغ کو روشن کرنے کی بہترین دوا ہے۔ کیونکہ انسان نے علوم و فنون میں بہت کافی ترقی کرلی ہے۔ مگر اس کی یہ ترقی انسان کو ظلم و جہالت، بےچینی، بےسکونی حرص و لالچ کی بھٹی میں روز بروز دھکیلتی چلی جا رہی ہے۔ انسان اپنے بنائے ہوئے معیار زندگی کے چنگل میں پھنس کر حیران و پریشان پھر رہا ہے اس کو اتنی فرصت ہی نہیں کہ خود کو ڈھونڈے۔ اگر خود کو ڈھونڈ لے تو اللہ تعالیٰ اس کو صاف دکھائی دینے لگیں کیونکہ انسان کی اپنی جسمانی فیکٹری اس کو اس کے خالق تک لے جانے کے لیے بہت بڑا وسیلہ ہے کیونکہ تمام سائنس دان مفکر پوری کوشش کے باوجود ایک چڑیا کا بچہ خود نہیں بنا سکا انسان تو بڑی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–83
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 168 تا 83:
اسرار و معارف :
اگر انہیں یہ خیال گزرتا ہوں کہ بھلا ان کے ہاتھ پاؤں کون چھین سکتا ہے یا ان کی بینائی کوئی نہیں لے جاسکتا تو کسی عمر رسیدہ بوڑھے کو دیکھ لیں کہ جس شخص کو ہم بڑھاپا دیتے ہیں اس کی ساری قوتیں زائل کردیتے ہیں نہ آنکھ کام کرتی ہے اور نہ ہاتھ پاؤں میں سکت رہ جاتی ہے۔ کیا اتنی سی عقل نہیں رکھتے کہ اسے دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
ان باتوں کو سن کر جواب میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی تو کہہ دیتے ہیں کہ ان کی باتیں ایک شاعرانہ کلام ہے جو ہمیشہ ذہنوں کو متاچر کیا کرتا ہے۔ اگرچہ شعر و شاعری پہ بات گزر چکی مگر یہاں یہ بات ایک دوسرے مفہوم میں آئی ہے کہ شاعرانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 7 نہ کہ کسی اور کی طرف لہٰذا وہ تمہیں سزا دے گا اور وہی جزا
Read the full tafseer →(36:83) فسبحان الذی۔ سبحان مصدر ہے یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے الفاء للسببیۃ۔ یعنی جب تم کو معلوم ہوگیا کہ وہ ایک حقیر بوند سے انسان کو پیدا کرسکتا ہے اور بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندگی عطا کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور جب وہ کسی چیز کو کرنا چاہتا ہے تو حکم کرتا ہے ہوجا۔ تو وہ فی الفور ہوجاتی ہے ۔ تو اب اس خدا کی پاکی بیان کرو جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا پورا اختیار ہے۔
بیدہ۔ باء حرف جر ید مجرور۔ مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ ہ کا مرجع اسم موصول الذی ہے۔ فسبحن الذی بیدہ پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہے (ملکوت کل شیئ) ۔
ملکوت۔ اصل میں ملک۔ ملک یملک (ضرب) سے مصدر ہے وائو اور تاء کو مبالغہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 83 :۔ ما ینغبی ( شان نہ تھی ، لائق نہ تھا) یحق ( ثابت ہوتا ہے) ذللنا ( ہم نے ذلیل کردیا ، تابع کردیا) رکوب ( سواریاں) مشارب (پینے کی جگہ) جند ( لشکر) خصیم ( جھگڑے والا) نسی ( بھول گیا) العظام ( عظم) (ہڈیاں) رمیم ( گلی سڑی) الاخضر (ہرا ، بھرا) توقدون (تم سلگاتے ہو) ملکوت (سلطنتیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 69 تا 83 :۔ قرآن کریم کے اعلیٰ اور بلند تر وہ مضامین جو دنیا اور آخرت میں انسانوں کی بھلائی نصیحت اور خیر خواہی کا ذریعہ ہیں جب ان کی تلاوت کی جاتی تو سننے والے کے دل پر ایک گہرا نقش چھوڑ جاتیں۔ قرآنی آیات ہر ایک کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو کھینچتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
(ف 1) انسان کی عقل کی رسائی سے باہر اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی ہے کہ کیونکہ انسان کا عقلی تجربہ تو یہی ہے کہ کسی ہرے درخت کی ٹہنیوں پر آگ ڈال دی جائے تو اس کی ٹہنیاں جل جائیں گی یہ اسی کی قدرت ہے کہ بعض درختوں میں اس نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ ان درختوں کی ہر ٹہنیوں کو توڑ کر ایک ٹہنی کو دوسری سے رگڑاجائے تو ان ٹہنیوں میں سے ـآگ نکلتی ہے جس آگ کو مسافر لوگ کام میں لاتے ہیں عرب میں دودرخت ہیں جو وہاں کے جنگلوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں ایک کا نام مزح ہے اور دوسرے کا نام عفار۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ جب ان کی سبز شاخیں کاٹ کر ایک دوسرے پر رگڑی جائیں تو ان سے آگ نکلتی ہے باوجوی کہ وہ اتنی تری ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
[26] یعنی اول پانی سے سبز و شاداب درخت تیار کیا پھر اسی تروتازہ درخت کو سکھا کر ایندھن بنادیا جس سے اب تم آگ نکال رہے ہو۔
ماہرین ارضیات کی تحقیق یہ ہے کہ کوئلہ کی تخلیق درختوں سے ہوئی۔ آج سے ہزاروں سال پہلے جب انسانوں کی تعداد کم تھی زمین پر دور دور تک جنگل پھیلے ہوئے تھے۔ بڑی بڑی جھیلوں اور دریاؤں کے کنارے اونچی اور گھنی کائیاں تھیں۔ زلزلوں کی وجہ سے کائیاں اور جنگلات زمین میں دب گئے اور زمین کے دباؤ اور دیگر کیمیائی تغیرات سے وہ پہلے نسواری رنگ کے گوند میں تبدیل ہوگئے۔ بعد میں یہی گوند سیاہ ہو کر کوئلہ بن گیا۔ آج ہم زمین سے یہی کوئلہ نکال کر جلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
ف 2: یعنی جہاں تک اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور وسعتوں کا تعلق ہے ۔ ہم کہہ سکتے ہیں ۔ کہ وہاں عدم امکان یا استحاز کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ کسی چیز کا منصہ شہود پر لانے کے لئے ذرائع اور وسائل کا محتاج نہیں ۔ وہ جب چاہے بیک جنبش اعادہ ہزاروں عوالم امکان پیدا کردے ۔ کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔ اور ہر چیز پر اس کو پورا اختیار اور قابو حاصل ہے ۔
حال لغات :۔ ملکوت ۔ پوری پوری بادشاہت ۔
Read the full tafseer →(83) پس جملہ عیوب سے اس اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جس کے ہاتھ ہر چیز کی زبام حکومت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے۔ یعنی ہر چیز کی حکومت اور بادشاہت اسی کے ہاتھ اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔
سورۂ یٰس کی بہت بزرگی احادیث میں مذکور ہے اس سورت کو قرآن کریم کا دل فرمایا ہے یاسین کی تلاوت کرنیوالے کے لئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور گناہوں کی بخشش کا سبب فرمایا ہے اور ایک دفعہ سورة یٰس کا پڑھنا ایسا ہے جیسا کسی نے بائیس مرتبہ قرآن شریف پڑھا اور فرمایا جس کو حاجت پیش ہو اور وہ سورة یٰسین پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کر دے گا اور فرمایا جس کسی نے سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
ف 1۔ چناچہ عرب میں ایک درخت تھا مرخ اور ایک عفار، ان سے چقماق کا کام لیتے تھے، پس جب پانی میں کہ خضرت اسی کا اثر ہے، آگ پیدا کردیتے ہیں تو جماد میں حیات پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Read the full tafseer →پاک ہے وہ ذات کہ اس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے ‘ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے :
83۔ پاک ہے وہ ذات جس کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی کہا جاتا ہے بلاشبہ وہ ہر نقص اور ہر عیب سے پاک ہے ‘ ہر خامی اور کمزوری سے پاک ہے ‘ ہر شریک اور ضد سے پاک ہے ‘ اس کا علم ہرچیز پر محیط ‘ اس کی قدرت ہمہ گیر ‘ اس کا حکم ہر ادنی واعلی پر جاری وساری اور ہرچیز اس کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے اور جو کچھ ہے اس کے تابع فرمان ہے بلاشبہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘ اس نے جو قانون بنائے ہیں اپنی مرضی اور اپنے ارادہ سے بنائے ہیں وہ کسی سے مشورہ کا محتاج نہیں جو کچھ اس نے کیا ‘ وہ کچھ وہ کر رہا ہے اور جو کچھ وہ کرے گا سب اسی کے حکم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
In verse 82, it was said: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (His practice, when He intends to do something, is no more than He says, "Be", and it comes to be.). In other words, the verse means that when Allah Ta’ ala intends to create something, He has no need to follow the way things are made by human beings who have to collect raw materials, assemble technicians and work for a certain period of time until the thing is ready. His way, to use an understatement, is different. Whenever, He intends to create something, for Him it is sufficient to give the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
68 It either means that He has placed the inflammable matter in the green trees due to which people kindle fire from the pieces of wood. Or, it is an allusion to the markh and 'afar trees, whose green branches the Arabs struck against each other to produce the sparks. In ancient times the Bedouins used this method of kindling the fire and might even be using the same today.
Read the full tafseer →