37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف بنا کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی

1:۔ عبدالرزاق (رح) وفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) (میں قسم کھاتا ہوں ان فرشتوں کی جو صف بستہ رہتے ہیں) یعنی فرشتے (آیت) ” فالزجرت زجرا (2) (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں) یعنی فرشتے (آیت) ” فالتلیت ذکرا “ (3) (اور ان فرشتوں کی قسم ! جو ذکر اللہ کی تلاوت کرتے ہیں) یعنی فرشتہ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) اور عکرمہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 3:۔ سعید بن منصور نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” صافات “ (صف باندھنے والے) (آیت) ” مرسلات “ (بھیجنے جاننے والے۔ (آیت) ” نازعات “ (جھگڑا کرنے والے) ان سب سے مراد فرشتے ہیں۔
Ayahs 37:2–3

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ان فرشتوں کی جو بندش کرنے والے ہیں

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں

4:۔ ابن المنذر (رح) وابوالشیخ العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) فالزجرت زجرا (2) “ سے فرشتے مراد ہیں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ چیز ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جھڑکا ہے۔ 6:۔ ابن ابی صالح نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتاب اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے لوگوں کی طرف لاتے ہیں۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) سے آسمان میں صف باندھنے والے فرشتے مراد (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے وہ چیزیں مراد ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کے قرآن میں جھڑکا ہے (آیت) ” فالتلیت ذکرا “ یعنی جو کچھ قرآن مجید میں گزشتہ امتوں میں تلاوت کیا جاتا ہے
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہے

(آیت) ” ان الھکم لواحد “ (کہ تمہارا معبود ایک ہے) یعنی یہ جملہ جواب قسم ہے۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور رب ہے مشارق کا

8:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورب المشارق “ (اور رب ہے مشرقوں کا) یعنی مشارق تین سو ساٹھ ہیں (آیت) ” والمغارب “ اور مغارب بھی تین سو ساٹھ ہیں ایک سال میں اور فرمایا کہ ” والمشرقان “ سے مراد ہے موسم سرما کا مشرق اور موسم گرما کا مشرق۔” والمغربان “ سے مراد ہے موسم سرما کا مغرب، موسم گرما کا مغرب۔ 9:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” المشارق “ سے مراد ہیں، تین سو ساٹھ مشرق ” والمغارب “ بھی اسی طرح ہیں سورج ہر دن طلوع ہوتا ہے ایک مشرق سے اور غروب ہوتا ہے ایک مغرب میں۔ 10:۔ ابوالشیخ العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورب المشارق “ میں مشارق سال کے دنوں کے برابر ہیں کیونکہ ہر دن ایک طلوع ہونے اور ایک غروب ہونے کی جگہ ہوتی ہے۔
Ayahs 37:6–9

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے قریب والے آسمان کو زینت دی ہے خاص زینت یعنی ستاروں کے ذریعہ

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور حفاظت کی ہے ہر سرکش شیطان سے

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

یہ لوگ عالم بالا کی طرف کان نہیں لگا سکتے اور وہ ہر جانب سے مار کر دھکے دیئے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آپ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو تنوین کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم (رح) نے فرمایا جس نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو مضاعف پڑھا اور ” بزینۃ “ پر تنوین نہ لگائی۔ تو اس نے اس کو آسمان کی زینت نہ بنایا بلکہ اس نے ستاروں کی زینت بنادیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفظا “ کہ ہم نے اس کو حفاظت کے لئے بنادیا (آیت) ” من کل شیطن مارد (7) لایسمعون الی الملا الاعلی “ (ہر شریر شیطان سے اور وہ شیطان عالم بالا کی طرف کان بھی نہیں لگا سکتے۔ یعنی ستاروں کے ذریعے ان کو سننے سے روک دیا گیا تخفیف کے ساتھ۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” لا یسمعون الی الملا الاعلی “ کو پڑھتے تھے۔ اور فرمایا کہ وہ سننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لا یسمعون الی الملا الاعلی “ میں (آیت) ” الی الملا الاعلی “ سے فرشتے مراد ہیں (کہ اب وہ شیاطین فرشتوں کی باتوں کو نہیں سن سکتے ) ۔ آسمانی خبریں محفوظ ہیں : 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقذفون من کل جانب “ سے مراد ہے کہ ہر جانب سے ان پر (شعلے) پھینکے جاتے ہیں۔ (یعنی ان کو شعلوں کے ساتھ مارا جاتا ہے) ” دحورا “ دھتکارے ہوئے (آیت) ” ولھم عذاب واصب “ یعنی ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویقذفون من کل جانب دحورا “ سے مراد ہے کہ ان کو شعلوں کے ساتھ مارا جاتا ہے۔ (آیت) ” ولھم عذاب واصب “ اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے۔ 8:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” عذاب واصب “ سے مراد ہے ہمیشہ کا عذاب۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

سوائے اس شیطان کے جو اچک کرلے بھاگے تو اس کے پیچھے ایک شعلہ دہکتا ہوا الگ جاتا ہے

10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا من خطف الخطفۃ “ (مگر جو شیطان کچھ خبر لیکر بھاگے) یعنی مگر جو چوری چھپے بات کو سن لے فرشتوں کی آواز سے (آیت) ” فاتبعہ شھاب “ (پیچھے لگتا ہے) اس کے دہکتا ہوا شعلہ یعنی ستارے کہ اس کے شعلے اس کے پیچھے لگتے ہیں۔ 11:۔ ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ جب شعلہ مارا جاتا ہے تو خطا نہیں کرتا جس کو مارا جاتا ہے۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” فاتبعہ شھاب ثاقب “۔ 12:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاتبعہ شھاب ثاقب “ یعنی اگر جن آتا ہے اور چوری کرتا ہے، اور جب وہ چوری سے آواز سنتا ہے تو اس پر شعلہ پھینکا جاتا ہے مگر وہ (جلنے سے پہلے) اپنے ساتھ ملنے والے کو کہہ دیتا ہے کہ اس طرح اور اس طرح۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے یزید رقاشی (رح) سے (آیت) ” فاتبعہ شھاب ثاقب “ (دہکتا ہوا شعلہ) کے بارے میں روایت کیا کہ شیطان آسمان میں سوارخ کردیتا ہے یہاں تک کہ دوسری جانب سے نکل جاتا ہے یہ بات ابومجلز کو ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا وہ ایسا نہیں ہے لیکن اس کے ثقوب سے مراد اس کی روشنی ہے۔ 14:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” شھاب ثاقب “ سے مراد ہے اس کی روشنی جب الگ ہوتی ہے تو شیطان تک جا پہنچتی ہے۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الثاقب “ سے مراد ہے روشنی۔ 16:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن منذر (رح) نے قتادہ ؓ اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثاقب “ سے مراد ہے روشنی۔ 17:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثاقب “ سے مراد ہے جلانے والا۔
Ayahs 37:11–21

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

سو آپ ان سے دریافت کرلیجئے کیا وہ پیدائش کے اعتبار سے زیادہ سخت ہیں یا ہماری پیدا کی ہوئی دوسری چیزیں، بیشک انہیں ہم نے چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں اور وہ لوگ تمسخر کرتے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت کو نہیں سمجھتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب وہ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ہنسی اڑاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

کیا جب ہم مرجائیں گے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

کیا ہمارے پرانے باپ دادے بھی

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ہاں اور تم ذلیل ہوگے

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس وہ ایک للکار ہوگی سو یکایک وہ سب کھڑے دیکھ رہے ہوں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور یوں کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی یہ تو روز جزا ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من خلقنا “ (کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یعنی آسمان زمین اور پہاڑ (سخت ہیں بناوٹ میں) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (کیا دوسری مخلوق جن کو ہم نے پیدا کیا) یا وہ جن کا ہم نے تم پر شمار کیا (یعنی آسمان اور زمین کی پیدائش میں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” یخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش زیادہ بڑی ہے یعنی بھاری ہے لوگوں کی پیدائش سے) 3:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” اھم اشد خلقا ام من عددنا “ (کیا وہ زیادہ سخت ہیں پیدائش میں جن کو ہم نے شمار کیا) 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام من خلقنا “ (یا جن کو ہم نے پیدا کیا) اموات اور فرشتوں میں سے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من طین الازب “ سے مراد ہے مٹی چپکنے والی۔ 6:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من طین الازب “ کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے چپکنے والی مٹی پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نجے نابعہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ فلاتحسبون الخیر لا شر بعدہ ولا تحسبون الشرضریۃ لازب : ترجمہ : تم اسے خیرگمان نہیں کرتے نہیں کرتے جس کے بعد شر نہ ہو۔ اور تم شرگمان نہیں کرتے چپکنے والی مٹی کے ضرب سے۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من طین الازب “ میں لازب سے مراد ہے عمدہ۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من طین الازب “ سے مراد ہے لیسدار یعنی چپکنے والی مٹی۔ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” من طین الازب “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” لازب “ (چپکنے والی) حما (سیاہ کیچڑ) اور طین (مٹی) ایک ہی چیز ہے اس کا اول مٹی تھا پھر وہ بدبودار کیچڑ بن گیا پھر وہ چپکنے والی مٹی بن گئی تو اس میں سے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” اللازب “ وہ چیز ہے کہ اس کا بعض بعض کی طرف چپک جاتا ہے۔ 11:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” اللازب “ وہ چیز ہے جو ہاتھ کو چپک جاتی ہے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من طین الازب “ سے مراد ہے چپکنے والی بدبودار۔ 13:۔ فریابی (رح) و سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) اور حکم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو تاء کے رفع کے ساتھ پڑھتے تھے (آیت ) ” بل عجبت ویسخرون “ ( آپ کو تعجب ہوا اور وہ مذاق اڑا رہے ہیں) 14:۔ ابوعبید وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وبہیقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابو عمش کے طریق سے، شفیق بن سلمہ سے اور انہوں نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” بل عجبت ویسخرون “ تاء کے نصب کے ساتھ اور وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز سے تعجب نہیں فرماتے تعجب تو وہ کرتا ہے جو نہیں جانتا اعمش نے کہا میں نے یہ بات ابراھیم نخعی (رح) کو ذکر کی تو فرمایا کہ شریح کو اپنی رائے پر ناز تھا۔ جبکہ عبداللہ بن مسعود ؓ اس سے زیادہ جانتے والے تھے وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” بل عجبت “ 15:۔ ابوعبید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” بل عجبت “ پڑھا۔ 16:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” بل عجبت ویسخرون “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے تعجب کیا اللہ کی کتاب اور اس کی وحی سے (آیت ) ” ویسخرون “ (اور وہ مذاق کرتے ہیں) اس چیز کے ساتھ جو میں لے کر آیا۔ 17:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت ) ” بل عجبت “ کے بارے میں فرمایا کہ میں نے تعجب کیا جب قرآن نازل ہوا اور بنو آدم کے گمراہوں نے اس سے مذاق اڑایا۔ قرآن کریم کا مذاق اڑانا کفار کا شیوہ ہے : 18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بل عجبت “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ نے اس قرآن پر تعجب فرمایا جب ان کو عطا کیا گیا جبکہ گمراہ لوگوں نے اس کا مذاق اڑایا (آیت ) ” ویسخرون “ سے مراد ہے مکہ والے (آیت ) ” واذا ذکروا لا یذکرون “ (اور جب قرآن کے ذریعہ ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت نہیں ہوتی) یعنی نہ نفع حاصل کرتے ہیں اور نہ بصیرت (آیت ) ” واذا راوا ایۃ یستسخرون “ (اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو سب سے زیادہ مذاق کرتے ہیں) یعنی وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویسخرون “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں (آیت) ’ ’ فانماھی زجرۃ “ زجرہ کے معنی ہیں چیخ یعنی وہ ایک چیخ ہوگی۔ 20:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ فانماھی زجرۃ “ سے مراد ہے ایک نفخہ اور یہاں دوسرا نفخہ مراد ہے۔ 21:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن منذر (رح) اور ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا یوم الدین “ (یہ بدلہ کا دن ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اس میں بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق بدلہ دیں گے (آیت ) ” ھذا یوم الفصل “ (یہ فیصلے کا دن ہے) اس سے مراد ہے قیامت کا دن ہے۔
Ayahs 37:22–23

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو جمع کرلو اور ان معبودوں کو جن کی وہ لوگ عبادت کیا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

اللہ کو چھوڑ کر پھر انہیں دوزخ کا راستہ دکھادو۔

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (جمع کرلو ظالموں کو اور اس کے مشربوں کو) یعنی فرشتے کہیں گے زبانیہ سے (یعنی دوزخ کے فرشتوں سے) (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی وابن ابی شیبہ وابن منیع نے اپنی سند میں عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وحاکم وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) (فی البعث من طریق العفان بن بشیر) نے عمر بن خطاب ؓ سے (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے کہ ان کی مثل یعنی وہ لوگ جو ان کی مثل (یعنی ان کی طرح) کے ہوں گے۔ (وہ آپس میں اکھٹے کئے جائیں گے) سودوالوں کو سود والوں کے ساتھ، زنا کرنے والوں کو زنا کرنے والوں کے ساتھ، شراب پینے والوں کو شراب پینے والوں کے ساتھ جنت میں بھی ساتھی اور جہنم میں بھی ساتھ ہوں گے۔ 3:۔ الفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم و بیہقی (رح) نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ یعنی ان کے مشابہ لوگوں اور ایک روایت میں اشباھم کے بجائے نظرأھم کے الفاظ ہیں (یعنی مشابہ) 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ اور عکرمہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ سے مراد ہے اعمال میں ان کے مشابہ یعنی ان کے اعمال ایک جیسے ہوں گے) اور یہ آیات پڑھیں (آیت ) ” وکنتم ازواجا ثلاثۃ “ (الواقعہ) (اور تم میں جماعتیں ہوں گی) (آیت) ” فاصحب المیمنۃ “ (دائیں ہاتھ والے) ایک جماعت ہوگی (آیت ) ” واصحاب المشئمۃ “ اور بائیں ہاتھ والے ایک جماعت ہوگی (آیت) ” والسبقون “ (اور آگے بڑھنے والے) ایک جماعت ہوگی۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ کہ ان کی مثالیں ہیں جیسے : قاتل قاتلوں کے ساتھ، زنا کرنے والے زنا کرنے والوں کے ساتھ، اور سود کھانے والا سود کھانے والوں کے ساتھ ہوگا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ سے مراد ہے کہ ان کے مشابہ کفار میں سے کفار کے ساتھ ہوں گے (آیت ) ” وما کانوا یعبدون (22) من دون اللہ “ (اور جس چیز کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے یعنی بتوں کو (وہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے) 8:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاھدوھم الی صراط الجحیم “ (کہ ان کو دوزخ کی راہ بتادو) یعنی ان کو ہانک کرلے جاؤ۔ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاھدوھم “ یعنی ان کی رہنمائی کرو (آیت ) ” الی صراط الجحیم “ جہنم کے راستہ طرف۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور انہیں ٹھہراؤ بیشک ان سے سوال کیا جائے گا

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقفوھم انہم مسؤلون “ (ان کو ٹھہراؤ کہ ان سے باز پرس ہوگی) یعنی ان کو روک لو کہ ان کا حساب کیا جائے گا۔ 2:۔ البخاری فی التاریخ والترمذی والدارمی وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس داعی نے بھی کسی چیز کی طرف بلایا ہوگا تو وہ قیامت کے دن روکا جائے گا وہ اس کے ساتھ چمٹا ہوگا اس سے جدا نہیں ہوگا اگرچہ ایک آدمی نے دعوت نہ دی ہوگی دوسرے آدمی کو پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” وقفوھم انہم مسؤلون “۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقفوھم انہم مسؤلون “ یعنی وہ ٹھہریں گے قیامت کے دن یہاں تک یہ ان کے اعمال کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عثمان بن زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ سب سے پہلے بندے سے قیامت کے دن اس کے ہم مجلس لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔