37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 37:1–15

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف باندھ کر کھڑے ہونے والوں کی ‘

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر ڈانٹنے والوں کی دھمکا کر،

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ذکر الٰہی میں تلاوت کرنے والوں کی،

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

البتہ تمہارا معبود تو ایک ہی ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین اور اس کے اندر کی سب چیزوں کا اور مشرقوں کا رب

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے نیچے کے آسمانوں کو ستاروں سے سجایا ہے

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور اس کو ہر ایک شیطان سرکش سے محفوظ رکھا ہے

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

کہ وہ عالم بالا کی لوگوں کی باتوں کی طرف کان بھی نہیں لگاسکتے۔

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

ان پر ہر طرف سے کھدیڑنے کے لیے انگارے شہاب پھینکے جاتے ہیں اور ان کے لیے ہمیشہ کا عذاب ہے،

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر جو کوئی بات لے بھاگتا (اچک لیتا) ہے تو اس کے پیچھے دہکتا ہوا انگارا پڑتا ہے۔

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

پس (اے رسول ! ) ان سے پوچھو کہ ان کا بنانا بڑی بات ہے یا ان چیزوں کا کہ جس کو ہم نے لیس دار گارے سے بنایا ہے،

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

بلکہ آپ تو (ان کی احمقانہ باتوں پر) تعجب کرتے ہیں اور یہ ہنسی اڑاتے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب سمجھائے جاتے ہیں تو سمجھتے نہیں

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی قدرت کی نشانی دیکھتے ہیں تو ہنسی کرتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ تو محض صریح جادو ہے۔

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ بت پرستی کرتے تھے۔ ستاروں کو بھی قضاء و قدر میں شریک جانتے تھے، جس پر وہ غیب دانی کا دعویٰ کرتے تھے اور ان شیاطین کی قدرونیاز کروایا کرتے تھے اور قیامت کے بھی منکر تھے، ان سب باتوں کا رد اس سورة میں کرتا ہے اور پہلے دلائل سے رد کرچکا تھا، مگر مخاطبین کو وثوق دلانے کے لیے کلام کو قسم کے ساتھ شروع کرتا ہے۔ فقال والصافات صفا الخ تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ اول صافات یعنی صف باندھنے والے ‘ دوسرے زاجرات زجر کرنے والے ڈانٹنے اور روکنے والے ‘ تیسرے تالیات ذکرا اذکار کرنے والے۔ اب یا تو ان تینوں چیزوں سے ایک شے مراد ہے، یہ تینوں اس کے وصف ہیں یا تین چیزیں جد اجدا اول صورت میں علماء کے کئی قول ہیں۔ اول یہ کہ ملائکہ مراد ہیں، کیونکہ وہ آسمانوں میں عبادت کے لیے صف بستہ کھڑے رہتے یا حکم الٰہی کی تعمیل کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور ملائکہ ہی بادلوں کو ہانکتے اور ڈانٹتے ہیں یا یہ کہ شیاطین کو بنی آدم کے تکلیف دینے سے ڈانٹتے ہیں یا یہ کہ الہامات کے طور پر ملائکہ کو قلوب بنی آدم تک تاثیرات ہیں، وہ ان کو معاصی سے روکتے ہیں جس طرح کہ شیاطین آمادہ کرتے ہیں اور وہی ذکر الٰہی میں مصروف رہا کرتے ہیں یا اس سے نیک لوگ مراد ہیں جو جہاد و جماعت میں صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور کفار کو گمراہی سے روکتے اور مخالفین کو ڈانٹتے ہیں اور تلاوت قرآن کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں بھی کئی احتمال ہیں۔ ان چیزوں کی قسم کھاکر فرماتا ہے۔ ان الٰہکم لواحد الخ کہ تمہارا ایک ہی رب ہے، وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ستارے رب نہیں بلکہ انا زینا ان کو تو ہم نے آسمان کی زینت بنادیا ہے اور وہ شیاطین کے لیے اوپر جانے سے محافظ بھی ہیں، اسی قسم کا مضمون قرآن مجید میں کئی ایک جگہ آیا ہے۔ ایک جگہ آیا ہے۔ ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح وجعلناھا و رجومًا للشیاطین ایک جگہ ہے۔ وحفظناھا من کل شیطان رجیم الامن استرق السمع فاتبعہ شہاب مبین سورة جن میں آیا ہے۔ وانا لمسنا السماء فوجدناھا ملئت حرسا شدیدا و شہبا و انا کنا نقعد منہا مقاعد للسمع فمن یستمع الآن یجدلہ شہابا رصدا۔ اور احادیث صحیحہ میں بھی یہی مضمون منقول ہے۔ بخاری نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب آسمانوں پر کوئی حکم ہوتا ہے تو خوف کے مارے ملائکہ تھرا جاتے ہیں، پھر ایک دوسرے سے دریافت کرتا ہے۔ پھر اوپر کے طبقہ سے لے کر نیچے کے طبقے والے ملائکہ تک درجہ بدرجہ وہ بات پہنچتی ہے، نیچے کے طبقہ والوں سے شیاطین کوئی بات اڑا لے جاتے ہیں اور اس کو جادوگروں یا بھتنیوں والوں کو پہنچاتے ہیں، وہ ایک میں سو جھوٹی باتیں ملاکر مشہور کرتے ہیں، پھر کبھی یا اکثر ستارہ ان کے پیچھے دوڑتا ہے اور جلا دیتا ہے اور کبھی وہ کلمہ جادوگروں کو پہنچا دیتا ہے اور اسی کے قریب قریب ابن عباس ؓ سے مسلم نے روایت کیا ہے اور جمہور مفسرین اس پر متفق ہیں اور اہل سنت کا یہی اعتقاد ہے۔ اُوپر رات کو جو کچھ چمکتا ہوا نظر آتا ہے، اس کو عرف میں بجز نیزین کے ستارا کہتے ہیں کہ وہ ثوابت ہوں یا تھوڑی دیر کے بعد مٹ جاویں۔ جیسا کہ کرہ ارض سے اوخنہ جو اوپر کو صعود کرتے ہیں اور کرہ نار میں پہنچنے کے بعد ان میں آگ لگ جاتی ہے، پھر وہ مادہ مشتعل رات کو مختلف صورتوں میں روشن ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، کبھی دمدار ستارہ معلوم ہوتا ہے اور جس قدر وہ مادہ ہوتا ہے اتنا ہی اس کو قیام رہتا ہے۔ حتٰی کہ مہینوں تک خدا تعالیٰ بندوں کو اپنے عجائب مخلوقات میں قدرتیں دکھاتا ہے کہ یہ جو اوپر رات کو تمہیں ستارے معلوم ہوتے ہیں، ان سے آسمان کی زینت ہوتی ہے۔ اندھیرے میں نورانی قندیلیں مختلف صورتوں میں لٹکی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ یہ تو ثوابت ہیں اور بعض جو تم کو تارے معلوم ہوتے ہیں۔ (جس کو تم شہاب ثاقب کہتے ہو، یعنی اوخنہ ارضیہ اور جس کو تم دیکھتے ہو کہ آسمان سے ٹوٹتا ہے یا کوئی پھینک کر دوسری طرف مارتا ہے) ان سے ملائکہ سماوات کام لے رہے ہیں کہ شیاطین اوپر یعنی عالم بالا کی باتیں اور وہاں کے روزمرہ جاری ہونے والے حوادث کی خبریں سننے جاتے ہیں، ان کو ان سے مارتے ہیں اور گو شیاطین اور جن بھی ناری ہیں، ان کا غالب مادہ آتش ہے، مگر آگ کے درجے متفاوت ہیں۔ قوی ضعیف میں اثر کرتی ہے، اسی لیے ان کو جلادیتی ہے۔ جیسا کہ انسان کا قالب مادہ خاک ہے مگر پتھر کے مارنے سے جو وہ بھی خاکی ہے مرجاتا ہے، اس تقریر پر تمام شبہات دور ہوگئے۔ عقل و نقل میں موافقت ہوگئی۔ اب ہم آیات کی تفسیر کرتے ہیں کہ یہ جن و شیاطین کہ جن کو تم پوجتے اور غیب داں جانتے ہو، ان کی تو عالم بالا تک رسائی بھی نہیں اور جو کوئی وہاں تک جانے کا قصد کرتا ہے تو ملائکہ ہر طرف سے ان پر کھدیڑنے کے لیے ستاروں کے انگارے مارتے ہیں اور جو کوئی بات سن کر بھاگتا ہے تو اس کو شہاب ثاقب جالیتا ہے۔ فاستفتہم یہاں سے منکرین حشر کا رد کرتا ہے کہ ہم نے ان کو طین لازب یعنی چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے، کیونکہ انسان کا غالب مادہ مٹی ہے جو تر ہو کر اس کے اعضاء بنانے میں کام آئی ہے نہ صرف تر بلکہ اس کے کئی خمیر ہوتے ہیں، پھر خمیروں کا عطر لیا گیا ہے۔ پھر حشر برپا کرنا ہمیں کیا مشکل ہے ؟ بل عجبت اے محمد ﷺ تو اس جہل و انکار سے تعجب کرتا ہے اور وہ ہیں کہ تمسخر کررہے ہیں اور سمجھانے سے سمجھتے نہیں، جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو ٹھٹوں میں اڑاتے اور اس کو جادو بتاتے ہیں۔ تمسخر حمقاء کا کام ہے۔
Ayahs 37:16–21

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

(کہتے ہیں) کیا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی،

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

کہہ ضرور اور (اس وقت) تم بےبس ہوگے۔

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

پھر قیامت تو ایک ہی کڑک ہوگی، پھر تو فوراً زندہ ہو کر راہ تکیں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے ہائے کمبختی ! یہ تو جزا کا دن ہے۔

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ ہے فیصلہ کا دن کہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔

تفسیر : و اذا متنا وکناترابا یہاں سے پھر منکرین حشر کا قول نقل کرکے اس کا رد کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کیا جب ہم مرجاویں گے اور مر کر خاک ہوجاویں گے، ہم اور ہمارے باپ دادا زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو وہ اپنے نزدیک خدا تعالیٰ کی قدرت سے باہر جانتے ہوں گے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل نعم کہہ دے ہاں زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کفر و بدکاری کی وجہ سے تم ذلیل ہوگے اور اسی لیے جرم کی سزا سے بچنے کے لیے تم انکار کرتے ہو۔ پھر حشر برپا ہونے کی کیفیت اور حشر کے بعد جرموں کی سزا پانے کی کیفیت اور وہاں بتوں سے نا امیدی اور اس بت پرستی کی باز پرس اور آپس میں گمراہ کرنے والوں اور ان کے مریدوں کی تھکا فضیحتی کا وما تجرون الا ماکنتم تعملون تک ذکر کرتا ہے۔
Ayahs 37:22–27

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(حکم ہوگا) ظالموں کو اور ان کی بیبیوں 1 ؎ کو اور ان سب کو بھی کہ جس کو وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

حاضر کرو۔ پھر ان کو جہنم کے رستہ کی طرف ہانک کرلے جائو

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو کھڑا کرو کہ ان سے دریافت کرنا ہے۔

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تم کو کیا ہوا کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

بلکہ آج کے دن وہ سر جھکائے کھڑے ہوں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھے گا،

1 ؎ وہ بیویاں جو اپنے مشرک خاودن کے مذہب پر تھیں۔ 12 منہ
Ayahs 37:28–30

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

کہیں گے تم ہی تو ہم پر پل پل کر دائیں 2 ؎ طرف سے آیا کرتے تھے ،

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے کہ تم خود ہی ایمان نہیں لاتے تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کوئی زور بھی نہ تھا، بلکہ خود تم ایک گمراہ قوم تھے۔

2 ؎ لیکن یعنی حق دین میں سدراہ ہوتے تھے (زجاج) واحدی کہتے ہیں کہ ان کے گمراہ کرنے والوں نے قسمیں کھائیں تھیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ حق ہے یعنی تم قسم کے سبب سے کہتے تھے اور دائیں طرف سے آنا عرب میں عزت کے ساتھ آنے سے محاورہ ہے یعنی زور میں آتے تھے۔ 12 منہ
Ayahs 37:31–35

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

پھر ہم سب ہی پر ہمارے رب کا قول 3 ؎ پورا ہوگیا کہ ہم سب کو عذاب چکھنا ہے۔

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

پھر ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا، ہم خود بھی گمراہ تھے،

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پھر اس روز عذاب میں وہ سب یکساں ہوں گے۔

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی (برتائو) کیا کرتے ہیں،

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

کیونکہ جب ان سے لا الہ الا اللہ کہا جاتا تھا تو اکڑا کرتے تھے

3 ؎ یعنی قسمت کا لکھا ہوا پیش آیا ہم کیا کریں۔ 12 منہ
Ayahs 37:36–39

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے، کیا ہم ایک شاعر 4 ؎ دیوانہ کے لیے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے، بلکہ (نہ وہ شاعر ہے نہ دیوانہ)

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

دین حق لے کر آیا ہے اور خدا کے رسولوں کی تصدیق کی،

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

البتہ تم کو عذاب الیم چکھنا ہے

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو وہی بدلہ دیا جاوے گا کہ جو تم کیا کرتے تھے۔

4 ؎ شاعر دیوانہ جاہل کو کہتے تھے۔ 12 منہ