37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 37:1–4

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قطار در قطار باندھنے والوں کی قسم

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

، پھر ان کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ان کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

، تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے

درس نمبر 208 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 ﷽ والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔ قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے ہیں۔ غرض ملائکہ کی ان خاص اقسام و انواع کی قسم کھانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ لوگو ! جان لو کہ۔ ان الھکم لواحد (37: 4) ” تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے ؛۔ اور ان فرشتوں کی اس حالت کی پھر قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ فرشتوں کے بارے میں عربوں کا مقصود بہت غلط تھا جیسا کہ ہم نے کہا کہ عرب فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھتے تھے اور بعض عرب فرشتوں کو الہہ بھی اس لیے بناتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں لہٰذا ہماری دیویاں ہیں۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں کا مالک

ضروری ہوا کہ فرشتوں کی حیثیت بتانے کے بعد اللہ خود اپنی تعریف بھی فرما دے : رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق (38: 5) ” وہ جو زمینوں اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان ہیں اور سارے مشرقوں کا مالک ہے “۔ یہ زمین اور آسمان جو انسانوں کے اردگرد قائم ہیں وہ انسانوں کو بتاتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کا ایک خالق مدبر ہے۔ اس جہاں میں کوئی ذات اس کے سوا نہیں ہے جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اس کی تخلیق اور تدبیر میں اس کا بھی حصہ ہے۔ کوئی عقلمند انسان اس اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا کہ اس جہاں کا خالق بےقید قدرتوں کا مالک ہے۔ اور وہ رب ہے اور وہی مالک ہے زمین و آسمان اور ان کے درمیان ہر چیز کا۔ خواہ ہوائیں ہیں ، بادل ہیں ، روشنی ہے ، مخلوقات ہیں ، دیکھی جانے والی مخلوقات ہیں یا ایسی مخلوقات ہیں جو نظر نہیں اسکتیں اور آئے دن ان کے بارے میں انسانوں کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ لیکن ان کی اکثریت اب بھی نظروں سے اوجھل ہے۔ آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مسافتیں اسی قدر وسیع ، اس قدر عظیم ہیں اور ان کے درمیان پائی جانے والی مخلوقات اس قدر متنوع ، خوبصورت اور باہم ہم آہنگ ہیں کہ ایک زندہ دل انسان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اور اس کائنات سے گہرے تاثر اور عبرت پکڑنے اور اس پر غور و فکر کے بغیر وہی شخص گزر سکتا ہے جس کا دل مر چکا ہو۔ اس لیے ایسے شخص پر پھر یہ خوشگوار تاثرات کوئی اثر نہیں کرتے اور اس کا دل و دماغ ان عجائبات کو دیکھ کر بھی جوش میں نہیں آتا۔ رب المشارق (37: 5) ” مشرقوں کا مالک “۔ ہر ستارے کے لیے ایک مشرق ہے اور ہر سیارے کا بھی ایک مشرق ہے۔ لہٰذا اس کائنات میں بیشمار مشارق ہیں۔ ان وسیع اجرام فلکی میں ان گنت مشارق ہیں۔ اس تعبیر میں اس زمین کی طرف بھی گہرا اشارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ زمین جب سورج کے سامنے حرکت محوری کا عمل کرتی ہے ، تو کسی نہ کسی وقت اس کا ایک حصہ مشرق ہوتا ہے ۔ اسی طرح کسی نہ کسی وقت اس کا ایک حصہ مغرب ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ عمل پے در پے چلتا رہتا ہے۔ جونہی کوئی حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہ مشرق ہوتا ہے۔ اور اس کے بالمقابل حصہ مغرب ہوتا ہے۔ جوں جوں حرکت اور گردش ہوتی رہتی ہے ، مشرق بھی بدلتا رہتا ہے اور مغرب بھی۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے نزول قرآن کے وقت لوگ بیخبر تھے۔ لیکن اللہ نے ان کو اس قدر قدیم زمانے میں خبر دے دی۔ یہ نہایت ہی گہرا نظام ہے ، جس کے مطابق اس زمین پر مشارق رواں دواں ہیں اور یہ خوبصورتی جو طلوع آفتاب کے وقت اس زمین پر بکھر جاتی ہے ، یہ اس قابل ہے کہ انسانی دل کو خوشگوار ، تاثر اور گہرے غور وفکر کے تاثرات سے بھر دیں۔ اور انسان چلا اٹھے کہ صانع کائنات کی کیا شان ہے اور انسان چلا اٹھے کہ بیشک اللہ وحدہ خالق کائنات ہے کہ اس عجیب صفت کے آثار اور اس کی مسافت اور طبیعت یہ بتاتی ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ کی صفت رب المشارق کو لایا گیا ہے۔ عنقریب ہم کواکب ، شہاب ثاقب ، شیاطین اور ان کے بھگائے جانے پر بحث کریں گے ، اس موقعہ پر رب المشارق کے کچھ اور مفہوم اور مناسبتیں بھی بیان کریں گے۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

ربنا زینا السمآء۔۔۔۔ الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب (6 –۔۔ سورت کے آغاز میں ملائکہ کے بارے میں عربوں کے غلط خیالات پر بحث کی گئی تھی ، یہاں شیاطین کے بارے میں ان کے غلط خیالات کو لیا جاتا ہے۔ عربوں کئ یہ خیالات تھے کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔ بعض عرب محض اس خیال سے شیاطین کی پوجا کرتے تھے کہ شیاطین کو ملکوت السموات کی بعض غیوب کا علم ہوتا ہے۔ وہ ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہوتے ہیں اور یوں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ زمین ، آسمان اور مشرقوں کے ذکر کے بعد ، چاہے ان سے مراد ستاروں کے مشرق ہوں ، زمین کے اوپر جاری مشرق ہوں ، یا دونوں مشرق ہوں یا ان سے مراد نور اور روشنی ہو ، بہرحال اب یہاں کواکب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب (37: 6) ” ہم نے آسمان دنیا کو تاروں سے آراستہ کیا ہے “۔ صرف ایک نظر ہی سے یہ زینت دکھائی دیتی ہے۔ چاندنی رات میں تارے اور کواکب کیا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کائنات میں جمال ایک اہم عنصر ہے۔ جس طرح اللہ کی تخلیق غوروفکر کے بعد انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح خوبصورت بھی معلوم ہوتی ہے۔ جمال اس کائنات کے نقشے میں کوئی عارضی رنگ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقی عنصر ہے۔ تخلیق کائنات میں دو چیزیں بنیادی مواد ہیں۔ ایک کمال درجے کا منصوبہ اور دوسرا نہایت ہی خوبصورت نقوش فطرت۔ یہ دونوں عنصر برابر اور مقصود بالذات ہیں۔ اور اس کائنات میں کمال و جمال دونوں اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ چاندنی رات میں جب انسان تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا ہے تو وہ اس دنیا کے خوبصورت ترین منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ منظر اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ انسان دیکھتا چلا جائے ، نظریں تھکتی نہیں اور دل ملول نہیں ہوتا۔ ہر ستارہ ضوبار ہوتا ہے اور چمکتا ہے۔ ہر سیارہ اپنا نور بکھیر رہا ہوتا ہے۔ انسان محسوس کر رہا ہے کہ یہ کائنات کی محبت بھری آنکھیں ہیں جو نظر چرا کے دیکھ رہی ہیں اور جب انسان ان پر نطر ڈالتا ہے تو یہ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں ، چھپ جاتی ہیں اور جب آپ ان سے نظر ہٹاتے ہیں تو یہ آنکھیں پھر چمک اٹھتی ہیں اور اپنے منظور نطر کی تلاش میں رہتی ہیں۔ ہر رات ان آنکھوں کا موقف مختلف ہوتا ہے اور منزل جدا ہوتی ہے یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہبی اور نفسیاتی خوارک ہے اور اسے جس قدر بھی کوئی کھائے سیر نہیں ہوتا اور نہ ملول ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ ان کواکب کا ایک دوسرا فریضہ بھی ہے ۔ ان میں سے بعض شہاب ثاقب ہوتے ہیں اور یہ ان شیاطین پر بمباری کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے قریب جانے کی سعی کرتے ہیں۔
Ayahs 37:7–10

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

) ” اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

10 یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین متمردین کے لیے آخرت میں ایسا عذاب ہوگا جو کبھی ختم ہونے والا نہ ہوگا۔ بعض اوقات شیاطین ، بعض معلومات لے آرتے ہیں ایسے شیاطین کا پیچھا یہ شہاب ثاقب کرتے ہیں ۔ یہ شہاب ایسے شیاطین پر لگتے ہیں اور انہیں جلا کر رکھ دیتے ہیں۔ ہم ان کیفیات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتے کہ یہ شیاطین جاسوسی کا یہ عمل کس طرح کرتے ہیں اور کس طرح وہ کچھ معلومات لے اڑتے ہیں اور کس طرح انہیں شہاب ثاقب کے ذریعے بھسم کردیا جاتا ہے۔ یہ عالم غیب کی باتیں ہیں اور انسانی فہم و ادراک کی جو طبیعت ہے وہ انکے معلوم کرنے سے عاجز ہے۔ اور نہ ان کی کیفیات کا تصور کرسکتی ہے۔ ہمارا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ آجائے ہم اس کی تصدیق کردیں۔ اس جہاں کے اندر ہم طبیعات کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ سطحی علم ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ شیاطین جن کو عالم بالا تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔ اور وہاں جو کچھ ہوتا ہے اس کی طرف کان لگانے سے بھی ان کو روکا جاتا ہے۔ وہی شیاطین ہیں جن کے بارے میں عرب کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا اور اللہ تعالیٰ کا آپس میں رشتہ ہے (نعوذ باللہ) ۔ اگر ان لوگوں کا یہ دعویٰ درست ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ اور یہ نہ ہوتا کہ اللہ کے رشتہ داروں کو اس طرح دھتکارا جاتا ، ہانکا جاتا اور اگر کچھ بات وہ لے اڑیں تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ یہ رشتہ دار تو عالم بالا میں آزادانہ آتے جاتے۔ ملائکہ کے ذکر اور آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان اشیاء کے ذکر کے بعد اور ان ستاروں کے ذکر کے بعد جن سے آسمانوں کو مزین کیا گیا اور ان شیطانوں کے ذکر کے بعد جو سرکش ہیں اور جن پر شہاب ثاقب چھوڑے جاتے ہیں ، اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ذرا ان لوگوں سے پوچھیں کہ وہ زیادہ طاقتور ہیں یا مذکورہ بالا ۔۔۔۔۔۔۔ طاقتور ہے اور زیادہ قوی ہے تو پھر وہ دوبارہ اٹھائے جانے کے تصور سے کیوں دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور مزاح کرتے ہیں۔ اور اس کے وقوع کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قیامت میں لوگوں کو دوبارہ اٹھانا اس عظیم اور ہولناک مخلوقات کی پیدائش سے زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب ان سے پوچھو ، ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ؟” ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے

فاستفتھم اھم ۔۔۔۔۔ اباؤنا الاولون (11 – 17) ذرا ان سے پوچھو کہ تم مانتے ہو کہ ملائکہ ، سماوات ، زمین ، ان کے درمیان فضائیں ، شیاطین ، ستارے اور شہاب ثاقب سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ تو کیا تمہاری تخلیق زیادہ مشکل ہے یا اللہ کے ان جہانوں کی تخلیق ؟ اس سوال کے بعد ان کے جواب کا انتظار ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ جواب تو ظاہر ہے ۔ یہ سوال تو محض سرزنش کے لیے کیا گیا ہے اور ان کی غباوت پر تعجب کے اظہار کے لیے کیا گیا ہے۔ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ لوگ حددرجہ غافل اور حیران کن حد تک نافہم نہیں۔ چناچہ ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جاتی ہے کہ آغاز میں تمہیں ایک لیس دار گارے سے بنایا گیا ہے۔ اور یہ گارا اسی زمین سے لیا گیا ہے۔ جو خلائق میں سے ایک ہے۔ انا خلقنھم من طین لازب (37: 11) ” ہم نے انہیں لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے “۔ لہٰذا یہ لوگ پیدائش کے اعتبار سے کوئی زیادہ دشوار نہیں ہیں اور نہ ان کی تخلیق مشکل ہے۔ لہٰذا ان کا موقف عجیب ہے کہ اپنی حماقتوں کو نہیں سمجھتے۔ الٹا اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ ان کو بعث بعد الموت کی جواب دہی سے ڈرایا جاتا ہے اور یہ اسے مذاق سمجھتے ہیں۔ ان کی یہی حماقت ہے جس پر حضور اکرم ﷺ کو تعجب ہوتا ہے اور یہ لوگ ہیں کہ اپنی روش پر چل رہے ہیں۔
Ayahs 37:12–14

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

۔ تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

سمجھانا جاتا ہے کہ تو سمجھ کر نہیں دیتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

بل عجبت ویسخرون۔۔۔۔۔ ایۃ یستخرون (37: 12 – 14) ” تم حیران ہو اور یہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھہ میں اڑا دیتے ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ کو تو حق ہے کہ آپ ان کے معاملات پر تعجب کریں۔ کیونکہ آپ تو اللہ کو اپنے قلب میں پاتے ہیں۔ جس طرح ہر مومن پاتا ہے اور اللہ کی آیات کو واضح طور پر دیکھتا ہے۔ جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔ آپ کو اس پر تعجب ہے کہ ان آیات اور نشانیوں کو دیکھتے ہوئے کس طرح ایک شخص اندھا ہوسکتا ہے اور کس طرح اس قسم کا جاہلانہ موقف اختیار کرسکتا ہے۔ ادھر رسول اللہ ﷺ ان کے رویہ کی وجہ سے انگشت بدنداں ہیں ، ادھر ان کی حالت یہ ہے کہ مسئلہ کی اس قدر وضاحت کے باوجود ، عقیدہ توحید اور بعث بعد الموت کے مسائل کے واضح ہونے کے باوجود ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ اور وہ مذاق کرتے ہیں ۔ بلکہ وہ مذاق طلب کرتے ہیں ۔ دوسروں کو بھی مذاق کی دعوت دیتے ہیں۔ لفظ (یستخرون) سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے مذاق اور نافہمی کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن مجید کو جادو کہتے ہیں اور اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ قرآن کریم موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے نظریہ کی دعوت دیتا ہے۔
Ayahs 37:15–17

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ” یہ تو صریح جادو ہے ،

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

۔ بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباو اجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔

وقالوا ان ھذا۔۔۔۔ ابآؤنا الاولون (37: 15 – 17) ” اور وہ کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے۔ بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھا کھڑے کیے جائیں گے اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباواجداد بھی اٹھائے جائیں گے “۔ اپنے ماحول میں اللہ کی قدرت کے آثار کے دیکھنے سے یہ لوگ غافل ہیں ، خود اپنی ذات کے اندر اللہ کی قدرت کے آثار یہ دیکھ نہیں پاتے ۔ زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے اندر جو آثار پائے جاتے ہیں ، ان سے بھی یہ غافل ہیں۔ ستاروں ، سیاروں اور شہاب ثاقب پر بھی غور نہیں کرتے۔ ملائکہ ، شیاطین کی تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ خود اپنی تخلیق پر غور نہیں کرتے کہ کسی طرح ایک لیس دار گارے سے ان کو بنایا گیا ۔ یہ سب آ ثار قدرت ان کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہ تعجب کرتے ہیں اس بات پر کہ جب وہ مرمٹ جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو انہیں دوبارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اور پھر اگلے دور کے آباء کو کس طرح اٹھایا جائے گا۔ جن کی ہڈیاں بھی نہیں۔ حالانکہ اس طرح دوبارہ اٹھائے جانے میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے نہ یہ بعید از امکان ہے۔ صرف معمولی غوروفکر کی ضرورت ہے اور انفس و آفاق کے مذکورہ مشاہدات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

ان سے کہو ہاں ، اور تم (خدا کے مقابلے میں ) بےبس ہو

ق اگر یہ لوگ اس جہاں میں ان مشاہدات پر ٹھنڈے دل سے غوروفکر نہیں کرتے اور صحیح نتیجے پر پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے یہ ہولناک منظر پیش فرماتا ہے کہ اب یہ لوگ گویا موت کے بعد اٹھا دئیے گئے ہیں۔ قیامت کے اس منظر کی تصویر کشی اس قدر خوفناک انداز میں کی گئی ہے کہ اس میں دو ماہی بےآب کی طرح مضطرب نظر آتے ہیں۔ ۔ قل نعم وانتم داخرون (18) ” “۔ ہاں تم اور تمہارے آباؤواجدادازمنہ قدیم والے بھی اٹھا ئے جائیں گے ۔ اور نہایت ہی بےبسی کی حالت میں ، ذلیل اور گرفتار کرکے ، یوں کہ سرتابی کی مجال نہ ہوگی۔ اور یہ کس طرح ہوگا ۔ ذرا دیکھو اس منظر کو اب قیامت کا ایک طویل منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس منظر کے پیش کرنے کا اسلوب منضرو ہے ۔ زندہ اور متحرک ہے ۔ مکالمے اور حرکات سے بھرپور ہے ۔ کبھی بیانیہ انداز کلام ہے اور کبھی مکالمے کی شکل میں ہے اور کبھی واقعات پر بیچ میں تبصرہ آجاتا ہے ۔ چناچہ کلام کے اعلیٰ ترین خصوصیات پر یہ منظر مشتمل ہے
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

” بس ایک ہی جھڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے ) دیکھ رہے ہوں۔ گے “۔

فانما ھی ۔۔۔۔ ھم ینظرون (19) یعنی پلک جھپکتے ہی وہ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے ۔ بس ایک تنعبیہ آمیز چیخ ہوگی ۔ (زجرۃ) کا لفظ اس لیے استعمال ہوا ہے کہ اس میں سختی کلام ہوگی ۔ ایک برتر اتھارنی کی طرف سے حاکمانہ چیخ ۔ اس چیخ کے ساتھ ہی وہ اپنی نظروں کے سامنے سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ۔ یہ منظر ان کے سامنے اچانک بغیر کسی تمید کے ہوگا ۔ یہ لوگ حواس باختہ ہوکر چیخنے چلا نے لگیں گے ۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ، یہ تو یوم الجزا ہے

وقالوا ۔۔۔ الدین (20) ” “۔ یہ لوگ اسی حالت میں ہوں گے ، ان کے حواس ابھی تک درست نہ ہوں گے کہ اچانک ان کے کانوں سے ایک دوسری سخت آواز ٹکرائے گی ، بالکل خلاف توقع !
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف
Ayahs 37:22–24

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

حکم ہوگا) ” گھیر لاؤ سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور ان معبودوں کو

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے ، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا انہیں ٹھیراؤ، ان سے کچھ پوچھتا ہے

احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔ فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور اچانک ان کو ملامت سے بھرپور انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔ سوالیہ اندا زمین مکالمہ ہے۔
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

کیا ہوگیا تمہیں ، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

ما لکم لاتناصرون (25) ” “۔ اب کیا وجہ ہے کہ تم یہاں کوئی اجتماعی بچاؤ کی تدابیر نہیں کرتے۔ یہاں تو تم سب کھڑے ہو اور اب تمہیں ایک دوسرے کی امداد کی بہت ضرورت بھی ہے ۔ اور وہ دیکھو تمہارے وہ معبود بھی کھڑے ہیں ، جن کی دنیا میں تم بندگی کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے اور نہ وہ بات کرسکتے ہیں۔ یہ سوال تو کیا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس پر ایک تبصرہ ہو۔
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

ارے ، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں

بل ھم الیوم مستسلمون (26) ” “۔ یعنی ہر ایک اپنے آپ کو بےبسی میں دوسرے کے حوالے کر رہا ہے ، بندگی کرنے والے ہوں کہ معبود ہوں۔ اب یہاں خطابی انداز کلام کو بدل کر پھر مطالبتی اور بیانیہ انداز سامنے آتا ہے۔ اس منظر میں یہ ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں۔
Ayahs 37:27–28

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کردیں گے۔

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے) کہیں گے ” تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے

واقبل بعضھم۔۔۔۔۔ عن الیمین (27 – 28) ” “۔ یعنی تم سیدھے رخ سے آکر ہمارے دلوں میں وسوسے ڈالتے تھے ، بالعموم جب کسی کے کان میں کوئی بات ڈالتا ہے تو وہ دائیں جانب سے آتا ہے۔ لہٰذا تم ہماری اس حالت کے ذمہ دار ہو۔ اور ان کا جواب یہ آتا ہے کہ تمہارا یہ الزام احمقانہ ہے۔ تم خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہو ، جو فیصلہ کیا تم نے کیا۔
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے ” نہیں ، بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

قالوا بل لم تکونوا مؤمنین (29) ” “۔ یہ ہمارا وسوسہ ہی نہ تھا جس نے تمہیں گمراہ کیا بلکہ تم تو ایمان ہی نہ لائے تھے اور تم نے تو ہدایت کو قبول ہی نہ کیا تھا۔
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

” ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا “۔ تم خود ہی سرکش لوگ تھے

وما کان ۔۔۔۔ سلطن کہ ہم نے تمہیں اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا جو ہماری تھی۔ ایسا نہ تھا کہ تم ایک رائے کو اختیار کرنا تو نہ چاہتے تھے اور ہم نے تم سے زبردستی کرکے اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا بل کنتم قوما طغین (30) ” “۔ تم خود ہی حد سے گزرنے والے تھے۔ کسی حد پر رکنے والے نہ تھے۔
Ayahs 37:31–32

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

آخر کار ہم اپنے رب کے اس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔

فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے
Ayahs 37:33–36

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

” اس طرح وہ سب اس روز عذاب میں مشترک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے “۔ تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

۔ اور کہتے تھے ” کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ “

فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا : فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔ اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔
Ayahs 37:37–40

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

۔ (ان ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

۔ اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے انہیں اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے۔

بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ” مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔