37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

نام

پہلی ہی آیت کے لفظ والصافات سے ماخوذ ہے۔

موضوع و مضمون

اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید و آخرت کا جواب جس تمسخر اور استہزاء کے ساتھ دیا جا رہا تھا، اور آپ کے دعوائے رسالت کو تسلیم کرنے سے جس شدت کے ساتھ انکار کیا جا رہا تھا، اس پر کفار مکہ کو نہایت پر زور طریقہ سے تنبیہ کی گئی ہے اور آخر میں انہیں صاف صاف خبردار کردیا گیا ہے کہ عنقریب یہی پیغمبر، جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو، تمہارے دیکھتے دیکھتے تم پر غالب آجائے گا اور تم اللہ کے لشکر کو خود اپنے گھر کے صحن میں اترا ہوا پاؤ گے (آیت نمبر 171 تا 179) ۔ یہ نوٹس اس زمانے میں دیا گیا تھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔ مسلمان (جن کو ان آیات میں اللہ کا لشکر کہا گیا ہے) بری طرح ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان کی تین چوتھائی تعداد ملک چھوڑ کر نکل گئی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بمشکل 40 ۔ 50 صحابہ مکہ میں رہ گئے تھا اور انتہائی بےبسی کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں برداشت کر رہے تھے۔ ان حالات میں ظاہر اسباب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ باور نہ کرسکتا تھا کہ غلبہ آخر کار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی مٹھی بھر بےسرو سامان جماعت کو نصیب ہوگا۔ بلکہ دیکھنے والے تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تحریک مکہ کی گھاٹیوں ہی میں دفن ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن 15 ۔ 16 سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک وہی کچھ پیش آگیا جس سے کفار کو خبردار کیا گیا تھا۔ تنبیہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں تفہیم اور ترغیب کا حق بھی پورے توازن کے ساتھ ادا فرمایا ہے۔ توحید اور آخرت کے عقیدے کی صحت پر منحصر دل نشین دلائل دیے ہیں، مشرکین کے عقائد پر تنقید کر کے بتایا ہے کہ وہ کیسی لغو باتوں پر ایمان لائے بیٹھے ہیں، ان گمراہیوں کے برے نتائج سے آگاہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایمان و عمل صالح کے نتائج کس قدر شاندار ہیں۔ پھر اسی سلسلے میں پچھلی تاریخ کی مثالیں دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء کے ساتھ اور ان کی قوموں کے ساتھ کیا معاملہ رہا ہے، کس کس طرح اس نے اپنے وفادار بندوں کو نوازا ہے اور کس طرح ان کے جھٹلانے والوں کو سزا دی ہے۔ جو تاریخی قصے اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ سبق آموز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حیات طیبہ کا یہ اہم واقعہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اس میں صرف ان کفار قریش ہی کے لیے سبق نہ تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنے نسبی تعلق پر فخر کرتے پھرتے تھے، بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق تھا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے۔ یہ واقعہ سنا کر انہیں بتادیا گیا کہ اسلام کی حقیقت اور اس کی اصلی روح کیا ہے، اور اسے اپنا دین بنا لینے کے بعد ایک مومن صادق کو کس طرح اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کردینے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔ سورة کی آخری آیات محض کفار کے لیے تنبیہ ہی نہ تھیں بلکہ ان اہل ایمان کے لیے بشارت بھی تھیں جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائید و حمایت میں انتہائی حوصلہ شکن حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ انہیں یہ آیات سنا کر خوشخبری دے دی گئی کہ آغاز کار میں جن مصائب سے انہیں سابقہ پیش آ رہا ہے ان پر گھبرائیں نہیں، آخر کار غلبہ ان ہی کو نصیب ہوگا، اور باطل کے وہ علمبردار جو اس وقت غالب نظر آ رہے ہیں، انہی کے ہاتھوں مغلوب و مفتوح ہو کر رہیں گے۔ چند ہی سال بعد واقعات نے بتادیا کہ یہ محض خالی تسلی نہ تھی بلکہ ایک ہونے والا واقعہ تھا جس کی پیشگی خبر دے کر ان کے دل مضبوط کیے گئے تھے۔

زمانۂ نزول

مضامین اور طرز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت غالباً مکی دور کے وسط میں، بلکہ شاید اس دور متوسط کے بھی آخری زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔ انداز بیان صاف بتارہا ہے کہ پس منظر میں مخالفت پوری شدت کے ساتھ برپا ہے اور نبی و اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہایت دل شکن حالات سے سابقہ در پیش ہے۔

Ayah 37:1

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم

Ayah 37:2

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

Ayah 37:3

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر اُن کی قسم جو کلامِ نصیحت سُنانے والے ہیں، 1

سورة الصّٰٓفّٰت 1 مفسرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان تینوں گروہوں سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں۔ اور یہی تفسیر حضرات عبداللہ بن مسعود، ابن عباس، قَتَادہ، مسروق، سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، سدی، ابن زید اور ربیع بن انس ؓ سے منقول ہے۔ بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیریں بھی کی ہیں، مگر موقع و محل سے یہی تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی نظر آتی ہے۔ اس میں " قطار در قطار صف باندھنے " کا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام فرشتے جو نظام کائنات کی تدبیر کر رہے ہیں، اللہ کے بندے اور غلام ہیں، اس کی اطاعت و بندگی میں صف بستہ ہیں اور اس کے فرامین کی تعمیل کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔ اس مضمون کا اعادہ آگے چل کر پھر آیت 165 میں کیا گیا ہے جس میں فرشتے خود اپنے متعلق کہتے ہیں وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُوْنَ۔ " ڈانٹنے اور پھٹکارنے " سے مراد بعض مفسرین کی رائے میں یہ ہے کہ کچھ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ہانکتے اور بارش کا انتظام کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مفہوم بھی غلط نہیں ہے، لیکن آگے کے مضمون سے جو مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں سے ایک گروہ وہ بھی ہے جو نافرمانوں اور مجرموں کو پھٹکارتا ہے اور اس کی یہ پھٹکار صرف لفظی ہی نہیں ہوتی بلکہ انسانوں پر وہ حوادث طبیعی اور آفات تاریخی کی شکل میں برستی ہے۔ " کلام نصیحت سنانے " سے مراد یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں وہ بھی ہیں جو امر حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے تذکیر کی خدمت انجام دیتے ہیں، حوادث زمانہ کی شکل میں بھی جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اور ان تعلیمات کی صورت میں بھی جو ان کے ذریعہ سے انبیاء پر نازل ہوتی ہیں، اور ان الہامات کی صورت میں بھی جو ان کے واسطے سے نیک انسانوں پر ہوتے ہیں۔
Ayah 37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

تمہارا معبُودِ حقیقی بس ایک ہی ہے 2

سورة الصّٰٓفّٰت 2 یہ وہ حقیقت ہے جس پر مذکورہ صفات کے حامل فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ گویا دوسرے الفاظ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ پورا نظام کائنات جو اللہ کی بندگی میں چل رہا ہے، اور اس کائنات کے وہ سارے مظاہر جو اللہ کی بندگی سے انحراف کرنے کے برے نتائج انسانوں کے سامنے لاتے ہیں، اور اس کائنات کے اندر یہ انتظام کہ ابتدائے آفرینش سے آج تک پے در پے ایک ہی حقیقت کی یاد دہانی مختلف طریقوں سے کرائی جا رہی ہے، یہ سب چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انسانوں کا " اِلٰہ " صرف ایک ہی ہے۔ " اِلٰہ " کے لفظ کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ معبود جس کی بالفعل بندگی و عبادت کی جا رہی ہو۔ دوسرے وہ معبود جو فی الحقیقت اس کا مستحق ہو کہ اس کی بندگی و عبادت کی جائے۔ یہاں الٰہ کا لفظ دوسرے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ پہلے معنی میں تو انسانوں نے دوسرے بہت سے الٰہ بنا رکھے ہیں۔ اسی بنا پر ہم نے " اِلٰہ " کا ترجمہ " معبود حقیقی " کیا ہے۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں 3 کا مالک۔ 4

سورة الصّٰٓفّٰت 3 سورج ہمیشہ ایک ہی مطلع سے نہیں نکلتا بلکہ ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع ہوتا ہے۔ نیز ساری زمین پر وہ بیک وقت طابع نہیں ہوجاتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں پر مختلف اوقات میں اس کا طلوع ہوا کرتا ہے۔ ان وجوہ سے مشرق کے بجائے مشارق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ مغارب کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ مشارق کا لفظ خود ہی مغارب پر دلالت کرتا ہے، تاہم ایک جگہ رَبُّ المَشَارق و المغارب کے الفاظ بھی آئے ہیں (المعارج۔ 40)۔ سورة الصّٰٓفّٰت 4 ان آیات میں جو حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا مالک و فرمانروا ہی انسانوں کا اصل معبود ہے، اور وہی درحقیقت معبود ہوسکتا ہے، اور اسی کو معبود ہونا چاہیے۔ یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ رب (یعنی مالک اور حاکم اور مربی و پروردگار) کوئی ہو اور الٰہ (عبادت کا مستحق) کوئی اور ہوجائے۔ عبادت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ آدمی کا نفع و ضرر، اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا پورا ہونا، اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا، بلکہ بجائے خود اس کا وجود و بقا ہی جس کے اختیار میں ہے، اس کی بالا تری تسلیم کرنا اور اس کے آگے جھکنا آدمی کی فطرت کا عین تقاضا ہے۔ اس وجہ کو آدمی سمجھ لے تو خود بخود اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ اختیارات والے کی عبادت کرنا، دونوں صریح خلاف عقل و فطرت ہیں۔ عبادت کا استحقاق پہنچتا ہی اس کو ہے جو اقتدار رکھتا ہے۔ رہیں بےاقتدار ہستیاں تو وہ نہ اس کی مستحق ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے، اور نہ ان کی عبادت کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے کا کچھ حاصل ہے، کیونکہ ہماری کسی درخواست پر کوئی کارروائی کرنا سرے سے ان کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔ ان کے آگے عاجزی و نیاز مندی کے ساتھ جھکنا اور ان سے دعا مانگنا بالکل ویسا ہی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے جائے اور اس کے حضور درخواست پیش کرنے کے بجائے جو دوسرے سائلین وہاں درخواستیں لیے کھڑے ہوں ان ہی میں سے کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوجائے۔
Ayah 37:6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

ہم نے آسمانِ 5 دُنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

سورة الصّٰٓفّٰت 5 آسمان دنیا سے مراد قریب کا آسمان ہے، جس کا مشاہدہ کسی دوربین کی مدد کے بغیر ہم برہنہ آنکھ سے کرتے ہیں۔ اس کے آگے جو عالم مختلف طاقتوں کی دوربینوں سے نظر آتے ہیں، اور جن عالموں تک ابھی ہمارے وسائل مشاہدہ کی رسائی نہیں ہوئی ہے، وہ سب دور کے آسمان ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ " سماء " کسی متعین چیز کا نام نہیں ہے بلکہ قدیم ترین زمانے سے آج تک انسان بالعموم یہ لفظ عالَمِ بالا کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔
Ayahs 37:7–9

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شیطانِ سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے۔ 6

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے

سورة الصّٰٓفّٰت 6 یعنی عالم بالا محض خلا ہی نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کر جائے، بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے، اور اس کے مختلف خطے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطان سرکش کا ان حدوں سے گزر جانا ممکن نہیں ہے۔ کائنات کے ہر تارے اور ہر سیارے کا اپنا ایک دائرہ اور کرہ (Sphere) ہے جس کے اندر سے کسی کا نکلنا بھی سخت دشوار ہے اور جس میں باہر سے کسی کا داخل ہونا بھی آسان نہیں ہے۔ ظاہری آنکھ سے کوئی دیکھے تو خلائے محض کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ لیکن حقیقت میں اس خلا کے اندر بےحد و حساب خطے ایسی مضبوط سرحدوں سے محفوظ کیے گئے ہیں جن کے مقابلے میں آہنی دیواروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کا کچھ اندازہ ان گو ناں گوں مشکلات سے کیا جاسکتا ہے جو زمین کے رہنے والے انسان کو اپنے قریب ترین ہمسائے، چاند تک پہنچنے میں پیش آ رہی ہیں۔ ایسی ہی مشکلات زمین کی دوسری مخلوق، یعنی جنوں کے لیے بھی عالم بالا کی طرف صعود کرنے میں مانع ہیں۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

تا ہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شُعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ 7

سورة الصّٰٓفّٰت 7 اس مضمون کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس وقت عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا۔ جگہ جگہ کاہن بیٹھے پیشن گوئیاں کر رہے تھا، غیب کی خبریں دے رہے تھے، گم شدہ چیزوں کے پتے بتا رہے تھے، اور لوگ اپنے اگلے پچھلے حال دریافت کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے۔ ان کاہنوں کا دعویٰ یہ تھا کہ جن اور شیاطین ان کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کی خبریں لا لا کردیتے ہیں۔ اس ماحول میں جب رسول اللہ ﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہوئے اور آپ نے قرآن مجید کی آیات سنانی شروع کیں جن میں پچھلی تاریخ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کی خبریں دی گئی تھیں، اور ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی بتایا کہ ایک فرشتہ یہ آیات میرے پاس لاتا ہے، تو آپ کے مخالفین نے فوراً آپ کے اوپر کاہن کی پھبتی کس دی اور لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ ان کا تعلق بھی دوسرے کاہنوں کی طرح کسی شیطان سے ہے جو عالم بالا سے کچھ سن گن لے کر ان کے پاس آجاتا ہے اور یہ اسے وحی الہٰی بنا کر پیش کردیتے ہیں۔ اس الزام کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت ارشاد فرما رہا ہے کہ شیاطین کی تو رسائی ہی عالم بالا تک نہیں ہو سکتی۔ وہ اس پر قادر نہیں ہیں کہ ملاء اعلیٰ (یعنی گروہ ملائکہ) کی باتیں سن سکیں اور لا کر کسی کو خبریں دے سکیں۔ اور اگر اتفاقاً کوئی ذرا سی بھنک کسی شیطان کے کان میں پڑجاتی ہے تو قبل اس کے کہ وہ اسے لے کر نیچے آئے، ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے کائنات کا جو عظیم الشان نظام چل رہا ہے وہ شیاطین کی دراندازی سے پوری طرح محفوظ ہے۔ اس میں دخل دینا تو درکنار، اس کی معلومات حاصل کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ 500 تا 502)
Ayahs 37:11–14

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ 8 اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔ 9

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

سورة الصّٰٓفّٰت 8 یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے، کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔ اس کے جواب میں امکان آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بیشمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کرچکا ہے، اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 9 یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں ہے۔ مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جاسکتا ہے۔ لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی اسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار گارے سے بنا ہے۔ اس لیے کہ انسان کا سارا مادہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے، اور استقرار حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے، اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے۔ پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو ؟ اگر اس میں زندگی پیدا کیے جانے کا آج امکان ہے، جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور پر ثابت کر رہا ہے، تو کل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہوگی ؟
Ayahs 37:15–17

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اورکہتے ہیں”یہ تو صریح جادُو ہے، 10

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟"

سورة الصّٰٓفّٰت 10 یعنی عالم طلسمات کی باتیں ہیں۔ کوئی جادو کی دنیا ہے جس کا یہ شخص ذکر کر رہا ہے، جس میں مردے اٹھیں گے، عدالت ہوگی، جنت بسائی جائے گی اور دوزخ کے عذاب ہوں گے۔ یا پھر یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص دل چلوں کی سی باتیں کر رہا ہے، اس کی یہ باتیں ہی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے بھلا چنگا آدمی یہ باتیں کرنے لگا۔
Ayah 37:18

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

اِن سے کہوہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔ 11

سورة الصّٰٓفّٰت 11 یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔ جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آگئے۔ جب وہ چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے۔ اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔
Ayahs 37:19–20

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔ 12

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"

سورة الصّٰٓفّٰت 12 یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کردینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہوگا۔ بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھانے کے لیے کافی ہوگی۔ " جھڑکی " کا لفظ یہاں بہت معنیٰ خیز ہے، اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے " اٹھ جاؤ " اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 37:21

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔“ 13

سورة الصّٰٓفّٰت 13 ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہوسکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے، اب آگئی تمہاری شامت، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔
Ayahs 37:22–25

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

(حکم ہوگا)گھیر لاوٴ سب ظالموں 14 اور ان کے ساتھیوں 15 اور اُن کے معبُودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے 16

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ذرا اِنہیں ٹھیراؤ، اِن سے کچھ پوچھنا ہے

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

"کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟

سورة الصّٰٓفّٰت 14 ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔ سورة الصّٰٓفّٰت 15 اصل میں لفظ " ازواج " استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 16 اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔ ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے۔ ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو خود مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ اور دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں۔ ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایما ہرگز یہ نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے، مثلاً فرشتے، انبیا اور اولیاء۔ اس قسم کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔
Ayahs 37:26–27

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو)حوالے کیے دے رہے ہیں۔“ 17

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے

سورة الصّٰٓفّٰت 17 پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہوگا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جو اس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ فقرہ خود بتارہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہوگی۔ بڑے ہیکڑ مجرمین کے کس بل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔ کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور درباریوں میں سے کوئی " اعلیٰ حضرت " کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہوگا اور اس کا لشکر جرار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم ہو رہے ہوں گے اور مریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہوگی کہ حضرت والا کی توہین نہ ہونے پائے۔ کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے۔ حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہوگی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے، اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست کے غرور میں مبتلا ہیں، وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔
Ayahs 37:28–31

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(پیروی کرنے والے اپنے پیشواوٴں سے)کہیں گے،”تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے۔“ 18

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

وہ جواب دیں گے، "نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

سورة الصّٰٓفّٰت 18 اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ " تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے۔ " یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے، اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے۔ اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔ اس لیے ہم تمہارے فریب میں آگئے۔ اور اگر اسے قسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے قسمیں کھا کھا کر ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔
Ayah 37:32

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سو ہم نے تم کو بہکایا، ہم خود بہکے ہوئے تھے۔“ 19

سورة الصّٰٓفّٰت 19 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورة سبا، حواشی نمبر 51۔ 52۔ 53۔
Ayahs 37:33–36

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے۔ 20

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

سورة الصّٰٓفّٰت 20 یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ نہ پیروؤں کا یہ عذر مسموع ہوگا کہ وہ خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے۔
Ayahs 37:37–40

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔ 21

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

(اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے

سورة الصّٰٓفّٰت 21 رسولوں کی تصدیق کے تین معنی ہیں اور تینوں ہی یہاں مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کسی سابق رسول کی مخالفت نہ کی تھی کہ اس رسول کے ماننے والوں کے لیے اس کے خلاف تعصب کی کوئی معقول وجہ ہوتی، بلکہ وہ خدا کے تمام پچھلے رسولوں کی تصدیق کرتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں لایا تھا بلکہ وہی بات پیش کرتا تھا جو ابتدا سے خدا کے تمام رسول پیش کرتے چلے آ رہے تھے۔ تیسرے یہ کہ وہ ان تمام خبروں کا صحیح مصداق تھا جو پچھلے رسولوں نے اس کے بارے میں دی تھیں۔