37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:33–57

فَاِنَّهُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 37:33 in the Quran reader

پس وہ اس روز عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہوں گے

اِنَّا كَذٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 37:34 in the Quran reader

ہم گنہگاروں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں

اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ یَسْتَكْبِرُوْنَۙ Open ayah 37:35 in the Quran reader

ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے

وَ یَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِكُوْۤا اٰلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍؕ Open ayah 37:36 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ بھلا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں ؟

بَلْ جَآءَ بِالْحَقِّ وَ صَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 37:37 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ وہ حق لے کر آئے ہیں اور (پہلے) پیغمبروں کو سچا کہتے ہیں

اِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِۚ Open ayah 37:38 in the Quran reader

بیشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو

وَ مَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ Open ayah 37:39 in the Quran reader

اور تم کو بدلہ ویسا ہی ملے گا جیسے تم کام کرتے تھے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:40 in the Quran reader

مگر جو خدا کے بندگان خاص ہیں

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں جن کے لئے روزی مقرر ہے

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

(یعنی) میوے اور ان کا اعزاز کیا جائے گا

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر (بیٹھے ہوں گے)

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

شراب لطیف کے جام کا ان میں دور چل رہا ہوگا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

جو رنگ کی سفید اور پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہوگی

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس سے دردسر ہو اور نہ وہ اس سے متوالے ہوں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس عورتیں ہوں گی جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں گی اور آنکھیں بڑی بڑی

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ محفوظ انڈے ہیں

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے سوال (وجواب) کریں گے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

ایک کہنے والا ان میں سے کہے گا کہ میرا ایک ہم نشین تھا

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

(جو) کہتا تھا کہ بھلا ہم بھی ایسی باتوں کے باور کرنے والوں میں ہو

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم کو بدلہ ملے گا ؟

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

(پھر) کہے گا کہ بھلا تم (اسے) جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

(اتنے میں) وہ (خود) جھانکے گا اور اس کو وسط دوزخ میں دیکھے گا

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

کہے گا کہ خدا کی قسم ! تو تو مجھے ہلاک ہی کرچکا تھا

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر میرے پروردگار کی مہربانی نہ ہوتی تو میں بھی ان میں ہوتا جو (عذاب میں) حاضر کئے گئے ہیں

احکم الحاکمین کی طرف سے مشرکوں کو وعید فانہم یومئذ فی العذاب مشترکون انا کذلک نفعل بالمجرمین۔ فریقین کی اس مخاصمت اور باہمی ملامت کے بعد احکم الحاکمین کی طرف سے یہ فیصلہ ہوگا کہ تم دونوں ہی فریق مجرم ہو پس تحقیق کافروں کے یہ دونوں فریق آج کے دن عذاب میں باہم شریک ہوں گے اس لئے کہ کفر اور گمراہی میں دونوں شریک تھے اگرچہ عذاب کے درجات میں فرق ہو تحقیق ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں کفر کے سردار اور ان کے تابعین سب ہی کفر اور گمراہی کے جرم میں شریک تھے اس لئے دونوں فریق عذاب میں بھی شریک ہوں گے تحقیق ان لوگوں کا جرم یہ تھا کہ یہ لوگ توحید اور رسالت کے منکر تھے ان سب کی حالت یہ تھی کہ جب ان سے لا الٰہ الا اللہ کہا جاتا کہ خدا کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو تکبر کرتے اور اکڑتے اور ناک بھوں چڑھاتے اور اس بات کے منکر ہوجاتے اور خالص اللہ کی الوہیت سے منہ موڑتے اور آنحضرت ﷺ جب ان کو توحید اور حق کی دعوت دیتے تو ازراہ تکبر و غرور یہ کہتے کہ کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نہ شاعر ہیں اور نہ مجنون بلکہ حق اور ہدایت کو لے کر آئے ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے جس قدر پیغمبر حق اور ہدایت لے کر آئے آپ نے ان سب کی تصدیق کی اور سب کو سچا بتلایا اور ظاہر ہے کہ جو حق اور ہدایت لے کر آئے وہ مجنون نہیں ہوسکتا۔ اور نہ شاعر ہوسکتا ہے اصول دین میں آپ ﷺ اور تمام انبیا (علیہم السلام) متفق اور متحد ہیں اور ظاہر ہے کہ جس کا کلام عقلا اور مرسلین کے مطابق ہو اور سر تا پا حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہو وہ شاعر اور مجنون کیسے ہوسکتا ہے پھر فرشتوں کی زبانی ان کو حکم سنایا جائے گا بیشک تم سب دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو جس طرح کفر اور تکذیب میں شریک تھے اسی طرح تم سب دردناک عذاب میں شریک ہو گے اور یہ کوئی ظلم نہیں مگر صرف تمہارے اعمال کی جزا ہے جاؤ جہنم میں اور کفر کا مزہ چکھو تمہارا کفر اور تکبر اس سزا کا باعث بنا ہاں اللہ کے وہ بندے عذاب سے نجات پائیں گے جو کفر اور شرک کی نجاست سے اور اس کے میل کچیل سے بھی پاک وصاف تھے جو عمل کرتے تھے وہ خالص اللہ کے لئے کرتے تھے اس میں ان کی کوئی دنیاوی غرض شامل نہ ہوتی تھی ایسے لوگ قیامت کی ذلت اور رسوائی سے محفوظ رہیں گے۔ اب آگے عباد مخلصین کے انعام واکرام کا ذکر فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے عزت و کرامت کی جو روزی مقرر ہے وہ سب کو معلوم ہے جو قرآن میں جا بجا مذکور ہے ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق رزق کریم ملے گا ان کے لئے قسم قسم کے میوے ہوں گے جو ان کو بطور کرامت ومنزلت ملیں گے جن سے یہ لذت اندوز ہوں گے اشارہ اس طرف ہے کہ جنت کا رزق بطور لذت و فرحت ہوگا نہ کہ بطور ضرورت ان لک ان لا تجوع فیھا اور یہ لوگ بڑی عزت والے ہوں گے اور نازونعمت کے باغوں میں عیش و آرام سے ہوں گے اور تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور ان کے سامنے لطیف اور بہتی ہوئی شراب کا ایک جام پھرایا جائے گا جو دیکھنے میں سفید ہوگی اور پینے میں پینے والوں کو لذیذ اور مزہ دار معلوم ہوگی اس شراب میں نہ کسی قسم کی خرابی ہوگی یعنی اس کے پینے سے ان کے پیٹ میں کوئی درد نہ ہوگا اور نہ وہ لوگ اس شراب سے بدمست ہوں گے کہ اسے پی کر بےہودہ اور بہکی ہوئی باتیں کرنے لگیں بہشتی شراب دنیا کی شراب کی طرح نہ ہوگی کہ عقل خراب کر دے یا کوئی اور خرابی ڈالے اور ان تختوں پر ان کے پاس نیچی نگاہ والی اور بڑی آنکھ والی عورتیں ہوں گی یعنی وہ عورتیں باجود کمال حسن و جمال کے عفیفہ ہوں گی کہ سوائے اپنے شوہروں کے کسی پر نظر نہیں ڈالیں گی اور وہ عورتیں رنگت میں ایسی صاف و شفاف ہوں گی جیسے انڈے ہوں کسی پردہ میں پوشیدہ جو گرد و غبار سے بالکل محفوظ ہوں انڈے کا رنگ سفید ہوتا ہے مگر مائل بہ زردی ہوتا ہے اور تمام رنگوں میں یہ رنگ نہایت خوشنما اور غایت درجہ پسندیدہ ہوتا ہے اور اہل جنت اس عیش و سرور میں ہوں گے کہ ایک دوسرے پر متوجہ ہوں گے ایک کا منہ دوسرے کے سامنے ہوگا اور اس وقت تفریحا ایک دوسرے سے دنیا کے واقعات کے متعلق کچھ دریافت کریں گے اسی دوران گفتگو میں اہل جنت میں سے ایک کہنے والا اہل مجلس سے کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی ایک ہم نشین تھا جو بعث کا منکر تھا اور مجھے احمق سمجھا کرتا تھا اور وہ بطور تعجب واستبعاد اور بطریق تکذیب و تمسخر مجھ سے یہ کہا کرتا تھا کہ کیا تو اس بات کو سچ سمجھتا ہے کہ جب ہم مرجائیں گے اور خشک مٹی ہوجائیں گے یا جلا کر ہماری راکھ ہوا میں اڑا دی جائے گی اور ہم ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کر کے اپنے اعمال کی جزا دئیے جائیں گے یعنی میرا وہ ساتھ حشر ونشر اور جزا وسزا کا منکر تھا اور اس قسم کی باتوں سے مجھے بہکانا چاہتا تھا اس وقت میرا دل چاہتا ہے کہ اس ساتھ کو دیکھو کہ کس حال میں ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں سے وہ دو بھائی مراد ہیں جن کا ذکر سورة کہف کی اس آیت واضرب لہم مثلا رجلین میں گذرا پھر وہ جنتی بطور تفریح اپنے رفقائے مجلس سے کہے گا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے اس ساتھ کو جھانک کر دیکھو کہ وہ دوزخ میں کہاں پڑا ہے اور کس حالت میں ہے تاکہ تم کو اپنے مقام میں اور منکر حشر کے مقام میں فرق معلوم ہو جنت بلندی پر واقع ہے ساتویں آسمان کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے قریب عرش سے نیچے واقع ہے اور جنت میں بالاخانے ہیں اور دوزخ پستی میں ہے اہل جنت، اہل دوزخ کو اپنے بالاخانوں سے جھانک کر دیکھ سکیں گے پھر وہ جنتی جنت کے بالاخانہ سے اس قرین کو جھانکے گا تو اس قرین کو جہنم کے بیچوں بیچ دیکھے گا اور اسے دیکھ کر یہ کہے گا کہ خدا کی قسم تحقیق تو اس بات کے کہ اپنی گمراہ کن باتوں سے مجھے ہلاک کر ڈالے کہ تیری طرح میں بھی حشر ونشر کا منکر ہوجاؤں اور اگر میرے پروردگار کا مجھ پر فضل نہ ہوتا تو میں بھی جہنم میں تیرے ساتھ پڑے ہوؤں میں یعنی اگر خدا کی توفیق میری دستگیری نہ کرتی تو تیری طرح میں بھی منکر حشر ہوجاتا اور تیری طرح تباہ ہوجاتا۔