As-Saaffaat 37:7

As-Saaffaat · from ayah 7

37:7

وَحِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ۟ۚوَحِفۡظًا مِّنۡ كُلِّ شَيۡطٰنٍ مَّارِدٍ‌ۚ

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And as protection against every rebellious devil

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah As-Saaffaat

All translations of 37:7

اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور حفاﻇت کی سرکش شیطان سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نگاہ رکھنے کو ہر شیطان سرکش سے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (انہیں) ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہر سرکش شیطان سے خوب محفوظ کرنے کے لیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسے ہر سرکش شیطان سے محفوظ بنادیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کو محفوط کیا ہے اچھی طرح ہر سرکش شیطان کی دراندازی سے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کو) محفوظ کردیا ہر شیطان سرکش (کی پہنچ اور دسترس) سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہر شریر شیطان سے حفاظت کی غرض سے (بھی)

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہر شیطان سرکش سے اس کی حفاظت کی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and have protected it from every rebellious satan.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and (have made them) a security against every rebellious devil.

— Muhammad Taqi Usmani

and (have made them) a security against every rebellious devil.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to guard against every rebellious Shaytan.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

With security from every froward devil.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And as protection against every rebellious devil

— Saheeh International

to protect them from the rebellious satan.

— Muhammad Sarwar

And (there is) a safeguard against every rebellious Shaitan.

— Muhammad Habib Shakir

And have placed therein a guard against any Satan froward.

— Abdul Majid Daryabadi

(For beauty) and for guard against all obstinate rebellious evil spirits,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 37:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–10

شیاطین اور کاہن۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے، جیسے اور آیت میں ہے (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ) 67۔ الملک :5) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں۔ اور آیت میں ہے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–9

سورة الصّٰٓفّٰت 6 یعنی عالم بالا محض خلا ہی نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کر جائے، بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے، اور اس کے مختلف خطے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطان سرکش کا ان حدوں سے گزر جانا ممکن نہیں ہے۔ کائنات کے ہر تارے اور ہر سیارے کا اپنا ایک دائرہ اور کرہ (Sphere) ہے جس کے اندر سے کسی کا نکلنا بھی سخت دشوار ہے اور جس میں باہر سے کسی کا داخل ہونا بھی آسان نہیں ہے۔ ظاہری آنکھ سے کوئی دیکھے تو خلائے محض کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ لیکن حقیقت میں اس خلا کے اندر بےحد و حساب خطے ایسی مضبوط سرحدوں سے محفوظ کیے گئے ہیں جن کے مقابلے میں آہنی دیواروں کی کوئی حقیقت نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

(آیت) وحفظا من کل شیطن مارد (الی قولہ تعالیٰ) فاتبعہ شھاب ثاقب، ان آیات میں زینت و آرائش کے علاوہ ستاروں کا ایک فائدہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ شریر قسم کے شیاطین کو عالم بالا کی باتیں سننے سے روکا جاتا ہے۔ وہ غیبی خبروں کی سن گن لینے کے لئے آسمان کے قریب جاتے ہیں، لیکن انہیں فرشتوں کی باتیں سننے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ کوئی شیطان اگر کوئی آدھی تہائی بات سن بھاگتا ہے تو اسے ایک دہکتے ہوئے شعلہ کے ذریعے مار لگائی جاتی ہے، تاکہ وہ دنیا میں پہنچ کر اپنے معتقد کاہنوں اور نجومیوں کو کچھ بتا نہ سکے، اسی دہکتے ہوئے شعلے کو ”شہاب ثاقب“ کہا گیا ہے۔ ”شہاب ثاقب“ کی کچھ تفصیل سورة حجر میں گزر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

آیت 6۔ 7 اوپر کی آیت میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کی و خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صفہ بستہ اور اس کی حمدوتسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آرہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چناچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ ’ حفظا ‘ فعل مخدوف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–7

7۔ 1 یعنی آسمان دنیا پر، زینت کے علاوہ، ستاروں کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ سرکش شیاطین سے حفاظت ہو۔ چناچہ شیطان آسمان پر کوئی بات سننے کے لئے جاتے ہیں تو ستارے ان پر ٹوٹ گرتے ہیں جس سے بالعموم شیطان جل جاتے ہیں۔ جیسا کہ اگلی آیات اور احادیث سے واضح ہے۔ ستاروں کا ایک تیسرا مقصد رات کی تاریکیوں میں رہنمائی بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں دوسرے مقام پر بیان فرمایا گیا ہے۔ ان مقاصد سہ گانہ کے علاوہ ستاروں کا اور کوئی مقصد بیان نہیں کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 3–9

4: اس سے مراد قرآن کریم کی تلاوت بھی ہوسکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغولیت بھی، بہرحال ! یہ تینوں صفتیں فرشتوں کی ہیں، اور ان میں بندگی کی تمام صورتیں جمع ہیں، یعنی صف باندھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا، طاغوتی طاقتوں پر روک ٹوک رکھنا، اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت اور ذکر کی مشغول رہنا۔ ان کی قسم کھا کر یہ فرمایا گیا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے، اور نہ اسے اولاد کی حاجت ہے۔ فرشتوں کے ان اوصاف کی قسم کھا کر یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اگر فرشتوں کے ان حالات پر غور کرو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کا رشتہ باپ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–10

وحفظا من ۔۔۔۔ شھاب ثاقب (37: 7 – 10) اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔ یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔ تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے آرے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ بعض سیارے ایسے ہوتے ہیں جو عالم بالا کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہ ہوتی ہے کہ یہ عالم بالا میں جو فیصلے اس عالم کے بارے میں ہوتے ہیں ، شیاطین کو ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے روکتے رہیں۔ جب بھی کوئی شیطان عالم بالا سے کوئی راز چرانے کی سعی کرتا ہے تو شہاب ثاقب اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ اور ان کو مار کا ہانک دیتے ہیں۔ ایسے شیاطین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی تاروں سے آسمان کی زینت و آرائش ہے۔ اور بعض تاروں کے ذریعہ سے جو ٹوٹتے ہیں شیطانوں کو روکنے اور دفع کرنے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ یہ ٹوٹنے والے ستارے کیا ہیں۔ آیا کواکب نوریہ کے علاوہ کوئی مستقل نوع کواکب کی ہے یا کواکب نوریہ کی شعاعوں ہی سے ہوا متکیف ہو کر ایک طرح کی آتش سوزاں پیدا ہوجاتی ہے یا خود کواکب کے اجزاء ٹوٹ کر گرتے ہیں ؟ اس میں علماء و حکماء کے مختلف اقوال ہیں بہرحال ان کی حقیقت کچھ ہی کیوں نہ ہو رجم شیطان کا کام بھی ان سے لیا جاتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل سورة " حجر " کے فوائد میں گزر چکی ملاحظہ کرلی جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ } ”اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے۔“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورة الحجر کی آیت 17 کے ضمن میں اس کی وضاحت قدرے تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ بہر حال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ِجنات ّکی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور میری رائے اس کے متعلق یہ ہے کہ ان کو سورج کی آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی لیے نظام شمسی کی حدود میں جنات آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی اہتمام یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جیسے پرندے فضا میں آسانی سے ادھر ادھر اڑتے پھرتے ہیں اسی طرح جنات بھی نظام شمسی کی پوری فضا یا حدود میں اپنی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 6–7

4 آسمانوں کا وجود ایک ٹھوس حقیقت ہے :۔ نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے اس میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس خوشنما منظر کو دیکھنے سے ہی انسان راحت محسوس کرتا ہے۔ موجودہ دور کے ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق آسمان صرف حد نگاہ کا نام ہے۔ جبکہ کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ آسمان ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ آج کے ماہرین فلکیات کئی ستاروں کا زمین سے لاکھوں اور کروڑوں میل کا فاصلہ بتاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ستاروں کی روشنی ذاتی نہیں ہوتی بلکہ انعکاس روشنی کے اصول کے تحت سورج کی روشنی سے ہی یہ منور اور روشن اور چمکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

3۔ یعنی اکثر اور بالعموم تو یہی حالت رہتی ہے کہ رجم کے ڈر سے دور ہی دور رہتے ہیں، آیت میں بتایا ہے کہ اس نظام کو اکب سے دو کام لئے جاتے ہیں۔ ایک تو زیب وزینت، دوسرے شیطانوں کا دفاع۔ (آیت) ”’ السمآء الدنیا “۔ یعنی قریب ترین آسمان مراد وہی آسمان ہے جو ہماری زمین سے قریب ترین نظر آرہا ہے۔ اپنی ساخت و ترکیب کے لحاظ سے وہ خواہ کچھ بھی ہو۔ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “۔ یہ ستارے آسمان میں جڑے ہیں یا نہیں۔ قرآن مجید کو ان بحثوں سے نفیاواثباتا کوئی تعلق نہیں۔ وہ صرف یہ کہتا ہے کہ ستارے اس فضائے آسمانی کے لئے ذریعہ زینت و سامان آرائش ہیں۔ اور یہی ایک حسی بلکہ بدیہی شے ہے۔ (آیت) ” حفظا من کل شیطن مارد “۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–21

آیت نمبر 1 تا 21 ترجمہ : شروع خدا کے نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے، قسم ہے صف بستہ ہو کر کھڑے ہونے والے فرشتوں کی جو خود کو عبادت میں صف بستہ کرتے ہیں پھر (قسم) ان فرشتوں کی جو بادلوں کو ڈانٹے ہیں یعنی ان کو ہانکتے ہیں، پھر ان فرشتوں کی اس جماعت کی جو قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے ہیں اور ذکراً معنی کے اعتبار سے تالیاتٍ کا مصدر ہے، (اے اہل مکہ) بلاشبہ تمہارا معبود ایک ہی ہے، جو آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے (سب کا) رب ہے اور مشارق کا رب ہے یعنی (مشارق) و مغارب کا رب ہے، سورج کے لئے روزانہ (دنیا میں) مقام طلوع و غروب ہوتا ہے، بیشک ہم ہی نے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحفظًا من کل شیطان ماردٍ ‘ اور حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے۔ السَّمَآء الدُّنْیَا یعنی وہ آسمان جو (بہ نسبت دوسرے آسمانوں کے) تم سے قریب ہے۔ بَزِیْنَۃِ انِلْکَوَاکِبِ اضافت بیانہ ہے زینت سے یعنی کواکب سے آراستہ کیا ‘ یا مفعول کی طرف اضافت ہے یعنی کواکب کو ہم نے زینت دی ‘ یا فاعل کی طرف اضافت ہے یعنی کواکب نے آسمان کو زینت دی۔ زینت سے مراد ہے ستاروں کی روشنی اور ان کی اوضاع۔ حضرت ابن عباس نے زینت الکواکب کا ترجمہ کیا ضوء کواکب۔ مارد یعنی اللہ کی اطاعت سے خارج۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ستاروں کو آسمان کی زینت کیلئے اور شیطان سرکش سے حفاظت کیلئے پیدا کیا۔ کواکب سے شہاب کے انگارے شیطان پر مارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–7

(6۔ 7) ار ہم ہی نے رونق دی ہے اس سے پہلے آسمان کو ایک عجیب آرئش یعنی ستاروں کے ساتھ اور ان ہی ستاروں کے ساتھ اس آسمان کی حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَحِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ : ”مَّارِدٍ“ ”شَدِیْدُ الشَّرِّ“ یعنی زینت کے علاوہ آسمان دنیا کو ہر سرکش شیطان سے محفوظ کرنے کے لیے بنایا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–10

قتادہ نے کہا : ستارے تین مقاصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں (1) شیاطین کو رجم کرنے کے لئے ‘ ایسے نور کے لئے جس کیساتھ راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور آسمان دنیا کی زینت کے لئے۔ مسروق ‘ اعمش ‘ نحفی ‘ عاصم اور حمزہ نے بزیۃ پڑھا ہے یعنی مجرور اور منون اور لکواکب کو زینۃ سے بدل کے طور پر مجرور پڑھا ہے کیونکہ کواکب ہی زینت ہیں۔ ابوبکر نے اسی طرح پڑھا ہے مگر الکواکب کو زینۃ مصدر کی وجہ سے نصب دی ہے اس کا معنی ہے ہم نے آسمانوں سے ستاروں کو مزین کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ زینۃ سے بدل ہے۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ اسے زینۃ الکواکب پڑھا جائے معنی ہوگا اس کی زینت ستارے ہیں یا معنی ہو یہی کواکب ہیں۔ باقی قراء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آپ (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو تنوین کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابوبکر بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ عاصم (رح) نے فرمایا جس نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” بزینۃ الکواکب “ کو مضاعف پڑھا اور ” بزینۃ “ پر تنوین نہ لگائی۔ تو اس نے اس کو آسمان کی زینت نہ بنایا بلکہ اس نے ستاروں کی زینت بنادیا۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحفظا “ کہ ہم نے اس کو حفاظت کے لئے بنادیا (آیت) ” من کل شیطن مارد (7) لایسمعون الی الملا الاعلی “ (ہر شریر شیطان سے اور وہ شیطان عالم بالا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَحِفْظًا [اور حفاظت کے لئے ] مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ [ہر ایک سرکشی کرنے والے شیطان سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ) (ای وَ حَفِظْنٰھَا حِفْظًا) اور ہم نے آسمان کو محفوظ کیا ہر سرکش شیطان سے، شیاطین اوپر جاکر فرشتوں کی باتیں سننے کی جو کوشش کرتے ہیں ستارے انہیں مار بھگاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–10

اثبات توحید اور منکرین حشر کی تردید اور تہدید اور وعید قال اللہ تعالیٰ والصفت صفا۔۔۔ الی۔۔۔ فاتبعہ شھاب ثاقب۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو بارگاہ الوہیت اور مقام عبودیت میں اپنے اپنے مقام پر درجہ بدرجہ صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور حکم الٰہی کے منتظر رہتے ہیں اور اس کھڑے ہونے میں آداب عبودیت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہیں جیسے دنیا میں اہل دنیا عبادت میں خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ اسی سورت میں آگے آنے والا ہے وانا لنحن الصافون۔ پس جس طرح ہم صف باندھ کر اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح فرشتے قطار باندھ کر اللہ کا حکم سننے کے انتظار میں صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ وحفظا الخ :۔ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے۔ ای وحفظنا ھا حفظا (مظہری ج 8 ص 106) ۔ ستاروں کو آسمانِ دنیا کے لیے زینت بھی بنایا۔ اور ان ستاروں کے ذریعے سے ہر سرکش شیطان سے اس کی حفاظت بھی کی۔ لایسمعون الی الملا الاعلی الخ، تاکہ شیاطین ملا اعلی تک پہنچ کر فرشتوں کی باہمی گفتگو نہ سن سکیں۔ ویقذفون الخ، جب شیاطین اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں بھگانے کے لیے ہر طرف سے ان پر شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ دحورا یقذفون کا مفعول لہ ہے۔ الا من استرق السمع الخ، لا یسمعون سے استثناء ہے۔ اس انتظام کی وجہ سے شیاطین فرشتوں کی باتیں نہیں سن سکتے۔ البتہ اگر کوئی شیطان چالاکی سے کوئی ادھوری سی بات اچک لے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ مَّارِدٍ۝ 7ۚ حفظ الحِفْظ يقال تارة لهيئة النفس التي بها يثبت ما يؤدي إليه الفهم، وتارة لضبط الشیء في النفس، ويضادّه النسیان، وتارة لاستعمال تلک القوة، فيقال : حَفِظْتُ كذا حِفْظاً ، ثم يستعمل في كلّ تفقّد وتعهّد ورعاية، قال اللہ تعالی: وَإِنَّا لَهُ لَحافِظُونَ [يوسف/ 12] ( حظ ) الحفظ کا لفظ کبھی تو نفس کی اس ہیئت ( یعنی قوت حافظہ ) پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ جو چیز سمجھ میں آئے وہ محفوظ رہتی ہے اور کبھی دل میں یاد ررکھنے کو حفظ کہا جاتا ہے ۔ اس کی ضد نسیان ہے ، اور کبھی قوت حافظہ کے استعمال پر یہ لفظ بولا جاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے ۔ حفظت کذا حفظا یعنی میں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–15

ترکیب : والصافات الوا وللقسم وجوابہ ان الہکم رب السمٰوٰت بدل من واحد بزینۃ الکواکب من اضافۃ النوع الی الجنس کقولک باب جدید والزینۃ کواکب حفظا ای حفظناھا حفظا ومن یتعلق بالفعل المحذوف، لایسمعون الجملۃ فی موضع الجر علی الصفۃ او مستانف و حوارا یجوزان یکون مصدر امن معنی یقذفون او مفعولا لہ الا استثناء من الجنس ای لا یسمعون الملائکۃ الا مخالستہ ثم یتبعون بالشھب فی خطف۔ تفسیر : ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی جمعہ کے روز یٰسٓ اور صافات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت طلب کرے گا اللہ اس کی حاجت روا کرے گا۔ رواہ ابو دائود فی فضائل القرآن۔ مشرکین مکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

اِنَّا زَیَّـنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْـکَوَاکِبِ ۔ وَحِفْظًا مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ ۔ (الصآفات : 6، 7) (بےشک ہم ہی نے آسمانِ دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔ اور ہم ہی نے اس کی حفاظت کی ہے ہر سرکش شیطان سے۔ ) قدرتِ خداوندی کی وسعت اور حفاظت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہم نے اہل زمین کے لیے زمین میں دلچسپیوں کی ایک کائنات بسا رکھی ہے کہ نہ رنگوں کی بہار کی کوئی انتہا ہے اور نہ خوبصورت آوازوں اور دلنواز صدائوں اور ادائوں کا کوئی شمار ہے۔ انسان سرشام کسی جنگل میں نکل جائے تو پرندوں کی موسیقی اسے دوسری دنیا میں پہنچا دے گی۔ اور کبھی چھائی ہوئی گھٹا میں پہاڑوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–10

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے آسمانوں کو بنایا ہے اسی نے پہلے آسمان کو ستاروں سے روشن فرمایا ہے اور اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ آسمان دنیا یعنی پہلا آسمان جو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے دو فائدے اور بھی ذکر فرمائے ہیں۔ ان سے لوگ راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر بر ستے ہیں اس طرح شیاطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: وَحِفْظًا (اور حفاظت بھی کی ہے) اس کو معنی پر محمول کیا ہے۔ معنی یہ ہے۔ انا خلقنا الکواکب زینۃ للسماء وحفظا من الشیاطین (بیشک ہم نے ستاروں کو آسمان کیلئے زینت اور شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بنایا) جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ولقد زینّا السماء الدنیا بمصابیح وجعلنٰھا رجومًا للشیاطین ] الملک : 5[ یا نمبر 2۔ فعل معلل مقدر ہے گویا اس طرح کہا گیا وحفظا من کل شیطان زینا ھا بالکواکب اور ہر شیطان سے حفاظت کیلئے ہم نے اس کو ستاروں سے زینت دی ہے۔ یا اس کا معنی اس طرح لیں۔ حفظنا ھا حفظا (ہم نے اس کی حفاظت کی حفاظت کرنا۔ ) مِّنْ کُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ (ہرشریر شیطان سے) مارد جو اطاعت سے نکلنے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 7۔ ، وحفظا، یعنی ہم نے ستاروں کو ان کی حفاظت کے لیے پیدا کیا۔ ، من کل شیطان مارد ، شیطان سرکش کی حفاظت کے لیے ہم ان پر ستارے پھینکتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–10

6۔ 10۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی ہے کہ اس نے آسمان میں تارے پیدا کرکے آسمان کی رونق بڑھائی پھر فرمایا چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ باتیں سننے کو جو آجاتے ہیں۔ تو ان ہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان شیاطینوں پر آگ کے انگارے برساتے ہیں تاکہ وہ شیاطین آسمان پر کی باتیں نہ سننے پاویں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ ایک دن رسول ﷺ کے روبرو کاہن لوگوں کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کاہن لوگ جھوٹے ہیں بعضے صحابہ نے عرض کیا کہ کاہنوں کی بعضی بعضی بات تو سچ نکلتی ہے آپ نے فرمایا کہ کبھی شیطان آسمان کی باتوں میں سے کوئی بات جو چرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی الوہیت و ربوبیت پر مکرم فرشتوں کی قسم ہے، اس حال میں کہ وہ اس کی عبادتا میں مشغول اور اس کے حکم سے کائنتا کی تدبیر میں مصروف ہیں، چناچہ فرمایا : (والصفت صفا) ” قسم ہے صف باندھنے والوں کی “ یعنی اپنے رب کی خدمت میں اور اس سے مراد فرشتے ہیں (فالزجرت زجراً ) ’ د پھر ڈاٹنے والوں کی جھڑک کر۔ ‘ یہ وہ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے بادلوں وغیرہ کو ڈاٹتے ہیں۔ (فالتلیت ذکرا) ” پھر ذکر اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی۔ “ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فرشتے اپنے رب کی الوہیت کا اظہار کرتے ہیں، اس کی عبودیت میں مشغول رہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

6 ستاروں کے تین بڑے مقصد : سو اس سے ستاروں کے دوبڑے مقصد بیان فرمائے گئے ہیں۔ پس ان ستاروں کے تین بڑے مقاصد اور فوائد ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آسمان دنیا کے لئے زیب وزینت ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان کے ذریعے شیطانوں کو مار بھگایا جاتا ہے۔ ان دونوں مقصدوں اور فائدوں کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے۔ اور تیسرے یہ کہ ان سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور راستہ معلوم کیا جاتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَبِالنَّجْمِ ہُمْ یَہْتَدُوْنَ } ۔ (النحل : 16) ۔ سو ستاروں کے بارے میں اتنا ہی جاننا اور اسی قدر سیکھنا چاہیئے جس سے بحر و بر کے سفروں میں راہنمائی حاصل کی جاسکے اور راستے معلوم کئے جاسکیں اور بس۔ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فرشتوں کی قسمیں اور شیاطین کے لیے عذاب تشریح : یہ آیات بھی ایمان کی بنیادی باتوں پر منحصر ہیں۔ یعنی توحید، رسالت اور آخرت۔ انسانی زندگی کا پورا انحصار ہی ان عقائد پر ہے اس لیے بار بار اور مختلف دلیلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کروانا چاہتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنی دنیوی زندگیاں سنوار کر آخرت میں جنت میں جاسکیں۔ یہاں اسی بات پر زور دینے کے لیے اللہ تعالیٰ ان تین چیزوں کی قسم کھاتا ہے۔ کیونکہ عام زندگی میں انسان کسی بات میں، وزن اور یقین پیدا کرنے کے لیے قسم کھاتا ہے۔ تو بندوں کو سمجھانے کے لیے بندوں کے طریقے کے مطابق اللہ تین چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–21

سورة الصافات رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 21: اسرار و معارف : قسم ہے فرشتوں کی جو تعمیل ارشاد کے لیے صف بستہ رہتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو شیاطین اور باطل کو روکتے ہیں اور قسم ہے ان فرشتوں کی کہ اللہ کی یاد ہی جن کا وظیفہ ہے یقینا تمہارا معبود برحق ہی واحد و لا شریک ہے۔ قرآن حکیم کے اول مخاطب اہل عرب فرشتوں کو بھی پوجتے اور اللہ کی بیٹیاں مانتے اور کاہنوں کو بھی بہت اہمیت دیتے نیز جنوں کو بھی پوجا جاتا تھا تو یہاں ہی کو بطور گواہ پیش فرما دیا کہ فرشتوں کا یہ حال کہ خود تعمیل ارشاد کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ اور صف بنائے منتظر ہیں یا جنوں اور کاہنوں کا یہ حشر کہ شیاطین اور جنوں کو آسمان کے قریب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 2 یا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تاروں کو زینت کے علاوہ اس لئے بنایا ہے کہ ہر پاجی شیطان سے آسمان کی حفاظت کی جائے۔ ( دیکھئے سورة ملک : 5)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(37:7) وحفظا۔ وائو عاطفہ ہے حفظاً مصدر ہے منصوب بوجہ مفعول مطلق ہے جس کا فعل محذوف ہے ای حفظناھا حفظا۔ یا باعتبار معنی یہ معطوف ہے اور اس کا عطف زینۃ پر ہے اس معنی میں یہ مفعول لہ ہے کانہ قیل : انا خلقنا الکواکب زینۃ للسماء وحفظالھا (بےشک ہم نے ستاروں کو آسمان کے لئے زینت اور باعث حفاظت پیدا کیا ہے۔ من کل شیطن مارد۔ من حرف جار ہے کل افرادی ہے جو ہمیشہ نکرہ مفردہ کی طرف مضاف ہوتا ہے جس کا ترجمہ ہوتا ہے ہر ایک : شیطن مارد موصوف وصفت مل کر مضاف الیہ، ہر سرکش شیطان سے۔ یہ جملہ حفظا سے متعلق ہے۔ مارد بمعنی سرکش۔ شریر۔ مرد یمرد (باب نصر) مرود مصدر سے ہے شیطن مارد۔ سرکش، شریر شیطان۔ مرد کے ساتھ جب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–10

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 10 : الزجرت (ڈانٹنے والے ، بندش ڈالنے والے) تلیث ( پڑھنے والے) الکواکب (ستارے) مارد (سرکش ، ضدی) لا یسمعون (کان نہیں لگا سکتے) الملاء الاعلیٰ (سب سے اونچی مجلس) یقذفون (مارتے ہیں) دحور (بھگانا) واصب (ہمیشہ ، دائمی) خطف (چرا کرلے بھاگا) اتبع (اس کے پیچھے لگ گیا) ثاقب (دہکنے والا) تشریح : آیت نمبر 1 تا 10 :۔ سورة الصفت کی ابتداء دو باتوں کی تردید سے کی گئی ہے پہلی تردید تو یہ ہے کہ کفار و مشرکین یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں دوسرے یہ کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرنے شروع کئے تو عام رواج کے مطابق آپ کو کاہن کہا جانے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–10

(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی کہ اس نے آسمان میں ستارے پیدا کرکے آسمان کو زینت سے آراستہ کیا ہے پھر فرمایا کہ ہر شیطان سرکش سے ہم نے آسمان کو اوپرجانے سے محفوظ رکھا ہے اب نبی ﷺ کے زمانہ میں وہ شیاطین عالم بالا کی باتوں کی طرف کان نہیں لگاسکتے اور وہ طاقت نہیں رکھتے کہ باتیں سن سکیں اور وہ ہر طرف سے در در پھٹ پھٹ کرکے نکالے جاتے ہیں اور ہرچہار طرف سے فرشتے ان پر آگ کے انگارے پھینکتے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں ہمیشگی کا عذاب ہے مگر ہاں جو کوئی شیطان فرشتوں کا ایک آدھا لفظ سن کر بھاگا تو اس کا ایک دہکتا ہواشعلہ اس کو جلانے کے لیے پیچھا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 6–7

[7] یعنی قریب ترین آسمان۔ مراد وہ آسمان ہے جو ہماری زمین سے دکھائی دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور انہی ستاروں کے ساتھ آسمان کی ہر سرکش شیطان سے حفاظت کی۔ یعنی آسمان دنیا کو تاروں سے رونق بخشی اور زینت بخشی اور انہی تاروں کے ذریعہ شیاطین کو آسمان پر جانے سے روکا اور آسمان کی حفاظت کی کہ شیطان آسمان پر نہیں جاسکتے خواہ وہ تاروں کی کوئی خاص نوح ہو یا عام تارے ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں معلوم ہوتا ہے تارے والے آسمان میں ہیں اگرچہ پھیراہر ایک اوپر ہو یا نیچے ہو اور ان ہی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے جیسے سورج سے آتشی شیشے سے۔ خلاصہ : یہ کہ جس طرح آتشی شیشے کو آفتاب کے سامنے کرنے سے آگ پیدا ہوتی ہے اسی طرح تاروں میں بھی کوئی خاص اثر ہوگا جس سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–7

ف 3۔ یعنی شہاب ثاقب کے ذریعہ سے آسمانی خبریں لانے سے شیاطین کی بندش کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر سرکش شیطان سے ان کی حفاظت کردی گئی ہے : 7۔ ایک شیطان تو وہ طاقت وقوت ہے جو سراسر شیطنت ہی شیطنت ہے قرآن کریم نے کہیں اس کو (ابلیس) کے نام سے یاد کیا ہے اور کہیں شیطان کہا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اس کا تعلق جنوں سے اور پھر جنات کی کئی ایک اقسام ہیں ایک قسم وہ بھی ہے جو مکلف ہے اور ان مکلفین جن کا تعلق نسل انسانی سے بھی ہے لیکن ان کی پوشیدگی اور شیطنت کے ورطہ پر ان کو جن سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ وہ شیطان جو ایک طاقت قوت ہے اس کا اوپر جانا اور آسمانوں کی طرف بڑھنا تو مسلم ہے لیکن ان مکلفین جنات کا آسمانوں کی طرف سفر کرنا اور ان بلندیوں کو چیرنے کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے کہ یہ اگر ان بلندیوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–10

In the last four verses, (37:7-10): وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِ‌دٍ ﴿7﴾ لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ ﴿8﴾ دُحُورً‌ا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ ﴿9﴾ إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ﴿10﴾ and [ have made them ] a security against every rebellious shaitan [ shaitan ]. They cannot listen to the Upper Realm and are hit from every side, to be driven off, and for them there is a lasting punishment, (however, if one snatches a little bit, he is pursued by a bright flame - 37:10). It has been said that stars have yet…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

6 That is, "Heaven is not merely empty space so that anyone who likes may enter it, but it has been fortified strongly, and its different regions have been bounded by such strong barriers that it is impossible for any rebel satan to exceed them. Every star and planet in the universe has its own circle and sphere escaping from which is as difficult as entering it. With the naked eye one can only see empty space, but, in reality, there are countless regions in space which have been even more strongly fortified and protected than they could be by steel walls. One can imagine and estimate the…

Read the full tafseer →