Explained with ayahs 6–10
شیاطین اور کاہن۔
آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے…
Read the full tafseer →سورة الصّٰٓفّٰت 5
آسمان دنیا سے مراد قریب کا آسمان ہے، جس کا مشاہدہ کسی دوربین کی مدد کے بغیر ہم برہنہ آنکھ سے کرتے ہیں۔ اس کے آگے جو عالم مختلف طاقتوں کی دوربینوں سے نظر آتے ہیں، اور جن عالموں تک ابھی ہمارے وسائل مشاہدہ کی رسائی نہیں ہوئی ہے، وہ سب دور کے آسمان ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ " سماء " کسی متعین چیز کا نام نہیں ہے بلکہ قدیم ترین زمانے سے آج تک انسان بالعموم یہ لفظ عالَمِ بالا کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب، اس میں السماء الدنیا سے مراد نزدیک ترین آسمان ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس نزدیک والے آسمان کو ستاروں کے ذریعے زینت بخشی ہے، اب یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ ستارے ٹھیک آسمان کے اندر ہوں، بلکہ اگر اس سے جدا ہوں تب بھی زمین سے دیکھا جائے تو وہ آسمان پر ہی معلوم ہوتے ہیں، اور ان کی وجہ سے آسمان جگمگاتا نظر آتا ہے۔ بتلانا صرف اس قدر ہے کہ یہ تاروں بھرا آسمان اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بخود وجود میں نہیں آ گیا بلکہ اسے پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے، اور جو ذات اتنی عظیم الشان چیزوں کو وجود میں لا سکتی ہے اسے کسی شریک اور ساجھی کی کیا ضرورت ہے ؟ نیز جب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
آیت 6۔ 7
اوپر کی آیت میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کی و خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صفہ بستہ اور اس کی حمدوتسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آرہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چناچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔
’ حفظا ‘ فعل مخدوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
7۔ 1 یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چناچہ شیطان آسمان پر کوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…
Read the full tafseer →ربنا زینا السمآء۔۔۔۔ الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب (6 –۔۔
سورت کے آغاز میں ملائکہ کے بارے میں عربوں کے غلط خیالات پر بحث کی گئی تھی ، یہاں شیاطین کے بارے میں ان کے غلط خیالات کو لیا جاتا ہے۔ عربوں کئ یہ خیالات تھے کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔ بعض عرب محض اس خیال سے شیاطین کی پوجا کرتے تھے کہ شیاطین کو ملکوت السموات کی بعض غیوب کا علم ہوتا ہے۔ وہ ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہوتے ہیں اور یوں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ زمین ، آسمان اور مشرقوں کے ذکر کے بعد ، چاہے ان سے مراد ستاروں کے مشرق ہوں ، زمین کے اوپر جاری مشرق ہوں ، یا دونوں مشرق ہوں یا ان سے مراد نور اور روشنی ہو ، بہرحال اب یہاں کواکب…
Read the full tafseer →9 یعنی اندھیری رات میں یہ آسمان بیشمار ستاروں کی جگمگاہٹ سے دیکھنے والوں کو کیسا خوبصورت، مزین اور پر رونق معلوم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6{ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ } ”ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔“
السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘ یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰیہے یعنی ”قریب ترین“ جبکہ ”دُنْیَا“ کا لفظ اس کا مونث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4 آسمانوں کا وجود ایک ٹھوس حقیقت ہے :۔ نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے اس میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس خوشنما منظر کو دیکھنے سے ہی انسان راحت محسوس کرتا ہے۔
موجودہ دور کے ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق آسمان صرف حد نگاہ کا نام ہے۔ جبکہ کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ آسمان ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ آج کے ماہرین فلکیات کئی ستاروں کا زمین سے لاکھوں اور کروڑوں میل کا فاصلہ بتاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ستاروں کی روشنی ذاتی نہیں ہوتی بلکہ انعکاس روشنی کے اصول کے تحت سورج کی روشنی سے ہی یہ منور اور روشن اور چمکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
3۔ یعنی اکثر اور بالعموم تو یہی حالت رہتی ہے کہ رجم کے ڈر سے دور ہی دور رہتے ہیں، آیت میں بتایا ہے کہ اس نظام کو اکب سے دو کام لئے جاتے ہیں۔ ایک تو زیب وزینت، دوسرے شیطانوں کا دفاع۔ (آیت) ”’ السمآء الدنیا “۔ یعنی قریب ترین آسمان مراد وہی آسمان ہے جو ہماری زمین سے قریب ترین نظر آرہا ہے۔ اپنی ساخت و ترکیب کے لحاظ سے وہ خواہ کچھ بھی ہو۔ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “۔ یہ ستارے آسمان میں جڑے ہیں یا نہیں۔ قرآن مجید کو ان بحثوں سے نفیاواثباتا کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ ستارے اس فضائے آسمانی کے لئے ذریعہ زینت و سامان آرائش ہیں۔ اور یہی ایک حسی بلکہ بدیہی شے ہے۔ (آیت) ” حفظا من کل شیطن مارد “۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
آیت نمبر 1 تا 21
ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…
Read the full tafseer →انا زینا السمآء الدنیا بزینۃ الکواکب۔ ہم نے ہی سجایا ہے (زمین کے) قریب والے آسمان کو زینت کے ساتھ یعنی ستاروں سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(6۔ 7) ار ہم ہی نے رونق دی ہے اس سے پہلے آسمان کو ایک عجیب آرئش یعنی ستاروں کے ساتھ اور ان ہی ستاروں کے ساتھ اس آسمان کی حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے۔
Read the full tafseer →اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِۨ الْكَـوَاكِبِ :”الدُّنْيَا“ ”اَلْأَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، سب سے قریب، یعنی جو آسمان ہماری زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ”زِیْنَۃٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ”ایک انوکھی زینت“ کیا ہے۔ ”الْكَـوَاكِبِ“ ”زِیْنَۃٌ“ سے بدل ہے، ترجمے میں اسے ملحوظ رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ستاروں کی پیدائش کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک آسمان دنیا کی آرائش و زیبائش ہے۔ اگر ستارے نہ ہوں تو نہ آسمان کا یہ حسن ہو نہ زمین پر روشنی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں چراغ بھی فرمایا ہے : (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
قتادہ نے کہا : ستارے تین مقاصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں (1) شیاطین کو رجم کرنے کے لئے ‘ ایسے نور کے لئے جس کیساتھ راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور آسمان دنیا کی زینت کے لئے۔ مسروق ‘ اعمش ‘ نحفی ‘ عاصم اور حمزہ نے بزیۃ پڑھا ہے یعنی مجرور اور منون اور لکواکب کو زینۃ سے بدل کے طور پر مجرور پڑھا ہے کیونکہ کواکب ہی زینت ہیں۔ ابوبکر نے اسی طرح پڑھا ہے مگر الکواکب کو زینۃ مصدر کی وجہ سے نصب دی ہے اس کا معنی ہے ہم نے آسمانوں سے ستاروں کو مزین کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ زینۃ سے بدل ہے۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ اسے زینۃ الکواکب پڑھا جائے معنی ہوگا اس کی زینت ستارے ہیں یا معنی ہو یہی کواکب ہیں۔ باقی قراء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آپ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو تنوین کے ساتھ پڑھتے تھے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم (رح) نے فرمایا جس نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو مضاعف پڑھا اور ” بزینۃ “ پر تنوین نہ لگائی۔ تو اس نے اس کو آسمان کی زینت نہ بنایا بلکہ اس نے ستاروں کی زینت بنادیا۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفظا “ کہ ہم نے اس کو حفاظت کے لئے بنادیا (آیت) ” من کل شیطن مارد (7) لایسمعون الی الملا الاعلی “ (ہر شریر شیطان سے اور وہ شیطان عالم بالا…
Read the full tafseer →اِنَّا زَيَّنَّا [بیشک ہم نے زینت دی ] السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا [دنیوی آسمان کو ] بِزِيْنَةِۨ [ایک زینت سے ] الْكَـوَاكِبِ [جو ستارے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 2: پہلی تین آیات میں ملائکہ کا ذکر ہوا کہ نادانوں نے ان کو خدائی کا درجہ دے رکھا ہے جبکہ ان کے اعلیٰ سرداروں تک کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے آگے صف بستہ اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ پھر آیات چھ تا دس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جنوں کی رسائی ملاء اعلیٰ تک نہیں ہوپاتی کہ وہاں غیب کی کوئی خبر معلوم کرسکیں۔ اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو پوج رہے ہیں وہ بھی احمق ہیں اور جو جنوں کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش کررہے…
Read the full tafseer →اس کے بعد ستاروں کا تذکرہ فرمایا (اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃٍ نِ الْکَوَاکِبِ ) (بلاشبہ ہم نے قریب والے آسمان کو ایک خاص زینت کے ساتھ مزین کیا یعنی ستاروں کے ذریعے اسے زینت دی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔
قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔
پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
3:۔ انا زینا الخ :۔ یہ جنات کا حال ہے کہ جب وہ ملا اعلی کی طرف چوری چھپے کوئی بات سننے جاتے ہیں تو ہر طرف سے آگ کے شعلے ان کا پیچھا کرتے اور انہیں واپس دھکیل دیتے ہیں اور شیاطین جن کے لیے دنیا کے اس عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی عذاب لازم ہوگا تو ایسے راندہ بارداہ خداوندی کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ انا زینا السماء الدنیا الخ، ہم نے سب سے نچلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ اور مزین کردیا۔ اہل ہیئت کی تحقیق یہ ہے کہ سبعہ سیارہ کے علاوہ باقی تمام ستارے (ثوابت) ساتوں آسمان سے اوپر آٹھویں آسمان (کرسی) میں نصب ہیں۔ اگرچہ اس دعوی پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں، لیکن اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…
Read the full tafseer →اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَۃِۨ الْكَـوَاكِبِ 6ۙ
زين
الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين،
( زی ن ) الزینہ
زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں
دنا
الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔
تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اِنَّا زَیَّـنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْـکَوَاکِبِ ۔ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ۔ (الصآفات : 6، 7)
(بےشک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔ اور ہم ہی نے اس کی حفاظت کی ہے ہر سرکش شیطان سے۔ )
قدرتِ خداوندی کی وسعت اور حفاظت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہم نے اہل زمین کے لیے زمین میں دلچسپیوں کی ایک کائنات بسا رکھی ہے کہ نہ رنگوں کی بہار کی کوئی انتہا ہے اور نہ خوبصورت آوازوں اور دلنواز صدائوں اور ادائوں کا کوئی شمار ہے۔ انسان سرشام کسی جنگل میں نکل جائے تو پرندوں کی موسیقی اسے دوسری دنیا میں پہنچا دے گی۔ اور کبھی چھائی ہوئی گھٹا میں پہاڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب نے آسمانوں کو بنایا ہے اسی نے پہلے آسمان کو ستاروں سے روشن فرمایا ہے اور اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا ہے۔
قرآن مجید نے یہ بات کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ آسمان دنیا یعنی پہلا آسمان جو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے دو فائدے اور بھی ذکر فرمائے ہیں۔ ان سے لوگ راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر بر ستے ہیں اس طرح شیاطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط…
Read the full tafseer →6: اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآ ئَ الدُّنْیَا (بیشک ہم ہی نے رونق دی اس طرف والے آسمان کو) الدنیا سے مراد جو تم سے قریب تر ہے۔ یہ ادنیٰ کی مؤنث ہے۔ بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ (عجیب آرائش یعنی ستاروں کے ساتھ)
قراءت : حمزہ اور حفص نے زینۃ سے اس کو بدل قرار دیا۔ تقدیر عبارت یہ ہوئی۔ انا زینا السماء الدنیا بالکواکب بزینۃ الکواکب ہم نے آسمان دنیا کو کواکب سے یعنی آرائش کو اکب سے زینت دی۔ ابوبکر نے محل زینۃ سے بدل مان کر پڑھا یا اعنیکو مضمر مانا یا مصدر منون کو مفعول میں عامل قرار دیا بزینۃ الکواکب دیگر قراء نے مصدر کو فاعل کی طرف مضاف مانا۔ تقدیر کلام یہ بتائی بان زان تھا الکواکب اور اس کی اصل بزینۃ…
Read the full tafseer →6، انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب، عاصم کی قرأت بروابت ابی بکر، بزینۃ تمنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، الکواکب ، منصوب ہے۔ ہم نے ستاروں کو مزین کیا حمزہ اور حفص نے ، بزینۃ، تنوین کے ساتھ اور ، الکواکب، بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ ہم نے ستاروں کے ساتھ زینت بخشی اور دوسرے قراء کا قول ہے، بزینۃ الکواکب، بغیر تنوین کے اضافت کے ساتھ ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ستاروں کی روشنی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
6۔ 10۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی ہے کہ اس نے آسمان میں تارے پیدا کرکے آسمان کی رونق بڑھائی پھر فرمایا چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ باتیں سننے کو جو آجاتے ہیں۔ تو ان ہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان شیاطینوں پر آگ کے انگارے برساتے ہیں تاکہ وہ شیاطین آسمان پر کی باتیں نہ سننے پاویں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ ایک دن رسول ﷺ کے روبرو کاہن لوگوں کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کاہن لوگ جھوٹے ہیں بعضے صحابہ نے عرض کیا کہ کاہنوں کی بعضی بعضی بات تو سچ نکلتی ہے آپ نے فرمایا کہ کبھی شیطان آسمان کی باتوں میں سے کوئی بات جو چرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 اللہ مشرقوں اور مغربوں کا مالک : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی رب ہے مشرقوں کا اور مغربوں کا " مالک بھی وہی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { رَبُّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ } ۔ البتہ یہاں پر عربی قاعدہ کے مطابق متقابلین میں سے ایک ہی کے ذکر پر اکتفاء فرمایا گیا ہے جس سے اس کا مقابل خود بخود سمجھ لیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَقِیْکُمُ الْحَرَّ } ۔ (ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ) ۔ مشرقین اور مغربین بیشمار ہیں۔ کیونکہ سورج شمالاً جنوباً روزانہ ایک نئے مشرق سے طلوع کرتا ہے۔ اور یہی حال اس کے غروب کا بھی ہے۔ اسی طرح شرقاً غرباً بھی اس کا یہی حال ہے کہ ایک جگہ غروب ہو رہا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب
تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الصافات
رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21:
اسرار و معارف :
قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2 یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تاروں کو زینت کے علاوہ اس لئے بنایا ہے کہ ہر پاجی شیطان سے آسمان کی حفاظت کی جائے۔ ( دیکھئے سورة ملک : 5)
Read the full tafseer →(37:6) زینا۔ ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر ہم نے زینت دی ۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے رونق دی۔
السماء الدنیا۔ موصوف وصفت مل کر مفعول ہے زینا کا نزدیک کا آسمان یعنی وہ آسمان جو بہ نسبت دوسرے آسمانوں کے زیادہ قریب ہے۔ دنیا ادنی سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے !
بزینۃ ن الکواکب، نون قطنی ہے الکواکب بدل ہے زینۃ سے اگر اضافت سے پڑھا جائے تو زینۃ الکواکب اضافت بیانیہ ہے۔ ہم نے آسمان دنیا کو سجایا ہے زینت کے ساتھ یعنی ستاروں سے یا ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کے سنگھار سے سجایا ہے ! (یہاں ایک حسی اور بدیہی امر کی طرف اشارہ ہے۔ علم الافلاک کی یہاں کوئی بحث نہیں ہے بادی المنظر میں نیلے آسمان کے پس منظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی کہ اس نے آسمان میں ستارے پیدا کرکے آسمان کو زینت سے آراستہ کیا ہے پھر فرمایا کہ ہر شیطان سرکش سے ہم نے آسمان کو اوپرجانے سے محفوظ رکھا ہے اب نبی ﷺ کے زمانہ میں وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور وہ طاقت نہیں رکھتے کہ باتیں سن سکیں اور وہ ہر طرف سے در در پھٹ پھٹ کرکے نکالے جاتے ہیں اور ہرچہار طرف سے فرشتے ان پر آگ کے انگارے پھینکتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں ہمیشگی کا عذاب ہے مگر ہاں جو کوئی شیطان فرشتوں کا ایک آدھا لفظ سن کر بھاگا تو اس کا ایک دہکتا ہواشعلہ اس کو جلانے کے لیے پیچھا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[7] یعنی قریب ترین آسمان۔ مراد وہ آسمان ہے جو ہماری زمین سے دکھائی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(6) ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو ایک عجیب آرائش کے ساتھ کہ وہ تارے میں آراستہ کیا ہے اور تاروں کی رونق کے ساتھ اس طرف کے آسمان کو رونق دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔
Read the full tafseer →ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی آرائش سے مزین کردیا :
6۔ (السماء الدنیا) کے الفاظ سے یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ آسمان ایک سے زیادہ ہیں اور دوسری بات یہ کہ وہ اوپر نیچے ہیں اور یہ بھی کہ آسمان سے اوپر جایا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ یہ سیارے ہوں یا ستارے جو ہم کو نظر آتے ہیں وہ اس فضائی نیلگوں چیز سے نیچے ہیں اور جو مشیت اور حقیقت بھی رکھتے ہیں وہ اپنی جگہ ایک فائدہ اس خلا کو خوبصورت کرنے کا بھی پیش کر رہے ہیں جس کو ہر آنکھ دیکھ رہی ہے وہ آنکھ عالم کی ہو یا جاہل کی اور اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آرائش وزبائش ایسی چیز ہے جو انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور علم الافلاک اپنی جگہ ایک مستقل…
Read the full tafseer →In the next verse, it was said: إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ (Verily, We have decorated the nearest sky with an adornment, the stars, - 37:6). Here, the expression السَّمَاءَ الدُّنْيَا : (as-sama'ud-dunya: the nearest sky) means the closest sky. The sense is that Allah Ta’ ala has made this sky closest to the world look good through the glittering presence of stars. Now, it is not necessary that these stars are located precisely within the sky. In fact, even if they are detached from it, even then, should they be looked at from the earth, they appear to be on…
Read the full tafseer →5 "Lower heaven" : The nearer heaven which can be seen with the naked eye, without the help of a telescope. The worlds beyond which can be seen through the telescopes of different powers, and the worlds which have not so far been observed through any moans, are the distant heavens. In this connection, one should also note that "sama " is not something definite and determined, but man generally has been using this word and its other synonyms for the heavens since the earliest times.
Read the full tafseer →