37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں

آیت 1{ وَالصّٰٓفّٰتِ صَفًّا } ”قسم ہے ان فرشتوں کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔“ گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔
Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

ھرقسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔

آیت 2{ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی پر عذاب کا حکم دیتا ہے تو فرشتوں کی ایک ڈانٹ صَیحَۃ سے وہ بستی تباہ اور متعلقہ قوم ہلاک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں ایک قوم کے بارے میں فرمایا گیا : { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ تو اسی وقت وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“
Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی

آیت 3{ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔“ یعنی اللہ کا جو کلام انبیاء و رسل علیہ السلام پر نازل ہوتا ہے اسے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں۔ -۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی یہ تمام فرشتے اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔

آیت 4{ اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ } ”یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔“ جیسے کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘ ان سورتوں زیر مطالعہ گروپ کا مرکزی مضمون توحید اور ردِّ شرک ہے۔ اسی لیے یہاں ان قسموں کی گواہی کے بعد جو حقیقت بیان فرمائی گئی ہے وہ معبودِ حقیقی کے اکیلے اور تنہا ہونے کے بارے میں ہے۔ البتہ اس کے بعد مکی سورتوں کے جو آخری دو گروپس ہیں ان کا مرکزی مضمون چونکہ انذارِآخرت ہے ‘ اس لیے ان گروپس کی جن سورتوں کے آغاز میں ایسی قسمیں کھائی گئی ہیں وہاں ان قسموں کے بعد مقسم علیہ کے طور پر { وَاِنَّ الدِّیْنَ لَـوَاقِعٌ} الذّٰریٰت جزا و سزا اور حساب کتاب کا معاملہ یقینا ہونے والا ہے جیسی آیات آئی ہیں۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور تمام مشرقوں کا

آیت 5{ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ } ”جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور تمام مشرقوں کا۔“ یہاں ”مشارق“ کے بعد ”مغارب“ کا ذکر نہیں ہوا٭۔ اس لیے کہ زمین کا ہر مقام اور ہر نقطہ مشرق بھی ہے اور مغرب بھی۔ یعنی اگر ہم کسی وقت سورج کو کسی مقام پر غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں تو عین اسی وقت اسی مقام سے کسی دوسرے علاقے کے لوگ اسے طلوع ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے مشرق اور مغرب کا ذکر الگ الگ بھی ہوسکتا ہے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زمین کے تمام مقامات مشارق ہی ہیں۔ یعنی ہر جگہ سے کسی نہ کسی وقت سورج طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے

آیت 6{ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ } ”ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔“ السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘ یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰیہے یعنی ”قریب ترین“ جبکہ ”دُنْیَا“ کا لفظ اس کا مونث ہے۔
Ayah 37:7

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے

آیت 7{ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ } ”اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے۔“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الحجر کی آیت 17 کے ضمن میں اس کی وضاحت قدرے تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ بہر حال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ِجنات ّکی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور میری رائے اس کے متعلق یہ ہے کہ ان کو سورج کی آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی لیے نظام شمسی کی حدود میں جنات آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی اہتمام یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جیسے پرندے فضا میں آسانی سے ادھر ادھر اڑتے پھرتے ہیں اسی طرح جنات بھی نظام شمسی کی پوری فضا یا حدود میں اپنی مرضی سے جہاں چاہیں آ جاسکتے ہیں۔ البتہ نظام شمسی کی حدود سے تجاوز کرنے کی انہیں اجازت نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض سرکش جنات عالم بالا کے معاملات کی ُ سن گن لینے کے لیے اپنی حدود سے تجاوز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تخلیق کے اعتبار سے جنوں اور فرشتوں میں چونکہ قرب پایا جاتا ہے فرشتے نوری ہیں اور یہ ناری اس لیے شیاطین جن فرشتوں سے رابطہ کرنے اور کسی نہ کسی حد تک ان سے کچھ معلومات اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ فرشتے عالم بالا سے احکام لے کر جب آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتے ہیں تو شیاطین جن ان سے کچھ معلومات قبل از وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حفاظتی انتظام کر رکھا ہے۔ خصوصی طور پر نزول وحی کے زمانے میں اس حفاظتی نظام کو غیر معمولی طور پر فعال کیا جاتا رہا ہے۔
Ayah 37:8

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ سن نہیں پاتے ملأ اعلیٰ کی باتیں ور ان کو مار پڑتی ہے ہر طرف سے

آیت 8{ لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی } ”وہ سن نہیں پاتے ملأ اعلیٰ کی باتیں“ اصل میں یہ فعل یَتَسَمَّعُوْنَ باب تفعّل تھا ‘ جو یَسَّمَّعُوْنَ بن گیا ہے۔ { وَیُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ { ”اور ان کو مار پڑتی ہے ہر طرف سے۔“ عالم بالا تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے ان پر میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

بھگانے کے لیے اور ان کے لیے (پھر) ایک دائمی عذاب ہے۔

آیت 9{ دُحُوْرًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ۔ ”بھگانے کے لیے ‘ اور ان کے لیے پھر ایک دائمی عذاب ہے۔“
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

سوائے اس کے کہ جو کوئی اُچک لے کوئی چیز تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک چمکتا ہوا انگارہ

آیت 10{ اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃَ فَاَتْبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ} ”سوائے اس کے کہ جو کوئی اُچک لے کوئی چیز تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک چمکتا ہوا انگارہ۔“ یعنی ان میں سے جو کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہوا پایا جاتا ہے وہ اس میزائل کا شکار ہوجاتا ہے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

تو (اے نبی ﷺ !) ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے

آیت 11{ فَاسْتَفْتِہِمْ اَہُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا } ”تو اے نبی ﷺ ! ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے !“ یہ کفار و مشرکین کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد ان کا پھر سے زندہ ہوجانا کیسے ممکن ہے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جیسے انسانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اس وسیع و عریض کائنات کو بنانا ؟ اور یہ کہ جس اللہ نے یہ کائنات پیدا کی ہے ‘ اس کے اندر سورج اور چاند کا نظام بنایا ہے ‘ سیاروں ‘ ستاروں اور کہکشائوں کی دنیائیں آباد کی ہیں ‘ کیا تم اس اللہ کے بارے میں خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں پھر سے پیدا نہیں کرسکے گا ! { اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ } ”ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے۔“ یعنی وہ ایسا گارا تھا جس میں عمل تخمیر fermentation کی وجہ سے چپچپاہٹ اور لیس پیدا ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ انسان کے مادہ تخلیق کے بارے میں قرآن نے مختلف مقامات پر تُراب مٹی ‘ طِین گارا ‘ طِینٍ لاَّزِب لیس دار گارا ‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون سڑاند والا گارا اور صلصالٍ کا لفخّار ٹھیکری جیسی کھنکھناتی ہوئی مٹی کے الفاظ کا ذکر کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الحجر : 26 کی تشریح۔
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ (اے نبی ﷺ !) آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں !

آیت 12{ بَلْ عَجِبْتَ وَیَسْخَرُوْنَ } ”بلکہ اے نبی ﷺ ! آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں !“ آپ ﷺ کو بجا طور پر ان کے رویے ّپر تعجب ہوتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ میں تو انہیں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہوں ‘ انہیں توحید کی طرف بلاتا ہوں ‘ اس توحید کی طرف جس کا ایک واضح تصور ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر بھی موجود ہے ‘ جبکہ یہ لوگ میری ان باتوں پر غور کرنے اور میری اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اُلٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔
Ayah 37:13

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

آیت 13{ وَاِذَا ذُکِّرُوْا لَا یَذْکُرُوْنَ } ”اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔“
Ayah 37:14

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں

آیت 14{ وَاِذَا رَاَوْا اٰیَۃً یَّسْتَسْخِرُوْنَ } ”اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔“
Ayah 37:15

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں مگر ایک کھلا جادو

آیت 15{ وَقَالُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں مگر ایک کھلا جادو۔“
Ayah 37:16

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

(وہ کہتے ہیں) کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟

آیت 16{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ } ”وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا ؟“ مرنے کے بعد انسانی گوشت تو جلد ہی گل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے ‘ لیکن ہڈیوں کا الگ سے ذکر اس لیے ہوا ہے کہ یہ سخت ہوتی ہیں اور بوسیدہ { عِظَامًا نَّخِرَۃً } النّٰزعٰت ہوجانے کے باوجود بھی لمبے عرصے تک موجود رہتی ہیں۔
Ayah 37:17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا پہلے زمانے کے ہمارے آباء و اَجداد کو بھی

آیت 17{ اَوَاٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ } ”اور کیا پہلے زمانے کے ہمارے آباء و اَجداد کو بھی !“ تو کیا ہمارے ان آباء واجداد کو بھی زندہ کرلیا جائے گا جنہیں فوت ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں اور ان کی ہڈیاں تک بھی مٹی میں تحلیل ہوچکی ہیں۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

ٓپ ﷺ کہیے : ہاں ! (تم اٹھائے بھی جائو گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے

آیت 18{ قُلْ نَعَمْ وَاَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : ہاں ! تم اٹھائے بھی جائو گے اور تم ذلیل بھی ہوگے۔“ نہ صرف تم سب کو اٹھا لیا جائے گا بلکہ اس وقت تمہیں اپنے اس کفر اور انکار کے باعث ذلت و خواری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
Ayah 37:19

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہوگی تو جبھی وہ (زندہ ہو کر) دیکھنے لگیں گے۔

آیت 19{ فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ یَنْظُرُوْنَ } ”بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہوگی ‘ تو جبھی وہ زندہ ہو کر دیکھنے لگیں گے۔“ ہماری طرف سے ایک زور دار ڈانٹ کی صورت میں حکم دیاجائے گا جس کی تعمیل میں تمام انسانوں کے ذرات اجسام آنِ واحد میں مجتمع ہو کر جیتے جاگتے انسانوں کی صورت اختیار کرلیں گے۔
Ayah 37:20

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت یہ تو بدلے کا دن ہے

آیت 20{ وَقَالُوْا یٰوَیْلَنَا ہٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ } ”اور وہ کہیں گے : ہائے ہماری شامت ‘ یہ تو بدلے کا دن ہے !“ یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آگیا ہے جس کے بارے میں ہمیں بار بار بتایا جاتا تھا اور ہم بار بار اس کی نفی کرتے تھے۔
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے

آیت 21{ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ } ”اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔“
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(پھر حکم دیا جائے گا) جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے

آیت 22{ اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ’ پھر حکم دیا جائے گا جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے ‘ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کافروں ‘ مشرکوں اور ہر طرح کے مجرموں کو ‘ چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یا ِجنوں میں سے ‘ سب کو ایک جگہ جمع کرلو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی ساتھ ہی لے آئو۔
Ayah 37:23

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

اللہ کے سوا پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو !

آیت 23 مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ’ اللہ کے سوا“ { فَاہْدُوْہُمْ اِلٰی صِرَاطِ الْجَحِیْمِ } ”پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھائو !“ اب ذرا جہنم کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرو ‘ ان کو escort کرو۔
Ayah 37:24

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور انہیں ذرا روکو ! ابھی ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔

آیت 24{ وَقِفُوْہُمْ اِنَّہُمْ مَّسْئُوْلُوْنَ } ”اور انہیں ذرا روکو ! ابھی ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔“
Ayah 37:25

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟

آیت 25{ مَالَـکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ } ”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟“ دُنیا میں تو تمہارے جتھے ّبہت طاقتور تھے ‘ وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا ‘ وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے مریم : 73 اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بےبس کیوں ہوگئے ہیں ؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو ؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟
Ayah 37:26

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !

آیت 26{ بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ”بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !“ آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
Ayah 37:27

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے

آیت 27{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے۔“
Ayah 37:28

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ !

آیت 28{ قَالُوْٓا اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ } ”کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ !“ یعنی تم ہمارے سردار تھے اور اپنی اس حیثیت کا رعب جما کر ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کیا کرتے تھے۔ تم ہمارے پاس بہت رعب ‘ دبدبے ‘ طاقت اور زور کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ لفظ ”یمین“ کے معنی طاقت کے بھی ہیں اور داہنی طرف کے بھی۔ چناچہ آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ ”تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس دائیں طرف سے۔“
Ayah 37:29

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ کہیں گے (کہ نہیں !) بلکہ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے

آیت 29{ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ”وہ کہیں گے کہ نہیں ! بلکہ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔“
Ayah 37:30

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے

آیت 30{ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ } ”اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں ‘ بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔“
Ayah 37:31

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول اب تو ہمیں (عذاب کا) مزہ چکھنا ہی ہوگا

آیت 31{ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ } ”تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول ‘ اب تو ہمیں عذاب کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا : { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } السجدۃ ”میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام نافرمان جنوں اور انسانوں سے“۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہوچکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں۔
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا ہم خود بھی تو گمراہ تھے

آیت 32{ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ } ”تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا ‘ ہم خود بھی تو گمراہ تھے۔“ تم لوگ درست کہتے ہو کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا ‘ لیکن ایسا تو نہیں تھا کہ ہم خود ہدایت پر تھے اور تمہاری گمراہی کا باعث بنے۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لیے تم لوگوں کو بھی ہم اسی تباہی کے راستے پرلے آئے۔
Ayah 37:33

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے

آیت 33{ فَاِنَّہُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ”تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے۔“
Ayah 37:34

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں

آیت 34{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ } ”یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔“
Ayah 37:35

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے

آیت 35{ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلََ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ } ”ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے۔“ جب بھی ان کے سامنے کلمہ توحید لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اپنے گھمنڈ میں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Ayah 37:36

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں

آیت 36{ وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ } ”اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں !“ حضور ﷺ کی شان میں یہ لوگ ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ان کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم کئی نسلوں سے پرستش کرتے آئے ہیں !
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوں ﷺ نے تصدیق کی تمام رسولوں ؑ کی !

آیت 37{ بَلْ جَآئَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوں ﷺ نے تصدیق کی تمام رسولوں علیہ السلام کی !“
Ayah 37:38

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

اب تمہیں یقینا دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا

آیت 38{ اِنَّکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ } ”اب تمہیں یقینا دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔“
Ayah 37:39

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔

آیت 39{ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔“
Ayah 37:40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے

آیت 40{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔“ آج اللہ کے چیدہ بندے ہی اس انجامِ بد سے محفوظ رہیں گے۔ مُخلَص لام کی زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ”خالص کیا گیا“۔ یہاں وہ بندے مراد ہیں جنہیں اللہ نے خاص کرلیا ہو ‘ جنہیں اپنے لیے ُ چن کر الگ کرلیا ہو۔