As-Saaffaat 37:4

As-Saaffaat · from ayah 4

37:4

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ ۟ؕاِنَّ اِلٰهَكُمۡ لَوَاحِدٌ

کہ تمہارا معبود ایک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, your God is One,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:4

تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ تمہارا معبود ایک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً تم سب کا معبود ایک ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک تمہارا معبود ضرور ایک ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک تمہارا معبود ایک ہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ بیشک تمہارا معبود یقینا ایک ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ تمہارا الٰہ ایک ہی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ تمہارا معبود (حقیقی) قطعی طور پر ایک ہی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یقینا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

surely your God is but One,

— Muhammad Taqi Usmani

surely your God is but One,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, your God is indeed One;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Indeed, your God is One,

— Saheeh International

that your Lord is the only Lord.

— Muhammad Sarwar

Most surely your Allah is One:

— Muhammad Habib Shakir

Verily your God is One.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 37:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

فرشتوں کا تذکرہ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الصّٰٓفّٰت 2 یہ وہ حقیقت ہے جس پر مذکورہ صفات کے حامل فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ گویا دوسرے الفاظ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ پورا نظام کائنات جو اللہ کی بندگی میں چل رہا ہے، اور اس کائنات کے وہ سارے مظاہر جو اللہ کی بندگی سے انحراف کرنے کے برے نتائج انسانوں کے سامنے لاتے ہیں، اور اس کائنات کے اندر یہ انتظام کہ ابتدائے آفرینش سے آج تک پے در پے ایک ہی حقیقت کی یاد دہانی مختلف طریقوں سے کرائی جا رہی ہے، یہ سب چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انسانوں کا " اِلٰہ " صرف ایک ہی ہے۔ " اِلٰہ " کے لفظ کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ معبود جس کی بالفعل بندگی و عبادت کی جا رہی ہو۔ دوسرے وہ معبود جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

یہاں قرآن کریم نے فرشتوں کی یہ تین صفات ذکر کر کے بندگی کے تمام اوصاف کو جمع کردیا ہے۔ یعنی عبادت کے لئے صف بستہ رہنا، طاغوتی طاقتوں کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا، اور اللہ کے احکام و مواعظ کو خود پڑھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔ اور ظاہر ہے۔ بندگی کا کوئی عمل ان تین شعبوں سے خالی نہیں ہو سکتا، لہٰذا چاروں کا مفہوم یہ ہوگیا کہ ”جو فرشتے تمام اوصاف بندگی کے حامل ہیں ان کی قسم، تمہارا معبود برحق ایک ہی ہے۔“ فرشتوں کی قسم کیوں کھائی گئی ؟ اس سورت میں خاص طور پر فرشتوں کی قسم کھانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا۔ اس سورت کا مرکزی موضوع شرک کی اس خاص قسم کی تردید ہے جس کے تحت اہل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 4 یہ اس قسم کا مقسم علیہ ہے۔ فرشتوں کی اس بندگی اور اس حمد و تسبیح کی شہادت میں پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ تمہارا رب ایک ہی ہے۔ اس سے یہ بات نکلی کہ جن لوگوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مان کر ان کو خدائی میں شریک کر رکھا ہے اور ان کی شفاعت کی امید پر ان کو پوجا کر رہے ہیں وہ بالکل حماقت میں مبتلا ہیں۔ فرشتوں کا خود اپنا طرز عمل ان نادانوں پر ایک کھلی ہوئی نکیر ہے۔ اس لئے کہ وہ برابر خدا کی بندگی اور اس کی حمدو تسبیح میں سرگرم ہیں اور یہ احمق لوگ ان کو شریک خدا بنا کر ان کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–4

4۔ 1 فرشتوں کی صفات ہیں۔ آسمانوں پر اللہ کی عبادت کے لئے صف باندھنے والے، یا اللہ کے حکم کے انتظار میں صف بستہ، وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو ڈانٹنے والے یا بادلوں کو جہاں اللہ کا حکم ہو وہاں ہانک کرلے جانے والے اللہ کے ذکر یا قرآن کی تلاوت کرنے والے۔ ان فرشتوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے مضموں میں یہ فرمایا ہے کہ تمام انسانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ متعدد نہیں جیسا کہ مشرکین بنائے ہوئے ہیں۔ عرف عام میں قسم تاکید اور شک دور کرنے کے لئے کھائی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں قسم اسی شک کو دور کرنے کے لئے کھائی ہے جو مشرکین اسکی واحدنیت و الوہیت کے بارے میں پھلاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر چیز کی مخلوق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–9

4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–4

درس نمبر 208 تشریح آیات 1 ۔۔۔ تا۔۔۔ 68 ﷽ والصفت صفا۔۔۔۔۔ ورب المشارق (1 – 5) ۔ ۔ ” ، ۔ “۔ قطاروں میں صف آرا ہونے والے ، زجر کرنے والے اور تلاوت کرنے والے دراصل وہ فرشتے ہیں جو ان اعمال کے حامل ہیں۔ صفیں باندھنے والے یعنی نمازوں میں یا اللہ سے احکام لینے کے انتظار میں صف بستہ مراد ہوں اور زجر و توبیخ سے مراد یہ ہوسکتی ہے کہ جن نافرمانوں کی روح قبض کرنا مقصود ہو تو وہ ڈانٹتے ہوئے لیتے ہیں ، یا وہ جو حشر میں ان کو ڈانٹ ڈپٹ سے جہنم کی طرف چلائیں گے۔ یا کسی بھی حال میں اللہ کی مرضی کے مطابق زجر کرنے والے۔ اور تلاوت و ذکر کرنے والوں سے مراد کتاب الٰہی پڑھنے والے اور اللہ کی تسبیحات کرنے والے ہوسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 بیشک آسمان پر فرشتے اور زمین پر خدا کے نیک بندے ہر زمانہ میں قولاً و فعلاً شہادت دیتے رہے ہیں کہ سب کا مالک و معبود ایک ہے اور ہم اسی کی رعیت ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ اِنَّ اِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ } ”یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔“ جیسے کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے ‘ ان سورتوں زیر مطالعہ گروپ کا مرکزی مضمون توحید اور ردِّ شرک ہے۔ اسی لیے یہاں ان قسموں کی گواہی کے بعد جو حقیقت بیان فرمائی گئی ہے وہ معبودِ حقیقی کے اکیلے اور تنہا ہونے کے بارے میں ہے۔ البتہ اس کے بعد مکی سورتوں کے جو آخری دو گروپس ہیں ان کا مرکزی مضمون چونکہ انذارِآخرت ہے ‘ اس لیے ان گروپس کی جن سورتوں کے آغاز میں ایسی قسمیں کھائی گئی ہیں وہاں ان قسموں کے بعد مقسم علیہ کے طور پر { وَاِنَّ الدِّیْنَ لَـوَاقِعٌ} الذّٰریٰت جزا و سزا اور حساب کتاب کا معاملہ یقینا ہونے والا ہے جیسی آیات آئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 قرآن اللہ کا کلام اور کائنات اس کا فعل ہے ان دونوں میں تضاد ناممکن ہے :۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ تمہارا معبود حقیقی ایک ہی ہے یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ کائنات اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور ذکر یا قرآن اللہ تعالیٰ کا قول یا کلام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں نہ اختلاف ہوسکتا ہے اور نہ تضاد۔ اگر ہم اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ معبود حقیقی صرف ایک ہی ہوسکتا ہے تو لامحالہ اس کائنات کے مربوط اور منظم نظام پر غور کرنے کے بعد بھی ہم اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی ہیں اور ان میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–4

1۔ یعنی نہ تین نہ زائد۔ نہ تین میں سے ایک، نہ ایک تین میں تقسیم، بلکہ محض ایک، بیان توحید کا ہورہا ہے۔ اور ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” والصفت صفا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمان میں اللہ کی حمد وتسبیح میں اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں (آیت) ” فالزجرت زجرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمانی خبر رسانیوں سے شیطانوں کی بندش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالتلیت ذکرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الھکم لواحدٌ (اے اہل مکہ ! ) تمہارا معبود بلاشک و شبہ ایک ہے۔ مکہ کے کافروں نے کہا تھا : اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاط اِنَّ ھٰذَا اَلشَّیْءٌ عُجَابٌ کیا محمد ﷺ نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ؟ یہ عجیب بات ہے۔ آیت مذکورہ میں کافروں کے اس قول کی تردید فرما دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) قسم ہے ان فرشتوں کی جو آسمان میں اس طرح صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ مومنین نماز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو کہ ذکر الہی کی تلاوت کرتے ہیں یا یہ کہ تلاوت قرآن حکیم کی قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ : یعنی اللہ کے حکم سے کائنات کا نظام چلانے والے فرشتے، جو اس کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اور جن کی ڈانٹ سے زمین و آسمان کے معاملات کی تدبیر ہوتی ہے اور جو پیغمبروں پر وحی نازل کرتے ہیں اور ذکر الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں، یہ سب فرشتے شاہد اور دلیل ہیں کہ کائنات کا معبود حقیقی ایک ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایک نہ ہو تو یہ کائنات ایک لمحے کے لیے قائم نہیں رہ سکتی، بلکہ ایک دوسرے سے ٹکڑا کر فنا ہوجائے گی، جیسا کہ فرمایا : (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) [ الأنبیاء : 22 ] ”اگر ان دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(آیت) ” ان الھکم لواحد “ (کہ تمہارا معبود ایک ہے) یعنی یہ جملہ جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اِِنَّ اِِلٰہَکُمْ لَوَاحِدٌ) یہ جواب قسم ہے قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–4

2:۔ والصفت الخ :۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر الللہ کی عبادت میں مصروف ہیں۔ فالزاجرات زجرًا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین کو ملا اعلی کے قریب آنے سے روکنے والے ہیں۔ فالتلیت ذکرا پھر قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے ذکر اور اس کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں۔ ان الہکم لواحد الخ، یہ جواب قسم ہے۔ تینوں انواع کے فرشتے جن کی قسم کھائی گئی ہے ان کے یہ احوال اس پر شاہد اور اس کی واضح دلیل ہیں کہ سب کا معبود اور کارساز ایک ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور ساری مخلوق کا اور مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ فرشتوں کے مذکورہ احوال سے معلوم ہا کہ ان کی حیثیت بارگاہِ الٰہی میں خدام کی ہے اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اِلٰہَكُمْ لَوَاحِدٌ۝ 4ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالصّٰفّٰتِ صَفًّا۔ فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکْرًا۔ اِنَّ اِلٰـھَکُمْ لَوَاحِدٌ۔ (الصآفات : 1 تا 4) (قسم ہے قطار درقطار صفیں باندھنے والے فرشتوں کی۔ پھر ڈانٹنے، پھٹکارنے والے فرشتوں کی۔ پھر ذکر کرنے والے فرشتوں کی۔ پس تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ) قسم دلیل ہوتی ہے یہاں فرشتوں کے تین گروہوں کی قسم کھائی گئی ہے ہم اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر ذکر کرچکے ہیں کہ جس لفظ پر وائو قسم کے لیے آتا ہے اسے قسم کہتے ہیں اور اس کے بعد آنے والا جملہ جوابِ قسم یا مقسم علیہ کہلاتا ہے۔ جوابِ قسم کی حیثیت دعویٰ کی ہوتی ہے اور قسم دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے قسم کو بطور دلیل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–5

فہم القرآن سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔ ” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4: اِنَّ اِلٰھَکُمْ لَوَاحِدٌ (کہ تمہارا معبود ایک ہے) فائدہ : یہ جواب قسم ہے یا ایک قول کے مطابق یہ کفار کے قول اَجَعَلَ الْاٰ لِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ] ص : 5[ کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4، ان الھکم لواحد، یہاں پر تضمیر ہے۔ اصل عبارت یوں ، ورب الصافات ، والزاجرات ، التالیات، یہ اس وجہ سے کہ کفارم کہ کیا کرتے تھے، اجعل الا لھۃ الھارواحدا، ان ھذالشیء عجاب، کہ کیا محمد (ﷺ) نے تمام معبودوں کو ایک معبودبنا دیا۔ یہ عجیب یات ہے۔ اللہ نے ان سب کی قسم کھائی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

3 تلاوت کرنے والے فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر ان کی جو تلاوت کرتے ہیں ۔ اللہ کے ۔ ذکر کی "۔ یعنی انبیائے کرام تک آسمانی احکام پہنچانے کے لئے۔ یا حوادث نازل کرتے ہیں لوگوں کو سمجھانے اور خبردار کرنے کے لئے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ان صفات کا موصوف ملائکہ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں۔ اور ہم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور یہی قول سیاق وسباق کے زیادہ مناسب ہے۔ مگر اس میں کچھ اوراقوال بھی ہیں۔ انشاء اللہ اگر مفصل تفسیر لکھنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی تو ان کو وہاں ذکر کیا جائے گا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ وَہُوَ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَالْمُیَسِّرُ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 1 سورج سال بھر تک روزانہ ایک نئے مقام سے طلوع ہوتا رہتا ہے اور پھر ساری زمین پر وہ بیک وقت طلوع نہیں ہوتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں میں وہ مختلف اوقات میں طلوع ہوتا ہے اس لئے آیت میں المشارق ( جمع) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے قرین ” ورب المغارف “ کو عربی محاورہ کے اعتبار سے حذف کردیا گیا ہے جیسے ” تقیکم الحر “ میں ہے نیز دیکھئے ( معارج 4) مقصد یہ ہے کہ کائنات کے اس نظام پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ الٰہ ( معبود) ایک ہی ہے جیسے فرمایا ( لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدنا) (کبیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:4) ان الہکم لواحد۔ یہ جملہ جواب قسم میں ہے جو سابقہ تین آیات میں اٹھائی گئی ہیں۔ ان حرف مشبہ بہ فعل۔ الہکم مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان۔ لواحد خبر ان۔ کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ منصوب بوجہ عمل ان۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کی قسم یاد فرمائی، چندگروہوں کی یا تو مراد اس سے ملائکہ کے گروہ ہیں جو نمازیوں کی طرح صف بستہ ہوکر اس کے حکم کے منتظر رہتے ہیں یا علماء دین کے گروہ جو تہجد اور تمام نمازوں میں صفیں باندھ کر کر مصروف عبادت رہتے ہیں یا نمازیوں کے گروہ جو راۃ خدا مین صفیں باندھ کر دشمنان حق کے مقابل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم جھڑک کر جلانے والوں سے مراد ملائکہ جو بادل پر مقرر ہیں اور اس کو حکم دے کرچلاتے ہیں یا یہ مراد ہے کہ وہ علماء جو وعظ وپند سے لوگوں کو جھڑک کر دین کی راہ پرچلاتے ہیں یا یہ وہ غازی جو گھوڑوں کو ڈانٹ کر جہاد میں چلاتے ہیں۔ تیسری قسم قرآن شریف کی یا تو قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] یہ وہ حقیقت ہے جس پر مذکورہ صفات کے حامل فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اس بات پر گواہ ہیں کہ '' الٰہ '' صرف ایک ہے۔ '' الٰہ '' کے لفظ کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔ ایک وہ معبود جس کی بالفعل بندگی کی جا رہی ہو، دوسرے وہ معبود جو فی الحقیقت اس کا مستحق ہو اس کی بندگی و عبادت کی جائے۔ یہاں الٰہ کا دوسرے معنی میں استعمال کیا گیا ہے کیونکہ پہلے معنی میں تو انسانوں نے دوسرے بہت سے الٰہ بنا رکھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) کہ بیشک تم سب معبود برحق ایک ہی ہے۔ یعنی وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں آگے توحید کے دلائل مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–7

ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ تم سب کا معبود ایک (اللہ تعالیٰ ) ہی ہے : 4۔ یہ بات تو پہلے کئی بار بیان کی جا چکی ہے کہ مکی سورتوں کا اصل موضوع توحید الہی ہے اور یہ سورت بھی مکی ہے اور اس جگہ توحید کا بیان کرنا ہی اصل مقصود ہے اس لیے اس کو مؤکد کرنے کے لیے تین قسمیں کھائیں ہیں تاکہ اس کی اہمیت سننے والوں کے ذہن میں نقش ہوجائے اور بات کو پوری طرح متوجہ ہو کر سنے اور اس کے لیے ہمہ تن گوش ہوجائے اور آنے والی بات کو بگوش ہوش سنے اور جو ذمہ داری اس پر ڈالی جا رہی ہے اس کو اٹھانے کے لیے تیار ہوجائے اور اس کے بعد جو بات کی گئی ہے وہ بلاشبہ نہایت اہم ہے جس کو سن کر اس وقت مکہ کے لوگ بھی ناخوش ہوئے اور اس وقت بھی مشرک گروہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Why has the statement been sworn by the angels? The reason why angels have been sworn by in the Surah particularly - as already submitted - lies in the central theme of this Surah. It aims at refuting the peculiar kind of shirk (ascribing of partners in the pure divinity of Allah) based on which the people of Makkah used to call angels the daughters of Allah. Accordingly, at the very beginning of the Surah, by swearing in the name of the angels, described there were their unique attributes that demonstrated their perfect servitude. In other words, the sense is that should you ponder over…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 This is the Truth to impress which an oath has been taken by the angels bearing the above-mentioned qualities. In other words, what is meant to be said is: "The whole system of the universe which is functioning in the scrvice of Allah, and all those manifestations of this universe which bring the evil consequences of deviation from the service of Allah before men, testify that the "Deity" of men is One and only One." The word "Ilah" applies to two meanings: (1) The deity who is actually being served and worshipped; and (2) the Deity Who, in reality, is worthy of being served and worshipped.…

Read the full tafseer →