As-Saaffaat 37:1

37. As-Saaffaatالصافات

Those drawn up in Ranks · Meccan · 182 ayahs · 5 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

37:1

وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۟ۙوَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا

قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

By those [angels] lined up in rows

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:1

قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے صف باندھنے والے (فرشتوں) کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ان کی جو پرے باندھ کر صف بناتے ہیں،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قسم ان کی کہ باقاعدہ صف باندھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

قسم ہے قطار در قطار صف بستہ جماعتوں کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قسم ہے ان (جماعتوں) کی جو صف باندھنے والی ہیں ! خوب صف باندھنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

صف بستہ کھڑا ہونے والوں (فرشتوں) کی قسم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شاہد ہیں صفیں باندھے، حاضر رہنے والے فرشتے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قسم ہے ان کی جو کھڑے ہوتے ہیں صف باندھ کر

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے صف باندھ کھڑے ہونے والے (فرشتوں) کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

صف باندھ کر کھڑے ہونے والے (فرشتوں) کی قسم۔

— محترمہ رفعت اعجاز

By those who range themselves in rows;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(I swear) by those who stand in rows,

— Muhammad Taqi Usmani

(I swear) by those who stand in rows,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By those ranged in ranks.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By those who set the ranks in battle order

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

By those [angels] lined up in rows

— Saheeh International

I swear by (the angels) who stand in ranks,

— Muhammad Sarwar

I swear by those who draw themselves out in ranks

— Muhammad Habib Shakir

By the angels ranged in ranks.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر قسم ہے ان فرشتوں کی جو (عبادت میں یا حق تعالیٰ کا حکم سننے کے وقت) صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں (جیسا اسی سورت میں آگے آئے گا وانا لنحن الصافون) پھر (قسم ہے) ان فرشتوں کی جو (شہاب ثاقب کے ذریعہ آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی) بندش کرنے والے ہیں (جیسا کہ اسی سورت میں عنقریب آ رہا ہے) پھر (قسم ہے) ان فرشتوں کی جو ذکر (الٰہی تسبیح و تقدیس) کی تلاوت کرنے والے ہیں (جیسا کہ اسی سورت میں آئے گا، وانا لنحن المسبحون، غرض ان سب کی قسم کھا کر کہتے ہیں) کہ تمہارا معبود (برحق) ایک ہے (اور اس توحید کی دلیل یہ ہے کہ وہ) پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے (یعنی ان کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

1۔ الفاظ کی تحقیق اور آیت کی وضاحت آیت 1 ’ و ‘ قسم کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لئے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لئے ہیں۔ استاذ امام ؒ نے اپنے رسالہ الامعان فی اقسام القرآن ‘ میں اس مسئلہ پر مفصل بحث کی ہے۔ ہمارے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں ’ والصفت صفا ‘ کا ترجمہ ‘ شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے حاضر رہنے والے فرشتے۔ کیا جائے تو یہ قسم کی مفہوم کی بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہوگا۔ ’ صافات ‘ یہاں فرشتوں کی صفت کے طور پر آیا ہے اور اس کی وضاحت اسی سورة میں خود حضرت جبرئیل ؑ کی زبانی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–4

4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

1: اللہ تعالیٰ کو اپنی کسی بات کی تصدیق کے لئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے ؛ لیکن قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزوں کی جو قسمیں کھائی ہیں وہ اول تو عربی زبان کی فصاحت و بلاغت کا ایک اسلوب ہے جس سے کلام میں زور اور تاثیر پیدا ہوتی ہے، دوسرے جن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے، ان پر اگر غور کیا جائے تو وہ اس دعوے کی دلیل ہوتی ہے جو ان قسموں کے بعد مذکور ہوتا ہے۔ 2: یعنی جو صف باندھ کر قطار در قطار کھڑے ہوتے ہیں، خواہ فرشتے ہوں جو حکم الٰہی سننے کو اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ کھڑے ہوتے ہیں یا عبادت گزار انسان جو نماز اور جہاد وغیرہ میں صف بندی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

درس نمبر 208 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 ﷽ والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔ قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جو صف باندھ کر قطار در قطار کھڑے ہوتے ہیں، خواہ فرشتے ہوں جو حکم الٰہی سننے کو اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ کھڑے ہوتے ہیں یا عبادت گزار انسان جو نماز اور جہاد وغیرہ میں صف بندی کرتے ہیں۔ (تنبیہ) قسم محاورات میں تاکید کے لیے ہے جو اکثر منکر کے مقابلہ میں استعمال کی جاتی ہے لیکن بسا اوقات محض ایک مضمون کو مہتم بالشان ظاہر کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور قرآن کریم کی قسموں کا تتبع کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عموماً مقسم بہ مقسم علیہ کے لیے بطور ایک شاہد یا دلیل کے ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔“ گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ یعنی نہ تین نہ زائد۔ نہ تین میں سے ایک، نہ ایک تین میں تقسیم، بلکہ محض ایک، بیان توحید کا ہورہا ہے۔ اور ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” والصفت صفا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمان میں اللہ کی حمد وتسبیح میں اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں (آیت) ” فالزجرت زجرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمانی خبر رسانیوں سے شیطانوں کی بندش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالتلیت ذکرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والصفت صفًا میں قسم کھاتا ہوں ان فرشتوں کی جو (مقام عبدیت میں نمازیوں کی صفوں کی طرح) صف بستہ رہتے ہیں۔ حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس طرح ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہیں ‘ کیا تم اس طرح (نماز میں یا جہاد میں) صف بندی نہیں کرو گے ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ملائکہ کس طرح صف بستہ ہوتے ہیں ؟ فرمایا : صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں ڈٹ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ‘ حسن اور قتادہ نے آیت ہذا کی یہی تشریح کی ہے۔ بعض علماء نے کہا : ملائکہ فضا میں اپنے پر پھیلائے رکے رہتے ہیں اور اس وقت تک رکے رہتے ہیں کہ اللہ اپنی مشیت کے مطابق کو (کسی کام پر) مامور کرتا ہے۔ بعض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو آسمان میں اس طرح صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ مومنین نماز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ ذکر الہی کی تلاوت کرتے ہیں یا یہ کہ تلاوت قرآن حکیم کی قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالصّــٰۗفّٰتِ صَفًّا : قسم عموماً تاکید کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جب مخاطب کسی بات کا منکر ہو۔ بعض اوقات کسی بات کی عظمت اور اہمیت واضح کرنے کے لیے بھی قسم اٹھائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کی اکثر قسموں پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قسم عموماً اس بات کی دلیل ہوتی ہے جو قسم کے بعد بیان ہوتی ہے۔ ”الصّــٰۗفّٰتِ“ ”صَافَّۃٌ“ کی جمع ہے، صف بنانے والی جماعت۔ ان جماعتوں سے اکثر مفسرین نے فرشتے مراد لیے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفت خود ان کی زبانی بیان فرمائی ہے، فرمایا : (وَّاِنَّا لَنَحْنُ الصَّاۗفُّوْنَ۔ وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ) [ الصافات : 165، 166 ] ”اور بلاشبہ ہم، یقیناً ہم صف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق (رح) وفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) (میں قسم کھاتا ہوں ان فرشتوں کی جو صف بستہ رہتے ہیں) یعنی فرشتے (آیت) ” فالزجرت زجرا (2) (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں) یعنی فرشتے (آیت) ” فالتلیت ذکرا “ (3) (اور ان فرشتوں کی قسم ! جو ذکر اللہ کی تلاوت کرتے ہیں) یعنی فرشتہ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور عکرمہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ سعید بن منصور نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” صافات “ (صف باندھنے والے) (آیت) ” مرسلات “ (بھیجنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالصّــٰۗفّٰتِ [قسم ہے قطار بنانے والیوں کی ] صَفًّا [جیسا قطار بنانے کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جو قسمیں کھائی ہیں یہ تعظیم کے لئے نہیں بلکہ مقسم علیہ پر شہادت کے لئے ہیں۔ قسم کے اس مفہوم کی روشنی میں والصفات صفا کا ترجمہ ” شاہد ہیں صفیں باندھے ہوئے حاضررہنے والے فرشتے “ کیا جائے تو یہ قسم کے مفہوم کو بالکل ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والا ہوگا۔ آیات ایک تا تین میں فرشتوں کی تین صفات بیان ہوئی ہیں۔ ان صفات میں اسی طرح کی ترتیب ہے جس طرح کی ترتیب ہماری نمازوں میں ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خدا کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر شیطان سے تعوذ کرتے ہیں، پھر اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے آسمان و زمین اور مشارق و مغارب کا رب ہے ابتدائی تین آیات میں تو فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ اولاً صف بنا کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی قسم کھائی، فرمایا (وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا) (قسم ہے صف بنا کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی) جو عبادت خداوندی کے لیے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الا تصفون کم تصف المَلٰءِکۃ عند ربھا) (کیا تم اس طرح صف نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صف بناتے ہیں) صحابہ ؓ نے عرض کیا فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف بناتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں خوب مل مل کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ والصفت الخ :۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر الللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ فالزاجرات زجرًا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین کو ملا اعلی کے قریب آنے سے روکنے والے ہیں۔ فالتلیت ذکرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ ان الہکم لواحد الخ، یہ جواب قسم ہے۔ تینوں انواع کے فرشتے جن کی قسم کھائی گئی ہے ان کے یہ احوال اس پر شاہد اور اس کی واضح دلیل ہیں کہ سب کا معبود اور کارساز ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اور مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ فرشتوں کے مذکورہ احوال سے معلوم ہا کہ ان کی حیثیت بارگاہِ الٰہی میں خدام کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ وَالصّٰۗفّٰتِ صَفًّا۝ 1ۙ صف الصَّفُّ : أن تجعل الشیء علی خط مستو، کالناس والأشجار ونحو ذلك، وقد يجعل فيما قاله أبو عبیدة بمعنی الصَّافِّ «1» . قال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا[ الصف/ 4] ، ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا [ طه/ 64] ، يحتمل أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الصَّافِّينَ ، وقال تعالی: وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ [ الصافات/ 165] ، وَالصَّافَّاتِ صَفًّا[ الصافات/ 1] ، يعني به الملائكة . وَجاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [ الفجر/ 22] ، وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ [ النور/ 41] ، فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰـھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ (الصآفات : 1 تا 4) (قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی۔ پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی۔ پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی۔ پس تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ) قسم دلیل ہوتی ہے یہاں فرشتوں کے تین گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسم کے لیے آتا ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے قسم کو بطور دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔ ” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

چار اقسام اور ان کی قسمیں : 1، 2، 3: وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو صف باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں روکنا) فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا (پھر ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی مختلف جماعتوں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 2۔ یا ان کے نفوس کی کہ نماز میں صف بستہ ہیں پھر بادلوں کو چلانے کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں اور الہام خیر کے ذریعہ معاصی سے روکنے والے ہیں۔ پھر کتب منزلہ میں سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ یہ ابن عباس، ابن مسعودؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ نمبر 3۔ ان علمائے عاملین کے نفوس کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 1۔ ، والصافات صفا، حضرت ابن عباس ؓ حسن ، قتادہ فرماتے ہیں کہ ملائکہ آسمان میں اس طرح صف بندی کرتے ہیں جیسے تم نماز میں صف بندی کرتے ہو۔ حضرت جابربن سمرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہوتے ہیں کیا تم اس طرح صف بندی نہیں کروگے ۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! ملائکہ کس طرح صف بستہ ہوتے ہیں ؟ فرمایا صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں ڈٹ جاتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ملائکہ فضاء میں اپنے پر پھیلائے رکے رہتے ہیں اور اس وقت تک رکے رہتے ہیں کہ اللہ اپنی مشیت کے مطابق ان کو کسی کام پر مامور کرتا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک الصافات سے مراد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 صف بستہ فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " قسم ہے ان کی جو کھڑے ہوتے ہیں صف باندھ کر "۔ اللہ پاک کی عبادت و بندگی کے لئے۔ جیسے ہم لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آگے آتا ہے ۔ { وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّوْنَ } ۔ نیز وہ صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ پاک کے حکم و ارشاد کی بجاآوری کے لئے۔ مفسرین کرام کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ " صافات " اور " زاجرات " اور " تالیات " کی ان صفات کے موصوف ملائکہ کرام ہیں۔ اور یہی تفسیر مروی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، عبداللہ ابن عباس ؓ ، قتادہ، مسروق، عکرمہ اور سعید بن جبیر وغیرہ سے۔ جبکہ بعض حضرات اہل علم سے اس بارے میں دوسرے مختلف اقوال بھی مروی ہیں لیکن سیاق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 9” صافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں ادائے عبادت یا فضا میں اللہ تعالیٰ کے نزول حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی صف بندی شرف و فضلیت میں درجات کے تفاوت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی ہر ایک کے لئے جود رجہ مقرر ہے اسی پر قائم رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ( دیکھئے سورة نباء : 38 و سورة فجر : 22) آنحضرت ﷺ نے نماز میں فر شتوں کی سی صف بندی کا حکم دیا ہے یعنی پہلی صف پوری ہونے کے بعد دوسری صف باندھی جائے اور صف میں مل کر کھڑا ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ نماز میں فرشتوں کی طرف صف بندی کرنا اس امت کا خاصہ ہے۔ (وجعلت صفوفنا کصفوف الملائکہ) (مسلم، ابو دائود) اور زجر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:1) والصفت صفا۔ وائو قسم کے لئے ہے۔ لغات القرآن میں اقسم کے محاذ قسم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے : میں قسم کھاتا ہوں۔ اقسام سے جس کے معنی قسم کھانے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ یہ در اصل قسامۃ سے ماخوذ ہے۔ قسامۃ وہ قسمیں ہیں جو مقتول کے ولیوں کو دی جاتی ہیں (پھر مطلق قسم کے معنی میں استعمال ہونے لگا) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسمیں کھائیں ہیں :۔ (1) اپنی ذات مقدسہ کی۔ (2) اپنے افعال حکیمانہ کی۔ (3) اپنی مخلوق کی۔ مخالفین جو قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ نے قسمیں کیوں کھائیں ہیں ؟ یہ اعتراض طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کی قسم یاد فرمائی، چندگروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہوکر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا علماء دین کے گروہ جو تہجد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر کر مصروف عبادت رہتے ہیں یا نمازیوں کے گروہ جو راۃ خدا مین صفیں باندھ کر دشمنان حق کے مقابل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم جھڑک کر جلانے والوں سے مراد ملائکہ جو بادل پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کرچلاتے ہیں یا یہ مراد ہے کہ وہ علماء جو وعظ وپند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ پرچلاتے ہیں یا یہ وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹ کر جہاد میں چلاتے ہیں۔ تیسری قسم قرآن شریف کی یا تو قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[1] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن برصفحہ 1062۔ [2] یعنی ان فرشتوں کی قسم جو اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح میں یا اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) قسم ہے ان فرشتوں کو جو صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی حکم الٰہی کو سننے کے وقت خوب صف باندھتے اور صف بستہ کھڑے ہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے خوب صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یعنی قطار باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قطار در قطار صف باندھنے والوں کے رب کی قسم : 1۔ (صفت) صافۃ کی جمع ہے جس کے معنی صرف باندھنے والی جماعت کے ہیں اور (صف) کے معنی قطار باندھنے کے ہیں جس کی جمع (صفوف) ہے ۔ کسی شے کو جیسے آدمیوں کو یا درختوں کو ایک خط مستوی پر کر دو تو اس کو صف کہیں گے ۔ مراد اس سے فرشتے بھی لیے گئے ہیں اور صف باندھنے والے نمازی بھی اور مجاہدین بھی ایک وقت تھا کہ صفیں باندھ کر جنگ کرتے تھے اس لیے مجاہدین کی جماعتیں بھی مراد لی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی ایک یا سب ہی معنی درست لیے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ استعارات ہیں اور اگر قسم کھانا ہی مراد لیا جائے تو اس میں رب کا لفظ محذوف تسلیم کرکے صف باندھنے والوں کی رب کی قسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Subjects of-the Surah This Surah is Makki, that is, it was revealed in Makkah al-Mukarramah. Like other Makki Surahs, matters of faith have been taken up as its essential subject. In it, beliefs about Divine Oneness, the mission of messengers and the certain eventuality of the Hereafter have been fortified with proofs presented in various ways. As a corollary, a refutation of the beliefs of Mushriks as well as the scenes of Paradise and Hell also appear in the Surah. After providing rational support for beliefs that formed part of the call of the noble prophets (علیہم السلام) and…

Read the full tafseer →