37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsانوار البیان

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف باندھنے والوں کی پرا جما کر

(37:1) والصفت صفا۔ وائو قسم کے لئے ہے۔ لغات القرآن میں اقسم کے محاذ قسم کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے : میں قسم کھاتا ہوں۔ اقسام سے جس کے معنی قسم کھانے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ یہ در اصل قسامۃ سے ماخوذ ہے۔ قسامۃ وہ قسمیں ہیں جو مقتول کے ولیوں کو دی جاتی ہیں (پھر مطلق قسم کے معنی میں استعمال ہونے لگا) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کی قسمیں کھائیں ہیں :۔ (1) اپنی ذات مقدسہ کی۔ (2) اپنے افعال حکیمانہ کی۔ (3) اپنی مخلوق کی۔ مخالفین جو قرآن مجید پر اعتراض کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ نے قسمیں کیوں کھائیں ہیں ؟ یہ اعتراض طرح طرح کی رنگ آمیزیوں کے ساتھ مختلف طور پر دہرایا جاتا رہتا ہے لیکن قسم کی حقیقت اور اس کی تاریخ پر ذرا غور و فکر کی زحمت گوارا کی جاتی تو یہ عقدہ خود بخود حل ہوجاتا۔ اصل میں قسم کا استعمال ابداء اس طرح شروع ہوا کہ جب کوئی اہم واقعہ بیان کیا جاتا تو اس کی صحت اور تصدیق کے لئے کسی شخص کی گواہی پیش کی جاتی۔ یہی طریقہ جب بڑھنے لگا۔ تو انسان کے علاوہ حیوانات اور جمادات کی شہادت بھی معرض ثبوت میں آنے لگی۔ مثلاً ہم خود اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ درو دیوار اس بات پر شاہد ہیں۔ آسمان زمین اس امر پر گواہ ہیں “ اس نے جنگ میں جس جانبازی کے جوہر دکھائے میدان جنگ اس کی گواہی دے سکتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ عربی زبان میں اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔ اس قسم کی شہادتوں کے پیش کرنے سے اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ چیزیں زبان حال سے اس کی شاہد ہیں۔ یعنی اگر ان میں بھی بولنے کی سکت ہوتی تو ضرور کہہ اٹھتیں کہ ہاں یہ واقعہ سچ ہے۔ یہی طریقہ آگے چل کر قسم کے معنی میں بھی مستعمل ہونے لگا۔ چناچہ قرآن مجید میں شہادت کا لفظ قسم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سورة منافقون میں ارشاد ہے :۔ اذا جاءک المنفقون قالوا نشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ اتخذوا ایمانہم جنۃ (63:1 ۔ 2) منافقین جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ بیشک تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ بیشک تو اس کا رسول ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں۔ انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے۔ آیت مذکور میں منافقین کے الفاظ میں قسم کا کوئی لفظ مذکور نہیں ہے صرف شہادت کا لفظ مذکور ہوا ہے قرآن مجید نے اس شہادت کو قسم قرار دیا ہے اسی کا اثر ہے کہ آج ہم بھی اپنی زبان میں قسم کھاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اللہ جانتا ہے ” خدا گواہ “ ہے۔ خدا شاہد ہے۔ عربی زبان نے جب وسعت اختیار کی تو بعض حروف قسم کے ساتھ خاص ہوگئے۔ جیسے وائو۔ ب۔ ت ۔ واللہ۔ باللہ۔ تاللہ۔ اور کہیں صاف لفظ قسم ہوتا ہے اور کبھی لا کے ساتھ آتا ہے (یہ لا تاکید کے لئے ہوتا ہے) لا اقسم۔ اور کبھی جملہ پر لام لا کر قسم کھائی جاتی ہے جیسے لعمرک۔ اب قسم کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے ایک یہ کہ جب کوئی چیز بیان کی جائے تو اس کے ثبوت پر کوئی شہادت پیش کی جائے خواہ وہ شہادت ذی روح کی ہو یا غیر ذی روح کی ہو۔ بزبان حال ہو یا بزبان قال۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز کی توثیق وثبات کے لئے کسی عظیم الشان شے یا کسی عزیز چیز کی قسم کھائی جائے یہ دوسرے معنی قسم کے حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ مجازی ہیں جو بعد میں چل کر پیدا ہوگئے ۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کے لئے قسم کا لفظ آیا ہے پہلے معنی کے لحاظ سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت کثرت سے شمس وقمر، لیل ونہار۔ ابر وباد۔ کوہ وصحرا۔ چرند پرند۔ دریا و سمندر۔ غرض جابجا تمام مظاہر قدرت کی نسبت آیت کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں۔ جن چیزوں کو اکثر مواقع پر آیات کے لفظ سے تعبیر کیا ہے انہی کی جا بجا قسم بھی کھائی ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ تمام چیزیں اس کے وجود اور عظمت اور شان پر شہادت دے رہی ہیں اور اس کی قدرت پر گواہ ہیں۔ الصفت۔ پرا باندھے۔ صف بستہ۔ صف باندھنے والیاں۔ پر کھولے ہوئے۔ صف سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ صافۃ کی جمع۔ صفا مفعول بہ ہے اور مفرد بمعنی جمع آیا ہے ای الصفت صفوفھا۔ اپنی صفیں باندھنے والیاں۔ یا یہ مصدر موکدہ ہے۔
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ڈانٹنے والوں کو جھڑک کر

(37:2) فالزجرات زجرا۔تعقیب کا ہے۔ زاجرات اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے ڈانٹنے والیاں۔ الزجر اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں جیسے فانماھی زجرۃ واحدۃ (79:13) اور قیامت تو ایک ڈانٹ ہے۔ پھر کبھی یہ صرف دھتکار دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آواز کے لئے۔ زجرا مصدر موکدہ ہے۔
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کو (غور کر کر)

(37:3) فالتلیت ذکرا۔تعقیب کا ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث تلاوۃ سے (باب نصر) مصدر۔ ذکر سے مراد ذکر اللہ ہے۔ یعنی ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والیاں ذکرا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ اور تنکیر تفخیم کے لئے ہے۔ فائدہ (1): ۔ آیات 2: و 3: میںتعقیب وجود کے لئے ہے۔ یعنی پہلے صف بستہ ہوتے ہیں۔ پھر زجر کرتے ہیں۔ پھر تلاوت کرتے ہیں۔ صفت بندی بجائے خود صفت کمالیہ ہے ۔ پھر شر سے باز داشت کرنی اور خیر کی طرف چلانا صفت اول کی تکمیل ہے ! اور تلاوت ذکر فیض رسانی کا درجہ رکھتی ہے۔ یا عطف صرف ترتیب و ترقی کے لئے ہے جیسے آیت ثم کان من الذین امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ (90:17) میں عطف صرف ترتیب و ترقی کے لئے ہے (تفسیر مظہری) ۔ فائدہ : (2) تینوں جملوں (آیات 1 ۔ 2 ۔ 3) میں حرف عطف کا لانا ذوات یا صفات کے اختلاف پر دلالت کرتا ہے (معطوف معطوف علیہ میں تغایر ضروری ہے اس لئے مذکورہ فقروں میں یا تو ذوات کا اختلاف ہے یا صفات کا۔ صف بستہ ہونا اور زجر کرنا اور تلاوت ذکر کرنا۔ تینوں صفات جدا جدا ہیں) ( ایضا) ۔ فائدہ : (3) آیات (1 ۔ 2 ۔ 3 ۔ ) میں الصفت۔ الزجرات۔ التلیت کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) ان سے مراد ملائکہ ہیں جو (مقام عبدیت میں نمازیوں کی صفوں کی طرح ) صفت بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ یا پر پھیلائے اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں اور جو تکوینی امور کی تکمیل کے لئے مقرر ہیں اور ہوا۔ بادل، بارش، مہر وماہ، کواکب وسیارے وغیرہ پر متعین ہیں اور حکم خداوندی کے مطابق ان کو چلانے کے لئے ان کو روکنے اور چلانے پر، ان پر زجرو توبیخ سے حکم ماننے پر مجبور کرنے کے لئے مقرر ہیں۔ اور وہ فرشتے جو ذکر اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور ان آیات کو تلاوت کرتے رہتے ہیں جو آسمانی کتب میں انبیا پر نازل کی گئی ہیں۔ الصفت۔ الزجرات۔ التلیت تینوں اسم فاعل جمع مؤنث کے صیغے ہیں۔ اور یہ الملئکۃ کی رعایت لفظی کی وجہ سے بصیغہ تانیث آئے ہیں ورنہ ملائکہ تذکیرو تانیث سے مبرا ہیں۔ (2) الصفت، الزجرات، التلیت۔ سے مراد نفوس علما ہیں کہ نمازوں میں صفت بستہ ہوتے ہیں دلائل کی روشنی میں کفرو معاصی سے روکتے ہیں اور آیات رب کی تلاوت کرتے ہیں۔ (3) ان سے مراد جہاد فی سبیل اللہ میں قائدین کے گروہ ہیں جو میدان رزم میں صفیں باندھ کر نکلتے ہیں، جو آگے بڑھ کر کفار پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے گھوڑوں اور دشمنوں کو زجر کرتے ہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور یاد خدا سے غافل نہیں ہوتے ۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

کہ تمہارا معبود ایک ہے

(37:4) ان الہکم لواحد۔ یہ جملہ جواب قسم میں ہے جو سابقہ تین آیات میں اٹھائی گئی ہیں۔ ان حرف مشبہ بہ فعل۔ الہکم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان۔ لواحد خبر ان۔ کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ منصوب بوجہ عمل ان۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان میں ہیں سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی مالک ہے

(37:5) رب السموت والارض وما بینہما۔ یہ ان کی خبر ثانی ہے۔ یا واحد کا بدل ہے۔ یعنی اور وہ ان آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا پروردگار ہے۔ یا الہ واحد وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا ۔۔ اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا پروردگار ہے۔ ورب المشارق۔ اس کا جملہ سابقہ پر عطف ہے اور وہ مشرقوں کا پروردگار ہے المشارق صیغہ جمع اختلاف مطالع کے اعتبار سے ہے ہر روز طلوع آفتاب کا زاویہ دوسرے دن سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ہے اور اس طرح سال کے 365 مشرق ہوئے۔ اس طرح 365 مقامات مغرب ہوں گے۔ محض مشارق پر اکتفاء کر کے مراد دونوں لئے گئے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ :۔ انہ اکتفی بذکر المشارق لقولہ تقیکم الحر (16:81) یعنی اس نے المشارق پر ہی اکتفا کیا ہے جیسا کہ آیت وجعل لکم سرابیل تقیکم الحر میں۔ آیت کا ترجمہ ہے :۔ اور تمہارے لئے وہ پیراہن بنائے (از قسم قمیص) جو تم کو گرمی سے بچاتے ہیں (حالانکہ پیراہن گرمی اور سردی دونوں سے بچاتے ہیں) ۔ ویسے قرآن مجید میں برب المشرق والمغرب (70:40) آیت رب المشرقین ورب المغربین (55:17) تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ مشرقین سے مراد جاڑے اور گرمی کی فصلوں میں سورج کے طلوع ہونے یا غروب ہونے کا آخری مقام (ان دونوں کے مابین طلوع یا غروب ہونے کے باقی سارے مقامات بھی آگئے ) ۔ مشرق، مشرقین، مشارق کی تشریح کرتے ہوئے صاحب المفردات امام راغب لکھتے ہیں : المشرق والمغرب جب مفرد ہوں تو ان سے شرقی اور غربی جہت مراد ہوتی ہے۔ اور جب تثنیہ ہوں تو موسم سرما اور گرما کے دو مشرق اور دو مغرب مراد ہوتے ہیں ! اور جب جمع کا صیغہ ہو تو ہر روز کا مشرق اور مغرب مراد ہوتا ہے۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا

(37:6) زینا۔ ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر ہم نے زینت دی ۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے رونق دی۔ السماء الدنیا۔ موصوف وصفت مل کر مفعول ہے زینا کا نزدیک کا آسمان یعنی وہ آسمان جو بہ نسبت دوسرے آسمانوں کے زیادہ قریب ہے۔ دنیا ادنی سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ! بزینۃ ن الکواکب، نون قطنی ہے الکواکب بدل ہے زینۃ سے اگر اضافت سے پڑھا جائے تو زینۃ الکواکب اضافت بیانیہ ہے۔ ہم نے آسمان دنیا کو سجایا ہے زینت کے ساتھ یعنی ستاروں سے یا ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کے سنگھار سے سجایا ہے ! (یہاں ایک حسی اور بدیہی امر کی طرف اشارہ ہے۔ علم الافلاک کی یہاں کوئی بحث نہیں ہے بادی المنظر میں نیلے آسمان کے پس منظر میں چمکتے ہوئے ستارے وجہ تزیین و آرائش ہی معلوم ہوتے ہیں۔ فکان اجرام النجوم لوامعا۔ درر نثرن علی بساط ازرق (اجرام فلکی جھلملاتے ہوئے موتی ہیں جو آسمان کی نیلی بساط پر بکھرے ہوئے ہیں) ۔
Ayah 37:7

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی

(37:7) وحفظا۔ وائو عاطفہ ہے حفظاً مصدر ہے منصوب بوجہ مفعول مطلق ہے جس کا فعل محذوف ہے ای حفظناھا حفظا۔ یا باعتبار معنی یہ معطوف ہے اور اس کا عطف زینۃ پر ہے اس معنی میں یہ مفعول لہ ہے کانہ قیل : انا خلقنا الکواکب زینۃ للسماء وحفظالھا (بےشک ہم نے ستاروں کو آسمان کے لئے زینت اور باعث حفاظت پیدا کیا ہے۔ من کل شیطن مارد۔ من حرف جار ہے کل افرادی ہے جو ہمیشہ نکرہ مفردہ کی طرف مضاف ہوتا ہے جس کا ترجمہ ہوتا ہے ہر ایک : شیطن مارد موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ، ہر سرکش شیطان سے۔ یہ جملہ حفظا سے متعلق ہے۔ مارد بمعنی سرکش۔ شریر۔ مرد یمرد (باب نصر) مرود مصدر سے ہے شیطن مارد۔ سرکش، شریر شیطان۔ مرد کے ساتھ جب علی صلہ کے طور پر آئے تو استمرار ، ہمیشگی اور عادی ہونے کا مفہوم پیدا ہوتا ہے جیسے ومن اھل المدینۃ مردوا علی النفاق (9: 101) اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بعض نفاق پر اڑ گئے ہیں یعنی جم گئے ہیں۔ اسی مادہ مرد سے باب سمع سے مرد یمرد تمرید ہے اور مرد الشیء کسی چیز کو ہموار وصیقل کرنا۔ اور اسی سے ممرد چکنا۔ ہموار۔ صاف ہے، قرآن مجید میں ہے قال انہ صرح ممرد من قواریر (27:44) اس (حضرت سلیمان علیہ السلام) نے کہا۔ یہ تو ایک محل ہے شیشوں سے بنایا ہوا۔
Ayah 37:8

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

کہ اوپر کی مجلس کی طرف کان نہ لگا سکیں اور ہر طرف سے (ان پر انگارے) پھینکے جاتے ہیں

(37:8) لا یسمعون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب وہ کان نہیں لگا سکتے۔ وہ کان لگا کر سن نہیں سکتے۔ یسمعون اصل میں تسمع (تفعل) سے تھا۔ ت کوس میں مدغم کیا گیا ہے۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کل شیطن (بمعنی الشیاطین) کی طرف راجع ہے۔ الملا الاعلی۔ الملا۔ اسم جمع معرف باللام مجرور ۔ جماعت۔ اس سے مراد فرشتوں کی جماعت ہے یا ملائکہ کے سردار جن سے امور عالم کے انتظام کا تعلق ہے اس کے مقابلہ میں الملا الاسفل یعنی جن وانس کی جماعت۔ یقذفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب۔ قذف مصدر (باب ضرب) ان پر (انگارے) پھینک کر مارے جاتے ہیں۔ ان پر پتھرائو کیا جاتا ہے۔ ان پر دہکتے ہوئے شعلے مارے جاتے ہیں۔ وہ دھتکارے جاتے ہیں۔ القذف کے معنی پھینکنے کے ہیں۔ مثلاً فاقذفیہ فی الیم (20:39) پھر تو اس کو دریا میں ڈال دے (پھینک دے) ۔ اور بل نقذف بالحق علی الباطل (21:18) بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر کھینچ مارتے ہیں استعارہ کے طور پر کسی پاکدامن عورت پر زنا کا عیب لگانے کو بھی قذف کہتے ہیں۔
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

(یعنی وہاں سے) نکال دینے کو اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

(37:9) دحورا۔ دحر یدحر (فتح) کا مصدر ہے ، بھگانا۔ ہانکنا۔ دھتکارنا۔ یقذفون کا مفعول لہ ہے وقذف کی علت، ای یقذفون للدحور۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ اخرج منھا مذء وما مدحورا (7:18) نکل جا یہاں سے ذلیل اور دھتکارا ہوا۔ عذاب واصب۔ موصوف وصفت واصب اسم فاعل واحد مذکر وصب یصب (ضرب) وصوبا مصدر سے جس کے معنی ہیں دائم رہنا۔ یعنی ہمیشہ رہنے والا۔ عذاب، دائمی عذاب۔ اسی مادہ سے وصب یوصب وصبا (سمع ) بمعنی بیمارہونا ہے۔ فائدہ : آیات 8 ۔ 9 ۔ میں لا یسمعون۔ یقذفون اور ولہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کل شیطان (بمعنی الشطین) آیت 7) کی طرف راجع ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

ہاں جو کوئی (فرشتوں کی کسی بات کو) چوری سے جھپٹ لینا چاہے تو جلتا ہوا انگارہ ان کے پیچھے لگتا ہے

(37:10) الا من۔ الا۔ لا یسمعون کی وائو سے استثناء متصل ہے اور من اس سے بدل ہے ای لا یسمع الشلطین الا الشیطن الذی خطف الخطفۃ یعنی شیاطین (عالم بالا کی باتوں کو) کان لگا کر نہیں سن سکتے۔ الا مگر وہ شیطن (جو ان میں سے کچھ) لے ہی اڑے خطف (باب سمع) خطفۃ وخطف مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس نے اچک لیا۔ الخطفۃ جھپٹنا۔ عضو۔ جس کو درندہ جھپٹا مار کر جسم سے اتار لے جائے۔ یا انسان کسی زندہ جانور سے کاٹ لے۔ الخطفۃ۔ خطف یخطف کا مصدر ہے نصب بوجہ مصدر کے ہے یا کہ بوجہ مفعول بہ ہونے کے۔ فاتبعہ۔ میںتعقیب کا ہے اتبع اتباع (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب من موصولہ کی طرف راجع ہے تو اس کے پیچھے لگ گیا۔ شھاب ثاقب۔ موصوف وصفت، شھاب کے معنی بلند شعلہ کے ہیں۔ خواہ وہ جکتی ہوئی آگ کا ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے۔ اس کی جمع اشھب شھب شھبان ہے۔ ثاقب۔ صیغہ اسم فاعل واحد مذکر۔ ثقوب مصدر۔ الثاقب اتنا روشن کہ جس چیز پر اس کی کرنیں پڑیں اس میں چھید کرتی پار گذر جائیں۔ الثاقب اصل میں ثقبۃ سے ہے جس کے معنی سوراخ کے ہیں۔ شھاب ثاقب ایک تیز روشن شعلہ۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

تو ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا مشکل ہے یا جتنی خلقت ہم نے بنائی ہے ؟ ان کا انہیں ہم نے چپکتے ہوئے گارے سے بنایا ہے

(37:11) فاستفتہم۔ استفت۔ استفتاء (استفعال) سے فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ الاستفتاء کے معنی الاستخبار عن امر حدث۔ کسی نئے امر کے متعلق خبر دریافت کرنا۔ نوجوان کو فتی اس کی نئی نئی جوانی کے لحاظ سے کہتے ہیں۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ خطاب یہاں نبی کریم ﷺ سے ہے۔ تو ان سے پوچھ ۔فصیحت کا ہے اور تعقیب کا بھی ہوسکتا ہے۔ اشد۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ سخت۔ زیادہ مضبوط۔ زیادہ مشکل۔ خلقا۔ منصوب بوجہ تمیز کے ہے۔ یعنی ازوجہ پیدائش۔ بطور پیدائش۔ ام من خلقنا۔ ام حرف عطف ہے بمعنی یا۔ من موصولہ ہے خلقنا اس کا صلہ یا وہ (دوسری مخلوق ) جس کو ہم نے پیدا کیا ہے از قسم ملائکہ۔ جن ۔ آسمان ، زمین ۔ وما بینہما۔ سورج۔ چاند ۔ ستارے۔ وغیرہ۔ انا خلقنہم۔ میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے۔ طین لازب۔ موصوف وصفت۔ طین پانی میں ملی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں گو اس سے پانی کا اثر زائل ہی کیوں نہ ہوجائے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فاوقد لی یا ھامان علی الطین (28:38) اے ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگا کر (اینٹیں) پکادو۔ لازب اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر شدت سے ثبت ہوجائے اور چمٹ جائے۔ لازب۔ لزب لزوب (باب کرم، نصر ضرب) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بمعنی چپکنے والا۔ لیسدار۔ لازم ، جم جانے والا۔ طین لازب۔ لیسدار گارا۔ چپکنی مٹی۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

ہاں تم تو تعجب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں

(37:12) بل۔ صاحب روح المعانی (رح) رقمطراز ہیں :۔ کہ بل اضراب کے لئے ہے۔ لیکن علامہ پانی پتی (رح) تفسیر مظہری میں فرماتے ہیں :۔ بل ابتدائیہ ہے کلام سابق سے گریز کے لئے نہیں ہے بلکہ ایک مقصد سے دوسرے مقصد کی جانب انتقال مطلوب ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ اور کفار کی حالت بیان کرنا ہے “ یعنی ایک طرف تعجب اور دوسری طرف مذاق و تمسخر۔ عجبت۔ عجب یعجب (سمع) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو نے تعجب کیا۔ تو نے اچنبھا جانا۔ یا بمعنی حال ۔ تو تعجب کرتا ہے۔ تو اچنبھا جانتا ہے۔ عجب اس حالت کو کہتے ہیں کہ جو کسی غیر معمولی بات کو دیکھنے سے انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ عجیب میں بھی یہی حالت مراد ہوتی ہے۔ لفظ عجب کا اطلاق صرف حالت پر مبنی ہی نہیں ہے بلکہ غیر معمولی چیز پر بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم (10:2) کیا یہ امر لوگون کے لئے عجیب ہے کہ ان میں سے ایک شخص کے پاس ہم نے وحی بھیجی ہے۔ مادہ عجب کا زیادہ تر استعمال و اطلاق زیادہ تر ان چیزوں یا باتوں کے لئے ہوتا ہے جو آدمی کو بہت زیادہ حسین نظر آئیں اور پسندیدہ ہوں۔ اعجبنی کذا۔ مجھے یہ بات بہت پسند آئی۔ (خوبصورت معلوم ہوئی) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :۔ ومن الناس من یعجبک قولہ (2:204) اور لوگوں میں ایسا آدمی ہے جس کی بات تجھ کو پسند آتی ہے یا اعجب الکفار نباتہ (57:20) کسانوں کو اس کا سبزہ خوش لگا ۔ یا عجب ربکم من شاب : تمہارے رب کو نوجوان کی یہ بات بہت پسند آئی۔ اور اگر کوئی امر بہت برا معلوم ہو تو اس کے لئے بھی لفظ عجب استعمال ہوتا ہے مثلاً عجبت من بخلک وحرصک۔ مجھے تیری کنجوسی اور حرص بہت بری معلوم ہوتی ہے ۔ شاعر کہتا ہے :۔ شیئان عجیبان ہما ابرد من یخ شیخ یتصبی وصبی یتشیخ دو باتیں عجیب (بڑی ناپسندیدہ ) ہیں دونوں برف سے زیادہ ٹھنڈی ہیں۔ ایک وہ بوڑھا جو بچہ بنتا ہے اور دوسرا وہ بچہ جو بوڑھا بنتا ہے۔ اور کبھی کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لئے صیغہ تعجب استعمال کیا جاتا ہے (خواہ وہ برائی کی کثرت ہو یا اچھائی کی) جیسے ما اکرمہ وہ کس قدر سخی ہے اور ما اجھلہ وہ کس قدر جاہل ہے۔ ان مثالوں کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت اور جہالت غیر معمولی اور بےمثال ہے ۔ بعض علماء کے نزدیک کسی چیز کا سبب نہ جاننے کے وقت آدمی کی جو حالت ہوتی ہے اس کو عجب کہتے ہیں۔ اس بنیاد پر عجب کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم محیط کل ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ کسی چیز کو بڑا جاننے کے وقت آدمی کی جو حالت ہوجاتی ہے اس کو عجب کہتے ہیں۔ ان دونوں تشریحوں کا مآل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ دونوں کا مطلب وہی نکلتا ہے جو پہلے ذکر کردیا گیا ۔ کہ غیر معمولی چیز کو دیکھنے سے انسان کی جو حالت ہوتی ہے اس کو عجب کہتے ہیں۔ کیونکہ آدمی بڑا اس چیز کو سمجھے گا جو غیر معمولی ہوگی اور جس چیز کا سبب معلوم نہ ہو وہ بھی غیر معمولی ہوتی ہے (تفسیر مظہری) ۔ عجبت میں خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے اس تعجب اور کفار مکہ کے مذاق کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً :۔ (1) آپ کو یقین تھا کہ قرآن جیسی منزل من اللہ کتاب جو معجزہ سے کم نہیں اس کو سن کر ہر سننے والا ایمان لے آئے گا۔ لیکن آپ کو تعجب ہے کہ یہ مشرکین نہ صرف ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا مذاق کرتے ہیں۔ (2) باوجودیکہ یہ لوگ آپ کو صادق وامین مانتے ہیں اور آپ کی صداقت کے بارہ میں معجزات بھی دیکھ چکے ہیں۔ (مثلاً شق القمر وغیرہ) لیکن تعجب ہے کہ پھر بھی آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کی باتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں :۔ (3) باوجودیکہ خداوند تعالیٰ کی قدرت کے نمونے از قسم تخلیق زمین و آسمان ، ماہ ہ مہر، ملائکہ جن وانس۔ ان کی نظروں کے سامنے ہیں اور وہ یہ مانتے بھی ہیں کہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں لیکن تعجب ہے کہ بعث بعد الموت کے منکر ہیں۔ (4) آپ کے تعجب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یسخرون۔ مضارع جمع مذکر غائب سخر (باب سمع) سے مصدر، وہ مذاق بناتے ہیں وہ ٹھٹھہ کرتے ہیں۔
Ayah 37:13

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے

(37:13) ذکروا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب ماضی بمعنی حال۔ ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹھے کرتے ہیں

(37:14) ایۃ۔ نشانی ۔ دلیل۔ معجزہ، حکم خداوندی۔ آیت، یعنی جب اثبات رسالت کے متعلق ان کو جو معجزہ دکھایا جاتا ہے یا دلیل دی جاتی ہے اس کو یہاں ایۃ کہا گیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اس سے مراد شق القمر کا معجزہ ہے۔ یستسخرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استسخار (استفعال) مصدر سے وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ باب استفعال یا مبالغہ کے لئے آیا ہے ای یبالغون فی السخریۃ ویقولون انہ سحر (مذاق اڑانے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے ) یا طلب مادہ کے لئے ہے ای یطلب بعضہم من بعض ان یسخر منھا ایک دوسرے کو اس معجزہ کا مذاق اڑانے کے لئے کہتے ہیں :۔
Ayah 37:15

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے

(37:15) ان ھذا۔ میں ان نافیہ ہے ھذا ما یرونہ جو وہ دیکھ رہے ہیں (یعنی معجزہ) ۔
Ayah 37:16

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے ؟

(37:16) ء اذا متنا وکنا ترابا عظاماء انا لمبعوثون۔ اصل میں عبارت ہے :۔ انبعث اذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔ متن میں جملہ فعلیہ کی بجائے جملہ اسمیہ کو انکار کے لئے لایا گیا ہے۔ اور اذا ظرف زمان کو مقدم کیا گیا ہےء اذا ہمزہ استفہامیہ انکاریہ ہے اس انکار کی تاکید کے لئےء انا میں ہمزہ استفہامیہ مکرر لایا گیا ہے۔ یہ ان کی شدت انکار کی حالت کے اظہار کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک دوبارہ جی اٹھنا ہی فی نفسہ محال اور ناممکن تھا۔ اور مرنے کے گل سڑ کر جب جسم خاک بن جائے گا۔ اور ہڈیاں ہی ہڈیاں رہ جائیں گی تو اس صورت میں تو یہ بدرجہ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ لمبعثون میں بھی لام تاکید کا ہے۔
Ayah 37:17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے باپ دادا بھی (جو) پہلے (ہو گزرے ہیں ؟ )

(37:17) او اباء نا الاولون۔ ای أ انا لمبعوثون او اباء نا الاولون مبعوثون ایضا۔ یعنی کیا ہم کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور ہمارے اگلے باپ دادا بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے (جن کو مرے ہوئے مدت مزید گزر گئی ہے) اس جملہ کا عطف جملہ سابقہء انا لمبعوثون پر ہے۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہاں اور تم ذلیل ہو گے

(37:18) قل نعم کہہ دیجئے ہاں (ضرور) ای تبعثون انتم واباء کم الاولون کہ تم بھی دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائوں گے اور تمہارے اگلے باپ دادا بھی۔ وانتم داخرون۔ وائو حالیہ ہے انتم سے انتم واباء کم الاولون مراد ہیں یعنی تم اور تمہارے باپ دادا۔ داخرون۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ دخر، دخور مصدر (باب فتح وسمع) ذلیل ہونا۔ داخرون ذلیل ہونے والے۔ یہ جملہ حالیہ ہے یعنی جب تم کو دوبارہ اٹھایا جائے گا تو تمہاری حالت ذلت و خواری کی ہوگی !
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے

(37:19) فانماھی زجرۃ واحدۃجواب شرط کے لئے ہے جو کہ مقدرہ ہے ای اذا کان کذلک فماھی الا زجرۃ واحدۃ۔ جب قیامت آئے گی تو یہ صرف ایک زبردست کڑک ہوگی۔ ھی کی ضمیر واحد مؤنث غائب بعثت کی طرف راجع ہے جس کا ذکر چل رہا ہے۔ زجرۃ سخت آواز، کڑک دار آواز، جھڑکی، ڈانٹ ڈپٹ۔ زجر کا لغوی معنی ہے ہنکا کر نکال دینا۔ اور چیخ کر روک دینا۔ مثلاً کہتے ہیں :۔ زجر الراعی غنمہ چروا ہے نے ڈانٹ کر بکریوں کو روک دیا۔ اس سخت آواز (نفخہ دوم : صور کا دوسری دفعہ پھونکا جانا) کا نتیجہ فورا اس طرح سامنے آئے گا جس طرح (اول نفخہ) سخت آواز کا نتیجہ نمودار ہوا ہوگا۔ یعنی نفخہ اول کے بعد سب فورا مرجائیں گے۔ اور نفخہ دوم کے بعد فورا سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ! فاذاہم ینظرون۔ فاذا مفاجاتیہ ہے اور لو وہ دیکھ رہے ہوں گے یعنی ایک کڑک دار آواز ہوگی اور لوگ یکایک قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور قیامت کے منظر کو اپنی آنکھوں کے سامنے ) دیکھ) رہے ہوں گے۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے ہائے شامت یہی جزا کا دن ہے

(37:20) یویلنا۔ کلمہ حسرت و ندامت ، ہائے افسوس، ہائے ہماری موت، ہائے ہماری تباہی۔ یا تنبیہ کے لئے ہے۔ ویل کا معنی ہلاکت، تباہی، رسوائی۔ یوم الدین۔ مضاف مضاف الیہ، جزا وسزا کا دن۔ دین۔ دان یدین کا مصدر (باب ضرب) ہے وان بالملۃ الاسلامیۃ۔ دین اسلام قبول کرنا۔ دین کثیر المعانی لفظ ہے ۔ جزا، اطاعت، شریعت ۔ بدلہ دینا۔ اطاعت کرنا۔ حکم ماننا۔ شریعت کی اطاعت و فرمانبرداری دین کہلاتی ہے ! یہاں اس آیت میں روز جزا وسزا مراد ہے۔ جس روزاعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

کہا جائے گا ہاں فیصلے کا دن جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے یہی ہے

(37:21) ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون۔ یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک توبیخ و تقریع (جھڑک و ملامت) کے طور پر ملائکہ کا کلام ہے جو کفار کے یویلنا ھذا یوم الدین کے جواب میں دیا گیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک انہی کا کلام ہے۔
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جو لوگ ظلم کرتے تھے ان کو اور ان کے ہم جنسوں کو اور جن کو وہ پوجا کرتے تھے (سب کو) جمع کرلو

(37:22) احشروا۔ حشر یحشر (باب نصر) حشر مصدر سے فعل امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ تم اکٹھا کرو ! ازواجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ازواج ۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اس سے مراد کفار کے ہم مشرب لوگ ہیں جو انہی کی طرح ہیں۔ یعنی سود خوار سود خواروں کے ساتھ، شرابی شرابیوں کے ساتھ۔ زانی زانیوں کے ساتھ۔ وغیرہ وغیرہ۔ (2) حضرت حسن بصری (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافروں کی مشرک بیبیاں ہیں۔ (3) کافروں کے چیلے اور پیروکار۔ ما کانوا یعبدون۔ میں ما موصولہ ہے۔ احشروا۔۔ مسئولون۔ یہ اللہ کا ملائکہ کو حکم ہے۔
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

(یعنی جن کو) خدا کے سوا (پوجا کرتے تھے) پھر ان کو جہنم کے راستے پر چلا دو

(37:23) اھدوہم۔ ھدایۃ سے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ہم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہے۔ ان کو راستہ دکھلائو۔ ان کو راہ بتلائو۔ ان کو لے جائو۔ ہدایت کے اصل معنی فائدہ مند راہ بتلانے کے ہیں۔ لیکن یہاں نہکم (طنزا و استہزاء ) اس کا استعمال ہوا ہے جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فبشرہم بعذاب الیم (9:34) ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔ صراط الجحیم۔ (مضاف مضاف الیہ ) دوزخ کا راستہ۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو ٹھہرائے رکھو کہ ان سے (کچھ) پوچھنا ہے

(37:24) وقفوہم۔ وائو عاطفہ ۔ قفوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر وقف اور وقوف مصدر۔ (باب ضرب) سے وقف فعل ثلاثی مجرد ۔ (مثال واوی) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کا مضارع باب ضرب سے یوقف ہوگا۔ مثال کے قاعدہ کے مطابق :۔ ” کہ مضارع حاضر معروف کی علامت مضارع کو حذف کیا جاوے۔ اگر اس کا مابعد متحرک ہے تو آخر حرف کو جزم دے دو “۔ لہٰذا تقف (مضارع واحد مذکر حاضر) کی تاء (علامت مضارع) کو حذف کر کے فاء کو جزم دی۔ قف ہوگیا۔ اس سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ قفوا ہوگیا۔ یا اصل میں اوقفوا تھا۔ وائو حرف علت بوجہ کسرہ ما قبل گرگیا۔ اور الف حرف علت بوجہ کسرہ مابعد کے گرگیا۔ قفوا بن گیا۔ یہ فعل لازم بھی استعمال ہوتا ہے اور متعدی بھی۔ یعنی کھڑا ہونا۔ یا کھڑا کرنا۔ یہاں بطور فعل متعدی مستعمل ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان کو کھڑا کرو ان کو ٹھہرائو۔ ان کو روکو۔ انہم مسئولون۔ ان حرف مشبہ بفعل، ہم ضمیر جمع مذکر غائب (اسم ان) اور مسئولون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ ان کی خبر۔ لہٰذا جملہ اسمیہ ہوا۔ ان سے پوچھا جائے گا۔ ان سے باز پرس ہوگی !
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

(37:25) مالکم۔ ما استفہامیہ ہے ما لکم تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ لا تناصرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر تناصر تفاعل سے مصدر تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے۔ مالم لا تناصرون۔ یہ جملہ محض طنزا اور استہزاء کے طور کہا گیا ہے کہ دنیا میں تو ایک دوسرے کی مدد کی اتنی ڈھینگیں مارا کرتے تھے اب وہ دم خم کیا ہوا ۔
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج تو وہ فرماں بردار ہیں

(37:26) بل ہم الیوم مستسلمون۔ بل حرف اضراب ہے یعنی ان کا ایک دوسرے کی مدد کرنا تو کجا رہا وہ تو وہاں اس روز بھیگی بلی بنے سر تسلیم خم کئے ہوں گے۔ الیوم سے مراد روز قیامت ہے۔ مستسلمون۔ اسم فاعل جمع مذکر مرفوع۔ استسلام (استفعال) مصدر۔ سلم مادہ۔ فرمانبردار ہونا۔ اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ خاضعون کیا ہے۔
Ayah 37:27

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال (وجواب) کریں گے

(37:27) اقبل۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اقبال مصدر (افعال) اس نے رخ کیا۔ وہ متوجہ ہوا۔ وہ آگے آیا۔ بعضہم علی بعض۔ ان میں سے بعض بعض کی طرف یعنی ایک دوسرے کی طرف۔ مراد سردار اور ان کے چیلے۔ یا کافر اور ان کے ساتھ شیطان۔ یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب تساؤل (تفاعل) مصدر سے۔ سأل۔ مادہ ایک دوسرے سے پوچھنا۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں وہ ایک دوسرے سے بطور زجر سوال و جواب کریں گے۔ یا باہم جھگڑیں گے۔ ایک دوسرے کو ملامت کریں گے !
Ayah 37:28

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کیا تمہارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے ؟

(37:28) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب گمراہ شدگان۔ اتباع پیروکاروں کے لئے ہے جو گمراہ کنند گان سرداران کی تحریض و ترغیب سے راہ راست سے ہٹ کر کفر کا ارتکاب کرنے لگے تھے ان کے مخاطب ان کو گمراہ کرنے والے رؤسایا پیشوا ہوں گے۔ کنتم تاتوننا عن الیمین۔ الیمین کے معنی القوۃ والقدرۃ ایتاء عن الیمین کے معنی محاورہ میں زور اور دبائو ڈالنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی تم ہم پر اپنی سرداری اپنی طاقت وسطوت کا دبائو ڈالا کرتے تھے۔
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے

(37:29) قالوا۔۔ یہ فقرہ گمراہ کرنے والے پیشوائوں کی طرف سے گمراہ ہونے والے چیلوں سے خطاب ہے۔ بل۔ حرف اضراب ہے۔ یعنی یہ بات نہیں کہ ہم نے دبائو ڈال کر تم کو گمراہ کیا تھا : بلکہ اصل میں تم خود ہی ایمان لائے تھے۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا بلکہ تم سرکش لوگ تھے

(37:30) طغین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب وجر۔ طغی یطغوا (باب نصر) طغو۔ طغو مصدر۔ حد سے گذر جانا۔ طغی یطغی وطغی یطغی (باب فتح وسمع) طغی و طغیان مصدر۔ کافر کا کفر میں غلو کرنا۔ یا ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر جانا طغین ۔ نافرمان، سرکش، معصیت میں حد سے بڑھ جانے والے۔ یہاں نصب بوجہ کنتم کی خبر کے ہے ! آیت 29 کی طرح یہ آیت بھی گمراہ کرنے والے پیشوائوں کی طرف سے گمراہ ہونے والے چیلوں سے خطاب ہے۔ اسی طرح ہی اگلی آیت ہے۔
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے

(37:31) فحق علینا قول ربنا۔ پس ہمارے رب کا قول ہمارے خلاف سچ ثابت ہوگیا ہے۔ یا ہم پر لازم آگیا ہے ! حق کی تشریح کرتے ہوئے راغب اصفہانی (رح) تحریر فرماتے ہیں :۔ حق وہ قول یا عمل ہے جو اسی طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا واقع ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے ! (1) چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے قرآن مجید میں ہے کذلک حقت کلمت ربک (10:33) اسی طرح خدا کا ارشاد ثابت ہو کر رہا ۔ (2) الحق۔ وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مثلاً ردوا الی اللہ مولہم الحق۔ (6:62) پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے۔ (3) نیز ہر وہ چیز جو حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو حق ہے اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے۔ (4) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے حق کہلاتا ہے۔ چناچہ ہم کہتے ہیں کہ قیامت، سزاو جزا ، جنت و دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے قول سے کیا مراد ہے ؟ مندرجہ ذیل آیات پر غور کیجئے ! (1) وقیضنا لہم قرناء فزینوا لہم ما بین ایدیہم وما خلفہم وحق علیہم القول فی امم قد خلت من قبلہم من الجن والانس انہم کانوا خسرین۔ (41:25) اور ہم نے (شیطانوں کو) ان کا ہمنشین مقرر کیا۔ تو انہوں نے ان کے اگلے، پچھلے اعمال ان کو عمدہ کر دکھائے اور خدا کے عذاب کا وعدہ پورا ہوگیا ان پر ان فرقوں کے ساتھ جو ان سے پہلے گذر چکے بیشک وہ تھے ٹوٹا پانے والے۔ نقصان اٹھانے والے۔ (2) قال الذین حق علیہم القول ربنا ھؤلاء الذین اغوینا (28:63) (اس پر) وہ لوگ کہیں گے جن پر (اللہ کا) قول ثابت ہوچکا ہوگا اے ہمارے پروردگار یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں بہکایا تھا۔۔ (3) ۔۔ ویحق القول علی الکفرین۔ (36:70) اور تاکہ کافروں پر (اللہ کا) قول ثابت ہوجائے۔ (4) فحق علینا قول ربنا (37:31) آیت ہذا۔ سو ہم (سب ) پر ہمارے پروردگار کا قول ثابت ہوگیا ہے :۔ مندرجہ بالا اور اس قبیل کی کئی دوسری آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ القول سے اللہ رب العزت کا کوئی خاص قول مراد ہے۔ اب مندرجہ ذیل آیات ملاحظہ کریں ! (1) ولکن حق القول منی لاملئن جہنم من الجنۃ والناس اجمعین۔ لیکن میری طرف سے یہ قول قرار پا چکا ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھردوں گا۔ (2) قال فالحق والحق اقول لاملئن جہنم منک وممن تبعک منہم اجمعین۔ (38:84 ۔ 85) ۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :۔ کہ سچ ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے میں جہنم کو بھر دوں گا :۔ تو معلوم ہوا کہ القول سے مراد فرمودہ رب العالمین : لاملئن جہنم۔۔ ہے۔ آیت ہذا (37:31) میں بھی قول سے مراد یہی ہے گمراہ کرنے والے پیشوا اور سردار اپنے پیروکاروں سے کہیں گے کہ تم نے بھی خود ہی سرکشی کی اور ہم بھی سرکش و نافرمان رہے۔ لہٰذا جہنم کا عذاب ہمارے اپنے ہی گناہوں کی پاداش میں ہم پر لازم ہوگیا ہے اور اس طرح سرکش وباغی جنوں اور انسانوں سے جہنم کا بھرا جانا ہم پر صادق آتا ہے اس طرح رب تعالیٰ کا قول پورا ہوگیا۔ انا لذائقون۔ لام تاکید کا ہے ذائقون اسم فاعل جمع مذکر ذوق مصدر سے چکھنے والے۔ (جب خداوند تعالیٰ کا قول پورا ہوگیا اور جہنم ہم پر لازم ہوگئی۔ تو اب ہم اس جہنم کے عذاب کا) مزہ چکھنے والے ہیں۔ (یعنی ہم سب گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے

(37:32) اغوینکم۔ ماضی جمع متکلم کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اغواء (افعال) مصدر غوی مادہ۔ گمراہ کرنا۔ ہم نے تم کو گمراہ کیا۔ الغی الرشد کی ضد ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے قد تبین الرشد من الغی (2:256) ہدایت گمراہی سے صاف صاف کھل چکی ہے انا کنا غوین جملہ مستانفہ ہے اور جملہ ما قبل کی علت ہے۔ تحقیق ہم خود ہی گمراہ تھے مطلب یہ ہے کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لئے ہم نے تم کو بھی اسی راستے پر چلنے کی دعوت دی۔ ایماندار تم بھی نہ تھے اپنے حق خود ارادیت کا استعمال کرتے ہوئے تم نے بھی ہماری گمراہی کا راستہ اختیار کیا۔ اس طرح ہم دونوں فریق برابر عذاب جہنم کے سزاوار ہوئے۔ غوین الغی سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے منصوب بوجہ خبر کنا ہے۔
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے

(37:33) فانہم جمع مذکر غائب کی ضمیر ہر دو فریقین کی طرف راجع ہے جو یہ سوال و جواب کر رہے ہوں گے ! یعنی گمراہ کنندگان و گمراہ شدگان۔ یومئذ۔ وہ دن۔ جس دن وہ آپس میں سوال و جواب کرتے ہوں گے : یعنی روز قیامت۔
Ayah 37:34

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

(37: 34) المجرمین۔ اسم فاعل جمع مذکر مجرور۔ بمعنی کفار ومشرکین۔ اپنی مطلق صورت میں یہ لفظ جہاں جہاں قرآن مجید میں آیا ہے اس سے مراد کافرہی ہیں۔ مشترکون۔ اسم فاعل جمع مذکر مشترک واحد اشتراک (افتعال) مصدر۔ شریک ہونے والے۔ ساجھی۔
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے

(37:35) انہم میں ضمیر جمع مذکر غائب مشترکون کی طرف راجع ہے۔ کانوا یستکبرون۔ ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے۔ وہ تکبر کیا کرتے تھے۔ وہ بڑے بنتے تھے۔ وہ استکبار کیا کرتے تھے۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ؟

(37:36) ویقولون وائو عاطفہ ہے یقولون ای کانوا یقولون اور کہا کرتے تھے ۔ ائنا میں الف استفہامیہ ہے۔ لتارکوا الہتنا۔ لام تاکید کا ہے الھتنا مضاف مضاف الیہ ہمارے معبود ۔ ہمارے خدا۔ تارکوا اصل میں تارکون تھا۔ الھتنا کی طرف اضافت کی وجہ سے ن گرگیا۔ لشاعر مجنون۔ لام جارہ ہے شاعر مجنون موصوف وصفت ۔ دیوانہ شاعر۔ شاعر کو جنون کی صفت سے متصف کرنا تخلیط وہذیان محض ہے کیونکہ ایک اچھا شاعر ایک مکمل صاحب عقل کا مقتضی ہوتا ہے جو دقیق وعمیق مطالب کو شستہ اور موزوں الفاظ کے قالب میں منظم طریقہ سے ڈھال سکے : بعض نے مجنون کو معطوف لیا ہے ای لشاعر ومجنون اور ترجمہ کیا ہے : کیا ہم چھوڑ دیں گے اپنے خدائوں کو ایک شاعر اور دیوانے کے کہنے سے۔
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں

(37:37) بل جاء بالحق وصدق المرسلین۔ بل حرف اضراب ہے یعنی وہ (رسول کریم ﷺ ) شاعر یا مجنون نہیں ہے یا دیوانہ شاعر نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک دین حق لے کر آیا ہے۔ اور دوسرے سارے پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے۔ صدق تصدیق (تفعیل) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ وہ تصدیق کرتا ہے۔ المرسلین اسم مفعول جمع مذکر منصوب بوجہ مفعول ہے۔
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو

(37:38) انکم لذائقوا العذاب الالیم۔ لام تاکید کا ہے ذائقوا (مضاف) اصل میں ذائقون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون گرگیا۔ العذاب الالیم موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ۔ یہ خطاب ہے مجرمین سے (اے مجرمو ! ) تم ضرور چکھو گے دردناک عذاب کو،
Ayah 37:39

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

(37:39) تجزون مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ جزاء (باب ضرب) مصدر سے۔ تم جزا دئیے جائو گے۔ تم بدلہ دئیے جائو گے۔
Ayah 37:40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں

(37:40) الا عباد اللہ المخلصین۔ الا حرف علت۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ مل کر مستثنیٰ منقطع ضمیر تجزون سے۔ المخلصین اسم مفعول جمع مذکر حاضر عباد اللہ کی صفت ہے “ (مستثنیٰ منقطع ہمیشہ منصوب ہوتا ہے بدیں وجہ عباد منصوب ہے) معنی کلام ہوں گے :۔ ولکن عباد اللہ المخلصین یجزون اضعافا مضاعفۃ بالنسبۃ الی ما عملوا۔ لیکن اللہ کے مخلص بندے اپنے اعمال کی نسبت سے کئی گنا اجر دئیے جائیں گے ! ”(مگر اللہ کے مخلص (منتخب پسندیدہ ) بندے (ان کو بدلہ سینکڑوں گنا زائد دیا جائے گا) “ تفسیر مظہری۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عباد اللہ ضمیر ذائقوا سے مستثنیٰ منقطع ہے اور درمیانی جملہ وما تجزون الا ما کنتم تعملون جملہ معترضہ ہے۔ ای انکم لذائقوا العذاب الالیم ولکن عباد اللہ۔ المخلصین اولئک لہم رزق معلوم فواکہ۔۔ الخ اے مجرمو ! تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو لیکن اللہ کے مخلص بندوں کے لئے رزق معلوم یعنی میوے ہوں گے۔