Explained with ayahs 1–5
فرشتوں کا تذکرہ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان تینوں قسموں سے مراد فرشتے ہیں۔ اور بھی اکثر حضرات کا یہی قول ہے۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں آسمانوں پر ہیں۔ مسلم میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ہمیں سب لوگوں پر تین باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کی گئی ہیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنادی گئی ہے۔ اور پانی کے نہ ملنے کے وقت زمین کی مٹی ہمارے لیے وضو کے قائم مقام کی گئی ہے۔ مسلم وغیرہ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے ہم سے فرمایا تم اس طرح صفیں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے سامنے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم نے کہا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا اگلی صفوں کو وہ پورا…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 3
سورج ہمیشہ ایک ہی مطلع سے نہیں نکلتا بلکہ ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع ہوتا ہے۔ نیز ساری زمین پر وہ بیک وقت طابع نہیں ہوجاتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں پر مختلف اوقات میں اس کا طلوع ہوا کرتا ہے۔ ان وجوہ سے مشرق کے بجائے مشارق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ مغارب کا ذکر نہیں کیا گیا، کیونکہ مشارق کا لفظ خود ہی مغارب پر دلالت کرتا ہے، تاہم ایک جگہ رَبُّ المَشَارق و المغارب کے الفاظ بھی آئے ہیں (المعارج۔ 40)۔
سورة الصّٰٓفّٰت 4
ان آیات میں جو حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا مالک و فرمانروا ہی انسانوں کا اصل معبود ہے، اور وہی درحقیقت معبود ہوسکتا ہے،…
Read the full tafseer →(آیت) رب السموٰت والارض و ما بینھما و رب المشارق (وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان جتنی مخلوقات ہیں ان کا اور پروردگار ہے مشرقوں کا) تو جو ذات اتنی عظیم مخلوقات کی خالق و پروردگار ہو، عبادت کی مستحق بھی وہی ہے، اور یہ ساری کائنات اس کے وجود اور وحدانیت کی دلیل ہے یہاں المشارق، مشرق کی جمع ہے، اور چونکہ سورج سال کے ہر دن میں ایک نئی جگہ سے طلوع ہوتا ہے، اس لئے اس کی مشرقیں بہت ساری ہیں، اسی بنا پر یہاں جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5
یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہی اللہ واحد تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خداوند ہے اور وہی تمام مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نے اپنی ناپیداکنار مملکت کے دور دراز گوشوں کا انتظام اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کررکھا ہے۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے اور کونے کا مالک خود ہے، اور خود ہی اپنے احکام کے تحت اس کا انتظام فرماتا ہے۔ اس کائنات میں فرشتوں کا اگر کوئی دخل ہے تو خدا کے شریک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے فرمانبردار سفیروں اور کارندوں کی حیثیت سے ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے رب کے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
7۔ 1 یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چناچہ شیطان آسمان پر کوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…
Read the full tafseer →ضروری ہوا کہ فرشتوں کی حیثیت بتانے کے بعد اللہ خود اپنی تعریف بھی فرما دے :
رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق (38: 5) ” وہ جو زمینوں اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان ہیں اور سارے مشرقوں کا مالک ہے “۔ یہ زمین اور آسمان جو انسانوں کے اردگرد قائم ہیں وہ انسانوں کو بتاتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کا ایک خالق مدبر ہے۔ اس جہاں میں کوئی ذات اس کے سوا نہیں ہے جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اس کی تخلیق اور تدبیر میں اس کا بھی حصہ ہے۔ کوئی عقلمند انسان اس اعتراف سے نہیں بھاگ سکتا کہ اس جہاں کا خالق بےقید قدرتوں کا مالک ہے۔ اور وہ رب ہے اور وہی مالک ہے زمین و آسمان اور ان…
Read the full tafseer →8 شمال سے جنوب تک ایک طرف مشرقین ہیں۔ سورج کی ہر روز کی جدا اور ہر ستارے کی جدا۔ یعنی وہ نقطے جن سے ان کا طلوع ہوتا ہے اور دوسری طرف اتنی ہی مغربیں ہیں۔ شاید مغارب کا ذکر یہاں سے اس لیے نہیں کیا کہ مشارق سے بطور مقابلہ کے خود ہی سمجھ میں آجائیں گی۔ اور ایک حیثیت سے طلوع شمس و کواکب کو حق تعالیٰ کی شان حکومت و عظمت کے ثابت کرنے میں بہ نسبت غروب کے زیادہ دخل ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 5{ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ } ”جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور تمام مشرقوں کا۔“
یہاں ”مشارق“ کے بعد ”مغارب“ کا ذکر نہیں ہوا٭۔ اس لیے کہ زمین کا ہر مقام اور ہر نقطہ مشرق بھی ہے اور مغرب بھی۔ یعنی اگر ہم کسی وقت سورج کو کسی مقام پر غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں تو عین اسی وقت اسی مقام سے کسی دوسرے علاقے کے لوگ اسے طلوع ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے مشرق اور مغرب کا ذکر الگ الگ بھی ہوسکتا ہے اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ زمین کے تمام مقامات مشارق ہی ہیں۔ یعنی ہر جگہ سے کسی نہ کسی وقت سورج…
Read the full tafseer →3 مشارق ومغارب کتنے ہیں ؟ مشارق سے مراد بیشمار مشرق ہیں۔ سورج ہمیشہ عین مشرقی سمت سے ہی طلوع نہیں ہوتا بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے اور سردیوں میں جنوب کی طرف۔ سورج کے مشرق کا زاویہ ہر روز جداگانہ ہوتا ہے اس لحاظ سے سورج کے سال بھر میں 365 مشرق ہوئے۔ پھر اس کائنات میں صرف سورج ہی گردش نہیں کر رہا اور بھی ہزاروں سیارے محو گردش ہیں۔ اور ان کے اپنے اپنے مشرق یا طلوع ہونے کے مقامات ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے مشرقوں میں بھی سورج کے مشرقوں کی طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے مشرقوں کی تعداد ہمارے حساب سے باہر ہوجاتی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کے رب المشارق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان…
Read the full tafseer →2۔ یعنی زمین و آسمان نہ خود دیوتا ہیں نہ ان کے الگ الگ کوئی اور دیوتا ہیں۔ نہ کوئی اگنی دیوتا، نہ کوئی سرسوتی دیوی، نہ کوئی اندر دیوتا، معبودوخالق بس ایک ہی۔ (آیت) ” مشارق “۔ سے آفتاب کے طلوع کرنیکے مواقع مراد ہیں۔ صیغہ جمع اختلاف مطالع کے اعتبار سے ہے۔ ہر روز طلوع آفتاب کا زوایہ دوسرے دن سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ہے، اور اس طرح سال کے 365 مشرق ہوتے ہیں۔ اے مطالع الشمس وھی ثلث ماءۃ وخمس وستون مشرقا (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
آیت نمبر 1 تا 21
ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…
Read the full tafseer →رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کی درمیانی کائنات کا رب (مالک ‘ حاکم ‘ ناظم) ہے اور وہی مشرقوں کا رب ہے۔
مشارق سے مراد ہیں تمام ستاروں کے طلوع کے مقامات ‘ یا سورج کے روزانہ طلوع ہونے کے مقامات۔ سال کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں اور ہر دن طلوع کا مقام بدلتا رہتا ہے اور مقامات طلوع کے اختلاف کے مطابق غروب کے مقامات بھی مختلف ہوتے ہیں ‘ اسلئے صرف مشارق کا ذکر کیا ‘ مغارب کے ذکر کی صراحت نہیں کی۔ اس کے علاوہ آفتاب کے طلوع سے اللہ کی نعمت اور قدرت کی عظمت کا زیادہ ظہور ہوتا ہے ‘ اسلئے مشارق کا ذکر کیا۔
Read the full tafseer →جو آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوقات کا خالق ہے اور پروردگار ہے سردی گرمی کے لانے کا۔
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا : مراد اس سے پوری کائنات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار اپنے اکیلے رب ہونے کو اکیلا معبود ہونے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ جب ہر چیز کا مالک اور رب میں ہوں اور تم بھی مانتے ہو کہ ہر چیز پیدا میں نے کی اور اس کی پرورش بھی میں ہی کرتا ہوں، تو عبادت کسی اور کی کیوں ہو ؟ داتا اور دستگیر کوئی اور کس طرح بن گیا ؟ مصیبت کے وقت کسی اور کو پکارا کیوں جائے ؟
وَرَبُّ الْمَشَارِقِ : ”الْمَشَارِقِ“ ”مَشْرِقٌ“ کی جمع ہے، طلوع ہونے کی جگہ۔ سورج ہمیشہ مشرقی سمت کے درمیان سے طلوع نہیں ہوتا، بلکہ گرمیوں میں اس کا مشرق شمال کی طرف سرکتا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ان تین آیات کی جو قرأت مروج ہے یہی اکثر قراء کی قرأت ہے۔ حمزہ نے ان میں ادغام کے ساتھ قرأت کی ہے یہ وہ قرأت ہے جب امام احمد بن خنبل نے اسے سنا تو اسے ناپسند کیا۔ نحاس نے کہا : تین وجوہ سے لغت عربی میں یہ بعید ہے : (1) تاء صاد کے مخرج میں سے نہیں ‘ زاء کے مخرج میں سے نہیں ‘ ذال کے مخرج میں سے نہیں نہ ہی ان کے اخوات کے مخرج میں سے ہے اس تاء کی اخت ‘ طاء اور ذال ہے ذاء کی اخت ‘ صاد اور سین ہے ذال کی اخت ظاء اور ثاء ہے۔ (2) تاء ایک کلمہ میں ہے اور دوسرے حروف دوسرے کلمہ میں ہیں۔ (3) جب تو انہیں جمع کرے گا تو دو کلموں کے دو ساکنوں کو جمع کرے گا اس جیسی صورت میں دو ساکنوں کو اس وقت جمع کرنا جائز…
Read the full tafseer →8:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورب المشارق “ (اور رب ہے مشرقوں کا) یعنی مشارق تین سو ساٹھ ہیں (آیت) ” والمغارب “ اور مغارب بھی تین سو ساٹھ ہیں ایک سال میں اور فرمایا کہ ” والمشرقان “ سے مراد ہے موسم سرما کا مشرق اور موسم گرما کا مشرق۔” والمغربان “ سے مراد ہے موسم سرما کا مغرب، موسم گرما کا مغرب۔
9:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ ” المشارق “ سے مراد ہیں، تین سو ساٹھ مشرق ” والمغارب “ بھی اسی طرح ہیں سورج ہر دن طلوع ہوتا ہے ایک مشرق سے اور غروب ہوتا ہے ایک مغرب میں۔
10:۔ ابوالشیخ العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [(وہ) آسمانوں اور زمین کا رب ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا [اور اس کا جوان دونوں کے درمیان ہے ] وَرَبُّ الْمَشَارِقِ [اور سارے مشرقوں کا رب ہے ]
Read the full tafseer →پھر اس معبود کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا (رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ) وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی رب ہے اور مشارق کا بھی رب ہے۔
مشارق مشرق کی جمع ہے، یہاں (رَبُّ الْمَشَارِقِ ) فرمایا ہے۔ اور سورة المعارج میں (فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ ) فرمایا ہے اور سورة الرحمن میں (رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَیْنِ ) فرمایا ہے۔
مشارق اور مغارب جمع ہے اور (الْمَشْرِقَیْن) اور (الْمَغْرِبَیْنِ ) تثنیہ ہیں، اور سورة المزمل میں (رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ) فرمایا ہے۔ اس میں واحد کا صیغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔
قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔
پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3:۔ انا زینا الخ :۔ یہ جنات کا حال ہے کہ جب وہ ملا اعلی کی طرف چوری چھپے کوئی بات سننے جاتے ہیں تو ہر طرف سے آگ کے شعلے ان کا پیچھا کرتے اور انہیں واپس دھکیل دیتے ہیں اور شیاطین جن کے لیے دنیا کے اس عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی عذاب لازم ہوگا تو ایسے راندہ بارداہ خداوندی کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ انا زینا السماء الدنیا الخ، ہم نے سب سے نچلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ اور مزین کردیا۔ اہل ہیئت کی تحقیق یہ ہے کہ سبعہ سیارہ کے علاوہ باقی تمام ستارے (ثوابت) ساتوں آسمان سے اوپر آٹھویں آسمان (کرسی) میں نصب ہیں۔ اگرچہ اس دعوی پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں، لیکن اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ 5ۭ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَـھُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ۔ (الصآفات : 5)
(وہی رب ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا، اور وہی مالک ہے سارے مشرقوں کا۔ )
مقسم علیہ یعنی دعویٰ کی وضاحت
یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہ مبعودِحقیقی جو واحد اور احد ہے وہی تمام آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب اور مالک ہے۔ اور وہی رب المشارق بھی ہے۔ مشارق مشرق کی جمع ہے۔ جمع جس طرح کثرت تعداد پر دلالت کرتی ہے اسی طرح اطراف کی وسعتوں پر بھی دلیل ہوتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی کائنات جس کا وہ مالک ہے اس کی وسعتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن اس سے مشرکین کو یہ غلطی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
فہم القرآن
سورة یٰس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے کیونکہ ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔ اس کے کن کہنے سے ہر چیز عین اس کی منشا کے مطابق معرض وجود میں آجاتی ہے۔ سورة صافات کی ابتدا میں اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ “ وہ ذات ہے کہ جس کے سامنے ملائکہ قطار اندر قطار اور دست بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ وہی حقیقی الٰہ ہے اسی نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور ان کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔ وہی قیامت کے دن انسان کو پیدا فرمائے گا۔
” اَلصّٰفّٰتِ “ کا معنی ہے صفیں باندھنے والے۔” اَلزّٰجِرَاتَ “ ، ڈانٹنے والے۔ اور ” اَلتّٰلِیٰتَ “ تلاوت کرنے…
Read the full tafseer →5: رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے)
نحو : یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے یا مبتدأ محذوف ھو کی خبر ہے۔
مطالع الشمس :
وَمَا بَیْنَہُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ (اور جو ان کے مابین ہے اور پروردگار ہے طلوع کرنے کے مواقع کا) مشارق سے سورج کے مطالع مراد ہیں۔ اور وہ تین سو ساٹھ ہیں۔ اور اسی طرح مغارب بھی۔ ہر روز سورج ایک مطلع سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایک مغرب میں ڈوب جاتا ہے۔ دو دن ایک مطلع سے نہ طلوع کرتا اور نہ ہی دو دن ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے۔
M: قرآن مجید میں رب المشرقین و رب المغربین فرمایا گیا۔
حل : وہ سردی و گرمی کے دو مشرق و مغرب مراد ہیں۔ اور جہاں رب المشرق والمغرب…
Read the full tafseer →5، رب السموات والارض وما بینھما ورب المشارق، سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔
ورب المشارق اور اس کی ہم مثل آیات کی تفسیر
اگر سوال کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا، برب المشارق والمغارب، اور ایک جگہ ارشاد فرمایا، رب المشرقین ورب المغربین، ایک اور جگہ ارشاد فرمایا، رب المشرق والمغرب ، ان آیات کے درمیان کیا تطبیق ہے۔ اس کا جواب یہ دیا کہ ، رب المشرق والمغرب، سے مراد مشرق اور مغرب کی جہت ہے اور، رب المشرقین ورب المغربین، اس سے سردیوں کے دن طلوع ہونے اور گرمیوں کے طلوع ہونے کی جگہ اور ، مغربین، سے مراد گرمیوں اور سردیوں کی بنائی ہے اور مغرب میں غروب ہونے کے لیے 360 تین سوساٹھ جگہیں بنائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ قتادہ کے قول کے موافق صافات وہ فرشتے ہیں جو صفیں باندھے ہوئے آسمان پر اللہ کا حکم سننے کو کھڑے ہوتے ہیں مجاہد کے قول کے موافق زاجرات وہ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ڈانٹتے اور ہانکتے ہیں۔ اور جو شیاطین حکم الٰہی کا مطلب سننے کو آسمان پر جاتے ہیں ان کو انگارے مارتے ہیں تالیات وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا حکم خود بھی پڑھتے ہیں اور فرشتوں کو بھی سناتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر قسم کھائی ہے کہ بیشک معبود تمہارا ایک اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو ان کے درمیان میں ہے اس کا بھی رب وہی ہے اور رب ہے مشرقوں کا، چاند سورج اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 اللہ مشرقوں اور مغربوں کا مالک : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی رب ہے مشرقوں کا اور مغربوں کا " مالک بھی وہی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ } ۔ البتہ یہاں پر عربی قاعدہ کے مطابق متقابلین میں سے ایک ہی کے ذکر پر اکتفاء فرمایا گیا ہے جس سے اس کا مقابل خود بخود سمجھ لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَقِیْکُمُ الْحَرَّ } ۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ مشرقین اور مغربین بیشمار ہیں۔ کیونکہ سورج شمالاً جنوباً روزانہ ایک نئے مشرق سے طلوع کرتا ہے۔ اور یہی حال اس کے غروب کا بھی ہے۔ اسی طرح شرقاً غرباً بھی اس کا یہی حال ہے کہ ایک جگہ غروب ہو رہا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب
تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الصافات
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21:
اسرار و معارف :
قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1 سورج سال بھر تک روزانہ ایک نئے مقام سے طلوع ہوتا رہتا ہے اور پھر ساری زمین پر وہ بیک وقت طلوع نہیں ہوتا بلکہ زمین کے مختلف حصوں میں وہ مختلف اوقات میں طلوع ہوتا ہے اس لئے آیت میں المشارق ( جمع) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس کے قرین ” ورب المغارف “ کو عربی محاورہ کے اعتبار سے حذف کردیا گیا ہے جیسے ” تقیکم الحر “ میں ہے نیز دیکھئے ( معارج 4) مقصد یہ ہے کہ کائنات کے اس نظام پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ الٰہ ( معبود) ایک ہی ہے جیسے فرمایا ( لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدنا) (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(37:5) رب السموت والارض وما بینہما۔ یہ ان کی خبر ثانی ہے۔ یا واحد کا بدل ہے۔ یعنی اور وہ ان آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا پروردگار ہے۔ یا الہ واحد وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا ۔۔ اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا پروردگار ہے۔
ورب المشارق۔ اس کا جملہ سابقہ پر عطف ہے اور وہ مشرقوں کا پروردگار ہے المشارق صیغہ جمع اختلاف مطالع کے اعتبار سے ہے ہر روز طلوع آفتاب کا زاویہ دوسرے دن سے کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا ہے اور اس طرح سال کے 365 مشرق ہوئے۔ اس طرح 365 مقامات مغرب ہوں گے۔ محض مشارق پر اکتفاء کر کے مراد دونوں لئے گئے ہیں۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ :۔ انہ اکتفی بذکر المشارق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی کہ اس نے آسمان میں ستارے پیدا کرکے آسمان کو زینت سے آراستہ کیا ہے پھر فرمایا کہ ہر شیطان سرکش سے ہم نے آسمان کو اوپرجانے سے محفوظ رکھا ہے اب نبی ﷺ کے زمانہ میں وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور وہ طاقت نہیں رکھتے کہ باتیں سن سکیں اور وہ ہر طرف سے در در پھٹ پھٹ کرکے نکالے جاتے ہیں اور ہرچہار طرف سے فرشتے ان پر آگ کے انگارے پھینکتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں ہمیشگی کا عذاب ہے مگر ہاں جو کوئی شیطان فرشتوں کا ایک آدھا لفظ سن کر بھاگا تو اس کا ایک دہکتا ہواشعلہ اس کو جلانے کے لیے پیچھا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →[6] کیونکہ سورج سال کے ہر روز ایک نئے زاویئے سے طلوع ہوتا ہے اس لئے اس کے 563 مشرق ہوئے اور دوسری طرف اتنے ہی مغرب۔ لیکن مشارق کے ساتھ مغارب کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ مشارق کا لفظ خود ہی مغارب پر دلالت کرتا ہے۔ اور ایک طرح سے طلوع آفتاب کو اللہ تعالیٰ کی شان، حکومت و عظمت بیان کرنے میں بہ نسبت غروب کے زیادہ دخل ہے۔
Read the full tafseer →(5) وہ پروردگار ہے یعنی مالک و متصرف ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا مالک و متصرف ہے اور تمام مشرقوں کا مالک اور متصرف ہے - یہاں صرف مشارق کا ذکر فرمایا دوسری جگہ مغارب کا بھی ذکر آیا ہے اور کہیں دو مشرقوں اور مغربوں کے ذکر ہے مشارق سے مراد یا تو آفتاب کے طلوع ہونے کے نقاط ہیں یا تمام ستاروں کے طلوع ہونے کے مقامات میں تمام ستارے مراد لئے جائیں تب تو ظاہر ہے کہ ستارے کے طلوع کی ایک مشرق جداگانہ اور دوسری مشرق سے ممتاز ہے اور اگر صرف آفتاب کے لئے جمع فرمایا تو پھر حضرت شاہ صاحب (رح) اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں شمال سے جنوب تک مشرقیں ہیں سورج کو جدا اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔
Read the full tafseer →5۔ صفات الہی بھی یہی ہیں اور دلائل توحید بھی یہی وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جو صفتوں سے متصف ہے وہی الہ و معبود ہے ‘ وہی ان آسمانوں کا بنانے والا اور بلند کرنے والا ہے ‘ اسی نے یہ سارے اجرام فلکی بنائے اور ان کا نظام چلایا ہے ‘ وہی زمین کو بچھانے والا اور اس میں پہاڑ ‘ دریا اور بیحد و حساب مخلوق پیدا کرنے والا ہے اور ان آسمانوں اور زمین کے درمیان جو کچھ اس خلا میں ہے اس کا رب واحد ہے اور مشرقوں اور مغربوں کا رب بھی وہی ہے اس جگہ (مشارق) کا ایک لفظ بول کر سورج کے طلوع ہونے کے اختلاف کو ذکر کردیا ہے جس میں دن کے کم وبیش ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور بتا دیا ہے کہ اس سارے نظام کا چلانے والا…
Read the full tafseer →It was said: رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ (the Lord of the heavens and the earth and what is between them, and Lord of the points of the sunrise. - 37:5). Now, a Being to whom goes the credit of having created and sustained such a mind-boggling range of creations has to be the One most deserving of ownership. And this entire universe is a positive proof of His existence and Oneness. The word: الْمَشَارِقِ (al-mashariq) as used here is the plural form of مَشرِق mashriq or East. Since, the sun rises from a new point every day of the year,…
Read the full tafseer →3 The Truth that has been conveyed in these verses is: "The Master and Ruler of the Universe is the real Deity of men: He alone can be, and should be, the .Deity. It would be utterly irrational that the Rabb (i.e.. Master, Ruler, Guardian and Sustainer) of the man should be one but his Ilah (deity) another. The basic reason for worship is that man should naturally bow down before and acknowledge the superiority of him who can bring him harm and good, who can fulfil his needs and requirements, who can make or mar his destiny and has power over his life and survival itself. If man understands…
Read the full tafseer →