Ayahs 37:83–111قصہء دوم ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ وان من شیعتہ لابرھیم۔۔۔ الی۔۔۔ ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین۔
نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا یہ انہی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی مشایعت اور موافقت کی اور اللہ کی توحید پر ایمان لانے والے ہوئے اور قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا اور جس طرح تمام عالم حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے اسی طرح تمام انبیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد میں ہوئے کہا جاتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیان دو ہزار ایک سو بیالیس سال کا فاصلہ تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ آنحضرت ﷺ کے حالات سے بہت ملتا جلتا ہے آپ کی ملت ان کی ملت کے مطابق اور موافق ہے۔
چناچہ فرماتے ہیں اور اسی نوح (علیہ السلام) کے گروہ میں سے ابراہیم ہیں کہ توحید اور اخلاص میں اور دین پر پختگی میں اور مکذبین کی ایذاؤں پر صبر کرنے میں ان کے طریقہ اور نقش قدم پر تھے نوح (علیہ السلام) کو اللہ نے غرق سے نجات دی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے حرق یعنی آگ میں جلنے سے نجات دی۔
لفظ شیعہ کی اصل
شیعہ کہتے ہیں کہ لفظ شیعہ اس آیت سے ماخوذ ہے اور اپنی تفسیروں میں لکھتے ہیں کہ انبیا اولو العزم ہمیشہ اس بات کی آرزو کرتے تھے کہ کاش شیعہ علی ؓ علیہ کے ساتھ ہمارا حشر ہو حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کو شب معراج میں شیعہ علی دکھلائے گئے چودھویں رات کے چاند کی طرح ان کے چہرے نورانی تھے ان کو دیکھ کر بڑی آرزو کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے درخواست اور دعا کی اے اللہ مجھ کو شیعہ علی میں داخل کر چناچہ ان کی یہ دعا مستجاب ہوتی اور وان من شیعتہ لابراہیم میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے یعنی بیشک اس کے شیعوں میں سے ابراہیم (علیہ السلام) ہیں سبحان اللہ العظیم خدا تعالیٰ نے جس کو ادنیٰ عقل بھی دی ہے اس پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ یہ سراسر افترا اور بہتان عظیم ہے گویا کہ شیعوں کے نزدیک وان من شیعتہ کی ضمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت علی ؓ کی طرف راجع ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ تحقیق ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) بلاشبہ شیعان علی ؓ سے تھے یہ سراسر نظم قرآنی کی تحریف ہے اور قطع نظم ہے اور اضمار قبل الذکر ہے اور ان قباحتوں اور شناعتوں کے علاوہ ایک عظیم قباحت وشناعت یہ ہے کہ حضرت علی معاذ اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء اولوالعزم سے بھی افضل تھے اور حضرت علی ؓ تمام انبیا پر فضیلت رکھتے تھے جس کا کوئی مسلمان قائل نہیں۔ دیکھو کید شصت 62 ودوم از مکائد شیعہ تحفہ اثنا عشریہ۔
شیعہ کس کو کہتے ہیں اور سنی کس کو کہتے ہیں
شیعہ اس کو کہتے ہیں جو اہل بیت کی محبت کا مدعی ہو اور حضرت علی ؓ کو سب سے افضل سمجھتا ہو اور خلافت نبوی کا آپ کو اور آپ کی اولاد کو مستحق سمجھتا ہو اور صحابہ کو خائن اور غاصب سمجھتا ہو کہ حضرت علی ؓ سے حق خلافت غصب کیا اور ان سے نفرت اور کراہت رکھتا ہو اور ان سے تبرا کرنے کو ذکر اللہ سے افضل سمجھتا ہو غرض یہ کہ شیعت کی بنیاد حضرات صحابہ ؓ سے بغض اور عداوت پر ہے۔
سنی کس کو کہتے ہیں
اور سنی اس کو کہتے ہیں جو سنت نبوی اور جماعت صحابہ ؓ کے طریقہ پر ہو اور تمام صحابہ ؓ اور تمام اہل بیت اور ازواج مطہرات کی محبت اور عظمت کو فرض اور لازم اور جزء ایمان سمجھتا ہو۔
اے نبی اپنی قوم کے سامنے اس وقت کا حال ذکر کیجئے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف قلب سلیم لے کر متوجہ ہوئے کہ جو دل عقائد اور اخلاق اور اعمال کی برائیوں سے اور عیبوں سے اور آلائشوں سے پاک تھا جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم کے لوگوں سے جو بت پرست تھے یہ کہا کہ وہ کیا چیز ہے جس کی تم عبادت کرتے ہو کیا جھوٹ موٹ ہی خدائے برحق کو چھوڑ کر ان جھوٹے معبودوں کی طلب اور تلاش میں پڑے ہوئے ہو اور ان کی پرستش میں لگے ہوئے ہو پس تم نے تمام جہانوں کے حقیقی پروردگار کے ساتھ کیا خیال اور گمان رکھا ہے کہ وہ کیا چیز ہے اور اس کی کیا شان ہے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بت پرست ہونے کے علاوہ ستارہ پرست بھی تھے ایک بار کا واقعہ ہے کہ ان کی قوم کے لوگ اپنے ایک میلہ میں جانے لگے تو ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی کہا کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو
قوم کے لوگ نجومی تھے پس ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے دکھلانے کے لئے ستاروں کی طرف ایک نظر اور کہا کہ میں بیمار ہوں اس لئے میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتا اور چونکہ وہ لوگ نجوم کے معتقد تھے اور کواکب کو حوادث عالم میں متصرف سمجھتے تھے اور عام طور پر علم نجوم استعمال بھی کرتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ اس ستارہ کا طلوع قوم کے نزدیک علامت طاعون کی سبھی جاتی تھی اس لئے انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر کوئی اصرار نہ کیا اور ان لوگوں کو یہ ڈرہوا کہ کہیں اس کے ساتھ لے جانے سے اس کی بیماری ہم کو نہ لگ جائے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ستاروں کی طرف دیکھنا بطور ابہام اور توریہ تھا لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو نجوم کا کوئی قاعدہ معلوم ہوگا اس لئے لوگوں نے ان پر نہ کوئی انکار کیا اور نہ ساتھ چلنے پر اصرار کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا انی سقیم کہنے سے مطلب یہ تھا کہ میری طبیعت ناساز ہے ٹھیک نہیں بیمار ہوا چاہتا ہوں یعنی مجھ کو اپنے اضمحلال سے بیمار ہونے کا اندیشہ ہے نیز ہر شخص کو زمانہ آئندہ کے اعتبار سے مرض الموت کا اندیشہ تو لگا ہی رہتا ہے یا یہ معنی ہیں کہ تم لوگ جو خدائے برحق کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہو اس سے میرا دل بیمار اور رنجیدہ اور خستہ ہے اور عجب نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت کچھ بیمار بھی ہوں اگرچہ ظاہرا وہ محسوس نہ ہو لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول کذب اور خلاف واقع ہو بلکہ ایک قسم کا تو ریہ تھا اور توریہ کے معنی کذب کے نہیں بلکہ توریہ کے معنی یہ ہیں کہ کلام متکلم کی مراد کے اعتبار سے تو صحیح لیکن مخاطب اپنی کم عقلی کی وجہ سے متکلم کی اصل مراد کو نہ پہنچ سکے اور اس توریہ اور ابہام سے ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ ان کے جانے کے بعد ان کے ساتھ کوئی کید اور تدبیر کریں تاکہ ان پر حجت لازم ہوجائے پس انہوں نے بیماری کا بہانہ کیا تاکہ ان کے ساتھ عید میں نہ جائیں ستاروں کی طرف نظر کر کے کہا کہ میں بیمار ہوں یعنی اپنے اندر بیماری کے کچھ آثار محسوس کر رہا ہوں مجھے اپنے اضمحلال سے ایسا نظر آتا ہے کہ شاید میں بیمار پڑجاؤں نیز موت ہر شخص کے لئے قطعی اور یقینی ہے اور جس پر موت لکھی ہوئی ہے وہ لامحالہ سقیم اور بیمار ہوتا ہی ہے چناچہ بزرگوں کا قول ہے کہ الحمی برید الموت بخار موت کا ڈاکیہ ہے۔
اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ کہنا کہ انی سقیم ایک قسم کا توریہ اور ابہام تھا جس سے مقصود احقاق حق اور ابطال باطل تھا اور ستاروں کی طرف نظر کرنا ایک قسم کا حیلہ تھا جو محض ان کے دکھلانے کے لئے تھا کیونکہ وہ لوگ نجوم کی تاثیر کے قائل تھے اس لئے انہوں نے اپنے اعتقاد کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات کا یقین کرلیا اور ان کو چھوڑ کر چلے گئے اور ساتھ چلنے پر اصرار نہ کیا اس توریہ اور ابہام سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی غرض غایت درجہ محمود تھی کہ ان کے جانے کے بعد ان کے بتوں کے ساتھ کوئی کید کریں جس سے ان کا عاجز اور ناقابل الوہیت ہونا ثابت ہوجائے پس وہ لوگ ان کا یہ عذر سن کر ان کو چھوڑ کر چلے گئے کہ خواہ مخواہ بیمار کو کیوں ساتھ لے جائیں ایسانہ ہو کہ اس کی بیماری ہم کو لگ جائے اس لئے ان سے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔
پس ان کے چلے جانے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے بت خانہ میں داخل ہوئے اور ان کے معبودوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بطور تہکم اور استہزا اور تمسخر ان کی طرف منہ کر کے کہا کہ یہ کھانے جو تمہارے سامنے رکھے ہوئے ہیں ان کو کھاتے کیوں نہیں آخر تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے بھی نہیں وہ خوب جانتے تھے کہ یہ سب جمادات اور پتھر ہیں یہ کیا بولیں گے عید میں جاتے وقت لوگ بتوں کے سامنے کھانا چھوڑ گئے تھے تاکہ وہ متبرک ہوجائے بعد ازاں ابراہیم (علیہ السلام) پوشیدہ طور پر ان بتوں کے پاس آئے اور دائیں ہاتھ سے یا پوری قوت سے ان بتوں کو مارنے لگے اور تبر وغیرہ سے ان کو توڑنے لگے یہاں تک کہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور توڑ پھوڑ کر وہاں سے چل دئیے پس جب قوم کے لوگ عید سے واپس آئے اور بت خانہ میں داخل ہوئے اور بتوں کا یہ حال دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ کام ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے اس لئے وہ غصہ میں بھرے ہوئے دوڑتے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے کہ ان سے باز پرس کریں اور ان پر ملامت اور زجرو توبیخ کریں چناچہ ان سے باز پرس شروع کی اور پکڑ ان کو نمرود کے پاس لائے اور گفتگو شروع ہوئی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اس چیز کو پوجتے ہو جس کو تم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو وہ چیز کیسے معبود ہوسکتی ہے جو خود تمہارے ہاتھوں کی تراشیدہ ہو جو چیز کسی کے تراشنے سے تیار ہو لامحالہ وہ تراشیدہ چیز ذلیل اور خوار ہوگی پھر یہ کہ تراشنے ہو وہ چیز کیسے معبود ہوسکتی ہے جو خود تمہارے ہاتھوں کی تراشیدہ ہو جو چیز کسی کے تراشنے سے تیار ہو لامحالہ وہ تراشیدہ چیز ذلیل اور خوار ہوگی پھر یہ کہ تراشنے سے اس چیز کی نئی شکل بن جاتی ہے جو پہلے نہ تھی پہلی ہیئت باقی نہیں رہتی دوسری ہیئت بن جاتی ہے گویا کہ یہ چیز محض تمہارے تراشنے اور اس نئی شکل بنانے سے معبود بن گئی پہلے سے معبود نہ تھی جس کا فاسد اور باطل ہونا واضح ہے کہ ایک چیز پہلے تو معبود نہ تھی اور اب وہ معبود بن گئی۔
اور حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا اور جو چیز تم بناتے ہو اور جو عمل تم کرتے ہو اس کے بھی اللہ ہی نے پیدا کیا یعنی جس طرح تمہاری ذات اللہ کی مخلوق ہے اسی طرح تمہارے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزیں اور تمہاری صنعت اور کاریگری بھی اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے جس طرح شجر اور حجر کی ذات کو اللہ نے پیدا کیا اسی طرح اس صنعت اور کاریگری کو جس سے تم نے یہ بت بنایا اور تراشا ہے وہ بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے پس جو چیز تمہاری صنعت اور کاریگری سے تیار ہوئی وہ خدا کیسے ہوسکتی ہے کیا خدا بھی کسی کی صنعت اور کاریگری سے تیار ہوا کرتا ہے۔ خالق لائق عبادت ہے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیز قابل عبادت نہیں ہوسکتی لائق عبادت وہ ذات ہے جو ذوات اور صفات اور اعراض اور افعال سب میں مؤثر ہو۔
قوم کا مقصود اس باز پرس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملامت اور زجرو توبیخ تھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس دلیل اور برہان سے ان کی ایسی حماقت ثابت کی جو زجر وتوبیخ کی منتہا تھی اور یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ ہر عمل اللہ کی مخلوق ہے حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صانع اور ہر صنعت کو پیدا کرتا ہے (رواہ البخاری فی خلق الافعال )
پس جب ان پر حجت قائم ہوگئی جس کے دفع پر وہ قادر نہ ہوئے اور نہ اس کا انکار کرسکے تو غیظ وغضب میں آکر ایک دہکتی ہوئی آگ تیار کی جس کے شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے تو منجنیق کے ذریعہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اس دہکتی ہوئی آگ میں ڈالا اللہ کی قدرت اور رحمت سے جب وہ آگ ابراہیم (علیہ السلام) پر بردو سلام ہوگئی تو اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت واضح اور روشن ہوگئی بتوں کے توڑنے سے شرک باطل ہوگیا اور آگ کے بردو سلام ہوجانے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت ثابت ہوگئی غرض یہ کہ اس طرح سے توحید اور رسالت دونوں کا اثبات ہوگیا۔
خلاصہء کلام : یہ کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دلیل اور برہان سے ان کو قائل کردیا کہ خود تراشیدہ چیز ہرگز ہرگز قابل عبادت نہیں ہوسکتی تو قوم کے لوگ اس جواب باصواب سے مبہوت اور حیران رہ گئے اور جھلا کر بولے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ایک بڑا آتش خانہ بناؤ جو آگ سے لبریز ہو پھر دہکتی ہوئی آگ میں ابراہیم (علیہ السلام) کو ڈال دو پس ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ بڑے ہی مکر کا ارادہ کیا کہ اس کو دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں کہ جل کر راکھ ہوجائے اور یہ قصہ ہی ختم ہو پس ہم نے ان کو زیر کردیا اور سب کو نیچا دکھایا کہ اس دہکتی ہوئی آگ کو ان پر باغ و بہار بنا دیا جس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حقانیت اور صداقت ثابت ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ اللہ اپنے عباد مخلصین کی اس طرح سے حفاظت کرتا ہے اور یہ معجزہ ان کی نبوت و رسالت کی دلیل بنا جس کا مفصل قصہ سورة انبیاء میں گذر چکا ہے۔
اور ابراہیم (علیہ السلام) آگ سے نکلنے کے بعد جب ان کے ایمان لانے سے بالکل ناامید ہوگئے تو ان کے اندر رہنا شاق گذرا تو ارادہ ہجرت کا فرمایا کہ کافروں سے مفارقت اور علیحدگی ہی میں دین ودنیا کی خیروبرکت ہے تو یہ کہا کہ اب میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں جہاں میرا پروردگار مجھ کو لے جائے امید ہے کہ وہ مجھے ایسی جگہ پہنچا دے گا جہاں میرے دین اور دنیا کی صلاح اور فلاح ہوگی چناچہ بحکم خداوندی سر زمین شام کی طرف ہجرت فرمائی اور حضرت سارہ (علیہ السلام) اور حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) ہمراہ تھیں اور جب شام پہنچے تو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ اے اللہ مجھ کو ایسا فرزند عطا فرما جو تیرے نزدیک نیکوکاروں میں سے ہو پس ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو ایک بردبار فرزند کی بشارت دی جس سے مراد اسماعیل (علیہ السلام) ہیں حسب بشارت حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کے بطن سے غلام حلیم پیدا ہوا جس کا حلم ظاہر ہوتا تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور التجا کے بعد اسمعیل (علیہ السلام) فرزند عطا کیا جس کی نسبت توریت میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (اے ابراہیم (علیہ السلام) اسمعیل (علیہ السلام) کے حق میں میں نے تیری سنی دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے بہرہ مند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اس سے بڑی قوم بناؤں گا (توریت سفر پیدائش باب 17 درس 20) بعد چندے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بحکم خداوندی حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو مکہ معظمہ لائے اور تربیت کے لئے جبل فاران کے قریب ان کو چھوڑ کر ملک شام واپس ہوگئے وقتا فوقتا براق پر سوار ہو کر حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو دیکھنے کے لئے مکہ آتے۔
پس جب وہ غلام حلیم اس سن کو پہنچا کہ باپ کے ساتھ چلنے اور دوڑنے لگے اور بقول بعض سات برس کے اور بقول بعض سترہ برس کے ہوگئے اتفاق سے اس زمانہ میں ابراہیم (علیہ السلام) شام سے حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو دیکھنے کے لئے آئے تھے تو تین رات مسلسل یہ خواب دیکھا کہ وہ اس فرزند کو ذبح کر رہے ہیں پہلی رات جب یہ خواب دیکھا تو محو حیرت ہوئے پھر جب تین دن تک یہی خواب دیکھا تو ارشاد خداوندی کو سمجھ گئے اور اس غلام حلیم کے ذبح کا عزم کرلیا۔
پس جب ابراہیم (علیہ السلام) ذبح فرزند کا عزم کرچکے تو مناسب جانا کہ اس فرزند سے بھی اس خواب کا ذکر کردیا جائے جس کے ذبح کے متعلق یہ خواب دیکھا ہے تاکہ اس کی رائے بھی معلوم ہوجائے اور اس کے حلم اور صبر کا۔ اور کمسنی میں باپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا امتحان ہوجائے اس لئے اس فرزند سے بطور مشورہ کہا اے میرے چھوٹے برخوردار یہ تصغیر ترحم اور شفقت کے لئے ہے تحقیق میں برابر خواب میں تجھ کو ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں پس تو دیکھ لے اور سوچ لے کہ اس بارے میں تیری کیا رائے ہے اور تیرا دل کیا کہتا ہے اب اپنی مرضی بتلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس ذکر سے مقصد یہ تھا کہ ان کے علم اور صبر کا امتحان کریں اور دیکھیں کہ خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے کس درجہ تیار ہیں بیٹے نے باپ کی یہ بات سن کر کہا اے میرے باپ آپ کو جو خدا کی طرف سے حکم دیا جا رہا ہے آپ اس کو بلا تامل وتردد کر گذرئیے اور اس میں دیر نہ کیجئے اور میری تکلیف کا ذرہ برابر خیال نہ کیجئے اور انشاء اللہ آپ مجھ کو ضرور صابروں میں سے پائیں گے میں دل وجان سے بسر وچشم خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہوں اے پدر بزرگوار اللہ کی طرف آپ کو جو حکم ہوا وہ فورا بجا لائیے اسماعیل (علیہ السلام) نے صبر کا وعدہ فرمایا مگر اس کی اللہ مشیت کے ساتھ معلق کیا یعنی اس کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہا جو ان کی کمال معرفت اور تواضع کی دلیل ہے کہ انہوں نے اپنی قوت پر بھروسہ نہیں کیا کہ میں خود صبر کرسکو بلکہ اللہ کی مشیت پر اس کو معلق کیا پس جب دونوں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا اور اس کے حکم کے سامنے گردن ڈال دی اور ابراہیم (علیہ السلام) تو بیٹے کو خدا پر فدا کرنے کے لئے اور بیٹا خدا کے لئے قربان ہونے کے لئے آمادہ ہوگیا اور خود حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے کہا اے باپ مجھے اوندھا کر دیجئے تاکہ میری صورت سامنے ہونے سے شفقت پدری حکم خداوندی کی تعمیل میں مانع نہ بنے اور میری ماں کو میرا سلام کہہ دینا۔
اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر گرا دیا تاکہ ان کو ذبح کریں اور منہ کے بل ان کو اوندھا لٹا کر ان کے گلے پر چھری چلانے لگے باتفاق روایات یہ ثابت ہے کہ چھر کند ہوگئی اور گلا نہ کٹ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے فرزند کو سلامت رکھا اور اس کے فدیہ میں مینڈھے کے ذبح کا حکم دیا اور اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو ذبح ولد کے طبعی رنج وغم سے بچا لیا اور جب ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح سے ہمارا حکم بجا لایا تو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آواز دی کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا خواب میں تو نے جو کچھ دیکھا تھا اس کے موافق عملدرآمد کرنے میں تو نے کوئی قصور اور کوتاہی نہیں کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اگرچہ بیٹے کو ذبح نہیں کیا مگر جتنا کام ان کے امکان میں تھا وہ کر گزرے اگرچہ ذبح واقع نہیں ہوا لیکن تو نے تعمیل حکم میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تو فرشتہ نے آواز دی کہ تم نے خواب سچ کر دکھایا پس ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتہ کی آواز سن کر اس طرف توجہ کی تو دیکھا کہ ایک سفید مینڈھا بڑے سینگوں والا اور بڑی آنکھوں والا سامنے کھڑا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کے لئے بھیجا ہے۔
حضرت استاذ مولانا سید انور شاہ (رح) یہ فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ انی ذبحتک کہ میں نے اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کردیا بلکہ یہ دیکھا تھا کہ انی اذبحک کہ میں ذبح کر رہا ہوں یعنی ذبح کا جو فعل ہے گردن پر چھری چلانا وہ کر رہا ہوں سو اتنا کرنے سے وہ خواب میں سچے ہوگئے جتنا خواب دیکھا تھا اتنا پورا ہوگیا چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیل حکم میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے بیٹے کو ذبح سے بچا لیا تحقیق ہم اسی طرح امتحان عظیم کے بعد نیکو کاروں کو ایسی ہی جزائے جمیل عطا کرتے ہیں کافروں کی عزت ووجاہت وقتی ہوتی ہے اصل عزت ایمان اور احسان کی ہے امتحان بیشک سخت تھا مگر تو پورا اترا ہم بھی خوش ہوئے اور تیرے فرزند کے عوض فدیہ کے لئے یہ مینڈھا بھیجتے ہیں جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر آئے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے وہ ذبح ہوا تحقیق یہ بات جو ابراہیم (علیہ السلام) کو پیش آئی کھلی اور صریح آزمائش تھی جس سے مخلص اور غیر مخلص میں خوب تمیز ہوجاتی ہے اشارہ اس طرف ہے کہ اس حکم سے ہمارا مقصود فقط ابتلا اور امتحان یعنی آزمانا تھا حقیقۃ ذبح ولد مقصود نہ تھا سو امتحان میں تو پورا اترا اور کامیاب رہا اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرزند کے فدیہ میں قربانی کا ایک عظیم جانور عطا کیا جو نہایت سفید اور بڑے سینگوں والا اور بڑی آنکھوں والا تھا اور بڑا فربہ تھا حسن بصری (رح) حضرت علی ؓ سے راوی ہیں کہ وہ مینڈھا ثبیر پہاڑ سے اترا تھا اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ وہ مینڈھا تھا جس کو ہابیل (علیہ السلام) نے قربان کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قبول کرلیا تھا اور اس وقت سے لے کر اس وقت تک وہ جنت میں چرتا رہا یہاں تک کہ وہ جنت سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے فدیہ کے لئے اتارا گیا دیکھو تفسیر قرطبی ص 107 ص 15 اس طرح سے فدیہ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی جان بچائی اور آئندہ کے لئے قربانی کا قانون مقرر کردیا کہ لوگوں کو چاہئے کہ سنت ابراہیمی کے مطابق قربانی کیا کریں اور جو شخص حیوان کی قربانی کرے گا اس کو ذبح ولد کا ثواب ملے گا۔
اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر خیر پچھلی امتوں میں باقی چھوڑا کہ بعد میں آنے والی امتیں ان کو ذکر خیر کے ساتھ یاد کرتی رہیں خاص کر یہ آخری امت یعنی امت محمدیہ تشہد میں درود ابراہیمی پڑھتی ہے سلام ہو ابراہیم (علیہ السلام) پر بعد میں آنے والے بھی ان پر صلاۃ وسلام پڑھیں گے ہم اپنے نیکو کاروں کو ایسی جزا دیا کرتے ہیں بیشک ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے ایماندار بندوں میں سے تھا جنہوں نے ایمان اور اخلاص اور عبودیت کا حق ادا کردیا۔
Ayahs 37:112–113دوسری بشارت کا ذکر
وبشرنہ باسحق نبیا من الصلحین۔۔۔ الی۔۔۔ و ظالم لنفسہ مبین۔
گذشتہ آیات میں پہلے فرزند یعنی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر تھا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے اور اکلوتے بیٹے تھے اور ان کے ذبح اور فدیہ کا حال ذکر کیا اب اس کے بعد ان کے دوسرے فرزند یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر کرتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک دوسرے فرزند کی بشارت دی کہ تمہارے ایک اور فرزند ہوگا جس کا نام اسحاق ہوگا اور وہ نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا اور باتفاق علما حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے تیرہ سال بڑے تھے۔ تفسیر (ف 1) قرطبی ص 113 ج 15۔ جو حضرت سارہ (علیہ السلام) کے بطن سے پیدا ہوئے اور ان کی نسل میں ہزاروں نبی اور بادشاہ ہوئے اور برکت نازل کی ہم اس پر اور اسحاق پر یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) پر برکتیں نازل کیں اور ان کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) پر کہ ان کی نسل میں کثرت سے انبیا ہوئے۔
1 قال القرطبی ولیس تختلف الرواۃ ان اسمعیل کان اکبر من اسحاق بثلاث عشرۃ سنۃ (تفسیر قرطبی ص 113 ج 15) ۔
حق جل شانہ کی طرف سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دو بشارتیں ملیں اول غلام حلیم کی بشارت ملی جو ان کی دعا اور التجا اور سوال کے بعد ملی یعنی رب ھب لی من الصالحین کے بعد غلام حلیم اسماعیل (علیہ السلام) کی بشارت ملی اور دوسری بشارت یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت ہے وہ بلا سوال اور دعا کے ملی جس وقت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور جب اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ننانوے سال کی تھی۔
اور پھر آگے چل کر ان دونوں کی نسل سے نیکو کار بھی ہوں گے اور بدکار بھی جو اپنی جان پر صریح ظلم کرنے والے ہوں گے یعنی آئندہ چل کر ان دونوں کی نسل میں سے نیکو کار اور بدکار دونوں قسم کے لوگ ہوں گے معلوم ہوا کہ بدون ایمان اور عمل صالح کے محض نسب پر فخر بیکار ہے عام طور پر مفسرین نے بارکنا علیہ کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع کی اور علیٰ ہذا ومن ذریتھما کی ضمیر تثنیہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے مگر حضرت شاہ عبد القادر (رح) نے اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے چناچہ فرماتے ہیں یہ کہا دونوں بیٹوں کو (اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کو) دونوں سے بہت اولاد پھیلی اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں نبی گذرے بنی اسرائیل کے اور اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں عرب جن میں ہمارے پیغمبر ﷺ ہوئے (انتہیٰ ) اور سیاق وسباق کے مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ علیہ کی ضمیر پہلے بیٹے یعنی اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف راجع کی جائے وعلی اسحاق کا اس پر عطف ہو کہ ایک ہی جملہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں پر برکتیں نازل کرنے کی خبر دی کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کو دینی اور دنیاوی برکتوں سے نوازا اور آئندہ آیت ومن ذریتھما میں دونوں بیٹوں کی نسل اور اولاد کے متعلق خبر دی پس ضمیر تثنیہ لانے سے کوئی خاص اثنیست اور مغایرت نہیں معلوم ہوتی اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی ذریت اور اولاد علیحدہ علیحدہ نہیں دو بیٹوں اور دو بھائیوں کی اولاد کو علیحدہ علیحدہ نسل اور خاندان کہا جاسکتا ہے بیٹے کی اولاد بعینہ باپ کی اولاد ہے امام قرطبی (رح) نے بارکنا علیہ وعلی اسحاق کی تفسیر میں اول مشہور قول کی بنا پر علیہ کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع کی اور پھر دوسرا قول یہ نقل کیا کہ علیہ کی ضمیر اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے اور کہا کہ صحیح اور راجح قول اور ظاہر قرآن کے مطابق یہی معلوم ہوتا ہے کہ علیہ کی ضمیر اسماعیل (علیہ السلام) ذبیح کی طرف راجع کی جائے کیونکہ ماقبل میں تمام قصہ اسماعیل (علیہ السلام) ذبیح کا ذکر فرمایا اور پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشار کا ذکر فرمایا وبشرناہ باسحاق نبیا من الصالحین اور پھر دونوں یعنی اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد فرمایا۔ وبارکنا علیہ وعلی اسحاق ای بارکنا علی اسماعیل واسحاق۔
چونکہ ماقبل میں اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے اس لئے علیہ کی ضمیر اسمعیل (علیہ السلام) کی طرف راجع کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ دو بیٹوں اور دو بھائیوں کو ملا کر عطف کے ساتھ ذکر کرنا زیادہ مناسب اور موزوں ہے اور علیٰ ہذا ومن ذریتھما کی ضمیر تثنیہ بھی اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے دیکھو تفسیر (ف 1) قرطبی ص 113 ج 15۔
1 قال الامام القرطبی قولہ تعالیٰ بارکنا علیہ وعلی اسحاق ای بارکنا علی ابراہیم واولاد علی اسحاق حین اخرج انبیاء بنی اسرائیل من صلبہ وقد قیل ان الکنایۃ فی (علیہ) تعود علی اسمعیل وانہ ھو الذبیح قال المفضل الصحیح الذی یدل علیہ القران انہ اسمعیل وذالک انہ قص قصۃ الذبیح فلما قال فی اخر القصہ وفدیناہ بذبح عظیم ثم قال وبارکنا علیہ ای علی اسمعیل وعلی اسحاق کنی عنہ لانہ قد تقدم ذکرہ ثم قال ومن ذریتھما فدل علی انھا ذریۃ اسمعیل واسحاق۔ 1 ھ ص 113 ج 15
ذبیح اللہ کی بحث
ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک فرزند صالح کی دعا کا ذکر ہے اور پھر اس دعا کے بعد جو لڑکا پیدا ہوا خدا تعالیٰ کے لئے اس کو قربانی کے لئے پیش کرنے کا ذکر ہے اہل اسلام کے نزدیک وہ لڑکا جو اللہ کے نام پر ذبح ہوا وہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں اہل کتاب یہود ونصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ وہ اسحاق (علیہ السلام) تھے اہل کتاب نے اہل اسلام پر حسد کی بنا پر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ قرار دیا کہ یہ فضیلت حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے ثابت نہ ہو لیکن آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ ذبیح اللہ اسمعیل (علیہ السلام) ہیں نہ کہ اسحاق (علیہ السلام) اور یہی جمہور اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے اور یہ ہی صحیح قول ہے کہ ذبح کا تمام واقعہ اسماعیل (علیہ السلام) سے متعلق ہے کیونکہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعد کا ہے جو مکہ میں پیش آیا نہ کہ ملک شام میں اور بعض علماء اہل سنت سے جو یہ منقول ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے سو ان کا یہ قول صحیح نہیں ان کا یہ قول علما اہل کتاب سے ماخوذ ہے یا توریت سے ماخوذ ہے اور موجودہ توریت اول تو وہ توریت نہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی صفحہ ہستی پر اس توریت کا کہیں نام ونشان نہیں دوم یہ کہ جو توریت موسیٰ (علیہ السلام) سے موسوم ہے۔ وہ درحقیقت ان مضامین کا مجموعہ ہے جو بعد میں تصنیف ہوئے پھر وہ بھی تحریف سے خالی نہیں بلکہ تغیر وتبدل سے مملو ہے۔
(1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب ہجرت کر کے ارض مقدسہ میں آئے تو زمانہ تنہائی میں انس اور محبت کے لئے ایک فرزند صالح کی دعا مانگی اور عرض کیا رب ھب لی من الصالحین اے اللہ مجھ کو ایک نیک فرزند عطا فرما جو تیرے نیک بندوں میں سے ہو اور تیری طاعت میں اور دین کی خدمت میں میری مدد کرے اور سفر وحضر میں میرے لئے باعث انس ہو اور میرے بعد میرا جانشین ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ایک غلام حلیم کی ان کو بشارت دی فبشرناہ بغلام حلیم چناچہ اس دعا اور بشارت کے بعد حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کے بطن سے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے پیدائش کے کچھ دنوں بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بحکم خداوندی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کو وادی غیر ذی زرع فاران کے جنگل اور بیابان میں یعنی مکہ کی سر زمین میں چھوڑ آئے اور اس بارے میں اہل اسلام اور اہل کتاب کا کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پہلے فرزند اور اکلوتے بیٹے ہیں اور اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر چھیاسی سال کی تھی اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل قیام ملک شام میں اپنی بی بی سارہ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا اور اس وقت حضرت سارہ (علیہ السلام) کے کوئی اولاد نہ تھی مگر حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی خبر گیری کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) شام سے بکثرت مکہ مکرمہ آتے رہتے تھے اور یہ آمدورفت براق پر ہوتی تھی دیکھ کر واپس ہوجاتے صبح کو آتے اور شام کو واپس ہوجاتے دیکھو البدایۃ (ف 1) والنہایۃ لابن کثیر ص 159 ج 1۔
کچھ عرصہ بعد اسمعیل (علیہ السلام) بڑے ہوگئے اور چلنے پھرنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے بذریعہ خواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ارشاد فرمایا کہ اپنے فرزند وحید اور اکلوتے بیٹے کو ہمارے نام پر ذبح کرو جس سے مقصود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ارشاد فرمایا کہ اپنے فرزند وحید اور اکلوتے بیٹے کو ہمارے نام پر ذبح کرو جس سے مقصود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی محبت کا امتحان تھا چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دل وجان سے اس حکم کی تعمیل کے لئے آمادہ ہوگئے اور یہ تمام واقعہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت سے بہت پہلے کا ہے معلوم ہوا کہ فبشرناہ بغلام حلیم سے اسمعیل (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت مراد ہے اور ذبیح اللہ بھی غلام حلیم ہے اور فدیناہ بذبح سے اسی غلام حلیم کے ذبح کا فدیہ مراد ہے۔
(2) اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں غلام حلیم کی بشارت اور ان کے ذبح اور ان کے فدیہ کے بعد حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر فرمایا اور وبشرناہ باسحق فرمایا اور یہ دوسری بشارت ہے جو پہلی بشارت کے عرصہ بعد دی گئی اور اس بشارت کو بحرف عطف ذکر سے جس کا پہلی بشارت فبشرناہ بغلام حلیم پر عطف ہے معلوم ہوا کہ یہ بشارت اور یہ قصہ پہلی بشارت اور قصہ سے مختلف ہے اور مغایر ہے اس لئے کہ عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے پہلی خوشخبری حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے متعلق تھی اور دوسری خوشخبری حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے متعلق ہے جو واقعہ ذبح کے بعد دی گئی۔
1 فقد روی ان الخلیل کان یذھب فی کثیر من الاوقات راکبا علی البراق الی مکۃ یطلع علی الولد (ابنہ) ثم یرجع کذافی البدایۃ والنھایۃ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب پہلے لڑکے کے ذبح پر حسب حکم الٰہی مستعد ہوگئے اور امتحان میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ بھیج کر ان کو بچا لیا اور کمال عنایت والطاف سے بعد چندے ایک اور فرزند کی بشارت دی یعنی اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی اور فرمایا وبشرناہ باسحق ان آیات میں دو بشارتوں کا ذکر ہے ایک فرزند کی بشارت تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوال اور التجا کے بعد ہوئی اور دوسرے فرزند کی بشارت بدون سوال اور التجا کے اور مختلف وقتوں میں ہوئی اول اللہ تعالیٰ نے بڑے بیٹے اور اکلوتے بیٹے کی بشارت کا ذکر کیا اور پھر ان کے چھوٹے بھائی اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر کیا اور اس دوسری بشارت کا پہلی بشارت پر عطف کیا معلوم ہوا کہ یہ دوسری بشارت پہلی بشارت سے مغایر اور مختلف ہے اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے تقریبا چودہ سال بڑے تھے۔
(3) پھر دونوں فرزندوں کی بشارت کے بعد حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں وبارکنا علیہ وعلی اسحاق اور برکت نازل کی ہم نے اس پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر۔ عموماً مفسرین نے علیہ کی ضمیر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے اور علیٰ ہذا اس کے بعد والی آیت ومن ذریتھما محسن و ظالم لنفسہ مبین ضمیر تثنیہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے مگر سیاق وسباق کے زیادہ مناسب یہ ہے کہ بارکنا علیہ کی ضمیر اسمعیل (علیہ السلام) کی طرف راجع کی جائے جن کے ذبح کا مفصل قصہ قریب میں ذکر ہوچکا ہے اور اب علیہ پر وعلی اسحاق کا عطف نہایت مناسب ہے اس لئے کہ علیہ کی ضمیر پہلے اور بڑے بیٹے کی طرف راجع ہے اور بارکنا علیہ میں اول پہلے بیٹے پر برکت کے نزول کا ذکر ہے اور وعلی اسحاق کا علیہ پر عطف ہے جس میں دوسرے بیٹے پر برکت کے نزول کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے بیٹے کی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے پر بھی برکت نازل کی اور علی ھذا ومن ذریتھما محسن و ظالم کی ضمیر تثنیہ عام طور پر مفسرین نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے مگر شاہ عبد القادر (رح) نے اسمعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) کی طرف راجع کی ہے غرض یہ کہ وبارکنا علیہ ولی اسحاق میں علیہ کی ضمیر کا اسمعیل (علیہ السلام) کی طرف راجع ہونا اور پھر وعلی اسحاق کا اس پر عطف ہونا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ ذبیح اسحاق (علیہ السلام) نہیں بلکہ اسمعیل ہیں عطف مغایرت کو چاہتا ہے ایک بھائی کو دوسرے بھائی کے اور ایک بیٹے کو دوسرے بیٹے کے مغایر کہا جاسکتا ہے مگر بیٹے کو باپ کے مغایر نہیں کہا جاسکتا۔
(4) نیز حق تعالیٰ نے جب حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی بشارت دی تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا ونبیا وہ نبی بھی ہوں گے معلوم ہوا کہ اسحاق (علیہ السلام) ذبیح نہ تھے اس لئے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اسحاق (علیہ السلام) نبی بھی ہوں گے تو ایسی صورت میں امتحان میں ان کے ذبح کا حکم دینا بےمعنی ہے پھر اس بشارت کے ساتھ یہ بھی مذکور ہے ومن وراء اسحاق یعقوب کہ اسحاق (علیہ السلام) کا بیٹا بھی ہوگا جس کا نام یعقوب (علیہ السلام) ہوگا معلوم ہوا کہ اسحاق (علیہ السلام) اتنی عمر کو پہنچیں گے کہ ان کے بیٹا بھی ہوگا تو ایسی حالت میں اگر ذبح کا حکم ہوتا تو نہ نبوت ملتی اور نہ نکاح ہوتا اور نہ بیٹا ہوتا نیز حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت کو وبشرناہ باسحاق سے مستقلا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قصہ مستقل ہے جس کا پہلے قصہ سے تعلق نہیں۔
(5) نیز جس ولد کے ذبح کا حکم دیا گیا وہ اس کے بلوغ سے پہلے دیا گیا اس لئے کہ نص قرآنی میں یہ قید مذکور ہے فلما بلغ معہ السعی کہ جب وہ لڑکا چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تب اس کے ذبح کا حکم آیا اور یہ حالت بلوغ سے بہت پہلے ہوتی ہے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت میں ونبیا من الصالحین کے علاوہ ومن وراء اسحاق یعقوب بھی فرمایا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) بلوغ کو پہنچیں گے اور صاحب اولاد ہوں گے اگر ان کے ذبح کا حکم ہوتا تو ان کی موت یقینی ہوتی اور عقلا یہ بات غیر معقول ہے کہ اولاد عطا کئے جانے سے پیشتر ہی ذبح کر دئیے جائیں نیز نبوت عموما چالیس سال کی عمر میں ملتی ہے۔
(6) نیز اہل اسلام اور اہل کتاب کے اتفاق سے اور توریت سفر پیدائش با 22۔ 1۔ 2 سے صراحۃً وحید اور بکر کا لفظ موجود ہے اور باتفاق یہود ونصاری اکلوتے بیٹے اسمعیل (علیہ السلام) تھے نہ کہ اسحاق (علیہ السلام) اس لئے کہ اسحاق (علیہ السلام) واقعہ ذبح کے بعد پیدا ہوئے ہیں وہ اکلوتے بیٹے نہ تھے امتحان کے لئے اکلوتے بیٹے کے ذبح کا حکم ہوا تھا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی موجودگی میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کیسے اکلوتے بیٹے ہوسکتے ہیں جو حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کے بعد پیدا ہوئے اور توریت کے بعضوں نسخوں میں جو وعید اور اکلوتے بیٹے کے بعد لفظ اسحاق کا بڑھا دیا ہے وہ یہود کی دیدہ دانستہ تحریف ہے اکلوتا بیٹا وہ ہے کہ جس کی موجودگی میں کوئی دوسرا بیٹا نہ ہو اور یہ بات صرف اسمعیل (علیہ السلام) پر صادق آتی ہے کہ ان کی موجودگی میں ان کے سوا اور کوئی بیٹا نہ تھا۔
(7) اس کے علاوہ یہ واقعہ مکہ میں پیش آیا اور اس کے آثار اور یادگاروں کا مکہ اور منیٰ میں ہونا اور مدتوں تک فدیہ کے مینڈھے کے سینگوں کا خانہ کعبہ میں معلق رہنا یہ تمام باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تمام واقعہ مکہ میں پیش آیا نہ کہ ملک شام میں شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے فدیہ کے دنبہ کے دونوں سینگوں کو خانہ کعبہ کے اندر دیکھا ہے اور اسمعیل (علیہ السلام) بچپن سے مکہ مکرمہ میں رہتے تھے اور اسحاق (علیہ السلام) ملک شام کے شہر کنعان میں رہتے تھے اور کنعان نہ مقام حج ہے اور نہ قربان گاہ ہے بخلاف منیٰ کے کہ وہ قربان گاہ ہے اور مکہ مقام حج ہے اور بطور یادگار ابراہیمی واسمعیلی حج اور قربانی اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی اور رمی جمرات کی سنت آج تک بنی اسماعیل (علیہ السلام) میں جاری ہے اور حج اور قربانی ملت اسلام کا عظیم شعار ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے اب تک مکہ اور منیٰ میں چلی آرہی ہے۔
(8) اصمعی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ابو عمر و بن علا (رح) سے پوچھا (کہ دو بیٹوں میں سے) ذبیح کون تھا تو مجھ سے کہا اے اصمعی (رح) تیری عقل کہاں جاتی رہی کہ تجھ کو پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کیونکہ مکہ میں اسحاق (علیہ السلام) کہاں تھے بلکہ وہاں تو اسماعیل (علیہ السلام) تھے اور ذبح اور قربانی کا مقام بھی مکہ کی سرزمین میں ہے اور اسماعیل (علیہ السلام) ہی نے اپنے باپ کو خانہ کعبہ کی تعمیر میں مدد دی تھی تفسیر قرطبی ص 100 ج 15۔
(9) اور حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا ابن الذبیحین اے دو ذبیح کے فرزند آپ ﷺ کو اللہ نے جو عطا کیا ہے اس میں سے مجھ کو بھی کچھ عطا کیجئے آنحضرت ﷺ یہ سن کر مسکرائے اور ہنسے حضرت معاویہ ؓ نے جب یہ روایت اپنی مجلس میں بیان کی توحاضرین میں سے کسی نے کہا اے امیر المومنین وہ دو ذبیح کون ہیں تو فرمایا ایک ذبیح تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضور ﷺ کے جد امجد ہیں اور دوسرے ذبیح آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ ہیں جس کا قصہ یہ ہے کہ عبد المطلب نے جب چاہ زمزم کے کھودنے کا حکم دیا تو اللہ سے یہ نذر کی کہ اگر اللہ نے یہ کام آسان کردیا تو ایک بیٹے کو خدا کے نام پر ذبح کروں گا۔
عبد المطلب کے دس بیٹے تھے قرعہ اندازی میں ذبح کا قرعہ عبد اللہ کے نام پر نکلا خاندان اور دیگر احباب نے بیٹے کے ذبح سے ان کو روکا اور مشورہ دیا کہ فدیہ میں سو اونٹ قربان کر ڈالو عبد المطلب نے اس کو منظور کیا اور عبد اللہ کی طرف سے فدیہ میں سو اونٹ دئیے اس طرح سے حضرت عبد اللہ حکما ذبیح اللہ ہوگئے اس لئے حاضر ہونے والے شخص نے حضور ﷺ کو یا ابن الذبیحین سے خطاب کیا اے دو ذبیح کے بیٹے پہلے ذبیح اللہ حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہیں جو حضور پر نور ﷺ کے جد امجد ہیں اور دوسرے ذبیح اللہ آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبد اللہ تھے رواہ الحاکم فی المستدرک وابن جریر فی تفسیرہ وغیرہما روح المعانی ص 122 ج 23 و تفسیر قرطبی ص 113 ج 15۔
(10) نیز اسی طرح ایک مرفوع حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا انا ابن الذبیحین میں دو ذبیح کا بیٹا ہوں دیکھو البحر المحیط ص 369 ج 7 اور روح المعانی ص 124 ج 23۔ حافظ عراقی (رح) فرماتے ہیں کہ میں اس حدیث کی سند پر مطلع نہیں ہوا واللہ اعلم۔
خلاصہ کلام یہ کہ ظاہر قرآن سے یہی معلوم اور مفہوم ہوتا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ہیں اور جمہور صحابہ ا اور تابعین کا بھی یہی قول ہے اور بعض سلف اور خلف سے جو منقول ہوا ہے کہ ذبیح اللہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) تھے وہ درحقیقت کعب احبار ؓ سے منقول ہے ان سے سن کر صحابہ وتابعین نے اس قول کو نقل کیا یا اہل کتاب کے صحیفوں سے ماخوذ ہے جس کی بنا پر قرآن کریم کے صریح اور ظاہر مدلولے عدول ہرگز جائز نہیں دیکھو البدایۃ (ف 1) والنہایۃ لابن کثیر ص 159 حافظ ابن قیم (رح) زاد المعاد میں فرماتے ہیں کہ صحیح قول یہی ہے کہ ذبیح اللہ اسماعیل (علیہ السلام) ہیں جمہور صحابہ وتابعین کا یہی قول ہے اور یہ کہنا کہ ذبیح اسحاق (علیہ السلام) ہیں یہ قول بیس وجہ سے باطل ہے واللہ اعلم۔
1 قال ابن کثیر وقد قال بانہ اسحاق طائفۃ کثیرۃ من السلف وغیرہم وانما اخذوہ واللہ علم من کعب الاحبار اوصحف اھل الکتاب ولیس فی ذلک حدیث صحیح عن المعصوم حتی نترک لاجلہ ظاہر الکتاب العزیز ولا یفہم ھذا من القران بل المفہوم بل المنطوق بل النص عند التامل علی انہ اسمعیل (علیہ السلام) ھ ص 159 ج 1۔
Ayahs 37:114–122قصہ سوم حضرت موسیٰ وہارون (علیہما السلام)
وقال تعالیٰ ولقد مننا علی موسیٰ وھرون۔۔۔ الی۔۔۔ انہما من عبادنا ال مومنین۔
(ربط) اب یہ تیسرا قصہ ہے جس میں ان انعامات خداوندی کا ذکر کرتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر مبذول ہوئے اور پھر ان انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو کلیم اللہ کی اتباع کی برکت سے بنی اسرائیل پر مبذول ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور قہر اور ظلم وستم سے نجات دی اور قوم نوح کی طرح قوم فرعون کو غرق کیا اور ان کے اموال اور املاک کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا اور پھر ان کو توریت جیسی روشن کتاب عطا کی جو حدود اور احکام پر مشتمل تھی اور صراط مستقیم اور راہ ہدایت کو ان پر واضح کرنے والی تھی جو اس راہ پر چلا اس نے فلاح پائی چناچہ فرماتے ہیں اور بیشک ہم نے احسان کی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر نبوت و رسالت کے علاوہ کمالات ظاہرہ اور باطنہ سے ان کو سر فراز کیا اور ان دونوں کو اور ان دونوں کی قوموں کو سخت مصیبت سے نجات دی اور نہ صرف مصیبت اور تکلیف سے نجات دی بلکہ دشمن کے مقابلہ میں ان کی مدد کی پس وہی دشمن پر غالب ہونے والے ہوئے اور ان کی املاک کے وارث بنے اور ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو ایک روشن اور نورانی کتاب دی جس سے مراد توریت ہے جس میں احکام کو واضح طور پر بیان کیا تھا اور ہم نے ان دونوں کو سیدھی راہ دکھائی جو سیدھی منزل مقصود تک پہنچانے والی تھی اور ان کے بعد آنے والی قوموں میں ان کا ذکر خیر باقی چھوڑا کہ وہ کہیں سلام ہو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر چناچہ دونوں کے ساتھ ” (علیہ السلام) “ کا لفظ کہا جاتا ہے بیشک ہم اپنے نیک بندوں کو اسی طرح نیک بدلہ دیا کرتے ہیں کہ ان کو مستحق ثنا وتحسین بنا دیتے ہیں بیشک وہ دونوں ہمارے خاص الخاص ایماندار بندوں میں سے تھے اشارہ اس طرف ہے کہ ایمان ہی تمام کمالات اور انعامات کا منبع اور سرچشمہ ہے۔