37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:149–166

فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ Open ayah 37:149 in the Quran reader

ان سے پوچھو تو کہ بھلا تمہارے پروردگار کے لئے تو بیٹیاں اور ان کے لئے بیٹے ؟

اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ Open ayah 37:150 in the Quran reader

یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا اور وہ (اس وقت) موجود تھے

اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:151 in the Quran reader

دیکھو یہ اپنی جھوٹ بنائی ہوئی (بات) کہتے ہیں

وَلَدَ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 37:152 in the Quran reader

کہ خدا کے اولاد ہے کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِیْنَؕ Open ayah 37:153 in the Quran reader

کیا اس نے بیٹوں کے نسبت بیٹیوں کو پسند کیا ہے ؟

مَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 37:154 in the Quran reader

تم کیسے لوگ ہو کس طرح کہ فیصلہ کرتے ہو ؟

اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَۚ Open ayah 37:155 in the Quran reader

بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

اَمْ لَكُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 37:156 in the Quran reader

یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے ؟

فَاْتُوْا بِكِتٰبِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 37:157 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو اپنی کتاب پیش کرو

وَ جَعَلُوْا بَیْنَهٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ اِنَّهُمْ لَمُحْضَرُوْنَۙ Open ayah 37:158 in the Quran reader

اور انہوں نے خدا میں اور جنوں میں رشتہ مقرر کیا حالانکہ جنات جانتے ہیں کہ وہ (خدا کے سامنے) حاضر کئے جائیں گے

سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 37:159 in the Quran reader

اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:160 in the Quran reader

مگر خدا کے بندگان خالص (مبتلائے عذاب نہیں ہوں گے)

فَاِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 37:161 in the Quran reader

تو تم اور جن کو تم پوجتے ہو

مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ بِفٰتِنِیْنَۙ Open ayah 37:162 in the Quran reader

خدا کے خلاف بہکا نہیں سکتے

اِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:163 in the Quran reader

مگر اس کو جو جہنم میں جانے والا ہے

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَهٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:164 in the Quran reader

اور (فرشتے) کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ Open ayah 37:165 in the Quran reader

اور ہم صف باندھے رہتے ہیں

وَ اِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ Open ayah 37:166 in the Quran reader

اور (خدائے پاک ذات) کا ذکر کرتے رہتے ہیں

مشرکین کی بعض جہالتوں اور حماقتوں کی تردید اور اس پر تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون۔۔۔ الی۔۔۔ وابصر فسوف یبصرون۔ (ربط) شروع سورت میں دلائل توحید کا ذکر تھا بعد ازاں انبیا کرام (علیہم السلام) کے واقعات ذکر کئے جو اللہ کے عباد مخلصین تھے اور توحید کے داعی تھے اب پھر اصل مقصود کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بطور تفریح شرک اور کفر کا ابطال فرماتے ہیں اور مشرکین کے بعض عقائد باطلہ اور مہملہ کی اور ان کی بعض جہالتوں اور ضلالتوں کی تشریح اور تفصیل فرما کر ان کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ فقط شرک کی گمراہی میں مبتلا نہیں بلکہ اس کے علاوہ قسم قسم کی جہالتوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کے تجسیم کے قائل ہیں اور اس کی صاحب اولاد مانتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ولادت ان اجسام کا خاصہ ہے جن میں کون و فساد جاری ہوتا ہے اس لئے کہ توالدو تناسل بقا نوع کے لئے ہوتا ہے کہ افراد اگرچہ فنا ہوجائیں مگر نوع باقی رہے اور اس تشریح سے مقصود ان کی تفضیح اور تقبیح ہے تاکہ علانیہ طور پر مشرکین کی جہالتیں اور حماقتیں ظاہر اور عیاں ہوجائیں مشرکین عرب کے چند قبائل کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں جنوں کو خدا تعالیٰ کا سسرالی رشتہ دار سمجھتے تھے ان آیات میں مشرکین کی ان دو باتوں کی قباحت اور حماقت ظاہر فرمائی کہ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جو ان کو ناپسند ہے اور بری لگتی ہے گویا کہ اپنے نفس کو خدا پر ترجیح دیتے ہیں کہ خدا کے لئے خسیس اور کمتر چیز تجویز کرتے ہیں اور اپنے لئے عمدہ اور بہتر نیز اپنی حماقت سے فرشتوں کو دختران خدا بتلاتے ہیں اور خدا کے لئے اولاد ٹھہراتے ہیں اور بلا دلیل خدا کی اولاد کو مونث ٹھہراتے ہیں اور فرشتوں کی بھی توہین کرتے ہیں اور مشرکین کا فرشتوں کی بابت یہ کہنا کہ یہ عورتیں ہیں یہ بات تو مشاہدہ ہی سے معلوم ہوسکتی ہے ایسی بات محض عقل سے معلوم نہیں ہوسکتی ایسی بات کے اثبات کے لئے مشاہدہ چاہئے اور ظاہر ہے کہ وہ بالبداہت مفقود ہے اس لئے کہ یہ لوگ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود اور حاضر نہ تھے تو پھر ان کو کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے عورتیں ہیں ان کی یہ بات بالکل جھوٹ اور من گھڑت ہے جس پر کسی قسم کی کوئی دلیل نہیں۔ پھر اخیر میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی برات بیان فرمائی کہ فرشتے اس کذب وافترا سے بالکل بری ہیں جو مشرکین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں کما قال تعالیٰ حا کیا عنہم وما منا الا لہ مقام معلوم وانا لنحن الصافون وان لنحن المسبحون۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے حال کی حکایت فرمائی اور ان کی عبادت اور بندگی کی خبر دی کہ وہ دن رات صف بستہ ہو کر تسبیح و تمحید کرتے ہیں اور اللہ کی تنزیہ و تقدیس کرتے ہیں اور اپنی عبدیت کا اقرار کرتے ہیں تو پھر فرشتے خدا اور معبود کیسے ہوسکتے ہیں فرشتے خود اپنی عبدیت کے مقر اور معترف ہیں اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندے تھے معاذ اللہ خدا تعالیٰ کے بیٹے نہ تھے فرشتوں کی طرح خدا کے رسول بھی دن رات اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں پھر مکذبین رسالت کی تہدید کے لئے یہ خبر دی کہ انبیا مرسلین کا انجام ہمیشہ نیک ہوتا ہے ان سے اللہ کا وعدہ فتح ونصرت کا ہوتا ہے کفار مکہ کو چاہئے کہ جلدی نہ کریں وہ اپنی مخالفت اور تکذیب کا انجام عنقریب دیکھ لیں گے وابصرہم فسوف یبصرون حالات چاہے کتنا ہی پلٹا کھاتے رہیں بالآخر غلبہ حق کا ہوگا یہ کفار ہمارے نبی کی مخالفت کر کے کچھ نہیں کرسکتے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے کہ غلبہ ہمارے رسول ہی کا ہوگا پھر مشرکین کے اقوال کی تردید کے بعد سورت کو انبیا کرام (علیہم السلام) کے سلام اور اپنی تنزیہ و تقدیس پر ختم کیا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین حق تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین ولحمد للہ رب العلمین۔ شروع سورت میں فاستفتہم اھم اشد خلقا میں منکرین حشر سے سوال توبیخ کا ذکر تھا اب اخیر سورت فاستفتہم الربک البنات ولہم البنون میں منکرین توحید سے سوال تبکیت کا ذکر ہے چناچہ فرماتے ہیں پس اے نبی آپ ﷺ ان مشرکین سے جو قسم قسم کے باطل عقائد اور مہمل خیالات میں مبتلا ہیں بطور تقریع وتوبیخ خود ان سے فتویٰ پوچھئے تاکہ خود ان کی زبان سے شرک کی قباحت اور ان کی جہالت اور حماقت ظاہر ہو کہ خدا تعالیٰ کے بارے میں کیا بہتان باندھتے ہیں کیا ان کے نزدیک تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے ہیں یعنی یہ لوگ اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیاں ناپسند کرتے ہیں حتی کہ ان کو زندہ درگور کردیتے ہیں تو پھر خدا کے لئے کیوں بیٹیاں پسند کرتے ہیں قال الکم الذکر ولہ الانثی تلک اذا قسمۃ ضیزی افاصفاکم ربکم بالبنین واتخذ من الملائکۃ اناثا انکم لتقولون قولا عظیما ایک قباحت تو یہ ہوئی دوسری قباحت سنو کہ اگر ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے تو کیا یہ لوگ ان کی پیدا ئش کے وقت حاضر تھے اور کھڑے دیکھ رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے تو پھر کیسے جانا کہ فرشتے عورتیں ہیں یہ بات تو مشاہدہ ہی سے معلوم ہوسکتی ہے محض عقل سے اس کا ادراک نہیں ہوسکتا پس بلا مشاہدہ اور بلا دلیل تم نے فرشتوں کو کیسے مونث قرار دیا۔ (تیسری قباحت) یہ ہے آگاہ ہوجاؤ تحقیق یہ لوگ اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر ایسا کہہ رہے ہیں کہ نعوذ باللہ خدا کے اولاد ہوئی اور معاذ اللہ اللہ نے اولاد جنی اور تحقیق وہ بلاشبہ جھوٹے ہیں یہ تیسری قباحت ہوئی کہ خدا تعالیٰ کو صاحب اولاد قرار دیا جو خاصہ ان اجسام کا ہے کہ جن میں کون و فساد اور تغیر وتبدل جاری رہتا ہے اور اولاد باپ کے ہم جنس اور اس کے مثل ہوتی ہے اور خدا مثل سے پاک ہے لیس کمثلہ شیء کیا خدا تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں اپنے لئے بیٹیوں کو پسند کیا ہے تمہیں کیا ہوا کہ کیسا مہمل حکم لگاتے ہو کیا تم ذرہ بھی خیال نہیں کرتے کہ کیسی بےہودہ بات کہہ رہے ہو کیا تمہارے پاس اس بارے میں کوئی واضح دلیل ہے اس بارے میں تمہارے پاس نہ کوئی دلیل عقلی ہے اور نہ دلیل حسی ہے۔ (چوتھی قباحت یہ ہے) پس اگر اس بات پر تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہو تو اپنے پاس سے کوئی آسمانی کتاب لا کر دکھاؤ جس میں فرشتوں کا بیٹیاں ہونا لکھا ہوا ہو اگر تم سچے ہو غرض یہ کہ تمہارے پاس نہ تو عقلی دلیل ہے جس سے ثابت ہو سکے کہ عقلا فرشتوں کا مونث ہونا لازم ذات اور لازم ماہیت ہے اور نہ تمہارے پاس یہ کہ اپنے مشاہدہ سے فرشتوں کا مونث ہونا ثابت کرسکو اور نہ کوئی نقلی دلیل ہے کہ کسی آسمانی کتاب سے اس کی سند پیش کرسکو جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو عورت بنایا ہے اور فرشتے اللہ بیٹیاں ہیں۔ (پانچویں قباحت) مشرکین نے جب یہ بکنا شروع کیا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں تو حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کہ ارے کمبختو ! بتلاؤ کہ ان کی مائیں کون ہیں تو بولے کہ سرداران جن کی بیٹیاں ان کی مائیں ہیں تفسیر قرطبی ص 134 ج 15 و تفسیر ابن کثیر ص 23 ج 4 بعض قبائل عرب کا یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سرداران جن کی عورتوں کو اپنی جورو بنایا اور ان سے یہ فرشتے پیدا ہوئے جیسا کہ ہنود کے بھی دیوی اور دیوتاؤں کے متعلق ایسے ہی خیالات فاسدہ ہیں۔ پس مشرکین نے کیسی بےحیائی اور ڈھٹائی سے جنوں کا خدائے پاک سے رشتہ ملا یا حالانکہ سب اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں اس لئے فرماتے ہیں کہ بعض مشرکوں نے حد ہی کردی کہ خدا تعالیٰ کے درمیان اور جنوں کے درمیان نسبی رشتہ اور ناتہ ٹھہرایا ہے حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کا کوئی رشتہ اور ناتہ نہیں سب اللہ کے بندے ہیں قیامت کے دن حساب و کتاب کے لئے ضرور حاضر کئے جائیں گے یہ پانچویں قباحت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ سے جنوں کا رشتہ مصاہرت ثابت کیا اور مصاہرت فرع زوجیت کی ہے اور اللہ ان سب باتوں سے پاک اور منزہ ہے اللہ تعالیٰ کا کسی سے سسرالی رشتہ نہیں لعنت ہو اللہ کی ان گستاخوں پر جو جنوں سے اللہ کی مصاہرت کے قائل ہوئے فرشتوں کو خدا کی اولاد قرار دیا اور جنوں کو خدا تعالیٰ کی سسرال قرار دیا۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دشمنان خدا (یعنی مجوس) یہ کہتے ہیں کہ یزدان اور اہر من یعنی اللہ تعالیٰ اور ابلیس دونوں بھائی بھائی ہیں تعالیٰ اللہ عن ذلک علوا تفیسر ابن کثیر ص 23 ج 4 معاز اللہ ان نادانوں نے خدا تعالیٰ اور شیطان کو بھائی بھائی قرار دیا بعض قبائل عرب اس بات کے معتقد تھے کہ شیطان خدا تعالیٰ کا بھائی ہے اس لئے کہ خدا تو نور اور خیر محض ہے جس کو یزدان کہتے ہیں اور شیطان ظلمت اور شر محض ہے جس کو اہرمن کہتے ہیں اور مجوس کا بھی یہی مذہب ہے اس اعتبار سے خدا تعالیٰ اور شیطان کے درمیان جواز قسم جن ہے رشتہ اور قرابت ثابت کرتے ہیں حق تعالیٰ نے اس آیت میں اس عقیدہ فاسدہ کا رد فرمایا کہ یہ لوگ کیسے عقل کے دشمن ہیں کہ اس قسم کی بےہودہ باتیں کرتے ہیں اور جنوں سے خدا تعالیٰ کا دامادی اور سسرالی رشتہ ثابت کرتے ہیں لا حول ولا قوۃ الا باللہ اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں مگر اللہ کے مخلص بندے کہ وہ ایسی باتیں نہیں بناتے اب آگے کفار کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے ہیں سو اے مشرکو ! تم اور جن کو تم پوجتے ہو سب مل کر بھی کسی کو خدا کی عبادت سے برگشتہ اور گمراہ نہیں کرسکتے مگر جس کے لئے علم الٰہی میں مقدر ہوچکا ہے کہ وہ دوزخ میں جانے والا ہے ہدایت اور ضلالت تمہارے اختیار میں نہیں۔ اب آگے فرشتوں کی بندگی کا حال خود ان کی زبان سے نقل کرتے ہیں تاکہ ان کا بندہ محض ہونا ثابت ہوجائے اور مشرکین کے خیال کا رد ہوجائے چناچہ فرماتے ہیں کہ اور یہ فرشتے خود یہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے ہم میں سے کوئی مگر اس کے لئے ایک جگہ اور ایک حد مقرر ہے کہ ہم نہ اس سے آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں جس کام کی بجا آوری کے لئے ہم کو مقرر کردیا ہے اس میں ہم اپنی رائے سے ذرہ برابر تغیر وتبدل نہیں کرسکتے اور دوم یہ کہ ہم ہی ہیں بارگاہ خداوندی میں صف بستہ کھڑے رہنے والے کوئی اللہ کی بندگی کے لئے کھڑا ہے اور کوئی اس کے حکم کے انتظار میں کھڑا ہے تو جب ہمارا یہ حال ہے تو ہم کیسے خدا کی بیٹیاں اور اس کا جز ہوسکتے ہیں اور بغیر حکم الٰہی کے از خود کسی کو کیا نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں اور سوم یہ کہ تحقیق ہم ہی ہر وقت اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں۔ پس جو لوگ ہماری الوہیت اور معبودیت اور خدا سے ہماری جزئیت کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ کھلے گمراہ ہیں۔
Ayahs 37:167–179

وَ اِنْ كَانُوْا لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 37:167 in the Quran reader

اور یہ لوگ کہا کرتے تھے

لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:168 in the Quran reader

کہ اگر ہمارے پاس اگلوں کی کوئی نصیحت (کی کتاب) ہوتی

لَكُنَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 37:169 in the Quran reader

تو ہم خدا کے خالص بندے ہوتے

فَكَفَرُوْا بِهٖ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 37:170 in the Quran reader

لیکن (اب) اس سے کفر کرتے ہیں سو عنقریب ان کو (اسکا نتیجہ) معلوم ہوجائے گا

وَ لَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 37:171 in the Quran reader

اور اپنے پیغام پہنچانے والے بندوں سے ہمارا وعدہ ہوچکا ہے

اِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۪ Open ayah 37:172 in the Quran reader

کہ وہی (مظفر و) منصور ہیں

وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 37:173 in the Quran reader

اور ہمارا لشکر غالب رہے گا

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:174 in the Quran reader

تو ایک وقت تک ان سے اعراض کئے رہو

وَّ اَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:175 in the Quran reader

اور انہیں دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (کفر کا انجام) دیکھ لیں گے

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 37:176 in the Quran reader

کیا یہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں ؟

فَاِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 37:177 in the Quran reader

مگر جب وہ ان کے میدان میں آ اترے گا تو جن کو ڈر سنا دیا گیا تھا ان کے لئے برا دن ہوگا

وَ تَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِیْنٍۙ Open ayah 37:178 in the Quran reader

اور ایک وقت تک ان سے منہ پھیرے رہو

وَّ اَبْصِرْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ Open ayah 37:179 in the Quran reader

اور دیکھتے رہو یہ بھی عنقریب (نتیجہ) دیکھ لیں گے

مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر قال اللہ تعالیٰ وان کانوا لیقولون لو ان عندنا ذکرا من الاولین لکنا عباد اللہ المخلصین فکفروا بہ فسوف یعلمون۔ یہاں تک مشرکین کے خیالات باطلہ کا رد فرمایا اب آگے مشرکین عرب کی ایک بدعہدی کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہود ونصاریٰ کی سرکشی اور ہلاکت کا حال سن کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلوں کی طرح ہمارے پاس بھی توریت وانجیل جیسی کوئی کتاب ہوتی تو ہم بھی اللہ کے خالص فرمانبردار بندے ہوئے اور خوب اس پر عمل کرتے لیکن جب توریت وانجیل سے بڑھ کر ان کی ہدایت کے لئے قرآن نازل ہوا اور نبی کریم ان کی طرف مبعوث ہوئے تو منکر ہوگئے اور آنحضرت ﷺ کی تکذیب اور مخالفت پر تل گئے بڑی شرم کی بات ہے کہ اپنے قول وقرار اور اپنی تمنا سے یکلخت برگشتہ ہوگئے کما قال تعالیٰ واقسموا باللہ جھد ایمانہم لئن جاء ہم نذیر لیکونن اھدی من احدی الامم فلما جاء ہم نذیر ما زادہم الا نفورا۔ وقال تعالیٰ ان تقولوا انما انزل الکتاب علی طائفتین من قبلنا وان کنا عن دراستہم لغافلین۔ مطلب یہ ہے کہ جس چیز کی یہ لوگ پہلے سے تمنا کیا کرتے تھے جب وہ ان کے سامنے آئی تو اس سے متنفر اور بیزار ہوگئے ان آیات میں وعدہ سے انحراف پر وعید اکید اور تہدید شدید ہے چناچہ فرماتے ہیں اور تحقیق یہ کفار مکہ آپ ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر پہلے لوگوں کی طرح ہمارے پاس بھی کوئی کتاب ہوئی جس سے ہم پندونصیحت حاصل کرتے جیسے یہود ونصاریٰ کے پاس اللہ کی کتابیں آئیں تو ہم اللہ کے خالص بندے ہوتے۔ پس جب ہم نے ان کی ہدایت کے لئے یہ قرآن بھیجا جو تمام آسمانی کتابوں سے بڑھ کر ہے تو اس سے منکر ہوگئے اور اپنے گذشتہ قول وقرار سے یکلخت منحرف ہوگئے پس قریب ہی میں اپنے کفر کے انجام کو جان لیں گے کہ اپنی مخالفت میں ناکام ہوں گے اور وقتی طور پر جو ان کو قوت اور شوکت حاصل ہے وہ عنقریب ختم ہوجائیں گی اور اللہ نے اپنے نبی سے جو اپنے دین کے غلبہ کا وعدہ کیا ہے ضرور اللہ اس کو پورا کرے گا۔ چناچہ فرماتے ہیں اور البتہ تحقیق پہلے ہی سے ہمارے برگزیدہ بندوں اور پیغمبروں کے لئے ہمارا یہ حکم جاری ہوچکا ہے کہ بلا شبہ بالآخر وہی مظفر ومنصور ہوں گے اور خدا جس کی مدد کرے اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا کما قال تعالیٰ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی وقال تعالیٰ ان لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیاۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد اور تحقیق ہمارا لشکر ہی دشمنوں پر غالب رہے گا خدا کے لشکر سے انبیاء ومرسلین کے متبعین اور اہل حق مراد ہیں کہ بلا اسباب ظاہری کے ان کو کافروں پر غلبہ حاصل ہوگا پس اے نبی کریم آپ ان سے ایک وقت معین تک منہ پھیر لیجئے اور ان کو دیکھتے رہیے جو کہتے اور کرتے ہیں وہ کرنے دیجئے پس یہ لوگ بھی عنقریب دیکھ لیں گے کہ کس طرح اسلام کو کفر پر غلبہ حاصل ہوتا ہے اور یہ لوگ اپنی ذلت و خواری کو بھی دیکھ لیں گے پس کیا یہ لوگ بطور تمسخر ہمارے عذاب کو جلد ہی مانگتے ہیں اور اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور بےباکی اور دلیری سے کہتے ہیں کہ وہ عذاب کب آئے گا پس خوب سمجھ لیں کہ جب وہ عذاب ان کے مکانوں کے صحنوں میں آکر اترے گا تو ان لوگوں کی صبح بہت بری ہوگی جن کو اس عذاب سے ڈرایا جاتا تھا اور وہ اس کی پرواہ نہ کرتے تھے اور اے نبی آپ ان سے ایک خاص وقت تک اعراض کرتے رہئے اور دیکھتے رہئے کہ کس طرح اللہ کی مدد آتی ہے پس یہ لوگ بھی اپنا نتیجہ اور انجام دیکھ لیں گے ان آیات میں اسلامی فتوحات بدر وغیرہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ آیت فتح اسلام کی پیشین گوئی ہے اور کفار کی تہدید ہے کہ یہ دشمنان اسلام عنقریب اپنی خواری کو دیکھ لیں گے حضرت شاہ ولی اللہ قدس اللہ سرہ ازالۃ الخفا میں آیت ہذا یعنی ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین انہم لہم المنصورون وان جندنا لہم الغالبون کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی روز اول میں ہمارا وعدہ اپنے برگزیدہ بندوں انبیا ومرسلین سے متحقق ہوچکا ہے کہ تحقیق دشمن کے مقابلہ میں وہ ضرور مظفر ومنصور ہوں گے اور بلا شبہ ہمارا ہی لشکر غالب آنے والا ہے اس آیت میں مرسلین سے وہ رسل مراد ہیں جو کفار سے جہاد و قتال کے لئے مبعوث اور مامور ہوئے اور لشکر سے ان کے اصحاب اور تابعین مراد ہیں جن کے دل میں داعیہ نصرت رسل اور اعلاء کلمۃ اللہ ڈالا گیا خواہ مرسلین کی موجودگی میں ہو اور خواہ ان کے وصال کے بعد جیسے صحابہ کرام کہ وہ اللہ کا لشکر تھے اور حق تعالیٰ نے جو وعدہ نبی کریم ﷺ سے اور آپ ﷺ کے متبعین سے مظفر ومنصور ہوجانے کا فرمایا تھا وہ دنیا نے بچشم خود یکھ لیا کہ آنحضرت ﷺ کے اصحاب میں سے ایک خاص گروہ کے دل میں داعیہ اعلا کلمۃ اللہ ڈالا گیا اور وہ مظفر ومنصور بھی ہوئے تو بالبداہت معلوم ہوگیا کہ صحابہ کرام جند اللہ کا مصداق تھے جو اس وعدے سے مشرف اور ممتاز ہوئے اور آپ کے وصال کے بعد خلفا راشدین کے ہاتھ پر جو فتوحات ظاہر ہوئیں وہ اسی سابقہ وعدہ نصرت و غلبہ کی تکمیل تھی (ازالۃ الخفا )
Ayahs 37:180–182

سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ Open ayah 37:180 in the Quran reader

یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں تمہارا پروردگار جو صاحب عزت ہے اس سے (پاک ہے )

وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ Open ayah 37:181 in the Quran reader

اور پیغمبروں پر سلام

وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 37:182 in the Quran reader

اور سب طرح کی تعریف خدائے رب العالمین کو (سزا وار) ہے

خاتمہ سورت بر تنزیہ وتحمید رب العالمین وتنویہ شان حضرات مرسلین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔ اب ان مضامین کے بعد اس سورت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی تنزیہ وتحمید پر اور مرسلین کے سلام پر ختم فرماتے ہیں جو مضمون توحید اور مضمون رسالت کا خلاصلہ اور لب لباب ہے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی تیرا پروردگار جو خداوند عزت و غلبہ ہے وہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو مشرکین اس کی بابت کرتے ہیں پس خدا تعالیٰ کو ان تمام قبیح باتوں سے منزہ جانو جو مشرکین اس کی شان میں کہتے ہیں وہ عزیز غالب ہے وہ جب چاہے ان جلد بازوں کو پکڑ سکتا ہے جو عذاب میں جلدی مچا رہے ہیں اور وہ منزہ ہے اس سے کہ وہ اپنے وعدہ نصرت کو پورا نہ کرے۔ اور سلام ہے اللہ کا دنیا اور آخرت میں اس کے رسولوں پر کہ سلامتی ان کے اتباع میں ہے جن کے ذریعہ خدا تک پہنچنے کا راستہ معلوم ہوا پس ان کے اتباع کو فرض اور لازم جانو کیونکہ انبیا کرام تمہارے اور خدا تعالیٰ کے درمیان واسطہ ہیں بغیر ان کا دامن پکڑے خدا تک پہنچنا ناممکن ہے اور سب طرح کی تعریف ہے اللہ کے لئے جو رب ہے سارے جہانوں کا یعنی قابل ستائش اور بندگی صرف وہی ذات ہے جو سارے جہانوں کا مربی ہے بندوں کو چاہئے کہ ہر نعمت کو اسی کی طرف سے جانیں اور اس کا شکر کریں خاص کر اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے بندوں کی ہدایت کے لئے پیغمبروں کو بھیجا تاکہ اللہ کے احکام ان تک پہنچائیں اور حمد ہے اس خدا کی جس نے اپنے دوستوں کی مدد کی اور کافروں کو ہلاک اور برباد کیا سبحان اللہ کیا خاتمہ ہے کہ تین کلموں میں اجمالی طور پر تمام اصول دین کی طرف اشارہ فرما دیا پہلے کلمہ میں مشرکین اور کفار کے خیالات سے اللہ کی تنزیہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پاک اور منزہ ہے جو شان الوہیت کے مناسب نہیں اور تحمید سے توحید کی طرف اشارہ فرمایا اور بتلایا کہ اللہ تعالیٰ تمام صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے جو اس کی شان کے لائق ہیں پہلے جملہ میں صفات سلبیہ کو بیان کیا اور الحمد للہ رب العلمین میں صفات ثبوتیہ کو بیان کیا اور سلام علی المرسلین سے پیغمبروں کی عظمت شان کو بیان کیا تاکہ ان پر ایمان لائیں اور ان کے اتباع کو ہدایت اور سعادت کا ذریعہ جانیں اور ان کے اتباع کی برکت سے آخرت کے عذاب سے نجات پاویں۔ غرض یہ کہ ان تین آخری کلمات میں تمام اصول دین کی طرف اشارہ ہوگیا امام ابن ابی حاتم (رح) نے اپنی سند سے امام شعبی (رح) تابعی کبیر سے مرسلا روایت کیا ہے کہ جس شخص کو یہ بات پسند ہو اور اچھی معلوم ہوتی ہو کہ قیامت کے دن بھر پور پیمانہ سے ناپ کر اس کو ثواب دیا جائے اس کو چاہئے کہ اپنی ہر مجلس (ف 1) اخیر میں یہ کہہ لیا کرے سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔ الحمد للہ آج بتاریخ 27 صفر الخیر 1394 یوم پنجشنبہ بعد نماز فجر مسودہ والصافات کی تفسیر سے فراغت ہوئی۔ فالحمد للہ اولا واخرا۔ یا ارحم الرحمین یا ذا الجلال والاکرام اس کی قبول فرما اور اپنی رحمت اور توفیق سے باقی تفسیر کی اس ضعیف وناتواں کے ہاتھ سے تکمیل فرما آمین یا رب العالمین رب اشرح لی صدری ویسرلی امری ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم و صلی اللہ علی خیر خلقہ سیدنا وسید المرسلین محمد وعلی الہ الطیبین و اصحابہ الطاھرین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا واجرنا من کزی الدنیا و عذاب الاخرۃ والحمد للہ اولا واخرا وظاھرا و باطنا۔ اطلاع : یہاں تک معارف القرآن مصنفہ مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح) کی جلد ششم مکمل ہوئی باقی تفسیر بنام تکملہ معارف القرآن حضرت موصوف کے صاحبزادہ مولانا محمد مالک کاندھلوی (رح) نے لکھی ہے۔