Ayahs 37:115–122سورة الصّٰٓفّٰت 69
یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔
Ayahs 37:123–124سورة الصّٰٓفّٰت 70
حضرت الیاس ؑ انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔ ایک یہ مقام اور دوسرا سورة انعام آیت 85۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ 875 اور 850 قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔ وہ جِلْعاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْعاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبی (elijah theTishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔ ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں
حضرت سلیمان ؑ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam) کی نااہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا، اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہوگئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا۔ اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے، لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel) سے شادی کرلی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہوگیا، اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔
یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس ؑ یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جلعاد سے آ کر اخی اب کو نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا، حتیٰ کہ اوس تک نہ پڑے گی۔ خدا کے نبی کا یہ قول حرف بحرف صحیح ثابت ہوا اور ساڑھے تین سال تک بارش بالکل بند رہی۔ آخر کار اخی اب کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کرا کے بلوایا۔ انہوں نے بارش کے لیے دعا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ اسرائیل کے باشندوں کو اللہ رب العالمین اور بعل کا فرق اچھی طرح بتادیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے حکم دیا کہ ایک مجمع عام میں بعل کے پوجاری بھی آ کر اپنے معبود کے نام پر قربانی کریں اور میں بھی اللہ رب العلمین کے نام پر قربانی کروں گا۔ دونوں میں سے جس کی قربانی بھی انسان کے ہاتھوں سے آگ لگائے بغیر غیبی آگ سے بھسم ہوجائے اس کے معبود کی سچائی ثابت ہوجائے گی۔ اخی اب نے یہ بات قبول کرلی۔ چناچہ کوہ کرمل (Carmel)_ پر بعل کے ساڑھے آٹھ سو پجاری جمع ہوئے اور اسرائیلیوں کے مجمع عام میں ان کا اور حضرت الیاس ؑ کا مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں بعل پرستوں نے شکست کھائی اور حضرت الیاس نے سب کے سامنے یہ ثابت کردیا کہ بعل ایک جھوٹا خدا ہے، اصل خدا وہی ایک اکیلا خدا ہے جس کے نبی کی حیثیت سے وہ مامور ہو کر آئے ہیں۔ اس کے بعد حضرت الیاس نے اسی مجمع عام میں بعل کے پجاریوں کو قتل کرا دیا اور پھر بارش کے لیے دعا کی جو فوراً قبول ہوئی یہاں تک کہ پورا ملک اسرائیل سیراب ہوگیا۔
لیکن معجزات کو دیکھ کر بھی زن مرید اخی اب اپنی بت پرست بیوی کے شکنجے سے نہ نکلا۔ اس کی بیوی ایزبل حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور اس نے قسم کھالی کہ جس طرح بعل کے پجاری قتل کیے گئے ہیں اسی طرح الیاس ؑ بھی قتل کیے جائیں گے۔ ان حالات میں حضرت الیاس کو ملک چھوڑنا پڑا اور چند سال تک وہ کوہ سینا کے دامن میں پناہ گزیں رہے۔ اس موقع پر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو فریاد کی تھی اسے بائیبل ان الفاظ میں نقل کرتی ہے
" بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں "۔ (1۔ سلاطین 1019)
اسی زمانے میں بیت المقدس کی یہودی ریاست کے فرمانروا یہورام (Jehoram) نے اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے شادی کرلی اور اس مشرک شہزادی کے اثر سے وہی تمام خرابیاں جو اسرائیل میں پھیلی ہوئی تھیں، یہودیہ کی ریاست میں بھی پھیلنے لگیں۔ حضرت الیاس نے یہاں بھی فریضۂ نبوت ادا کیا اور یہورام کو ایک خط لکھا جس کے یہ الفاظ بائیبل میں نقل ہوئے ہیں
" خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے اس لیے کہ تو نہ اپنے باپ یہوسفط کی راہوں پر اور نہ یہو واہ کے بادشاہ آسا کی راہوں پر چلا بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا ہے اور یہو واہ اور یروشلم کے باشندوں کو زنا کار بنایا جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا، سو دیکھ خداوند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہوجائے گا یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی (2۔ تواریخ 2112۔ 15)
اس خط میں حضرت الیاس نے جو کچھ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ پہلے یہورام کی ریاست بیرونی حملہ آوروں کی تاخت سے تباہ ہوئی اور اس کی بیویوں تک کو دشمن پکڑ لے گئے، پھر وہ خود انتڑیوں کے مرض سے ہلاک ہوا۔
چند سال کے بعد حضرت الیاس پھر اسرائیل تشریف لے گئے اور انہوں نے اخی اب کو، اور اس کے بعد اس کے بیٹے اخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کی، مگر جو بدی سامریہ کے شاہی خاندان میں گھر کرچکی تھی وہ کسی طرح نہ نکلی۔ آخر کار حضرت کی بد دعا سے اخی اب کا گھرانا ختم ہوگیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا۔ ان واقعات کی تفصیل کے لیے بائیبل کے حسب ذیل ابواب ملاحظہ ہوں 1۔ سالطین، باب 17۔ 18۔ 19۔ 21۔ 2۔ سلاطین باب 1۔ 2۔ 3۔ تواریخ باب 21۔
Ayahs 37:125–127سورة الصّٰٓفّٰت 71
بعل کے لغوی معنی آقا، سردار اور مالک کے ہیں۔ شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے، مثلاً سورة بقرہ آیت 228، سورة نساء آیت 127، سورة ہود آیت 72، اور سورة نور آیت 31 میں۔ لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians) کا سب سے بڑا نر دیوتا بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth) ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔ محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔ بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان، اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے، اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہوں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کردیے، تو ان کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن نون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہوگیا تھا
" اور بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے ـــــــ اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے " (قضاۃ 2َ 11۔ 13)
" سو بنی اسرائیل کنعانیوں اور حتّیوں اور اموریوں اور فِرِزّیوں اور یبوسیوں کے درمیان بس گئے اور بیٹیوں سے آپ نکاح کرنے اور اپنی بیٹیاں ان کے بیٹوں کو دینے اور ان کے دیوتاؤں کی پرستش کرنے لگے (قضاۃ 25۔ 2)
اس زمانہ میں بعل پرستی اسرائیلیوں میں اس قدر گھس چکی تھی کہ بائیبل کے بیان کے مطابق ان کی ایک بستی میں علانیہ بعل کا مذبح بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔ ایک خدا پرست اسرائیل اس حالت کو برداشت نہ کرسکا اور اس نے رات کے وقت چپکے سے یہ مذبح توڑ دیا۔ دوسرے روز ایک مجمع کثیر اکٹھا ہوگیا اور وہ اس شخص کے قتل کا مطالبہ کرنے لگا جس نے شرک کے اس اڈے کو توڑا تھا (قضاۃ 625۔ 32)۔ اس صورت حال کو آخر کار حضرت سموایل، طالوت، داؤد ؑ اور سلیمان ؑ نے ختم کیا اور نہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کی بلکہ اپنی مملکت میں بالعموم شرک و بت پرستی کو دبا دیا۔ لیکن حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہ فتنہ پھر ابھرا اور خاص طور پر شمالی فلسطین کی اسرائیلی ریاست بعل پرستی کے سیلاب میں بہہ گئی۔
Ayah 37:128سورة الصّٰٓفّٰت 72
یعنی اس سزا سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوں گے جنہوں نے حضرت الیاس کو نہ جھٹلایا اور جن کو اللہ نے اس قوم میں سے اپنی بندگی کے لیے چھانٹ لیا۔
Ayah 37:129سورة الصّٰٓفّٰت 73
حضرت الیاس ؑ کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے، مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان بڑھ کر جلیل القدر مانا ہوگا۔ ان کے ہاں مشہور ہوگیا کہ الیاس ؑ ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں (2 سلاطین، باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چناچہ بائیبل کی کتاب ملاکی میں لکھا ہے
" دیکھو، خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا " (45)
حضرت یحیٰی اور عیسیٰ (علیہما السلام) کی بعثت کے زمانہ میں یہودی بالعموم تین آنے والوں کے منتظر تھے۔ ایک حضرت الیاس۔ دوسرے مسیح۔ تیسرے " وہ نبی " (یعنی آنحضرت ﷺ۔ جب حضرت یحییٰ کی نبوت شروع ہوئی اور انہوں نے لوگوں کو اصطباغ دنیا شروع کیا تو یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں نے ان کے پاس جاکر پوچھا کیا تم مسیح ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تم ایلیاہ ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر پوچھا کیا تم " وہ نبی " ہو ؟ انہوں نے کہا میں وہ بھی نہیں ہوں۔ تب انہوں نے کہا اگر تم نہ مسیح ہو، نہ ایلیاہ، نہ وہ نبی، تو پھر تم بپتسمہ کیوں دیتے ہو ؟ (یوحنا 119۔ 26)۔ پھر کچھ مدت بعد جب حضرت عیسیٰ ؑ کا غلغلہ بلند ہوا تو یہودیوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ شاید ایلیاہ نبی آگئے ہیں (مرقس 615۔ 15) خود حضرت عیسیٰ ؑ کے حواریوں میں بھی یہ خیال پھیلا ہوا تھا کہ ایلیاہ نبی آنے والے ہیں۔ مگر حضرت نے یہ فرما کر ان کی غلط فہمی کو رفع فرمایا کہ " ایلیاہ تو آ چکا، اور لوگوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ " اس سے حواری خود جان گئے کہ دراصل آنے والے حضرت یحییٰ تھے نہ کہ آٹھ سو برس پہلے گزرے ہوئے حضرت الیاس (متی 1114 اور متی 1710۔ 13)۔
Ayahs 37:130–134سورة الصّٰٓفّٰت 74
اصل میں الفاظ ہیں سلاَمٌ عَلیٰ اِلْ یَاسِیْن۔ اس کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت الیاس کا دوسرا نام ہے، جس طرح حضرت ابراہیم کا دوسرا نام ابراہام تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اہل عرب میں عبرانی اسماء کے مختلف تلفظ رائج تھے، مثلاً میکال اور میکائیل اور میکائین ایک فرشتے کو کہا جاتا تھا۔ ایسا ہی معاملہ حضرت الیاس کے نام کے ساتھ بھی ہوا ہے خود قرآن مجید میں ایک ہی پہاڑ کا نام طور سینا بھی آیا ہے اور طور سینین بھی۔
Ayahs 37:135–136سورة الصّٰٓفّٰت 75
اس سے مراد حضرت لوط کی بیوی ہے جو ہجرت کا حکم آنے پر اپنے شوہر نامدار کے ساتھ نہ گئی بلکہ اپنی قوم کے ساتھ رہی اور مبتلائے عذاب ہوئی۔
Ayahs 37:137–138سورة الصّٰٓفّٰت 76
اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ قریش کے تاجر شام و فلسطین کی طرف جاتے ہوئے شب و روز اس علاقے سے گزرتے تھے جہاں قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں واقع تھیں۔
Ayah 37:139سورة الصّٰٓفّٰت 77
یہ تیسرا موقع ہے جہاں حضرت یونس ؑ کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة یونس اور سورة انبیاء میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم اس کی تشریح کرچکے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحہ 312۔ 313۔ جلد سوم، صفحہ 182۔ 183)
Ayahs 37:140–141سورة الصّٰٓفّٰت 78
اصل میں لفظ اَبَقَ استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں صرف اس وقت بولا جاتا ہے جبکہ غلام اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جائے۔ الاباق ھرب العبد من سیدہ۔ " اِباق کے معنی ہیں غلام کا اپنے آقا سے فرار ہوجانا (لسان العرب)
Ayah 37:142سورة الصّٰٓفّٰت 79
ان فقروں پر غور کرنے سے جو صورت واقعہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ
(1) حضرت یونس جس کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی (Overloaded) تھی۔
(2) قرعہ اندازی کشتی میں ہوئی، اور غالباً اس وقت جب بحری سفر کے دوران میں یہ محسوس ہوا کہ بوجھ کی زیادتی کے سبب سے تمام مسافروں کی جان خطرے میں پڑگئی ہے۔ لہٰذا قرعہ اس غرض کے لیے ڈالا گیا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔
(3) قرعہ میں حضرت یونس ہی کا نام نکلا، وہ سمندر میں پھینک دیے گئے اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا۔
(4) اس ابتلا میں حضرت یونس اس لیے مبتلا ہوئے کہ وہ اپنے آقا (یعنی اللہ تعالیٰ) کی اجازت کے بغیر اپنے مقام ماموریت سے فرار ہوگئے تھے۔ اس معنی پر لفظ اَبَقَ بھی دلالت کرتا ہے جس کی تشریح اوپر 78 میں گزرچکی ہے، اور اسی معنی پر لفظ مُلِیْم بھی دلالت کرتا ہے۔ مُلیم ایسے قصور وار آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے قصور کی وجہ سے آپ ہی ملامت کا مستحق ہوگیا ہو، خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے (یقال قد الام الرجل اذا اتیٰ ما یلام علیہ من الامر و ان لم یُلِم۔ ابن جریر)
Ayah 37:143سورة الصّٰٓفّٰت 80
اس کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ حضرت یونس ؑ پہلے ہی خدا سے غافل لوگوں میں سے نہ تھے، بلکہ ان لوگوں میں سے تھے جو دائماً اللہ کی تسبیح کرنے والے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو انہوں نے اللہ ہی کی طرف رجوع کیا اور اس کی تسبیح کی۔ سورة انبیا میں ارشاد ہوا ہے فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔ پس ان تاریکیوں میں اس نے پکارا " نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بیشک میں قصور وار ہوں۔ "
Ayah 37:144سورة الصّٰٓفّٰت 81
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مچھلی قیامت تک زندہ رہتی اور حضرت یونس ؑ قیامت تک اس کے پیٹ میں زندہ رہتے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک اس مچھلی کا پیٹ ہی حضرت یونس ؑ کی قبر بنا رہتا۔ مشہور مفسر قتادہ نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے (ابن جریر)۔
Ayah 37:145سورة الصّٰٓفّٰت 82
یعنی جب حضرت یونس ؑ نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا اور وہ ایک بندہ مومن و قانت کی طرح اس کی تسبیح میں لگ گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔ ساحل ایک چٹیل میدان تھا جس میں کوئی روئیدگی نہ تھی، نہ کوئی ایسی چیز تھی جو حضرت یونس ؑ پر سایہ کرتی، نہ وہاں غذا کا کوئی سامان موجود تھا۔
اس مقام پر بہت سے عقلیت کے مدعی حضرات یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جا کر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے۔ لیکن پچھلی ہی صدی کے اواخر میں اس نام نہاد عقلیت کے گڑھ (انگلستان) کے سواحل سے قریب ایک واقعہ پیش آ چکا ہے جو ان کے دعوے کی تردید کردیتا ہے۔ اگست 1891 ء میں ایک جہاز (Star the east) پر کچھ مچھیرے وہیل کے شکار کے لیے گہرے سمندر میں گئے۔ وہاں انہوں نے ایک بہت بڑی مچھلی کو جو 20 فیٹ لمبی، 5 فیٹ چوڑی اور سو ٹن وزنی تھی، سخت زخمی کردیا۔ مگر اس سے جنگ کرتے ہوئے جیمز بارٹلے نامی ایک مچھیرے کو اس کے ساتھیوں کی آنکھوں کے سامنے مچھلی نے نگل لیا۔ دوسرے روز وہی مچھلی اس جہاز کے لوگوں کو مری ہوئی مل گئی۔ انہوں نے بمشکل اسے جہاز پر چڑھایا اور پھر طویل جدوجہد کے بعد جب اس کا پیٹ چاک کیا تو بارٹلے اس کے اندر سے زندہ برآمد ہوگیا۔ یہ شخص مچھلی کے پیٹ میں پورے 60 گھنٹے رہا تھا (اردو ڈائجسٹ، فروری 1964 ء)۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اگر معمولی حالات میں فطری طور پر ایسا ہونا ممکن ہے تو غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کے معجزے کے طور پر ایسا ہونا کیوں غیر ممکن ہے ؟
Ayah 37:146سورة الصّٰٓفّٰت 83
اصل الفاظ ہیں شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْن۔ یقطین عربی زبان میں ایسے درخت کو کہتے ہیں جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے، جیسے، کدو، تربوز، ککڑی وغیرہ بہرحال وہاں کوئی ایسی بیل معجزانہ طریقہ پر پیدا کردی گئی تھی جس کے پتے حضرت یونس پر سایہ بھی کریں اور جس کے پھل ان کے لیے بیک وقت غذا کا کام بھی دیں اور پانی کا کام بھی۔
Ayah 37:147سورة الصّٰٓفّٰت 84
" ایک لاکھ یا اس سے زائد " کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تعداد میں شک تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کی بستی کو دیکھتا تو یہی اندازہ کرتا کہ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہی ہوگی، کم نہ ہوگی۔ اغلب یہ ہے کہ یہ وہی بستی تھی جس کو چھوڑ کر حضرت یونس بھاگے تھے۔ ان کے جانے کے بعد عذاب آتا دیکھ کر جو ایمان اس بستی کے لوگ لے آئے تھے اس کی حیثیت صرف توبہ کی تھی جسے قبول کر کے عذاب ان پر سے ٹال دیا گیا تھا۔ اب حضرت یونس ؑ دوبارہ ان کی طرف بھیجے گئے تاکہ وہ نبی پر ایمان لا کر باقاعدہ مسلمان ہوجائیں۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے سورة یونس، آیت 98 نگاہ میں رہنی چاہیے۔
Ayah 37:148سورة الصّٰٓفّٰت 85
حضرت یونس کے اس قصے کے متعلق سورة یونس اور سورة انبیا کی تفسیریں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس پر بعض لوگوں نے اعتراضات کیے ہیں، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دوسرے مفسرین کے اقوال بھی نقل کردیے جائیں۔
مشہور مفسر قَتَادہ سورة یونس، آیت 98 کی تفسیر میں فرماتے ہیں " کوئی بستی ایسی نہیں گزری ہے جو کفر کرچکی ہو اور عذاب آجانے کے بعد ایمان لائی ہو اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس سے صرف قوم یونس مستثنیٰ ہے۔ انہوں نے جب اپنے نبی کو تلاش کیا اور نہ پایا، اور محسوس کیا کہ عذاب قریب آگیا ہے تو اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ ڈال دی " (ابن کثیر، جلد 2، ص 433)
اسی آیت کی تفسیر علامہ آلوسی لکھتے ہیں " اس قوم کا قصہ یہ ہے کہ یونس ؑ موصل کے علاقے میں نینویٰ کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ کافر و مشرک لوگ تھے۔ حضرت یونس نے ان کو اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لانے اور بتوں کی پرستش چھوڑ دینے کی دعوت دی۔ انہوں نے انکار کیا اور جھٹلایا۔ حضرت یونس نے ان کو خبر دی کہ تیسرے دن ان پر عذاب آجائے گا اور تیسرا دن آنے سے پہلے آدھی رات کو وہ بستی سے نکل گئے۔ پھر دن کے وقت جب عذاب اس قوم کے سروں پر پہنچ گیا ـــــــــ اور انہیں یقین ہوگیا کہ سب ہلاک ہوجائیں گے تو انہوں نے اپنے نبی کو تلاش کیا، مگر نہ پایا۔ آخر کار وہ سب اپنے بال بچوں اور جانوروں کو لے کر صحرا میں نکل آئے اور ایمان و توبہ کا اظہار کیا ــــــــ پس اللہ نے ان پر رحم کیا اور ان کی دعا قبول کرلی " (روح المعانی، جلد 11، ص 170)
سورة انبیا کی آیت 87 کی تشریح کرتے ہوئے علامہ آلوسی لکھتے ہیں " حضرت یونس کا اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل جانا ہجرت کا فعل تھا، مگر انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا " (روح المعانی، ج 17، ص 77) پھر وہ حضرت یونس ؑ کی دعا کے فقرہ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں " یعنی میں قصور وار تھا کہ انبیاء کے طریقہ کے خلاف، حکم آنے سے پہلے، ہجرت کرنے میں جلدی کر بیٹھا۔ یہ حضرت یونس ؑ کی طرف سے اپنے گناہ کا اعتراف اور توبہ کا اظہار تھا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اس مصیبت کو دور فرما دے " (روح المعانی، ج 17، ص 78)
مولانا اشرف علی تھانوی کا حاشیہ اس آیت پر یہ ہے کہ " وہ اپنی قوم پر جبکہ وہ ایمان نہ لائی خفا ہو کر چل دیے اور قوم پر سے عذاب ٹل جانے کے بعد بھی خود واپس نہ آئے اور اس سفر کے لیے ہمارے حکم کا انتظار نہ کیا " (بیان القرآن)
اسی آیت پر مولانا شبیر احمد عثمانی حاشیہ میں فرماتے ہیں " قوم کی حرکات سے خفا ہو کر غصے میں بھرے ہوئے شہر سے نکل گئے، حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا اور وعدہ کر گئے کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا ـــــــ اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن، اپنے خطا کا اعتراف کیا کہ بیشک میں نے جلدی کی تیرے حکم کا انتظار کیے بدون بستی والوں کو چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا۔ "
سورة صافات کی آیات بالا کی تشریح میں امام رازی لکھتے ہیں " حضرت یونس کا تصور یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قوم کو جس نے انہیں جھٹلایا تھا، ہلاک کرنے کا وعدہ فرمایا، یہ سمجھے کہ یہ عذاب لا محالہ نازل ہونے والا ہے، اس لیے انہوں نے صبر نہ کیا اور قوم کو دعوت دینے کا کام چھوڑ کر نکل گئے، حالانکہ ان پر واجب تھا کہ دعوت کا کام برابر جاری رکھتے، کیونکہ اس امر کا امکان باقی تھا کہ اللہ ان لوگوں کو ہلاک نہ کرے " (تفسیر کبیر، ج 7، ص 185)
علامہ آلوسی اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُون پر لکھتے ہیں " ابق کے اصل معنی آقا کے ہاں سے غلام کے فرار ہونے کے ہیں۔ چونکہ حضرت یونس اپنے رب کے اذن کے بغیر اپنی قوم سے بھاگ نکلے تھے اس لیے اس لفظ کا اطلاق ان پر درست ہوا۔ " پھر آگے چل کر لکھتے ہیں " جب تیسرا دن ہوا تو حضرت یونس اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نکل گئے۔ اب جو ان کی قوم نے ان کو نہ پایا تو وہ اپنے بڑے اور چھوٹے اور جانوروں، سب کو لے کر نکلے، اور نزول عذاب ان سے قریب تھا، پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور زاری کی اور معافی مانگی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا " (روح المعانی، جلد 23، ص، 13)
مولانا شبیر احمد صاحب وَھُوَ مُلِیْم کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں " الزام یہی تھا کہ خطائے اجتہادی سے حکم الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے نکل پڑے اور عذاب کے دن کی تعیین کردی۔ "
پھر سورة القلم کی آیت فاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ پر مولانا شبیر احمد صاحب کا حاشیہ یہ ہے " یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے والے پیغمبر (حضرت یونس ؑ کی طرح مکذبین کے معاملہ میں تنگ دلی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیجیے "۔ اور اسی آیت کے فقرہ وَھُوَ مَکْظُوْم پر حاشیہ تحریر کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں یعنی قوم کی طرف سے غصے میں بھرے ہوئے تھے۔ جھنجھلا کر شتابی عذاب کی دعا، بلکہ پیشن کر بیٹھے۔ "
مفسرین کے ان بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تین قصور تھے جن کی وجہ سے حضرت یونس پر عتاب ہوا۔ ایک یہ کہ انہوں نے عذاب کے دن کی خود ہی تعیین کردی حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہ ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ دن آنے سے پہلے ہجرت کر کے ملک سے نکل گئے، حالانکہ نبی کو اس وقت تک اپنی جگہ نہ چھوڑنی چاہیے جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ آجائے۔ تیسرے یہ کہ جب اس قوم پر سے عذاب ٹل گیا تو واپس نہ گئے۔