37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 37:154–155

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کیسے حکم لگا رہے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

۔ کیا تمہیں ہوش نہیں آتا ؟

مالکم کیف۔۔۔۔۔ تذکرون (37: 154 – 155) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کیسے حکم لگا رہے ہو ، کیا تمہیں ہوش نہیں آتا “۔ یہ استدلال تم کہاں سے نکال لائے ہو ، عجیب ہے یہ ؟
Ayahs 37:156–157

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

، تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔

ام لکم ۔۔۔۔۔ صدقین (37: 156 – 157) ” پھر کیا تمہارے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔ ان کا دوسرا افسانہ یہ تھا کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔
Ayahs 37:158–159

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

انہوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ یہ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ ان کی طرف منسوب کرتے ہیں “۔

وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے
Ayah 37:160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

” ماسوائے اللہ کے ان بندوں کئ جو مخلص ہیں “۔

الا عباد اللہ المخلصین (160) یہاں جنوں سے اللہ کے نیک بندوں کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے جو جنوں سے ہیں اور جو ایمان لانے والے ہیں۔ اس کے بعد فرشتوں کی طرف سے خطاب ہے ، ان مشرکین کو اور ان کے ان معبودوں کو ، جن کی وہ بندگی کرتے تھے۔ یہ خطاب ان کے خود ساختہ عقائد پر ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ بظاہر انداز کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا ہے۔
Ayahs 37:161–166

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

پس تم اور تمہارے یہ معبود

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

” مگر صرف اس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلسنے والا ہو

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

۔ اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

ور تسبیح کرنے والے ہیں

فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔ یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
Ayahs 37:167–170

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

” کہ کاش ہمارے پاس وہ ” ذکر “ ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم اللہ کے چیدہ بندے ہوتے

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

مگر (جب وہ آگیا) تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں (اس روش کا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا

اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔ وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔ فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
Ayahs 37:171–173

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

ہمارا لشکر ہی غالب ہوکر رہے گا

ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔ یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔ اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔ اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔ بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔ اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔ ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔ اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔
Ayahs 37:174–179

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

پس اے نبی ﷺ ، ذرا کچھ مدت تک انہیں ان کے چال پر چھوڑ دو

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور دیکھتے رہو ، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

۔ کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو وہ دن ان لوگوں کے لیے بہت برا ہوگا جنہیں متنبہ کیا جاچکا ہے

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

،۔ پس ذرا انہیں کچھ مدت کے لئے چھوڑ دو

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہو ، عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے

فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔ ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔ دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔ فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔ وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

پاک ہے تیرا رب ، عزت کا مالک ، ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں ،

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور سلام ہے رسولوں پر ،

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔ سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ” یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔