37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 37:58–74

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا (یہ نہیں کہ) ہم (آئندہ کبھی) مرنے کے نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

ہاں ! (جو) پہلی بار مرنا (تھا سو مرچکے) اور ہمیں عذاب بھی نہیں ہونے کا

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہ بڑی کامیابی ہے

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی ہی (نعمتوں) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنے چاہئیں

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ مہمانی اچھی ہے یا تھوہر کا درخت ؟

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو ظالموں کے لئے عذاب بنا رکھا ہے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ جہنم کے اسفل میں اگے گا

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطانوں کے سر

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ اسی میں کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر اس (کھانے) کے ساتھ ان کو گرم پانی ملا کردیا جائے گا

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو دوزخ کی طرف لوٹایا جائے گا

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ ہی پایا

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ ان ہی کے پیچھے دوڑے چلے جاتے ہیں

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور ان سے پیشتر بہت سے پہلے لوگ بھی گمراہ ہوگئے تھے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے ان میں متنبہ کرنے والے بھیجے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

سو دیکھ لو کہ جن کو متنبہ کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا ؟

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

ہاں خدا کے بندگان خاص (کا انجام بہت اچھا ہوا)

افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن بمعذبین۔ گذشتہ آیت میں اس جنتی قاتل کے کلام کا ذکر تھا جس نے اپنے ایک دنیاوی قرین (ساتھی) کو جہنم میں جھانک کر دیکھا تھا اب اس آیت میں (یعنی افما نحن بمیتین) میں پھر اسی کے کلام کا ذکر ہے۔ امام رازی (رح) اور امام قرطبی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں دو قول نقل کئے ہیں دیکھو تفسیر کبیر (ف 1) ص 138 ج 7۔ 1 قال الامام الرازی قولہ تعالیٰ افما نحن بمیتین فیہ قولان الاول ان اھل الجنۃ لا یعلمون فی اول دخولہم فی الجنۃ انہم لا یموتون فاذا جییء بالموت علی صورۃ کبش املح وذبح فعند ذلک یعلمون انہم لا یموتون والثانی ان الذی یتکامل خیرہ وسعادتہ فاذا عظم تعجبہ بھا قد یقول ایدوم ھذا الی افیبقی ھذا الی وان کان علی یقین من دوامہ تفسیر کبیر ص 138 ج 7۔ پہلا قول : یہ ہے کہ یہ کلام اسی جنتی قائل کے قول کا تتمہ ہے کہ جو جہنم میں جھانکنے اور اپنے قرین کا حال بد دیکھنے کے بعد کہے گا اور مطلب یہ ہے کہ یہ جنتی قائل جب اپنے قرین کے دیکھنے اور اس سے بات کر کے فارغ ہوگا تو اس کی بدحالی کو دیکھ کر متنبہ ہوگا اور قلب خدا تعالیٰ کے تشکر سے لبریز ہوجائے گا کہ خدا نے مجھ کو کیا عیش و عشرت عطا کی اس وقت یہ جنتی بطور تحدیث نعمت اور بطور فرحت ولذت جوش مسرت میں اپنے یاران مجلس سے یا اپنے اس قرین سے کہے گا جس کو دوزخ میں جھانک کر دیکھا ہے اسے دیکھ کر بطور تو بیخ وعلامت اس سے یہ کہے گا کہ تو دنیا میں دوبارہ زندگی کا منکر تھا اور اس کو محال بتلاتا تھا اب دیکھ لے کہ کیا ہم اہل جنت ہمیشہ ہمیشہ (ف 1) اس بےمثال اور لازوال نعمت و کرامت میں نہ رہیں گے اور پھر ہم اس جنت میں رہنے والے کبھی مرنے والے نہیں یعنی ہم اب کبھی نہیں مریں گے بجز پہلی بار موت کے جو دنیا میں ایک بار ہم پر آچکی اور گذر چکی اور اب ہم زندہ ہیں اور اس دنیاوی موت کے بعد ہم دوبارہ زندہ کئے گئے جس کو تو محال بتلاتا تھا اور اس عیش و عشرت میں ہمیشہ زندہ رہیں گے الحمد للہ کہ اب ہم مرنے والے نہیں اور نہ کافروں کی طرح آئندہ کسی عذاب اور مصیبت میں گرفتار ہوں گے جیسا کہ تو اور تیرے ساتھی گرفتار عذاب ومصیبت ہیں تم لوگ مر کر جینے کا انکار کرتے تھے اب تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی حق ہے اور جزا وسزا حق ہے ہمارا حال تو تو نے دیکھ لیا اور تمہارا حال یہ ہے کہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ تم پر موت کی کیفیت اور حالت طاری ہے اور آئندہ عذاب کے لئے ہر لمحہ تم کو نئی زندگی مل رہی ہے الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو دوبارہ زندگی عطا کر کے جنت میں خلود اور دوام عطا کیا اور سوائے پہلی موت کے کہ جو ایک بار ہم پر دنیا میں واقع ہوچکی ہے اب ہم دوبارہ مرنے والے نہیں اور نہ ہم پر کوئی عذاب ہوگا اور بدون موت کے اور بدون عذاب کے ہم کو یہ دار کرامت عطا فرمایا اہل جنت بطور تحدیث نعمت اپنے خلود اور دوام کا ذکر کریں گے۔ دوسرا قول : اس آیت یعنی افما نحن بمیتین میں دوسرا (ف 2) قول یہ ہے جو ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ افما نحن بمیتین الا موتتنا الاولی اہل جنت کا کلام ہے جو فرشتوں سے ہوگا دخول جنت اور دخول جہنم کے بعد موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اہل جنت اور اہل جہنم جب اس منظر کو دیکھیں گے کہ موت ذبح ہوگئی تو اس وقت اہل جنت فرط مسرت سے فرشتوں سے کہیں گے افما نحن بمیتین کی اب ہم اس کے بعد ہم مرنے والے نہیں دنیا میں تو ہم کو ایک مرتبہ موت آچکی تو کیا پھر اس پہلی موت کے بعد ہم کو موت نہیں آئے گی اب تو موت کی موت آچکی ہے اور ہمارے سامنے موت ذبح کردی گئی ہے موت کے ذبح ہوجانے کے بعد اہل جنت فرشتوں سے یہ سوال کریں گے افما نحن بمیتین الخ تو فرشتے ان کو بشارت دیں گے کہ ہاں اب موت نہیں بلکہ خلود ہی خلود ہے بلا موت کے اور دوام ہی دوام ہے بلا فنا کے یہ بشارت سن کر اہل جنت مطمئن ہوجائیں گے کہ اس زندگانی کے بعد موت نہیں اور نہ آئندہ میں کسی عذاب کا خطرہ ہے ابتدا میں اہل جنت کو یہ علم نہ تھا کہ جنت میں کبھی موت نہیں آئے موت کے ذبح کے بعد اہل جنت کو اس کا علم ہوگا کہ اب موت نہیں فرشتوں کے اس اعلان کو سن کر اہل جنت کی خوشی تو زیادہ ہوجائے گی اور اہل دوزخ کا رنج وغم بڑھ جائے گا اور ناامید ہوجائیں گے کہ اب اس عذاب سے ہم کو کبھی رہائی نہ ہوگی تفصیل کے لئے تفسیر کبیر ص 138 ج 7 اور تفسیر قرطبی ص 84 ج 15 اور تفسیر روح المعانی ص 84 ج 23 دیکھیں۔ 1 اس عبارت میں اشارہ اس طرف ہے کہ افما نحن بمیتین الخ میں ہمزہ استفہام تقریری کے لئے ہے جو معنی تعجب اور مسرت کو متضمن ہے اور حرف فاعطف کے لئے ہے جیسا کہ جا بجا اس کے نظائر میں ہے اور اس جملہ کا عطف ایک جملہ مقدرہ پر ہے جس کی تقدیر یہ ہے انحن مخلدون منعمون فما نحن بمیتین ای بمن شانہ الموت وقریء بما ئتین تفسیر بیضاوی وحاشیہ شیخزادہ ص 155 ج 4 وحاشیہ صاوی علی تفسیر الجلالین ص 238 ج 3 و تفسیر قرطبی ص 84 ج 15۔ 2 قیل ھو من کلام ال مومنین للملائکۃ حین یذبح الموت ویقال یا اھل الجنۃ خلود بلا موت ویا اھل النار خلود بلا موت ( صاوی ص 238 ج 3) خلاصہ کلام یہ کہ موت کے ذبح کے بعد اہل جنت کا فرشتوں سے یہ سوال اور استفہام افما نحن بمیتین۔ محض دریافت کرنے کے لئے نہ ہوگا بلکہ اظہار مسرت کے علاوہ اس مشاہدہ کی مزید تاکید اکید کے لئے ہوگا کہ ہم نے جو سمجھا ہے وہ بالکل صحیح اور درست ہے نیز کفار کی زجرو توبیخ کو بھی متضمن ہوگا جو بعث کا انکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ صرف دنیا کا مرنا ہے اور بس ان دونوں قولوں میں پہلا قول اولیٰ اور بہتر ہے اکثر مفسرین کے اقوال سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اہل جنت کی یہ بات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں بیشک ایسی ہی چیزوں کے واسطے عمل کرنے والوں کو چاہئے کہ عمل کریں بھلا یہ بہتر ہے مہمانی کے لحاظ سے جو نعمتیں اور راحتیں اہل جنت کو حاصل ہیں یا درخت زقوم (ف 1) جس کو سینڈ کا درخت کہتے ہیں جو نہایت بدبودار اور زہریلا درخت ہے دوزخ کے اندر حق تعالیٰ نے ایک درخت اگایا ہے جو دوزخ ہی کی آگ سے نشوونما پا رہا ہے جو در حقیقت ظالموں اور کافروں کے واسطے عذاب جہنم کی ایک خاص مصیبت کے درجہ میں ان کے واسطے رکھا گیا ہے کہ جب دوزخی بھوک میں مبتلا ہوں گے تو یہ کھانے کے لئے دیا جائے گا جس کی بدبو اور مزہ کی تلخی سے یہ ممکن ہی نہ ہوگا کہ اس کو حلق سے نیچے اتارا جاسکے یہ آزمائش اور عذاب ہے جس میں ان کو مبتلا کیا گیا کفار مکہ نے جب یہ سنا تو مذاق اڑانے لگے اور اعتراض کرنے لگے کہ کوئی درخت آگ میں کیونکر اگ سکتا ہے اور کیسے اس میں باقی رہ سکتا ہے اس احمقانہ بات یا اعتراض کا جواب آئندہ آیت میں دیا جا رہا ہے باقی ان کلمات اور اہل جنت کی نعمتوں کے بیان اور اہل جہنم کے عذاب اور ان کی شدتوں کو ذکر کرنے کی غرض صرف یہ ہے کہ یہ کافر اس قدر احمق ہیں کہ عذاب اور ثواب اور عزت اور ذلت کے فرق کو نہیں سمجھتے ورنہ مقصود استفہام نہیں۔ 1 زقوم کا درخت دنیا کے درختوں میں ایک نہایت مسموم اور بدبودار اور بدشکل درخت ہے اگرچہ غیر معروف ہے اور وہ ایسا مسموم ہے کہ اگر بدن سے مس کر جائے تو بدن میں ورم ہوجائے اور وہ مرجائے۔ اب ان کے اس اعتراض کا کہ درخت آگ میں کیونکر ہوسکتا ہے جواب دیا جا رہا ہے تحقیق ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لئے ایک فتنہ کردیا ہے دیکھیں کہ کون مانتا ہے اور کیوں نہیں کافروں کو یقین نہیں آتا کہ آگ میں بھی درخت ہوسکتا ہے کہ جو ان کی مزید گواہی کا سبب بن گیا اس لئے کہ تحقیق وہ ایسا درخت ہے جو جہنم کی جڑ سے اگتا ہے کافر یہ سن کر کہنے لگے کہ بھلا آگ میں درخت کیسے پیدا ہوسکتا ہے ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ آگ میں ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے جس کا نام سمندر ہے اور آگ ہی میں وہ جیتا ہے اور آگ ہی سے وہ لذت حاسل کرتا ہے اور آگ ہی سے اس کا نشوونما ہوتا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ آگ میں ایک حیوان (جاندار) کو پیدا کرسکتا ہے اور آگ ہی کو اس کی غذا بنا سکتا ہے تو کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ کافروں کے کھانے کے لئے (جو بمنزلہ حیوانات کے ہیں اولئک کالانعام بل ہم اضل) آگ میں ایک درخت پیدا کر دے اور اسی درخت کو آگ سے محفوظ رکھے۔ حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ زقوم ایک خاص درخت ہے جس کی شاخیں تمام جہنم میں پھیلی ہوئی ہیں جیسے طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جس کی شاخیں تمام جنت میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس درخت کے خوشے خبیث اور بدشکل ہونے میں شیطانوں کے سر کے مشابہ ہیں شیطانوں کے سر سے اس لئے تشبیہ دی گئی کہ اگرچہ لوگوں نے شیطانوں کو نہیں دیکھا مگر عام طبیعتوں میں شیطانوں کے سروں کا بدشکل اور بدرنگ اور قبیح المنظر ہونا راسخ اور جاگزیں ہے اور تشبیہ کے لئے دیکھنا ضروری نہیں فی الجملہ علم کافی ہے خواہ وہ حسی ہو یا خیالی جس طرح اس آیت میں ہے ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم عرب کا محاورہ ہے کہ جب کسی کے حسن و جمال کو بےمثال دیکھتے ہیں تو اس کے فرشتے کے ساتھ تشبہ دیتے ہیں اور جو چیز قبیح المنظر ہوتی ہے تو اس کو یہ کہہ دیا کرتے ہیں کانہ رأس الشیطان۔ اردو زبان میں دیکھ لو ہر لمبی بات کو کہتے ہیں کہ ” بات کیا ہے شیطان کی آنت ہے “ کیا شیطان کی آنت کسی نے دیکھی ہے غرض یہ کہ تشبیہ محاورہ عرب کے مطابق اور عرف کے موافق ہے عرب اور عجم میں یہ محاورہ ہے کہ جب کسی کی بدصورتی کو بیان کرنا ہوتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ شیطان کی صورت ہے اور جب کسی کی خوبصورتی بیان کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ فرشتہ کی شکل ہے۔ پس تحقیق کفار جبرا وقہرا اس بدبودار اور بدمزہ درخت سے کھائیں گے اور یہ نہ ہوگا کہ زبردستی کی وجہ سے اس میں کچھ چکھ لیں اور پھر چھوڑ دیں اس سے اپنے پیٹوں کو بھرنے والے ہوں گے یعنی ان پر زبردستی کی جائے گی کہ وہ اس سے کھائیں اور خوب کھائیں یہاں تک کہ ان کے پیٹ بھر جائیں۔ اہل جنت کا رزق ” کریم “ تھا اس کے بالمقابل اہل جہنم کا رزق زقوم اور حمیم ہوگا اس درخت سے کھا کر پیاس سے بےتاب اور بےقرار ہوجائیں گے تو پانی مانگیں گے تو اس کھانے کے بعد ان کے واسطے پیپ سے ملا جلا کھولتا ہوا پانی ہوگا جو ان کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا وسقوا ماء حمیما فقطع امعاء ہم اور کھانے کی طرح یہ پانی بھی ان کو زبردستی پلایا جائے گا پھر ان کی واپسی اور لوٹنا دوزخ کی طرف ہوگا جو ایک دہکتی ہوئی آگ ہے اور ان کا اصل ٹھکانا ہے یہ زقوم اور ماء حمیم بطور (ف 1) مہمانی اور ناشتہ ان کو دخول جہنم سے پہلے کھلایا اور پلایا جائے گا اس ناشتہ کے بعد ان کو دوزخ میں پہنچا دیا جائے گا یا یہ مطلب ہے کہ ان کو زقوم کھلانے اور ماء حمیم پلانے کے لئے جحیم سے نکالا جائے گا اور زقوم اور ماء حمیم کے کھانے اور پینے کے بعد ان کو جہنم کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جس جگہ کافروں کو زقوم اور حمیم کھلایا پلایا جائے گا وہ جگہ جحیم سے باہر ہوگی یا جہنم کے کنارہ پر ہوگی کھلانے اور پلانے کے بعد پھر ان کو جحیم کی طرف لوٹا دیا جائے گا جو ان کے عذاب کی اصل جگہ ہے تفسیر کبیر س 142 ج 7 وحاشیہ صاوی علی تفسیر الجلالین ص 239 ج 3۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بھوکے (اور پیاسے) ہوں گے تو آگ سے ہٹا کر ان کو یہ کھانا پانی کھلاپلا کر پھر آگ میں ڈال دیں گے (موضع القرآن) پس یہ لوگ کبھی جحیم میں ہوں گے اور کبھی حمیم میں ھذہ جہنم التی یکذب بھا المجرمون یطوفون بینھا وبین حمیم ان اور حضرت شاہ ولی اللہ (رح) لکھتے ہیں یعنی (دوزخیاں را) بعد خوردن ونوشیدن ایشاں را باز بدوزخ برند (فتح الرحمن ) اب آگے فرماتے ہیں کہ اس درد ناک عذاب کی وجہ یہ ہوگی کہ انہوں نے آباء و اجداد کو گمراہی کی حالت میں پایا پس یہ لوگ ان کی محبت میں بےسوچے سمجھے اور بلا حجت اور بلا دلیل ان کے قدم بقدم تیزی کے ساتھ دوڑے چلے جا رہے ہیں ذرا غور کرتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ حق پر نہیں ان کا باطل پر ہونا بالکل ظاہر ہے اور ان کفار موعودین سے پہلے بھی تحقیق اکثر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں اور البتہ تحقیق ہم نے ان میں ڈرانے والے بھیجے جو ان کو گمراہی کے انجام سے ڈراتے تھے مگر انہوں نے حق کو قبول نہ کیا اور گمراہی سے باز نہ آئے پس دیکھ لیجئے کہ ان لوگوں کا کیسا برا انجام ہوا جن کو ڈرایا گیا اور انہوں نے نہ مانا تو دنیا ہی میں ان پر عذاب نازل ہوا مگر اللہ کے مخلص بندے کہ وہ ایمان اور اخلاص کی وجہ سے اس برے انجام سے اور دنیاوی عذاب سے محفوظ رہے اور اسی طرح وہ اخروی عذاب سے بھی محفوظ رہیں گے اب آگے چند انبیا کرام (علیہ السلام) کے واقعات ذکر فرماتے ہیں اور ان بعض منذرین کا ذکر کرتے ہیں جن کی امتوں نے سرکشی کی اور دنیا میں تباہ اور برباد ہوتے موجودہ زمانہ کے کفار کو چاہئے کہ ان سے عبرت پکڑیں۔ 1 قال الاما الرازی قال اللہ تعالیٰ ثم ان مرجعہم لا لی الجحیم ای بعد اکل الزقوم وشرب الحمیم وھذا ید۔۔۔ انہم عند شرب الحصیم لم یکونوا الحمیم من موضع خارج عن الجحیم فہم یوردون الحمیم لاجل الشرب کما تورد الابل الی الماء ثم یوردون الی الجحیم تفسیر کبیر ص 142 ج 7۔ وھذا قول مقاتل ان الحمیم خارج الجحیم وقال القشیری ولعل الحمیم فی موضع من جہنم علی طرف منھا تفسیر قرطبی ص 88 ج 15۔
Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو نوح نے پکارا سو (دیکھ لو کہ) ہم (دعا کو کیسے) اچھے قبول کرنے والے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بڑی مصیبت سے نجات دی

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور ان کی اولاد کو ایسا کیا کہ وہی باقی رہ گئے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور پیچھے آنے والوں میں ان کا ذکر (جمیل باقی) چھوڑ دیا

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

(یعنی) تمام جہان میں (کہ) نوح پر سلام

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

نیکو کاروں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو ڈبو دیا

قصہ اول نوح (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ولقد نادنا نوح فلنعم المجیبون۔۔۔ الی۔۔۔ ثم اغرقنا الاخرین۔ (ربط) گذشتہ آیات میں توحید اور جنت اور جہنم کا مضمون بیان فرمایا اور پھر اس کے ختم پر یہ فرمایا۔ ولقد ارسلنا فیہم منذرین اب آگے چند پیغمبروں کے واقعات ذکر فرماتے ہیں جن سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے عباد مخلصین کو اور ان کے پیروؤں کو دنیا کے عذاب سے بچا لیا اسی طرح وہ ان کو آخرت میں عذاب سے بچا لے گا اس سلسلہ میں سات قصے ذکر کئے سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرمایا اور البتہ تحقیق نوح جو ہمارے عباد مخلصین میں سے تھا جب وہ اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوا تو اس نے مدد کے لئے ہم کو پکارا ہم نے اس کی پکار کو سنا پس ہم اپنے عباد مخلصین کی پکار اور فریاد کو خوب سننے والے اور جواب دینے والے اور ان کی دعا قبول کرنے والے ہیں نوح (علیہ السلام) جب اپنی قوم کے ایمان سے ناامید ہوئے تو یہ دعا کی انی مغلوب فانتصر اور یہ دعا کی لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کی فریاد سنی اور اس کو اور اس کے پیروؤں کو بڑے بھاری غم اور تکلیف سے بچا لیا اور ہم نے صرف اس کی اولاد کو غرق ہونے باقی رہنے والا رکھا اہل سے مراد اہل دین اور اہل ایمان ہیں صرف ان لوگوں کو نجات دی جو ان پر ایمان پر ایمان لائے تھے اور تنہا ان کی ذریت سے زمین کو آباد کیا اور ان کا ذکر خیر بعد میں آنے والی امتوں میں باقی چھوڑا یعنی سلام نوح فی العالمین چھوڑا ساری امتیں ان کو سلام بھیجتی ہیں عالم انس اور عالم جن اور عالم ملائکہ میں ان پر سلام ہے تحقیق ہم اپنے نیکو کار بندوں کو یوں ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اور نوح بلاشبہ ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا ایمان کی برکت سے قہر الٰہی سے محفوظ رہا اور اہل ایمان کے سوا اوروں کو ہم نے غرق کردیا سوائے اہل ایمان کے کوئی پلک مارنے والی آنکھ باقی نہ رہی سب کو ڈبو دیا کافروں میں سے کوئی نہ بچا صرف ان کی وہ ذریت باقی رہی جو ان پر ایمان لے آتی تھی معلوم ہوا کہ طوفان عام تھا اور کل بلاد اور جمیع بلاد کو شامل تھا جمہور علما کا یہی قول ہے اور آیات اور احادیث سب اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ طوفان تمام آبادی اور نوع انسانی کو عام اور شامل تھا اور جن بعض مصنفین نے طوفان کا انکار کیا یا اس میں تاویل کی یا بعض امکنہ کے ساتھ اس کو خاص کیا وہ قول قابل التفات نہیں تفصیل سورة ہود کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔