Ayahs 37:123–132قصہ چہارم الیاس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان الیاس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ انہ من عبادنا ال مومنین۔
حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور انبیا بنی اسرائیل میں سے ہیں جو یوشع (علیہ السلام) کے بعد نبی بنائے گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے شہر بعلبک کی طرف مبعوث فرمایا جو دمشق کے غربی جانب میں واقع ہے۔
جمہور علما کے نزدیک حضرت الیاس (علیہ السلام) انبیا بنی اسرائیل میں سے ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اور حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) سے پہلے گذرے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) یہی ادریس (علیہ السلام) ہیں مگر یہ قول صحیح نہیں اس لئے کہ ادریس (علیہ السلام) تو نوح (علیہ السلام) کے اجداد میں سے ہیں اور الیاس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور اہل کتاب میں وہ ایلیا کے نام سے مشہور ہیں۔
اور بیشک الیاس بھی ہمارے رسولوں میں سے تھا جن کو ہم نے بنی اسرائیل کے اس گروہ کی طرف مبعوث کیا تھا جو لعل بت کی پرستش کرتے تھے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں جبکہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے بھلا کیا تم لوگ لعل بت کی پرستش کرتے ہو اور ایک بےحس و حرکت چیز کو اپنا رب بنائے ہوئے ہو اور اس سے اپنی حاجتیں مانگتے ہو اور چھوڑے بیٹھے ہو اس ذات پاک کو کہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے یعنی اللہ کو جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب ہے وہ تو چھوڑنے کے قابل نہیں۔
معاذ اللہ احسن الخالقین کے یہ معنی نہیں کہ خالق تو بہت ہیں مگر اللہ سب سے بہتر ہے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ خلق کے دو معنی ہیں ایک ایجاد اور اختراع کے معنی ہیں یعنی کسی چیز کو عدم سے نکال کر وجود میں لانا اس معنی کو خالق کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں عدم سے وجود میں لانا اور جان ڈالنا اور جان نکالنا سوائے خدا تعالیٰ کے کسی کے اختیار میں نہیں اور آیت میں خالقین کے یہ معنی مراد نہیں۔
دوسرے معنی خلق کے تقدیر اور اندازہ کرنے اور صنعت اور کاریگری کے ہیں اس معنی کو احسن الخالقین کے معنی یہ ہوں گے کہ سب اندازہ کرنے والوں اور تمام صناعوں اور کاریگروں میں اللہ سب سے بہتر اور بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ کی اندازہ ہمیشہ بالکل ٹھیک اور درست ہے اللہ کے سوا کسی اور کا اندازہ کبھی درست ہوتا ہے اور کبھی غلط اور دنیا میں اگرچہ صناع اور کاریگر بہت ہیں مگر خدا کی صنعت اور کاریگری کو کسی کی کاریگری نہیں پہنچتی صنع اللہ الذی اتقن کل شیء۔
اس معنی کو خالق کا اطلاق بمعنی صناع اور کاریگر بندہ پر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بندہ بھی اپنے علم اور قدرت کے مطابق صنعت اور کاریگر پر قدرت رکھتا ہے اور اس آیت میں خالقین کے یہی دوسرے معنی مراد ہیں۔
پس ان لوگوں نے الیاس کو جھٹلایا پس قیامت کے دن یہ لوگ بلاشبہ عذاب دوزخ کے لئے پکڑ بلائے جائیں گے مگر خدا کے خالص بندے کہ وہ سواریوں پر سوار کر کے اعزاز واکرام کے ساتھ جنت میں پہنچا دئیے جائیں گے اور ہم نے الیاس کا ذکر خیر آنے والی امتوں میں باقی چھوڑا اسلام ہوال یاسین پر یعنی الیاس (علیہ السلام) پر الیاسین بھی ان کا نام ہے جیسے میکال اور میکائیل اور میکالین اور سینا وسینین تحقیق ہم ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں اپنے نیکو کار بندوں کو بیشک الیاس ہمارے خاص الخاص ایمان والے بندوں میں سے تھا ایمان ایک اسم جامع ہے جو تمام کمالات ظاہری وباطنی کو شامل ہے جو علی الاطلاق اہل اختصاص کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
اگر بندہ خویش خوانی امر بہ از مملکت جاودانی مرا
شہانے کہ با تخت فرخندہ اند ہمہ بندگان ترا بندہ اند
Ayahs 37:133–138قصہ پنجم لوط (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان لوطا لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
یہ پانچواں قصہ لوط (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے ان کی قوم لواطت اور بد فعلی میں مبتلا تھی اور یقیناً لوط (علیہ السلام) بھی خدا کے پیغمبروں میں سے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے سدوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا جہاں کے باشندے بت پرست اور لواطت اور قسم قسم کی بےحیائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھے ان کی ہدایت کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جب قوم نے نہ مانا تو ان پر اللہ کا قہر اور عذاب آیا پس اے نبی آپ ﷺ اس وقت کا حال لوگوں کے سامنے بیان کیجئے جبکہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے سب اہل خانہ کو اپنے عذاب سے نجات دی جو ان پر ایمان لے آئے تھے سوائے ایک کافرہ بڑھیا کے جو ان کی زوجہ تھی اس کو عذاب سے نجات نہیں دی بلکہ وہ پیچھے رہنے والوں سے ہوگئی یعنی ان لوگوں سے ہوئی جو عذاب میں باقی اور پیچھے رہ گئے یا ان گزرنے والوں کے ساتھ رہی جو عذاب میں ہلاک ہوئے ” غابر “ بمعنی باقی بھی آتا ہے اور بمعنی ماضی بھی آتا ہے آیت میں دونوں صحیح ہیں لہٰذا دونوں معنی کے اعتبار سے ترجمہ کردیا پھر سب باقی ماندوں کو ہم نے ہلاک کردیا جو اہل مکہ کے لئے خاص طور پر مقام عبرت ہے اور اے اہل مکہ جب تجارت کے لئے ملک شام جاتے ہو تو تحقیق تم صبح کے وقت اور رات کے وقت ان پر گذرتے ہو اور ان کی تباہی اور بربادی کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کیا دیکھ کر بھی نہیں سمجھتے کہ یہ بستیاں نبی کی مخالفت اور لواطت کی وجہ سے الٹی ہوئی ہیں۔
Ayahs 37:139–148قصہ ششم یونس (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ وان یونس لمن المرسلین۔۔۔ الی۔۔۔ فمتعنہم الی حین۔
یہ چھٹا قصہ یونس بن متی (علیہ السلام) کا ہے جو اس سورت کا آخری قصہ ہے کہ جو اپنی قوم کی ایذا پر صبر نہ کرسکے اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے اور یہی یونس (علیہ السلام) ذوالنون نبی ہیں جنہوں نے بحکم خداوندی اپنی قوم سے ایمان نہ لانے پر عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا جب وہ ایمان نہ لائے اور برابر کفر اور تکذیب پر ڈٹے رہے تو سجھ گئے کہ انکار بھی وہی انجام ہوگا جو سرکشوں اور نافرمانوں کا ہوا کرتا ہے اس لئے سمجھ گئے کہ عنقریب عذاب آنے والا ہے تو بغیر انتظار وحی کے اور بغیر حکم خداوندی کے یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کے درمیان سے اول شب میں نکل گئے اور دریا کے کنارہ پہنچے وہاں ایک کشتی مل گئی اس پر سوار ہوگئے حضرت یونس (علیہ السلام) جب اس کشتی میں سوار ہوگئے تو وہ کشتی یکایک رک گئی جس کا ظاہر میں کوئی سبب نہ تھا ہوا وغیرہ بھی نہ تھی تو ملاح اپنے عقیدہ کے مطابق بولے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوئی غلام اپنے مالک سے بھاگا ہوا ہے اور یہ کشتی کا قاعدہ ہے کہ جب اس میں کوئی بھاگا ہوا ہوتا ہے تو وہ چلتی نہیں پھر انہوں نے قرعہ ڈالا کہ جس کا نام کا قرعہ نکلے گا اس کو کشتی سے نکال کر دریا میں ڈال دیں گے تاکہ کشتی غرق ہونے سے بچ جائے تین مرتبہ لوگوں کے ناموں پر قرعہ ڈالا ہر مرتبہ قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام کا نکلا یہ قصہ سورة یونس اور سورة انبیاء میں مفصل گذر چکا ہے اور یہاں اجمالاً ذکر فرماتے ہیں اور اے بنی آپ ﷺ لوگوں سے اس وقت کا حال ذکر کریں جب یونس (علیہ السلام) اپنی قوم سے بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کی طرف پہنچے جو لوگوں سے اور مال ومتاع سے بھری ہوئی تھی جب وہ کشتی چلی اور دھارے پر پہنچی تو یکایک ٹھہر گئی تو ملاح بولے کہ اس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہے اس لئے یہ کشتی نہیں چلتی اس لئے اس کو کشتی سے علیحدہ کر کے دریا میں ڈال دیا جائے لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ قرعہ ڈالاجائے پس یونس (علیہ السلام) بھی قرعہ میں ان کے ساتھ شریک ہوئے تو وہ خود کی رائے یہ ہوئی کہ قرعہ میں وہ خود ہی مغلوب ہوگیا اور ملزم ٹھہرا مطلب یہ ہے کہ قرعہ یونس (علیہ السلام) کے نام پر نکلا یہ دیکھ کر یونس (علیہ السلام) نے خود ہی اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا کہ شاید کنارہ قریب ہو اور میں تیر کر دریا کے کنارہ پہنچ جاؤں ورنہ اگر میری جان گئی بھی تو باقی لوگ تو بچ جائیں گے پس جب یونس (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا تو ہمارے حکم سے فورا ایک مچھلی نے ان کو لقمہ بنا کر نگل لیا اور اپنے پیٹ میں ان کو محفوظ کرلیا تاکہ ان کو کوئی گزند نہ پہنچے اور وہ خود اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے کہ تو بغیر حکم الٰہی کے انتظار کئے ہوئے کیسے بستی سے نکل پڑا اور بغیر حکم خداوندی کیسے ہجرت کے لئے نکل کھڑا ہوا اور یہ ان کی خطا اجتہادی تھی جس پر وہ مستحق ملامت ہوئے حضرات انبیاء کا درجہ سب سے اعلیٰ اور ارفع ہے اس لئے ان کی خطا اجتہادی اور سہو ونسیان پر بھی مواخذہ اور ملامت ہوتی ہے۔ حسنات الابرار سیئات المقربین یعنی ابرار کے مرتبہ میں جو امور حسنات ہیں وہ مقربین کے درجہ میں سیئات ہیں۔
پس یونس (علیہ السلام) اپنے آپ کو دریا میں ڈالنے کے لئے اٹھے تو دیکھا کہ ایک مچھلی منہ کھولے حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرف دیکھ رہی ہے یہ دیکھ کر یونس (علیہ السلام) نے فورا اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا مچھلی نے فورا آپ کو نگل لیا اور مچھلی کی طرف اللہ کی وحی آئی کہ میں نے یونس (علیہ السلام) کو تیرے لئے رزق نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کی حفاظت کا ایک محل اور ظر بنایا ہے دیکھو تفسیر قرطبی ص 125 ج 15 مطلب یہ تھا کہ اے مچھلی یہ یونس (علیہ السلام) تیرا رزق نہیں بلکہ تیرے پاس ہماری امانت ہے جس کی حفاظت تجھ پر واجب ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ عالم غیب سے مچھلی کو آواز آئی اے مچھلی ہم نے یونس (علیہ السلام) کو تیرے لئے رزق نہیں بنایا بلکہ تجھ کو اس کے لئے مکان حفاظت اور مسجد بنایا تفسیر قرطبی ص 127 ج 15۔
چناچہ یونس (علیہ السلام) کو مچھلی کے پیٹ میں پہنچنے کے کچھ بعد جب افاقہ ہوا اور سمجھے کہ میں زندہ ہوں تو کھڑے ہو کر نماز بھی پڑھنے لگے تفسیر ابن کثیر ص 21 ج 4 علامہ آلوسی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے دریا میں بڑی بڑی مچھلیاں مشاہدہ کی ہیں جس میں آدمی سہولت سے کھڑا ہوسکتا ہے (روح المعانی )
پس اگر یونس (علیہ السلام) خدا کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں زندہ ٹھہرے رہتے اور وہاں سے نکلنا نصیب نہ ہوتا لیکن تسبیح کی برکت سے ان کو جلدی رہائی حاصل ہوئی شکم ماہی میں ان کی تسبیح یہ تھی لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین مگر تسبیح کی برکت سے جلدی رہائی پائی اور یہی تسبیح شکم ماہی میں ان کی غذا تھی جیسا کہ فتنہ دجال کے وقت جب قحط پڑے گا تو اس وقت مومن کی غذا تسبیح وذکر الٰہی ہوگی بجائے رزق کے تسبیح اور ذکر الٰہی ان کو غذا کا کام دے گی اور پیٹ میں زندہ رہنا کوئی امر محال نہیں آخر بہت سے آدمیوں اور جانوروں کے بچے پیٹ میں زندہ رہتے ہیں تو ایک آدمی کا ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہنا کیا مشکل ہے۔
تو قبل از حکم خداوندی ہجرت کرنے پر تنبیہ تھی اب آگے اپنے الطاف و عنایات کا ذکر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہم نے یونس (علیہ السلام) کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور کس طرح گرمی اور سردی سے ان کی حفاظت کا انتظام کیا پس (ف 1) تین دن کے بعد یا سات دن کے بعد یا چالیس دن کے ہم نے ان کو ایک چٹیل میدان میں ڈال دیا اللہ کی طرف سے مچھلی کو حکم آیا کہ یونس (علیہ السلام) کو اپنے پیٹ سے نکال کر ایک ریگستان اور چٹیل میدان میں ڈال دے پس مچھلی نے ان کو بحکم خداوندی ایک بیابان اور ریگستان میں ڈال دیا اور درآنحالیکہ وہ بیمار اور مضمحل تھے اور لاغر اور کمزور تھے جیسے چوزہ بےبال وپر ہوتا ہے کافی غذا اور ہوا نہ پہنچنے کی وجہ سے اس قدر لاغر اور کمزور کہ دھوپ اور شعاع کی بھی برداشت نہ رہی تھی اور بدن پر مکھی کا بیٹھنا بھی ناگوار تھا اور اسی لئے ہم نے ان کے سر پر ایک بیلدار یعنی کدو کا درخت اگا دیا یکایک خدا کی قدرت سے وہاں کدو کی بیل اگ آئی جس نے ان کے جم پر سایہ بھی کردیا اور مکھیوں کی تکلیف سے بھی محفوظ ہوگئے کدو کے پتوں کی خاصیت یہ ہے کہ اس کے گرد مکھی نہیں آتی تفسیر قرطبی ص 129 ج 15۔ پس یہ کدو کی بیل اور اس کے پتے ان کے لئے بمنزلہ خیمہ کے ہوگئے اور ان کی غذا کا یہ سامان کیا کہ ایک پہاڑی بکری کو یہ حکم ہوا کہ صبح وشام یونس (علیہ السلام) کے پاس چلی جایا کرتا کہ وہ تیرا دودھ پی لیا کریں چناچہ وہ بکری صبح وشام ان کے پاس آتی اور وہ اس کا دودھ پیا کرتے تفسیر ابن کثیر ص 21 ج 4۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور جب اس طرح سے یونس کا گوشت پوست درست ہوگیا تو ہم نے ان کو ایک لاکھ آدمیوں کی طرف یا زیادہ کی طرف دعوت وتبلیغ کے لئے بھیجا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف عاقل بالغ لوگوں کو شمار کیا جائے تو ایک لاکھ تھے اور اگر چھوٹوں بڑوں سب کو شامل کرلیا جائے تو ایک لاکھ سے زیادہ تھے اور یہ ایک لاکھ وہی لوگ تھے جو ان کی قوم تھی جن سے نکل کر آپ (علیہ السلام) دریا کی طرف بھاگے تھے اور نکلنے سے پہلے آپ جن کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور آپ اپنی سابق رسالت پر مستمر تھے اور یہ ارسال جو اس آیت میں مذکور ہے وہ سابق قوم کی طرف ہے کسی دوسری قوم کی طرف ارسال مراد نہیں خوب سمجھ لو عنقریب اس کی تفصیل آنے والی ہے۔
نکتہ : یونس (علیہ السلام) جب مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو بمنزلہ جنین کے ہوگئے اور پھر چند روز بعد مچھلی کے پیٹ سے نکلنا بمنزلہ ولادت ثانیہ کے ہوگیا اور اس طرح مچھلی کے پیٹ میں رہنے سے اس سہو ونسیان اور لغزش کے اثر کا نام ونشان نہ رہا جو بغیر اذن خداوندی قوم کو چھوڑ کر چلے جانے سے ہوا تھا کیونکہ بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو وہ گناہوں کی آلائشوں سے پاک وصاف ہوتا ہے پس حضرت یونس (علیہ السلام) جب اپنی قوم کی طرف واپس پہنچے تو یہ سب لوگ اور قوم کثیر ان پر ایمان لے آئے اجمالی طور پر تو پہلی ہی ایمان لا چکے تھے اب اس واپسی کے بعد یونس (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایمان کی تجدید کی اور تفصیلا ایمان لائے پس ایک مدت تک ہم نے ان کو زندگی سے بہرہ مند کیا جب تک وہ زندہ رہے ان پر کوئی عذا نہیں آیا۔
یونس (علیہ السلام) جب اپنی قوم کے لوگوں سے ناراض ہو کر اپنی بستی نینوا سے نکل گئے تو جب اہل نینویٰ کو یہ معلوم ہوا کہ یونس (علیہ السلام) ان کی بستی کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو ان کو یقین ہوگیا کہ یونس (علیہ السلام) پیغمبر برحق تھے اور اب ہماری ہلاکت یقینی ہے سوائے ایمان کے اب عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں اہل بستی نے جب آثار عذاب کے دیکھے کہ آسمان پر ایک نہایت ہولناک اور سیاہ بادل نمودار ہوا ہے تو سب بچوں اور عورتوں کو بلکہ مویشی اور جانوروں کو بھی ساتھ لے کر جنگل کو نکل گئے اور سچے دل سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ ہم یونس (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور تفرع وبکا سے آوازیں بلند ہوئیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمایا اور جو آثار عذاب کے نمودار ہوئے تھے وہ سب اٹھا لئے ادھر یونس (علیہ السلام) جب مچھلی کے پیٹ سے نکل آنے کے بعد تندرست ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر اس بستی کی طرف واپسی کا حکم ہوا کہ وہ بستی والے ایمان لے آئے ہیں اور اب ان کا حال درست ہوگیا ہے پس یونس (علیہ السلام) اسی پہلی بستی کی طرف واپس ہوئے جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی وارسلناہ الی ماءۃ الف او یزیدون میں ارسال سے کسی دوسری قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجنا مراد نہیں جیسا کہ بعض مفسرین کو یہ وہم ہوگیا ہے بلکہ اس ارسال سے پہلی ہی بستی اور پہلی ہی امت کی طرف دوبارہ واپسی مراد ہے اور فامنوا سے تفصیلی ایمان مراد ہے کیونکہ یونس (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد ان کی گریہ وزاری اور اجمالی ایمان کی وجہ سے ان سے عذاب ٹل گیا تھا اب یونس (علیہ السلام) دوبارہ ان میں تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے دوبارہ ایمان کی تجدید کی اور تفصیلا ایمان لے ( تفصیل کے لئے دیکھو روح المعانی ص 123 ج 23) مچھلی کے پیٹ سے نکلنے کے بعد اسی قوم کی طرف جانے کا حکم ہوا جن کی طرف پہلے مرتبہ بھیجے گئے تھے اور ان سے ناراض ہو کر ان کے درمیان سے نکل گئے تھے تاکہ اسی قوم کو جو آپ کی غیبوبت میں اجمالی طور پر ایمان لا چکی ہے واپسی کے بعد اس کو ایمان اور شریعت سمجھائیں اس ارسال سے کسی جدید قوم کی طرف جدید بعث مراد نہیں۔