Ayah 37:1والصفت صفًا میں قسم کھاتا ہوں ان فرشتوں کی جو (مقام عبدیت میں نمازیوں کی صفوں کی طرح) صف بستہ رہتے ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس طرح ملائکہ اپنے رب کے سامنے صف بستہ ہیں ‘ کیا تم اس طرح (نماز میں یا جہاد میں) صف بندی نہیں کرو گے ؟ ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ملائکہ کس طرح صف بستہ ہوتے ہیں ؟ فرمایا : صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں ڈٹ جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ‘ حسن اور قتادہ نے آیت ہذا کی یہی تشریح کی ہے۔ بعض علماء نے کہا : ملائکہ فضا میں اپنے پر پھیلائے رکے رہتے ہیں اور اس وقت تک رکے رہتے ہیں کہ اللہ اپنی مشیت کے مطابق کو (کسی کام پر) مامور کرتا ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک الصّافّات سے پرندے مراد ہیں ‘ کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے : وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ ۔
Ayah 37:2فالزاجرات زجرًا اور قسم ہے ان (ملائکہ) کی جو روکنے والے ہیں۔ یعنی بادلوں کو روکتے اور چلاتے ہیں۔ بعض نے
کہا : وہ ملائکہ مراد ہیں جو انسانوں کے دلوں میں نیکی کا ارادہ پیدا کرکے گناہوں سے بازداشت کرتے ہیں ‘ یا شیطانوں کو انسانوں کی راہ (خیر) میں رکاوٹ ڈالنے سے روکتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : الزَّاجِرَاتِ سے مراد ہیں قرآن کی وہ آیات جو بری باتوں کی مخالفت کرتی اور روکتی ہیں۔
Ayah 37:3فالتلیت ذکرًا اور ان (ملائکہ) کی قسم جو ذکر اللہ کی تلاوت کتے ہیں ‘ یا ان آیات کو پڑھتے ہیں جو آسمانی کتابوں میں
انبیاء پر نازل کی گئی ہیں ‘ یا صافّات ‘ زاجرات اور تالیات سے نفوس علمیہ مراد ہیں جو نمازوں میں صف بستہ ہوتے ہیں ‘ دلائل کی روشنی میں کفر اور معاصی سے روکتے ہیں اور آیات رب کی تلاوت کرتے ہیں ‘ یا نمازیوں کی جماعتیں مراد ہیں جو راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور صف بند ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صفیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں جو اپنے گھوڑوں اور دشمنوں کو زجر کرتے ہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں ‘ دشمن سے مقاتلہ کے وقت بھی یاد خدا سے غافل نہیں ہوتے۔
تینوں جملوں میں حرف عاطف کا لانا ذوات یا صفات کے اختلاف پر دلالت کر رہا ہے (معطوف اور معطوف علیہ میں تغایر ہونا ضروری ہے ‘ اسلئے مذکورہ فقروں میں یا تو ذوات کا اختلاف ہے یا صفات کا اختلاف۔ صف بستہ ہونا اور زجر کرنا اور تلاوت ذکر کرنا ‘ تینوں صفات جدا جدا ہیں ‘ مترجم) ۔
ف۔ تعقیب وجود کیلئے ہے ‘ یعنی پہلے صف بستہ ہوتے ہیں ‘ پھر زجر کرتے ہیں ‘ پھر تلاوت کرتے ہیں۔ صف بندی بجائے خود صف کمالیہ ہے ‘ پھر شر سے بازداشت کرنی اور خیر کی طرف چلانا صفت اول کی تکمیل ہے اور تلاوت ذکر فیض رسانی کا درجہ رکھتی ہے ‘ یا عطف صرف ترتیب و ترقی کیلئے ہے جیسے آیت ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں عطف ترقی و مرتبہ کیلئے ہے۔
Ayah 37:4ان الھکم لواحدٌ (اے اہل مکہ ! ) تمہارا معبود بلاشک و شبہ ایک ہے۔
مکہ کے کافروں نے کہا تھا : اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاط اِنَّ ھٰذَا اَلشَّیْءٌ عُجَابٌ کیا محمد ﷺ نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ؟ یہ عجیب بات ہے۔ آیت مذکورہ میں کافروں کے اس قول کی تردید فرما دی۔
Ayah 37:5رب السموت والارض وما بینھما ورب المشارق وہی آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کی درمیانی کائنات کا رب (مالک ‘ حاکم ‘ ناظم) ہے اور وہی مشرقوں کا رب ہے۔
مشارق سے مراد ہیں تمام ستاروں کے طلوع کے مقامات ‘ یا سورج کے روزانہ طلوع ہونے کے مقامات۔ سال کے تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں اور ہر دن طلوع کا مقام بدلتا رہتا ہے اور مقامات طلوع کے اختلاف کے مطابق غروب کے مقامات بھی مختلف ہوتے ہیں ‘ اسلئے صرف مشارق کا ذکر کیا ‘ مغارب کے ذکر کی صراحت نہیں کی۔ اس کے علاوہ آفتاب کے طلوع سے اللہ کی نعمت اور قدرت کی عظمت کا زیادہ ظہور ہوتا ہے ‘ اسلئے مشارق کا ذکر کیا۔
Ayah 37:6انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ الکواکب۔ ہم نے ہی سجایا ہے (زمین کے) قریب والے آسمان کو زینت کے ساتھ یعنی ستاروں سے
Ayah 37:7وحفظًا من کل شیطان ماردٍ ‘ اور حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے۔
السَّمَآء الدُّنْیَا یعنی وہ آسمان جو (بہ نسبت دوسرے آسمانوں کے) تم سے قریب ہے۔
بَزِیْنَۃِ انِلْکَوَاکِبِ اضافت بیانہ ہے زینت سے یعنی کواکب سے آراستہ کیا ‘ یا مفعول کی طرف اضافت ہے یعنی کواکب کو ہم نے زینت دی ‘ یا فاعل کی طرف اضافت ہے یعنی کواکب نے آسمان کو زینت دی۔ زینت سے مراد ہے ستاروں کی روشنی اور ان کی اوضاع۔ حضرت ابن عباس نے زینت الکواکب کا ترجمہ کیا ضوء کواکب۔
مارد یعنی اللہ کی اطاعت سے خارج۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ستاروں کو آسمان کی زینت کیلئے اور شیطان سرکش سے حفاظت کیلئے پیدا کیا۔ کواکب سے شہاب کے انگارے شیطان پر مارے جاتے ہیں۔
آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام کواکب آسمان دنیا میں ہیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ ثوابت کا آٹھویں آسمان میں ہونا اور چاند کے علاوہ باقی چھ سیاروں کا دوسرے سے ساتویں آسمان تک ہر آسمان میں ایک سیارہ کا ہونا (اور پہلے آسمان میں چاند کا ہونا) اگر یہ قول پایۂ ثبوت کو پہنچ بھی جائے تب بھی آسمان دنیا کا کواکب سے آراستہ ہونا قابل اعتراض قرار نہیں دیا جاسکتا ‘ کیونکہ زمین والوں کو ستارے چمکدار ‘ جگمگاتے جواہر کی طرح نظر آتے ہیں جو مختلف شکلوں کے ساتھ نیلی فضا میں پھیلے ہوئے جھلمل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بیضاوی کی طرف سے یہ توجیہ اس خیال پر مبنی ہے کہ فلاسفۂ (قدماء) نے جو کچھ ترتیب نجوم و کواکب بیان کی اس کو صحیح تسلیم کرلیا جائے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علماء ہیئت کا یہ بیان ہی غلط ہے ‘ کتاب اللہ ‘ احادیث مبارکہ اور اجماع کے خلاف ہے۔ آسمانوں کا سات ہونا قرآن میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے ‘ آٹھویں آسمان کا وجود ہی نہیں ہے۔ اگر آٹھویں آسمان کا نام بدل کر (فلک الثوابت یا کرسی یا) کوئی دوسرا نام رکھ دیا جائے تو اس تبدیل اسم سے (شرعاً ) آٹھ آسمانوں کا ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ اگر شراب کو خمر کہنے کی بجائے کوئی اور لفظ وضع کرلیا جائے تو کیا اس سے حلّت ہوجائے گی ؟ پھر سماء دنیا کہا گیا ہے ‘ دنیا کہنے کی اور کوئی وجہ سوائے اس کے نہیں کہ زینت کواکب کا حصر اسی آسمان دنیا میں کردیا گیا ہے (کسی دوسرے آسمان کی زینت کواکب سے نہیں ہے ‘ یا سارے کواکب آسمان دنیا ہی میں ہیں ‘ مترجم) اس کے علاوہ حفظًا من کلّ شیطان مارد کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ ستارے سب کے سب آسمان دنیا میں ہی ہیں ‘ کیونکہ آسمان دنیا سے اوپر کسی شیطان کی رسائی نہیں اور شیطان پر آسمان دنیا ہی سے کواکب کے انگارے پڑتے ہیں۔ رہی یہ تاویل کے آٹھویں آسمان میں سارے ثوابت ستارے موجود ہیں ‘ وہیں سے شہاب نکل کر ساتوں آسمانوں سے پار ہو کر ‘ نیچے آکر شیطانوں پر برستے ہیں تو یہ تاویل بعیداز عقل ہے اور کوئی نقلی شہادت بھی اس کو ثابت نہیں کرتی۔
Ayah 37:8لا یسمعون الی الملا الاعلی ویقذفون من کل جانب۔ وہ شیطان عالم بالا کی طرف کان بھی نہیں لگا سکتے اور ان کو ہر طرف سے
Ayah 37:9دحورًا ولھم عذاب واصب۔ مار کر دھکے دئیے جاتے ہیں اور ان کیلئے دائمی عذاب ہوگا
Ayah 37:10الا من خطف الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب مگر جو شیطان کچھ خبر لے ہی بھاگے تو ایک دہکتا ہوا شعلہ اس کے پیچھے لگ لیتا ہے۔
اِلَی الْمَلَاِ الْاَعْلٰی ملأ اعلیٰ یعنی ملائکہ یا ملائکہ کے سردار جن سے امور عالم کے انتظام کا تعلق ہے۔
یُقْذَفُوْنَ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ یعنی آسمان دنیا کے تمام اطراف سے دہکتے ہوئے شعلے ان پر مارے جاتے ہیں ‘ یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ سننے کیلئے ٹھہرنا چاہتے ہوں۔ دحورًا دھتکار ‘ قذف کا معنی بھی اسی کے قریب ہے۔ عذابٌ وّاصبٌ دوامی عذاب یا شدید عذاب ‘ اس سے مراد ہے عذاب آخرت۔ مقاتل نے کہا : عذاب دنیا مراد ہے جو نفخۂ اول تک برابر قائم رہے گا اور وہ جلتے رہیں گے۔ الخطفۃ جھپٹ لینا ‘ اچک لینا ‘ اس جگہ مراد ہے ملائکہ کے کلام کا کوئی حصہ سن کر چوری سے لے بھاگنا۔ شھاب ستارے سے نکلنے والا وہ شعلہ جو چوری سے سن کر بھاگنے والے شیطانوں کے مارا جاتا ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کوئی ستارہ ٹوٹ کر گرا۔
(یونان کے قدیم) فلاسفہ کہتے ہیں کہ نیچے سے کچھ بخار فضا کی طرف چڑھتا ہے (شاید مفسر کی مراد بخار سے دخان ہے ‘ کیونکہ بخار تو طبقۂ زمہریر تک پہنچ کر رہ جاتا ہے اور دخان کے اندر چونکہ اجزائے ناریہ بھی ہوتے ہیں ‘ اسلئے وہ طبقات ہوائیہ سے اور اونچا اٹھ کر طبقۂ ناریہ تک پہنچتا ہے اور اس دخان ‘ یعنی اجزائے ناریہ و ارضیہ کے مخلوط مجموعہ میں ایک طرف آگ لگ جاتی ہے اور ایک شعلہ دخان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نہایت تیزی کے ساتھ پہنچ جاتا ہے ‘ یہ قدمائے یونان کا خیال ہے۔ مترجم) اور ابر میں داخل ہو کر اس میں اشتعال پیدا ہوجاتا ہے ‘ یہی شہاب ہے۔ فلاسفہ کا یہ قول محض ظنی اور تخمینی ہے ‘ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
اسی طرح یونانی فلاسفہ بارش کے متعلق کہتے ہیں کہ کچھ بخار زمین سے اوپر کی طرف چڑھتا اور ہوا کے طبقۂ زمہریر (زمین کی طرف سے ہوا کے دوسرے برفانی طبقہ) میں پہنچ کر (سردی پا کر) اس میں کثافت اور گاڑھا پن اور انجماد پیدا ہوجاتا ہے ‘ اس کو بادل کہتے ہیں ‘ پھر سورج کی حرارت جب اس کو لگتی ہے تو پگھل کر پانی کی شکل میں نیچے گرتا ہے ‘ اسی کو مطر یعنی بارش کہا جاتا ہے (غالباً حضرت مفسر سے اس جگہ کچھ تسامح ہوا ‘ کیونکہ بادل سورج کی گرمی سے نہیں پگھتا بلکہ جب اس میں سردی لگنے کی وجہ سے غلظت اور کثافت پیدا ہوجاتی ہے تو لامحالہ وہ وزنی ہو کر نیچے گرتا ہے اور گرنے کی حرکت سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور اس حرارت سے بادل پگھل کر بارش کی شکل میں برسنے لگتا ہے۔ مترجم)
فلاسفہ کے یہ تمام اقوال باطل اور بےدلیل ہیں اور شہادت عقل بھی ان کے خلاف ہے۔ بخارات تو گرمی کی شدت کی وجہ سے ہمیشہ چڑھتے ہی رہتے ہیں ‘ پھر بعض مقامات پر برسوں بارش کیوں نہیں ہوتی اور سخت سردی کے زمانے میں جبکہ بخارات کا صعود نہیں ہوتا (یا ہوتا ہے تو بہت کم ہوتا ہے ‘ مترجم) بکثرت ہفتوں تک بارش کیوں ہوتی رہتی ہے ‘ اس کے علاوہ بخارات تو ہمیشہ چڑھتے ہی رہتے ہیں (شاید اس جگہ بھی بخارات سے حضرت مفسر کی مراد دخان ہے) پھر بعض اوقات میں شہاب کا ظہور کیا معنی رکھتا ہے۔
کتاب اللہ اور احادیث مبارکہ کی صراحت فلاسفہ کے اقوال مذکورہ کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ہم نے آسمان سے پانی اتارا۔ دوسری آیت ہے : وَیُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْھَا مِنْم بَرَدٍ ہم نے آسمان یعنی آسمانی پہاڑوں سے اولے اتارے ‘ اور ایک یہی زیر تفسیر آیت ہے۔ بخاری نے قتادہ کی روایت سے بیان کیا ہے : اللہ نے ستاروں کو تین امور کیلئے پیدا کیا : 1 آسمان کی زینت بنایا ‘ 2 شیاطین پر مارنے کیلئے (بنایا) 3 راستہ پہچاننے کی علامات (بنایا) اسلئے اگر تخلیق نجوم کی کوئی دوسری غرض کوئی شخص بیان کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔
بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب اللہ آسمان میں کسی امر کا حکم دیتا ہے تو فرشتے عاجزی سے اپنے بازو پھڑپھڑتے ہیں ‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی کسی چٹان پر کسی زنجیر کے لگنے کی آواز ہے۔ جب ملائکہ کے دلوں سے خوف دور ہوجاتا ہے تو پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ دوسرے ملائکہ کہتے ہیں (اس کا فرمان) ہق ہے ‘ وہی بڑی عظمت و شان والا ہے۔ فرشتوں کی اس بات کو چوری سے سننے والے (کچھ شیطان) سن پاتے ہیں اور (ان سے دوسرے) چوری سے سننے والے سنتے ہیں ‘ ایک کے اوپر ایک (قطار در قطار) اسی طرح ہوتے ہیں۔ سفیان راوی نے اپنے ہاتھ کو ترچھا کر کے انگلیوں کو کشادہ کر کے بتایا (کہ جس طرح انگلیاں ترتیب وار ایک کے اور ایک ہیں ‘ اسی طرح شیطان ترتیب وار اوپر نیچے ہوتے ہیں) اوپر والا شیطان وہ بات نیچے والے شیطان کو پہنچا دیتا ہے ‘ پھر نیچے والا اپنے سے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے ‘ آخری نچلا شیطان وہ بات ساحر یا کاہن تک پہنچا دیتا ہے اور نتیجہ میں وہ بات ساحر یا کاہن کی زبان پر آجاتی ہے۔ شہاب (آگ کا شعلہ) شیطان کے پیچھے لگ جاتا ہے ‘ کبھی دوسرے شیطان تک پہنچانے سے پہلے اول شیطان کے آ لگتا ہے اور کبھی وہ بات پہنچا چکتا ہے تو شہاب اس پر پڑتا ہے۔ ساحر یا کاہن اس ایک بات میں (جو چوری چوری اس تک پہنچتی ہے) سو (100) جھوٹ ملا دیتا ہے (اور لوگوں سے بیان کرتا ہے کہ ایسا ہونے والا ہے) جب کاہن کے کہنے کے مطابق کوئی بات ہوجاتی ہے تو اسی ایک بات کی وجہ سے اس کی تصدیق کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں دن کاہن نے ایسا ایسا نہیں کہا تھا ؟
مسلم نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ہمارا رب جل وعلیٰ جب کسی بات کا حکم دیتا ہے تو حاملین عرش رب کی پاکی کا اظہار کرتے ہیں ‘ پھر عرش سے متصل آسمان والے پاکی بیان کرتے ہیں ‘ پھر اسی طرح تسبیح کا سلسلہ اس آسمان دنیا کے رہنے والوں تک پہنچتا ہے۔ اب (یہاں سے) شیاطین چوری سے سن کر وہ بات لے بھاگتے ہیں اور اپنے دوستوں پر جاکر پھینک دیتے ہیں (یعنی جلد جلد ان کو اطلاع دے دیتے ہیں) شیطانوں کے یہ دوست (یعنی کاہن) اگر اس بات کو ویسا ہی بیان کریں جیسی وہ ہو تو ان کی بات سچی ہوتی ہے ‘ لیکن وہ لوگ اس بات میں جھوٹ ملا دیتے اور اس کو بڑھا دیتے ہیں۔
بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : ملائکہ عنان میں یعنی ابر میں اترتے ہیں اور اس بات کا ذکر کرتے ہیں جس کا حکم آسمان میں ہوچکا ہوتا ہے ‘ اس کو شیطان چوری سے سن پاتے ہیں اور کاہنوں کے دل میں جا کر ڈال دیتے ہیں ‘ کاہن اپنی طرف سے اس میں سو (100) جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
بیضاوی نے لکھا ہے : جس شیطان پر انگارا مارا جاتا ہے ‘ کیا وہ زخمی ہو کر لوٹ جاتا ہے یا جل جاتا ہے ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ چڑھنے والے کے کبھی وہ شعلہ لگ جاتا ہے اور کبھی نہیں لگتا ہے ‘ جیسے موجیں کشتی میں بیٹھنے والوں کو کبھی لگ جاتی ہیں ‘ کبھی کشتی سے ٹکرا کر لوٹ جاتی ہیں (کشی کے مسافروں تک نہیں پہنچتیں) اسی لئے شیاطین باز نہیں آتے۔
Ayah 37:11فاستفتھم اھم اشد خلقًا ام من خلقنا انا خلقنھم من طین لازبٍ سو آپ (مشرکین مکہ سے) دریافت
کیجئے کہ کیا یہ لوگ بناوٹ میں زیادہ سخت ہیں یا وہ (دوسری مخلوق) جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ؟ ان کو تو ہم نے چیپ والی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
مَنْ خَلَقْنَا سے مراد ہیں وہ تمام چیزیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ‘ یعنی آسمان ‘ زمین ‘ دونوں کی درمیانی کائنات ‘ مشارق ‘ مغارب ‘ ستارے ‘ شہاب ثاقب۔
مَنْ (ذی عقل مخلوق کیلئے استعمال ہوتا ہے لیکن) اس جگہ اہل عقل کو بےعقل مخلوق پر تغلیب دے کر سب باعقل اور بےعقل مخلوق کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ استفہام تقریری ہے ‘ یعنی انسانوں سے دوسری مخلوق کی تخلیق زیادہ (دشوار اور) شدید ہے۔
بعض علماء نے کہا : مَنْ خَلَقْنَا سے مراد ہیں گذشتہ امتیں جیسے قوم عاد ‘ ثمود۔ مطلب یہ ہے کہ گذشتہ اقوام مکہ والوں سے زیادہ قوی تھیں ‘ لیکن جرائم کی پاداش میں ہم نے ان کو تباہ کردیا ‘ پھر یہ لوگ عذاب سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اول الذکر تفسیر کی تائید آیت ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُسے ہوتی ہے ‘ اس کے علاوہ اگلی آیت اِنَّا خَلَقْنَاھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍسے بھی ثابت ہو رہا ہے کہ مَنْ خَلَقْنَا سے (انسانوں کے علاوہ) عام مخلوق مراد ہے۔
لاَّزِب چپکنے والی جو ہاتھ سے چپک جائے۔ مجاہد اور ضحاک نے لاَّزِب کا ترجمہ کیا ہے : ” سڑی ہوئی “ انسانوں کی (جسمانی) تخلیق اور آسمان و زمین کی تخلیق میں یہی بڑا فرق ہے کہ انسانوں کا تخلیقی مادہ تو چپک دار کیچڑ ہے اور آسمان و زمین کو کسی سابق مادہ سے نہیں بنایا گیا (بلکہ جس مادہ سے ان کی تخلیق ہوئی ہے ‘ وہ مادہ ہی پہلے سے موجود نہ تھا بلکہ ان اجرام و اجسام کا مادہ بھی ان کی تخلیق کے ساتھ عدم سے وجود میں آیا۔ مترجم) یہ کلام منکرین قیامت کے خیال کی تردید کر رہا ہے ‘ کیونکہ انسانوں کا وجود ہی ان کی تخلیقی کمزوری کی شہادت دے رہا ہے۔ جس کی بناوٹ کیچڑ ہو ‘ اس میں صلابت اور قوت نہیں ہوسکتی ‘ پس جو خدا آسمانوں کی اور زمین کی تخلیق پر قادر ہے ‘ وہ ایسی مخلوق کی تخلیق (ثانی) پر بھی قادر ہوگا ‘ جس کا خلقی وجود آسمان و زمین کی تخلیق کے مقابلے میں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔
کافروں نے کہا تھا : ءَ اِذَا کُنَّا تُرَابًا ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ ان کے قول کے خلاف اللہ نے بطور استدلال فرمایا کہ ان کی تخلیق اول سڑی ہوئی لیس دار کیچڑ سے ہوچکی ہے ‘ پھر تراب (خاک) سے دوبارہ تخلیق کا یہ کیسے انکار کرسکتے ہیں ؟ طین لازب میں اجزاء آبی اور اجزاء خاکی مخلوق ہوتے ہیں ‘ مرنے کے بعد بھی یہ اجزاء (تحلیل ہو کر اپنی اپنی جگہ) باقی رہتے ہیں ‘ پھر دوبارہ اجتماع اور خلط سے کون روک سکتا ہے ؟ مادہ کی قابلیت میں فرق نہیں اور فاعل کی قدرت میں کمزوری نہیں۔
Ayah 37:12بل عجبت ویسخرون اور آپ کو تعجب ہوا اور وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔
بَلْ ابتدائیہ ہے کلام سابق سے گریز کیلئے نہیں ہے بلکہ ایک مقصد سے دوسرے مقصد کی جانب انتقال مطلوب ہے ‘ یعنی رسول اللہ ﷺ اور کافروں کی حالت بیان کرنا ہے۔ عجب اس حالت کو کہتے ہیں جو کسی غیر معمولی بات کو دیکھنے سے انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہے ‘ عجبت میں یہی حالت مراد ہے۔ ایک حدیث میں عَجِبَ رَبُّکَ مِنْ قَوْمٍ یُسَاقُوْنَ اِلَی الْجَنَّۃِ فِی السَّلاَسِلِ ‘ اسی طرح سُبْحَانَہٗ مَا اَعْظَمَ شَأنُہٗ میں صیغۂ تعجب اسی معنی کیلئے استعمال کیا گیا۔ لفظ عجب کا اطلاق (صرف حالت پر نہیں بلکہ) غیرمعمولی چیز پر بھی ہوتا ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : اَکَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَآ اِلٰی رَجُلٍ مِّنْھُمْ کیا یہ امر ان لوگوں کیلئے عجیب ہے کہ ان میں سے ایک شخص کے پاس ہم نے وحی بھیجی ہے (مادہ) عجب کا زیادہ استعمال ان چیزوں یا باتوں کیلئے ہوتا ہے جو آدمی کو بہت حسین نظر آئیں اور پسندیدہ ہوں۔ اعجبنی کذا مجھے یہ بات بہت پسند آئی (خوبصورت معلوم ہوئی) اللہ نے فرمایا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مِنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہٗ بعض لوگوں کی باتیں آپ کو بہت اچھی (خوبصورت) لگتی ہیں۔ ایک حدیث میں آیا ہے : عَجِبَ رَبُّکُمْ مِّنْ شَابٍّ تمہارے رب کو نوجوان کی یہ بات بہت پسند آئی۔
اگر کوئی امر بہت زیادہ برا معلوم ہو تو اس کیلئے لفظ عجب استعمال کیا جاتا ہے۔ عَجِبْتُ مِنْم بُخْلِکَ وَشَرْھِکَ مجھے تیری کنجوسی اور حرص بہت بری معلوم ہوتی ہے۔ ایک شاعر کہتا ہے
شَیْئاٰنِ عَجِیْبَانِ ھُمَ اَبْرَدُ مِنْ یَخِ
شَیْخٌ یَتَصَبّٰی وَصَبِیٌّ یَتَشَیََّخْ
دو باتیں عجیب (بڑی ناپسندیدہ) ہیں ‘ دونوں برف سے زیادہ ٹھنڈی ہیں : ایک وہ بوڑھا جو بچہ بنتا ہے ‘ دوسرا وہ بچہ جو بوڑھا بنتا ہے۔
کبھی کسی چیز کی انتہائی کثرت ظاہر کرنے کیلئے صیغۂ تعجب استعمال کیا جاتا ہے (خواہ وہ برائی کی کثرت ہو یا اچھائی کی) جیسے مَا اَکْرَمَہٗ وہ کس قدر سخی ہے ‘ مَا اَجْھَلَہٗ وہ کس قدر جاہل ہے ‘ مَا اَشَدَّ بَیَاضَہٗ اس کی سفیدی کتنی زیادہ ہے ‘ مَا اَشَدَّ اسْتِخْرَاجَہٗ اس کا استخراج کتنا زیادہ دشوار ہے۔ ان مثالوں کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سخاوت یا جہالت یا سفیدی وغیرہ غیرمعمولی اور بےمثال ہے۔
بعض اہل علم کہتے ہیں کہ کسی چیز کا سبب نہ جانے کے وقت انسان کی جو عارضی حالت ہوجاتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اللہ کی طرف عجب کی نسبت نہیں کی جاسکتی ‘ کیونکہ اللہ کا علم محیط کل ہے۔ بعض نے کہا : کسی چیز کو بڑا جاننے کے وقت آدمی کی جو حالت ہوجاتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔ ان دونوں تشریحوں کا مآل کوئی نیا نہیں ‘ بلکہ دونوں کا مطلب وہی نکلتا ہے جو ہم نے پہلے ذکر کردیا کہ غیر معمولی چیز کو دیکھنے سے انسان کی جو حالت ہوجاتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں کیونکہ آدمی بڑا اسی چیز کو سمجھے گا جو غیرمعمولی ہوگی اور جس چیز کا سبب معلوم نہ ہو ‘ وہ بھی غیرمعمولی ہی ہوتی ہے۔
جمہور کی قراءت عَجِبْتَ بفتح تَ بہ صیغہ خطاب ہے اور خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں باوجودیکہ آپ کے صادق اور امین ہونے کے معترف بھی ہیں اور معجزات بھی آپ کی سچائی کے گواہ ہیں اور قرآن کا معجزہ ہونا بھی ظاہر ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ دوبارہ زندگی کے منکر ہیں ‘ حالانکہ قدرت خداوندی کا ہمہ گیر ہونا ظاہر ہے۔ آپ کو اس بات پر تعجب ہے کہ یہ قدرت الٰہیہ کا انکار کر رہے ہیں۔
قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کو تعجب تھا کہ نزول قرآن کے بعد بھی بنی آدم گمراہ کس طرح رہ سکتے ہیں۔ آپ کو یقین تھا کہ جو شخص بھی اس قرآن کو سنے گا ‘ وہ ضرور اس کو مان لے گا اور ایمان لے آئے گا ‘ لیکن مشرکین اس کو سن کر بھی ایمان نہیں لائے بلکہ مذاق اڑانے لگے۔ اسی طرح عجبت کے بعد ویسخرون فرمایا ‘ یعنی وہ آپ کے تعجب کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ جو دوسری زندگی ہونے کی تقریر کرتے ہیں ‘ وہ اس کی ہنسی اڑاتے ہیں۔
Ayah 37:13واذا ذکروا الا یذکرون اور جب قرآن کے ذریعہ سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو نصیحت پذیر نہیں ہوتے۔ یا یہ
مطلب ہے کہ جب صحت حشر کی دلائل ان کے سامنے بیان کی جاتی ہیں تو اپنی حماقت اور قلت تدبر کی وجہ سے ان دلائل سے فائدہ اندوز نہیں ہوتے۔
Ayah 37:14واذا راوا ایۃً یستسخرون اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو بہت زیادہ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک دوسرے کو مذاق اڑانے کیلئے بلاتا ہے۔
آیت سے مراد ہے وہ معجزہ جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل نے فرمایا : اس سے مراد شق القمر کا معجزہ ہے۔
Ayah 37:15اور وہ کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے
Ayah 37:16ء اذا متنا وکنا ترابا وعظاما ماء انا لمبعوثون۔ اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے
Ayah 37:17او اباؤنا الاولون تو کیا جب ہم مرجائیں گے
یا ہمارے پہلے باپ دادا ...... ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ یعنی کیا ہم اٹھائے جائیں گے ‘ بجائے جملۂ فعلیہ کے جملۂ اسمیہ ذکر کرنے سے پرزور انکار پر دلالت ہو رہی ہے اور اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دوبارہ جی اٹھنا فی نفسہٖ محال ہے اور خاک ہوجانے کے بعد تو بدرجۂ اولیٰ ناممکن ہے۔ اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ یعنی ہمارے آباؤ اجداد تو بہت پہلے مرچکے ‘ پھر وہ اور ہم ساتھ ساتھ ایک وقت میں دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ‘ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
Ayah 37:18قل نعم (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ! تم بھی زندہ کر کے اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے آباؤ اجداد بھی۔
وانتم داخرون اور تم ذلیل بھی ہو گے۔ دخور کا معنی ہے سخت ترین ذلت و حقارت۔
Ayah 37:19فانماھی زجرۃ واحدۃ (جب قبروں سے بعث ہوگا) تو بس ان کو اٹھایا جانا (کسی مادی سبب کا محتاج نہ ہوگا بلکہ) ایک جھڑکی ہوگی۔
زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ ایک سخت آواز ‘ کڑک دار آواز۔ اس سے مراد ہے دوسری بات صور کی آواز۔ زجر کا (لغوی) معنی ہے ہنکا کر نکال دینا اور چیخ کر روک دینا۔ زَجَرَ الرَّاعِیْ غَنَمَہٗ چرواہے نے ڈانٹ کر بکریوں کو روک دیا۔ اس سخت آواز (نفخۂ دوم) کا نتیجہ فوراً اسی طرح سامنے آجائے گا جس طرح اول سخت آواز (نفخۂ اول) کا نتیجہ نمودار ہوا ہوگا (یعنی نفخۂ اولیٰ کے بعد فوراً سب مرجائیں گے اور نفخۂ دوم سے فوراً سب جی اٹھیں گے) چناچہ آگے فرماتا ہے۔
فاذاھم ینظرون سو وہ فوراً دیکھنے لگیں گے۔ یعنی قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیں گے (اور ماحول کو دیکھنے لگیں گے)
یا یَنْطُرُوْنَ کا معنی ہے یَنْتَظِرُوْنَ یعنی اہل قبور صور کے نفخۂ دوم کے فوراً بعد قبروں سے نکل کر کھڑے ہوجائیں گے اور انتظار کریں گے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا ہے۔
Ayah 37:20وقالوا یا ولینا ھذا یوم الدین۔ اور کہیں گے : ہائے ہماری تباہی ‘ یہ تو وہی (دنیوی زندگی کے) بدلہ کا دن ہے
Ayah 37:21ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون (ارشاد ہوگا :) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔
یَا وَیْلَنَا میں یا تنبیہ کیلئے ہے اور وَیْل کا معنی ہے ہلاکت۔ یوم الدین یعنی وہ دن ہے جس میں ہم کو ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ یوم الفصل فیصلہ کا دن یا نیکوکار اور بدکار کو الگ الگ کردینے کا دن۔
بعض اہل تفسیر کا قول ہے کہ ھذا یوم الدین پر کافروں کا کلام پورا ہوگیا اور ھذا یوم الفصل سے ملائکہ کا کلام نقل فرمایا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک سب انہی کا کلام ہے۔
Ayah 37:22احشروا الذین ظلموا وازواجھم وما کانوا یعبدون۔ (ا اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرمائے گا :) جمع کرلو ظالموں کو اور ان کے ہم مشربوں کو اور ان معبودوں (یعنی اصنام و شیاطین) کو
احشروا یعنی جزا و سزا اور حساب کے مقام تک لے جا کر ان کو جمع کرو۔ وازواجھم ازواج یعنی ان جیسے لوگوں کو ‘ ان کے چیلوں اور پیروی کرنے والوں کو۔
بیہقی نے بطریق نعمان بن شریک بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَھُمْ یعنی انکے ہم مشرب لوگوں کو انہی کی طرح ہیں ‘ سودخوار ‘ سود خواروں کے ساتھ ‘ زناکار ‘ زناکاروں کے ساتھ اور شرابی ‘ شرابیوں کے ساتھ آئیں گے۔ سب ہم مشرب جنت میں ساتھ ہوں گے اور ہم مشرب دوزخ میں بھی ساتھی ہوں گے۔
بیہقی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے ازواج کا ترجمہ اشباہ کیا ‘ یعنی ان جیسے۔ بغوی نے قتادہ اور کلبی کا قول نقل کیا ہے کہ ازواج سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اعمال انکے اعمال کی طرح ہوں۔ شرابی ‘ شرابیوں کے ساتھ اور سودخوار ‘ سودخواروں کے ساتھ۔ ضحاک نے کہا : ازواجھم یعنی ان کے جوڑ کے شیاطین کو ان کے ساتھ جمع کرو۔ ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک زنجیر میں باندھ دو ۔ حس نے ازواج سے مراد لی ہیں ان کی مشرک بیبیاں۔
ما کانوا یعبدون یعنی اللہ کے سوا دنیا میں یہ جن بتوں اور شیطانوں کی پوجا کرتے تھے۔ مقاتل نے کہا : ما کانوا یعبدون سے ابلیس مراد ہے ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ ۔
حقیقت یہ ہے کہ مَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا لفظ عام مخصوص البعض ہے ‘ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنآی اولٰٓءِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ (یعنی وہ نیک مؤمن مخلوق جس کی پرستش کیا کرتے تھے جیسے حضرت عیسیٰ ‘ حضرت مریم ‘ ملائکہ وغیرہ ‘ وہ سب آیت ان الذین سبقت الخ کی روشنی میں دوزخ سے دور رکھے جائیں گے البتہ بت ‘ شیاطین وغیرہ اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔
فاھدوھم حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان کو دوزخ کا راستہ بتادو۔ ابن کیسان نے کہا : ان کو دوزخ کی طرف بڑھا دو ۔ پیچھے سے ہنکانے والے کو بھی عرب ہادی کہتے ہیں۔
Ayah 37:23من دون اللہ فاھدوھم الی صراط الجحیم
جن کی خدا کے سوا یہ پوجا کرتے تھے ‘ پھر ان کو دوزخ کی راہ بتلا دو ۔
Ayah 37:24وقفوھم انھم مسؤلون . اور ان کو (اول) ٹھیراؤ ‘ ان سے باز پرس کی جائے گی۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے : جب کافروں کو دوزخ کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا تو پل صراط کے پاس ان کو روک دینے کا حکم ہوگا اور اللہ فرمائے گا : ان کو یہی روک دو ‘ کیونکہ اِنَّھُمْ مَّسْءُوْلُوْنَ ان سے بازپرس کی جائے گی۔ یہ جملہ حکم سابق کی علت ہے۔ حضرت ابن عباس کا ایک قول آیا ہے کہ کافروں سے ان کے تمام افعال و اقوال کی بازپرس کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس کا دوسرا قول ہے کہ لَآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی بازپرس ہوگی (پہلے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر تفصیلی اعمال و اقوال کا بھی مکلف ہے اور سارے احکام تکلیفیہ کی اس سے بازپرس ہوگی۔ دوسرے قول سے مترشح ہو رہا ہے کہ صرف توحید کی بازپرس ہوگی ‘ یعنی کافر احکام تفصیلیہ کا مکلف نہیں ہے۔ مترجم)
مسلم نے حضرت ابو برزہ اسلمی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی بندے کے قدم پل صراط کو نہیں چھوڑیں گے جب تک اس سے چار باتوں کی پرسش نہیں کرلی جائے گی : (1) عمر کس کام میں گذاری ؟ (2) جسم کو کس کام میں لگا کر کمزور کیا ؟ (3) علم کے بعد کیا عمل کیا ؟ (4) مال کہاں سے کمایا اور کس راستے میں صرف کیا ؟ ترمذی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔
نیز طبرانی نے حضرت معاذ بن جبل ‘ حضرت ابو الدرداء اور حضرت ابن عباس کی روایت سے ایسی ہی حدیث بیان کی ہے۔ ابن مبارک نے الزاہد میں حضرت ابوالدرداء کا قول بیان کیا ہے ‘ حضرت ابو الدرداء نے فرمایا : مجھے سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ جب حساب ہوگا تو مجھ سے کہا جائے گا تو جانتا تھا (پھر) تو نے عمل کیا کیا ؟
امام احمدنے الزہد میں لکھا ہے کہ حضرت ابو الدرداء نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے پوچھاجائے گا : جو کچھ تو جانتا تھا ‘ اس پر عمل تو نے کیا کیا ؟
ابن ابی حاتم نے ابقع بن عبد اللہ کلاعی کا بیان نقل کیا ہے کہ جہنم کے ساتھ پل ہیں ‘ راستہ سب پلوں پر سے گذرتا ہے ‘ پہلے پل کے پاس لوگوں کو روک لیا جائے گا اور (ملائکہ) کہیں گے کہ ان کو روک لو ‘ ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ چناچہ نماز کے متعلق بازپرس کی جائے گی ‘ نتیجہ میں جو ہلاک ہونے والے ہیں ‘ ہلاک ہوجائیں گے (دوزخ میں گرا دئیے جائیں گے) اور جو نجات پانے والے ہیں ‘ وہ نجات پاجائیں گے۔ دوسرے پل پر پہنچ کر امانت کے متعلق دریافت کیا جائے گا کہ امانت میں خیانت کی تھی یا پوری پوری ادا کی تھی ؟ اس نے نتیجے میں جو لوگ ہلاک ہونے والے ہیں ‘ ہلاک ہوجائیں گے اور جو نجات پانے والے ہیں ‘ نجات پاجائیں گے۔ پھر تیسرے پل پر پہنچیں گے تو قرابتداری کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ رشتۂ قرابت توڑ دیا تھا یا جوڑے رکھا تھا ؟ اس کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے ہلاک ہوجائیں گے اور نجات پانے والے نجات پاجائیں گے۔ راوی نے کہا : اس روز رحم (رشتۂ قرابت) ہوا میں معلق ہوگا اور کہے گا : اے اللہ جس نے مجھے جوڑے رکھا ‘ اس کو تو بھی جوڑے رکھ اور جس نے مجھے کاٹا ‘ اس سے تو بھی تعلق منقطع کرلے۔
Ayah 37:25ما لکم لا تناصرون تم کیوں باہم ایک دوسرے کی مدد نہیں رتے۔ یعنی بطور زجر ان سے یہ بات کہی جائے گی ‘ یعنی
ان کو باہم مدد کرنے پر برانگیختہ کیا جائے گا کہ اگر مدد کرسکتے ہو تو کرو۔ اس جملہ کی غرض محض استہزاء ہوگی۔
Ayah 37:26بل ھم الیوم مستسلمون بلکہ اس روز وہ سب خود سپردہ کھڑے ہوں گے۔
حضرت ابن عباس نے مستسلمونکا ترجمہ کیا ہے خاصعون یعنی عاجز ہوں گے۔ حسن نے ترجمہ کیا منقادون یعنی تابع اور فرمانبردار ہوں گے۔ استسلَمَ لشیءٍکسی چیز کا تابعدار ہوگیا ‘ مطیع حکم ہوگیا (مستسلمونکا لفظ ترجمہ ہے اپنے کو سپرد کردینے والے ‘ مترجم)
Ayah 37:27واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال و جواب کرنے لگیں گے۔
بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ سے مراد ہیں سردار اور ان کے چیلے یا کافر اور ان کے ساتھ شیطان۔
یَتَسَآءَ لُوْنَ یعنی بطور زجر باہم سوال جواب کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ باہم جھگڑیں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔
Ayah 37:28قالوا انکم کنتم تاتوننا عن الیمین (چیلے اپنے سرداوں سے یا کافر اپنے ساتھی شیطانوں سے) کہیں گے :
ہم پر تمہاری آمد بڑے زوروں سے ہوتی تھی۔
الیمین سے مراد ہے قوی ترین وجہ ‘ یا دین (کا جامہ بن کر) یا خیر (اور بھلائی کا راستہ) کذاقال الضحاک ومجاہد۔ انسان کا دایاں پہلو قوی ‘ طاقتور ‘ افضل اور زیادہ نفع بخش ہوتا ہے ‘ اسی لئے دائیں پہلو کو یمین کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : یمین سے مراد قسم ہے ‘ یعنی تم قسمیں کھاتے تھے کہ جس دین کی ہم تم کو دعوت دے رہے ہیں ‘ وہی حق ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یمین سے مراد ہے قوت اور جبر ‘ یعنی تم ہم کو گمراہ ہونے پر مجبور کرتے تھے ‘ ہماری مرضی کے خلاف ہم پر زبردستی کرتے تھے۔
یہ جملہ اور اس کے بعد والا جملہ کافروں کے باہم سوال و جواب کا بیان ہے۔
Ayah 37:29قالوا بل لم تکونوا مؤمنین وہ (سردار یا شیطان) کہیں گے :) ہم نے تم کو گمراہ نہیں کیا) بلکہ تم خود مؤمن نہ تھے۔
یعنی کافر تھے ‘ اپنی مرضی سے تم نے گمراہی کو پسند کیا تھا۔
Ayah 37:30وما کان لنا علیکم من سلطانٍ اور ہمارا تم پر کوئی جبر نہیں تھا۔ یہ جملہ سابق مضمون کی تائید کر رہا ہے۔
بل کنتم قومًا طاغین بلکہ تم (خود ہی اپنی مرضی سے) سرکشی کرنے والے لوگ تھے۔ یعنی تم نے خود ہی گمراہی کو اختیار
کیا تھا۔
Ayah 37:31فحق علینا قول ربنا انا لذائقون اب ہم (سب) پر ہمارے رب کی بات پوری ہوگئی ‘ بلاشبہ ہم عذاب کا مزہ چکھنے
والے ہیں۔ قول رب سے مراد ہے اللہ کا یہ قول کہ میں جہنم کو تمام جنات اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ پورا کلام اس طرح تھا : تم نے بھی خود سرکشی کو اختیار کیا تھا اور ہم بھی خود ہی طاغی تھے ‘ اس طرح قول رب پورا ہوگیا۔
Ayah 37:32فاغوینکم انا کنا غاوین سو ہم نے تم کو سیدھے راستہ سے بھٹکا دیا (یعنی اسی راستہ پر چلنے کی دعوت دی جس پر ہم
گامزن تھے) بلاشہ ہم گمراہ تھے۔
مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں فریقوں کا عذاب میں مبتلا ہونا اور دونوں کا گمراہ ہونا ایک تقدیری امر تھا ‘ جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ زیادہ سے زیادہ ہم نے اتنا کیا کہ جس ٹیڑھے راستے پر ہم چل رہے تھے ‘ اسی پر چلنے کی تم کو دعوت دی تاکہ تم بھی ہماری طرح ہوجاؤ۔
Ayah 37:33فانھم یومئذ فی العذاب مشترکون اسی لئے اس روز وہ (سب) عذاب میں شری ہوں گے۔
یعنی جب سردار اور ان کے چیلے یا کفار اور ان کے ساتھ شیطان سب گمراہ تھے تو اس وجہ سے سب عذاب میں بھی شریک ہوں گے۔
Ayah 37:34انا کذلک نفعل بالمجرمین بلاشبہ ہم تمام مجرموں (اور مشرکوں) کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔
Ayah 37:35انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون۔
ان کی حالت یہ تھی کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو بڑے بننے لگتے تھے
Ayah 37:36ویقولون ئانا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون
اور کہتے تھے : کیا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے ؟ شاعر مجنون سے ان کی مراد تھی رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک۔ اللہ کے ان کے قول کی تردید میں فرمایا :
Ayah 37:37بل جاء بالحق وصدق المرسلین (وہ مجنون شاعر نہیں تھے) بلکہ ایک سچا دین لائے تھے اور دوسرے پیغمبروں
کی انہوں نے تصدیق کی تھی۔ حق سے مراد ہے توحید۔
صدق المرسلین کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دعویٰ انوکھا نہیں بلکہ سابق پیغمبروں کا بھی یہی دعویٰ تھا اور یہ گذشتہ پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں ‘ لہٰذا ان کا دعویٰ دوسرے پیغمبروں کے موافق ہوا۔
Ayah 37:38انکم لذائقوا العذاب الالیم۔ (اے مجرمو ! شرک کرنے اور پیغمبروں کو جھٹلانے کی وجہ سے) تم دردناک عذاب (کا مزہ) ضرور چکھنے والے ہو
Ayah 37:39وما تجزون الا ما کنتم تعلمون اور تم کو بدلہ انہی اعمال کا دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔
Ayah 37:40الا عباد اللہ المخلصین مگر اللہ کے مخلص (منتخب ‘ پسندیدہ) بندے (ان کو بدلہ سینکڑوں گنا زائد دیا جائے گا) ۔