Explained with ayahs 63–67
اعضاء کی گواہی۔
جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہوگی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چناچہ اور آیت میں ہے (یوم یدعون) الخ، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے ؟ یا تم اندھے ہوگئے ہو ؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
سورة یٰسٓ 55
یہ حکم ان ہیکڑ مجرموں کے معاملہ میں دیا جائے گا جو اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے، گواہیوں کو بھی جھٹلا دیں گے، اور نامۂ اعمال کی صحت بھی تسلیم نہ کریں گے۔ تب اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھا، اپنی بکواس بند کرو اور دیکھو کہ تمہارے اپنے اعضائے بدن تمہارے کرتوتوں کی کیا روداد سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مگر دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ان کی آنکھیں، ان کے کان، ان کی زبانیں اور ان کے جسم کی کھالیں بھی پوری داستان سنا دیں گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتے رہے ہیں۔ یَوْمَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتُھُمْ وَاَیْدِیْھِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
الیوم نختم علیٰ افواھہم، محشر میں حساب کتاب کے لئے پیشی میں اول تو ہر شخص کو آزادی ہوگی جو چاہے عذر پیش کرے، مگر مشرکین وہاں قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے واللہ ربنا ماکنا مشرکین۔
اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم تو اس سے بری ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے کہ بول نہ سکیں اور ان کے مقابلہ میں خود انہی کے ہاتھ پاؤں اور اعضاء کو سرکاری گواہ بنا کر ان کو بولنے کی صلاحیت دے دیں گے وہ ان کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔ آیت مذکورہ میں تو ہاتھ پاؤں کا بولنا ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری آیت میں انسان کے کان، آنکھ اور کھال کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
آیت 63۔ 64
یعنی اگر تم نے میرے عہد اور میری تنبیہ کو یاد نہیں رکھا تو اس کا انجام اب اس جہنم کی صورت میں تمہارے سامنے ہے۔ اس سے میرے رسول اور میرے نیک بندے تم کو ڈراتے رہے لیکن تم برابر ان کی باتوں کا انکار کرتے رہے۔ اب اس میں داخل ہو، یہی تمہارا ٹھکانا ہے۔
آیت 65
اوپر کی آیات میں اسلوبِ کلام خطاب کا تھا، اس آیت میں غائب کا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں زجرو ملامت ہے جس کے لئے موزوں اسلوب خطاب ہی کا ہے اور اس آیت میں ان کی بےبسی کی تصویر ہے جس کے لئے غائب کا اسلوب زیادہ موزوں ہے۔ فرمایا کہ آج کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ اور پائوں کو ناطق بنا دیں گے جو…
Read the full tafseer →65۔ 1 یہ مہر لگانے کی ضرورت اس لئے پیش آئیگی کہ ابتداءً مشرکین قیامت والے دن بھی جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) 6۔ الانعام :23) اللہ کی قسم، جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، جس سے وہ خود تو بولنے کی طاقت سے محروم ہوجائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرما دے گا، ہاتھ بولیں گے کہ ہم سے اس نے فلاں فلاں کام کیا تھا اور پاؤں اس پر گواہی دیں گے۔ یوں گویا اقرار اور شہادت، دونوں مرحلے طے ہوجائیں گے۔ علاوہ ازیں ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا بول کر گواہی دینا، حجت واستدلال میں زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
19: جب کافر لوگ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک یا دوسرے جرائم کا ارتکاب کیا تھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو بولنے کی صلاحیت عطا فرما دے گا، اور وہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے فلاں فلاں جرائم کئے تھے۔ یہ تفصیل قرآن کریم نے سورة نور : 24 اور سورة حم السجدۃ : 20 میں بھی بیان فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →الیوم نختم۔۔۔۔ یکسبون (65) ” “۔ یوں وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں۔ ان پر خود ان کے اعضاء شہادت دے رہے ہیں خود ان کی اپنی شخصیت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اور ان کی ذات کے حصے ایک دوسرے کے خلاف گواہ ہوں گے اور انسان کا ہر عضو اپنے رب کے سامنے انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا۔ اور اللہ کے سامنے ہر عضو اقرار گناہ کرے گا اور سرتسلیم خم کرے گا۔ یہ نہایت ہیبت ناک اور خوفناک منظر ہے۔ انسان اس منظر کے بارے میں سوچتے ہی کانپ اٹھتا ہے۔
یہ منظر یوں اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ان کی زبانیں بند ہیں اور ان کے ہاتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے پاؤں شہادت دے رہے ہیں ، حالانکہ انہیں اپنے ہاتھ پاؤں سے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔…
Read the full tafseer →6 یعنی آج اگر یہ لوگ اپنے جرموں کا زبان سے اعتراف نہ بھی کریں تو کیا ہوتا ہے، ہم منہ پر مہر لگا دیں گے اور ہاتھ پاؤں کان آنکھ حتی کہ بدن کی کھال کو حکم دیا جائے گا کہ ان کے ذریعہ سے جن جرائم کا ارتکاب کیا تھا بیان کریں۔ چناچہ ہر ایک عضو اللہ کی قدرت سے گویا ہوگا اور ان جرموں کی شہادت دے گا۔ کما قال تعالیٰ ۔ (حَتّىٰٓ اِذَا مَا جَاۗءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَاَبْصَارُهُمْ وَجُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) 41 ۔ فصلت :20) وقال تعالیٰ فی موضع آخر۔ ( قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ )…
Read the full tafseer →آیت 65 { اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ } ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے“
{ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔“
مجرمین کے اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہمارے ذریعے سے انہوں نے فلاں فلاں غلط کام کیے تھے۔
Read the full tafseer →58 کٹر قسم کے مجرم جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو اپنے جرائم کا اعتراف کرنے کی بجائے وہاں بھی حسب عادت جھوٹ بولنا شروع کردیں گے اور اپنے گناہوں سے مکر جائیں گے۔ پھر ان پر شہادتیں قائم کی جائیں گی تو ان شہادتوں اور گواہوں کو بھی جھٹلا دیں گے اور یہی کچھ انہوں نے اس دنیا میں سیکھا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ ان کا یہ علاج کریں گے کہ ان کی زبانوں سے قوت گویائی سلب کرلیں گے۔ اور ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو قوت گویائی عطا کردی جائے گی تو ان کے یہ اعضا جن سے انہوں نے گناہ کے کام سرزد کئے ہوں گے ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور سورة حم السجدہ کی آیت نمبر 20 کے مطابق ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے بھی ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
42۔ (غرض یہ کہ ان کی کل روئد اد زندگی رتی رتی حق تعالیٰ کے سامنے انھیں کے ہاتھوں پیروں کی زبانی پیش ہوگی) (آیت) ” نختم علی افواھھم “۔ یہ منہ پر مہر لگنا یوں ہوگا کہ وہ کوئی جھوٹی داستان تصنیف کرکے پیش ہی نہ کرسکیں۔ (آیت) ” تکلمنا ...... یکسبون “۔ سورة النور میں اس سے ملتے ہوئے مضمون کی آیت تشھد علیھم السنتھم پر حاشیہ گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
آیت نمبر 51 تا 67
ترجمہ : اور صور پھونکا جائے گا وہ (ایک) سینگ ہے، اور دوسرا صور زندہ کرنے کے لئے ہوگا اور دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا پھر جب وہ یعنی مردے قبروں سے نکل کر تیزی سے اپنے پروردگار کی طرف چلنے لگیں گے ان میں سے کافر کہیں گے، ہائے ہماری کمبختی یا تنبیہ کے لئے ہے ہائے ہماری ہلاکت، وَیْلٌ ایسا مصدر ہے کہ اس کا لفظی فعل نہیں آتا، کس نے ہم کو ہماری قبروں سے اٹھا یا ؟ اس لئے کہ وہ دونوں نفخوں کے درمیان سوئے ہوئے ہوں گے، ان کو عذاب نہ دیا جارہا ہوگا، یہ وہی (بعث) ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا، اور رسول نے اس کے بارے میں سچ کہا تھا ایسے وقت اقرار کریں گے کہ ان کا اقرار…
Read the full tafseer →الیوم نختم علی افواھھم تکلمنا ایدیھم وتشھدا رجلھم بما کانوا یکسبون . اس روز ہم
ان کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور جو کچھ وہ دنیا میں کرتے تھے ‘ اس کی شہادت ان کے پاؤں دیں گے۔
حضرت انس کا بیان ہے : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے ‘ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے مسکرا رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی جانے۔ فرمایا : مجھے اس بات پر مسکراہٹ آئی کہ ایک بندہ اپنے رب سے کہے گا : اے میرے رب ! کیا تو نے مجھے ظلم کرنے سے پناہ نہیں دے رکھی ہے (یعنی کیا تو نے یہ نہیں فرما دیا ہے کہ کسی پر قیامت کے دن ظلم نہیں کیا جائے…
Read the full tafseer →اور قیامت کے دن ان کے انکار کرنے کے بعد ہم ان کی زبانوں پر مہر لگا کر انہیں بات کرنے سے روک دیں گے۔
اور ان کے ہاتھ اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے ہاتھوں سے کی تھیں ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پیر جدھر گئے تھے وہ اس کے بارے میں شہادت دیں گے غرض کہ ان کے تمام اعضاء ان برائیوں کے بارے میں گواہی دیں گے جو یہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ : مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ یہ ہوگی کہ بعض مجرم قیامت کے دن اپنے جرم کا اقرار کرنے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، وہ گواہوں کو جھٹلا دیں گے اور نامہ اعمال کو بھی درست نہیں مانیں گے، بلکہ اپنے بےگناہ ہونے کی قسمیں کھائیں گے، جیسا کہ فرمایا : (ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) [ الأنعام : 23 ] ”پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے، اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اور قسمیں کھا کر دل میں سمجھیں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ﷺ ہنسے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ہوں ؟ ہم نے عرضہ کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے جس انداز میں خطاب کرتا ہے اس وجہ سے میں ہنسا ہوں بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! کیا تم نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : کیوں نہیں۔ بندہ عرض کرتا ہے : میں اپنے سوا کسی کو اپنے اوپر گواہ جائز نہیں جانتا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : آج تجھ پر تیرا نفس اور کراما کا تبین ہی گواہ کافی ہیں۔ فرمایا : اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تو اس کے اعضاء سے کہا جائے گا :…
Read the full tafseer →1:۔ احمد ومسلم و نسائی وابن ابی الدنیا فی التوبہ (واللفظ لہ) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں انس ؓ سے (آیت) ” الیوم نختم علی افواھم “ (آج ہم ان کے مونہوں پر مہرلگادیں گے) کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے آپ مسکرائے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کس وجہ سے میں ہنسا ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے جانتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بندے کی اپنے رب سے گفتگو کی وجہ سے، بندہ عرض کرے گا، اے میرے رب ! کیا آپ نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی تھی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، کیوں نہیں تو بندہ کہے گا، میں اس وقت سے اسے جائز نہیں سمجھتا…
Read the full tafseer →اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ [آج کے دن ہم مہر لگا دیں گے ] عَلٰٓي اَفْوَاهِهِمْ [اس کے مونہوں پر ] وَتُكَلِّمُنَآ [اور کلام کریں گے ہم سے ] اَيْدِيْهِمْ [ان کے ہاتھ ] وَتَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ [اور گواہی دیں گے ان کے پاؤں ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [اس کی جو وہ لوگ کمائی کرتے تھے ]
نوٹ۔ 2: آیت 65 میں میدان حشر کا نقشہ ہے کہ حساب کتاب کے وقت مشرکین قسمیں کھا کر اپنے شرک وکفر سے مکر جائیں گے اور بعض یہ بھی کہیں گے کہ فرشتوں نے ہمارے نامہء اعامل میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم تو اس سے بری ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے کہ بول نہ سکیں، اور خود ان ہی کے ہاتھ پاؤں کو بولنے کی صلاحیت دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
مجرمین کے خلاف ان کے اعضاء کی گواہی
کافروں کی سزا بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِہِمْ ) (ہم آج کے دن ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) (وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ ) (اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے) (وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔ )
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجرمین کی زبانوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ہاتھ پاؤں ان کے اعمال بد کی گواہی دیں گے۔ اور سورة النور میں فرمایا (یَوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–76
منکرین حشر ونشر کی تہدید اور وعید
قال اللہ تعالیٰ ویقولون متی ھذا الوعد۔۔۔ الی۔۔۔ انا نعلم ما یسرون وما یعلنون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیادہ تر دلائل توحید کا ذکر تھا اور اس سے ذرا پہلے وان کل لما جمیع لدینا محضرون میں مسئلہ حشر ونشر کا ذکر تھا اب پھر مسئلہ حشرونشر کی طرف رجوع فرماتے ہیں اور ان کا ایک سوال نقل فرماتے ہیں ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین : یعنی یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں اس کے وقت کے اظہار سے مصلحۃً اعراض فرمایا اور اجمالی طور پر صرف اتنا بتا دیا کہ قیامت نا گہاں آئے گی جب لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوں گے ناگہاں صور پھونکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
39:۔ الیوم الخ :۔ یہ قیامت کے دن کفار و مشرکین کا حال ہوگا۔ قیامت کے دن وہ اپنے جرموں کا انکار کریں گے جیسا کہ دوسری جگہ ان کا قول نقل کیا گیا ہے۔ واللہ ربنا ما کنا مشرکین (انعام رکوع 3) ۔ تو اس وقت ان کی زبانیں بند کردی جائیں گی اور ان سے قوت گویائی سلب کرلی جائے گی اور اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پاؤں بول اٹھیں گے اور جو جو کرتوت انہوں نے کیے ہوں گے وہ سب بیان کردیں گے۔ وفی الحدیث انہم یجحدون ویختصمون فیختمر علی افواھھم وتتکلم ایدیہم وارجلہم (بیضاوی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا…
Read the full tafseer →اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓي اَفْوَاہِہِمْ وَتُكَلِّمُنَآ اَيْدِيْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 65
ختم
الخَتْمُ والطّبع يقال علی وجهين : مصدر خَتَمْتُ وطبعت، وهو تأثير الشیء کنقش الخاتم
انتهيت إلى آخره، فقوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46] ، إشارة إلى ما أجری اللہ به العادة أنّ الإنسان إذا تناهى في اعتقاد باطل، أو ارتکاب محظور۔ ولا يكون منه تلفّت بوجه إلى الحقّ- يورثه ذلك هيئة تمرّنه علی استحسان المعاصي، وكأنما يختم بذلک علی قلبه،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ترکیب : اللام موطتہ للقسم والجملۃ مستانفۃ للتوبیخ ای واللہ لقد اضل جبلا فیہا لغات متعددۃ وھی جمع جبلۃ بمعنی الخلق وقیل الجبلۃ والجبل و احد افلم الھمزۃ للتوبیخ و الفاء للعطف علی مقدر ای کنتم تشاہدون اما کنتم تعقلون ولو کلمۃ الشرط نشاء شرط مفعولہ محذوف ای ان نطمس لطمسنا جو ابہ ای اذھبنا اعینھم اے اعینا ھم فاستبقوا معطوف علی لطمسنا و کذا قولہ تعالیٰ ولو نشاء لمسخنہم وسیظہرلک المعنی فی التفسیر۔
تفسیر : ولقد اضل سے لے کر یکسبون تک اسی گفتگو کا تتمہ ہے جو قیامت کے روز منکرین سے بطور الزام کے کی جاوے گی کہ تم میں سے یہ شیطان بہت خلق کو گمراہ کرچکا تھا، جن کی گمراہی اور بدکاری سے دنیا میں بھی ان پر…
Read the full tafseer →اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَـآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 65)
(آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ )
اسلوب کی تبدیلی کا سبب
اوپر کی آیات میں اسلوبِ کلام خطاب کا تھا۔ اس آیت میں غائب کا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں انہیں زجروملامت کی جارہی تھی۔ اس کے لیے موزوں اسلوب خطاب ہی کا تھا۔ اب اس آیت میں قریش اور دیگر مخالفین کے سامنے ان کا انجام واضح کیا جارہا ہے تاکہ یہ لوگ اس سے سبق سیکھیں۔ اور یہ بھی دکھایا جارہا ہے کہ ان کی زبانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
فہم القرآن
ربط کلام : جہنم کے داخلے کا اعلان سنتے ہی مجرموں کی حالت۔
محشر میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ مجرم اپنے اعمال نامے اور دوسری شہادتوں کا انکار کردیں گے۔ اس پر ان کے مونہوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔ حکم ہوگا کہ آج تمہارے ہاتھ اور پاؤں ہمارے حضور گواہی دیں گے۔ دوسرے مقام پر ہے کہ مجرموں کے ہاتھ پاؤں گواہی دینے کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں، کان اور جسم کا ایک ایک رونگٹا بول پڑے گا کہ خدایا اس کی زبان جھوٹ بول رہی ہے اس شخص نے ہمارے ذریعے یہ تمام جرم کیے ہیں جو اس کے اعمال نامے میں درج ہیں ( حٰمٓ السجدۃ : 20، 21)
اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دنیا میں بھی مجرموں کے اعضاء ختم اور ان کی آنکھیں مسخ…
Read the full tafseer →کافر کا گواہی ماننے سے انکار :
65: اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے) یعنی ان کو گفتگو سے روک دیں گے۔ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا (اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے) کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (جو کچھ یہ لوگ کرتے تھے)
مروی ہے کہ کافر انکار کریں گے اور جھگڑا کرنے لگیں گے ( بلکہ قرآن مجید میں فرمایا وہ کہیں گے : واللہ ربنا ماکنا مشرکین) ان کے خلاف ان کے پڑوسی اور گھریلو رشتہ دار، خاندان کے لوگ گواہی دیں گے۔ وہ قسم اٹھائیں گے کہ انہوں نے بالکل شرک نہیں کیا۔ اس وقت ان کو کلام سے روک دیا جائے گا۔ اور…
Read the full tafseer →الیوم نختم علی افواھھم کی تفسیر
65، الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کا نوایکسبون ، جب کفار اپنے کفر اور رسولوں کی تکذیب کے بارے میں منکر ہوجائیں گے۔ اس قول سے ، ماکنا مشرکین، تموان کے منہ پر مہرلگادی جائے گی ۔ اس پر ان کے اعضاء وجوارح بولیں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، لوگوں نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ فرمایا کہ کیا تم ظہر کے وقت سورج کو دیکھتے ہو، جب کوئی بادل وغیرہ نہ ہوں تو تم کو سورج دیکھنے میں کوئی رکاوٹ آتی ہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، نہیں فرمایا چودھویں رات کو جب کوئی بادل نہ ہو۔ وہ کہنے لگے نہیں ، آپ…
Read the full tafseer →65۔ صحیح مسلم، ترمذی، نسائی، مسند امام احمد، مسند بزار، تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو چند روایتیں 2 ؎ اس آیت تفسیر میں حضرت انس ؓ وغیرہ کی روایت سے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جس حالت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب جس وقت ہوگا اس وقت کی حالت کا ذکر ہے جب نیک وبدسب طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے روبر وکھڑے ہوں گے تو بعضے نیک گناہ گار لوگ ایسے ہوں گے کہ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر جس قدر گناہ اس میں لکھے ہوں گے ان کا اقرار کریں گے ان کے اقرار پر اللہ تعالیٰ کو رحم آئے گا اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے سب گناہ بخش دے گا اور بعضے کافر اور منافق ایسے ہوں گے کہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–67
آیت 59
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ (و) ” اور “ ان کو قیامت کے ورز کہا جائے گا : (امتا زوا الیوم ایھا المجرمون) اے مجرمو ! تم الہ ایمان سے الگ ہوجاؤ۔ یہ حکم اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسر عام زجر و توبیخ کرے اور ان سے کہے : (الم اعھد الیکم) یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمہیں حکم نہیں دیا تھا اور تمہیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا : (آیت) ” اے آدم کی اولاد ! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔ “ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو، یہ زجر و توبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفر و معصیت پر زجر و توبیخ داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–67
قول باری ہے (وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لئے اسی کشتی جیسی چیزیں اور بھی پیدا کی ہیں جس پر یہ سوار ہوتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ” یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کے بعد دوسری کشتیاں “۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت بھی ہے اور مجاہد سے بھی کہ اونٹ خشکی کے جہاز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
64 مجرموں کے مونہوں پر مہر ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آج ہم مہر لگادیں گے انکے مونہوں پر " اور اس وقت ہوگا جب کہ یہ مجرم لوگ اپنے اعمال کا انکار کردیں گے کہ ہم نے تو یہ جرم کیے ہی نہیں۔ جیسا کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس پر کوئی گواہ ہی نہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ تو اس پر ان کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی بولتی بند ہوجائے گی اور ان کے ہاتھ پاؤں خود گواہی دینے لگیں ان سب کاموں کی جو یہ لوگ کرتے رہے تھے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ مَکْرُوْہٍ ۔ بہرکیف فصل وتمیز کے اس دن میں ان لوگوں کے مونہوں پر مہر کردی جائے گی جس سے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–74
حشر کا میدان اور نیک و بد کا انجام
تشریح : یہاں کفار مکہ کا اور آج کل کے ملحد وغیرہ لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ قیامت کو ناقابل یقین سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ کب آئے گی قیامت ؟ قیامت جب آئے گی تو اتنی اچانک اور شدید ہوگی کہ کسی کو سمجھ میں ہی نہ آئے گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت یں اور ہلکے پھلے عذاب تو انسانوں کی نافرمانی کی وجہ سے آتے رہتے ہیں جن کا مقصد انسانوں کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے۔ کہیں طوفان بادو باراں، کہیں زلزلہ اور کہیں کسی دوسری شکل میں آفات ارضی و سماوی۔ اسی طرح بڑی اور فیصلہ کن قیامت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی مگر یہ بھی صرف اس دنیا کی قیامت ہوگی پوری کائنات قائم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–67
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 51 تا 67:
اسرار و معارف :
چنانچہ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اپنی اپنی قبروں سے اٹھ کر اللہ کے حضور چل پڑیں گے یعنی وہ ایسا قادر ہے کہ ایک چنگھاڑ سے ہر شے تباہ کردے گا تو پھر ایک چنگھاڑ یا سخت آواز ہی سب مردہ جسموں کے ذرات کو یکجا کرکے زندہ بھی کردے گی اور ہر فرد چاہے یا نہ چاہے مگر رواں اللہ کی بارگاہ کی طرف ہی ہوگا جہاں سب کی پیشی ہوگی تب پریشان حال یہ کہہ رہے ہوں گے کہ ہمیں کس نے اٹھا دیا اگرچہ برزخ میں بھی کفار عذاب میں ہوں گے۔ مگر میدان حشر کی ہیبت کے سامنے کہیں گے یہاں سے وہاں ہی ٹھیک تھے یہ کس نے ہمیں ان ٹھکانوں سے نکال کھڑا کیا ہے تو جواب آئے گا فرشتے یا مومنین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ف 2 یہ صورت حال ان کفار اور منافقین کو پیش آئے گی جو اپنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے۔ فرشتوں کی گواہی اور نامہ اعمال کی صحت کو جھٹلائیں گے تو ان کے ہاتھ پائوں ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ دوسری آیات میں آنکھ، کان، زبان اور چمڑوں کی شہادت کا بھی ذکر ہے۔ ( دیکھئے سورة نور 24، حم السجدہ آیت 20) حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ بندہ قیامت کے دن اپنے برے اعمال سے انکار کرے گا اور عرض کردے گا کہ ” اے اللہ ! میں تو اپنے خلاف صرف اسی کی گواہی قبول کروں گا جو میرا اپنا ہو “۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تیرے خلاف خود تیری اور تجھ پر مقررفرشتوں کی گواہی کافی ہے “۔ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے…
Read the full tafseer →(36:65) تکلمنا ہم سے باتیں کریں گے ! ہم سے کلام کریں گے۔ ہم سے بولیں گے ! تکلم۔ مضارع واحد مؤنث غائب نا ضمیر جمع متکلم۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ جب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل کو واحد لاتے ہیں خواہ فاعل بصیغہ جمع ہی ہو اور جمع مکسر کا حکم مؤنث غیر حقیقی کا حکم ہے کہ اس کے لئے مذکر اور مؤنث دونوں کا صیغہ استعمال کیا جاسکتا ہے، اگرچہ مؤنث کے صیغہ کا استعمال زیادہ فصیح ہے۔ یہاں چونکہ تکلم کا فاعل ایدی ہے ید کی جمع۔ اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے تکلم تکلیم (تفعیل) مصدر سے ہے۔
تشھد۔ مضارع واحد مؤنث غائب شھادۃ (سمع) مصدر سے، وہ شہادت دیں گے۔ وہ گواہی دیں گے۔ نیز اوپر تکلمنا ملاحظہ ہو۔
کانوا یکسبون۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–68
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ شغل ( مشغلے) فکھون ( دل لگی کرنے والے) متکون (تکیہ لگا کر بیٹھنے والے) یدعون ( وہ پکاریں گے ، خواہش کریں گے) امتازوا ( تم الگ ہو جائو) جبلا ( جماعت ، لوگوں کا گروہ) نختم ( ہم مہر لگا دیں گے) افواہ ( فوہ) (منہ) تشھد ( گواہی دیں گے) طمسنا ( ہم سجھائی دیتے) مضیا (چلنا) نعمرہ ( ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو) ننکسہ ( ہم اوندھا کردیتے ہیں اس کو)
تشریح : آیت نمبر 55 تا 68 :۔ جہنم والوں کی سزا بیان کرنے کے بعد اب جنت والوں کی جزا اور بدلہ کا بیان کیا جا رہا ہے کہ اہل جنت کس قدر خوش و خرم اور اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے ۔ جنت کیا ہے ؟ اس دنیا میں رہ کر اس…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں قیامت کے دن لوگوں کا حساب وکتاب جس وقت ہوگا اس وقت کی حالت کا ذکر ہے جب نیک وبد سب طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے تو بعض گناہ گا رلوگ یعنی مسلمان ایسے ہوں گے کہ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر جس قدر گناہ اس میں لکھے ہوں گے ان کا اقرار کریں گے، انکے اقرار پر اللہ تعالیٰ کو رحم آوے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے سب گناہ معاف کردے گا۔
اعضاء انسانی کا کلام کرنا۔
اور بعض کافر اور منافق ایسے ہوں گے کہ اپنے کفر اور گناہوں کا انکار کریں گے اور کہویں گے کہ یا اللہ ، تیرے فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں وہ برے کام لکھ دیے ہیں جو ہم نے ہرگز دنیا میں نہیں کیے ، اس پر اللہ تعالیٰ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
[22] قیامت کے دن بعض ہیکڑ قسم کے مشرکین قسمیں کھا کر اپنے شرک و کفر سے مکر جائیں گے اور بعض یہ کہیں گے کہ
فرشتوں نے ہمارے نامہء اعمال میں جو کچھ لکھ دیا ہے ہم اس سے بری ہیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور وہ بول نہ سکیں گے اور خود انہی کے ہاتھ پاؤں کو سرکاری گواہ بنا کر انہیں بولنے کی صلاحیت دی جائے گی جو ان کے کرتوتوں کی روداد بیان کریں گے۔ اس آیت میں تو صرف ہاتھ پاؤں کے بولنے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات پر انسان کے کان، آنکھ، کھال اور زبان کے بولنے کا بھی بیان ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة نور آیت 24 ) ۔ زبانوں کا گواہی دینا اس کے منافی نہیں کہ ان کے منہ پر مہر لگا دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
اعضاء بھی بولیں گے
1: تم حجت کی بنا پر خدا کے سامنے ہمارا منہ بند ہوجائے گا ۔ جو کہ اس دنیا میں ہر گناہ کی وکالت کرتا ہے ۔ زبانیں گونگ ہوجائیں گی ۔ جو کہ طاقت اور تیزی سے معصیت کی اس طرح تابید کرتی ہے ۔ کہ اس پر صواب کا شبہ ہونے لگتا ہے ۔ ہاتھ پاؤں اور دیگر جو ائع جو چھپ چاپ ہماری خواہشات نفس کی تکمیل میں معروف ہوجاتے ہیں ۔ وہاں فرمانبرداری نہیں کریں گے ۔ اور ہماری مخالفت میں گواہی دیں گے ۔ اور کوئی بات رب العزت سے پوشیدہ اور مستتر نہیں رہے گی ۔ یہ گواہی اور شہادت کس نوح کی ہوگی ہاتھ ، پاؤں اور جوارح کہیں نفرح بولیں گے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کو اس دنیا میں پوری طرح سمجھنا فہم انسانی کی وسعت…
Read the full tafseer →(65) آج ہم ان کے منہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں اس چیز کی گواہی دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے اور کمایا کرتے تھے۔ یعنی منہوں پر مہر لگا دی جائے گی تاکہ بےموقع اور جھوٹے عذر نہ کریں اور غیر مؤثر دلا یعنی باتیں نہ بنائیں بلکہ ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے کمائے ہوئے کاموں کی خبر دیں گے یعنی ہاتھ کلام کریں گے اور پائوں گواہی دیں گے۔ یہ غالباً اس موقع پر ہوگا جب انسان سب کی تکذیب کرے گا حتیٰ کہ فرشتوں کو بھی جھٹلائے گا۔ تب شاید اس کے اعضاء بولیں گے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے مزید بحث انشاء اللہ سورة فصلت میں آجائے گی۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
ف 1۔ جس سے یہ عذر باطل نہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →مجرموں کے اپنے اعضاء ہم سے باتیں کر ہم سے باتیں کر رہے ہیں اور ان کے مونہوں پر مہر لگ چکی ہے :
65۔ ہاتھوں کی باتیں اور پاؤں کی گواہی آج کسی فرد سے پوشیدہ نہیں رہی بھلا ہو ان سائنس دانوں کا جنہوں نے ہمارے ایمان بالغیب کو ایمان بالشہادہ میں بدل دیا ‘ ان کا مقصد اس ایجاد سے تھا وہ ان کو مبارک ہو ہم کو تو معلوم ہوگیا کہ انسان کے منہ پر کس طرح مہر لگائی جاتی ہے اور پھر کیونکر اس کے ہاتھ اس پر گواہی دیتے ہیں اور پاؤں کس طرح شہادت پیش کرتے ہیں اور اس طرح ہمارا ایمان انہوں نے تازہ کردیا ایک نقب زن کو نقب زنی کرتے ہوئے جب انہوں نے دکھا دیا اور ہماری آنکھوں نے اس کو نقب لگاتے دیکھ لیا تو وہ نقب کس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
In verse 65, it was said: الْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰ أَفْوَاهِهِمْ (Today We will set a seal on their mouths). On the day of Resurrection, when comes the time to account for deeds, everyone will be free to offer any excuse one has. But, Mushriks, the practitioners of shirk, those who associate partners in the pristine divinity of Allah Ta’ ala, will declare on oaths that they never had anything to do with shirk and kufr: وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (By Allah, our Lord, we ascribed no partners to Allah - A1-An` am, 6:23).
And some of them will also say that they were free of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
55 This command will be given in respect of the stubborn culprits, who will refuse to confess their crimes, will belie the witnesses, and will also not acknowledge the genuineness of their conduct-book. Then will Allah Almighty conunand: "Well, stop your babbling. Just see what your own limbs say about your misdeeds. " In this connection, here only the evidence to be given by the hands and the feet has been mentioned. But at other places it has been said that their eyes and their ears and their tongues, and the very skins of their body, will tell how they had been employed in the world. "They…
Read the full tafseer →