37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 37:41

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے، 22

سورة الصّٰٓفّٰت 22 یعنی ایسا رزق جس کی تمام خوبیاں بتائی جاچکی ہیں، جس کے ملنے کا انہیں یقین ہے، جس کے متعلق انہیں یہ بھی اطمینان ہے کہ وہ ہمیشہ ملتا رہے گا، جس کے بارے میں یہ خطرہ لگا ہوا نہیں ہے کہ کیا خبر، ملے یا نہ ملے۔
Ayahs 37:42–44

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

ہر طرح کی لذیذ چیزیں۔ 23

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

اور نعمت بھری جنتیں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

سورة الصّٰٓفّٰت 23 اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جنت میں کھانا غذا کے طور پر نہیں بلکہ لذت کے لیے ہوگا۔ یعنی وہاں کھانا اس غرض کے لیے نہ ہوگا کہ جسم کے تحلیل شدہ اجزاء کی جگہ دوسرے اجزاء غذا کے ذریعہ فراہم کیے جائیں، کیونکہ اس ابدی زندگی میں سرے سے اجزائے جسم تحلیل ہی نہ ہوں گے، نہ آدمی کو بھوک لگے گی جو اس دنیا میں تحلیل کے عمل کی وجہ سے لگتی ہے، اور نہ جسم اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے غذا مانگے گا۔ اسی بنا پر جنت کے ان کھانوں کے لیے " فواکہ " کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں تغذیہ کے بجائے تلذُّذ کا پہلو نمایاں ہے۔
Ayahs 37:45–46

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب 24 کے چشموں 26 سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی

سورة الصّٰٓفّٰت 24 اصل میں یہاں شراب کی تصریح نہیں ہے بلکہ صرف کأس (ساغر) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن عربی زبان کی کأس کا لفظ بول کر ہمیشہ شراب ہی مراد لی جاتی ہے۔ جس پیالے میں شراب کے بجائے دودھ یا پانی ہو، یا جس پیالے میں کچھ نہ ہو اسے کأس نہیں کہتے کأس کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب اس میں شراب ہو۔ سورة الصّٰٓفّٰت 25 یعنی وہ شراب اس قوم کی نہ ہوگی جو دنیا میں پھلوں اور غلوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے۔ بلکہ وہ قدرتی طور پر چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی شکل میں بہے گی۔ سورة محمد میں اسی مضمون کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّشَّارِبِیْنَ۔ " اور شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذت ہوں گی "۔ سورة الصّٰٓفّٰت 26 یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ شراب کے یہ ساغر لے کر جنتیوں کے درمیان گردش کون کرے گا۔ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر ارشاد ہوئی ہے وَ یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُوءْ لُوءٌ مَّکْنُوْنٌ۔ اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ان کے خادم لڑکے، ایسے خوبصورت جیسے صدف میں چھپے ہوئے موتی " (الطور، آیت 24)۔ وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ اِذَا رَأَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُوْء لُؤًا مَّنْشُوْراً۔ " اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہنے والے ہیں۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی بکھیر دیے گئے ہیں " (الدہر، آیت 19)۔ پھر اس کی مزید تفصیل حضرت اَنَس اور حضرت سَمُرَہ بن جندُب کی ان روایات میں ملتی ہے جو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کی ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ " مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے " (ابو داؤد طَیالِسی، طبرانی، بزَّار)۔ یہ روایات اگرچہ سنداً ضعیف ہیں، لیکن متعدد دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بچے سن رشد کو نہیں پہنچے ہیں وہ جنت میں جائیں گے۔ پھر یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بچوں کے والدین جنتی ہوں گے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہیں گے تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اس کے بعد لامحالہ وہ بچے رہ جاتے ہیں جن کے ماں باپ جنتی نہ ہوں گے۔ سو ان کے متعلق یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ وہ اہل جنت کے خادم بنا دیے جائیں۔ (اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری اور عمدۃ القاری، کتاب الجنائز، باب ماقیل فی اولاد المشرکین رسائل و مسائل، جلد سوم، ص 177 تا 187)
Ayah 37:47

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔ 27

سورة الصّٰٓفّٰت 27 یعنی وہ شراب ان دونوں قسم کی خرابیوں سے خالی ہوگی جو دنیا کی شراب میں ہوتی ہیں۔ دنیا کی شراب میں ایک قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے قریب آتے ہی پہلے تو اس کی بدبو اور سڑاند ناک میں پہنچتی ہے پھر اس کا مزا آدمی کے ذائقے کو تلخ کرتا ہے۔ پھر حلق سے اترتے ہی وہ پیٹ پکڑ لیتی ہے۔ پھر وہ دماغ کو چڑھتی ہے اور دوران سر لاحق ہوتا ہے۔ پھر وہ جگر کو متاثر کرتی ہے اور آدمی کی صحت پر اس کے برے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ پھر جب اس کا نشہ اترتا ہے تو آدمی خمار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ سب جسمانی ضرر ہیں۔ دوسری قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اسے پی کر آدمی بہکتا ہے، اَول فول بکتا ہے اور عَزْبدہ کرتا ہے۔ یہ شراب کے عقلی نقصانات ہیں۔ دنیا میں انسان صرف سرور کی خاطر شراب کے یہ سارے نقصانات برداشت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت کی شراب میں سرور تو پوری طرح ہوگا (لذّۃ للشاربین) لیکن ان دونوں قسم کی خرابیوں میں سے کوئی خرابی بھی اس میں نہ ہوگی۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، 28 خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی، 29

سورة الصّٰٓفّٰت 28 یعنی اپنے شوہر کے سوا کسی اور کی طرف نگاہ نہ کرنے والی۔ سورة الصّٰٓفّٰت 29 بعید نہیں ہے کہ یہ وہ لڑکیاں ہوں جو دنیا میں سن رشد کو پہنچنے سے پہلے مر گئی ہوں اور جن کے والدین جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں۔ یہ بات اس قیاس کی بنا پر کہی جاسکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لیے مقرر کردیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لیے حوریں بنادی جائیں گی اور وہ ہمیشہ نو خیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم با لصواب۔
Ayahs 37:49–51

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھُپی ہوئی جھِلی۔ 30

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہے گا، "دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا

سورة الصّٰٓفّٰت 30 اصل الفاظ ہیں کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔ " گویا وہ چھپے ہوئے یا محفوظ رکھے ہوئے انڈے ہیں " ان الفاظ کی مختلف تعبیرات اہل تفسیر نے بیان کی ہیں۔ مگر صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے نقل کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت کا مطلب حضور ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلی جیسی ہوگی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر)۔
Ayahs 37:52–56

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

جو مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟ 31

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟"

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

اور اس سے خطاب کر کے کہے گا "خدا کی قسم، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا

سورة الصّٰٓفّٰت 31 یعنی تم بھی ایسے ضعیف الاعتقاد نکلے کہ زندگی بعد موت جیسی بعید از عقل بات کو مان بیٹھے۔
Ayahs 37:57–58

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

میرے ربّ کا فضل شاملِ حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ 32

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

سورة الصّٰٓفّٰت 32 اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہوگی۔ جنت میں بیٹھا ہوا ایک آدمی جب چاہتا ہے کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یونہی جھک کر ایک ایسے شخص کو دیکھ لیتا ہے جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہے۔ پھر یہی نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتا ہے۔ وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔
Ayahs 37:59–61

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟“ 33

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

سورة الصّٰٓفّٰت 33 انداز کلام صاف بتارہا ہے کہ اپنے اس دوزخی یار سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ جنتی شخص اپنے آپ سے کلام کرنے لگتا ہے اور یہ تین فقرے اس کی زبان سے اس طرح ادا ہوتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پا کر انتہائی حیرت واستعجاب اور وفور مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔ اس طرح کے کلام میں کوئی خاص شخص مخاطب نہیں ہوتا، اور نہ اس کلام میں جو سوالات آدمی کرتا ہے ان سے درحقیقت کوئی بات کسی سے پوچھنا مقصود ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں آدمی کے اپنے ہی احساسات کا اظہار اس کی زبان سے ہونے لگتا ہے۔ وہ جنتی شخص اس دوزخی سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ محسوس کرتا ہے کہ میری خوش قسمتی مجھے کہاں لے آئی ہے۔ اب نہ موت ہے نہ عذاب ہے۔ ساری کلفتوں کا خاتمہ ہوچکا ہے اور مجھے حیات جاوداں نصیب ہوچکی ہے۔ اسی احساس کی بنا پر وہ بےساختہ بول اٹھتا ہے کیا اب ہم اس مرتبے کو پہنچ گئے ہیں ؟
Ayah 37:62

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم 34 کا درخت؟

سورة الصّٰٓفّٰت 34 زَقّوم ایک قسم کا درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے۔ مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے، بو ناگوار ہوتی ہے، اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ غالباً یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں۔
Ayahs 37:63–64

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے۔ 35

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

سورة الصّٰٓفّٰت 35 یعنی منکرین یہ بات سن کر قرآن پر طعن اور نبی ﷺ پر استہزاء کا ایک نیا موقع پالیتے ہیں۔ وہ اس پر ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں، لو اب نئی سنو، جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں درخت اگے گا۔
Ayahs 37:65–67

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ 36

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا

سورة الصّٰٓفّٰت 36 کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ شیطان کا سر کس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ دراصل یہ تخییلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام طور پر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لیے کہتے ہیں وہ پری ہے۔ اور انتہائی بدصورتی بیان کرنے کے لیے کہتے ہیں، وہ چڑیل ہے یا بھتنی ہے۔ کسی شخص کی نورانی شکل کی تعریف میں کہا جاتا ہے، وہ فرشتہ صورت ہے۔ اور کوئی نہایت بھیانک ہیئت کذائی میں سامنے آئے تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ شیطان بنا چلا آ رہا ہے۔
Ayahs 37:68–74

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتشِ دوزخ کی طرف ہوگی۔ 37

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

اور اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑ چلے۔ 38

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور اُن میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ لو کہ اُن تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے

سورة الصّٰٓفّٰت 37 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بےتاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔ پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہوجائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔
Ayah 37:75

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

ہم کو 39 (اس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا 40 ، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

سورة الصّٰٓفّٰت 39 اس مضمون کا تعلق پچھلے رکوع کے آخری فقروں سے ہے۔ ان پر غور کرنے سے سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ قصے یہاں کسی غرض سے سنائے جا رہے ہیں۔ سورة الصّٰٓفّٰت 40 اس سے مراد وہ فریاد ہے جو حضرت نوح ؑ نے مدتہائے دراز تک اپنی قوم کو دعوت دین حق دینے کے بعد آخر کار مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے کی تھی۔ اس فریاد کے الفاظ سورة قمر میں اس طرح آئے ہیں فَدَعَا رَبَّہ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ، " اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں، اب تو میری مدد کو پہنچ " (آیت 10)
Ayah 37:76

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا 41

سورة الصّٰٓفّٰت 41 یعنی اس شدید اذیت سے جو ایک بد کردار اور ظالم قوم کی مسلسل مخالفت سے ان کو پہنچ رہی تھی۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ جس طرح نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو اس کرب عظیم سے بچایا گیا، اسی طرح آخر کار ہم محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بھی اس کرب عظیم سے بچا لیں گے جس میں اہل مکہ نے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔
Ayahs 37:77–78

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور اسی کی نسل کو باقی رکھا 42

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی

سورة الصّٰٓفّٰت 42 اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ حضرت نوح کی مخالفت کر رہے تھے ان کی نسل دنیا سے ناپید کردی گئی اور حضرت نوح ؑ ہی کی نسل باقی رکھی گئی اور آگے صرف حضرت نوح ؑ ہی کی اولاد سے دنیا آباد کی گئی۔ عام طور پر مفسرین نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے، مگر قرآن مجید کے الفاظ اس معنی میں صریح نہیں ہیں اور حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔