37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 37:79–81

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

۔ سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

۔ در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

سلم علی نوح۔۔۔۔۔ المحسنین (37: 80) ” سلام ہے نوح پر تمام دنیا والوں میں۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزاء دیا کرتے ہیں “۔ اللہ کے سلام کے بعد اور کیا جزاء درکار ہے کسی بندے کو۔ اور تمام جہاں میں قیامت تک کسی کے نام کو باقی رکھنے کے بعد اور کیا انعام ہے کسی بندے کے لیے۔ احسان اور اس کے بعد انعام کا حقیقی سبب بہرحال ایمان ہے ۔ اس لیے کہا گیا۔ انہ من عبادنا المومنین (37: 81) ” درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔ اور یہی جزاء ہے اہل ایمان کی۔ رہے وہ لوگ جو قوم نوح سے غیر مومن تھے تو ان پر اللہ نے ہلاکت اور فنا لکھ دی تھی۔
Ayah 37:82

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا “۔

ثم اغرقنا الاخرین (37: 82) ” پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا “۔ لہٰذا انسانیت کے آغاز ہی سے سنت الہیہ یہی رہی ہے جس طرح ان قصص کے آغاز میں کہا گیا۔ ولقد ارسلنا ۔۔۔۔ المخلصین (37: 72 – 74) ” اور ان میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسول بھیجے تھے۔ اب دیکھ لو کہ ان تنبیہہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کرلیا ہے “۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کا قصہ آتا ہے۔ اس قصے کی دو کڑیاں یہاں لائی گئی ہیں۔ پہلی کڑی میں آپ اپنی قوم کو دعوت دیتے ہیں۔ بتوں کو توڑتے ہیں ، لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ کے حکم سے ان کے لیے آگ ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور قصے کا یہ حصہ کئی دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے۔ اور دوسری کڑی وہ ہے جو صرف اسی سورت میں آئی ہے ، یعنی خواب ، ذبح اور فدیہ۔ یہ کڑی نہایت ہی تفصیل کے ساتھ آئی ہے ، جس کے واقعات اور مراحل کو نہایر ہی تفصیلات کے ساتھ دیا گیا ہے۔ اسلوب کلام نہایت موثر ، دلکش اور پر شوکت ہے۔ اس کڑی کے اندر تسلیم و رضا ، سمع وطاعت کا اعلیٰ معیار اور اعلیٰ مثال پائی جاتی ہے ۔ اسنانی نطریات کی تاریخ میں اس قسم کی کوئی مثال نہیں ہے۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور نوح ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیم تھا۔

وان من شیعتہ ۔۔۔۔۔ ظنکم برب العلمین (83 – 87) یہ اس قصے کا آغاز ہے اور قصے کے اندر پہلا منظر ہے۔ نوح سے اب ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک آگئے۔ ان دونوں انبیاء کی دعوت ، نظریہ اور منہاج دعوت ایک ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان زمان و مکان کے فاصلے ہیں لیکن دونوں ایک ہی گروہ کے لوگ ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کا دبا ہوا نظام زندگی ایک ہے۔ اور اس زاویہ سے یہ دونوں باہم مربوط ہیں اور ان کا تعلق ایک ہی سلسلہ سے ہے جس میں وہ باہم شریک ہیں۔
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

” جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا

ابراہیم (علیہ السلام) کی صفات میں قلب کی سلامتی ، عقیدے کی راستی اور خلوص ممتاز صفات ہیں۔ اذ جآء ربہ بقلب سلیم (37: 84) ” جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا “۔ قلب سلیم کیا چیز ہے ؟ پوری طرح اسلام کے سامنے سر تسلیم خم کردینا۔ اللہ کے ساتھ پوری محبت رکھنا۔ صاف ستھری ، سیدھی روش سلامت قلبی ہے۔ قلب سلیم کی تعبیر نہایت معنی خیز اور اپنے مفہوم کی واضح تصویر لیے ہوئے ہے۔ تعبیر سادہ اور قریب الفہم بھی ہے اور واضح بھی۔ قلب سلیم کے اندر صفائی ، اخلاص ، سیدھا پن اور پاکیزگی کے مفاہیم شامل ہیں۔ یہ لفظ بہت ہی سادہ ہے۔ پیچیدہ نہیں۔ اور مذکورہ تمام معانی پر عادی ہے جبکہ مذکورہ الفاظ کے اندر اس قدر جامعیت نہیں ہے۔ یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز تعبیر ہے۔ یہ قلب سلیم ہی تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی قوم کے عقائد کو ناپسند کیا۔ انسان جب صحت مند سوچ رکھتا ہے اور سلیم الفطرت ہوتا ہے تو وہ ازروئے طہارت قلب ناپسندیدہ چیز کو ناپسند کرتا ہے۔ تصور میں بھی اور عمل میں بھی۔
Ayahs 37:85–87

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا ” یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو ؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ؟

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ “

اذ قال ۔۔۔۔ برب العلمین (37: 84 – 87) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا۔ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو۔ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو۔ آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے “۔ حجرت دیکھ رہے تھے کہ وہ بتوں اور آستھانوں کو پوجتے تھے۔ چناچہ وہ اپنی فطرت سلیمہ کی رد سے ان پر شدید گرفت کرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ ماذا تعبدون (37: 84) ” یہ کیا ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو “۔ یعنی یہ کیا چیزیں ہیں ؟ یہ تو اس قابل ہرگز نہیں کہ ان کی بندگی کی جائے یا کوئی ان کا بندہ ہو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ان کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ یہ تو محض گھڑے ہوئے ہیں ، افتراء ہیں اور ان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ ان جھوٹے خداؤں کی بندگی کرکے تم عمداً افتراء باندھتے ہو۔ ائفکا الھۃ دون اللہ تریدون (37: 86) ” جھوٹ گھڑے ہوئے معبود تم چاہتے ہو “۔ یہ تمہارا اللہ کے بارے میں کیا تصور ہے۔ تمہار تصور الہ اس قدر گرا ہوا ہے کہ انسانی فطرت سلیمہ پہلی نظر ہی میں اس کا انکار کردیتی ہے۔ فما ظنکم برب العلمین (37: 87) ” آخر رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟ “ اس فقرے سے معلوم ہوتا ہے کہ فطرت سلیمہ ایسے امر کا پہلی ہی نظر میں انکار کردیتی ہے جو عقل و ضمیر کے خلاف ہو اور انسانی عقل اور شعور اس کا انکار کرتے ہوں۔ اب سیاق کلام میں ان کی جانب سے کسی جواب کا تذکرہ نہیں ہے ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ازروئے فطرت سلیمہ اور قلب سلیم جس نتیجے تک پہنچے اگلی کڑی میں وہ بتا دیا جاتا ہے کیونکہ ان کی قوم کھوکھلے من گھڑت عقائد پر تھی۔
Ayahs 37:88–93

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

” اور کہا میری طبعیت خراب ہے

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

۔ چناچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

۔ ان کے پیچھے وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ” آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہوگیا ، آپ لوگ بولتے بھی نہیں ؟ “

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

فنظر نظرۃ فی النجوم ۔۔۔۔۔ ضربا بالیمین (88 – 93) “۔ روایات میں آتا ہے کہ اس وقت عید یا میلے کا دن تھا۔ شاید نوروز ہو۔ اس دن لوگ شہر سے باہر چلے جاتے تھے ۔ رواج کے مطابق وہ اپنے الہوں کے سامنے برائے تبرک پھل رکھتے تھے۔ اور سیر اور تفریح کے بعد وہ یہ مبارک کھانے لیتے تھے۔ حضرت ابراہیم نے جب معقول باتوں کے مقابلے میں مایوس کن رویہ پایا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ ان کے عقائد اور نظریات کے اندر اس قدر بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اب ان کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں ہے۔ تو انہوں نے دل میں ۔۔۔۔ ایک فیصلہ کرلیا کہ ان کو ذرا تلخ سبق دیا جائے۔ آپ نے اپنے منصوبے کے لیے اس دن کا انتظار فرمایا۔ کیونکہ اس دن پر یہ لوگ عبادت گاہوں کو خالی چھوڑ کر باہر چلے جاتے تھے۔ اور حضرت کے لیے اپنے منصوبے پر عمل کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کی تنگ نظری اور کج فہمی حضرت ابراہیم کے لیے اب قابل برداشت نہ رہی تھی۔ جب دوسرے لوگوں نے ان سے کہا کہ تم عبادت گاہ کو چھوڑکر ہمارے ساتھ چلو تو آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ میری طبیعت خراب ہے۔ میں سیرو تفریح کے لیے نہیں جاسکتا۔ کیونکہ سیرو تفریح اور میلوں میں تو وہ لوگ جاتے ہیں جو عیش و عشرت کرنا چاہیں ، جن کے دل خالی ہوں اور ان کے لیے کوئی دلچسپی یا اہم کام پیش نظر نہ ہو۔ حضرت ابراہیم تو ہر وقت پریشان تھے۔ اپنی قوم کی اس بیماری کی وجہ سے۔ اس لیے ان کے قلب سلیم کو سیرو تفریح میں خوشی کب نصیب ہوئی تھی۔ بہر حال لوگ جلدی میں تھے تاکہ جائیں اور اپنے رسم و رواج کے مطابق اپنی عید منائیں۔ اس لیے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کوئی زیادہ فکر نہ کی بلکہ ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور اپنی خوشیاں منانے لگے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ موقعہ مل گیا جس کی تلاش میں تھے۔ حضرت ابراہیم فوراً ان کے نام نہاد الہوں کے پاس پہنچے۔ ان کے سامنے قسم قسم کے کھانے اور تازہ پھل رکھے ہوئے تھے۔ بطور مزاح حضرت نے فرمایا تم کھاتے نہیں ہو ؟ ظاہر ہے کہ بتوں نے اس مزاح کا کیا جواب دیتا تھا ۔ اب آپ نے ذرا غصے اور کھلے مزاح کے ساتھ کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ تم بات کیوں نہیں کرتے ۔ بعض اوقات انسان ایسی چیز سے بطور مزاح ہمکلام ہوتا ہے جس کے بارے میں اس کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ نہیں سنتی اور نہ جواب دے سکتی ہے۔ حقیقت کا علم ہوتے ہوئے بھی انسان ایسی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات دراصل حضرت ان لوگوں کے پوچ اور غلط عقائد سے تنگ آکر ، کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ بتوں نے جواب تو نہ دینا تھا اور نہ دیا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان کے بجائے آپ کے ہاتھ حرکت میں آگئے۔ فراح علیھم ضرنا بالیمین (37: 93) ” اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں “۔ اب آپ کی بیماری دل کی گرفتگی اور پریشانی دور ہوئی۔ بالفاظ دیکگر آپ کا دل ٹھنڈا ہوا۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

(واپس آکر) ” وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے

اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ لوگ واپس ہوئے انہیں علم ہوا کہ ان کے بتوں کے سر پاؤں اور ہاتھ کٹے ہوئے ہیں۔ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں کہ انہوں نے تفتیش کی کہ کس نے یہ کام کیا ہے۔ آخر وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ ابراہیم نام کا ایک شخص ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے ، بہرحال یہاں اختصار کرکے فریقین کا آمنا سامنا دکھایا جاتا ہے۔ فاقبلوا الیہ یزفون (94) “۔ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ خبر سن لی تھی۔ یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ کام کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا سب لوگ دوڑ کر ابراہیم کے پاس پہنچے۔ سب اب کے اردگرد جمع ہوگئے۔ لوگوں کی بڑی تعداد بلکہ پورا میلہ اکٹھا ہوگیا۔ سب لوگ ایک طرف اور ایک مومن ایک طرف۔ ایک ایسا فرد جو کام کرنا چاہتا ہے۔ ایسا فرد جس کا تصور الٰہ واضح ہے جس کا عقیدہ ٹھوس اور متعین ہے۔ وہ اپنے نفس کے اندر اسے حقیقت کے طور پر پاتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے پاتا ہے۔ یہ ایک فرد ہے لیکن افراد کی اس بھیڑ اور جم غفیر سے وہ اپنے آپ کو قوی پاتا ہے۔ جن کا عقیدہ درست نہیں۔ جس کا تصور حیات ٹھوس نہیں۔ چناچہ وہ فطری سچائی کے ساتھ جرات مندانہ طریقے سے ان کو یوں خطاب کرتا ہے۔ اور ان کے کسی ردعمل کا کوئی خیال نہیں کرتا۔ حالانکہ یہ لوگ اس وقت استعمال کی حالت میں ہیں اور بڑی تعداد میں ہیں۔
Ayah 37:95

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا ” کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ؟

قال اتعبدون۔۔۔۔۔ وما تعملون (95 – 96) “۔ یہ ایک فطری استدلال تھا ، حضرت ابراہیم نے یبانگ دبل ان کے سامنے رکھ دیا کہ تم اپنی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ، معبود حق تو وہ ہوسکتا ہے جو سب چیزوں کا بنانے والا ہو نہ کہ اسے کسی سنگ تراش نے تراشا ہو۔
Ayah 37:96

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

” حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو

واللہ خلقکم وما تعملون (37: 96) ” اللہ تو وہ ہے جس نے تمہیں بھی بنایا اور تمہاری مصنوعات کو بھی بنایا “۔ یہ صانع مطلق اس قابل ہے کہ اس کی پوجا کی جائے۔ اس استدلال کی سادگی اور واضح ہونے کے باوجود ، لوگوں نے اپنی غفلت اور غلط روش کی وجہ سے اس پر کان نہ دھرا۔ باطل کی روش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ سچائی کے نہایت ہی سادہ اور منطقی الاستدلال پر کان نہیں دھرتا۔ اور اللہ کی جانب سے جن لوگوں کے ذمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ اہل باطل کی طرف سے تشدد سہتے رہے ہیں۔
Ayah 37:97

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انہوں نے کہا اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو

قالوا انبوا۔۔۔۔ الجحیم (97) ” “۔ یہ ہے قوت اور طاقت کا استدلال۔ اور آگ اور تشدد جس کے سوا سرکشوں کے پاس اور کوئی استدلال نہیں ہوتا۔ جب بھی دلیل ختم ہوتی ہے اور کوئی سرکش حجت پیش نہیں کرسکتا۔ وہ تشد کرتا ہے۔ خصوصاً جبکہ سرکشوں کے سامنے کلمہ حق پیش کیا جائے اور وہ اسے لاجواب کر دے۔ ان کی اس دھکمی کے بعد کیا ہوا ، یہاں قرآن مجید اس کی کوئی صراحت نہیں کرتا۔ اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اہل حق کو کامیابی نصیب ہوئی اور مکذبین گھاٹے میں رہے۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی ، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا

فارادوا بہ کیدا فجعلنھم الاسفلین (98) ” “۔ جب اللہ نہ چاہے تو ضعیف بندوں کی تدابیر کیا کرسکتی ہیں اور اللہ کے معاملے میں ضعیف اور حقیر بندے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ دنیا کے سرکش ، جبار ، حکمران ، ڈکٹیٹر اور ان کے اعوان و انصار اللہ کے مقابلے میں ہیچ ہوتے ہیں ۔ جب اللہ کا فضل اللہ کے بندوں کے شامل حال ہو۔ اب قصہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔ اپنے باپ اور اپنی قوم کے ساتھ آپ کا تنازعہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ایک خود ساختہ حجیم (آگ) میں آپ کو جلا دیں۔ اور اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ گھاٹے میں رہیں ۔ اور حضرت ابراہیم ان کی سازش سے بچ گئے۔ یہاں آکر حضرت ابراہیم نے اپنی سابقہ زندگی کو خیر باد کہا اور زندگی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا۔ سابقہ زندگی کا دفتر لپیٹ لیا گیا اور زندگی کے ایک نیئے باپ کا آغاز ہوگیا۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا ” میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں ، وہی میری راہنمائی کرے گا

وقال انی۔۔۔۔ سیھدین (99) ” “ میں رب کی طرف ہجرت کر کے جا رہا ہوں۔ یعنی مسافاتی ہجرت سے قبل یہ نفسیاتی اور نظریاتی ہجرت ہے۔ ایک ایسی ہجرت جس میں وہ اپنی تمام ماضی اور آبائی مقام کو خیر آبار کہہ رہے ہیں۔ اپنے باپ اور قوم کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ رہے ہیں۔ ان تمام روابط کو کاٹ رہے ہیں جو انسان کو اس زمین سے وابستہ کردیتے ہیں۔ ان لوگوں سے وابستہ کردیتے ہیں ، تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تمام مصروفیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔ تمام بوجھ ہلکے کرکے اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ تمام چیزوں کو پش پشت ڈال رہے ہیں۔ اپنی پوری ذات کو رب کے سپرد کر رہے ہیں۔ اور اپنی ذات کا کوئی حصہ اپنے لیے نہیں رکھ رہے ہیں انہیں یقین ہے کہ ان کا رب ضرور انہیں ہدایت دے گا۔ ان کی مدد کرے گا اور سیدھی راہ سجھائے گا۔ یہ ایک مکمل ہجرت ہے بلکہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف مکمل انتقال ہے۔ تمام روابط کو کاٹ کر صرف ایک رب سے جڑنا ، یہ گویا نہایت ہی یکسوئی ، تجرد ، خلوص اور سرتسلیم خم کردینے کا اقدام ہے۔ پورے اطمینان اور پورے یقین کے ساتھ۔ حضرت ابراہیم اس وقت تک اکیلے تھے۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ پیچھے وہ جو کچھ چھوڑ رہے تھے وہ اقرباء اور رشتہ داری کے تعلقات تھے۔ ہر قسم کی دوستی اور آشنائی کو ترک کر رہے تھے ۔ ماضی کے تمام مالوفات اور عادات کو ترک کر رہے تھے۔ ان تمام روابط کو کاٹ رہے تھے جو جنم بھوی سے قائم ہوجایا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم اور ان کے اہل کے درمیان پائے جانے والے تمام روابط کٹ گئے جنہوں نے ان کو آگ میں ڈالنے کا اقدام کیا۔ اس لیے آپ نے اس عزم کا ارادہ کرلیا کہ اب میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں اور چونکہ اہل و ابالی رہ گئی اس لیے رشتہ داروں کی جگہ اولاد اور جانشیں کے طلبگار ہوئے۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار ، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو

رب ھب لی من الصلحین (100) ” “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مخلص بندے کی دعا مقبول کرلی۔ جس نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور قلب سلیم لے کر اللہ کے دربار میں آگیا تھا۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

”(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک علیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی

فبشرنہ بغلم حلیم (101) “۔ یہ حضرت اسماعیل ہیں جس طرح اس سورت اور سیرت کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اللہ نے ان کے علم اور صبر اور بردباری کی تعریف کی۔ جبکہ وہ ابھی لڑکے تھے۔ ہمیں چاہئے کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم کی تنہائی ، وطن سے جدائی اور اہل قرابت سے دوری کے بارے میں سوچیں اور پھر اس بچے کی خوشخبری پر خوشی کا تصور کریں جس کی تعریف رب تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ یہ بچہ غلام حلیم ہوگا۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ، ان کا وہ طرز عمل سامنے آتا ہے جو پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد طرز عمل ہے اور ان کی زندگی میں تو وہ بہرحال ایک یادگار طرز عمل ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو قیامت تک امت مسلمہ کے لیے ایک اعلیٰ وارفع مثال ہے۔ یہ عمل حضرت ابراہیم نے خود پیش فرمایا۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

” وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم نے اس سے کہا ، ” بیٹا ، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ “ اباجان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے ، اسے کر ڈالیے ، آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے

فلما بلغ معہ ۔۔۔۔۔۔ من الصبرین (102) “۔ یا اللہ ، کیا عظیم ایمان ہے اور تسلیم و رضا کا کیا اعلیٰ مقام ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک بوڑھے ، اپنے اقرباء اور رشتہ داروں سے دور ، اپنے ملک اور وطن سے دور۔ ان کو بڑھاپے اور کبر سنی میں ایک بیٹا عطا ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصہ تک انہوں نے اس بچے کا انتظار فرمایا۔ جب اللہ ان کو یہ ممتاز اور ذی صلاحیت بیٹا دیا اور ان کے مرتبہ و مقام کی شہادت دی۔ وہ ابھی ان کے ساتھ اچھی طرح مانوس بھی نہیں ہوا ، ابھی بچہ ہے۔ آپ کے ساتھ چلنے پھرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ اب وہ زندگی کا ساتھی بن جائے۔ غرض ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بچے سے امیدیں وابستہ ہی ہوئی تھیں کہ وہ خواب میں دیکھتے ہیں کہ وہ اس بچے کو ذبح کر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اشارہ ہے کہ اس بچے کی قربانی دے دو ۔ اب کیا ہوتا ہے ؟ آپ بالکل تردد نہیں کرتے۔ آپ کو کوئی شک اور خلجان نہیں ہوتا۔ بس جذبہ اطاعت ہی سامنے آتا ہے۔ آپ تسلیم امر ربی پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ یہ محض اشارہ تھا۔ یہ امر صریح نہ تھا ، نہ براہ راست وحی آئی تھی۔ لیکن آپ نے رب کی طرف سے اشارہ ہی کو کافی سمجھا۔ آپ کے لیے تو اشارہ ہی کافی تھا۔ آپ نے لبیک کہہ دیا۔ اور تعمیل پر آمادہ ہوگئے بغیر کسی اعتراض کے ، بغیر کسی سوال کے کہ اے اللہ میں اپنے واحد بیٹے کو کیوں ذبح کر دوں۔ حضرت ابراہیم جزع و فزع کی حالت میں لبیک نہیں کہتے۔ نہ ان پر کوئی اضطرابی کیفیت طاری ہوتی ہے ، بلکہ وہ تسلیم و رضا کے پیکر ہیں ، مطمئن اور پر وقار ہیں اور ان کا یہ اطمینان ، ٹھہراؤ اور تسلیم و رضا ان کے ان کلمات سے ظاہر ہوتی ہے جن میں وہ یہ تجویز اپنے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اقدام ہے لیکن ان کے الفاظ نہایت سنجیدہ اور ان کی روش پر وقار ہے۔ قال یبنی انی۔۔۔۔ ماذا تری (37: 102) ” ابراہیم نے اس سے کہا ” بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ “ یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جن کو اپنے اعصاب پر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے۔ وہ درپیش اہم معاملے کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہے۔ اسے یقین ہے اور وہ اس پر تلا ہوا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے گا۔ یہ ایک مومن کے الفاظ ہیں ایسے مومن کے جسے یہ عظیم امر خوفزدہ نہیں کر رہا ہے تاکہ وہ جلدی جلدی اسے کر گزرے۔ آنکھیں بند کرکے تاکہ وہ اس سے بچ جائے اور یہ معاملہ ختم ہوجائے اور اس کے اعصاب پر جو قابل برداشت بوجھ آپڑا ہے وہ اتر جائے۔ ایسا نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ فعل ناقابل برداشت ضرور ہے۔ مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو کسی معرکہ کا رزار میں بھیج دیں۔ نہ حکم یہ ہے کہ اسے ایک ایسے کام میں لگا دیں جس سے اس کی زندگی ختم ہوجائے ۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کردیں۔ اور یہ حکم انہیں اس طرح خواب میں ملتا ہے ۔ اور آپ اسے اپنے اکلوتے بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں۔ اور اس سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور اپنی رائے دے۔ نیز حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو اچانک پکڑ کر ایسی حالت میں ذبح نہیں کردیتے کہ انہیں پتہ ہی نہ ہو کہ کیا ہو رہا ہے اور معاملہ ختم کردیا جائے۔ بلکہ معاملہ تجویز کی صورت میں ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) محسوس کرتے ہیں کہ ان کے رب کی مرضی ہی ایسی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو اس طرح سر انجام دینا چاہئے جس طرح رب کی مرضی ہے۔ رب کا حکم سر آنکھوں پر ۔ لہٰذا بچے کو بھی معلوم ہونا چاہئے کہ معاملہ کیا درپیش ہے اور وہ بھی اس حکم کھے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔ کوئی جبر اور کوئی اضطرار نہ ہوتا کہ اس کو بھی اطاعت امر کا اجر ملے۔ وہ بھی تسلیم و رضا کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو اور اطاعت امر کے مٹھاس کو پالے۔ ذرا ان کے اکلوتے بھی جان سپردگی کی لذت چکھ لیں اور وہ بھی وہ بھلائی دیکھ لیں جو زندگی کے مقابلے میں اعلیٰ وارفع ہے اب بیٹے کا فیصلہ کیا ہے ؟ کہ اس کے باپ نے خواب دیکھا ہے اور باپ خواب بیٹے کے سامنے رکھتے ہیں اور تجویز یہ ہے کہ بیٹے کو ذبح کردیا جائے ، فیصلہ کیا ہے ؟ بیٹا بھی آخر حضرت ابراہیم کا بیٹا ہے۔ وہ بھی اس مقام بلند پر پہنچ چکے ہیں جس پر حضرت ابراہیم ہیں۔ قال یابت افعل۔۔۔۔ من الصبرین (37: 102) ” اس نے کہا ، ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالئے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ حضرت اساعیل بھی اس حکم کے سامنے صرف سر تسلیم خم نہیں کردیتے بلکہ وہ نہایت اعتماد اور رضائے الٰہی سے سرشار ہو کر تسلیم کرتے ہیں۔ یا ابت ابا جان ، نہایت ہی محبت اور نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ۔ وہ ذبح ہونے جا رہے ہیں لیکن ان پر کوئی خوف نہیں ہے ، کوئی جزع و فزع نہیں ہے۔ ان کے حواس بحال ہیں بلکہ ادب اور محبت میں بھی کوئی کمی نہیں آتی ہے۔ افعل ما تومر (37: 102) ” آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر عمل فرمائیں “۔ حضرت اسماعیل کا احساس بھی وہی ہے۔ جو اس سے قبل آپ کے باپ کا تھا۔ بیٹا بھی یہ سمجھا ہے کہ باپ کو ذبح عظیم کا اشارہ مل گیا ہے۔ اور خدا کی طرف سے اشارہ بھی امر ربی ہے اور ایک جلیل القدر پیغمبر کیلئے یہ اشارہ ہی کافی ہے کہ وہ بغیر کسی تردد ، بغیر کسی شک اور بغیر کسی بہانہ سازی کے عمل کریں۔ بارگاہ رب العزت میں نہایت ادب کے ساتھ بات ہو رہی ہے۔ بات کرنے و الے کو اپنی قوت کے حدود کا اچھی طرح علم ہے اور اپنی قوت برداشت کا بھی علم ہے۔ اسے اپنی کمزوریوں کا علم ہے۔ اس لیے اللہ کی معاونت طلب کی جاتی ہے۔ اس لیے اس قربانی اور اطاعت شعاری کی نسبت بھی اللہ کی مشیت کی طرف کی جاتی ہے۔ ستجدنی انشاء اللہ من الصبرین (37: 102) ” آپ انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ یہ بیٹے اپنی بہادری کا اظہار بھی نہیں کرتے۔ نہ جسورانہ اور تہورانہ بات کرتے ہیں۔ نہ لاپرواہی سے دوڑ کر خطرے میں کودتے ہیں ۔ وہ اپنی شخصیت کا کوئی رنگ یہاں نہیں دکھاتے۔ نہ اپنا حجم اور نہ اپنا وزن جتاتے ہیں۔ تمام معاملے کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں ۔ کہ اللہ نے جو قربانی طلب کی ہے اگر اللہ کی معاونت شامل حال رہی اور اس نے صبر عطا کردیا تو یہ کام ہوجائے گا۔
Ayahs 37:103–104

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

آخر کو جب دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ندا دی کہ ” اے ابراہیم

ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین (37: 102) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے “۔ ورنہ نہیں۔ کیا شان ہے اللہ کے جناب میں عاجزی کی۔ اور کس قدر روشن ایمان ہے کس قدر عالی شان اطاعت اور بےمثال تسلیم و رضا ہے یہ ! باتوں سے آگے اب اس منظر میں واقعات ایک قدم آگے بڑھتے ہیں۔ اب صرف مکالمہ نہیں ہے عمل شروع ہو رہا ہے فلما اسلما وتلہ للجبین (103) ” “۔ ایک بار پھر یہاں اطاعت سر بلند ہوتی ہے اور عظمت ایمان کا اظہار ہوتا ہے اور تسلیم و رضا کی وہ مثال سامنے آتی ہے جو پوری انسانی تاریخ کا ایک جلی عنوان ہے۔ ایک انسان اپنے اکلوتے بیٹے کو منہ کے بل گراتا ہے تاکہ اسے ذبح کے لیے تیار کرلے۔ اور وہ لڑکا بھی سر تسلیم خم کرتا ہے اور بےحس و حرکت گر جاتا ہے۔ بات اب عمل تک آپہنچی ہے اور قریب ہے کہ چھری چل جائے۔ باپ بیٹے دونوں نے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ یہی ہے اسلام۔ اسلام میں تسلیم و رضا ہی اصل حقیقت ہے۔ اعتماد ، طاعت ، اطمینان اور تسلیم و رضا ، دونوں کے جذبات ، نظریات اور عمل یکساں ہیں۔ نفاذ امر کے لیے تیار ہیں۔ اس قسم کی تیاری کہ تنفیذ کے لیے بس ایک کش کی ضرورت ہے اور یہ کام ایک عظیم ایمان ہی کرسکتا ہے۔ یہ جرات اور جسارت کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ جوش اور بہادری کا معاملہ نہیں ہے۔ بعض اوقات میدان کا رزار میں ایک مجاہد پر جوش انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ قتل کرتا ہے اور قتل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک فدائی اقدام کرتا ہے اور اسے علم بھی ہوتا ہے کہ وہ زندہ نہ بچے گا لیکن وہ جذبہ فداکاری سے سرشار ہوتا ہے اور یہ ایک انداز ہوتا ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جو کچھ کر رہے ہیں اس کی ادا بالکل نرالی ہے۔ یہاں کوئی خونی جوش نہیں ہے۔ نہ جذبہ حمایت کار فرما ہے ۔ نہ عجلت پسندانہ جوش ہے جس کی تہہ میں خوف و ہراس کو چھپایا جاتا ہے۔ کمزوری اور بزدلی کو نعروں میں لپیٹ لیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایسی تسلیم و رضا ہے جو معاملے کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر کی جا رہی ہے۔ عقلمندی کے ساتھ ایک کام ہو رہا ہے۔ قصد و ارادے اور سوچ و فکر کے بعد ہو رہا ہے۔ پورے مشورے اور بحث و مباحثے کے بعد۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ، اطمینان کے ساتھ کہ نتائج کیا ہوں گے۔ ٹھنڈی رضا مندی ، خوشی خوشی سے اللہ کا جذبہ اطاعت کام کر رہا ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے حق ادا کردیا۔ تسلیم و رضا کا اظہار ہوگیا۔ امر الٰہی کو وہ روبعمل لے ہی آئے۔ فرض پورا کردیا۔ بس چھری کی ایک کش ہی باقی رہ گئی تھی۔ خون کی ایک دھار ہی باقی تھی۔ اکلوتے بیٹے کی روح کی پرداز ہو چکنی باقی تھی۔ اللہ کے ہاں اس روح کی کوئی زیادہ اہمیت نہ تھی۔ اللہ کے پیمانے میں وزن کسی اور چیز کا تھا جو ہوچکا۔ دونوں نے عزم و ارادہ اس میزان میں رکھ دیا تھا۔ رب جانتا تھا کہ ان کے شعور کی حالت کیا ہے ، ان کا جذبہ کیا ہے۔ یہ ایک امتحان تھا جو ہوچکا۔ اس میں وہ فتح یاب ہوگئے۔ نتائج سامنے آگئے۔ مقصد امتحان پورا ہوگیا جو بات رہ گئی وہ صرف یہ تھی کہ کوئی تڑپ جائے۔ خون بہہ جائے۔ ذبیح کا جسم ٹھنڈا ہوجائے۔ لیکن اللہ بندگی و اطاعت چاہتا ہے۔ عبادت کے معنی اسلام میں ابتلا اور تعذیب نہیں۔ اللہ خون اور جسموں کو گرانا نہیں چاہتا۔ جب خلوص کا اظہار ہوگیا۔ بندہ اس مشکل حکم کی تعیل کے لیے تیار ہوگیا۔ اپنے دل و جان سے تیار ہوگیا تو فرض ادا ہوگیا اور امتحان میں وہ کامیاب ہوگیا۔ اللہ جانتا تھا کہ ابراہیم اور اسماعیل دونوں سچے ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کی تیاری ہی کو عمل سمجھا۔
Ayahs 37:105–107

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

، تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

“۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا

ونادینہ ان یابراھیم ۔۔۔۔۔ بذبح عظیم (105 – 107) ” ۔ “۔ تمہارا خواب بھی سچا تھا ، تم نے اسے سچ کر دکھایا۔ عملاً سچا کردیا۔ اللہ تو تسلیم و رضا کا خواہش مند ہے۔ یوں کہ نفس کے اندر کوئی ایسی بات نہ رہے جو اللہ سے چھپائے ، جو اللہ کے حکم سے زیادہ عزیز ہو ، یا حکم الٰہی کے مقابلے میں کوئی تحفظ ہو۔ اگرچہ وہ اکلوتا بیٹا اور جگر گوشہ ہو۔ اگرچہ وہ جان اور روح ہو۔ اے ابراہیم تو نے تو یہ گویا کر دکھایا۔ تم تو ذبح عظیم کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ اگر اللہ ہاتھ کو نہ پکڑتا۔ تم نے عزیز ترین متاع قربان کردی تھی۔ اور تم نہایت ہی سنجیدگی ، دھیمے انداز اور پروقار طریقے سے ، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ، مشورے اور سوچ کے ساتھ قربانی کردی۔ اب تو صرف خون اور گوشت رہ گیا تھا۔ اس مقام پر انسان کے خون اور گوشت کے بدلے قربانی کا خون اور گوشت پیش کردیا جاتا ہے۔ اس کا بدل دے دیا جاتا ہے اور اسے ذبح عظیم کا نام بھی دے دیا جاتا ہے۔ ایک ایک مینڈھا حکم ربی سے ابراہیم (علیہ السلام) کی چھری کے نیچے آجاتا ہے۔ اور وہ اسے اسماعیل (علیہ السلام) کے بدلے ذبح کردیتے ہیں اور کہا جاتا ہے : انا کذلک نجری المحسنین (37: 105) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ ہم ان کو اس قسم کی آزمائش کے لیے چن کر ان پر کرم کرتے ہیں اور ان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور اطاعت وفا کے لیے تیار کرکے اور ان کو اس عظیم کام پر آمادہ کرکے ان پر انعام کرتے ہیں اور اس قسم کی عظیم قربانی پر ان کو قدرت دے کر اور صبر دے کر ان کو جزاء دیتے ہیں۔ اور ھقیقی جزاء کے مستحق قرار دے کر ان پر احسان کرتے ہیں۔ اس تعذیب و ابتلا کو ایک سنت جاریہ بنایا گیا ہے۔ ہر بقر عید پر قربانی جاری ہوگئی۔ یہ اس عظیم واقعہ کی دائمی یادگار ہے۔ جس کے اندر ایمان اپنے عروج پر نظر آتا ہے جس میں اطاعت کا حسن اور تسلیم و رضا کی بلندی اور عظمت نظر آتی ہے۔ اور امت مسلمہ اس قربانی کی یاد تازہ کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے جدا مجد حضرت ابراہیم کی عظمت کی معرفت تازہ ہوتی رہے۔ جن کی ملت پر یہ امت ہے جن کی نسبت اور جن کی نطریاتی میراث کی وہ وارث ہے تاکہ وہ اس نظریہ حیات اور ان عقاید و ایمانیات کا اچھی طرح ادراک کرسکے جو ملت ابراہیمی کی میراث ہیں۔ اور جسے معلوم ہو کہ مسلم وہ ہوتا ہے ۔ جو بےچون و چرا رب تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرے ، خوشی خوشی۔ اور اللہ کا حکم پاتے ہی بلکہ اشارہ پاتے ہی وہ اسے روبعمل لائے۔ اپنے لیے کچھ نہ رکھے۔ کوئی تحفظ نہ ہو۔ وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی اپنا طریقہ ، اپنا اسلوب اختیار نہ کرے بلکہ اللہ کی مرضی اور اس کے طریقے کے مطابق عمل پیدا ہو ، جس طرح حکم ہو اور جس طرح حکم ملا ہو۔ پھر امت کو یہ بھی سبق دیا گیا کہ اللہ کے احکام کی تعمیل میں امت پر سختی اور تشدد مطلوب نہیں ہے کہ اسے ایسے احکام دئیے جائیں جو اس کی وسعت اور طاقت میں نہ ہوں۔ اللہ ایسے احکام دیتا ہے جن پر امت لبیک کہہ کر تعمیل کرسکے۔ اور پوری طرح ان احکام کو ادا کرسکے۔ اور جو حکم بھی آئے اس پر سلمنا کہے۔ اور اپنی طرف سے کوئی تجویز نہ دے۔ نہ اس میں سستی دکھائے اور نہ احسان جتلائے۔ جب اللہ آمادگی اور تسلیم کو جان لیتا ہے تو پھر وہ اپنے بندوں کو عذاب دے کر اور ان پر تشدد کرکے خوش نہیں ہوتا۔ آمادگی اور سرتسلیم خم کرنا ہی دراصل عمل شمار ہوا اور اصل عمل کا فدیہ دے دیا گیا۔ یہ سلوک اللہ کا اس امت کے ساتھ ہے جس طرح اس کے جد امجد ابراہیم کے ساتھ ہوا۔
Ayah 37:108

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی

وترکنا علیہ فی الاخرین (108) ” “۔ صدیوں سے اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) امہ قرار پائے۔ انبیاء کے باپ قرار پائے۔ اس امت کے باپ قرار پائے۔ یہ امت ان کی ملت کی وارث ہوئی۔ اور اللہ نے اسی لیے ان کے ذمہ پوری بشریت کی راہنمائی اور قیادت کا فیضہ عائد کیا۔ چناچہ اس امت کو ابراہیم کا جانشین قرار دیا گیا۔ قیامت تک کے لئے۔
Ayah 37:109

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلام ہے ابراہیم پر

سلم علی ابراہیم (109) ” “۔ رب تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم پر سلام آتا ہے۔ اس کو قرآن کریم جیسی دائمی اور باقی رہنے و الی کتاب میں رجسٹر کردیا جاتا ہے ۔ اور یوں اسے اس کائنات کے وجود میں ثبت کردیا جاتا ہے۔
Ayah 37:110

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

کذلک نجزی المحسین (110) ” ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ آزمائش میں ڈال کر ان سے وفا کا اظہار کرا کے ، ان کے ذکر کو دوام بخش کر ، ان پر سلام بھیج کر ، اور ان کو اعزاز دے کر ہم جزاء دیتے ہیں۔
Ayah 37:111

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

انہ من عبادنا المؤمنین (111) ” “۔ یہ ہے جزاء ان کے ایمان کی اور اس کی حقیقت وہ ہے جو اس آزمائش میں کامرانی سے ظہور میں آئی۔ اس کے بعد اللہ ان پر ایک بار پھر تجلیات فرماتا ہے۔ اور اللہ کا ایک بار پھر کرم ہوتا ہے۔ اور وہ یوں کہ بڑھاپے میں ان کو ایک دو سرا لڑکا اسحاق دیا جاتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی برکت دی جاتی ہے۔ اور ان کے بیٹے اسحاق کو بھی برکت دی جاتی ہے اور حضرت اسحاق کو بھی صالح نبی بنایا جاتا ہے۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی ، ایک نبی صالحین میں سے

وبشرنہ باسحق۔۔۔۔۔ لنفسہ مبین (112- 113) ” ۔ اسماعیل اور اسحاق کے بعد ان کی اولاد کا سلسلہ چلتا ہے لیکن ان کی اولاد کی وراثت ، وراثت گوشت و پوست نہیں ہے۔ یہ نظریاتی اور ملی وراثت ہے لہٰذا جو اس ملت پر رہا وہ محسن رہا اور جس نے ملت اور نطریات سے انحراف کیا وہ ظالم قرار پایا اور قرابت اور نسب اس کے لیے مفید نہ ہوا۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور اسے اور اسحاق کو برکت دی۔ اب ان دونوں کی ذریت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے

ومن ذریتھما ۔۔۔۔ لنفسہ مبین (37: 113) ” اب ان دونوں کی ذریت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے “۔ اور انہی کی اولاد سے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تھے۔