فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًا ۟ۙفَالتّٰلِيٰتِ ذِكۡرًا
پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those who recite the message,
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًا ۟ۙفَالتّٰلِيٰتِ ذِكۡرًا
پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)
— Fateh Muhammad Jalandhari
And those who recite the message,
— Saheeh International
Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah As-Saaffaat
پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں
پھر ذکر (یعنی قرآن) پڑھنے والوں کی (غور کرکر)
پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی
پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرتے ہیں۔
پھر ان جماعتوں کی، کہ قرآن پڑھیں،
پھر ذکرِ الٰہی (یا قرآن مجید) کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کی،
پھر ان کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والی ہیں !
پھر ان کی جو ذکر (قرآن) کی تلاوت کرنے والے ہیں
پھر ذکر کرنے والے (اپنے رب کا)
پھر ان کی جو تلاوت کرتے ہیں (اللہ کے) ذکر کی
پھر ذکر کی تلاوت کرنے والے (فرشتوں) کی
پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی
پھر پڑھنے والوں کی یاد کر کے
and those who recite the Exhortation;
then by those who recite the dhikr,
then by those who recite the dhikr,
By those who bring the Dhikr.
And those who read (the Word) for a reminder,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And those who recite the message,
and those who recite Our revelations,
Then those who recite, being mindful,
By the angels reciting the praise.
And thus proclaim the Message (of Allah)!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–5
فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 1 مفسرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان تینوں گروہوں سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں۔ اور یہی تفسیر حضرات عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، قَتَادہ، مسروق، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، سدی، ابن زید اور ربیع بن انس ؓ سے منقول ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیریں بھی کی ہیں، مگر موقع و محل سے یہی تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی نظر آتی ہے۔ اس میں " قطار در قطار صف باندھنے " کا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام فرشتے جو نظام کائنات کی تدبیر کر رہے ہیں، اللہ کے بندے اور غلام ہیں، اس کی اطاعت و بندگی میں صف بستہ ہیں اور اس کے فرامین کی تعمیل کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔ اس مضمون کا اعادہ آگے چل کر پھر آیت 165…
Read the full tafseer →تیسری صفت فالتلیت ذکراً ہے۔ یعنی یہ فرشتے ”ذکر“ کی تلاوت کرنیوالے ہیں ”ذکر“ کا مفہوم ”نصیحت کی بات“ بھی ہے اور ”یاد خدا“ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے ذریعہ جو نصیحت کی باتیں نازل کی ہیں یہ ان کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ اور یہ تلاوت حصول برکت اور عبادت کے طور پر بھی ہو سکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے وحی لانے والے فرشتے مراد ہوں کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے سامنے ان کتب نصیحت کی تلاوت کر کے انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اور دوسری صورت میں جبکہ ”ذکر“ سے مراد یاد خدا لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ہر دم ان کلمات کی تلاوت میں مصروف رہتے ہیں، جو…
Read the full tafseer →آیت 3 یہ ان فرشتوں کی تیسری صفت ہے۔ تلاوتِ ذکر سے مراد وہی چیز ہے جو سورة زمر میں یسبحون بحمد ربھم ‘ کے الفاط سے اور اس سورة میں وانا النحن المسبحون ‘ کے الفاظ سے مذکور ہوئی ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے حمدو تسبیح کرتے ہیں۔ یہاں عربی زبان کا یہ قاعدہ پیش نظر رہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح ’‘ کے ساتھ ہو جس طرح یہاں ہے تو یہ دو باتوں پر دلیل ہوتا ہے۔ ایک اس بات پر کہ یہ تمام صفات ایک ہی چیز کی ہیں اس وجہ سے جن لوگوں نے ان صفات کے الگ الگ موصوف قرار دیے ہیں ان کی رائے ہمارے نزدیک عربیت کے خلاف ہے۔ دوسری اس بات پر کہ ان صفات میں ایک تدریجی ترتیب ہے۔ ہم نے جو تاویل کی ہے اس سے پہلی تو بالکل واضح ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
درس نمبر 208 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 ﷽ والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔ قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے…
Read the full tafseer →6 یعنی وہ فرشتے یا آدمی جو اللہ کے احکام سننے کے بعد پڑھتے اور یاد کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بتانے کو۔
Read the full tafseer →آیت 3{ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا } ”پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔“ یعنی اللہ کا جو کلام انبیاء و رسل علیہ السلام پر نازل ہوتا ہے اسے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں۔ -۔ - اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی یہ تمام فرشتے اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ :
Read the full tafseer →1 صفیں باندھے ہوئے فرشتے :۔ تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس سورة کی ابتدائی تین آیات میں جن کی قسم اٹھائی گئی ہے ان سے مراد فرشتے ہیں اور اس بات کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سیدنا جابر ؓ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم لوگ اس طرح صف باندھا کرو جس طرح فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ تم لوگ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو (مسلم۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الامر بالسکون فی الصلوٰۃ) پہلی آیت میں ان فرشتوں کا ذکر ہے جو اللہ کے احکام کے منتظر اور اس کے دربار میں ہر وقت صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور یہی ان کی عبادت ہے کہ ادھر اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ یعنی نہ تین نہ زائد۔ نہ تین میں سے ایک، نہ ایک تین میں تقسیم، بلکہ محض ایک، بیان توحید کا ہورہا ہے۔ اور ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” والصفت صفا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمان میں اللہ کی حمد وتسبیح میں اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں (آیت) ” فالزجرت زجرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمانی خبر رسانیوں سے شیطانوں کی بندش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالتلیت ذکرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…
Read the full tafseer →فالتلیت ذکرًا اور ان (ملائکہ) کی قسم جو ذکر اللہ کی تلاوت کتے ہیں ‘ یا ان آیات کو پڑھتے ہیں جو آسمانی کتابوں میں انبیاء پر نازل کی گئی ہیں ‘ یا صافّات ‘ زاجرات اور تالیات سے نفوس علمیہ مراد ہیں جو نمازوں میں صف بستہ ہوتے ہیں ‘ دلائل کی روشنی میں کفر اور معاصی سے روکتے ہیں اور آیات رب کی تلاوت کرتے ہیں ‘ یا نمازیوں کی جماعتیں مراد ہیں جو راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور صف بند ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں جو اپنے گھوڑوں اور دشمنوں کو زجر کرتے ہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں ‘ دشمن سے مقاتلہ کے وقت بھی یاد خدا سے غافل نہیں ہوتے۔ تینوں جملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو آسمان میں اس طرح صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ مومنین نماز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ ذکر الہی کی تلاوت کرتے ہیں یا یہ کہ تلاوت قرآن حکیم کی قسم ہے۔
Read the full tafseer →فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا : اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء پر ذکر نازل کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں نیکی کا خیال ڈالتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَالْمُلْقِيٰتِ ذِكْرًا۔ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا) [ المرسلات : 5، 6 ] ”پھر جو (دلوں میں) یاد (الٰہی) ڈالنے والے ہیں۔ عذر کے لیے یا ڈرانے کے لیے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
4:۔ ابن المنذر (رح) وابوالشیخ العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) فالزجرت زجرا (2) “ سے فرشتے مراد ہیں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ چیز ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جھڑکا ہے۔ 6:۔ ابن ابی صالح نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالزجرت زجرا “ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو کتاب اور قرآن کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے لوگوں کی طرف لاتے ہیں۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والآفت صفا (1) سے آسمان میں صف باندھنے والے فرشتے مراد (آیت) ” فالزجرت زجرا “…
Read the full tafseer →فَالتّٰلِيٰتِ [پھر قسم ہے تلاوت کرنے والیوں کی ] ذِكْرًا [یاد رکھنے کے لئے ] ۔
Read the full tafseer →(فَالتَّالِیَاتِ ذِکْرًا) (پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اس کا ایک مطلب مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کریم اور دوسری کتابیں لاتے رہے اور جس نبی کے پاس لائے اس پر پڑھتے رہے۔ اور ایک مطلب یہ بتایا ہے کہ ان فرشتوں کی قسم کھائی ہے جو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے ہیں اور تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ والصفت الخ :۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر الللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ فالزاجرات زجرًا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین کو ملا اعلی کے قریب آنے سے روکنے والے ہیں۔ فالتلیت ذکرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ ان الہکم لواحد الخ، یہ جواب قسم ہے۔ تینوں انواع کے فرشتے جن کی قسم کھائی گئی ہے ان کے یہ احوال اس پر شاہد اور اس کی واضح دلیل ہیں کہ سب کا معبود اور کارساز ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اور مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ فرشتوں کے مذکورہ احوال سے معلوم ہا کہ ان کی حیثیت بارگاہِ الٰہی میں خدام کی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…
Read the full tafseer →فَالتّٰلِيٰتِ ذِكْرًا 3ۙ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے لئے اس کا مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰـھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ (الصآفات : 1 تا 4) (قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی۔ پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی۔ پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی۔ پس تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ) قسم دلیل ہوتی ہے یہاں فرشتوں کے تین گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسم کے لیے آتا ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے قسم کو بطور دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔ ” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
چار اقسام اور ان کی قسمیں : 1، 2، 3: وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا (اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو صف باندھے کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی جو روکنے والے ہیں روکنا) فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا (پھر ان فرشتوں کی جو ذکر کی تلاوت کرنے والے ہیں) اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کی مختلف جماعتوں کی قسم اٹھائی۔ نمبر 2۔ یا ان کے نفوس کی کہ نماز میں صف بستہ ہیں پھر بادلوں کو چلانے کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ہیں اور الہام خیر کے ذریعہ معاصی سے روکنے والے ہیں۔ پھر کتب منزلہ میں سے اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنے والے ہیں۔ یہ ابن عباس، ابن مسعودؓ اور مجاہد کا قول ہے۔ نمبر 3۔ ان علمائے عاملین کے نفوس کی قسم…
Read the full tafseer →3، فالتالیات ذکرا، اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں اور بعض علماء کا قول ہے کہ اس سے مراد قرآن پڑھنے والوں کی جماعت ہے۔ یہ سب قسموں کی قبیل سے ہیں جن پر اللہ نے قسمیں کھائی ہیں۔ ان سب کا جواب قسم آگے آیات میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 تلاوت کرنے والے فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر ان کی جو تلاوت کرتے ہیں ۔ اللہ کے ۔ ذکر کی "۔ یعنی انبیائے کرام تک آسمانی احکام پہنچانے کے لئے۔ یا حوادث نازل کرتے ہیں لوگوں کو سمجھانے اور خبردار کرنے کے لئے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ان صفات کا موصوف ملائکہ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں۔ اور ہم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور یہی قول سیاق وسباق کے زیادہ مناسب ہے۔ مگر اس میں کچھ اوراقوال بھی ہیں۔ انشاء اللہ اگر مفصل تفسیر لکھنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی تو ان کو وہاں ذکر کیا جائے گا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ وَہُوَ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَالْمُیَسِّرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 9” صافات سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمان میں ادائے عبادت یا فضا میں اللہ تعالیٰ کے نزول حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ فرشتوں کی صف بندی شرف و فضلیت میں درجات کے تفاوت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی ہر ایک کے لئے جود رجہ مقرر ہے اسی پر قائم رہتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ( دیکھئے سورة نباء : 38 و سورة فجر : 22) آنحضرت ﷺ نے نماز میں فر شتوں کی سی صف بندی کا حکم دیا ہے یعنی پہلی صف پوری ہونے کے بعد دوسری صف باندھی جائے اور صف میں مل کر کھڑا ہوجائے اور حدیث میں ہے کہ نماز میں فرشتوں کی طرف صف بندی کرنا اس امت کا خاصہ ہے۔ (وجعلت صفوفنا کصفوف الملائکہ) (مسلم، ابو دائود) اور زجر…
Read the full tafseer →(37:3) فالتلیت ذکرا۔تعقیب کا ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث تلاوۃ سے (باب نصر) مصدر۔ ذکر سے مراد ذکر اللہ ہے۔ یعنی ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والیاں ذکرا منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ اور تنکیر تفخیم کے لئے ہے۔ فائدہ (1): ۔ آیات 2: و 3: میںتعقیب وجود کے لئے ہے۔ یعنی پہلے صف بستہ ہوتے ہیں۔ پھر زجر کرتے ہیں۔ پھر تلاوت کرتے ہیں۔ صفت بندی بجائے خود صفت کمالیہ ہے ۔ پھر شر سے باز داشت کرنی اور خیر کی طرف چلانا صفت اول کی تکمیل ہے ! اور تلاوت ذکر فیض رسانی کا درجہ رکھتی ہے۔ یا عطف صرف ترتیب و ترقی کے لئے ہے جیسے آیت ثم کان من الذین امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ (90:17) میں عطف صرف ترتیب و ترقی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کی قسم یاد فرمائی، چندگروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہوکر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا علماء دین کے گروہ جو تہجد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر کر مصروف عبادت رہتے ہیں یا نمازیوں کے گروہ جو راۃ خدا مین صفیں باندھ کر دشمنان حق کے مقابل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم جھڑک کر جلانے والوں سے مراد ملائکہ جو بادل پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کرچلاتے ہیں یا یہ مراد ہے کہ وہ علماء جو وعظ وپند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ پرچلاتے ہیں یا یہ وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹ کر جہاد میں چلاتے ہیں۔ تیسری قسم قرآن شریف کی یا تو قرآن…
Read the full tafseer →[4] یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الٰہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(3) پھران فرشتوں کی قسم جو ذکر الٰہی اور اس کی تسبیح و تقدیس کی تلاوت کرتے ہیں - یعنی یہ کام بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی پاکی اور اس کی تقدیس بھی کرتے ہیں یہی اوصاف ملائکہ کے اس سورت میں آجائیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں فرشتے کھڑے ہوتے ہیں قطار سننے کو حکم اللہ کا پھر جھڑکتے ہیں شیطانوں کو جو سننے کو جالگتے ہیں پھر جب اترچکا اس کو پڑھتے ہیں ایک دوسرے کو بتانے کو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس طرح صف نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کے حضور میں صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کس طرح صف باندھتے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا پہلی صف کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں کے رب کی قسم : 3۔ (تالیت) کی اصل ت ل و ہے اور تالی کے معنی تلاوت کرنے والا یا پیروی کرنے والا مراد ہو سکتا ہے اور تلاوت کرنے سے مراد ظاہر ہے کہ تلاوت قرآن کریم ہی مراد ہو سکتی ہے یعنی تلاوت قرآن کریم کرنے والی جماعتیں اور اگر قسم مراد ہے تو ضابطہ کے مطابق (رب) کا لفظ محذوف تسلیم کر کے تلاوت قرآن کریم کرنے والوں کے رب کی قسم کہا جائے گا جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا اور جیسا کہ اوپر بھی ذکر کیا گیا ہے بعض مفسرین نے اس سے مراد فرشتوں کی جماعتیں لی ہیں لیکن فرشتوں کی بجائے انسانوں ہی کی جماعتیں مراد لینا زیادہ قرین قیاس اور زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور قسم سے مراد بات…
Read the full tafseer →3. The third attribute is: فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا (fattaliati dhikran) that is, these angels are those who recite the 'dhikr'. The core sense of 'dhikr' is 'word of good counsel' as well as 'the remembrance of Allah.' In the first instance, it would mean that these angels are those who recite everything Allah Ta'ala has revealed as word of good counsel through Scriptures. And this recitation could be as a means of earning barakah and also as an act of "ibadah'. Then, it is also possible that it means the angels who bring wahy (revelation) to the prophets, since they recite these Scriptures…
Read the full tafseer →1 The majority of the commentators are agreed that All these three groups imply the groups of the angels, and the same explanation of it has been reported from 'Abdullah bin Mas'ud, Ibn `Abbas, Qatadah, Masruq Said bin Jubair, 'Ikrimah, Mujahid, Suddi, Ibn Zaid and Rabi' bin Anas. Some commentators have given other commentaries also, but this commentary is more in keeping with the context. The words "range themselves in ranks" refer to the fact that all the angels who arc administering the affairs of the universe, are the humble servants of Allah, and are ever ready w carry out any scrvice…
Read the full tafseer →