37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الصافات :۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ٭ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا رکھا تھا اسی طرح کفار عرب کا یہ عقیدہ تھا کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے عبادت گزار اور نور سے بنائے گئے بندے ہیں جن کا کام یہ ہے کہ وہ ہر وقت صفیں باندھے ہوئے اس کے ہر حکم کی تکمیل کے لئے کھڑے رہتے ہیں اور وہ اسی کی حمد وثناء کرتے رہتے ہیں ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو بنا کر اور انسانی ضروریات کی تمام چیزوں کو پیدا کر کے ایک خاص نظم و ضبط کی لڑی میں پرو رکھا ہے اور اللہ نے کائنات کی تمام چیزوں کو انسانوں کے کام میں لگا رکھا ہے۔ کسی چیز کو ختم کرنا یا باقی رکھنا ، زندگی اور موت سب اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، اسی نے زندگی دی ہے ، وہی موت دے گا اور وہی دوبارہ پیدا کر کے ہر شخص سے اس کی زندگی کے ہر لمحے کا حساب لے گا ۔ فرمایا کہ کفار عرب کا یہ کہنا کہ مرنے کے بعد جب ہماری ہڈیاں چورہ چورہ ہوجائیں گی اور ہمارے وجود کے ذرات بکھر جائیں گے تو ہم اور ہمارے باپ دادا جن کے وجود کا ایک ذرہ بھی باقی نہیں رہا کیا وہ دوبارہ پیدا کئے جاسکیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب وہ چاند ، سورج ، ستارے اور آسمان و زمین کو پیدا کرسکتا ہے تو اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے ؟ یقینا ان چیزوں کے مقابلے میں انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا تو بہت ہی آسان ہے اور وہ پیدا کرے گا ۔ کفار مذاق اڑانے کے لئے کہتے تھے کہ انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا ایک شاعرانہ خیال ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو تم اور تمہارے باپ دادا سب اٹھ کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے اور پھر یہ لوگ اپنے کیے ہوئے اعمال اور غلط خیال و عقیدہ کی وجہ سے پچھتائیں گے ۔ فرمایا کہ جب ان کفار اور ان کے سرداروں کو قیامت میں جمع کرنے کا حکم دیا جائے گا تو وہ اسی طرح شرمندگی کے ساتھ حاضر ہوں گے کہ شرم و ندامت سے ان کی گردنیں جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے قابل بھی نہ ہوں گے۔ اس وقت عام لوگ اپنے سرداروں کو اور سردار اپنے ماننے والوں کو اس عذاب کا سبب بتا کر ایک دوسرے پر لعنتیں بھیجیں گے اور وہ سب کے سب جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ ( اس سورة میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت یونس (علیہ السلام) ، چھ انبیاء کرام کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی اپنی قوم کو بت پرستی اور جاہلانہ رسموں سے روکنے کی کوشش کی مگر قوم نے نافرمانی اختیار کی جس کی وجہ سے ان کی قوموں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ) (حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے جب عذاب کے آثار دیکھے تو ساری قوم نے اجتماعی معافی مانگی اور عذاب کا فیصلہ ہونے کے باوجود اللہ نے ان پر عذاب اس لیے ہٹا لیا تھا کہ پوری قوم نے اللہ کے سامنے گڑ گڑا کر معافی مانگی تھی اور پھر حضرت یونس (علیہ السلام) بھی واپس آگئے اور قوم کی اصلاح میں مشغول ہوگئے۔ ) (قیامت میں مشرکین ایک دوسرے پر لعنت بھیج کر اپنی گمراہی کا ذمہدار دوسروں کو ٹھہرائیں گے مگر نہ ماننے والے اور گمراہ کرنے والوں دونوں کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ ) ٭اس کے بر خلاف جنت والوں کا اعزازو اکرام یہ ہوگا کہ ان کے لئے بہتر ین جنتیں ہوں گی ۔ جن میں بہترین غذائیں ، رہنے کے لئے عیش و آرام کے گھر ، باغات ، سر سبزی و شادابی ، پینے کے لیے شراب طہور ، جو سفید رنگ کی مزیدار شراب ہوگی ۔ نہ اس شراب سے چکر آئیں گے نہ وہ بہکیں گے نہ مستی اور خرافات میں مبتلا ہوں گے۔ اسی دوران ایک شخص کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو ہمیشہ اللہ و رسول کے خلاف باتیں کرتا تھا اور آخرت کا انکار کرتا تھا نجانے وہ کس حال میں ہوگا ؟ کہا جائے گا کہ کیا تم اس کو دیکھنا چاہتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ اس کی کیفیت کو سامنے کردیں گے کہ وہ جہنم کے بالکل بیچ میں آگ میں جل رہا ہوگا ۔ اس وقت یہ شخص اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہے گا کہ اللہ کا کرم ہوگیا ورنہ میں بھی تیری طرح آگ میں جل رہا ہوتا ۔ ٭اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کی بت پرستی کو قابل ملامت ٹھہراتے ہوئے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) ، حضرت الیاس (علیہ السلام) ، حضرت لو ط (علیہ السلام) اور حضرت یونس (علیہ السلام) کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے پوری زندگی اپنی قوم کو بت پرستی کی لعنت سے چھڑاکر ایک اللہ کا بندہ بننے کی دعوت دی ۔ جب انہوں نے انکار کیا تو ان پر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا اور یہ قومیں تباہ ہو کر رہ گئیں ۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے عذاب کے آثار دیکھ کر اور حضرت یونس (علیہ السلام) کے چلے جانے کے بعد اجتماعی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کا فیصلہ واپس لے لیا اور حضرت یونس (علیہ السلام) بھی واپس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا مقصد اور مشن جاری رکھیے۔ لوگوں کو راہ ہدایت دکھاتے رہیے۔ کچھ تھوڑا سا انتظار کرلیجئے۔ اللہ بہت جلد اہل ایمان کو غلبہ عطاء فرمائے گا چناچہ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور مکہ فتح ہوگیا اور اللہ نے سارے جزیرۃ العرب پر اہل ایمان کو غلبہ عطاء فرما دیا ۔ کفار مکہ سے کہا گیا کہ دوسری قوموں کا انجام تمہارے سامنے ہے اگر تم نے توبہ کرلی اور اپنے عقیدہ کی اصلاح کرلی تو سب کچھ درست ہوجائے گا ورنہ تم دوسری قوموں کی طرح اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکو گے۔

Ayahs 37:1–10

وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ Open ayah 37:1 in the Quran reader

اور قسم ہے صفیں باندھنے والے ( فرشتوں کی)

فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ Open ayah 37:2 in the Quran reader

پھر بندش ڈالنے والوں کی

فَالتّٰلِیٰتِ ذِكْرًاۙ Open ayah 37:3 in the Quran reader

پھر اس کی تسبیح و تلاوت کرنے والے (فرشتوں کی )

اِنَّ اِلٰهَكُمْ لَوَاحِدٌؕ Open ayah 37:4 in the Quran reader

کہ بیشک تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ Open ayah 37:5 in the Quran reader

آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ ان کا اور مشرقوں کا پروردگار ہے۔

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ Open ayah 37:6 in the Quran reader

بیشک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دی ہے

وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍۚ Open ayah 37:7 in the Quran reader

اور سر کش شیطانوں سے اس کو محفوظ بنایا ہے۔

لَا یَسَّمَّعُوْنَ اِلَى الْمَلَاِ الْاَعْلٰى وَ یُقْذَفُوْنَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍۗۖ Open ayah 37:8 in the Quran reader

ملائے اعلیٰ کی طرف وہ کان بھی نہیں لگا سکتے اور ( اگر وہ کوشش کریں تو) ہر طرف سے دھکے دیئے جاتے ہیں

دُحُوْرًا وَّ لَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌۙ Open ayah 37:9 in the Quran reader

اور ان کے لئے دائمی عذاب ہے

اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ Open ayah 37:10 in the Quran reader

سوائے اس کے جو اچک کرلے بھاگا تو اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے لگا یعنی ان لوگوں کا گمان یہ تھا کہ کچھ جنات و شیطان آسمانوں سے کچھ خبریں لے کر آتے ہیں اور آپ ان کو بیان کردیتے ہیں ۔ پہلی بات کی تردید کرتے ہوئے فرشتوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ فرشتے اللہ کی فرماں بردار اور اطاعت گزار مخلوق ہیں جن کا کام یہ ہے کہ وہ صفیں باندھے ہر وقت اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں تا کہ جیسے ہی کوئی حکم دیا جائے تو اس کی پوری طرح تعمیل کی جائے کچھ فرشتوں کا کام یہ ہے کہ وہ شیاطین کو عالم بالا تک پہنچنے سے روکتے اور بندش ڈالتے ہیں تا کہ وہ فرشتوں کی آپس کی بات چیت اور اللہ کے احکامات جن کا وہ تذکرہ کرتے ہیں ان کو شیاطین اچک کر نہ لے جائیں کیونکہ شیطانوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اگر غیب کی خبروں سے کچھ سن گن مل جائے تو وہ جا کر کاہنوں کو بتا دیں ۔ فرمایا کہ اگرچہ یہ ناممکن ہے کہ وہ غیب کی خبروں کو اچک کرلے بھاگیں کیونکہ جب بھی وہ اس کی کوشش کرتے ہیں تو فرشتے ان پر شہاب اور شعلوں کی بارش کردیتے ہیں جو اللہ کی حمد وثناء اور تقدیس و تسبیح میں لگے رہتے ہیں اور اس طرح سارے فرشتے اللہ کے احکامات کے مکمل طور پر تابع فرماں ہوتے ہیں ۔ اور وہ کسی نافرمانی کا تصور تک نہیں کرسکتے۔ دوسری بات جس کی تردید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آپ جو غیب کی خبریں بتاتے ہیں ان کا علم آپ جنات و شیاطین سے حاصل کر کے بیان کرتے ہیں تو فرمایا کہ ان جنات کی رسائی تو عالم بالا تک ممکن ہی نہیں ہے اور وہ جنات اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی باتیں بھی سن سکتیں ، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کا کو ہن کہنا یا سمجھنا اللہ کی قدرت و طاقت کی توہین ہے جو لوگ ایسا کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں ان کو اپنی عاقبت کی فکر ہونا چاہیے کیونکہ ایسے منکرین کے لئے اللہ نے دائمی عذاب تیار کر رکھا ہے جو کسی طرح سے ٹالا نہ جاسکے گا ۔