Ayahs 37:1–10اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔
قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔
پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ فرشتے بوقت عبودیت اللہ کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور مل کر کھڑے ہوتے ہیں جیسے نمازی نماز میں اور مجاہدین جہاد میں صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔
اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کے حکم سے اجرام علویہ اور سفلیہ کی تدبیر پر مامور ہیں وہ ان شیاطین کو ڈانٹ کر بھگاتے ہیں اور ہنکاتے ہیں جو اوپر جا کر چوری چھپے سے اللہ کی باتیں اور آسمان کی خبریں سننا چاہتے ہیں کہ ملا اعلیٰ اور آسمانوں میں فرشتوں کی جو باتیں ہو رہی ہیں ان میں سے کوئی بات سن کرلے بھاگیں اور کاہنوں کے کانوں میں اس کا القا کریں کہ آسمانوں میں یہ باتیں ہو رہی ہیں جیسا کہ اسی آیت میں آگے آنے والا ہے ویقذفون من کل جانب دحورا اس کلمہ سے ان بےادب کافروں کا رد مقصود ہے کہ جو آنحضرت ﷺ کی نسبت یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی شیطان آپ ( ﷺ ) کے پاس آکر آپ ﷺ کو غیب کی خبریں سنا جاتا ہے اس کے ابطال کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہاں تک شیطانوں کی رسائی نہیں عالم بالا کی خبریں ان کو حاصل نہیں ہوسکتیں اگر کوئی شیطان ملا اعلیٰ کی طرف جانے کا قصد کرتا ہے تو وہ ایک آتشیں شعلہ سے ماربھگا دیا جاتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ہنکاتے ہیں اور جس زمین پر بارش کا حکم ہوتا ہے وہاں ان کو لے جاتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جو جنات اور شیاطین کو الہامات فاسدہ کے القا سے روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو ذکر الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں اور لیل ونہار اللہ کی تسبیح و تقدیس میں اور اس کی یاد میں لگے رہتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آنے والا ہے وانا لنحن المسبحون یا یہ معنی ہیں کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جو اللہ کا حکم سننے کے منتظر رہتے ہیں پھر جب وہ حکم اوپر سے اتر جاتا ہے تو ایک دوسرے کو پڑھ کر سناتے ہیں۔
یا یہ معنی ہیں کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جو انبیا کرام (علیہ السلام) پر نازل ہوتے ہیں اور کلمات الٰہیہ کی ان پر تلاوت کرتے ہیں عبد اللہ بن مسعود ؓ اور عبد اللہ بن عباس ؓ اور مسروق (رح) اور سعیدبن جبیر (رح) اور عکرمہ (رح) اور مجاہد رحمہ اور قتادہ (رح) اور سدی (رح) اور ربیع بن انس (رح) کا بھی یہی قول ہے کہ اس آیت میں ” صافات “ اور ” زاجرات “ اور ” تالیات “ سے ملائکہ کی اقسام مراد ہیں جو مقام عبودیت میں تعمیل حکم کے لئے صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور بادلوں کو ڈانٹ کر چلاتے ہیں اور خدا کا ذکر کرتے ہیں۔
غرض یہ کہ ان قسموں سے خواہ فرشتے مراد ہوں یا عبادت گذار انسان مراد ہوں یا غازی اور مجاہدین مراد ہوں جو جہاد میں گھوڑوں کو ہنکاتے ہیں اور میدان جہاد میں صف بستہ ہو کر کافروں کا مقابلہ کرتے ہیں اور پھر گھوڑوں کو للکار کر اور ہنکا کر دشمن پر حملہ کرتے ہیں اور اس حالت میں وہ اللہ کے ذکر سے غافل نہیں یا علما ربانییین مراد ہوں جو وعظ ونصیحت کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کی معصیت سے زجر اور توبیخ کرتے ہیں اور احکام الٰہی کی ان پر تلاوت کرتے ہیں اور یاد الٰہی سے غافل نہیں رہتے اور اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں یہ الفاظ اپنے عموم کی وجہ سے ان تمام معانی کو محتمل ہیں اور یہ تمام چیزیں قابل تقسیم ہیں کہ اللہ کے نزدیک باعظمت اور باتوقیر ہیں اور آیات قدرت بھی ہیں بہرحال جو بھی مراد ہو اللہ تعالیٰ ان قسموں کے بعد ارشاد فرماتے ہیں۔
بیشک تمہارا معبود اپنی ذات وصفات میں اور اپنے اقوال وافعال میں ایک ہے یعنی یکتا اور یگانہ ہے یہ جواب قسم ہے قسم کھا کر اپنی توحید الوہیت کو بیان فرمایا اب آئندہ اس بات میں اپنی توحید ربوبیت کو بیان کرتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ آسمان اور زمین کے تمام فرشتے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ البتہ خدائے برحق ایک ہے اور وہی آسمان و زمین کا خالق ہے اور وہی سارے عالم میں متصرف ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ وہ رب السموت والارض ہے اور تمام ثوابت اور سیارات سب اس کے حکم کے سامنے مسخر ہیں چناچہ فرماتے ہیں وہی رب ہے آسمانوں کا اور زمین کے درمیان تمام چیزوں کا اور وہی رب ہے تمام مشرقوں کا آفتاب اور ماہتاب اور جو کو کب ہر روز جس مشرق سے بھی طلوع کرتا ہے اور وہ اسی کے حکم سے طلوع کرتا ہے۔
نکتہ : مشارق کا ذکر کیا اور فقط اسی کے ذکر پر اکتفا کیا اور مغارب کا ذکر نہ کیا اس لئے کہ دو ضدوں میں سے ایک ضد کا ذکر دوسری ضد کی طرف اشارہ ہوتا ہے جیسے سرابیل تقیکم الحر میں فقط حر کا ذکر کیا مراد حر اور برد دونوں ہی ہیں۔
یا یہ وجہ ہے کہ اس لفظ سے کواکب پرستوں کے رد کی طرف اشارہ ہے جو کواکب کی الوہیت کے قائل تھے سو ان کی الوہیت کا ظاہرا احتمال ان کے طلوع اور نورانیت سے ہوسکتا ہے نہ کہ غروب سے اس لئے کہ غروب سے ان کی نورانیت اور تاثیر ختم ہوجاتی ہے جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں گذرا فلما افل قال لا احب الافلین اور غروب ایک قسم کی دناءت اور پستی وزوال ہے غروب کی حالت میں کواکب کی الوہیت کا ظاہرا بھی کوئی امکان نہیں اس لئے مغارب کا ذکر نہیں کیا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی قسم کھا کر اپنی توحید کو بیان فرمایا قرآن کریم میں جا بجا اس قسم کی قسمیں جواب قسم کی تاکید اور اہتمام کے لئے لائی گئی ہیں اور عموما جس جگہ بھی قسم لائی گئی ہے وہ درحقیقت جواب قسم کی دلیل ہے اس لئے کہ فرشتوں کا مقام عبودیت میں صف بستہ کھڑا ہونا اور آسمانوں کا پہرہ دار بننا اور ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہنا یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے جس کی تعظیم میں یہ فرشتے صف بستہ اور اس کی اطاعت اور عبودیت میں کمر بستہ اور اس کی قدرت اور عظمت اور حلال کے سامنے دست بستہ ہیں معلوم ہوا کہ فرشتوں میں الوہیت کی صلاحیت نہیں بہرحال آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز رب نہیں۔
اب آئندہ آیات میں دلائل قدرت اور براہین الوہیت کا نمونہ بیان فرماتے ہیں تحقیق ہم نے آسمان دنیا کو جو ان کے سروں سے بہت قریب ہے ستاروں کے ذریعہ زینت بخشی جو ہماری قدرت کا عجیب منظر ہے کہ ان کے سروں پر آسمان سائبان اور چھت کی طرح روشن اور مزین ہے ہم نے اپنی قدرت اور حکمت سے آسمان کو پیدا کیا اور ہم ہی نے ستاروں کے ذریعہ ان سے نزدیک تر آسمان کو آرائش دی یہ چیزیں خود بخود نہیں ہوگئیں مطلب یہ ہے کہ یہ کواکب آسمان دنیا کی آرائش اور زینت ہیں اور ہم نے ان ستاروں کے ذریعہ آسمان کو ہر شیطان سرکش کی رسائی سے محفوظ کردیا کہ کسی شیطان کی وہاں تک رسائی نہ ہو سکے شیاطین میں یہ طاقت نہیں کہ ملا اعلیٰ تک یعنی فرشتوں کی مجلس اعلیٰ تک رسائی پا سکیں اور ان کی باتوں کو سن سکیں یعنی شیاطین میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اوپر جا کر کان لگا کر ملا اعلیٰ کی باتوں کو سن سکیں کواکب کے ذریعہ ہم نے آسمانوں کو شیاطین کی رسائی سے محفوظ کردیا ہے بہرحال مقصود یہ ہے کہ ستارے رب نہیں اور نہ وہ الوہیت میں شریک ہیں اور نہ تغیرات عالم میں موثر ہیں۔
اور اگر شیاطین اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہیں سے بھگانے اور دھتکارنے کے لئے ہر طرف سے مارے جاتے ہیں تو وہاں بیٹھنے کی گنجائش نہیں پاتے اور فرشتے دھکے دے کر ان کو بھگا دیتے ہیں اور شیاطین کے لئے اس دنیوی عذاب کے علاوہ ایک اخروی عذاب ہے جو ان کو لازم ہوگا اور وہ کبھی ان سے منقطع نہ ہوگا۔
غرض یہ کہ کسی شیطان کی یہ مجال نہیں کہ ملا اعلیٰ تک پہنچ کر اور وہاں بیٹھ کر ان احکام کو سن سکے جو تدبیر عالم کے متعلق جاری ہوتے ہیں مگر یہ کہ کسی وقت کوئی شیطان چوری چھپے سے کوئی بات اچک کرلے جائے اور سن کر وہاں سے بھاگے تو ایک روشن شعلہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے جس سے وہ کبھی مارا جاتا ہے اور کبھی بچ جاتا ہے اور نیچے والے کو وہ خبر پہنچا دیتا ہے اور جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے ان آیات سے مقصود اللہ کی کمال عظمت وقدرت کو بیان کرنا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو کواکب سے مزین اور آراستہ کیا اور پھر ان کواکب کو آسمان تک شیاطین کی رسائی سے حفاظت کا ذریعہ بنایا اور ہر طرف سے رجم کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین جس طرف سے بھی جاتے ہیں تو ان پر رجم ہوتا ہے اور استماع پر قادر نہیں مگر شاذو نادر کبھی کوئی بات لے اڑتے ہیں اور اس کو جادوگروں اور کاہنوں پر القا کرتے ہیں وہ اس میں سو جھوٹی باتیں ملا کر مشہور کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں متعدد جگہ اس بات کا ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو کواکب (ستاروں) کے ذریعہ زینت بخشی اور ان کو سرکش شیطانوں سے حفاظت کا ذریعہ بنایا کہ شیاطین آسمانوں تک نہ پہنچ سکیں اور اگر کسی وقت کوشش کر کے آسمان کے قریب پہنچ جائیں تو ستاروں سے ہلاک کر دئیے جائیں مطلب یہ ہے کہ ستاروں کے پیدا کرنے میں دو فائدے ہیں ایک تو یہ کہ آسمان دنیا کی زینت بنیں اور دنیا والوں کو جگمگاتی ہوئی قندیلیں دکھاویں دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے نیلگوں سطح پر نہایت آبدار جواہر چمک رہے ہیں جس سے آسمان نہایت خوبصورت اور روشن نظر آتا ہے دوسرا فائدہ کواکب کا یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے آسمان کی حفاظت ہوجائے کہ شیاطین وہاں پہنچ کر کوئی خبر نہ لے سکیں جس کی تفصیل سورة حجر کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔
علما اسلام میں مشہور قول یہ ہے کہ ستاروں آسمان میں گڑے ہوتے ہیں اور بعض علما اسلام یہ کہتے ہیں کہ ستارے آسمان و زمین کے مابین معلق ہیں اور بعض علما کا قول یہ ہے کہ آفتاب وغیرہ آسمان دنیا سے نیچے ہیں ان علما کے نزدیک آسمان دنیا کے لئے آفتاب اور ماہتاب کی زینت ہونے کے معنی یہ ہیں کہ دیکھنے والوں کو آسمان دنیا ہی کی زینت دکھائی دیتی ہے اگرچہ وہ آسمان اول سے نیچے ہیں اور فلاسفہ متاخرین کہتے ہیں کہ کواکب فضا میں قوت جاذبہ کے تناؤ پر قائم ہیں نہ کہ آسمان میں جڑے ہوئے ہیں سو یہ امر اہل اسلام کے نزدیک عقلا جائز ہے اور قدرت خداوندی کے تصرف میں داخل ہے اور قوت جاذبہ ایک سبب عادی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے اگر کسی دلیل قطعی سے یہ امر ثابت ہوجائے کہ کواکب فضا ہی میں معلق ہیں تو جن آیات میں یہ آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کواکب کو آسمان دنیا کی زینت بنایا ہے ان کے یہ معنی بیان کئے جائیں گے کہ ظاہری رؤیت اور مشاہدہ کے اعتبار سے وہ آسمان کی زینت ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خبر تو یہ دی ہے کہ اس نے کواکب سے آسمان کو زینت دی جس کا یہ بیان ہوا اور دوسری خبر اس نے یہ دی کہ اس نے کواکب کو شیاطین کے روکنے کے لئے اور ان کے سنگسار کرنے کے لئے بنایا ہے تاکہ وہ ملائکہ کی باتیں چوری سے سننے کے لئے آسمان کے قریب نہ پہنچ سکیں۔
تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ بڑے بڑے سیارے جیسے چاند اور سورج ان کی سنگساری کے لئے اوپر سے نیچے پھینکے جاتے ہیں تاکہ یہ شبہ کیا جائے کہ اگر بڑے بڑے ستارے زمین پر پھینک دئیے جائیں تو زمین کو بڑا نقصان پہنچے اور آبادی تباہ ہوجائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کواکب سے شعلے جدا ہو کر شیاطین کو سنگسار کرتے ہیں اور انہی شعلوں کو ہم شہاب ثاقب یا ٹوٹے ہوئے ستارے کہتے ہیں جیسا کہ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا (دیکھو تفسیر کبیر )
اس کا حاصل یہ ہے کہ ٹوٹنے والے اور گرنے والے ستارے یہ کواکب نورانیہ نہیں بلکہ کواکب نورانیہ کی شعاعیں اور شعلے ہیں جو شیاطین پر گرتے ہیں اور ان کو ہلاک کرتے ہیں۔
حضرت شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ ” انہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج اور آتشی شیشہ سے “ انتہی یعنی اصل ستارے اپنے حال پر رہتے ہیں اور جو شعلے ان کی روشنی سے نکلتے ہیں ان سے شیاطین کو مارا جاتا ہے اور بعض علما یہ کہتے ہیں کہ ستارے دو قسم کے ہیں ایک بڑے بڑے جو لوگوں میں معروف ومشہور ہیں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے ان کو اللہ تعالیٰ نے فضا آسمانی میں معلق کردیا ہے اس قسم کے ستاروں کو اللہ تعالیٰ شیاطین کے رجم کے لئے تیار کرتا ہے یا وہ پہلے سے موجود ہیں مگر نظر نہیں آتے لیکن جب وہ شیاطین پر پھینکے جاتے ہیں تو حرکت کی تیزی کی وجہ سے شعلہ کی صورت میں ہو کر شیاطین پر گرتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمان دنیا کی زینت کے لئے بنایا ہے اور شیاطین کی سنگساری کے لئے بنایا ہے بڑے بڑے ستارے آسمان کی زینت ہیں اور چھوٹے چھوٹے ستارے شاطین کی سنگساری کے لئے ہیں لہٰذا یہ تحقیق موجودہ علم الافلاک کے اصول مسلمہ کے بھی خلاف نہ ہوگی فرق صرف اتنا ہوگا کہ علما علم الافلاک کے نزدیک چھوٹے چھوٹے ستاروں کا زمین پر گرنا اس بنا پر ہوگا کہ یہ چھوٹے چھوٹے ستارے جب کسی وقت زمین کے قریب ہوجاتے ہیں تو زمین کی کشش کے باعث زمین کی طرف ٹوٹ کر گر پڑتے ہیں جب یہ ستارے زمین کے قریب ہوجاتے ہیں تو زمین ان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور اہل اسلام یہ کہتے ہیں کہ یہ ستارے اللہ کے حکم سے شیاطین کو سنگسار کرنے کے لئے پھینکے جاتے ہیں اور فلاسفہ عصر نے جو زمین کے لئے قانون کشش بنا رکھا ہے ان کے پاس اس کی دلیل قطعی تو کیا ہوئی اثبات کشش کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل ظنی بھی نہیں یہ محض ان کا گمان اور تخمینہ ہے جس کا ماننا عقلا ضروری نہیں اور نہ اس کی کوئی دلیل ہے کہ یہ ستارے خاص خاص اوقات ہی میں کیوں زمین کے قریب ہوجاتے ہیں۔
(2) حق جل شانہ کے اس ارشاد سے یعنی انا زینا السماء الدنیا سے ظاہرا یہ معلوم ہوتا ہے کہ کواکب آسمان دنیا میں ہیں اور اہل بیت کواکب کے جدا جدا آسمان پر ہونے کے قائل ہیں لیکن ان کے پاس نہ کوئی دلیل قطعی ہے اور نہ کوئی دلیل ظنی ہے۔
(3) جنات اور شیاطین کا مادہ اگرچہ ناری اور آتشی ہے مگر شہاب ثاقب سے ان کا جل جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ انسان کا اصل مادہ خاک ہے مگر اینٹ اور پتھر کے مارنے سے وہ زخمی ہوجاتا ہے اور کبھی ہلاک بھی ہوجاتا ہے۔
Ayahs 37:11–32منکرین حشر اور مکذبین رسالت کی تردید اور ان کی جہالت اور حماقت کا اظہار
قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم اہم اشد خلقا۔۔۔ الی۔۔۔ الا عباد اللہ المخلصین۔
یہاں تک توحید کا مضمون تھا اب آگے ان لوگوں کی تردید فرماتے ہیں جو حشر ونشر کے منکر تھے اور اس کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں اور کافروں کی سرکشی کو بیان کرتے ہیں کہ باوجود ان قاہرہ قدرتوں کے خدا کے قادر ہونے کا یقین نہیں آتا اور حشر ونشر کو محال بتلاتے ہیں اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں پس جب دلائل مذکورہ سے حق جل شانہ کی کمال قدرت ظاہر ہوگئی تو جو لوگ دار آخرت کے منکر ہیں اور حشر ونشر کو محال اور ناممکن بتلاتے ہیں آپ ﷺ ذرا ان سے دریافت کیجئے کہ وہ کیوں حشر ونشر اور بعث کو محال اور ناممکن سمجھتے ہیں کیا یہ لوگ پیدائش میں مضبوط اور سخت تر ہیں یا وہ چیزیں جن کی پیدائش کا ابھی ذکر ہوا وہ زیادہ مضبوط اور سخت ہیں جیسے آسمان اور زمین اور پہاڑ ظاہر ہے کہ ان اجسام عظیمہ کے مقابلہ میں انسان جیسے ضعیف البنیان ہستی کی کیا حقیقت ہے جو طلب معاش میں رات دن مرتا کھپتا پھرتا ہے تحقیق ہم نے انسانوں کو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے جو آسمان اور زمین سے کسی طرح سخت اور مضبوط نہیں ہوسکتا اور انسان کا اصل مادہ زمین ہے اور پانی ہے پس جب انسان ابتداء زمین کے اجزا سے پیدا کیا گیا تو اس کے دوبارہ زمین سے پیدا ہونے کا کیوں انکار کرتے ہو اور کیوں اسے محال ٹھہراتے ہو اور اگر یہ خیال ہے کہ فاعل کو ان چیزوں پر قدرت نہیں تو جو خدا آسمان و زمین کے پیدا کرنے پر قادر ہے تو ان کے اجزا کو دوبارہ ملانے اور ان میں زندگی ڈالنے پر بھی قادر ہے قدرت اس کی صفت ذاتی ہے جس کی نسبت تمام چھوٹی اور بڑی چیزوں کے ساتھ برابر ہے اور یہ امر بالکل بد یہی ہے اس کا انکار قابل تعجب معلوم ہوتا ہے اور آپ ﷺ کا کافروں سے استفسار تحصیل علم کے لئے نہیں بلکہ بطور تعجب ہے آپ کو اس بات سے تعجب آتا ہے کہ باوجود یکہ قدرت الٰہیہ کے آثار ظاہر اور روشن ہیں تو پھر دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں محال سمجھتے ہیں اور اس انکار سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ بعث اور حشر ونشر کا تمسخر کرتے ہیں یعنی اس کا ٹھٹھا اور مذاق اڑاتے ہیں اور جب ان کو دلائل عقیلہ سے بعث اور حشر ونشر کا امکان سمجھایا جاتا ہے تو سمجھتے نہیں دیدہ دانستہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور جب کوئی معجزہ دیکھتے ہیں جو نبی کی صداقت پر دلالت کرے تو بنا بنا کر تمسخر کرتے ہیں گویا کہ ہنسی اور ٹھٹھے کو دعوت دے کر بلا رہے ہیں اور بجائے تصدیق کے ٹھٹھوں میں اسے اڑانے کی کوشش کرتے ہیں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نشانی سے مراد انشقاق قمر ہے اور کہتے ہیں کہ نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو بد یہی اور حسی چیز کا اس طرح سے انکار صریح جہالت اور حماقت ہے اور برابر یہی کہے چلے جاتے ہیں کہ کیا جب ہم مرگئے اور مٹی اور خاک ہوگئے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے یا جو ہمارے گذشتہ آباؤ اجداد جو ہم سے سالہا سال پہلے مرچکے اور مختلف مواضع میں دفن ہوچکے وہ بھی دوبارہ زندہ کر کے مختلف مواضع سے اٹھائے جائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ خیر ہم تو نے مردے ہوں گے شاہد ہم دوبارہ زندہ ہوجائیں مگر جو ہم سے صدہا سال پہلے مرچکے ہیں ان کا دوبارہ زندہ ہونا تو بالکل ہی محال معلوم ہوتا ہے مشرکین اپنے گمان میں اس چیز کو خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی آپ ﷺ ان کے جواب میں کہدیجئے کہ ہاں مرنے کے بعد تم اور تمہارے تمام آباؤ اجداد سب اٹھائے جاؤ گے درآنحالیکہ تم سب سخت ذلیل اور خوار ہوؤ گے اور تمہارا تکبر کچھ نہ چلے گا پس جس قیامت کو تم محال سمجھ رہے ہو وہ اللہ پر بہت آسان ہے جز ایں نیست کہ وہ صرف ایک ہولناک آواز اور سخت آواز ہوگی اس سے مراد نفخہ ثانیہ ہے کہ جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو اس وقت سب زندہ ہو کر قبر سے نکل کھڑے ہوں گے اور قیامت کے اس ہولناک منظر کو ٹکٹکی لگائے ہوئے دیکھتے ہوں گے اور خوف و دہشت کی وجہ سے سب کے ہوش اڑ جائیں گے اور پچھتاویں گے اور حسرت سے یہ کہیں گے ہائے ہماری بربادی یہ تو روز جزا معلوم ہوتا ہے جس کا انبیا نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور یہی وہی فیصلہ کا دن ہے کہ جس کی تم دنیا میں تکذیب کیا کرتے تھے اور جس کو تم محال بتلایا کرتے تھے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آج اس تکذیب کا مزہ چکھنے کا دن ہے بعد ازاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ تم ان ظالموں کو اکٹھا کرو جنہوں نے خدا کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ان کو جمع کرو اور ان کے ساتھ ان کے جوڑوں کو بھی جمع کرو یعنی ان کے ہم مشربوں کو جو کفر میں ان کے مشابہ اور مماثل اور ان کے تابع اور پیرو تھے جیسے (زنا کاروں کو زنا کاروں کے ساتھ اور سود خوروں کو سود خواروں کے ساتھ اور شراب خوروں کو شراب خوروں کے ساتھ اور بت پرستوں کو بت پرستوں کے ساتھ اور ستارہ پرستوں کو ستارہ پرستوں کے ساتھ اور صلیب پرستوں کو صلیب پرستوں کے ساتھ ایک ایک جگہ اکٹھا کرو مطلب یہ ہے کہ ایک قسم کے گنہگاروں کو ایک جگہ جمع کرو تاکہ سب مل کر ایک ہی قسم کی حسرت اور افسوس میں مبتلا ہوں اور ہر قسم کی حسرت کا نمونہ لوگوں کی نظروں کے سامنے آجائے اور ان ظالموں کے ساتھ ان چیزوں کو بھی جمع کرو جن کی یہ ظالم اللہ کے سوا پرستش کیا کرتے تھے یعنی ان کے ساتھ شیاطین اور اصنام کو بھی جمع کرو اور پھر ان سب کو دوزخ کی راہ دکھاؤ اور پھر یہ حکم ہوگا کہ ذرا ان کو ٹھہراؤ اور ان کو کھڑا رکھو ان سے باز پرس ہوگی ان سے ان کے عقائد اور اخلاق اور اعمال کے متعلق سوال ہوگا اور ان کو سرزنش کی جائے گی تاکہ ان پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے اور پھر بطور ملامت اور توبیخ ان سے کہا جائے گا کہ آج تم کو کیا ہوا کہ عذاب کا حکم سننے کے بعد ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے جیسے تم دنیا میں ایک دوسرے کے حامی اور مددگار بنے رہتے تھے ابو جہل نے بدر کے دن کہا تھا نحن جمیع منتصر ہم سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں پس جب تم دنیا میں ایک دوسرے کے ہمدم اور دمساز اور ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنے ہوئے تھے تو آج کیا ہوا ایک دوسرے سے علیحدہ ہو اس وقت یہ ظالم شرمندگی کی وجہ سے کچھ نہیں بول سکیں گے بلکہ یہ لوگ اس دن گردن جھکائے ہوئے سر افگندہ اور دم بخود ہوں گے پھر آپس میں سوال و جواب کریں گے اور ایک دوسرے کو سرزنش کریں گے اور متبعین اپنے سرداروں کو الزام دیں گے کہ ہم تمہارے کہنے سے گمراہ ہوئے اور تمہاری بدولت ہم کو یہ روز بد دیکھنا پڑا اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کریں گے اور اپنے سرداروں سے بطور الزام یہ کہیں گے کہ تحقیق تم وہی لوگ ہو کہ جو دائیں جانب سے ہمارے پاس آتے تھے یعنی ہم کو حق سے روکتے تھے اور باطل کو اچھا کر کے دکھلاتے تھے یعنی یمین سے حق کے معنی مراد ہیں یا یمین سے قوت اور غلبہ کے معنی مراد ہیں یعنی تم بزور وقوت ہم کو راہ ہدایت سے روکتے تھے زبردستی تم نے ہم کو اس راہ پر لگایا سردار اپنے تابعداروں کے جواب میں پانچ باتیں کہیں گے (1) یہ کہ ہم نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی بلکہ تم خود ہی اپنے اختیار سے کفر اور نافرمانی کو اختیار کیا تمہارے گمراہ ہونے میں ہمارے گمراہ کرنے کو کوئی دخل نہیں تمہارے ضمیر میں پہلے ہی سے سرکشی اور شرارت کا مادہ تھا ہمارے ساتھ مل کر اور زیادہ شریر ہوگئے۔ (2) دوم یہ کہ ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا اور نہ زبردستی کہ ہم تم کو جبرا وقہرا کفر میں داخل کردیں اور ایمان سے روکیں یا نکالیں۔ (سوم) یہ کہ بلکہ تم خود حق سے برگشتہ قوم تھے اور از خود تم کفر اور ضلال میں حد سے گذرنے والے تھے ناصحین کا کہنا تو نہ مانا ہمارے کہنے اور بہکانے میں آگئے اپنی گمراہی کی نسبت ہماری طرف کیوں کرتے ہو جیسا کہ دوسری جگہ شیطان جہنم میں اپنے معترضین اور الزام دینے والوں سے یہ کہے گا وما کان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولوموا انفسکم یعنی میرا تم پر کوئی زور نہ تھا میں نے تم کو فقط کفر کی دعوت دی تھی تم نے از خود میری دعوت کو قبول کیا اور انبیا کی دعوت کو رد کیا پس آج مجھے ملامت نہ کرو اپنے نفسوں کو ملامت کرو۔ (چہارم) وہ سردار یہ کہیں گے کہ پس اصل بات یہ ہے کہ ہم پر غضب اور عتاب کے ساتھ اللہ کا کلمہ عذاب لازم اور ثابت ہوگیا پس ہم سب بلاشبہ اب اللہ کے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے جو مقدر ہوچکا تھا وہ آج ہم پر ٹھیک پڑا اور قسمت کا لکھا ہوا پیش آیا بتلاؤ ہم کیا کریں غرض یہ کہ جو کچھ بھی ہو نتیجہ اور انجام یہ ہے کہ ہم سب پر اللہ کا حکم جاری اور نافذ ہوا اور قسمت کا لکھا ہوا سامنے آگیا۔ (پنجم) پس حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم کو بہکایا سو اس کی وجہ یہ تھی کہ تحقیق ہم خود بہکے ہوئے تھے جس کفر اور گمراہی پر خود تھے اسی کو ہم نے تمہارے لئے اچھا کر کے دکھایا تاکہ تم بھی ہم ہی جیسے ہوجاؤ غرض یہ کہ ہم نے تم کو جبرا وقہرا گمراہ نہیں کیا۔