37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 37:79–83

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

سلام ہے نوحؑ پر تمام دینا والوں میں 43

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا

سورة الصّٰٓفّٰت 43 یعنی آج دنیا میں حضرت نوح ؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔
Ayahs 37:84–86

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا 44

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا 45۔’’ یہ کیا چیزیں جن کے تم عبادت کر رہے ہو؟

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟

سورة الصّٰٓفّٰت 44 رب کے حضور آنے سے مراد اس کی طرف رجوع کرنا اور سب سے منہ موڑ کر اسی کا رخ کرنا ہے۔ اور " قلب سلیم " کے معنی " صحیح سلامت دل " کے ہیں۔ یعنی ایسا دل جو تمام اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو، جس میں کفر و شرک اور شکوک و شبہات کا شائبہ تک نہ ہو، جس میں نافرمانی اور سرکشی کا کوئی جذبہ نہ پایا جاتا ہو، جس میں کوئی ایچ پیچ اور الجھاؤ نہ ہو، جو ہر قسم کے برے میلانات اور ناپاک خواہشات سے بالکل صاف ہو، جس کے اندر کسی کے لیے بغض و حسد یا بد خواہی نہ پائی جاتی ہو، جس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہو۔ سورة الصّٰٓفّٰت 45 حضرت ابراہیم ؑ کے اس قصے کی مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 552 تا 560۔ جلد سوم ص 69۔ 70۔ 163 تا 170۔ 499 تا 506۔ 686 تا 694۔
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟‘‘ 46

سورة الصّٰٓفّٰت 46 یعنی اللہ تعالیٰ کو آخر تم نے کیا سمجھ رکھا ہے۔ کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لکڑی پتھر کے معبود اس کے ہم جنس ہو سکتے ہیں ؟ یا اس کی صفات اور اس کے اختیارات میں شریک ہو سکتے ہیں ؟ اور کیا تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ اس کے ساتھ اتنی بڑی گستاخی کر کے تم اس کی پکڑ سے بچے رہ جاؤ گے ؟
Ayah 37:88

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر 47 اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی 48

سورة الصّٰٓفّٰت 47 اب ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات سورة (آیات 51 تا 73) اور سورة عنکبوت (آیات 16 تا 27) میں گزر چکی ہیں۔ سورة الصّٰٓفّٰت 48 ابن ابی حاتم نے مشہور تابعی مفسر قتادہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اہل عرب نَظَرَ فِی النُّجُوْمِ (اس نے تاروں پر نگاہ ڈالی) کے الفاظ محاصرے کے طور پر اس معنی میں بولا کرتے ہیں کہ اس شخص نے غور کیا، یا وہ شخص سوچنے لگا۔ علامہ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ویسے بھی یہ بات اکثر مشاہدے میں آتی ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے کوئی غور طلب معاملہ آتا ہے تو وہ آسمان کی طرف، یا اوپر کی جانب کچھ دیر دیکھتا رہتا ہے، پھر سوچ کر جواب دیتا ہے۔
Ayah 37:89

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

اور کہا میری طبیعت خراب ہے 49

سورة الصّٰٓفّٰت 49 یہ ان تین باتوں میں سے ایک ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی زندگی میں یہ تین جھوٹ بولے تھے۔ حالانکہ اس بات کو جھوٹ، یا خلاف واقعہ کہنے کے لیے پہلے کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ تھی اور انہوں نے محض بہانے کے طور پر یہ بات بنادی تھی۔ اگر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو خواہ مخواہ اسے جھوٹ آخر کس بنا پر قرار دے دیا جائے۔ اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہم تفہیم القرآن جلد سوم (صفحہ 167۔ 168) میں کرچکے ہیں، اور مزید بحث رسائل و مسائل، جلد دوم (صفحہ 35 تا 39) میں کی گئی ہے۔
Ayah 37:90

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

چنانچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے 50

سورة الصّٰٓفّٰت 50 یہ فقرہ خود بخود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ صورت معاملہ دراصل کیا تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ قوم کے لوگ اپنے کسی میلے میں جا رہے ہوں گے۔ حضرت ابراہیم کے خاندان والوں نے ان سے بھی ساتھ چلنے کو کہا ہوگا۔ انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کردی ہوگی کہ میری طبیعت خراب ہے، میں نہیں چل سکتا۔ اب اگر یہ بات بالکل ہی خلاف واقعہ ہوتی تو ضرور گھر کے لوگ ان سے کہتے کہ اچھے خاصے بھلے چنگے ہو، بلا وجہ بہانہ بنا رہے ہو۔ لیکن جب وہ عذر کو قبول کر کے انہیں پیچھے چھوڑ گئے تو اس سے خود ہی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ضرور اس وقت حضرت ابراہیم کو نزلہ، کھانسی، یا کوئی اور ایسی ہی نمایاں تکلیف ہوگی جس کی وجہ سے گھر والے انہیں چھوڑ جانے پر راضی ہوگئے۔
Ayahs 37:91–93

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

ان کے پیچھے وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ’’ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں 51 ؟

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہو گیا، آپ لوگ بولتے بھی نہیں؟"

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

اس کے بعد وہ اُن پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

سورة الصّٰٓفّٰت 51 اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کی کھانے کی چیزیں رکھی ہوئی ہوں گی۔
Ayahs 37:94–97

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

(واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے 52

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"

سورة الصّٰٓفّٰت 52 یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔ سورة انبیا میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چناچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے لے آیا۔
Ayah 37:98

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

انہوں نے اس کے خلاف ایک کار روائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا 53

سورة الصّٰٓفّٰت 53 سورة انبیا (آیت 69) میں الفاظ یہ ہیں۔ قُلْنَا یٰنَارُکُوْنِیْ بَرْداً وَّ سَلَاماً عَلیٓ اِبْرَاہیم (ہم نے کہا، اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے)۔ اور سورة عنکبوت (آیت 24) میں ارشاد ہوا ہے فَاَنْجٰہُ اللہُ مِنَ النَّارِ ، (پھر اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا)۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینک دیا تھا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بسلامت نکال دیا۔ آیت کے یہ الفاظ کہ " انہوں نے اس کے خلاف ایک کارروائی کرنی چاہی تھی مگر ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا " اس معنی میں نہیں لیے جاسکتے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں پھینکنا چاہا تھا مگر نہ پھینک سکے۔ بلکہ مذکورہ بالا آیات کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے ان کا صاف مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ آگ میں پھینک کر انہیں ہلاک کردینا چاہتے تھے مگر نہ کرسکے، اور ان کے معجزانہ طریقہ سے بچ جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابراہیم ؑ کی برتری ثابت ہوگئی اور مشرکین کو اللہ نے نیچا دکھا دیا۔ اس واقعہ کو بیان کرنے سے اصل مقصود قریش کے لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ جن ابراہیم ؑ کی اولاد ہونے پر تم فخر کرتے ہو ان کا طریقہ وہ نہ تھا جو تم نے اختیار کر رکھا ہے، بلکہ وہ تھا جسے محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ اب اگر تم ان کو نیچا دکھانے کے لیے وہ چالیں چلو گے جو حضرت ابراہیم کی قوم نے ان کے ساتھ چلی تھیں تو آخر کار نیچا تم ہی دیکھو گے، محمد ﷺ کو نیچا تم نہیں دکھا سکتے۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا 54 ’’میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں 55 ، وہی میری رہنمائی کرے گا

سورة الصّٰٓفّٰت 54 یعنی آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد جب حضرت ابراہیم ؑ نے ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تو چلتے وقت یہ الفاظ کہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 55 اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی خاطر نکل رہا ہوں کیونکہ اسی کا ہوجانے کی وجہ سے میری قوم میری دشمن ہوگئی ہے ورنہ کوئی دنیوی جھگڑا میرے اور اس کے درمیان نہ تھا کہ اس کی بنا پر مجھے اپنا وطن چھوڑنا پڑ رہا ہو۔ نیز یہ کہ میرا دنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے جس کا رخ کروں۔ تن بتقدیر بس اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں۔ جدھر وہ لے جائے گا اسی طرف چلا چاؤں گا۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘ 56

سورة الصّٰٓفّٰت 56 اس دعا سے خود بخود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اس وقت بےاولاد تھے۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک بیوی اور ایک بھتیجے (حضرت لوط علیہ السلام) کو لے کر ملک سے نکلے تھے۔ اس وقت فطرۃً آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کوئی صالح اولاد عطا فرمائے جو اس غریب الوطنی کی حالت میں آپ کا غم غلط کرے۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

(اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم(بردبار) لڑکے کی بشارت دی 57

سورة الصّٰٓفّٰت 57 اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دعا کرتے ہی یہ بشارت دے دی گئی۔ قرآن مجید ہی میں ایک دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم ؑ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ " شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے " (سورة ابراہیم، آیت 39)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم ؑ کی دعا اور اس بشارت کے درمیان سالہا سال کا فصل تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑ کی عمر 86 برس کی تھی (پیدائش 1616) ، اور حضرت اسحاق ؑ کی پیدائش کے وقت سو برس کی (615)
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا،’’بیٹا ، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں 58 ، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟ 59 اس نے کہا، ’’ ابا جان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے 60 اسے کر ڈالیے ، آپ اِنْشاءَ اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘

سورة الصّٰٓفّٰت 58 یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ابراہیم ؑ نے خواب میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے بیٹے کو ذبح کردیا ہے، بلکہ یہ دیکھا تھا کہ وہ اسے ذبح کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس وقت وہ خواب کا مطلب یہی سمجھے تھے کہ وہ صاحبزادے کو ذبح کردیں۔ اسی بنا پر وہ ٹھنڈے دل سے بیٹا قربان کردینے کے لیے بالکل تیار ہوگئے تھے۔ مگر خواب دکھانے میں جو باریک نکتہ اللہ تعالیٰ نے ملحوظ رکھا تھا اسے آگے کی آیت نمبر 105 میں اس نے خود کھول دیا ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 59 صاحبزادے سے یہ بات پوچھنے کا مدعا یہ نہ تھا کہ تو راضی ہو تو خدا کے فرمان کی تعمیل کروں۔ بلکہ حضرت ابراہیم ؑ دراصل یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جس صالح اولاد کی انہوں نے دعا مانگی تھی، وہ فی الواقع کس قدر صالح ہے۔ اگر وہ خود بھی اللہ کی خوشنودی پر جان قربان کردینے کے لیے تیار ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دعا مکمل طور پر قبول ہوئی ہے اور بیٹا محض جسمانی حیثیت ہی سے ان کی اولاد نہیں ہے بلکہ اخلاقی و روحانی حیثیت سے بھی ان کا سپوت ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 60 یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ پیغمبر باپ کے خواب کو بیٹے نے محض خواب نہیں بلکہ خدا کا حکم سمجھا تھا۔ اب اگر یہ فی الواقع حکم نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ صراحۃً یا اشارۃً اس امر کی تصریح فرما دیتا کہ فرزند ابراہیم نے غلط فہمی سے اس کو حکم سمجھ لیا۔ لیکن پورا سیاق وسباق ایسے کسی اشارے سے خالی ہے۔ اسی بنا پر اسلام میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ انبیاء کا خواب محض خواب نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ ظاہر ہے کہ جس بات سے ایک اتنا بڑا قاعدہ خدا کی شریعت میں شامل ہوسکتا ہو، وہ اگر مبنی بر حقیقت نہ ہوتی بلکہ محض ایک غلط فہمی ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی تردید نہ فرماتا۔ قرآن کو کلام الہٰی ماننے والے کے لیے یہ تسلیم کرنا محال ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی بھول چوک بھی صادر ہو سکتی ہے۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا 61

سورة الصّٰٓفّٰت 61 یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے ذبح کرنے کے لیے بیٹے کو چت لٹایا بلکہ اوندھے منہ لٹایا تاکہ ذبح کرتے وقت بیٹے کا چہرہ دیکھ کر کہیں محبت و شفقت ہاتھ میں لرزش پیدا نہ کر دے۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ نیچے کی طرف سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔
Ayah 37:104

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ندا دی 62 کہ ’’ اے ابراہیمؑ

سورة الصّٰٓفّٰت 62 نحویوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں " اور " بمعنی " تو " ہے یعنی فقرہ یوں ہے کہ " جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا تو ہم نے ندا دی "۔ لیکن ایک دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہاں لفظ " جب " کا جواب محذوف ہے اور اس کو ذہن سامع پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کیونکہ بات اتنی بڑی تھی کہ اسے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے تصور ہی کے لیے چھوڑ دینا زیادہ مناسب تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا ہوگا کہ بوڑھا باپ اپنے ارمانوں سے مانگے ہوئے بیٹے کو محض ہماری خوشنودی پر قربان کردینے کے لیے تیار ہوگیا ہے اور بیٹا بھی گلے پر چھری چلوانے کے لیے راضی ہے، تو یہ منظر دیکھ کر کیسا کچھ دریائے رحمت نے جوش مارا ہوگا، اور مالک کو ان باپ بیٹوں پر کیسا کچھ پیار آیا ہوگا، اس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ میں اس کی کیفیت جتنی کچھ بھی بیان کی جائے گی وہ اس کو ادا نہیں کرے گی بلکہ اس کی اصلی شان سے کچھ گھٹ کر ہی ہوگی۔
Ayah 37:105

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے خواب سچ کر دکھایا 63۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں 64

سورة الصّٰٓفّٰت 63 یعنی ہم نے تمہیں یہ تو نہیں دکھایا تھا کہ تم نے بیٹے کو ذبح کردیا ہے اور اس کی جان نکل گئی ہے، بلکہ یہ دکھایا تھا کہ تم ذبح کر رہے ہو۔ تو وہ خواب تم نے پورا کر دکھایا۔ اب ہمیں تمہارے بچے کی جان لینی مطلوب نہیں ہے۔ اصل مدعا جو کچھ تھا وہ تمہاری اس آمادگی اور تیاری سے حاصل ہوگیا ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 64 یعنی جو لوگ احسان کی روش اختیار کرتے ہیں ان کے اوپر آزمائشیں ہم اس لیے نہیں ڈالا کرتے کہ انہیں خواہ مخواہ تکلیفوں میں ڈالیں اور رنج و غم میں مبتلا کریں۔ بلکہ یہ آزمائشیں ان کی فضیلتوں کو ابھارنے کے لیے اور انہیں بڑے مرتبے عطا کرنے کے لیے ان پر ڈالی جاتی ہیں، اور پھر آزمائش کی خاطر جس مخمصے میں ہم انہیں ڈالتے ہیں اس سے بخیریت ان کو نکلوا بھی دیتے ہیں۔ چناچہ دیکھو، بیٹے کی قربانی کے لیے تمہاری آمادگی و تیاری ہی بس اس کے لیے کافی ہوگئی کہ تمہیں وہ مرتبہ عطا کردیا جائے جو ہماری خوشنودی پر واقعی بیٹا قربان کردینے والے کو مل سکتا تھا۔ اس طرح ہم نے تمہارے بچے کی جان بچا دی اور تمہیں یہ مرتبۂ بلند بھی عطا کردیا۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی‘‘ 65

سورة الصّٰٓفّٰت 65 یعنی مقصود تمہارے ہاتھ سے تمہارے بچے کو ذبح کرا دینا نہ تھا، بلکہ اصل مقصود تمہارا امتحان لینا تھا کہ تم ہمارے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کو عزیز تر تو نہیں رکھتے۔
Ayahs 37:107–112

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا 66

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

سلام ہے ابراہیمؑ پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے

سورة الصّٰٓفّٰت 66 " بڑی قربانی " سے مراد، جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے، ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیم ؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کردیں۔ اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیم ؑ جیسے وفادار بندے کے لیے فرزند ابراہیم ؑ جیسے صابر و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بےنظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے " بڑی قربانی " قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کردی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان کریں اور وفاداری و جاں نثاری کے اس عظیم الشان واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔
Ayahs 37:113–114

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور اسے اور اسحاق کو برکت دی 67۔اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے 68

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلٰى مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَۚ Open ayah 37:114 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰؑ و ہارونؑ پر احسان کیا

سورة الصّٰٓفّٰت 67 یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کردیا تھا، وہ کون تھے۔ اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ " خدا نے ابرہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابرہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ " (پیدائش، 221۔ 2) اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی قربانی مانگی تھی، اور دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اکلوتے تھے۔ حالانکہ خود بائیبل ہی کے دوسرے بیانات سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسحاق اکلوتے نہ تھے۔ اس کے لیے ذرا بائیبل ہی کی حسب ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں " اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ اور ساری نے ابرام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا، شائد اس سے میرا گھر آباد ہو۔ اور ابرام نے ساری کی بات مانی۔ اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہوگئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی۔ " (پیدائش، 161۔ 3) " خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا پیدا ہوگا۔ اس کا نام اسماعیل رکھنا " (1611) " جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا " (1616) اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے ــــــ اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا ـــــــ تو اس کا نام اضحاق رکھنا ــــــ جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہوگا۔ ــــــــــ تب ابرہام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اور ـــــــ گھر کے سب مردوں کو لیا اور اسی روز خدا کے حکم کے مطابق ان کا ختنہ کیا۔ ابرہام ننانوے برس کا تھا جب اس کا ختنہ ہوا اور جب اسماعیل کا ختنہ ہوا تو وہ تیرہ برس کا تھا (پیدائش 1715۔ 25) اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا (پیدائش، 215) اس سے بائیبل کی تضاد بیانی صاف کھل جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ 14 برس تک تنہا حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ اب اگر قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی تو وہ حضرت اسحاق کی نہیں بلکہ حضرت اسماعیل کی تھی۔ کیونکہ وہی اکلوتے تھے۔ اور اگر حضرت اسحاق کی قربانی مانگی گئی تھی تو پھر یہ کہنا غلط ہے کہ اکلوتے بیٹے کی قربانی مانگی گئی تھی۔ اس کے بعد ہم اسلامی روایات کو دیکھتے ہیں اور ان میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ مفسرین نے صحابہ وتابعین کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں ایک گروہ کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے، اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام ملتے ہیں حضرت عمر۔ حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب۔ حضرت عبداللہ بن عباس۔ حضرت ابوہریرہ۔ قتادہ۔ عکرمہ۔ حسن بصری۔ سعید بن جبیر۔ مجاہد۔ شعبی۔ مسروق۔ مکحول۔ زُہری۔ عطاء۔ مُقاتل۔ سدی۔ کعب احبار۔ زید بن اسلم ؓ وغیرہم۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ حضرت اسماعیل تھا۔ اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام نظر آتے ہیں حضرت ابوبکر۔ حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن عمر۔ حضرت عبداللہ بن عباس۔ حضرت ابوہریرہ۔ حضرت معاویہ۔ عکرمہ۔ مجاہد۔ یوسف بن مہران۔ حسن بصری۔ محمد بن کعب القرظی۔ شعبی۔ سعید بن المسیّب۔ ضحاک۔ محمد بن علی بن حسین (محمد الباقر)۔ ربیع بن انس۔ احمد بن حنبل ؓ وغیرہم۔ ان دونوں فہرستوں کا تقابل کیا جائے تو متعدد نام ان میں مشترک نظر آئیں گے۔ یعنی ایک ہی بزرگ سے دو مختلف قول منقول ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس سے عکرمہ یہ قول نقل کرتے ہیں کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے۔ مگر انہی سے عطاء بن ابی رباح یہ بات نقل کرتے ہیں کہ زعمت الیھود انہ اسحٰق وکذبت الیھود (یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسحٰق تھے، مگر یہودی جھوٹ کہتے ہیں)۔ اسی طرح حضرت حسن بصری سے روایت یہ ہے کہ وہ حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کے قائل تھے۔ مگر عمرو بن عبید کہتے ہیں کہ حسن بصری کو اس امر میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کے جس بیٹے کو ذبیح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ اسماعیل ؑ تھے۔ اس اختلاف روایات کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ علماء اسلام میں سے بعض پورے جزم و وثوق کے ساتھ حضرت اسحاق کے حق میں رائے دیتے ہیں، مثلاً ابن جریر اور قاضی عیاض۔ اور بعض قطعی طور پر حکم لگاتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے، مثلاً ابن کثیر۔ اور بعض مذبذب ہیں، مثلاً جلال الدین سیوطی۔ لیکن اگر تحقیق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ امر ہر شک و شبہ سے بالا تر نظر آتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی ذبیح تھے۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں 1)۔ اوپر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم نے ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی۔ فحوائے کلام صاف بتارہا ہے کہ یہ دعا اس وقت کی گئی تھی جب آپ بےاولاد تھے۔ اور بشارت جس لڑکے کی دی گئی وہ آپ کا پہلونٹا بچہ تھا۔ پھر یہ بھی قرآن ہی کے سلسلہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہی بچہ جب باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا اشارہ فرمایا گیا۔ اب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے پہلوٹے صاحبزادے حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحاق۔ خود قرآن مجید میں صاحبزادوں کی ترتیب اس طرح بیان ہوئی ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ (ابراہیم۔ آیت 39) 2)۔ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحاق کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لیے غلام علیم (علم والے لڑکے) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ فَبَشَّرُوْہُ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ (الذاریات۔ 28)۔ لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ (الحجر۔ 53)۔ مگر یہاں جس لڑکے کی بشارت دی گئی ہے اس کے لیے غلام حلیم (برد بار لڑکے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں۔ اور ذبح کا حکم غلام علیم کے لیے نہیں بلکہ غلام حلیم کے لیے تھا۔ 3)۔ قرآن مجید میں حضرت اسحاق کی پیدائش کی خوش خبری دیتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری بھی دے دی گئی تھی کہ ان کے ہاں یعقوب ؑ جیسا بیٹا پیدا ہوگا۔ فَبَشَّرْنَاھَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ (ہود۔ 71) اب ظاہر ہے کہ جس بیٹے کی پیدائش کی خبر دینے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دی جاچکی ہو کہ اس کے ہاں ایک لائق لڑکا پیدا ہوگا، اس کے متعلق اگر حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا جاتا کہ آپ اسے ذبح کر رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم اس سے کبھی یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ اس بیٹے کو قربان کردینے کا اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔ علامہ ابن جریر اس دلیل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ خواب حضرت ابراہیم ؑ کو اس وقت دکھایا گیا ہو جب حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوب علی السلام پیدا ہوچکے ہوں۔ لیکن درحقیقت یہ اس دلیل کا نہایت ہی بودا جواب ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ " جب وہ لڑکا باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوگیا " تب یہ خواب دکھایا گیا تھا۔ ان الفاظ کو جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر پڑھے گا اس کے سامنے آٹھ دس برس کے بچے کی تصویر آئے گی۔ کوئی شخص بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ جوان صاحب اولاد بیٹے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہوں گے۔ 4)۔ اللہ تعالیٰ سارا قصہ بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ " ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے "۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی بیٹا نہیں ہے جسے ذبح کرنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ بلکہ پہلے کسی اور بیٹے کی بشارت دی گئی۔ پھر جب وہ باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ پھر جب حضرت ابراہیم اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تب ان کو ایک اور بیٹے اسحاق ؑ کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی۔ یہ ترتیب واقعات قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت اسحاق نہ تھے، بلکہ وہ ان سے کئی برس پہلے پیدا ہوچکے تھے۔ علامہ ابن جریر اس صریح دلیل کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ پہلے صرف حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ پھر جب وہ خدا کی خوشنودی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہوگئے تو اس کا انعام اس شکل میں دیا گیا کہ ان کے نبی ہونے کی خوشخبری دی گئی۔ لیکن یہ ان کے پہلے جواب سے بھی زیادہ کمزور جواب ہے۔ اگر فی الواقع بات یہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں نہ فرماتا کہ " ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے "۔ بلکہ یوں فرماتا کہ ہم نے اس کو یہ بشارت دی کہ تمہارا یہی لڑکا ایک نبی ہوگا صالحین میں سے۔ 5)۔ معتبر روایات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کے فدیہ میں جو مینڈھا ذبح کیا گیا تھا اس کے سینگ خانہ کعبہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے تک محفوظ تھے۔ بعد میں جب حجاج بن یوسف نے حرم میں ابن زبیر کا محاصرہ کیا اور خانہ کعبہ کو مسمار کردیا تو وہ سینگ بھی ضائع ہوگئے۔ ابن عباس اور عامر شعبی دونوں اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہیں نے خود خانہ کعبہ میں یہ سینگ دیکھے ہیں (ابن کثیر)۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ شام میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا، اور حضرت اسماعیل کے ساتھ پیش آیا تھا، اسی لیے تو حضرت ابراہیم و اسماعیل کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ میں اس کی یاد گار محفوظ رکھی گئی تھی۔ 6)۔ یہ بات صدیوں سے عرب کی روایات میں محفوظ تھی کہ قربانی کا یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ اور یہ صرف روایت ہی نہ تھی بلکہ اس وقت سے نبی ﷺ کے زمانے تک مناسک حج میں یہ کام بھی برابر شامل چلا آ رہا تھا کہ اسی مقام منیٰ میں جا کر لوگ اسی جگہ پر جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے قربانی کی تھی، جانور قربان کیا کرتے تھے۔ پھر جب نبی ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے بھی اس طریقے کو جاری رکھا، حتیٰ کہ آج تک حج کے موقع پر دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں۔ ساڑھے چار ہزار برس کا یہ متواتر عمل اس امر کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس قربانی کے وارث بنی اسماعیل ہوئے ہیں نہ کہ بنی اسحاق۔ حضرت اسحاق کی نسل میں ایسی کوئی رسم کبھی جاری نہیں رہی ہے جس میں ساری قوم بیک وقت قربانی کرتی ہو اور اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یادگار کہتی ہو۔ یہ ایسے دلائل ہیں جن کو دیکھنے کے بعد یہ بات قابل تعجب نظر آتی ہے کہ خود امت مسلمہ میں حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کا خیال آخر پھیل کیسے گیا۔ یہودیوں نے اگر حضرت اسماعیل ؑ کو اس شرف سے محروم کر کے اپنے دادا حضرت اسحاق کی طرف اسے منسوب کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ لیکن آخر مسلمانوں کے ایک گروہ کثیر نے ان کی اس دھاندلی کو کیسے قبول کرلیا ؟ اس سوال کا بہت شافی جواب علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں " حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے، مگر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ سارے اقوال (جو حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کے حق میں ہیں) کعب احبار سے منقول ہیں۔ یہ صاحب جب حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ہوئے تو کبھی کبھی یہ یہود و نصاریٰ کی قدیم کتابوں کے مندرجات ان کو سنایا کرتے تھے اور حضرت عمر انہیں سن لیا کرتے تھے۔ اس بنا پر دوسرے لوگ بھی ان کی باتیں سننے لگے اور سب رطب و یابس جو وہ بیان کرتے تھے انہیں روایت کرنے لگے۔ حالانکہ اس امت کو ان کے اس ذخیرۂ معلومات میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی۔ " اس سوال پر مزید روشنی محمد بن کعب قرظی کی ایک روایت سے پڑتی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاں یہ سوال چھڑا کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے یا حضرت اسماعیل۔ اس وقت ایک ایسے صاحب بھی مجلس میں موجود تھے جو پہلے یہودی علماء میں سے تھے اور بعد میں سچے دل سے مسلمان ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہا، " امیرالمومنین، خدا کی قسم وہ اسماعیل ہی تھے، اور یہودی اس بات کو جانتے ہیں، مگر وہ عربوں سے حسد کی بنا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے " (ابن جریر)۔ ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ دراصل یہ یہودی پروپیگنڈا کا اثر تھا جو مسلمانوں میں پھیل گیا، اور مسلمان چونکہ علمی معاملات میں ہمیشہ غیر متعصب رہے ہیں، اس لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہودیوں کے ان بیانات کو، جو وہ قدیم صحیفوں کے حوالہ سے تاریخی روایات کے بھیس میں پیش کرتے تھے، محض ایک علمی حقیقت سمجھ کر قبول کرلیا اور یہ محسوس نہ کیا کہ اس میں علم کے بجائے تعصب کار فرما ہے۔ سورة الصّٰٓفّٰت 68 یہ فقرہ اس پورے مقصد پر روشنی ڈالتا ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کا یہ قصہ یہاں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے دو بیٹوں کی نسل سے دو بہت بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔ ایک بنی اسرائیل، جن کے گھر سے دنیا کے دو بڑے مذہب (یہودیت اور نصرانیت) نکلے اور انہوں نے روئے زمین کے بہت بڑے حصے کو حلقہ بگوش بنایا۔ دوسرے بنی اسماعیل جو نزول قرآن کے وقت تمام اہل عرب کے مقتدا و پیشوا تھے، اور اس وقت مکہ معظمہ کے قبیلہ قریش کو ان میں سب سے زیادہ اہم مقام حاصل تھا۔ نسل ابراہیمی کی ان دونوں شاخوں کو جو کچھ بھی عروج نصیب ہوا وہ حضرت ابراہیم اور ان کے ان دو عظیم المرتبت صاحبزادوں کے ساتھ انتساب کی بدولت ہوا، ورنہ دنیا میں نہ معلوم ایسے ایسے کتنے خاندان پیدا ہوئے ہیں اور گوشۂ گمنامی میں جا پڑے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ اس خاندان کی تاریخ کا سب سے زیادہ زرین کارنامہ سنانے کے بعد ان دونوں گروہوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہیں دنیا میں یہ جو کچھ شرف نصیب ہوا ہے وہ خدا پرستی اور اخلاص و فدویت کی ان شاندار روایات کی وجہ سے ہوا ہے جو تمہارے باپ دادا ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق (علیہم السلام) نے قائم کی تھیں۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ ہم نے ان کو جو برکت عطا فرمائی اور ان پر اپنے فضل و کرم کی جو بارشیں برسائیں، یہ کوئی اندھی بانٹ نہ تھی کہ بس یونہی ایک شخص اور اس کے دو لڑکوں کو چھانٹ کر نواز دیا گیا ہو، بلکہ انہوں نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ اپنی وفاداری کے کچھ ثبوت دیے تھے اور ان کی بنا پر وہ ان عنایات کے مستحق بنے تھے۔ اب تم لوگ محض اس فخر کی بنا پر کہ تم ان کی اولاد ہو، ان عنایات کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ ہم تو یہ دیکھیں گے کہ تم میں سے محسن کون ہے اور ظالم کون۔ پھر جو جیسا ہوگا، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کریں گے۔