Ayahs 37:1–11آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے ہیں اور ایک لمحے کے لئے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت پر ان کی قسم کھائی ہے۔
(ان الھکم لواحد) ” یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے۔ “ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں، اس لئے خلاص اسی سے محبت کرو، صرف اسی سے ڈرو، صرف اسی کو اپنی امیدوں کا محور بناؤ اور عبادات کی تمام اقسام صرف اسی کے لئے مختص کرو۔
(آیت) ” جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب کا مالک ہے اور سورج کے طلوع ہونے کے مقامات کا بھی۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ ان مخلوقات کا خلاق، رازق اور ان یک تدبیر کرنے والا ہے۔ پس جس طرح کوئی ہستی اس کی ربوبیت میں شریک نہیں، اسی طرح اس کی الوہیت میں بھی شریک نہیں۔ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے توحید الوہیت کو توحید ربوبیت کے ساتھ مقرون بیان فرمایا ہے کیونکہ توحید ربوبیت توحید الوہیت پر دلالت کرتی ہے۔ مشرکین بھی توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ اسی چیز کو دلیل بناتا ہے جس کا وہ خود اقرار کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مشرق کا خاص طور پر ذکر فرمایا، کیونکہ یہ مغرب پر دلالت کرتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام ستارے مشرق سے طلوع ہوتے ہیں جیسا کہ اس کا ذکر آگے آرہا ہے، اس لئے فرمایا : (آیت) ” ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنادیا۔ وہ عالم بالا کے فرشتوں کی باتیں سن ہی نہیں سکتے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو عظیم فائدوں کے لئے ستاروں کا ذکر فرمایا ہے۔
(1) آسمانوں کی زینت کے لئے : اگر ستارے نہ ہوتے تو آسمان میں کوئی روشنی نہ ہوتی اور آسمان میں تاریکی چھائی رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا تاکہ وہ اپنے کناروں تک منور رہے اور وہ خوبصورت دکھائی دے اور بحر و بر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستہ تلاش کیا جائے، نیز اس سے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(2) تمام سرکش شیاطین سے حفاظت کے لئے : جو اپنی سرکشی کی بنا پر ملا اعلیٰ کی سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ (ملا اعلیٰ ) سے مراد اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔
جب وہ مقرب فرشتوں سے سن گن لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو شہاب ثاقب مارے جاتے ہیں۔ (من کل جانب) یعنی ہر جانب سے انہیں دھتکارا جاتا ہے اور مقرب فرشتوں کی باتیں سننے سے ان کو دور رکھا جاتا ہے۔ (ولھم عذاب واصیب) اور اپنے رب کی اطاعت سے سرکشی کی بنا پر ان کے لئے دائمی عذاب تیار کیا گیا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ نے استثنانہ کیا ہوتا تو یہ آیت اس بات کی دلیل تھی کہ وہ کچھ بھی سن گن لینے پر قادر نہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” یعنی سوائے ان سرکش شیاطین کے، جو کوئی ایک آدھ بات سن لینے اور چوری کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں (فاتبعہ شھاب ثاقب) تو اپنے اولیاء تک پہنچنے سے پہلے پہلے شہاب ثاقب انہیں جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر منقطع ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی شہاب ثاقب کے پہنچنے سیق بل وہ اپنے اولیا کو خبر جا پہنچاتے ہیں تو وہ اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے شامل کرتے ہیں اور اس ایک بات کے سبب جو انہوں نے آسمان سے سنی تھی، اس جھوٹ کو رائج کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا : (آیت) ” اپنے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے انکار کرنے والوں سے پوچھیے (اھم اشد خلقا) ” کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے۔ “ یعنی ان کی موت کے بعد دوبارہ انہیں زندہ کرنا مشکل اور مشقت والا ہے (ام من خلقنا) یا ان مخلوقات کو وجود میں لانا مشکل ہے جن کو ہم نے تخلیق کیا۔ انہیں اقرار کرنا پ ڑے گا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، لوگوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے۔ تب ان پر حیات بعد الموت کا اقرار لازم آئے گا بلکہ اگر وہ اپنے آپ پر غور کریں تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ چکنی مٹی سے ان کی تخلیق کی ابتدا، موت کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے، اس لئے فرمایا (آیت) ” ہم نے انہیں چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔ “ یعنی طاقتور اور سخت مٹی سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔ “
Ayahs 37:12–25آیت 12
(بل عجبت) اے رسول ! یا اے انسان ! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو جھٹلاتے ہیں، حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کرچکے ہیں۔ حیات بعد الموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں (و) ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ (یسخرون) ” وہ تمسخر اڑاتے ہیں “ اس شخص کا جو حیات بعد الموت کی خبر لایا ہے۔ انہوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔ (و) ” اور “ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ (اذا ذکروا) ” جب انہیں (اس چیز) کی یاددہانی کرائی جاتی ہے ‘ جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے (لایذکرون) ” تو وہ توجہ نہیں کرتے۔ “ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کند ذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
نیز یہ بھی تعجب خیز ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے دلائل بیان کئے جاتے ہیں اور ایسی نشانیوں کے ذریعے سے یاد دہانی کروائی جاتی ہے جن کے سامنے بڑے بڑے عقل مند لوگوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں تو یہ لوگ ان دلائل اور نشانیوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور ان پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس حق آگیا تو حق کے بارے میں ان کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے : (ان ھذا الا سحر مبین) ” یہ تو محض جادو ہے “ پس انہوں نے اعلیٰ ترین اور جلیل ترین چیز کو خسیس اور حقیر ترین چیز کے مرتبے پر گردانا، نیز ان کی یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ انہوں نے زمین اور آسمانوں کے رب کی قدتر کو ہر لحاظ سے ناقص آدمی کی قدرت پر قیاس کرلیا، چناچہ حیات بعدالموت کو بعید سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیوں کا پنجر بن چکے ہوں گے اس وقت ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ کیا ہمارے پہلے آباؤ اجداد کو بھی دوبارہ زندہ کیا جائے گا ؟ “
جب ان کی غرض وغایت کی یہ انتہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کو ایسا جواب دیں جو ان کی ترہیب پر مشتمل ہو، چناچہ فرمایا (قل نعم) ” کہہ دیجیے : ہاں ! “ تمہیں اور تمہارے آباؤ اجداد کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا (وانتم داخرون) اور تم اس وقت نہایت ذلیل اور بےبس ہو گے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لئے دشوار ہو گے نہ اس کی نافرمانی کرسکو گے (فانماھی زکرۃ واحدۃ) ” وہ تو صرف ایک زور کی آواز ہوگی۔ “ یعنی اسرافیل صور پھونکے گا (فاذا ھم) ” تو یکایک وہ “ اپنی قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے (ینظرون) ” اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔ “ جس طرح ابتدا میں تخلیق کیا گیا تھا، اسی طرح ان کو ان کے تمام اجزا سمیت، ننگے پاؤں، عریاں اور غیر مختون کھڑا کیا جائے گا۔ اس حالت میں وہ سخت ندامت کا اظہار کریں گے، انہیں سخت رسوائی اور خسارے کا سامنا ہوگا۔
اس وقت وہ اپنی ہلاکت اور موت کو پکاریں گے (وقالوا یویلنا ھذا یوم الدین) ” اور کہیں گے : ہائے افسوس ! یہی جزا کا دن ہے۔ “ یعنی یہ اعمال کی جزا کے لئے یوم حساب ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کا اقرار کریں گے جن کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا : (ھذا یوم الفصل) یعنی یہ رب اور بندے کے درمیان کے حقوق کے بارے میں اور بندوں کے درمیان ان کے آپس کے حقوق کے بارے میں فیصلے کا دن ہے۔
Ayahs 37:26–27آیت 26
جب قیامت کے روز وہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر کئے جائیں گے اور اس چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے جس کی وہ تکذیب کیا کرتے اور اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، تو ان کو جہنم میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، جس کو وہ جھٹلایا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جائے گا : (احشروا الذین ظلموا) ” جو لوگ ظلم کرتے تھے انہیں جمع کرو۔ “ یعنی جنہوں نے کفر، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا (وازواجھم) ” اور ان کے ہم جنسوں کو “ یعنی جن کا عمل ان کے عمل کی جنس سے ہے، ہر شخص کو اس شخص کے ساتھ شامل کردیا جائے گا جو عمل میں اس کا ہم جنس تھا۔ (وما کانوا یعبدون، من دون اللہ) ” اور جن کی و وہ اللہ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن بتوں اور خود ساختہ ہم سروں کی عبادت کیا کرتے تھے اور جن کو انہوں نے معبود بنا رکھا تھا، جمع کیا جائے گا۔ کہا جائے گا کہ ان سب کو اکٹھا کرو (فاھدوھم الی صراط الجحیم) اور سختی کے ساتھ ان کو ہانک کر جہنم میں لے جاؤ۔
(و) ” اور “ جب ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا معاملہ متعین ہوجائے گا اور انہیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ جہنم میں جانے والوں میں شامل ہیں تو کہا جائے گا : (قفوھم) ” ان کو ٹھہراؤ ! “ یعنی جہنم میں ڈالنے سے پہلے (انھم مسؤلون) وہ دنیا میں جو افترا پردازی کیا کرتے تھے، اس کے بارے میں ان سے سوال کیا جائے گا تاکہ ان کا جھوٹ اور رسوائی سرعام ظاہر ہوجائے۔ ان سے کہا جائے گا : (مالکم لاتناصرون) یعنی آج تمہارے ساتھ کیا ہوا ؟ تم پر یہ کیا مصیبت آن پڑی کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے، حالانکہ تم تو دنیا میں اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ تمہارے معبود تم سے عذاب کو دور کردیں گے، تمہاری مدد کریں گے یا اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے ؟ تو گویا وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ان پر ذلت اور بےچارگی چھائی ہوئی ہوگی اور وہ اپنے آپ کو جہنم کے عذاب کے حوالے کر رہے ہوں گے، وہ ڈرے ہوئے اور مایوس ہوں گے اور بول نہیں سکیں گے، اس لئے فرمایا (آیت) ” بلکہ وہ (سب کے سب) آج فرمان بردار بن گئے۔ “
Ayahs 37:28–39آیت 28
جب مشرکین، ان کی مشرک بیویوں اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کر کے جہنم کے رساتوں پر ہانک دیا جائے گا، پھر ان کو روک کر ان سے سوال کیا جائے گا، مگر وہ جواب نہ دے سکیں گے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے خود اپنی گمراہی اور دوسروں کو گمراہ کرنے پر ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ متبعین اپنے رؤسا سے کہیں گے : (انکم کنتم تاتوننا عن الیمین) ” تمہیں ہمارے پاس دائیں طرف سے آتے تھے۔ “ یعنی تم نے قوت اور جبر کے ساتھ ہمیں گمراہ کیا، اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایمان لے آتے۔ (قالوا) سردار ان کو جواب دیں گے : (بل لم تکونوا مومنین) ” بلکہ تم خود ایمان والے نہیں تھے۔ “ جس طرح ہم مشرک تھے اسی طرح تم بھی شرک کرتے رہے۔ تمہیں ہم پر کون سی فضیلت حاصل ہے جو ہمیں ملامت کرنے کی موجب ہو (و) ” اور “ حالت یہ ہے کہ (آیت) ” ہمیں تم سے کفر کا ارتکاب کرانے کی کوئی قوت اور اختیار حاصل نہ تھا (آیت) ” بلکہ تم سرکش لوگ تھے “ اور حدود سے تجاوز کرنے والے لوگ تھے (فحق حلینا) ” پس ہم پر واجب ہوگیا “ یعنی تم پر اور ہم پر کہ (انا لذآء بقون) ’ دیقیناً ہم چکھیں گے “ عذاب یعنی ہم پر ہمارے رب کی قضاؤ قدر حق ثابت ہوئی۔ ہم اور تم سب عذاب کا مزا چکھیں گے اور سب مل کر سزا بھگتیں گے۔
بنا بریں (فاغوینکم انا کنا غرین) ” پس ہم نے تم کو گمراہ کیا اور ہم خود بھی گمراہ تھے۔ “ یعنی ہم نے تمہیں اس راستے کی طرف بلایا جس پر ہم گامزن تھے، یعنی گمراہی کے راستے کی طرف، تم نے ہماری آواز پر لبیک کہی، اس لئے تم ہمیں ملامت کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فانھم یومئذ) ’ دپس وہ اس روز “ یعنی قیامت کے روز (فی العذاب مشترکون) ” عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے۔ “ اگرچہ جرم کے مطابق، عذاب کی مقدار میں فرق ہوگا۔ وہ جہنم کا عذاب بھگتنے میں اسیطرح شریک ہوں گے جس طرح وہ دنیا میں کفر کرنے میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔ (انا کذلک نفعل بالمجرمین) ” بیشک ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ “ پھر اس بات کا تذکرہ کیا کہ ان کے جرائم تمام حدیں پھلانگ گئے تھے، اس لئے فرمایا (آیت) ” بیشک یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ انہیں اس کلمے کی طرف بلایا جاتا اور انہیں اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو چھوڑنے کا کہا جاتا تو (یستکبرون) وہ اس دعوت اور اس کو پیش کرنے والے کے ساتھ تکبر سے پیش آتے تھے۔
(ویقولن) اور اس کلمہ حق کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے تھے : (ائنا لتارکوآ الھتنا) ” کیا ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں “ جن کی ہم اور ہمارے آباؤ اجداد عبادت کرتے رہے ہیں (بشاعر مجنون) ” ایک مجنون شاعر کی وجہ سے۔ “ اس سے وہ رسول اللہ ﷺ مراد لیتے تھے۔۔۔ اللہ ان کا برا کرے۔۔۔ انہوں نے صرف آپ ﷺ سے روگردانی اور مجرد آپ کی تکذیب ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے آپ پر بدترین حکم لگایا جو سب سے بڑے ظلم پر مبنی ہے۔ انہوں نے آپ کو مجنون شاعر قرار دیا، حالانکہ انہیں خوب علم تھا کہ آپ شاعری جانتے ہیں نہ شعرا سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں اور نہ ان کی طرح شاعری کے کبھی اوصاف بیان کئے ہیں اور انہیں یہ بھی علم ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ عقل مند اور سب سے زیادہ عظیم رائے کے حامل ہیں۔
بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (بل جآء) ” بلکہ وہ آئے “ یعنی حضرت محمد ﷺ (بالحق) ” حق کے ساتھ “ یعنی آپ کی تشریف آوری حق ہے اور جو شریعت اور کتاب آپ لے کر آئے وہ بھی حق ہے (وصدق المرسلین) اور آپ ﷺ کی تشریف آوری سے رسولوں کی تصدیق ہوتی ہے۔ اگر آپ تشریف نہ لاتے تو رسولوں کی تصدیق نہ ہوتی۔ پس آپ گزشتہ تمام انبیاء ومرسلین کا معجزہ ہیں، کیونکہ تمام انبیاء ومرسلین نے آپ کے آنے کی بشارت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا کہ اگر آپ ان کے زمانے میں مبعوث ہوئے تو وہ ضرور آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی مدد کریں گے اور تمام انبیاء ومرسلین نے اپنی اپنی امتوں سے بھی یہی عہد لیا۔ آپ کے ظہور کے ساتھ گزشتہ انبیاء کی صداقت ظاہر ہوگئی اور ان لوگوں کا کذب واضح ہوگیا جنہوں نے انبیاء کی مخالفت کی تھی۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ آپ تشریف نہیں لائے۔۔۔ درآنحالیکہ کہ انبیاء ومرسلین آپ کی خبر دے چکے ہیں۔۔۔ تو یہ چیز انبیاء کی صداقت میں قادح ہوتی۔ آپ نے اس اعتبار سے بھی انبیاء ومرسلین کی تصدیق کی ہے کہ آپ وہی کچھ لے کر مبعوث ہوئے جس کے ساتھ دیگر انبیاء مبعوث ہوئے، آپ نے بھی اسی چیز کی طرف دعوت دی جس کی طرف دیگر انبیاء دعوت دیتے چلے آئے ہیں۔ آپ انکی رسالت پر ایمان لائے، ان کی رسالت و نبوت اور ان کی شریعت کی صداقت کی خبر دی۔
چونکہ گزشتہ آیات میں ان کا قول : (انا لذآئقون) ” بیشک ہم چکھیں گے “ گزر چکا ہے اور اس قول میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال موجود ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے فیصلہ کن قول سے آگاہ فرمایا جس میں صدق اور یقین کے سوا کوئی احتمال نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی خبر ہے۔ فرمایا (انکم لذآئقوا العذاب الالیم) ” بیشک تم درد ناک عذاب کا مزا چکھنے والے ہو۔ “ یعنی سخت درد ناک عذاب۔
(وما تجزون) ” اور تمہیں جزا نہیں دی گئی۔ “ یعنی درد ناک عذاب کا مزا چکھانے میں (الا ما کنتم تعملون) ” مگر اسی کی جو تم کرتے تھے۔ “ ہم نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تمہارے ساتھ انصاف کیا ہے۔ چونکہ اس خطاب کے الفاظ عام ہیں اور مراد مشرکین ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا :