37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 37:1–4

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

قسم ہے صف باندھ کھڑے ہونے والے (فرشتوں) کی

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر بندش کرنے والے (فرشتوں) کی

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر ذکر کی تلاوت کرنے والے (فرشتوں) کی

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے،1۔

1۔ یعنی نہ تین نہ زائد۔ نہ تین میں سے ایک، نہ ایک تین میں تقسیم، بلکہ محض ایک، بیان توحید کا ہورہا ہے۔ اور ہر قسم کے شرک اور توحید فی التثلیث کی تردید ہورہی ہے۔ (آیت) ” والصفت صفا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمان میں اللہ کی حمد وتسبیح میں اس کے احکام کی تعمیل میں صف بستہ کھڑے رہتے ہیں (آیت) ” فالزجرت زجرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو آسمانی خبر رسانیوں سے شیطانوں کی بندش کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” فالتلیت ذکرا “۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو ذکر الہی کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔
Ayah 37:5

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

(وہ) پروردگار (ہے) آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (اس کا) اور پروردگار ہے مشرقوں کا،2۔

2۔ یعنی زمین و آسمان نہ خود دیوتا ہیں نہ ان کے الگ الگ کوئی اور دیوتا ہیں۔ نہ کوئی اگنی دیوتا، نہ کوئی سرسوتی دیوی، نہ کوئی اندر دیوتا، معبودوخالق بس ایک ہی۔ (آیت) ” مشارق “۔ سے آفتاب کے طلوع کرنیکے مواقع مراد ہیں۔ صیغہ جمع اختلاف مطالع کے اعتبار سے ہے۔ ہر روز طلوع آفتاب کا زوایہ دوسرے دن سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ہے، اور اس طرح سال کے 365 مشرق ہوتے ہیں۔ اے مطالع الشمس وھی ثلث ماءۃ وخمس وستون مشرقا (مدارک)
Ayahs 37:6–8

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم نے آراستہ کیا ہے آسمان دنیا کو ستاروں کی آرائش کے ساتھ،

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کی غرض سے (بھی)

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

وہ عالم بالا کی (باتوں کی) طرف کان بھی نہیں لگا سکتے،3۔ اور ہر طرف سے مار کر دھکے دے دئیے جاتے ہیں

3۔ یعنی اکثر اور بالعموم تو یہی حالت رہتی ہے کہ رجم کے ڈر سے دور ہی دور رہتے ہیں، آیت میں بتایا ہے کہ اس نظام کو اکب سے دو کام لئے جاتے ہیں۔ ایک تو زیب وزینت، دوسرے شیطانوں کا دفاع۔ (آیت) ”’ السمآء الدنیا “۔ یعنی قریب ترین آسمان مراد وہی آسمان ہے جو ہماری زمین سے قریب ترین نظر آرہا ہے۔ اپنی ساخت و ترکیب کے لحاظ سے وہ خواہ کچھ بھی ہو۔ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “۔ یہ ستارے آسمان میں جڑے ہیں یا نہیں۔ قرآن مجید کو ان بحثوں سے نفیاواثباتا کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ ستارے اس فضائے آسمانی کے لئے ذریعہ زینت و سامان آرائش ہیں۔ اور یہی ایک حسی بلکہ بدیہی شے ہے۔ (آیت) ” حفظا من کل شیطن مارد “۔ یہ شیطانوں کیلئے روک کس چیز سے کردی گئی ہے ؟ عالم بالا کی باتوں اور فرشتوں کی باہمی گفتگو سے۔ شیطان کے رجم واستراق پر حاشیہ سورة الحجر (پ 14) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 37:9

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لئے عذاب دائمی ہوگا،4۔

4۔ (آخرت میں) یعنی رجم واستراق تو اسی دنیا کی سزائیں تھیں، باقی آخرت کی دائمی سزا اس کے علاوہ ہے۔ اور یہ عذاب دائمی شیطانوں پر ان کے کفر کی بناء پر مرتب ہوگا۔ (آیت) ” یقذفون ...... دحورا “۔ یعنی جو شیطان جدھر سے بھی جانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرف سے مرجوم ہوتا ہے۔
Ayah 37:10

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

مگر ہاں جو (شیطان) کچھ خبر لے ہی بھاگا تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ لیتا ہے،5۔

5۔ (اور اسے جلا پھونک کر رکھ دیتا ہے) گویا اگر کوئی شیطان آسمانی خبر کے حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس خبر کے پہچانے اور پھیلانے میں تو بہرحال ناکام رہتا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ستارے جس مادہ سے بنے ہیں، اس میں کوئی خاص صلاحیت وقوت آگ سے بنے ہوئے شیطانوں کے مارنے اور بھگانے کی ہے۔
Ayah 37:11

فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ Open ayah 37:11 in the Quran reader

تو آپ ان سے پوچھئے کہ خلقت میں یہ لوگ زیادہ مضبوط ہیں یا وہ جنہیں ہم نے پیدا کیا ہے، ہم نے ان لوگوں کو تو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے،6۔

6۔ (جو نہ قوت میں کوئی امتیاز رکھتی ہے نہ صلاحیت میں) (آیت) ” ام من خلقنا “۔ اللہ کی مخلوق تو انسان بھی ہے۔ یہاں اشارہ ان مخلوقات کی جانب ہے جن کا ذکر ابھی گزر چکا ہے، ستارے، آسمان، شیطان، فرشتے وغیرہ، اور تقابل ان کا انسان سے کیا گیا ہے۔ جس طین لازب جیسی معمولی اور کمزور چیز سے بنایا گیا ہے۔ یرید ماذکر من خلائقہ من الملئکۃ والسموت والارض وما بینھما (مدارک) فسئل ھؤلآء المنکرین للبعث ایما اشد خلقا ھم ام السموت والارض وما بینھما من الملئکۃ والشیاطین والمخلوقات العظیمۃ (ابن کثیر) من ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔ یہاں بہ قاعدۂ تغلیب لایا گیا ہے۔ جیئی بمن تغلیبا للعقلاء علی غیرھم (مدارک) وغلب اولی العقل علی غیرھم (کشاف) (آیت) ” ھم، ھم، ھم۔ ان تمام ضمیروں سے مراد کافر انسان بلکہ خود نوع انسان ہے۔ الضمیر لمشر کی مکۃ (کشاف) الضمیر لمشر کی مکۃ اوبنی ادم (بیضاوی)
Ayah 37:12

بَلْ عَجِبْتَ وَ یَسْخَرُوْنَ۪ Open ayah 37:12 in the Quran reader

اور آپ تو تعجب ہی کرتے ہیں، اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں،7۔

7۔ (عقیدۂ حشر وجزاوسزا پر) یعنی یہ لوگ انکار ہی پر بس نہیں کرتے، بلکہ تمسخر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ (آیت) ” عجبت “۔ یعنی آپ ﷺ کو اس پر حیرت ہورہی ہے کہ یہ لوگ انکار بعث میں، انکار قدرت خداوندی میں کتنے دلیر ہیں۔ بل عجبت من انکارھم للبعث (قرطبی)
Ayahs 37:13–15

وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا یَذْكُرُوْنَ۪ Open ayah 37:13 in the Quran reader

اور جب انہیں سمجھایا جاتا ہے تو یہ سمجھتے نہیں

وَ اِذَا رَاَوْا اٰیَةً یَّسْتَسْخِرُوْنَ۪ Open ayah 37:14 in the Quran reader

اور جب کوئی نشان دیکھ لیتے ہیں تو اس کی ہنسی اڑاتے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 37:15 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے،8۔

8۔ مطلب یہ ہوا کہ امکان بعث پر جب ان کے سامنے تقریر کی جاتی ہے۔ اور دلائل عقلی قائم کئے جاتے ہیں۔ تو یہ لوگ تکذیب اور کٹ حجتی پر تل جاتے ہیں، اور جب اثبات نبوت کے لئے کوئی معجزہ انکے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تو اس پر مشق تمسخر کرنے لگتے ہیں۔ (آیت) ” ایۃ “۔ ایسا خاص واقعہ جس سے اثبات رسالت ہوتا ہے۔ (آیت) ” قالوا ...... مبین “۔ یعنی قرآن کے اعجازی اثر، نیز رسول کے ہر معجزہ کی تاویل یہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ کہ یہ تو اثر سحر کا ہے۔ قرآن مجید کی شدید اثر اندازی تو ایک حسی اور بدیہی واقعہ ہے۔ اس سے انکار تو ان منکروں سے بھی نہیں بن پڑتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس کی بودی سی بودی توجیہ یہ کمزور سے کمزور اسباب سے کرنے لگتے ہیں۔ ..... وہی ذہنیت جو آج بھی یورپ کے بڑے بڑے مستشرقین کی ہے۔
Ayahs 37:16–18

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 37:16 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر سے اٹھائے جائیں گے ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَؕ Open ayah 37:17 in the Quran reader

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی ؟

قُلْ نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ Open ayah 37:18 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ ہاں (ضرور) اور تم ذلیل بھی ہوگے،9۔

9۔ یہ منکرین بعث کی تقریر اور اس کا جواب مذکور ہوا۔ (آیت) ” وانتم داخرون “۔ منکرین کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ ہاں اٹھائے تو بہرحال جاؤ گے، اور تم اپنی ان منکرانہ گستاخیوں کی پاداش میں ذلیل و خوار بھی کئے جاؤ گے۔
Ayahs 37:19–21

فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ یَنْظُرُوْنَ Open ayah 37:19 in the Quran reader

قیامت تو بس ایک ہی للکار ہوگی سو یہ سب دیکھنے بھالنے لگیں گے

وَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا هٰذَا یَوْمُ الدِّیْنِ Open ayah 37:20 in the Quran reader

اور کہیں گے ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی روز جزا ہے

هٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ۠ Open ayah 37:21 in the Quran reader

(بےشک) یہ (ہی) فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے،10۔

10۔ یہ منکروں کی صدائے حسرت ونالہ درد کے جواب میں غیب سے ارشاد ہوگا۔ (آیت) ” ھی زجرۃ واحدۃ “۔ اشارہ صور کے نفخ ثانی کی جانب ہے وھی النفخۃ الثانیۃ (مدارک)
Ayah 37:22

اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَهُمْ وَ مَا كَانُوْا یَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:22 in the Quran reader

جمع کرلو مشرکوں اور ان کے ہم مشربوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت اللہ کو چھوڑ کر کیا کرتے تھے،11۔

11۔ (آیت) ” ازواجھم “۔ زوج کے لفظی معنی ساتھی یا مقارن کے ہیں۔ اصل الزوج المقارن (روح) یقال لکل مایقترن باخر مماثلا لہ اومضادا زوج (راغب) یہاں ازواج بیویوں کے معنی نہیں۔ بلکہ رفیقوں، ہم مشربوں کے مرادف ہے۔ اے اقرانھم المعتقدین بھم فی افعالھم (راغب۔ ابوالبقاء) تابعین بلکہ صحابہ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ اخرج جماعۃ ابن عباس ؓ فی لفظ اشابھم وفی لفظ نظراء ھم وروی تفسیر الازواج بذالک ایضا عن ابن جبیر و مجاھد وعکرمۃ (روح) عن عمر بن الخطاب ؓ الزانی مع الزانی وشارب الخمر مع شارب الخمر وصاحب السرقۃ مع صاحب السرقۃ (قرطبی) وقیل قرنآء ھم من الشیاطین وروی ھذا عن الضحاک (روح) اے اشیاعھم واتباعھم امثالھم قال قتادۃ والکلبی کل من عمل مثل عملھم فاھل الخمر مع اھل الخمر واھل الزنا مع اھل الزنا (معالم) اے اضرباءھم (ابن جریر، عن عمر ابن الخطاب ؓ (آیت) ” ماکانوا یعبدون “۔ اس کے تحت میں شیاطین واصنام سب آگئے، مطلب یہ ہوا کہ حشر میں منکروں کے رئیس اور عوام، سردار اور پیرو مع ان کے معبودان باطل کے سب اکٹھے کئے جائیں گے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ کھلی ہوئی مراد مشرک کافروں سے ہے۔ جیسا کہ (آیت) ” وما کانوا یعبدون “۔ سے بالکل واضح ہورہا ہے۔ ھم المشرکون (بیضاوی)
Ayahs 37:23–25

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاهْدُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:23 in the Quran reader

پھر ان سب کو دوزخ کا راستہ بتلاؤ

وَ قِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْئُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:24 in the Quran reader

اور ان کو (ذرا) ٹھہراؤ ان سے پوچھ گچھ ہوگی (اب)

مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ Open ayah 37:25 in the Quran reader

تمہیں کیا ہوا کہ ایکدوسرے کی مدد نہیں کرتے،12۔

12۔ (حالانکہ دنیا میں تو خوب کرتے رہتے تھے اور اپنی اسی باہمی اعانت ونصرت پر فخر وناز بھی رکھتے تھے) (آیت) ” فاھدوھم الی صراط الجحیم “۔ یعنی ان سب کو دوزخ کی طرف لے جاؤ۔ مطلب یہ ہوا کہ جب اہل کفر کے رئیس وعوام، مقتداء اور مقتدی سب جمع ہوجائیں گے تو حکم ہوگا کہ سب کو دوزخ کی طرف ہانک دیا جائے۔
Ayahs 37:26–28

بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ Open ayah 37:26 in the Quran reader

نہیں بلکہ وہ (سب) اس روز سرافگندہ ہوں گے

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:27 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کریں گے

قَالُوْۤا اِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ Open ayah 37:28 in the Quran reader

(تابعین) کہیں گے کہ تمہاری ہی آمد ہم پر بڑے زور سے ہوا کرتی تھی،13۔

13۔ عوام کفار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ بیشک تم نے ہمیں کفر پر صریحا مجبور تو نہیں کیا تھا، لیکن تم ترغیب وتحریض کے مختلف طریقے اختیار کر کرکے ہر طرح کا زور جو ہم پر دیا کرتے تھے، (آیت) ” تاتوننا عن الیمین “۔ ایتاء عن الیمین “۔ کے معنی محاورہ میں زور اور دباؤ ڈالنے کے آتے ہیں۔ عن القوۃ والقھر اذا الیمین موصوفۃ بالقوۃ وبھا یقع البطش اے انکم تحملوننا علی الضلال وتقسروننا علیہ (مدارک) اے عن اقوی الوجوہ (بیضاوی) اے تخدعوننا وتفتنوننا عن طاعۃ اللہ (ابن قتیبہ) وقیل الیمین بمعنی القوۃ اے تمنعوننا بقوۃ وغلبۃ وقھر (قرطبی) (آیت) ” عن الیمین “۔ سے کنایہ یہ بھی سمجھا گیا ہے کہ راہ حق کی طرف سے اس سے روکنے کیلئے آتے تھے۔ اے عن الناحیۃ التی کان ھنا الحق تصرفوننا عنھا (راغب) وقال مجاھد اے من قبل الحق انہ معکم (قرطبی)
Ayahs 37:29–32

قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 37:29 in the Quran reader

(سرغنہ) کہیں گے کہ نہیں، بلکہ تم خود ہی ایمان نہیں لائے

وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ Open ayah 37:30 in the Quran reader

اور ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا نہیں، بلکہ تم خود ہی سرکشی کیا کرتے تھے

فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَاۤ١ۖۗ اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ Open ayah 37:31 in the Quran reader

سو ہم (سب ہی) پر ہمارے پروردگار کی یہ بات محقق ہوچکی تھی کہ ہم (سب) کو مزہ چکھنا ہے

فَاَغْوَیْنٰكُمْ اِنَّا كُنَّا غٰوِیْنَ Open ayah 37:32 in the Quran reader

سو ہم نے تمہیں بھی گمراہ کیا اور ہم خود ہی گمراہ تھے،14۔

14۔ رؤساء اور مقتدایان کفر اپنی صفائی میں کہیں گے کہ ہم کیا کریں، اسباب ہی ایسے اکٹھے ہوگئے کہ ہم خود بھی گمراہ ہوئے، اور اپنی گمراہی کو تم تک پہنچایا، تو تم بھی باختیار خود گمراہ ہوئے۔ ذمہ داری سے بری کوئی نہیں، سب کو اپنا اپنا کفر بھگتنا ہے۔ امام رازی (رح) نے خوب لکھا ہے کہ اگر ہر گمراہ کی ذمہ داری مغوی پر ڈال دینے قاعدہ صحیح تسلیم کرلیاجائے تو پھر دنیا میں کوئی شخص قابل سزا رہ ہی نہ جائے گا۔ کہ اس مغوی کا بھی تو کوئی اور مغوی ہوگا، اور اس کا کوئی اور۔ اس سے صاف دور وتسلسل لازم آتا ہے۔ اور ذمہ داری ایک سے دوسرے پر برابر ہٹتی ہی چلی جائے گی۔
Ayahs 37:33–36

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

سو وہ (سب کے سب) اس روز عذاب میں شریک رہیں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم (ایسے) مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

یہ لوگ ایسے تھے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ لوگ تکبر کیا کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں گے ؟ ،15۔

15۔ مشرکین عرب کا بیان ہورہا ہے کہ وہ دین جاہلیت کی ” تہذیب اعلی و برتر “ (SUPERIOR, CULTURE) پر نازاں ہیں، اور جب خالص اور کھری توحید ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے تو اسے قبول کرنے میں اور اپنے مشرکانہ عقائد سے دستبر دار ہونے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اور پیغمبر کیلئے یہ نظریہ قائم کئے ہوئے کہ یہ تو ایک محض خیالی منصوبہ باز شخص ہے، اس کے کہے سے اپنے عقائد قدیم کیونکر بدل دیں۔ (آیت) ” بالمجرمین “۔ مجرمین سے مراد عام گنہگار نہیں، بلکہ جرم کفر کے مرتکبین مراد ہیں۔ اے بالمشرکین (بیضاوی۔ روح) اور صرف یہیں نہیں۔ بلکہ یہ لفظ اپنی مطلق صورت میں جہاں جہاں بھی قرآن مجید میں آیا ہے مراد کافر ہی ہیں۔ یدل علی ان لفظ المجرم المطلق مختص فی الفرقان بالکافر (کبیر)
Ayah 37:37

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

نہیں اصل یہ ہے کہ وہ ایک سچا دین لے کر آئے ہیں اور (دوسرے) پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں،16۔

16۔ مشرکوں کو جواب مل رہا ہے کہ ان پیغمبروں کی زبان سے اظہار تمامتر حقائق ہی کا ہورہا ہے۔ بھلا شاعری خیال بندی، منصوبہ بازی کو ان نبوی عقائد سے کیا مناسبت ہے ؟
Ayahs 37:38–39

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

تم (سب) کو عذاب دردناک چکھنا پڑے گا

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو اسی کا بدلہ ملے گا جو تم کیا کرتے تھے،17۔

17۔ یعنی اس عام ومشترک سزا کے باب میں کوئی ظلم کسی قسم کا نہیں۔ نفس کفر و انکار میں تم سب شریک تھے، اس لئے لازم ہے کہ آج سزائے کفر میں بھی سب شریک ہو۔