Ayahs 37:1–5ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز ہوتا ہے جب وہ دونوں ایک کلمہ میں ہوں جس طرح دابۃ ‘ شابۃ۔
حمزہ کی قرأت کے جواز کی صورت یہ بنتی ہے کہ تاء ان حروف کا قریب الخرج ہے الصقت یہ قسم ہے یہاں وائو ‘ بائو اور بدل ہے معنی ہے صافات کے راب کی قسم فالزجرت کا اس پر عطف ہے۔
ان الھکم لواحد۔ یہ جواب قسم ہے کسائی نے قسم میں ان کے ہمزہ کو فتحہ دینا جائز قرار دیا ہے اصافات سے لے کر التالیات تک سے مراد فرشتے ہیں (1) ‘ یہ حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود ‘ عکرمہ ‘ سعید بن جبیر ‘ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ فرشتے آسمان میں اسی طرح صف باندھتے ہیں جس طرح دنیاں میں مخلوقات نماز کے لکئے صفتیں باندھتی ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ فضا میں اپنے پروں کو صف در صف کیے ہوتے ہیں (2) وہ فضا میں کھڑے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس چیز کا حکم دیتا ہے جو وہ ارادہ فرماتا ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح غلام اپنے مالکوں کے سامنے صفتیں بنائے کھڑے ہوتے ہیں۔
حضرت حسن بصری نے کہا : مراد ہے وہ اپنے رب کے حضور نماز کے لئے صفتیں بناتے ہوئے ہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : صافات سے مراد پرندے ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اولم یرو الی الطیر فقھم) الملک (19: صف کا معنی ہے جمعیت کو ایک لائن میں ترتیب دینا جس طرح نماز میں صف باندھی جاتی ہے۔
الصاف اس کی جمع ہے یہ کہا جاتا ہے : جماعتہ صافتہ پھر اس کی جمع صافات بنائی جاتی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : الصف سے مراد مومنوں کی جماعت ہے (1) جب وہ نماز یا جہاد میں صف میں کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ امام قشیری نے ذکر کیا ہے۔
حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن مسعود ‘ مسروق اور دوسرے علماء کے نزدیک فالزجرت سے مراد فرشتے ہیں انہیں یہ نام اس لئے دیا گیا کیونکہ وہ بادلوں کو جھڑکتے ہیں اور انہیں ہانکتے ہیں ‘ یہ سدی کا قول ہے یا اس لئے کیونکہ نصیحتوں کے ذریعے معاصی سے جھڑکتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد قرآن کے زواجر ہیں۔
فالتیلت ذکرا۔ سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعا کی کتاب کو پڑھتے ہیں ‘ یہ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت حسن بصری ‘ مجاہد ‘ جبیر اور سدی کا قول ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد حضرت جبیل امین (علیہ السلام) ہیں جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ فرشتوں میں سے سب سے بڑے ہیں تو وہ لشکروں اور تبعین سے خالی نہیں ہوتے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ تمام افراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قرآن اور اس کی کتابوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد قرآن کی آیات ہیں ‘ آیات کی صفت تلاوت سے اسی طرح لگائی گئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسراء یل) نمل (76: قران کی آیات کو تالیات کہنا اس لئے بھی جائز ہے کیونکہ بعض حروف بعض کے پیچھے ہوتے ہیں ‘ یہ قشیری نے زکر کیا ہے۔ ماوردی نے یہ ذکر کیا ہے کہ تالیات سے مراد انبیاء ہیں جو وحی کو اپنی اپنی امت کی طرف تلاوت کرتے ہیں۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ صفات میں فاء عاطفہ کس حیثیت سے آئی ہے ؟ اسے کہا جائے گا : یا تو وہ وجود) پائے جانے ( میں معانی کی ترتیب پر دلالت کرتا ہے جس طرح یہ شعر ہے :
یالھف زیابۃ لحارث الصابح فالغانم فالایب (3)
” زیابہ کا حارث کے لئے افسوس جس نے صبح کے وقت حملہ کیا غنیمت حاصل کی اور صحیح وسالم واپس لوٹ گیا “۔ یا بعض اعتبارات سے باہم فرق کی بناء پر انہیں مرتب کرنے کا فائدہ ددیتا ہے جس طرح تیرا یہ قول ہے : خذا الافضل فالا کمل و عمل الاحسن والاجمل۔ افضل کو پھر اکمل کو لو۔ احسن پھر اجمل کام کرو یا صفات کے موصوفات میں ترتبض ثابت کرنے کا فائدہ دیتا ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا : رحم اللہ المحلقین فالمقصرین (4) حلق کرانے والوں پر رحم فرمایا پھر قصر کرانے والوں پر رحم فرمایا۔ ان تین قوانین کی بناء پر صفات میں فاء عاطفہ لایا جاتا ہے ‘ یہ زمحشری کا قول ہے۔
ان الھکم لواحد۔ یہ جواب قسم ہے۔ مقاتل نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے کفار نے کہا : تو تمام معبوں کو ایک معبود بناتا ہے وہ ایک خدا تمام مخلوقات کو کیسے کافی ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے عظمت و شان کو ظاہر کرنے کے لئے ان صفات کے ساتھ قسم اٹھائی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن انباری نے کہا : یہاں پر وقف کرنا اچھا ہے پھر رب السموت والارض سے تو ابتدا کرے معنی یہ ہو گتا وہ آسمانوں کا رب ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رب السموت والارض خبر کے بعد خبر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ واحد سے بدل ہو۔
میں کہتا ہوں : ان دونوں صورت میں لواحد پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ اخفش نے رب السموت و رب المشارق پڑھا ہے اس صورت میں یہ ان کے اسم کی صفت ہوگی یعنی آسمان اور زمین کا خالق اور ان لوگوں کا مالک۔ اللہ تعانی نے اپنی واحدانیت الوبیت اور کمال قدرت کو بیان فرمایا کہ وہ وہ رب السموات والارض یعنی ان کا خالق ومالک ہے۔
وما بینمھا و رب المشارق۔ یعنی سورج کے مطالع کا مالک۔ حضرت ابن عباس نے کہا : سورج کا ہر روز ایک مشرق اور مغرب ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورط کو مطلع کے لئے تین سو پنسٹھ روشن دان بنائے ہیں اسی طرح مغرب میں دنوں کی تعاد کے مطابق غرب ہونے کے لئے روشن دان بنائے ہیں ہر روز ان میں ایک روشن دان سے وہ طلوع ہوتا ہے اور ایک روشن دان میں غائب ہوتا ہے وہ اگلے سال اسی روشن دان سے طلوع ہوتا ہے وہ طلوع نہیں ہوتا مگر مجبوری کے عالم میں طلوع ہوتا ہے وہ کہتا ہے : اے میرے رب اپنے بندوں پر طلوع نہ کر کیونکہ وہ تیری نافرمانی کرتے ہیں ‘ ابو عمر نے اس کتاب الشہھیتد میں ذکر کیا ہے۔ ابن انباری نے کتاب الرد میں عکرمہ سے روایت نقل کی ہے۔ کہا : میں ب نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کی : مجھے بتائیے جو نبی کریم ﷺ سے امیہ بن صلت کے بارے میں مروری قول کو عجیب و غریب جانا ہے :
والشمس تطلع کل آخر لیلۃ حمراء یصبع لونھا یتوزد
لیست بطالعۃ لھم فی رسلھا الا معذبۃ والا تجلد
” سورج ہر رات کے آخر میں سرخ طلوع ہوتا ہے صبح کے وقت اس کے رنگ کلاب کے پھول طرح ہوجاتا ہے ان پر طلوع نہیں ہوتا مگر اسے عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے اور کوڑے مارے جا رہے ہوتے ہیں “۔ کیا وجہ ہے کہ سورج کو کوڑے مارے جا رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں مری جان ہے ! سورج کبھی بھی طلوع نہیں ہوتا مگر ستر ہزار فرشتے اسے کچوکے دیتے ہیں ‘ فرشتے اسے کہتے ہیں : تو طلوع ہو ‘ تو طلوع ہو ‘ وہ کہتا ہے : میں اس قوم پر طلوع نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے چھوڑی میری اطاعت کرتی ہے۔ ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اور انسانوں کی روشنی کے لئے اسے اوپر اٹھاتا ہے ‘ شطیان اس کے پاس آتا ہے وہ اسے طلوع ہونے سے روکنے کا ارادہ کرتا ہے سورج اس کے دو سینگوں کے درمیان طلوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے سورج کے نیچے جلا دیتا ہے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کا بھی یہ مطلب ہے ‘ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس دو سینگوں کے درمیان غرب ہوتا ہے اور جب بھی عروب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتا ہے ‘ شیطان اس کے پاس اس سجدے سے روکنے کے لئے آتا ہے تو وہ اس کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے نیچے جلا دیتا ہے “۔ یہ انباری کے الفاظ ہیں۔
عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن ابی صلت کے اس شعر کی تصدیق کی۔
زحل و ثور تحت رجل یمینہ و النسر لاخری ولیث مرصد
ولشمس تطلع کل آخر لیلۃ حمراء یصبح لونھا یتورد
لیست بطالعۃ لھم فی رسلھا الا معذبۃ والا تجلد
عکرمہ نے کہا : میں حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کی : اے میرے آقا ! کیا سورج کو بھی کوڑے مارے جاتے ہیں ؟ فرمایا : اسے سیرابی نے کوڑوں پر مجبور کرایا لیکن وہ عقات سے ڈرتا ہے مطالع کا ذکر مغارب پر دلالت کرتا ہے اسی طرح اللہ کا فرمان ہے : سرابیل تقیکم الحر) النحل (81: مشارق کا خصوصا زکر کیا کیونکہ طلوع غرب سے پہلے ہوتا ہے۔
سورۃ الرحمن میں رب المشرقین و رب المغربین۔ مشرقین سے مراد وہ دور دراز کا مطلع ہے جہاں سے طویل ترین دن سورج طلوع ہوتا ہے اور سال کے چھوٹے ترین دن میں جہاں سے طلوع ہوتا ہے جس طرح سورة یس میں گذرا ہے۔
Ayahs 37:6–10قتادہ نے کہا : ستارے تین مقاصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں (1) شیاطین کو رجم کرنے کے لئے ‘ ایسے نور کے لئے جس کیساتھ راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور آسمان دنیا کی زینت کے لئے۔ مسروق ‘ اعمش ‘ نحفی ‘ عاصم اور حمزہ نے بزیۃ پڑھا ہے یعنی مجرور اور منون اور لکواکب کو زینۃ سے بدل کے طور پر مجرور پڑھا ہے کیونکہ کواکب ہی زینت ہیں۔ ابوبکر نے اسی طرح پڑھا ہے مگر الکواکب کو زینۃ مصدر کی وجہ سے نصب دی ہے اس کا معنی ہے ہم نے آسمانوں سے ستاروں کو مزین کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ زینۃ سے بدل ہے۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ اسے زینۃ الکواکب پڑھا جائے معنی ہوگا اس کی زینت ستارے ہیں یا معنی ہو یہی کواکب ہیں۔ باقی قراء نے اسے اضافت کیساتھ بزینۃ الکواکب پڑھا ہے معنی ہے ہم نے آسمان دنیا کو کواکب کی تزیین کے ساتھ مزین کیا یعنی ان کے حسن کے ساتھ مزین کیا۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ قراءت تو اس کی قراءت کی طرح ہو جس نے اسے تنوین دی مگر تخفۃکے لئے اسے حذف کردیا و حفظا یہ مفعول مطلق کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی حفظنا حفظا۔
من کل شیطن مارد۔ جب اللہ نے یہ خبر دی کہ فرستے آسان سے وحی کے ساتھ نازل ہوتے ہیں تو یہ بھی واضح کیا اللہ تعالیٰ نے کواکب کے ساتھ آسمان کو مزین کرنے کے بعد آسمان کی اس چیز سے حفاظت کا اہتمام کیا کہ کوئی چوری چھپے آسمان کی خبریں سن لے۔ مارد جنوں اور انسانوں میں سے جو سرکش ہوتا ہے اسے کہتے ہیں ‘ عرب اسے شیطان کہتے ہیں۔
لا یسمعون الی الملا الاعلی ابو حاتم نے کہا کلام اس طرح ہے لئلا یسمعوا پھر ان کو حذف کردیا گیا ہے اور فعل کو رفع دیا گیا الملا الا علی سے مراد آسمان دنیا اور دوسرے آسمانوں والے ہیں۔ تمام کو اعلی اسے لئے کہتے ہیں کیونکہ زمین کے مکینوں کی بنسبت وہ اعلی یسمعون میں ضمیر شیاطین کے لئے ہے جمہور نے اسے یستمعون پڑھا ہے یعنی سین ساکن ہے اور میم مخفف ہے حمزہ اور عاصم نے حفص کی روایت میں لایستمعون پڑھا ہے اس وقت یہ تسمیع سے مشتق ہے ٭ پہلی قراءت کی صورت میں اس کے سماع کی نفی کردی ہے اگرچہ وہ سننے کی کوشش کریں گے۔ یہی صحیح معنی ہے اس کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے : انھم عن السمع لمعزولون۔ ) الشعرائ (
دوسری قراءت کی صورت میں ان سے استماع اور سماع دونوں کی نفی واقع ہیں۔ مجاہد نے کہا : وہ سننے کی کوشش کریں گے اور سن نہ سکیں گے یسمعون کی اصل یتسمعون ہے (1) تاء کو سین پر مدغم کردیا گیا ہے کیونکہ تاء سین کا قریب المخرج ہے ‘ ابوعبیدہ نے اسے پسند کیا ہے کیونکہ عرب کم ہی کہتے ہیں : سمعت الیہ وہ کہتے ہیں تسمعت الیہ و یقذفون من کل جانب انہیں ہر جانب سے شہا بچے مارے جائیں گے۔ دحور مصدر ہے اور مفعول مطلق ہے کیونکہ یقذفون کا معنی بھی یدحرون ہے دحرتہ دحرا و دحور یعنی میں نے اسے دھتکار دیا۔ سلمی اور یعقوب حضرمی نے دحورا پڑھا ہے اس وقت یہ فعول کے وزن پر مصدر ہوگا جہاں تک فراء کا تعلق ہے انہوں نے اسے اسم فاعل کی حیثیت دی ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یقذفون بما یدحرھم یعنی دحور سے پہلے باء حذف ہے کوفی اس کو اکثر استعمال کرتے ہیں جس طرح انہوں نے یہ شعر کہا :
تمرون الدریار و لھم تعوجوا
یہاں الدیار سے پہلے باء حذف ہے۔
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ شہا بچوں کے ساتھ مارنا سرور دو عالم ﷺ کی بعث سے قبل تھا یا بعثت کی وجہ سے اس کے بعد تھا اس بارے میں دو قول ہیں : اس بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے روایات سورة جن میں آئیں گی۔ ان دونوں کے درمیان جمع کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ کہا جائے جنہوں نے یہ کہا : شیاطین کو نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل نہیں مارا جاتا تھا پھر انہیں مارا جانے لگا یعنی انہیں ایسا نہیں مارا جاتا تھا جو انہیں سننے سے روک دے لیکن انہیں کسی وقت مارا جاتا اور کسی وقت نہ مارا جاتا ‘ ایک جانب سے مارا جاتا اور دوسری طرف سے نہ مارا جاتا شاید اللہ تعالیٰ کا فرمان : و یقذفون من کل جانب۔ دحورا ولھم عذاب واصب۔ سے اسی معنی کی طرف اشارہ ہے یعنی پہلے انہیں بعض جوانب سے ہی مارا جاتا تھا تو اب ان کے لئے دائمی عذاب ہے اس سے قبل وہ انسانوں کی جانب سے جاسوسی کیا کرتے تھے ان میں سے کوئی اس کی حاجت پور کردیتا اور کوئی اسے پورا نہ کرسکتا کوئی محفوظ رہتا اور کوئی محفوظ نہ رہتا بلکہ اسے پکڑ لیا جاتا اور اسے عبرتناک سزا دی جاتی۔
جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو آسمان کی حفاظت میں اضافہ کردیا گیا ان کے لئے ایسے شہا بچے تیار کئے گئے جو پہلے تیار نہیں کئے گئے تھے تاکہ آسمان کی تمام جوانب سے انہیں پتھر مارے جائیں پہلے جن جگہوں پر وہ بیٹھتے تھے وہ اب وہاں نہ بیٹھ سکیں جو چیز آسمان میں جاری ہوتی اب وہ اس کے سماع پر قادر نہیں مگر یہ کہ کوئی چیز تیزی سے اچک لیں تو زمین کی طرف آنے سے اپنے دوستوں تک اسے القاء کرنے سے قبل کوئی شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرے اور اسے جلاوے اس طرح کہانت باطل ہوگئی اور رسالت و نبوت حاصل ہوگئی۔
اگر سوال کیا جائے : اگر یہ شہا بچوں کے ساتھ مرنا نبوت کی وجہ سے تھا تو نبی کریم ﷺ نے کہانت کے باطل ہونے کی خبردی ہے فرمایا : لیس منا من تکن جس نے کہانت کی وہ ہم سے نہیں۔
اگر سرور دو عالم ﷺ کے بعد حفاظت و نگہبانی کا سلسلہ نہ ہوتا تو جن پھر سننا شروع کردیتے اور کہانت لوٹ آتی تو یہ باطل ہونے کے بعد جائز نہیں کیونکہ جب حفاظت نبوت کی وجہ سے ہوئی تھی تو حفاظت و نگہداشت کا ختم ہونا اور کہانت کا دوبارہ شروع ہونا ضعیف مسلمانوں کے لئے شبہ کا باعث ہوتا اور اس کا خوف موجود تھا کہ لوگ یہ گمان کرتے کہ کہانت اس لئے لوٹ آئی ہے کیونکہ نبوت ختم ہوچکی ہے تو یہ بات صحیح ہے کہ حکمت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بھی اس کا معنی مرجع کیا ہے یعنی جس کا ورد دل تک جا پہنچتا ہے۔ یہ واصب سے ماخوذ ہے جس کا معنی مرض ہے (1) ۔
الا من خطف الخطفۃ یہ و یقذفون من کل جانب۔ سے مستثنی ہے۔ ایک قول یہ کہا گیا ہے : استثناء غیر وحی کی طرف راجع ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انھم عن السمع لمغزولون۔ فرشتے ایک دوسرے کو جو بات پہنچاتے یہ ان میں سے کوئی چیز چوری چھپے سن لیتے یہ ان امور میں سے ہوتے جو عالم میں وقوع پذیر ہونے والے ہوتے جب کہ اہل زمین کو اس کا ابھی علم نہ ہوتا۔ یہ اس وجہ سے ہوت اکیون کہ شیاطین کے اجسام خفیف ہوتے تو اسوقت انہیں شہا بچوں سے مارا جاتا۔
اس بارے میں صحیح احادیث مروی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں کی طرف بلد ہوتے (1) وہ ایک دوسرے کے اوپر سننے کے لئے بیٹھتے سب سے زیادہ جسارت کرنے والا آسمان کے زیادہ قریب ہوتا پھر اس طرح یکے بعد دیگرے دوسرے ہوتے اللہ تعالیٰ اہل زمین کے بارے میں حکم دیتے اھل سموات اس کے بارے میں آپس میں گفتگو کرتے تو قریبی شیطان اسے سن لیتا اور وہ اسے نیچے والے کی جانب القا کرتا کبھی شہا بچہ اسے جلا دیتا اور بعض اوقات وہ کلام القا کرلیتا اور شہا بچہ اسے نہ جلاتا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو وہ بات کاہنوں تک جا پہنچتی وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتے اور وہ بات سچی ہوتی جس طرح ہم نے سورة الانعام میں بیان کیا ہے جاہل سب کو سچ تسلیم کرلیتے۔
جب اللہ تعالیٰ اسلام لے آیا تو آسمان کی شدت سے حفاظت کی گئی تو کوئی شیطان نہ بچا جس نے کوئی حتمی بات سنی مارے جانے والے ستارے وہی ہیں جنہیں لوگ ٹوٹتا ہوا دیکھتے ہیں۔
نقاش اور مکی نے کہا : اس سے مراد وہ ستارے نہیں جو آسمان میں جاری ہیں کیونکہ ان کی حرکت نہیں دیکھی جاتی یہ پھینکے جانے والے ستارے ہیں جن کی حرکت دیکھی جاتی ہے کیونکہ ان ستاروں میں قریب ترین ہیں۔ سورة حجر میں اس کے بارے میں کافی وضاحت گذر چکی ہے۔ ہم نے سورة سباء میں حضرت ابوہریرہ سے مروی حدیث ذکر کی ہے اس میں ہے : ” شیاطین ایک دوسرے کے اوپر تھے “۔ (2) اس حدیث کے بارے میں امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے مری ہے : ” شیاطین تیزی سے اچک لیتے ہیں (3) تو انہیں شہابچے مارے جاتے ہیں وہ ان باتوں کو اپنے دوستوں کی طرف القا کرتے ہیں جو وہ بات اس طریقہ پر کریں تو وہ حق ہوتی ہے لیکن وہ اس میں تبدیلی کر دیت یہیں اور اس میں اضافہ کردیتے ہیں “ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ خطف کا معنی تیزی سے کسی چیز کو لے لینا ہے۔ یہ یوں استعمال ہوتا ہے خطف ‘ خطف ‘ خطف ‘ خطف ‘ خطف۔ مشدد میں اصل اختطف ہے تاء کو طاء میں مدغم کیا گیا کیونکہ یہ اس کی اخت ہے خاء کو فتحہ دیا گیا ہے کیونکہ تاء کی حرکت اس پر ڈالی گئی ہے۔ جس نے اسے کسرہ دیا تو وہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے ہے جس نے طاء کو کسرہ دیا ہے تو اس نے کرہ کو کسرہ کے تابع کیا ہے۔
ثاقب سے مراد روشن ہے ‘ وہ صحاک ‘ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس سے مراد آگ کے ساتے ہیں جو ان کا پیچھا کرتے ہیں یہاں تک کہ انہیں سمندر میں گرا دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے الشھب کے بارے میں فرمایا : وہ ان شیاطین کو موت کے بغیر جلاتے ہیں وہ شہا بچے جن کے اتھ لوگوں کو مارا جاتا ہے وہ ان ثابت ستاروں سے نہیں ہوتے اس پر ان کی حرکات کا دکھائی دینا دلالت کرتا ہے ثابت کواکب چلتے ہیں ان کی دوری کی وجہ سے ان کی حرکات دکھائی نہیں دیتیں۔ یہ بحث بھی گذر چکی ہے۔
شہاب کی جع شھب ہے جمع قلت میں قیاص اشھبہ ہے اگرچہ عربوں سے یہ جمع کا وزن نہیں سنا گیا۔ ثاقب کا معنی روشن ہے ‘ یہ حضرت حسن بصری ‘ مجاہد اور ابو مجاہد کا قول ہے ‘ اس معنی میں یہ قول ہے :
و زندک اثقب ازنادھا
یعنی تیری زند) وہ لکڑی سے آگ روشن کی جاتی تھی ( تمام زندوں سے زیادہ روشن ہے اخفش نے اس کی جمع کی بارے میں کہا شھب ثقب ‘ ثواقب اور ثقاب۔ نسائی نے کہا : ثقبت النار تثقب ثقابۃ و ثقوبا ‘ جب وہ روشن ہو اثقب تھا انا میں نے اسے روشن کیا۔ زین بن اسلم نے ثاقب کے بارے میں کہا : وہ روشن ہے ‘ یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے اثقب زندک یعنی اپنی آگ روشن کر ‘ یہ اخفش کا قول ہے اور شاعر کا قول پڑھا :
بینما المرء شھاب ثاقب ضرب الدھر سناہء فخمد (1)
اس اثناء میں کہ انسان ایک روشن ستارہ ہوتا ہے زمانہ اس کی چمک کو ضرب لگاتا ہے تو وہ بچھ جاتا ہے۔
Ayahs 37:11–17یعنی اہل مکہ سے پوچھیئے۔ یہ مفتی سے فتوی طلب کرنے سے ماخوذ ہے ام من خلقنا سے مراد آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور سمندر ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا : اس میں فرشتے اور سابقہ امتیں داخل ہیں اس پر یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اسے من کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ سعد بن جبیر نے کہا : اس سے مراد فرشتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : سے مراد سابقہ امتیں ہیں (3) جو ہلاک ہو چکیں وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ آیت اشد بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اسے ابوارشد اس لیے کہا گیا کیونکہ اس کی پلڑ اور قوت بہت زیادہ تھی اس کا ذکر سورة البلد میں آئیگا اس کی مثل یہ آیت ہے : لخلق السموت والارض لازب من خلق الناس) مومن (57: اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ء انتم اشد خلقا ام السماء) النازعات (27:
لازب کا معنی لیسدار مٹی ہے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ اس معنی میں حضرت علی ؓ کا قول ہے :
تعلم فان اللہ زادک بسطۃ واخلاق خیر کلھا لک لازب (1)
علم حاصل کرو اللہ تعالیٰ تیرے جسم میں بھلائی کے اعمال میں اضافہ کرے وہ سب تیرے ساتھ وابسطہ ہوں۔
قتادہ ابن زید نے کہا : لازب کا معنی ہے چمٹنے والی۔ مارودی نے کہا : لاصق اور لازق میں فرق یہ ہے (2) لا صق اسے کہتے ہیں جن کا کچھ حصہ دوسرے کے ساتھ چمٹا ہوا ہو اور لازق اسے کہتے ہیں جو جس چیز کے ساتھ لگتا ہے اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ عر کرمہ نے کہا : لازب کا معنی لزج ہے یعنی لیسدار۔ سعید بن جبیر نے کہا : گرم گوند جو ہاتھ سے چمٹ جائے۔ مجاہد نے کہا : لازب سے مراد لازم ہے عرب کہتے ہیں : طین لازب ‘ لازم۔ باء میم سے بدلی ہوئی ہے اس کی مثل ان کا قول ہے : لا زب ‘ لا تم باء میم سے بدلی ہوئی ہے لازب کا معنی ثابت ہے تو کہتا ہے : صار الشی ضربۃ الازب۔ یہ ضربہ الازم سے زیادہ بلیغ ہے نابغہ نے کہا :
ولا تحسبون الخیر لا شر بعدہ ولا تحسبسون الشر ضربۃ لازب (3)
تم خیر کو گمان نہیں کرتے اس کے بعد شر نہیں ہوگی اور تم شر کو ضرب لازب خیال نہیں کرتے۔
فراء نے عربوں سے یہ حکایت بیان کی ہے : طین لازب یہ لازم کے معنی میں ہے لازب کا معنی ثابت ہے اسی سے تو یہ باب ذکر کرتا ہے لتب یلتب لتبا و التوبا یہ لذب یلذب لذوبا کی طرح ہے۔ ابو حراج نے لاتب کے بارے میں یہ شعر پڑھا ہے :
فان بک ہذا من نبیذ شربتہ ‘ فانی من شرب النیذ لتائب
صداع و تومیم العظام و فترۃ و غم مع الاشراق فی الجوف لاتب (4)
” اگر یہ اس نبیذ سے ہے جسے میں نے پیا ہے تو میں نبیذ کو پینے سے تائب ہوں سردرد ‘ ہڈیوں میں سراخ ‘ شکستگی اور چمٹ جانے والا غم جب کہ پیٹ میں اگ روشن ہے “ لاتب سے مراد لاحق ہے جو لازب کی مثل ہے ‘ اصمعی سے جوہری نے یہ حکایت بیان کی ہے۔ سدی اور کلبی نے کہا : لازب سے مراد خالص ہے ؤ مجاہد اور صحاک نے کہا : اس سے مرادبدبودار ہے ؤ
بل عجب و یسخرون۔ اہل مدینہ ‘ ابو عمرو اور عاصم نے عجبت کو تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے یعنی قرآن میں سے جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے اس سے آپ تعجب کا اظہار کرتے ہی جب کہ وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ‘ یہ شریح کی قراءت ہے اور ضمہ والی قراءت کرنا پسند کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر تعجب کا اظہار نہیں کرتا تعجب کا اظہار وہ کرتا ہے جو علم نہیں رکھتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے بلکہ وہ جو بعث کا انکار کرتے ہیں اس پر آپ تعجب اظہار کرتے ہیں عاصم کے علاوہ کفہ کے قراء نے اسے تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ‘ ابو عبیدہ اور فراء نے اسے پسند کیا ہے ‘ یہ حضرت علی شیر خدا اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے انہوں نے اسے بل عجبت پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ فراء نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : بل عجببت و یسخرون۔ کے بارے میں کہا : لوگوں نے اسے تاء کو رفع اور نصب کے ساتھ پڑھا ہے جب کہ رفع مجھے زیادہ محبوب ہے کیونکہ حضرت علی شیر خدا ‘ حضرت عبداللہ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروری ہے۔
ابوزکریا فراء نے کہا : فعل عجب کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے گا تو اس کا وہ معنی نہ ہوگا جو معنی اس وقت ہوگا جب اسے بندوں کی طرف منسوب کیا جائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اللہ یستھزی بھم) ابقرۃ (15: اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب کی صورت میں اس کا وہ معنی نہیں ہوگا جو معنی بندوں کی طرف منسوب ہونے کی بناء پر کیا جات ا ہے۔ یہ اصل میں شریح کے قول کا رد ہے جب اس نے اس قراءت کا انکار کیا۔
جریر اور اعمش نے ابو وائل شقیق بن سلمہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اسے یل عجبت و یسخرون پڑھا ہے۔ شریح نے کہا : اللہ تعالیٰ کسی چیز کی وجہ سے تعجب کا ظہار نہیں کرتا تعجب کا اظہار وہ کرتا ہے جو علم نہیں رکھتا (1) اعمش نے کہا : میں نے ابراہیم کے سامنے اس کا ذکر کیا ‘ انہوں نے کہا ‘ شریح کو اپنی رائے اچھی لگتی ہوگی بیشک حضرت عبداللہ شیح سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ اسے بل عجبت پڑھتے۔ ہر وی نے کہا : بعض ائمہ نے کہا بل عجبت کا معنی ہے بلکہ میں انہیں کے تعجب پر بدلہ دوں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کئی موقع پر ان کے بارے میں خبردی کہ وہ حق سے تعجب کا اظہار کرتے ہیں : و عجبوا ان جا ھم منذر منھم) ص (3: فرمایا : ان ہذا الشرء عجاب۔ ارشاد فرمایا : اکان للناس عجا ان اوحیا او حینا الی رجل منھم) یونس (2: اللہ تعالیٰ کا فرمان : بل عجبت بلکہ میں نے انہیں ان کے تعجب پر سزا دی۔
میں کہتا ہوں : یہ فراء کے قول کا خلاصہ ہے ‘ بیہقی نے اسے پسند کیا۔ علی بن سلیمان نے کہا : دونوں قرائتوں کا معنی ایک ہی ہے تقدیر کلام یوں ہوگی قل ای محمد بل عجبت ‘ کیونکہ نبی کریم ﷺ کو قرآن کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ بہت اچھا قول ہے۔ قول اکثر مضمر ہوتا ہے بیہقی نے کہا : پہلا قول زیاد صحیح ہے۔ مہدوی نے کہا : یہ بھی جائز ہے اللہ تعالیٰ کے اپنے نفس کے بارے میں تعجب کے اظہار کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا کہ جس نے اس کا انکار کیا اس کے بارے میں اس نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے اسے مخلوق کی جانب سے تعجب کے قائم مقام رکھ دیا جائے جس طرح بات پر وہ راضی ہوتا ہے اس کے بارے میں خبردنے کو ضحک پر محمول کیا گیا جاتا ہے جس طرح حدیث طیبہ میں آیا ہے کہ جس سے وہ راضی ہوا اس کے اظہار کو مجاز مخلوقات کے ضحک کے قائم مقام رکھا۔
ہر وی نے کہا : عجب ربکم کا معنی ہے تمہارا رب راضی ہو اور اس نے بدلہ دیا اسے عجب کا نام دیا مگر حقیقت میں وہ عجب نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : و یمکر اللہ) انفال (30: اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مکر پر بدلہ دیتا ہے اس کی مثل حدیث ہے : عجب ربکم من الکھم و قنوطکم (2) تمہارا رب تمہاری آہ و ازاری اور تمہاری مایوسی پر تمہیں بدلہ دیتا ہے۔ بعض اوقات عجب کا لفظ اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ وہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم ہوتا ہے اس صورت میں بل عجبت کا معنی ہے بلکہ ان کا فعل میرے ہاں عظیم ہے۔ بیہقی نے کہا : یہ بھی امکان ہے کہ یہ حضرت عقبہ بن عامر کی حدیث کے ساتھ معنی کے مشابہ ہو۔ کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : عجب ربک من شباب لیس لہ صبوۃ (1) تیرے رب کے ہاں ان نوجوان کا مکالمہ عظیم ہے جس میں خواہش نفس کی طرف میلان نہ ہو۔ امام بخاری نے ابوہریرہ ؓ سے جو ایت نقل کی ہے وہ بھی اسی کی مثل ہے : اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قوم کا معاملہ عظیم ہے جو جنت کے بیڑیوں کے ساتھ داخل ہوتا ہے “ بیہقی نے کہا : یہ حدیث اور جو اس کی مثل احادیث وارد ہوئی ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر جو کرم اور شفقت فرماتا ہے اس کے فرشتے اس پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں جب انہیں برا نگینختہ کیا کہ وہ ایمان لائن یہ صورت قتال اور بیڑیوں میں جکڑنے کے ساتھ واقع ہوئی یہاں تک کہ جب وہ ایمان لائے تو انہیں جنت میں داخل کردیا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا : عجبت کا معنی ہے بلکہ میں نے اسے عجیب و غریب جانا۔ نقاش نے اسے بیان کیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : اللہ تعالیٰ کی جانب سے تعجب سے مراد کسی شے کو عجیب و غریب جاننا اور اس کی عظمت شان بیان کرنا ہے۔ یہ عربوں کی لغت ہے حدیث طیبہ میں ایا ہے : عجب ربکم من الکم و قنوطکم اللہ تعالیٰ نے تمہاری آہ و ازاری اور تمہاری مایوسی کو و غریب جانا۔
و یسخرون۔ میں وائو حالیہ ہے تقدیر کلام یوں ہوگی عجببت منھم فی حال سخریتھم۔ ایک قول یہ کیا گیا : بل عجبت پر کلام مکمل ہوگئی پھر نئی کلام شروع ہوئی اور فرمایا : و یسخرون یعنی وہ اس کا تمسخر اڑاتے جو آپ لائے جب تو نے اسے ان پر تلاوت کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : جب آپ ﷺ انہیں دعوت دیتے ہیں تو وہ تیرا مذاق اڑاتے ہیں۔
و اذا ذکرو قتادہ کے قول کے مطابق جب انہیں قرآن کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے لا یذکرو ن۔ تو وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے (2) ۔ سعید بن جبیر نے کہا : جب ان کے سامنے اس عذاب کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان سے قبل جھٹلانے پر نازل ہوا تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں اور اس میں تدبیر نہیں کرتے۔
و اذا را وا ایۃ جب وہ کسی معجزہ کو دیکھتے ہیں تو وہ مذاق اڑاتے ہیں ‘ یہ قتادہ کا قول ہے وہ کہتے : وہ جادہ ہے استسخر اور سخر دونوں کا ایک ہی معنی ہے (3) جس طرح اس تقر اور قر کا معنی ایک ہی ہے اور استعجب اور عجب کا معنی ایک ہی۔ ایک قول یہ کیا گیا یستسخرون۔ کا معنی ہے وہ غیروں سے مذاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے وہ استہزاء کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا یستسخرون۔ کا معنی ہے وہ غیروں سے مذاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہے وہ استہزاء کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ گمان کرتے ہیں کہ یہ آیت مذاق ہے۔ و قالون ان ھذا الا سحر مبین۔ جب وہ معجزاب کا مقابلہ کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو کہتے ہیں : یہ جادو ‘ خیال اور دھوکہ ہے۔ ء اذا متنا جب ہم مر جائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ یہ استفہام انکار اور مذاق کے لئے ہے اور ہم آباء کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ ہمزہ استفہام کو حرف عطف پر داخل کیا گیا ہے۔ او اباء و انا نافع نے اڈکو وائو کے سکون ساتھ پڑھا ہے۔ وہ بحث سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اوا من اھل اقری) اعراف (98:
Ayahs 37:18–21قل نعم ہاں تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ و انتم داخرون۔ جب کہ تم ذلیل و خوار ہو گے کیونکہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا اس کے وقوع کو دیکھیں گے تو لامحالہ وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ ایک قول یہ کیا گیا : عنقریب قیامت برپا ہوگی اگرچہ تم ناپسند کرو تمہارے نہ چاہتے ہوئے یہ امر واقع ہوگا اگر تم اپنے گمان کے مطابق اس کا انکار کرو۔
یہ تو ایک چیخ ہے ‘ یہ حسن بصری کا قول ہے۔ (1) ۔ اس سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔ صیحہ کو جزہ کا نام دیا ہے (2) کیونکہ اس سے مقصود جھڑکنا ہی ہے یعنی اس کے ساتھ انہیں جھڑکا جائے گا جس طرح ہانکتے وقت اونٹوں اور گھوڑوں کو جھڑکا جاتا ہے تو وہ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہونگے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ انتظار کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کہا گیا : یہ بھی اللہ تعلای کے اس فرمان کی طرح ہے : فاذا ہی ساخصۃ ابصار الذین کفروا) انبیائ : (97 ایک قول یہ کہا گیا ہے : وہ اس بعث کو دیکھیں گے جس کا انہوں نے انکار کیا۔
و قالو یویلنا ھذا یوم الذین۔ وہ اپنے لئے ہلاکت کو پکاریں گے کیونکہ اس روز انہیں علم ہے جو ان پر واقع ہونے وال ا ہے۔ بصریوں کے نزدیک ویل کا لفظ منصوب ہے کیونکہ یہ مصدر ہے۔ فراء نے یہ گمان ہے : اس کی تقدیر کلام ہوں ہوگی یاوی لنا اور دی ‘ حزن کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا : اگر یہ اسی طرح ہو جس طرح اس نے کہا تو یہ الگ ہوتا جب کہ مصحف میں یہ متصل ہے ہم ہر کسی کو جانتے ہیں کہ وہ اسے متصل ہی لکھتا ہے یوم الذین سے مراد یوم حساب ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد یوم جزاء ہے۔
ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ گذبون۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان کا ایک دوسرے کے لئے قول ہے یعنی یہ وہ دن ہے جس کو ہم نے جھٹلایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا ان کے حق میں قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ فرشتوں کا قول ہے یہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کا دن ہے وہ حق پرست کو باطل پرست سے الگ کر دے گا پس ایک جنت میں اور ایک فریق جہنم میں ہوگا۔
Ayahs 37:22–35احشروا الذین ظلمو و اذو جہم یہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے لئے فرمان ہے یعنی مشرکوں اور شرک میں جو ان کے ساتھی تھے انہیں اٹھائو۔ شرک سے مراد ظلم ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان الشرک لظلم عظیم۔ ) لقمان ( کافر کو کافر کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تیرر کرتے ہوئے کہا : بد کار کو بدکار کے ساتھ ‘ شرابی کو شرابی کے ساتھ اور چور کو چور کے ساتھ اٹھایا جائے گا (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ازواجہم سے مراد ان کی مثل ہیں یہ حضرت عمر ؓ کے قول کی طرف ہی لوٹتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک میں ان کے موافق ہیں (2) یہ مجاہد اور حسن بصری کا نقطہ نظر ہے۔ نعمان بن بشیر نے حضرت عمر بن خطاب سے یہی روایت کیا ہے صحاک نے کہا : ازواجہم سے مراد شیاطین میں سے ان کے ساتھ ہیں (3) یہ مقاتل کا بھی قول ہے۔ یہ کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑ کر اٹھایا جائے گا وما کانو یعبدون۔ من دون اللہ سے مراد بت ‘ شیطان اور ابلیس ہے (4) فاھدوھم الی صراط الجحیم۔ انہیں جہنم کی طرف لے چلو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ازواجہم سے مراد ان کی وہ بیویاں ہیں جو شرک میں ان کے موافق ہیں (2) ‘ یہ مجاہد او حسن بصری کا نقطہ نظر ہے۔ نعمان بن بشیر نے حضرت عمر بن خطاب سے یہی روایت کیا ہے صحاک نے کہا : ازواجہم سے مراد شیاطین میں سے ان کے ساتھ ہیں (3) ‘ یہ مقاتل کا بھی قول ہے۔ یہ کافر کو اس کے شطان کے ساتھ ایک زنجیر میں جکڑ کر اٹھای اجائے گا اما کانو یعبدون۔ من دون اللہ سے مراد بت ‘ شیطان اور ابلیس ہے (4) ۔ فاھدو ھم الی صراط الجحیم۔ انہیں جہنم کی طرف لے چلو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کی راہنمای کرو ‘ یوں کہا جاتا ہے : ہدیۃ الی اطریق ‘ ہدایتہ الطریق ‘ یعنی میں نے اس کی راستہ کی طرف راہنمائی کی اس طرح اھدیت الھدیۃ و ھدیت العروس۔ اس طرح یہ کہا جاتا ہے : اھدی تھا یعنی میں نے اسے ہدیہ کے قائم مقام بنا دیا۔
و قفو ھم انھم مسئولون۔ کے بارے میں عیسیٰ بن عمر نے کہا : ان فتحہ کے ساتھ ہے۔ کسائی نے کہا تقدیر کلام یوں ہے لانھم ‘ بانھم مسئولون۔ کے بارے میں عیسیٰ بن عمر نے کہا : ان فتحہ کے ساتھ ہے۔ کسائی نے کہا تقدیر کلام یوں ہے لانھم ‘ بانھم ‘ یوں باب بیان کیا ہے وقفت الدابۃ اقفھا و قا فوقفت ہی و قوفا۔ کبی یہ فعل متعدی استعمال ہوتا ہے اور کبھی غیر متعدی استعمال ہوتا ہے یعنی انہیں روک۔ یہ انہیں جہنم کی طرف ہانکے جانے سے قبل ہوگا ‘ اس میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی انہیں حساب کے لئے روکو پھر انہیں جہنم کی طرف ہانک کرلے جائو۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : پہلے انہیں آگ کی طرف ہانکا جائے گا پھر وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو انہیں سوال و جواب کے لئے روک لیا جائے گا۔ انھم مسئولون۔ ان سے ان کے اعمال ‘ اقوال اور افعال کے بارے میں سوال کیا جائے گا ‘ یہ قرظی ‘ کلبی اور ضحاک نے کہا : ان سے ان کی خطائوں گے بارے میں پوچھا جائے گا حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ان سے لا الہ الا اللہ کے بارے میں پوچھا جائے گا ان سے یہ بھی مروی ہے کہ اسے مخلوق پر ظلم کی جانب سے پوچھا جائے گا۔ ان سب میں یہ دلیل موجود ہے کہ کفار سے بھی حساب لیا جائے گا۔ سورة الحجر میں اس کے بارے میں گفتگو پیچھے گزر چکی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ان سے سوال یہ ہوگا کہ ان سے کہا جائے گا : کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے یہ حجت قائم کرنے کے لئے ہوگا انہیں کہا جائے گا : مالکم لا تناصرون۔ کیا وجہ ہے تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ یہ شرمندہ کرنے کے لئے سوال کیا جائے گا کہ تم میں سے بعض بعض کی مدد کرتا اور اسے اللہ کے عذاب سے محفوظ کرتا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : غزوہ بدر کے موقع پر ابوجہل کے قول کی طرف اشارہ ہے (1) نحن جمیع منتصر۔ ) القمر ( اصل میں تتناصرون تھا تخفیف کے طریقہ پر ایک طاء کو حذف کردیا گیا۔ بزی نے وصل کی صورت میں تاء کو مشدو پڑھا ہے۔
قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے عزاب میں سر تسلیم خم کیے ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ ذلیل و عاجز ہوں گے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ اطاعت شعار ہوں گے۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔
و اقبل بعضھم علی بعض رو ساء اور پیرو کار باہم جھگڑنے لگیں گے۔ ایک قول یہ بھی کیا جاتا ہے : اصل میں لا یتساء لون ہے لا سا قط ہوگیا۔
نحاس نے کہا : لعت سے ناواقف آدمی نے غلطی کی ہے اس نے یہ دہم کیا ہے اس کلام کا تعلق بھی اس قول سے ہے فلا انساب بینھم یومیذ ولا یتساء لون۔ ) مومنون ( جب کہ یہ اصل میں لا یتساء لون بالا رحام ہے ان میں سے ایک کہتا ہے : میں تجھ سے اس رشتہ داری کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جو میرے اور تیرے درمیان ہے جس کے باعث تو نے مجھے نفع دیا یا تیرا حق جو مجھ پر تھا اسے ساقط کردیا یا تو نے مجھے نیکی ہبہ کردی یہ واضح ہے کیونکہ اس سے قبل فلا انساب بینھم) مومنون (101: ہے یعنی وہ اس نسب کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھاتے جو ان کے دمیان ہے جس طرح حدیث طیبہ میں آیا ہے : ” بیشک انسان اس امر سے خوش ہوگا کہ اس کا اپنے باپ یا بیٹے پر حق ثابت ہو تو وہ اس سے لے کیونکہ وہ نیکیاں ہوں گی یا برائیاں ہوں گی “۔ ایک حدیث میں ہے : ” اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم کرے جس کا اپنے بھائی کے ہاں کوئی حق تھا وہ مال سے متعلق تھا یا عزت سے متعلق تھا یا عزت سے متعلق تھا وہ بھائی کے پاس آیا اور اپنے مطالبہ سے پہلے اس کو اپنے لیے حلال جان لیا تو وہ اس کی نیکیوں میں سے لے گا اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہونگی تو مطالبہ کرنے والے کی برائیوں میں اس پر اضافہ کردیا جائے گا “ ٭۔ یہاں یتساء لون کا معنی ہے وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور اس بارے میں شرمندہ کریں گے کہ اس نے اسے گمراہ کردیا یا اس کے لئے معصیت کا دروازہ کھول دیا مابعد کلام انکم کنتم تاتوننا عن الیمین۔ اس کی وضاحت کرتی ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ کفار کا شیاطین کے لئے قول ہے : انکم کنتم تاتوننا عن الیمین۔
مجاہد نے کہا : یہ کفار کا شیاطین کے لئے قول ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ انسانوں کا جنوں کے لئے قول ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پیروکاروں کا سرداروں کے لئے قول ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و لو تری اذا الظلممون مرقوفون عندربھم یرجع بعضھم الی بعض القول) سبا (31: سعید نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ تم ہمارے پاس بھلائی کے راستے سے آتے تھے اور ہمیں اس سے روک دیتے تھے (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی مثل مروی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تم ہمارے پاس قسم کے طریقہ سے آتے تھے جسے ہم پسند کرتے اور جس سے ہم فال لیا کرتے تھے تاکہ نصیحت کے انداز میں ہمارے ساتھ دھوکہ کریں۔ قسم کے اندراز میں جو کلام لائی جاتی عرب اس سے فال لیا کرتے اور اسے سانح کا نام دیتے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تم ہمارے پاس اس آدمی کے آنے کی طرح آتے جو ہمارے سامنے قسم اٹھاتا تو ہم اس کی تصدیق کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا : تم ہمارے پاس دین کا لبادہ اوڑھ کر آتے تو ہم پر شریعت کے معاملہ کو ہلکا کردیتے اور تم ہمیں اس سے نفرت دلاتے۔
میں یہ کہتا ہوں کہ یہ قول بہت اچھا ہے کیونکہ دین کے واسطہ سے خیر اور شر کی پہچان ہوا کرتی ہے یمین ‘ دین کے معنی ہے یعنی تم ہمارے سامنے گمراہی کو مزین کر کے پیش کیا کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یمین کا معنی قوت ہے یعنی تم ہمیں قوت ‘ علبہ اور قہر سے روک دیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کا فرمان : فراغ علیھم ضربا بالیمین۔ ) صافات ( یہاں یمین قوت کے معنی میں ہے اور انسان کی طاقت اس کی قسم میں ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا :
اذا ما رابۃ رفعت لمجد تلقاھا عرابۃ بایمین (3)
جب کوئی جھنڈا بزرگی کے لئے بلند کیا جاتا ہے عرابہ اسے بڑی قوت کے ساتھ قبول کرتا ہے۔
یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : تم ہمارے پاس حق کے راستہ سے آتے تھے اور یہ ظاہر کرتے کہ حق تمہارے ساتھ ہے (4) ۔ سب کا معنی قریب قریب ہے۔
انہوں نے کہا بلکہ تم تو مومن ہی نہ تھے یہ شیاطین کا ان لوگوں کے حق میں ایمان ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رئو ساء کا قول ہے یعنی تم تو کبھی بھی مومن نہ تھے کہ ہم تمہیں ایمان سے کفر کی طرف منتقل کرتے بلکہ تم تو کفر پر ہی تھے اور اس کے ساتھ مانوس ہوئے اور عادت کی وجہ سے اسی پر قائم رہے۔ وما کان لنا علیکم من سلطان اور حق کو ترک کرنے میں ہمیں تم پر کوئی غلبہ نہ تھا۔ بل کنتم قما طغین۔ بلکہ تم گمراہ اور حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔ فحق علینا قول ربنا ہم نے پر ہمارے رب کا فرمان ثابت ہوگیا۔ یہ بھی پیروکاروں کا قول ہے یعنی ہم پر اور تم پر ہمارے رب کا حکم ثابت ہوگیا ہم میں سے ہر ایک عذاب چکھنے والا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے اور رسولوں کی زبانوں سے ہمیں خبردار کیا ہے : لاملن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجعمعین۔ ) ص ( یہ حدیث کے موافق ہے ” اللہ تعالیٰ نے جہنم کے اہل لکھ دیئے ہیں اور جنت کے اہل لکھ دیئے ہیں نہ ان میں اضافہ ہوگا اور نہ ان میں کمی ہوگی “۔ فاغوینکم پس جس کفر پر تم تھے ہم نے اسے ہی تمہارے لئے مزین کر کے پیش کیا تھا۔ انا کنا غوین۔ تم تو وسوسہ اور استدعاء کر کے گمراہ کیا کرتے تھے پھر ان سب کے بارے میں خبر دی کہ اس روز گمراہ اور گمراہ کرنے والے عذاب میں شریک ہوں گے ہم مشرکوں کے ساتھ اسی قسم کا فعل کرتے ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہو تو وہ تکبر کا اظہار کرتے ہیں یہاں قول مضمر ہے۔
یستکبرون۔ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے نصب کے محل میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ رفع کے محل میں ہو کیونکہ یہ ان کی خبر ہے اور کان ملغا ہے جب نبی کریم ﷺ نے ابوطالب کی وفات پر قریش کے اجتماع کے موقع پر کہا : قولا لا الہ اللہ کہو اس کلمہ کے واسطہ سے تم عربوں کے مالک بن جائو گے اور عجمی تمہارے مطیع ہوجائیں گے۔ انہوں نے یہ کہنے سے انکار کردیا اور اس سے نفرت کرنے لگے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے اور اس قوم کا ذکر کیا ہے جنہوں نے تکبر کیا تھا تو فرمایا : انھم کانو اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ حمیۃ الجاھلیۃ فانزل اللہ سکینتہ علی رسول و علی المومنین والزمھم کلمۃ التقوی و کانوا حق بھا و اھلھا) فتح (26: کلمہ تقوی سے مراد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے مشرکوں نے حدیبیہ کے موقع پر اس سے تکبر کا اظہار کیا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے صلح کی مدت کے حوالے سے یہ کلمہ لکھوایا تھا اس خبر کو بیہقی نے ذکر کیا ہے اور اس سے قبل کو قشیری نے ذکر کیا ہے۔
Ayahs 37:36–40کیا ہم شاعرو مجنوں کے کہنے سے اپنے معبودوں کو ترک کردیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر اس قول کو رد کردیا۔ حق سے مراد قرآن اور توحید ہے بلکہ وہ تو قران لایا اور توحید کا سبق دیا اور رسول جو توحید کا پیغام ائے تھے ان کی تصدیق کی انکم لذائقوا الغذب الالیم تم عذاب الیم چکھنے والے ہو۔ لذابقوا اصل میں لذاتون تھا نون استخفاف کے لئے حذف کردی گئی اور اضافت کی وجہ سے ما بعد کو العذاب الالیم کسرہ دیا گیا۔ اس میں نصب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح سیبویہ نے شعر کو پڑھا :
ٖٖفالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا
” میں نے اسے پایا کہ وہ رضامندی کا طالب نہیں تھا اور وہ اللہ کا زکر بھی تھوڑا کرتا تھا “ سیبویہ نے اس وجہ سے والمقیمی الصلاۃ کو جائز قرار دیا ہے۔ اور تم جو شرک کا ارکاب کرتے رہے ہو اس کا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا الا عباد اللہ المخلصین۔ جو عذاب چکھتا ہے اس سے یہ مستثنی ہیں۔ اہل مدینہ اور اہل کوفہ کی قراءت المخلصین یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت ‘ اپنے دین اور اپنی دوستی کے لئے خالص کرلیا ہے باقی قراء نے اسے لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے معنی ہوگا جنہوں نے عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کیا۔ ایک قوم یہ کیا گیا : یہ مستثنی منقطع ہے یعنی اے مجرمو ! عذاب کا ذائقہ چکھنے والے ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے عذاب نہیں چکھیں گے۔