37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 37:41–44

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لئے جانا بوجھا رزق ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

، ہر طرح کی لذیذ چیزیں جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے۔

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

اور نعمت بھری جنتیں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

) تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔ جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔
Ayahs 37:45–47

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

۔ شراب کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

۔ چمکتی ہوئی شراب ، جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی

یطاف علیھم ۔۔۔۔۔۔ عنھا ینزفون (37: 45-47) ” شران کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان بھرائے جائیں گے چمکتی ہوئی شراب جو پینے والوں کے لیے لذت ہوگی ۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی “۔ یہ جنت کی شراب کی نہایت ہی خوبصورت تعریف ہے کہ اس سے شراب کی لذت تو ہوگی لیکن شراب کے مضرات اس میں نہ ہوں گے ۔ اس میں نشہ نہ ہوگا جس سے سرچکراجائیں گے ۔ اور نہ اس میں کمی ہوگی کہ کبھی ملے اور کبھی نہ ملے مزہ جاتا رہے ۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی ، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

وعندھم قصرت الطرف عین (37: 48) ” اور ان کے پاس نکا ہیں بچا بےوالی خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی “۔ نہایت حیادار ، نظریں اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نہ ڈالیں گی بوجہ حیادصفت ۔ اور ان کی آنکھیں بہت ہی خوبصورت ہوں گی ۔ وہ نہایت محفوظ ، نرم ونازک اور پتلی ہوں گی ۔
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

، ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی

کانھن بیض مکنون (37: 49) ” جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی “ یہ جھلی ایسی ہوتی ہے کہ نہ اس کو کسی کا ہاتھ لگ سکتا ہے اور نہ آنکھ دیکھ سکتی ہے اور ہوتی بھی نرم ونازک ہے ۔ یہ تصویر کشی ابھی جاری ہے ۔ اللہ کے یہ مخلص اور نیک بندے جو جنت کے متاع اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے ہیں ؛ نہایت ہی خوشگوار موذ میں باہم گفتگو بھی کرتے ہیں ۔ اس گفتگو میں اپنے ماضی اور حال پر بحث کرتے ہیں جبکہ اس سے قبل ہم پڑھ آئے ہیں کہ مجرمین بھی باہم لعن طعن کرتے تھے ۔ چنانچہ جنتیوں میں ایک شخص دوسروں کے سامنے اپنے حالات رکھتا ہے ۔
Ayahs 37:50–53

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوکر حالات پو چھیں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

۔ ان میں سے ایک کہے گا ،” دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو مجھ سے کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

، کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجربن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزاو سزادی جائے گی ؟ “

فاقبل بعضھم ۔۔۔۔۔۔۔ انا لمدینون (50-53) ” اس جتنی کا یہ دوست وقوع قیامت اور حسان و کتاب کا منکر تھا اور وہ اس جتنی کو ملا مت کرتا تھا کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ لوگ قیامت میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد کہ وہ مٹی ہوجائیں اور محض ہڈیاں رہ جائیں گی ۔ یہ جتنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ محو گفتگو ہے کہ اچانک اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ ذرا تلاش تو کرے کہ اس کے دوست کا انجام کیا ہوا ہے ۔ اسے یقین ہے کہ جنت میں تو وہ ہو نہیں سکتا لازما جہنم میں ہوگا۔ وہ خود بھی تلاش کرتا ہے اور دوستوں سے بھی کہتا ہے کہ اسے تلاش کیا جائے ۔
Ayahs 37:54–55

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

اب کی آپ لوگ دیکھتا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب ان کہاں ہیں ؟ “

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

یہ کہہ کر جو نہی وہ جھکاتو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لیا

قال ھل ۔۔۔۔۔ الجحیم (54-55) ” “۔ اب یہ جتنی اپنے دوزخی دوست سے ہم کلام ہوتا ہے جسے اس نے جہنم میں دیکھ لیا۔ یہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے ۔ اے فلاں ، قریب تھا کہ اپنی وسوسہ اندازیوں کی وجہ سے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ یہ تو مجھ پر اللہ کا انعام تھا کہ اس نے مجھے بچالیا اور میں نے تیری باتوں پر توجہ نہ دی ۔
Ayahs 37:56–57

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

اور اس سے خطاب کرکے کعے گا “ خدا کی قسم ، تو تو مجھے تباہ ہی کردینے والا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

۔ میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہوں

قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔ یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔ اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔
Ayahs 37:58–59

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اچھا تو کیا ان میں ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی ؟ ان ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا ؟

افما نحن ۔۔۔۔ بمعذبین (58-59) ” ؟ “ اب یہاں قرآن ایک تبصرہ لاتا ہے جس کے ذریعے قارئین کو اچھے کاموں میں باہم مسابقت اور اچھے انجام کے لیے جہد مسلسل پر ابھارا جاتا ہے ۔
Ayahs 37:60–61

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے

ان ھذا۔۔۔۔۔ العٰملون (60-61) ” ۔ “۔ اس قسم کے اچھے انجام کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے جو دائمی ہے ۔ جس کی ختم ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس کے بعد کوئی موت نہیں ہے ۔ جس کے بعد کسی عذاب اور سڑا کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ انجام ہے جس کی فکر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ جا کچھ بھی اس زمین پر ہے اور جس کے لیے اہل زمین عمریں کھپا دیتے ہیں وہ ہیچ ہے ۔ اس اخروی انجام کے مقابلے میں جو وائمی ہے ۔
Ayahs 37:62–63

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بولو ، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت ؟

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنادیا ہے

یہاں فریق مخالف کے انجام کا منظر بھی دے دیا جاتا ہے جو قیامت اور حشرو نشر کا منکر تھا تا کہ اہل جنت کے اچھے ، دائمی ، پرامن اور ہمہ گیر عیش اور اچھے انجام کی اہمیت اور اجاگر ہوجائے اہل جہنم کا انجام یہ ہوگا۔ اذٰلک خیر۔۔۔۔۔ الی الجحیم (62-68) ” ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگونے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے ، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا غیرخالص پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی “۔ یہ قائم اور دائم نعمتیں بہتر ہیں اور جنت بہتریں جائے قیام ہے ۔ یازقوم کا درخت بطور خوراک اور جہنم جائے قیام بہتر ہے اور زقوم ہے کیا ؟
Ayahs 37:64–65

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تمہ سے نکلتا ہے

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر

انھا شجرۃ۔۔۔۔۔ الشیطین (37: 64-65) ” ۔ “۔ اور لوگ شیطانوں کے سروں کو نہیں جانتے ۔ لہٰذا ان کی سمجھ میں کیا ۔۔۔َ ؟ یہ دراصل ایک خوفناک صورت حال ہے ۔ اس کا محض تصور ہی خوفناک ہے ۔ چہ جائیکہ وہ اسے کھائیں گے اور اس سے اپنے پیٹ بھریں گے ۔ اللہ نے اس درخت کو ظالموں کے لیے ایک آزمائش بنادیا ہے وہ زقوم کا نام سنتے تھے تو اس کے بارے میں مذاق کرتے تھے کہ کس طرح یہ درخت جہنم میں اگ سکے گا ۔ کیا جلے گا نہیں ؟ بعض لوگوں نے کہا ، مثلاً ابوجہل ابن ہشام نے نہایت ہی مزاجیہ انداز میں ” اے اہل قریش تمہیں معلوم ہے کہ زقوم کا درخت کیا ہے ؟ محمد تمہیں اس سے ڈراتا ہے تو انہوں نے کہا : ہمیں تو معلوم نہیں ۔ اس نے کہا یہ یثرب کے عمدہ کھجور اور مکھن ہوگا اور اگر یہ ہمیں دستیاب ہواتو ہم اسے ضرور نگل جائیں گے “۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ یہ زقوم کا درخت ایک دوسری چیز ہے جسے انسانوں نے نہیں چکھا۔ اور نہ جانتے ہیں ۔
Ayah 37:66

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے

فانھم لا ۔۔۔۔ البطون (37: 66) ” “۔ اور اس کے کھانے میں اور نکلنے میں ان کو تکلیف ہوگی کیونکہ یہ تو شیاطین کے سروں جیسا ہوگا۔ اور اس سے ان کے پیٹ جل اٹھیں گے۔ اس لئے کہ یہ تو پیدا ہی جہنم میں ہوگا۔ اور یہ خود نہیں جلے گا یہ ہوگا ہی آگ کی نوعیت کا۔ اب یہ پانی کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ پیاس بجھا سکیں۔ چناچہ پینے کے لیے ان کو غیر خالص پانی ملے گا۔
Ayah 37:67

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

” پھر پینے کیلئے ان کو کھولتا ہوا غیر خالص پانی ملے گا

ثم ان لھم۔۔۔۔ حمیم (37: 67) “۔ اور اس کے بعد یہ لوگ اس دسترخواں سے اٹھیں گے اور اپنے اصل مقر جہنم کی طرف جائیں گے۔ کیا ہی برا مقام اور جائے فرار ہے۔ اللہ کی پناہ
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی

ثم ان ۔۔۔۔۔ الجحیم (37: 68) ” “۔ یوں اس منفرد منظر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کا پہلا سبق ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ منظر ایک دیکھا ہوا منظر ہے۔
Ayahs 37:69–70

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

” اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے

درس نمبر 209 تشریح آیات 69 ۔۔۔ تا۔۔۔ 148 اس سبق میں سیاق کلام عالم آخرت ، اللہ کی نعمتوں اور قیامت میں اللہ کی سزاؤں سے نکل کر اب انسانی تاریخ اور امم ماضیہ کے حالات میں داخل ہوتا ہے۔ انسانیت کے آغاز سے قصہ ہدایت و ضلالت کو لیا جاتا ہے۔ یہ قصہ تمام اقوام کے ہاں ایک ہی ہے اور نظر آتا ہے کہ مکہ کے منکرین جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت کی تکذیب کرتے ہیں۔ وہ سابقہ مکذبین کے بقایا اور نمونہ ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تم سے پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے۔ یوں ان کے دلوں کے سامنے انسانی تاریخ کے قدیم ترین صفحات رکھے جاتے ہیں ان قصص میں اہل ایمان کیلئے بھی اطمینان کا سامان ہے کہ پوری انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اللہ نے ہمیشہ اہل ایمان کا خیال رکھا ہے چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے ، کا ایک رخ حضرت ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، موسیٰ ، ہارون ، الیاس ، لوط اور یونس (علیہما السلام) کے قصص کے بعض حصے قارئین کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے حالات ذرا طوالت کے ساتھ لئے گئے ہیں ، جن میں عظمت ایمان ، قربانی ، اطاعت اور ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) کے ذہنوں میں اسلام کا جو تصور تھا ، وہ یہاں بیان کیا جاتا ہے اور اس میں ان کے قصے کا ایک ایسا حلقہ دیا جاتا ہے جو اس سورت کے سوا کسی دوسری سورت میں نہیں دیا گیا۔ اس سبق کا بنیادی مواد انہی قصص پر مشتمل ہے۔ انھم الفوا اباءھم۔۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (69 – 74) ۔ “۔ یہ لوگ ضلالت اور گمراہی میں غرق ہوچکے ہیں۔ یوں کہ وہ ہر بات میں آباء و اجداد کی تقلید کرتے ہیں۔ کسی پیش آمدہ معاملے پر غور و فکر نہیں کرتے۔ بلکہ یہ جلد بازوں کی طرح اڑتے اور دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ آباء و اجداد کے قدموں پر قدم رکھتے چلے جا رہے ہیں ، بغیر سوچے اور بغیر عقل سے کام لیتے ہوئے اور وہ چونکہ گمراہ تھے لہٰذا یہ بھی گمراہ ہیں۔ انھم الفوا ۔۔۔۔۔ یھرعون (37: 69 – 70) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے باپ دادا کو گمراہ پایا اور انہی کے نقش قدم پر دوڑتے چلے گئے “۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اور ان کے آباء و اجداد اسی گمراہی پر تھے جس میں اکثر مکذبین مبتلا تھے۔
Ayah 37:71

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے تھے

ولقد ضل۔۔۔۔ الاولین (37: 71) ” حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے ہیں “۔ اور یہ گمراہی اس کے باوجود تھی کہ ہم نے ان کی خاطر ڈرانے والے بھیجے تھے۔
Ayah 37:72

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

۔ اور ان میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

ولقد ارسلنا فیھم منذرین (37: 72) ” اور ان میں ہم تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے “۔ لیکن ان لوگوں کا کیا انجام ہوا اور اللہ کے مخلص بندوں کا انجام کیا ہوا ؟ یہ سب آپ کو انبیاء کے قصص سے معلوم ہوجائے گا۔ یہ بات یہاں محض متوجہ کرنے کے لیے کہی جا رہی ہے۔
Ayahs 37:73–74

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

۔ اب دیکھ لو کہ ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

اس بدانجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں ان ۔۔ لیے خالص کرلیا ہے

فانظر کیف کان۔۔۔۔ المخلصین (37: 73 – 74) ” اب دیکھ لو ، ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا انجام کیا ہوا ، اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا “۔ اب قصہ نوح کا آغاز کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ کے نیک بندوں کا انجام نہایت ہی تیزی سے بتا دیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کے انجام کا لحاظ رکھتا ہے۔
Ayahs 37:75–77

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

ہم کو (اس سے پہلے) نوح نے پکارا تھا ، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

۔ ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا ،

ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔ اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔ فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس دین پر بطور خلیفۃ اللہ کام کرنا تھا اور اس زمین کو آباد رکھنا تھا تاکہ حضرت نوح کا ذکر آنے والی نسلوں میں باقی رہے۔
Ayah 37:78

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی

وترکنا علیہ فی الاخرین (37: 78) ” اور بعد کی نسلوں میں ان کی تعریف و توصیف چھوڑی “۔ اعلان کیا جاتا ہے کہ دونوں جہانوں میں نوح پر سلامتی ہوگی اس لیے کہ انہوں نے نیک راہ اختیار کی۔