37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 37:114–122

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ و ہارون پر احسان کیا

وَ نَجَّیْنٰهُمَا وَ قَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 37:115 in the Quran reader

، ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی ،

وَ نَصَرْنٰهُمْ فَكَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَۚ Open ayah 37:116 in the Quran reader

انہیں نصرت بخشی جس کی جوہ سے وہی غالب رہے ،

وَ اٰتَیْنٰهُمَا الْكِتٰبَ الْمُسْتَبِیْنَۚ Open ayah 37:117 in the Quran reader

ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی

وَ هَدَیْنٰهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۚ Open ayah 37:118 in the Quran reader

” ، انہیں راہ راست دکھائی

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِمَا فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:119 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 37:120 in the Quran reader

سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:121 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں ،

اِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:122 in the Quran reader

درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے “۔

ولقد مننا علی موسی۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (114 – 122) ۔ قصہ موسیٰ کی اس جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا کہ ان کو منصب نبوت کے لیے منتخب کیا اور ان کے ذریعہ ان کو اور ان کی قوم کو نجات دی اور یہ نجات ان کو اس عظیم اذیت سے دلائی جس میں وہ اور ان کی قوم مبتلا تھے۔ دوسری سورتوں میں اس کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا کہ ظالموں اور جلادوں پر ان کو نصرت اور غلبہ دیا گیا اور ان کو واضح احکام پر مشتمل کتاب دی گئی اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی گئی۔ وہ راستہ جو اللہ تمام اہل ایمان کو عطا کرتا ہے یعنی اسلامی نظام زندگی اور ان پر یہ احسان کہ موسیٰ و ہارون کے ذکر کو دوام بخشا گیا۔ اس حصے کا خاتمہ بھی موسیٰ اور ہارون پر اللہ کی طرف سے سلامتی کے اظہار سے ہوتا ہے۔ یہ مختصر اور پرتاثیر فقرے بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ جتانے کے لیے کہ اللہ اپنے محسن بندوں پر احسان بھی کرتا ہے اور ان کے ذکر کو دوام بھی بخشتا ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے کہ اہل ایمان کی قدر و قیمت ان کے ایمان اور اسلام کی وجہ سے ہوتی ہے یعنی احسان کی وجہ سے۔
Ayahs 37:123–132

وَ اِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:123 in the Quran reader

اور الیاس بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا

اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 37:124 in the Quran reader

۔ یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟

اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّ تَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَۙ Open ayah 37:125 in the Quran reader

” کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو

اللّٰهَ رَبَّكُمْ وَ رَبَّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 37:126 in the Quran reader

، اس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آباو اجداد کا رب ہے ؟ “

فَكَذَّبُوْهُ فَاِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:127 in the Quran reader

مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیاسو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں ،

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:128 in the Quran reader

، بجران بندگان خدا کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 37:129 in the Quran reader

اور الیاس کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِلْ یَاسِیْنَ Open ayah 37:130 in the Quran reader

سلام ہے الیاس پر

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:131 in the Quran reader

۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:132 in the Quran reader

۔ واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا “۔

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔ وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132) حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔ نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔
Ayahs 37:133–138

وَ اِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:133 in the Quran reader

اور لوط بھی انہیں لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

اِذْ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 37:134 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 37:135 in the Quran reader

، سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:136 in the Quran reader

پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا

وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ Open ayah 37:137 in the Quran reader

آج تم شب و روز ان کے اجڑے دیار پر سے گزرتے ہو

وَ بِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 37:138 in the Quran reader

کیا تم کو عقل نہیں آتی ؟ “۔

اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔ وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ” یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
Ayahs 37:139–142

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ Open ayah 37:139 in the Quran reader

اور یقینا یونس بھی رسولوں میں سے تھا

اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 37:140 in the Quran reader

۔ یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی میں عرب بھاگ نکلا

فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ Open ayah 37:141 in the Quran reader

، پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ Open ayah 37:142 in the Quran reader

آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا

وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148) قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔ لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
Ayahs 37:143–145

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ Open ayah 37:143 in the Quran reader

۔ اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا

لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ Open ayah 37:144 in the Quran reader

تو روز قیامت تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا

فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ Open ayah 37:145 in the Quran reader

آخر کار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا

فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
Ayahs 37:146–147

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ Open ayah 37:146 in the Quran reader

اور اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔

وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ Open ayah 37:147 in the Quran reader

۔ اس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا۔

وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا رہتا ہے۔
Ayah 37:148

فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ Open ayah 37:148 in the Quran reader

۔ وہ ایمان لائے ، اور ہم نے ایک وقت خاص تک انہیں باقی رکھا

فامنوا فمتعنھم الی حین (37: 148) ” وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک مقررہ وقت تک ان کو متاع حیات دیا “۔ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے۔ یہ قصہ یہاں یہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں جبکہ سابقہ قصص کا مدعا یہ بتانا تھا کہ جو ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا اے قوم محمد ، تم ان دو انجاموں میں سے اپنے لیے جو انجام چاہتے ہو ، اختیار کرلو۔ یہاں آکر اس سورت کا یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس پر وہ تاریخی جائزہ بھی ختم ہوتا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام ڈرانے والوں کی اقوام کے انجام کے بارے میں تھا ، خواہ وہ مومنین تھے یا مکذبین تھے۔
Ayahs 37:149–150

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

پھر ذرا ان لوگوں سے پوچھو ، کیا (ان کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے ؟

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

” کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنایا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟

درس نمبر 210 ایک نظر میں اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے اور ان کو یاد دلائیں کہ تم تو تمنائیں کرتے تھے کہ ہم میں بھی کوئی رسول آجائے اور تم یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی رسول آجائے تو ہم اس کی ہدایات کو بسر و چشم قبول کریں گے لیکن ان تمہارا حال یہ ہے کہ جب رسول آگیا تو تم نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ سورت کا خاتمہ اس ریکارڈ پر ہوتا ہے کہ اللہ نے رسولوں کے ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور یہ کہ یہ مشرکین اللہ کی طرف جو نسبتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ چناچہ آغاز ہوتا ہے۔ درس نمبر 210 تشریح آیات 149 ۔۔۔ تا۔۔۔ 182 فاستفتھم الربک البنات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (149 – 157) ان کے اس غلط عقیدے کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کی زبان میں بات کی جاتی ہے اور ان کے سماج میں جو سوچ تھی اسی کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں کے سماج میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اور وہ بچیوں کی پیدائش کو مصیبت سمجھتے تھے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چناچہ اس عقیدے کو ان کی منطق اور سوچ کے مطابق رد کردیا گیا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ حقیقت تو دور کی بات ہے خود ان کے تسلیم شدہ معیار کے مطابق بھی ان کا عقیدہ غلط ہے۔ فاستفتھم الربک البنات ولھم النبون (37: 149) ” پھر ذرا ان سے پوچھو کہ تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے “۔ کیا تمہارے دل کو یہ بات لگتی ہے۔ جبکہ تمہارے سماج میں لڑکیاں لڑکوں سے کم تر رتبہ رکھتی ہیں۔ کیا خوب تقسیم ہے تمہاری ، کہ تمہارے لیے ہوں بیٹے اور خالق کے لیے ہوں بیٹیاں یا یہ کہ خود اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں چن لیں اور بیٹے تمہارے لیے چھوڑ دئیے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ تمہارے یہ مزعومات کس قدر پوچ ہیں۔ آج تمہارے اندر یہ افسانوی سوچ کیسے پیدا ہوگئی۔ کہاں سے یہ عقیدہ پھیل گیا کہ فرشتے مونث ہیں۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا ہے ، اس وقت یہ موجود تھے اور انہوں نے ان کی جنس کو معلوم کرلیا ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون (37: 150) “ کیا ہم نے ملائکہ کی تخلیق مونث کے طور پر کی اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس مقولے اور عقیدے کو ان کے منصوص الفاظ میں نقل کرکے رد کرتا ہے۔
Ayahs 37:151–152

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

خوب سن رکھو ، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں

الا انھم من۔۔۔۔۔ لکذبون (37: 151 – 152) ” دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں “۔ یہ اپنے سماج کے مسلمہ رواج اور اپنی ثابت شدہ روایات کے خلاف یہ بات کرتے ہیں۔ یہ خود تو بیٹے چاہتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں۔
Ayah 37:153

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کرلیں ،

اصطفی البنات علی البنین (37: 153) ” کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کیں “۔ تمہاری یہ منطق خود تمہارے غلط یا صحیح مسلمات کی رو سے ہی غلط ہے۔