As-Saaffaat 37:2

As-Saaffaat · from ayah 2

37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا ۟ۙفَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا

پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who drive [the clouds]

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:2

پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ڈانٹنے والوں کی جھڑک کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر پوری طرح ڈانٹنے والوں کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ان کی جو روک ٹوک کرتے ہیں،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کی کہ جھڑک کر چلائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر بادلوں کو کھینچ کر لے جانے والی یا برائیوں پر سختی سے جھڑکنے والی جماعتوں کی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان کی جو ڈانٹنے والی ہیں ! زبردست ڈانٹنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کی جو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر زجر کرنے والے (شیاطین کو)۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان کی جو ڈانٹتے ہیں جھڑک کر

— مولانا اسحاق مدنی

پھر بندش کرنے والے (فرشتوں) کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ھرقسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ڈانٹنے والوں

— محترمہ رفعت اعجاز

by those who reprove severely,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

then by those who prevent firmly,

— Muhammad Taqi Usmani

then by those who prevent firmly,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By those who drive the clouds in a good way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who drive away (the wicked) with reproof

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who drive [the clouds]

— Saheeh International

by those who drive away the devil (to protect Our revelation),

— Muhammad Sarwar

Then those who drive away with reproof,

— Muhammad Habib Shakir

By the angels driving away.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فرشتوں کی دوسری صفت فالزجرأت زجراً بیان کی گئی ہے۔ یہ لفظ ”زجر“ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں روکنا، ڈانٹنا، پھٹکارنا۔ حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ ”بندش کرنیوالے“ سے کیا ہے، جو لفظ کے ہر ممکن مفہوم کو جامع ہے۔ فرشتے کس چیز پر بندش عائد کرتے ہیں ؟ قرآن کریم کے سیاق کے پیش نظر زیادہ تر مفسرین نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہاں ”بندش عائد کرنے سے“ مراد فرشتوں کا وہ عمل ہے جس کے ذریعہ وہ شیاطین کو عالم بالا تک پہنچنے سے روکتے ہیں، اور جس کا تفصیلی ذکر خود قرآن کریم میں آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 2 ’ زجر ‘ کے معنی جھڑکنے، ڈانٹنے اور دھتکارنے کے ہیں۔ یہ انہی فرشتوں کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ اگر شیاطین ملاء اعلیٰ کے قریب پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ان کا دھتکارتے ہیں۔ شیاطین کو ملاء اعلیٰ سے دور رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خاص انتظام بھی فرمایا ہے جس کی تفصیل آگے آہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–4

4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یعنی وہ فرشتے شیطانوں کو عالم بالا میں داخل ہونے اور شرارت کرنے سے روکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

درس نمبر 208 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 ﷽ والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔ قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جو فرشتے شیطانوں کو ڈانٹ کر بھگاتے ہیں تاکہ استراق سمع کے ارادہ میں کامیاب نہ ہوں یا بندوں کو نیکی کی بات سمجھا کر معاصی سے روکتے ہیں یا وہ نیک آدمی جو خود اپنے نفس کو بدی سے روکتے اور دوسروں کو بھی شرارت پر ڈانٹتے جھڑکتے رہتے ہیں۔ خصوصاً میدان جہاد میں کفار کے مقابلہ پر ان کی ڈانٹ ڈپٹ بہت سخت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی پر عذاب کا حکم دیتا ہے تو فرشتوں کی ایک ڈانٹ صَیحَۃ سے وہ بستی تباہ اور متعلقہ قوم ہلاک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ سورة یٰسٓ میں ایک قوم کے بارے میں فرمایا گیا : { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ تو اسی وقت وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ یعنی نہ تین نہ زائد۔ نہ تین میں سے ایک، نہ ایک تین میں تقسیم، بلکہ محض ایک، بیان توحید کا ہورہا ہے۔ اور ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” والصفت صفا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمان میں اللہ کی حمد وتسبیح میں اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں (آیت) ” فالزجرت زجرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمانی خبر رسانیوں سے شیطانوں کی بندش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالتلیت ذکرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالزاجرات زجرًا اور قسم ہے ان (ملائکہ) کی جو روکنے والے ہیں۔ یعنی بادلوں کو روکتے اور چلاتے ہیں۔ بعض نے کہا : وہ ملائکہ مراد ہیں جو انسانوں کے دلوں میں نیکی کا ارادہ پیدا کرکے گناہوں سے بازداشت کرتے ہیں ‘ یا شیطانوں کو انسانوں کی راہ (خیر) میں رکاوٹ ڈالنے سے روکتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : الزَّاجِرَاتِ سے مراد ہیں قرآن کی وہ آیات جو بری باتوں کی مخالفت کرتی اور روکتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو آسمان میں اس طرح صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ مومنین نماز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ ذکر الہی کی تلاوت کرتے ہیں یا یہ کہ تلاوت قرآن حکیم کی قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا : ”فاء“ اس بات کی دلیل ہے کہ ان سے مراد بھی فرشتے ہیں، جن کا ذکر پچھلی آیت میں ہے۔ ”زَجْرًا“ تاکید کے لیے ہے، یعنی پھر ان فرشتوں کی قسم ! جن کی ڈانٹ معمولی نہیں بلکہ ایسی زبردست ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ مخلوقات، خواہ کتنی بےپناہ قوت کی مالک ہوں، ان کے سامنے دم نہیں مار سکتیں، مثلاً موت کے فرشتے۔ (دیکھیے انعام : 93) ہواؤں اور بادلوں پر مامور فرشتے جو انھیں ہانکتے اور چلاتے ہیں۔ (دیکھیے رعد : 13) پہاڑوں پر مامور فرشتہ، جس نے رسول اللہ ﷺ کی طائف سے واپسی پر اللہ کے حکم سے آپ کو پیش کش کی کہ اگر آپ فرمائیں تو میں آپ کی قوم کے کفار کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–3

4:۔ ابن المنذر (رح) وابوالشیخ العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) فالزجرت زجرا (2) “ سے فرشتے مراد ہیں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ چیز ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جھڑکا ہے۔ 6:۔ ابن ابی صالح نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتاب اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے لوگوں کی طرف لاتے ہیں۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) سے آسمان میں صف باندھنے والے فرشتے مراد (آیت) ” فالزجرت زجرا “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَالزّٰجِرٰتِ [پھر قسم ہے جھڑکنے والیوں کی ] [زَجْرًا : جیسا جھڑکنے کا حق ہے ] ز ج ر (ن) زجرا چلا کر روکنا۔ جھڑکنا۔ دھتکارنا۔ زاجر روکنے والا۔ جھڑکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 2 زجرۃ جھڑکی۔ ڈانٹ۔ فَاِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ (پھر وہ تو بس ایک جھڑکی ہوگی) 37/19 ۔ (افتعال) ازدجارا اہتمام سے روکنا۔ دھتکارنا۔ وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ (اور انھوں نے کہا مجنوں ہے اور اس کو دھتکارا گیا) 54/9 مزدجر اسم المفعول ہے۔ جس کو روکا گیا۔ اور جس چیز سے روکا گیا ، دونوں کے لئے آتا ہے۔ وَلَقَدْ جَاۗءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَاۗءِ مَا فِيْهِ مُزْدَجَرٌ (اور بیشک آچکی ہیں ان کے پاس خبروں میں سے وہ جس میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا) یہ لفظ زجر سے لیا گیا ہے، زجر جھڑکنے اور منع کرنے کو کہتے ہیں اسی لیے ترجمہ یوں لکھا گیا ہے، پھر ان فرشتوں کی قسم جو بندش کرنے والے ہیں۔ فرشتوں کا زجر کرنا اور روکنا کیا ہے ؟ روح المعانی میں لکھا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ فرشتے اللہ کے بندوں کو گناہوں سے روکتے ہیں اور ان کے دل میں خیر کی باتیں ڈالتے ہیں اور شیاطین کو وسوسے ڈالنے سے روکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ والصفت الخ :۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر الللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ فالزاجرات زجرًا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین کو ملا اعلی کے قریب آنے سے روکنے والے ہیں۔ فالتلیت ذکرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ ان الہکم لواحد الخ، یہ جواب قسم ہے۔ تینوں انواع کے فرشتے جن کی قسم کھائی گئی ہے ان کے یہ احوال اس پر شاہد اور اس کی واضح دلیل ہیں کہ سب کا معبود اور کارساز ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اور مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ فرشتوں کے مذکورہ احوال سے معلوم ہا کہ ان کی حیثیت بارگاہِ الٰہی میں خدام کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۝ 2ۙ زجر الزَّجْرُ : طرد بصوت، يقال : زَجَرْتُهُ فَانْزَجَرَ ، قال : فَإِنَّما هِيَ زَجْرَةٌ واحِدَةٌ [ النازعات/ 13] ، ثمّ يستعمل في الطّرد تارة، وفي الصّوت أخری. وقوله : فَالزَّاجِراتِ زَجْراً [ الصافات/ 2] ، أي : الملائكة التي تَزْجُرُ السّحاب، وقوله : ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ [ القمر/ 4] ، أي : طرد ومنع عن ارتکاب المآثم . وقال : وَقالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ [ القمر/ 9] ، أي : طرد، واستعمال الزّجر فيه لصیاحهم بالمطرود، نحو أن يقال : اعزب وتنحّ ووراءک . ( زج ر ) الزجر ۔ اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں زجرتہ میں نے اسے جھڑکا ، روکا ۔ انزجر ( جھڑکنے پر ) کسی کام سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰـھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ (الصآفات : 1 تا 4) (قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی۔ پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی۔ پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی۔ پس تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ) قسم دلیل ہوتی ہے یہاں فرشتوں کے تین گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسم کے لیے آتا ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے قسم کو بطور دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔ ” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

چار اقسام اور ان کی قسمیں : 1، 2، 3: وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو صف باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں روکنا) فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا (پھر ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی مختلف جماعتوں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 2۔ یا ان کے نفوس کی کہ نماز میں صف بستہ ہیں پھر بادلوں کو چلانے کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں اور الہام خیر کے ذریعہ معاصی سے روکنے والے ہیں۔ پھر کتب منزلہ میں سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ یہ ابن عباس، ابن مسعودؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ نمبر 3۔ ان علمائے عاملین کے نفوس کی قسم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2، فالزاجرات زجرا، یعنی بادلوں کو روکتے اور چلاتے ہیں ۔ قتادہ کا قول ہے کہ الزات سے مراد قرآن ہے جو بری باتوں سے منع کرتا ہے اور اس کی مخالفت کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

1 صف بستہ فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " قسم ہے ان کی جو کھڑے ہوتے ہیں صف باندھ کر "۔ اللہ پاک کی عبادت و بندگی کے لئے۔ جیسے ہم لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آگے آتا ہے ۔ { وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّوْنَ } ۔ نیز وہ صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ پاک کے حکم و ارشاد کی بجاآوری کے لئے۔ مفسرین کرام کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ " صافات " اور " زاجرات " اور " تالیات " کی ان صفات کے موصوف ملائکہ کرام ہیں۔ اور یہی تفسیر مروی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، عبداللہ ابن عباس ؓ ، قتادہ، مسروق، عکرمہ اور سعید بن جبیر وغیرہ سے۔ جبکہ بعض حضرات اہل علم سے اس بارے میں دوسرے مختلف اقوال بھی مروی ہیں لیکن سیاق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 9” صافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں ادائے عبادت یا فضا میں اللہ تعالیٰ کے نزول حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی صف بندی شرف و فضلیت میں درجات کے تفاوت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی ہر ایک کے لئے جود رجہ مقرر ہے اسی پر قائم رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ( دیکھئے سورة نباء : 38 و سورة فجر : 22) آنحضرت ﷺ نے نماز میں فر شتوں کی سی صف بندی کا حکم دیا ہے یعنی پہلی صف پوری ہونے کے بعد دوسری صف باندھی جائے اور صف میں مل کر کھڑا ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ نماز میں فرشتوں کی طرف صف بندی کرنا اس امت کا خاصہ ہے۔ (وجعلت صفوفنا کصفوف الملائکہ) (مسلم، ابو دائود) اور زجر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:2) فالزجرات زجرا۔تعقیب کا ہے۔ زاجرات اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے ڈانٹنے والیاں۔ الزجر اصل میں آواز کے ساتھ دھتکارنے کو کہتے ہیں جیسے فانماھی زجرۃ واحدۃ (79:13) اور قیامت تو ایک ڈانٹ ہے۔ پھر کبھی یہ صرف دھتکار دینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی آواز کے لئے۔ زجرا مصدر موکدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کی قسم یاد فرمائی، چندگروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہوکر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا علماء دین کے گروہ جو تہجد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر کر مصروف عبادت رہتے ہیں یا نمازیوں کے گروہ جو راۃ خدا مین صفیں باندھ کر دشمنان حق کے مقابل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم جھڑک کر جلانے والوں سے مراد ملائکہ جو بادل پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کرچلاتے ہیں یا یہ مراد ہے کہ وہ علماء جو وعظ وپند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ پرچلاتے ہیں یا یہ وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹ کر جہاد میں چلاتے ہیں۔ تیسری قسم قرآن شریف کی یا تو قرآن…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) پھر ان ڈانٹنے اور جھڑکنے والوں کی قسم جو جھڑک کر ڈانٹتے اور روکتے ہیں اور بندش لگاتے ہیں۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو شیاطین کو ملاء اعلیٰ کی خبریں سننے سے روکتے ہیں اور ہانکتے ہیں اور جھڑک کر اور ڈانٹ کر روکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–7

ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جھڑک کر ڈانٹنے والوں کے رب کی قسم : 2۔ زجر توبیخ کے الفاظ عام طور پر زبان زد خاص وعام ہیں اور زجر یعنی روک ‘ ڈانٹ ڈپٹ ‘ دھمکی ‘ تنبیہہ ‘ جھڑکی اور ملامت وغیرہ گزشتہ آیت کی طرح مراد اس سے فرشتے بھی لیے گئے ہیں جو روکنے اور ڈانٹنے والے ہیں اور وہ جماعتیں بھی جو روکتی ہیں اور اگر اس کو بطور قسم تسلیم کیا جائے تو رب کا لفظ محذوف تسلیم کر کے یہی کہنا ہوگا کہ جھڑک کر ڈانٹنے والوں کے رب کی قسم ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

2. The second attribute of the angels has been described as: فَالزَّاجِرَ‌اتِ زَجْرً‌ا (fazzajirati zajran: those who prevent firmly). This word has been derived from زَجر (zajr) which means to hold in check, block, prevent or restrain, also to drive back, repel or reprimand. Maulana Thanavi (رح) has translated it in the sense of those who place an impregnable check - which comprehends every possible sense of the word. Now, what is that against which the angels place their check? In view of the context of the Holy Qur'an, most commentators have answered it by saying that the enforcing of…

Read the full tafseer →