Ayah 37:1صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے آسمان و زمین اور مشارق و مغارب کا رب ہے
ابتدائی تین آیات میں تو فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ اولاً صف بنا کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی قسم کھائی، فرمایا (وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا) (قسم ہے صف بنا کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی) جو عبادت خداوندی کے لیے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (الا تصفون کم تصف المَلٰءِکۃ عند ربھا) (کیا تم اس طرح صف نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صف بناتے ہیں) صحابہ ؓ نے عرض کیا فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف بناتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صفوں میں خوب مل مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ (رواہ مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 98)
Ayah 37:2(فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا) یہ لفظ زجر سے لیا گیا ہے، زجر جھڑکنے اور منع کرنے کو کہتے ہیں اسی لیے ترجمہ یوں لکھا گیا ہے، پھر ان فرشتوں کی قسم جو بندش کرنے والے ہیں۔ فرشتوں کا زجر کرنا اور روکنا کیا ہے ؟ روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ فرشتے اللہ کے بندوں کو گناہوں سے روکتے ہیں اور ان کے دل میں خیر کی باتیں ڈالتے ہیں اور شیاطین کو وسوسے ڈالنے سے روکتے ہیں۔
Ayah 37:3(فَالتَّالِیَاتِ ذِکْرًا) (پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اس کا ایک مطلب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کریم اور دوسری کتابیں لاتے رہے اور جس نبی کے پاس لائے اس پر پڑھتے رہے۔ اور ایک مطلب یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں اور تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔
Ayah 37:4(اِِنَّ اِِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ) یہ جواب قسم ہے قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے
Ayah 37:5پھر اس معبود کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ) وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی رب ہے اور مشارق کا بھی رب ہے۔
مشارق مشرق کی جمع ہے، یہاں (رَبُّ الْمَشَارِقِ ) فرمایا ہے۔ اور سورة المعارج میں (فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ ) فرمایا ہے اور سورة الرحمن میں (رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ) فرمایا ہے۔
مشارق اور مغارب جمع ہے اور (الْمَشْرِقَیْن) اور (الْمَغْرِبَیْنِ ) تثنیہ ہیں، اور سورة المزمل میں (رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ) فرمایا ہے۔ اس میں واحد کا صیغہ تو جنس کے اعتبار سے ہے اور تثنیہ سردی اور گرمی کے موسموں کے اعتبار سے کیونکہ سردی کے دنوں میں آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کی جگہ اس جگہ کے علاوہ ہے جو گرمی میں غروب ہونے اور طلوع ہونے کی جگہ ہے اور جمع اس اعتبار سے ہیں کہ مشرق اور مغرب بدلتے رہتے ہیں۔
Ayah 37:6اس کے بعد ستاروں کا تذکرہ فرمایا (اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃٍ نِ الْکَوَاکِبِ ) (بلاشبہ ہم نے قریب والے آسمان کو ایک خاص زینت کے ساتھ مزین کیا یعنی ستاروں کے ذریعے اسے زینت دی)
Ayah 37:7(وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ) (ای وَ حَفِظْنٰھَا حِفْظًا) اور ہم نے آسمان کو محفوظ کیا ہر سرکش شیطان سے، شیاطین اوپر جاکر فرشتوں کی باتیں سننے کی جو کوشش کرتے ہیں ستارے انہیں مار بھگاتے ہیں۔
Ayahs 37:8–9ستارے آسمان دنیا کے لیے زینت ہیں اور شیاطین سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہیں
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے شیاطین نے ایک دھندہ بنا رکھا تھا اوپر جاتے تھے باتیں سنتے تھے اور باتیں لاکر کاہنوں میں ڈالتے تھے وہ اس میں سو جھوٹ ملا کر آگے بڑھاتے تھے، اوپر سے سنی ہوئی سچی بات نکل جاتی تھی تو لوگ کاہنوں کے معتقد ہوجاتے تھے کہ دیکھو یہ غیب کی باتیں بتاتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی تو وہاں پہرہ لگ گیا، اب شیاطین اوپر جاتے ہیں تو مار کھاتے ہیں۔
اسی کو فرمایا (اَ یَسَّمَّعُوْنَ اِِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی) (اور وہ ملاء اعلیٰ کی بات نہیں سن سکتے) (وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ دُحُوْرًا) (اور وہ مارے جاتے ہیں ہر جانب سے دھتکارے ہوئے) یعنی اوپر پہنچ کر کان تو لگاتے ہیں لیکن مار پڑنے اور دھتکارے جانے کی وجہ سے سن نہیں پاتے 1 (وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ) (اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے) یعنی دنیاوی مار پیٹ اور دھتکار کے علاوہ آخرت میں مستقل عذاب ہوگا جو دائمی ہوگا۔
Ayah 37:10(اِِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ) (مگر ان میں سے جس نے کوئی بات اچک لی) یعنی فرشتے جو آپس میں باتیں کرتے ہیں مار پڑنے سے پہلے ان میں سے کوئی بات کسی نے اچک لی اور وہاں سے لے کر چل دیا تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگ جاتا ہے۔ یہ روشن شعلہ اس پر پڑتا ہے تو اسے جلا دیتا ہے یا اس کے بعض اعضاء کٹ جاتے ہیں یا وہ دیوانہ ہوجاتا ہے۔
آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ ستاروں کے ذریعے سرکش شیاطین سے آسمان کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہے۔ سورة ملک میں واضح طور پر فرمایا : (وَجَعَلْنَاھَا رُجُوْمًا لِّلشَّیَاطِیْنِ ) (اور ہم نے ستاروں کو شیاطین کے مارنے کا ذریعہ بنایا) اور سورة الحجر اور سورة الصافات میں مزید فرمایا کہ شیطان اوپر بات سننے جاتے ہیں تو انہیں شعلہ مار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ اشکال کیا ہے کہ ستارے تو اپنی جگہ چھوڑ کر شیاطین کے پیچھے دوڑتے ہوئے نظر نہیں آتے پھر ستاروں کے مارنے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ جو ستارے اس کام پر لگے ہوئے ہیں وہ ہمیں نظر آتے ہوں، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعلہ جسے سورة الحجر میں (شِہَابٌ مُّبِیْنٌ) اور سورة صافات میں (شِہَابٌ ثَاقِبٌ) فرمایا ہے یہ شہاب بعض ستاروں کی سخونت (یعنی گرمی) سے پیدا ہوتے ہوں اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ شہاب ثاقب دن کو بھی شیاطین کا پیچھا کرتا ہے لیکن سورج کی روشنی کی وجہ سے نظر نہیں آتا لہٰذا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ شیاطین رات ہی کو بات سننے کے لیے کیوں اوپر جاتے ہیں ؟ اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں کہ آسمان پر جو انگارہ نظر آئے وہ شیاطین ہی کے مارنے کے لیے ہو اس کے وجود کے
1 اور ظاہراً سیاق آیت لا یسمعون سے معلوم ہوتا ہے کہ اول استماع کی نفی کی باعتبار اکثر کے پھر بعد استماع شاذو نادر کے یقذفون میں سمع کی نفی کی پھر بعد سمع اتفاقی کے اتبعہ سے سماع کی نفی کی اور من کل جانب کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شیطان کو ہر طرف سے رجم کرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرف کوئی شیطان جائے ادھر ہی مرجوم ہوتا ہے۔
دوسرے اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔
Ayah 37:11معجزات کا استہزاء کرنے والوں اور وقوع قیامت کے منکرین کی تردید اور ان کے لیے وعید شدید
ان آیات میں اثبات توحید بھی ہے اور اثبات معاد بھی ہے اور منکرین کے استعجاب کی تردید بھی۔ اول تو یہ فرمایا کہ آپ ان سے پوچھ لیجیے کہ یہ لوگ یعنی منکرین بعث بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا دوسری چیزیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ان کا ذکر اوپر ہوچکا ہے، ظاہر ہے کہ وہی چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ جب انسان یہ جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ مضبوط اور سخت چیزیں موجود ہیں تو پھر دوبارہ اپنے پیدا کیے جانے کا کیسے انکار کرتا ہے ؟ (اِِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ) (بےشک ہم نے انہیں چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے) جو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس میں نہ کچھ قوت ہے نہ صلابت ہے اس کو خود غور کرنا چاہیے کہ جب اتنی بڑی بڑی سخت مخلوق کو رب العالمین جل مجدہٗ نے پیدا فرمایا تو مجھ جیسے ضعیف کو پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے، مجھے پہلے بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور موت کے بعد دوبارہ بھی وہی پیدا فرمائے گا۔ (قال صاحب الروح : احتجاج علیھم فی امر البعث بان الطین اللازب الذی خلقوا منہ فی ضمن خلق ابیھم ادم (علیہ السلام) تراب فمن این استنکزوا ان یخلقوا منہ مرۃ ثانیۃ) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں بعث بعد الموت کے مسئلہ پر مشرکین کے خلاف دلیل ہے اس طرح کہ چپکتی مٹی جس سے وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے واسطہ سے پیدا کیے گئے وہ مٹی ہی ہے لہٰذا اب اگر وہ دوبارہ مٹی سے اٹھائے جائیں تو اس پر نکیر کی ان کے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔ )
Ayah 37:12(بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ ) (بلکہ یہ بات ہے کہ آپ تو ان کے انکار پر تعجب کرتے ہیں کیونکہ یہ قدرت الٰہیہ کے منکر ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں مذاق بناتے ہیں)
Ayah 37:13(وَاِِذَا ذُکِّرُوْا لاَ یَذْکُرُوْنَ ) (اور جب ان کو سمجھایا جاتا ہے تو نہیں سمجھتے) دلائل عقلی ان کے سامنے لائے جاتے ہیں تو ان سے بھی منتفع نہیں ہوتے
Ayah 37:14(وَاِِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ ) اور جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں۔ جو آپ کی نبوت ثابت کرنے کے لیے ان کی نظروں کے سامنے آتا ہے تو اس کا مذاق اڑا دیتے ہیں
Ayah 37:15(وَقَالُوْا اِِنْ ھٰذَا اِِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ) (اور کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم نے دیکھا یہ تو کھلا ہوا جادو ہے) بس جب دلائل عقلی میں بھی غورو فکر نہیں کرتے اور معجزات کو بھی جادو بتا دیتے ہیں تو ان سے قبول حق کی کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔
Ayahs 37:16–17(ءَ اِذَا مِتْنَا) (الآیتین) وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے کیا ہم پھر زندہ کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی زندہ ہوں گے۔ (ان کی یہ بات استفہام انکاری کے طور پر ہے) (بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مٹی ہو کر اور ہڈیوں کا ریزہ ریزہ بن جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آتا ہم اسے نہیں مانتے۔
Ayah 37:18(قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ ہاں تم ذلیل بھی ہوگے) یعنی تمہارے انکار کے باوجود تمہیں قیامت میں زندہ ہونا ہے اور قبروں سے اٹھنا ہے، تمہارے پرانے باپ دادے بھی زندہ کیے جائیں گے اور قبروں سے اٹھیں گے اور تم ذلیل بھی ہوگے، حق بات تمہارے سامنے آتی ہے تو اس کے منکر ہوجاتے ہو، اس دن منکر اور کافر کی ذلت یقینی ہے۔
Ayah 37:19(فَاِِنَّمَا ھِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ) قادر مطلق جل مجدہٗ کے لیے قیامت قائم کرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ذرا بھی دشوار نہیں ہے، اس کے حکم سے ایک چیخ وجود میں آئے گی یعنی پہلی بار صور پھونکے جانے کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب قبروں سے نکل کر دیکھنے لگیں گے جیسا کہ موت سے پہلے سابقہ زندگی میں دیکھا کرتے تھے، کما فی سورة الزمر (ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِِذَا ھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ )
Ayah 37:20(وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا ھٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ ) (اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو روز جزا ہے) جس کا ہم انکار کیا کرتے تھے)
Ayah 37:21باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) (یہ فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) تمہارے جھٹلانے سے اس کی آمد نہیں رکی۔ اب تو تمہیں سزا بھگتنی ہوگی۔
Ayahs 37:22–30قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا
یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
(احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان کے ہم مشربوں یعنی ان کا اتباع کرنے والوں کو اور ان معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے ان سب کو جمع کرو، ان کو ایک جگہ جمع کرکے دوزخ کا راستہ بتادو کہ جاؤ اس میں داخل ہوجاؤ، اور وہاں ان کو ذرا ٹھہرا لو، ان سے سوال کیا جائے گا، جب ان کو ٹھہرا لیا جائے گا تو یہ سوال ہوگا کہ آج آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ دنیا میں تو بڑے یار بنے ہوئے تھے اور مدد کے وعدے بھی کرتے تھے۔ جو لوگ کفر کی دعوت دیتے تھے وہ تو یہاں تک کہہ دیتے تھے (اَتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ ) (کہ تم ہماری راہ کا اتباع کرلو تمہاری خطاؤں کو ہم اٹھا لیں گے) کیا بات ہے آج تم میں سے کوئی بھی کسی کا مددگار نہیں، وہاں تو ہر ایک خود ہی مبتلائے عذاب ہوگا دوسرے کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکے گا اور سب شرم کے مارے سر جھکائے ہار مانے ہوئے کھڑے ہوں گے اور یہ مان لیں گے اور جان لیں گے کہ واقعی ہم مستحق عذاب ہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بھی شخص نے (دنیا میں) کسی بھی چیز کی طرف دعوت دی ہوگی تو یہ شخص قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا جس کو دعوت دی ہوگی وہ اسے پکڑا رہے گا اس سے جدا نہیں ہوگا، اگرچہ ایک ہی شخص نے ایک ہی شخص کو دعوت دی ہوگی، اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَقِفُوھُمْ اِِنَّہُمْ مَّسْءُوْلُوْنَ مَا لَکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ) (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الصفت)
آپس میں ایک دوسرے کی مدد تو کیا کرتے وہاں تو چھوٹے بڑوں کو الزام دیں گے اور بڑوں سے کہیں گے کہ تم نے تو ہمارا ناس کردیا، دنیا میں تمہارا یہ حال تھا کہ ہمارے پاس بڑے زور دار طریقے سے آتے تھے اور ہم پر خوب زور ڈال کر کفر و شرک کی راہ دکھاتے تھے اور اپنی چودھراہٹ اور سرداری کو استعمال کرتے تھے، آج جب ہم مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں تو تمہاری طرف سے کچھ بھی مدد نہیں ؟ ان کے بڑے سردار اور چودھری کہیں گے بات یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ ہے تمہاری گمراہی صرف ہمارے ہی گمراہ کرنے پر منحصر نہ تھی بلکہ تم خود ہی مومن نہیں تھے، ہم نے تم سے جو کچھ کہا اور تمہیں جو کچھ بتایا وہ بہت سے بہت ایسی بات تھی کہ تم کو کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، کافر تو تم خود ہی تھے اگر ہم تمہیں نہ بہکاتے اپنے کفر کی وجہ سے پھر بھی تم آج سزا پاتے، اور اس بات کا بھی تو خیال کرو کہ ہم نے تمہیں جو کچھ بتایا اور کفر پر ابھارا اس میں ہماری باتیں ہی باتیں تو تھیں تم پر ہمارا ایسا کوئی تسلط نہیں تھا کہ لٹھ مار کر اور تلوار دکھا کر کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے، بات یہ ہے کہ تم خود ہی سرکش تھے، تمہارے جذبات اور ہمارے جذبات میں یگانگت تھی لہٰذا تم نے ہماری بات مان لی : (قال صاحب الروح : بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِیْنَ جواب اٰخر تسلیمی علیٰ فرض اضلالھم بانھم لہ یجبروھم علیہ وانما دعوھم لہ فَاَجَابُوْا باختیار ھم لموافقۃ ما دعوا لہ ھوا ھم) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں (بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِیْنَ ) یہ ایک دوسرا جواب ہے جو اس طرح ہے کہ بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا لیکن ہم نے تمہیں اس گمراہی کے ماننے پر مجبور نہیں کیا ہم نے تو فقط دعوت ہی دی اور انہوں نے اپنی مرضی و پسند سے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ )
Ayahs 37:31–32مجرمین کا اقرار کہ ہم عذاب کے مستحق ہیں
(فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَا اِِنَّا لَذَاءِقُوْنَ ) (سو ہم پر ہمارے رب کی بات ثابت ہوگئی بلاشبہ ہم سب چکھنے والے ہیں) یعنی ہمارے خالق اور مالک نے جو کافروں کے لیے جہنم کا داخلہ طے فرما دیا تھا اسی کے مطابق ہمیں اور تمہیں عذاب چکھنا ہوگا۔ (فَاَغْوَیْنَاکُمْ اِِنَّا کُنَّا غَاوِیْنَ ) (سو ہم نے تم کو بہکا دیا بیشک ہم بھی گمراہ تھے) تم بھی کافر تھے اور ہم بھی، اب عذاب سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نہیں ہمیں الزام دے کر تمہارا بچاؤ نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 37:33–36اتباع اور تابعین سب عذاب میں مشترک ہوں گے
(فَاِِنَّہُمْ یَوْمَءِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ ) (ارشاد خداوندی ہے کہ وہ سب لوگ تابع اور متبوع، بڑے اور چھوٹے اس دن عذاب میں شریک ہوں گے) (اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بالْمُجْرِمِیْنَ ) (بلاشبہ ہم مجرمین کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں) مشرکوں اور کافروں کے لیے عذاب طے شدہ ہے جس میں وہ ضرور مبتلا ہوں گے۔ (اِِنَّہُمْ کَانُوْا اِِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) (بےشک جب ان کے سامنے معبود برحق کی الوہیت کی دعوت دی جاتی تھی اور ان کے سامنے مضمون لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا اللّٰہُ بیان کیا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے یعنی اس کلمہ کے ماننے سے نفرت کرتے تھے اور اس کے قبول کرنے میں اپنی ہتک سمجھتے تھے، اس طرح توحید کا انکار کرتے تھے) (وَیَقُوْلُوْنَ اَءِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ) (اور یوں کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ایک شاعر دیوانہ کی وجہ سے) اس میں رسالت کا انکار ہے، انکار توحید اور انکار رسالت دنیا میں دونوں باتوں پر جمے رہتے تھے، اس طرح مجرم بن کر آخرت میں اللہ کے دربار میں پہنچیں گے اور عذاب بھگتیں گے۔