Ayahs 37:1–21 صف بستہ فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " قسم ہے ان کی جو کھڑے ہوتے ہیں صف باندھ کر "۔ اللہ پاک کی عبادت و بندگی کے لئے۔ جیسے ہم لوگ کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آگے آتا ہے ۔ { وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّوْنَ } ۔ نیز وہ صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ پاک کے حکم و ارشاد کی بجاآوری کے لئے۔ مفسرین کرام کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ " صافات " اور " زاجرات " اور " تالیات " کی ان صفات کے موصوف ملائکہ کرام ہیں۔ اور یہی تفسیر مروی ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، عبداللہ ابن عباس ؓ ، قتادہ، مسروق، عکرمہ اور سعید بن جبیر وغیرہ سے۔ جبکہ بعض حضرات اہل علم سے اس بارے میں دوسرے مختلف اقوال بھی مروی ہیں لیکن سیاق وسباق سے زیادہ مناسبت رکھنے والی تفسیر یہی معلوم ہوتی ہے۔ اور عربیت کے اس اسلوب بیان کا مقتضیٰ بھی یہی ہے۔ کیونکہ عربی زبان کا یہ ایک معروف اسلوب اور ضابطہ ہے کہ جب صفات کا بیان اس طرح حرف فاء کے ساتھ آتا ہے تو اس میں ایک تو یہ بات پائی جاتی ہے کہ یہ سب صفات ایک ہی موصوف کی ہیں۔ اور دوسری بات اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ ان صفات کے اندر باہم ترتیب پائی جاتی ہے۔ بہرکیف اس سے صف بستہ فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔
Ayahs 37:3–43 تلاوت کرنے والے فرشتوں کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا " پھر ان کی جو تلاوت کرتے ہیں ۔ اللہ کے ۔ ذکر کی "۔ یعنی انبیائے کرام تک آسمانی احکام پہنچانے کے لئے۔ یا حوادث نازل کرتے ہیں لوگوں کو سمجھانے اور خبردار کرنے کے لئے۔ جمہور مفسرین کے نزدیک جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ان صفات کا موصوف ملائکہ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں۔ اور ہم نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور یہی قول سیاق وسباق کے زیادہ مناسب ہے۔ مگر اس میں کچھ اوراقوال بھی ہیں۔ انشاء اللہ اگر مفصل تفسیر لکھنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی تو ان کو وہاں ذکر کیا جائے گا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیقُ وَہُوَ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَالْمُیَسِّرُ لِکُلِّ عَسِیْرٍ ۔ بہرکیف یہاں پر ان تین قسم کے فرشتوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔
Ayahs 37:5–65 اللہ مشرقوں اور مغربوں کا مالک : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی رب ہے مشرقوں کا اور مغربوں کا " مالک بھی وہی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ } ۔ البتہ یہاں پر عربی قاعدہ کے مطابق متقابلین میں سے ایک ہی کے ذکر پر اکتفاء فرمایا گیا ہے جس سے اس کا مقابل خود بخود سمجھ لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَقِیْکُمُ الْحَرَّ } ۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ مشرقین اور مغربین بیشمار ہیں۔ کیونکہ سورج شمالاً جنوباً روزانہ ایک نئے مشرق سے طلوع کرتا ہے۔ اور یہی حال اس کے غروب کا بھی ہے۔ اسی طرح شرقاً غرباً بھی اس کا یہی حال ہے کہ ایک جگہ غروب ہو رہا ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح کرئہ ارضی کے ایک حصے میں دن ہوتا ہے تو دوسرے میں رات۔ اور اس کا یہ سرکل و دورانیہ اسی طرح جاری وساری رہتا ہے ۔ فَسُبْحَانَ مَنْ بِیَدِہ زِمَامُ ہٰذَا کُلِّہٖ ۔ اور یہاں پر مشارق کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا میں مشرک لوگوں نے سب سے زیادہ مشرق سے طلوع ہوتے سورج ہی کی پوجا کی ہے۔ اور اسی بنا پر چڑھتے سورج کی پوجا کا محاورہ بھی معروف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو رب سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 37:7–86 ستاروں کے تین بڑے مقصد : سو اس سے ستاروں کے دوبڑے مقصد بیان فرمائے گئے ہیں۔ پس ان ستاروں کے تین بڑے مقاصد اور فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آسمان دنیا کے لئے زیب وزینت ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے ذریعے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے۔ ان دونوں مقصدوں اور فائدوں کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ ان سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور راستہ معلوم کیا جاتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ } ۔ (النحل : 16) ۔ سو ستاروں کے بارے میں اتنا ہی جاننا اور اسی قدر سیکھنا چاہیئے جس سے بحر و بر کے سفروں میں راہنمائی حاصل کی جاسکے اور راستے معلوم کئے جاسکیں اور بس۔ اس سے آگے ستاروں کے ذریعہ کسی کی قسمت معلوم کرنا یا نفع نقصان جاننے کی کوشش کرنا یہ سب ممنوع اور حرام ہے۔ جیسا کہ حضرات علمائے کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور کہا ہے کہ ستاروں کے ذریعے علم تیسیر کی اجازت ہے نہ کہ علم تاثیر کی " ۔ الماذُون فی تعلُّمِہٖ علم التیسْیر لاعِلْمُ التَّأثیر۔ " (دلیل الفالحین : ج 8 ص 55) ۔ بہرکیف ستاروں کے اصل اور بڑے مقصد یہی تین ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ اس کے علاوہ باقی سب ممنوع اور حرام ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا اور اس کو ہر سرکش شیطان کی دسترس سے محفوظ رکھا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 37:97 شیطانوں کے لیے دائمی عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ دنیا میں یہ اس طرح ملعون و مطرود رہیں گے اور آخرت میں ان کیلئے دائمی عذاب ہے۔ ان کے ضلال واضلال اور کفر و باطل پر اصرار کی بنا پر جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاب السَّعِیْرِ } ۔ سو شیاطین ملائِ اعلیٰ کی باتیں سننے کیلئے کوشش تو کرتے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرپاتے۔ جونہی وہ کان لگاتے ہیں ان پر شعلہ باری کی جاتی ہے۔ انکو مارا، کھدیڑا اور دھتکار دیا جاتا ہے۔ " دحوراً " کے معنیٰ دھتکارنے او کھدیڑنے کے آتے ہیں اور " واصب " کے معنیٰ " دائم " کے آتے ہیں۔ یعنی دنیا میں یہ اس طرح ملعون و مطرود رہیں گے اور آخرت میں ان کیلئے دائمی عذاب ہوگا۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس تفصیل سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ نہ فرشتوں کو خدا کی خدائی میں کوئی دخل ہے اور نہ ہی جنوں کی ملائِ اعلیٰ تک رسائی ہے کہ وہ وہاں سے غیب کی کوئی خبر ل اس کیں۔ پس جو لوگ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں وہ بھی بڑے احمق اور اندھے ہیں۔ اور جو جنوں کو غیب دان اور غیب دانی کا ذریعہ و وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق قائم کرتے ہیں وہ بھی بڑے احمق اور اندھے ہیں۔ واضح رہے کہ عربوں کے شرک اور ان کی کہانت کی گرم بازاری انہی دو بنیادوں اور غلط تصورات پر قائم تھی۔ قرآن پاک نے یہاں پر جنوں اور فرشتوں کی اصل حقیقت کو واضح فرما کر اس کاروبار ضلالت کی جڑ نکال دی ۔ فالحمدللہ جل وعلا -
Ayahs 37:10–138 انسان کی خود اپنی تخلیق میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کے اپنے مادئہ تخلیق اور مراحل تکمیل میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے انکو پیدا کیا ایک چپکتے ہوئے ۔ لیسدار۔ گارے سے "۔ اسی لئے انسان میں چپکنے اور لپٹنے کی عادت بھی پائی جاتی ہے۔ خواہ حق سے ہو یا باطل سے۔ تو جب اس بےجان اور حقیر مٹی سے ہم ایسا انسان عدم سے وجود میں لاسکتے ہیں تو پھر اس کو دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو ان سے پوچھو کہ کیا آسمان و زمین، دریاؤں، پہاڑوں اور سورج و چاند جیسے عظیم الشان کروں وغیرہ کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا چند فٹ کے اس انسان کو ؟ سو جو خالق کل اور مالک مطلق ایسی عظیم الشان مخلوقات کو نیست سے ہست کرسکتا ہے اور ان کو بغیر کسی نمونے اور مثال کے بطن عدم سے نکال کر موجود کرسکتا ہے، اس کیلئے اس انسان کو پیدا کرنا اور وہ بھی ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس میں انسان کے لیے یہ درس عبرت و بصیرت بھی ہے کہ جس انسان کی تخلیق ایسے لیسدار مادے سے ہوئی ہو وہ اکڑتا کیسے ہے ؟ اور اس کو اکڑنے کا حق کس طرح پہنچ سکتا ہے ؟ سو اپنے اس مادئہ تخلیق میں غور و فکر سے کام لے کر وہ دیکھے کہ اس کے خالق ومالک نے اس کو اپنی رحمت و عنایت سے نواز کر کہاں سے کہاں پہنچایا ؟ اور کیا سے کیا بنادیا ؟ پھر بھی اس خالق ومالک ربِّ رحمن و رحیم سے منہ موڑنا اور اعراض و روگردانی برتنا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی اور نمک حرامی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان کے اپنے وجود اور اپنے مادئہ تخلیق اور مراحل تکمیل میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں بشرطیکہ وہ صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے ۔ { فلینظر الانسان مما خلق } -
Ayahs 37:14–169 غفلت و لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : اور انسان کی غفلت و لاپرواہی کا ایک نمونہ، نشانی حق کا مذاق اڑانا ہے جو کہ باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسکا مذاق اڑاتے ہیں "۔ یعنی کوئی ایسا معجزہ جس سے حق پوری طرح واضح ہوجائے۔ جیسے معجزئہ شق القمر اور شجر و حجر کا کلام کرنا وغیرہ وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن، صفوہ وغیرہ) ۔ سو جب ان کی بےفکری، بےحسی اور لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ یہ معجزہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد سبق لینے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی بجائے الٹا اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو ان میں حق و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی کوئی بات آخر اثر کرے تو کس طرح اور کیونکر ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے ضدی اور ہٹ دھرم لوگ کسی بڑے سے بڑے معجزے اور کھلی اور واضح نشانی سے قائل ہونے والے اور حق کے آگے جھکنے والے نہیں۔ ایسے لوگ جو کسی نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ بھی محض زچ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ چناچہ جب ان کے سامنے کوئی نشانی آتی ہے تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلم کھلا تو پھر ان کو حق و ہدایت کی روشنی ملے تو کیسے اور کیونکر ؟ سو غفلت و لاپرواہی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 37:17–1910 منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس ارشاد سے منکرین کے انکار و استہزاء کا ایک نمونہ پیش فرما دیا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا اور ہمارے ان باپ دادا کو بھی جو ہم سے بھی پہلے گزر چکے ہیں ؟۔ یعنی یہ تو اور بھی عجیب اور مشکل امر ہے۔ کیونکہ وہ تو اس سے بھی پہلے مر کھپ چکے ہیں۔ بلکہ ان کے تو نام و نشان تک مٹ چکے ہیں۔ تو پھر وہ دوبارہ کس طرح اور کیونکر زندہ ہوں گے ؟ سو انکے نزدیک یہ انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اس لیے جو لوگ انکو ایسی چیز سے ڈراتے ہیں وہ انکے نزدیک دیوانے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے ایسے تنگ ظرف اور کوتاہ نظر انسان کی تنگ ظرفی اور کوتاہ نظری کا جو حق و ہدایت کے نور مبین سے محروم ہو کر محسوسات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے اور وہ اپنی ناقص عقل ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے ان لوگوں کے مذاق و استہزاء کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے جس سے ان کی محرومی ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 37:2012 منکرین کا قیامت کے روز اظہار افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ بدبخت اس یوم حساب کا اس کبر و غرور اور رعونت و لاپرواہی سے انکار کرتے ہیں لیکن کل جب وہ ایک ہی ڈانٹ اور جھڑکی کے نتیجے میں ان کے سامنے موجود ہوگا تو اس وقت یہ چیخ کر کہیں گے۔ ہائے ہماری کم بختی یہ تو وہی جزا و سزا کا دن ہے جس کو ہم جھٹلاتے رہے تھے۔ سو اس وقت ان کی یاس و حسرت کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تب یہ لوگ زور دے دے کہیں گے ہائے ہماری بدبختی یہ تو وہی بدلے کا دن ہے جس کا ہم زندگی بھر انکار کرتے رہے اور جو ہماری توقعات کے بالکل برعکس عین اسی طرح پہنچ گیا جیسا کہ اللہ کے رسول بتایا کرتے تھے۔ تب ان لوگوں کی حسرت و یاس کا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کان کھول کر سن لو تم اے منکرو کہ آج جس یوم عظیم کا تم لوگ انکار کرتے اور مذاق اڑاتے ہو اس کے وقوع کے وقت تمہارا حال اور حشر یہ ہوگا۔
Ayahs 37:21–2213 منکروں کو رسوا کن جواب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ان سے کہا جائیگا ہاں یہی ہے فیصلے کا وہ دن جسکو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے "۔ اور ایسا ان کی تقریع اور توبیخ کے لئے فرشتے ان سے کہیں گے۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جس سے ان کی آتش یاس و حسرت میں اور اضافہ ہوگا مگر اس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ اسکا وقت گزر چکا ہوگا اور اسکا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے انسان کو اس طرح صاف وصریح طور پر اس دنیا میں اور اس قدر پیشگی خبردار کردیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود انکے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اعراض و انکار دارین کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔
Ayahs 37:23–2415 مشرکوں کے ساتھ ان کے خود ساختہ معبودوں کی بھی جکڑبندی کا حکم : سو اس ضمن میں مزید ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے ساتھ جکڑو ان کے سب معبودوں کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے سوا "۔ خواہ وہ لکڑی پتھر کے بت ہوں یا وہ انسان اور جن جو کہ اپنی پوجا و پرستش پر خوش ہوتے تھے۔ کیونکہ کلمہ ٔ " ما " عام ہے جو ان سب ہی مفاہیم و مصادیق کو شامل ہے۔ (روح، مظہری اور فتح وغیرہ) ۔ رہ گئے وہ انبیاء و اولیاء اور دوسرے صالحین جن کو لوگوں نے ان کی خواہش ومرضی کے خلاف اور ان کی تعلیمات و ہدایات کے برعکس پوجا و پکارا ہے وہ یقینا اس میں داخل نہیں کہ ان ہستیوں کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اسی لئے دوسری جگہ اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ہے ۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰیٓ اُوْلٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ } ۔ (الانبیائ :101) اور مشرکوں کے ساتھ انکے معبودان باطلہ کو دوزخ میں ڈالنے سے ان کی آتش یاس و حسرت اور تیز ہوگی کہ جن کی نصرت و امداد اور حاجت روائی و مشکل کشائی کی آس وامید پر وہ زندگی بھر ان کی پوجاپاٹ کرتے رہے اور ان ہی کے آگے جھکنے کی ذلت اٹھاتے رہے وہ ان کے ساتھ ہی دوزخ میں جل رہے ہیں اور وہ ان کے کچھ کام آنے کی بجائے الٹا ان کے لیے دوزخ کی آگ کو بھڑکانے اور تیز کرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ سو اس طرح ان کی یاس و حسرت کی آگ دوچند ہوتی جائے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
16 مشرکوں اور ان کے خود ساختہ معبودوں کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر حکم ہوگا کہ ڈال دو ان سب کو دوزخ کی راہ پر "۔ کہ انہوں نے دنیا میں حق سے منہ موڑ کر خود اپنے ارادئہ و اختیار سے دوزخ کی اسی راہ کو اپنایا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کتنا بڑا کرم اور احسان ہے اس کتاب حکیم کا کہ اس نے اس ابدی جہاں میں پیش آنے والے اس نتیجہ و انجام کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ دنیا والوں کے لئے بیان فرما دیا جو کہ سراسر غیب کا جہاں ہے۔ اور جس کے جاننے کا وحی خداوندی کے سوا اور کوئی ذریعہ ممکن نہیں۔ پھر بھی جو لوگ اس سے منہ موڑے ہوئے اور غفلت میں ڈوبے اسی ہولناک انجام کی طرف بڑھے جا رہے ہیں، وہ کس قدر ظالم، کتنے بےانصاف اور کس قدر بدبخت ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان مشرکوں کو اور انکے ان معبودوں کو جن کی یہ اللہ کے سوا پوجا کیا کرتے تھے، سب کو اکٹھا کرکے دوزخ کی راہ پر ڈال دو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اوروں کی پوجا کرنے والے بڑے ہی سخت خسارے میں ہیں۔ کاش کہ مشرکوں کو یہ حقیقت سمجھ آجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الشرک والکفر۔
Ayahs 37:25–2717 مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حکم ہوگا کہ ٹھہراؤ ان کو ان سے کچھ پوچھنا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ کیا ہوگیا تمہیں کہ آج تم ایک دوسرے کی کوئی مدد نہیں کرتے ؟ "۔ حالانکہ دنیا میں تمہیں اپنے ایکے، اپنی پارٹی بازی اور گروہ بندی پر بڑا ناز تھا۔ اپنے آپ کو تم سواد اعظم اور بڑی جماعت کہتے اور مانتے تھے اور۔ { نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ} ۔ کے راگ الاپا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے جھنڈے اٹھائے اور نعرے لگاتے پھر رہے تھے۔ لیڈر، گرو اور اپنی سرداری اور بڑائی کا زعم اور گھمنڈ رکھنے والے اپنے پیرؤوں، چیلوں اور دم چھلوں کی مدد کے بڑے بڑے دعوے کرتے اور دم بھرا کرتے تھے۔ اور چیلے چانٹے اور پیروکار اپنے بڑوں، گرؤوں اور لیڈروں پلیڈروں کے حق میں نعرے لگاتے، ان کی تعریفوں کے پل باندھتے اور اس حد تک کہ اس کیلئے جھوٹے قصے بناتے، افسانے گھڑتے اور انکے حق میں طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتے۔ مگر آج تمہارا یہ کیا حال ہے کہ کوئی کسی کو پوچھتا نہیں۔ ہر کسی پر نفسا نفسی کی کیفیت طاری ہے۔ نہ لیڈروں اور گرؤوں کو اپنے پیرؤوں کا کوئی ہوش اور خیال ہے اور نہ پیرؤوں اور چیلوں کو اپنے لیڈروں اور بڑوں کا۔ حالانکہ ایک دوسرے کے کام آنے اور مدد و خبرگیری کا وقت اصل میں یہی تھا تو تمہیں کیا ہوگیا ؟ سو اس طرح ان کی تذلیل و تحقیر میں اور اضافہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 37:28–2918 گمراہ کن لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کے درمیان توتکار کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز پیرو اپنے گمراہ کن لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ تم لوگ تو ہمارے پاس آیا کرتے تھے داہنی طرف سے "۔ یعنی پوری قوت اور زور کے ساتھ، روپیہ پیسہ کی ریل پیل کے ساتھ، عہدہ و منصب کے جاہ و جلال کے ساتھ، مریدین و معتقدین کے لاؤ لشکر کے ساتھ وغیرہ وغیرہ۔ نیز یہاں پر " الیَمْین " سے قوت کے علاوہ دین داری بھی مراد ہوسکتی ہے۔ یعنی تم لوگ دین کے نام پر اور دین کے نعرے کے ساتھ ہمیں گمراہ کرنے آیا کرتے تھے۔ اور باطل کو ہمارے سامنے حق کی شکل میں پیش کیا کرتے تھے۔ تمہارے میلے ٹھیلے، عرس و اعیاد اور بھجن و قوالیاں وغیرہ اسی کے مختلف مظاہر ہوا کرتے تھے۔ اور تم اپنے کفر و باطل اور شرک و بدعت کو مزین کرکے ہمارے سامنے پیش کیا کرتے تھے۔ (قرطبی، خازن، معالم اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ نیز " الیمین " کے تیسرے مشہور معنیٰ قسم کے بھی لئے جاسکتے ہیں۔ یعنی تم لوگ قسمیں کھا کھا کر ہمیں اپنی صداقت شعاری کا یقین دلایا کرتے تھے کہ ہم سچے اور ہمارا طریقہ درست۔ اور باقی سب جھوٹے اور غلط وغیرہ وغیرہ۔ تو " یمین " کے تین معنیٰ ہوئے۔ قوت و زور، دین داری و خیر خواہی اور حلف و قسم۔ اور ان تینوں کے اعتبار سے معنیٰ صحیح اور درست بنتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا۔ اور حضرات مفسرین کرام اور ثقہ اہل علم نے یمین کے یہ تینوں معنیٰ بیان کئے ہیں ۔ " اَیْ مِن قِبَل الدِّیْنَ اَوْ عِنْ القَہْرِ والْقُوْۃ۔ وقیل الحلف فان رؤسائہم یحلفون انہم علی الحق " ۔ (جامع البیان، روح، قرطبی، ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، مظہری، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ اور ہم نے ان تینوں صورتوں پر اس ارشاد ربانی کے معنیٰ و مطلب کی توضیح و تشریح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کردی ہے ۔ والحمدللہ جل وعلا -
Ayah 37:3019 لیڈروں کی طرف سے پیرؤوں کو ترکی بہ ترکی جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ انکو جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ تم خود ہی ایمان والے نہیں تھے۔ ہمارا تم پر کوئی زور نہیں تھا بلکہ تم لوگ خود ہی سرکش تھے "۔ یعنی کوئی ایسا زور کہ ہم ایمان و حق اور توحید و سنت کا نور تمہارے دلوں کے اندر جانے سے روک دیتے کہ اپنے دلوں اور اپنے ارادوں کے مالک تو بہرحال تم لوگ خود ہی تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ تم لوگ اپنی سرکشی کی وجہ سے حق و ہدایت قبول کرنا چاہتے ہی نہیں تھے تاکہ اس طرح تم مطلق العنانی کی اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی روش کے مطابق بےروک ٹوک اور بےقید حیوانی زندگی گزارو۔ اور خواہش پرستی کی اپنی اسی روش پر چلنے کیلئے تم چاہتے تھے کہ اس پر دین کا لیبل بھی لگا رہے۔ اسی لیے تم ہمارے پیچھے چل رہے تھے تاکہ اس طرح خواہشات کی تکمیل کا سامان بھی ہوتا رہے اور خود ساختہ اور مصنوعی دینداری کا خول بھی چڑھا رہے۔ سو تمہاری اسی بدنیتی کی بنا پر تمہاری شقاوت و بدبختی نے تم پر اس سختی سے پنجے گاڑے کہ تم ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی کے اس ہولناک ہاویے میں پہنچ کر رہے۔ سو قصور تم لوگوں کا خود اپنا ہے۔ پس تم لوگ خود اپنے آپ ہی کو برا کہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 37:3120 گمراہ کن لیڈروں کا اپنے جرم کا اقرار : سو اس توتکار کے بعد وہ لیڈر اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ " اب پکی ہوگئی ہم سب پر بات ہمارے رب کی "۔ وہی بات جو اس نے پہلے ہی ارشاد فرما دی تھی کہ مجھے شیطان اور اس کے حواریوں سے دوزخ کو بھرنا ہے ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (السجدۃ : 13) ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تِبِعکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ۔ (صٓ: 85) ۔ لہذا اب ایک دوسرے کو الزام دینے سے نہ کوئی فائدہ ہے نہ کوئی نتیجہ و حاصل۔ ہم بھی مجرم ہیں اور تم بھی مجرم ہو۔ اپنے اس کیے کرائے کا بھگتان ہم میں سے ہر کسی نے بہرحال بھگتنا ہے۔ اب ہم نے وہ عذاب بہرحال بھگتنا ہے جسکے ہم مستحق ہیں اور جو ہمارے لیے مقدر ہوچکا ہے۔ اب ہم صبر کریں یا چیخیں چلائیں اس سے کسی طرح کے مفر اور کسی گریز و فرار کی کوئی راہ اب بہرحال ممکن نہیں ۔ { سَوَائٌ عَلَیْنَا اَجَزِعْنَا اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِیْصٍ } ۔ (ابراہیم : 21) ۔ والعیاذ باللہ العظم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:3221 لیڈروں کی طرف سے اپنے پیرؤوں کو ٹکا سا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس تو تکار کے بعد وہ گمراہ کن لیڈر اپنے ان پیروکاروں سے صاف طور پر کہیں گے کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا کہ ہم خود گمراہ تھے۔ اور جب ہم خود گمراہ تھے تو پھر تمہیں ہم گمراہی کے سوا اور دے ہی کیا سکتے تھے ؟ تو پھر تم ہمارے پیچھے لگے ہی کیوں تھے ؟ سو قصور تمہارا اپنا ہے کہ تم خود راہ حق و ہدایت کو چھوڑ کر اور دعاۃِ حق سے منہ موڑ کر گمراہی میں ہمارے پیچھے لگ گئے۔ مَتْبُوْعِیْن کے اس جواب سے ان لوگوں پر جو کچھ گزرے گی وہ محتاج بیان نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّشَرّ ۔ بہرکیف وہ ان سے کہیں گے کہ ہم جو کچھ خود تھے وہی کچھ تم کو بتایا تھا۔ اب یہ تمہاری اپنی بدبختی اور بےبصیرتی تھی کہ تم نے ہمارے پیچھے لگ کر اپنی راہ کو کھوٹا کیا اور تم ہلاکت اور تباہی کی راہ پر چل پڑے۔ سو اب اپنے کیے کا مزہ چکھو ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اگر ہم خود حق اور ہدایت پر ہوتے اور تم لوگوں کو گمراہ کرتے تو پھر بھی کوئی بات تھی لیکن جب ہم خود گمراہ تھے تو تم کو گمراہی کے سوا اور ہم دے ہی کیا سکتے تھے ؟ یہ تمہاری اپنی بدبختی اور بےبصیرتی تھی کہ تم اس کے باوجود ہمارے پیچھے لگ گئے اور آنکھیں بند کر کے ہمارے پیچھے چلتے رہے۔ سو اب تم اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتو۔ اب بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں کہ تلافی وتدارک کا موقع اب بہرحال تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 37:33–3422 گمراہ لیڈر اور ان کے پیرو دونوں جہنم میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن وہ سب ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔ یعنی تابع و متبوع، گرو و چیلے اور گمراہ پیر و مرید وغیرہ وغیرہ۔ سب کے سب اس عذاب میں گرفتار ہوں گے مگر اس سے ان اعتراض کرنے والوں کو کیا فائدہ ؟ ۔ { وَلَنْ یَّنْفَعَکُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّکُمْ فِی العَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ۔ (الزخرف : 39) ۔ سو اس دن عوام کا یہ عذر ان کو کچھ بھی کام نہ آئیگا کہ ان کی گمراہی کے ذمہ دار دوسرے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو اتنی عقل دی ہے کہ وہ حق اور باطل کے درمیان فرق و امتیاز کرسکے۔ خاص کر ایسی صورت میں جبکہ باطل کے مقابلے میں حق کی دعوت دینے والے بھی موجود ہوں۔ اس لیے ایسے عوام اور انکے لیڈر دونوں ہی عذاب میں شریک اور حصے دار ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مجرموں کو بےوقت کے اس اعتراف جرم و قصور سے کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔
Ayahs 37:35–3623 استکبار خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو یہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر بپھر جاتے۔ سو یہ ہے وہ اصل سبب جو ان کے اس انجام بد کا باعث بنا کہ عقیدئہ توحید قبول کرنا اور صرف ایک خدا کا ہو کر رہنا، اسی کی بندگی کرنا اور ہر حاجت میں صرف اسی کے آگے دست سوال دراز کرنا ان مشرکوں کو منظور نہیں تھا۔ کل کا کھلا مشرک بھی اسی مرض میں مبتلا تھا اور آج کے کلمہ گو مشرک کا بھی یہی حال ہے۔ توحید کا عقیدئہ صافیہ نہ اسے گوارا تھا نہ اسے برداشت ہے۔ اپنی سیادت و قیادت اور اپنی بڑائی اور کھڑ پنچی کے زعم فاسد اور جھوٹے گھمنڈ میں حق کا وہ بھی منکر تھا اور یہی بات آج اس کو بھی قبول نہیں۔ فرق اگر ہے تو اسماء و الفاظ، کلمات و محاورات اور انداز وا سالیب کا ہے۔ اس کے مختلف معبودوں کے نام اور تھے اور اس کے اور ہیں۔ اس کے حاجت روا و مشکل کشا اور تھے اور اس کے اور ہیں۔ اس کی صدا و پکار اور شرک و پوجا کے طریقے اور انداز اور تھے اور اس کے اور ہیں۔ وہ توحید والوں کو صابی کہتا تھا اور یہ وہابی کہتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ خرابیوں کی خرابی اور محرومیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بندے کی عظمت اس کی شان بندگی اور اتباع حق میں ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 37:37–3824 اللہ کے رسولوں کی تصدیق حقانیت کی علامت و دلیل : سو منکرین و مکذبین کی طرف سے اللہ کے رسول کو شاعر مجنون ۔ خبطی شاعر ۔ کہنے کی گستاخی اور کھلے کفر کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ " نہیں بلکہ یہ تو حق لے کر آئے اور انہوں نے تصدیق کی سب رسولوں کی "۔ ایک تو اس طرح کہ آپ ﷺ بھی وہی دعوت لے کر آئے ہیں جو وہ لائے تھے۔ دوسرے اس طرح کہ آپ ﷺ نے ان سب کو سچا بتایا اور سچا ماننے کی تعلیم دی۔ اور تیسرے اس طرح کہ ان انبیائے کرام نے آپ (علیہ السلام) کی آمد کی بشارت و خوشخبری دی تھی۔ پس آپ کی نفس بعثت و تشریف آوری ہی ان گزشتہ رسولوں کے لئے تصدیق ہے۔ کیونکہ اگر بالفرض آپ ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری نہ ہوتی تو ان کی وہ پیشینگوئیاں اور خوشخبریاں غلط ثابت ہوجاتیں جو انہوں نے آپ ﷺ سے متعلق کی تھیں۔ پس آپ ﷺ کی بعثت و تشریف آوری ہی ان کے لئے تصدیق ہے ۔ صَلوَاَتُ اللّٰہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ اجمعین ۔ سو حضرت امام الانبیائ ﷺ کا حق اور توحید کے ساتھ تشریف لانا اور دوسرے تمام رسولوں کی تصدیق کرنا آپ ﷺ کے رسول حق ہونے کی ایک صریح اور واضح دلیل ہے۔ اور اللہ کے رسولوں کی تصدیق آپ کی حقانیت کی علامت و دلیل ہے ۔ (علیہ السلام) -
Ayah 37:3925 انسان کو اپنے عمل کا بھگتان بھگتنا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا " تم لوگوں کو بدلہ نہیں دیا جا رہا مگر تمہارے انہی کاموں کا جو تم خود کرتے رہے تھے "۔ پس کسی ظلم و زیادتی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ خود تمہارا اپنا ہی کیا دھرا ہے اور۔ خود کردہ را علاجے نیست ۔ تو مشہور ہے ہی۔ یہیں سے علماء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ وہ بچے جو چھوٹی عمر میں ہی مرجائیں وہ دوزخ میں نہیں جائیں گے اگرچہ وہ کفار ہی کے بچے کیوں نہ ہوں کہ انہوں نے ایسے کسی جرم و گناہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا کہ انہوں نے گناہ کرنے کی عمر پائی ہی نہیں۔ سو رسول کی دعوت کا انکار کرنے والوں کو انکار کی بجائے صدق دل سے اس پر لبیک کہنا چاہیئے تاکہ یہ اپنے اس ہولناک انجام سے بچ سکیں جس سے بچنے کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی۔ اور اللہ کا رسول جس عذاب سے خبردار کرتا اور اس سے ڈراتا ہے اس کو خبط اور جنون قرار دینے کی بجائے اس کو ایک قطعی حقیقت سمجھو اور اس سے بچنے کی فکر کرو قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ بہرکیف آخرت کے اس یوم جزا و سزا میں انسان کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ وبدلہ ملے گا تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں اور انسان کے وجود اور اس کائنات کی تخلیق کی حکمت متحقق ہو سکے۔ اور آخرت کے اس جہان غیب کے لیے تیاری کی کوئی صورت وحی کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ پس پیغمبر پر ایمان اور ان کی تعلیمات کی اتباع و پیروی سعادت دارین سے سرفرازی کا واحد ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے اعراض و انکار دارین کی محرومی اور ہلاکت کا باعث ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 37:4026 عذاب سے محفوظ رہنے والوں کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے چنے ہوئے بندے اس عذاب سے محفوظ رہیں گے کہ ان کا انجام و معاملہ اور ہوگا کہ عذاب تو درکنار ان سے حساب کتاب میں مناقشہ بھی نہیں ہوگا۔ سیئات سے ۔ اگر ان کی کچھ سیئات ہوں گی ۔ عفو و درگزر فرما لیا جائے گا۔ اور حسنات پر ان خوش نصیبوں کو دس گنا، سو گنا اور سات سو گنا اور اس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھا کر اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو اس ہولناک انجام سے وہی لوگ بچ سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کیلئے خاص کرلیا ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کیلئے خاص ان ہی لوگوں کو کرتا ہے جو اپنے ایمان اور عمل سے اسکا استحقاق پیدا کرتے ہیں۔ سو مخلصین کے اس لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ جسکو جو بھی کچھ ملے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت ہی سے ملے گا۔ کسی دوسرے کے امکان میں نہیں کہ وہ ازخود کسی کو کچھ دے یا دلا سکے۔ جیسا کہ مشرکین نے سمجھ رکھا ہے۔ سو خودساختہ اور مشرکانہ وسیلوں اور واسطوں پر تکیہ کر کے بیٹھ رہنے والے لوگ سخت خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔