Explained with ayahs 40–42
مشرکین سے سوال۔
مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ…
Read the full tafseer →سورة سَبـَا 61
قدیم ترین زمانے سے آج تک ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کے بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی بجلی کا اور کوئی ہوا کا۔ کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی علم کی اور کوئی موت و ہلاکت کی۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ قیامت کے روز ان فرشتوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم ہی ان لوگوں کے معبود بنے ہوئے تھے ؟ اس سوال کا مطلب محض دریافت حال نہیں ہے بلکہ اس میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ کیا تم ان کی اس عبادت سے راضی تھے ؟ کیا تم نے یہ کہا تھا کہ لوگو ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری پوجا کیا کرو ؟ یا تم نے یہ چاہا کہ یہ لوگ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
خلاصہ تفسیر
اور (وہ دن قابل ذکر ہے) جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو (میدان قیامت میں) جمع فرمائے گا، پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے (ملائکہ سے یہ سوال مشرکین کو لاجواب کرنے کے لئے ہوگا، جو ملائکہ اور غیر الملائکہ کو اس خیال سے پوجتے تھے کہ یہ راضی ہو کر ہماری شفاعت کریں گے، جیسے ایک آیت میں اس طرح کا سوال حضرت عیسیٰ ؑ سے کیا گیا ہے، (آیت) أانت قلت للناس۔ مطلب سوال کا یہ ہے کہ کیا تمہاری رضا سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے، ونیز جواب میں بھی اسی قید کا قرینہ ہے جیسا ترجمہ جواب سے معلوم ہوگا) وہ (اول حق تعالیٰ کا شریک سے بالاتر اور پاک ہونا ظاہر کرنے کے لئے) عرض…
Read the full tafseer →8۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 40۔ 45
آگے مترفین کو متنبہ کیا ہے کہ تم فرشتوں کو معبود بنا کر ان کی پرستش کر رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ آخرت کا مرحلہ یش آیا تو وہ تمکو بچا لیں گے حالانکہ آخرت میں وہ تم سے اعلان براءت کری گے اور خدا کے عذاب سے تم کو کوئی بچانے والا نہیں بنے گا۔ یہ اللہ نے تم پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے کہ تمہیں آگاہ کرنے کے لئے رسول بھیجا ہے لیکن تم بدبختی کے سبب سے اس کے کلام کو سحر قرار دے رہے ہو۔ بہتر ہے کہ ماضی کی قوموں کے انجام سے سبق لو۔ ان کو جو کچھ حاصل ہوا اس کا عشر عشیر بھی تم حاصل نہیں کر پائے ہو لیکن جب وہ اللہ کی پکڑ میں آگئے تو پھر کوئی بھی ان کو پناہ دینے والا نہ بن سکا۔…
Read the full tafseer →40۔ 1 یہ مشرکوں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھے گا ' کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں (مریم) کو، اللہ کے سوا، معبود بنا لینا ؟ ' (وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ ۤ بِحَقٍّ ڲ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ ۭاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ) 5۔ المائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
18: اصل بات نہ سمجھنے کی وجہ سے انہیں یہ خیال ہوگیا ہے کہ جب دنیا میں انہیں مال و دولت میسر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، حالانکہ دنیا میں رزق دینے کا معیار اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں ہے کہ جو جتنا مقرب ہو، اسے اتنا ہی زیادہ رزق دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت یہاں جس کو چاہتا ہے، رزق زیادہ دیتا ہے، اس کا اللہ تعالیٰ کے تقرب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)
ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔
بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34:…
Read the full tafseer →2 بہت مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ بہت ان کے ہیاکل بنا کر پرستش کرتے تھے بلکہ بعض نے لکھا ہے کہ اصنام پرستی کی ابتداء ملائکہ پرستی ہی سے ہوئی۔ اور عمرو بن لحی یہ رسم قبیح شام سے حجاز میں لایا۔ بہرحال قیامت کے دن کفار کو سنا کر فرشتوں سے سوال کریں گے کہ کیا یہ لوگ تم کو پوجتے تھے ؟ شاید یہ مطلب ہو کہ تم نے تو ان سے ایسا نہیں کہا۔ یا تم ان کے فعل سے خوش تو نہیں ہوئے۔ جیسے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے سوال ہوگا۔ (ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَاُمِّيَ اِلٰــهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ) 5 ۔ المائدہ :116) اور سورة فرقان میں ہے ( ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ )…
Read the full tafseer →آیت 40 { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ } ”اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو ‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے ؟“
Read the full tafseer →62 مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے ادوار کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں یا ان قبروں کو پوجتے ہیں۔ بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔ مثلاً سورج کی پوجا کرنے والا پہلے سرج کی روح کا ایک خیالی نقشہ یا تصویر قائم کرتے ہیں پھر اس خیالی تصویر کے مطابق اس کا مجسمہ بناتے ہیں۔ پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مجسمہ کے ساتھ سورج کی روح کا بروقت تعلق قائم رہتا ہے اور ہم جو سورج کے مجسمہ کو پوجتے ہیں تو یہ دراصل اس بت کی نہیں بلکہ ہم سورج دیوتا کی عبادت کرتے ہیں۔ مشرکین کے اس طرح کی کئی دیویاں اور دیوتا بنا رکھے تھے۔ پھر یہ مجسمے…
Read the full tafseer →57۔ دیوتا پرستی درحقیقت ملائکہ پرستی ہی کی ایک صورت ہے۔ مشرک قوموں نے مختلف ملائکہ موکلین کو کائنات مختلف شعبوں میں متصرف سمجھ رکھا ہے اور اسی شعبہ کا انہیں دیوتا سمجھتے ہیں۔ سوال ملائکہ کے حق میں الزامی نہیں۔ بلکہ مشرکین ہی کی مزید تفضیح ورسوائی کے لیے ہوگا۔ (آیت) ” یوم یحشرھم جمیعا “۔ ذکر قیامت کا ہونا ظاہر ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
آیت نمبر 37 تا 45
ترجمہ : اور تمہارے مال و اولاد ایسی چیز نہیں جو تم کو ہمارا مقرب بنادیں، ہاں ! جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے مثلاً نیک اعمال کی جزاء دس گنا یا اس سے بھی زیادہ اور وہ جنت کے بالا خانوں میں موت وغیرہ سے بےخوف ہوں گے اور ایک قراءت میں اَلغُرْفَۃُ ہے اور یہ معنی میں جمع کے ہے، اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں قرآن کے باطل کرنے کی تگ ودو میں ہم کو عاجز سمجھ کر لگے رہتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم سے بچ کر نکل جائیں گے، یہی ہیں وہ جو عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے، آپ کہہ دیجئے میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کی چاہے روزی امتحاناً کشادہ کردیتا ہے اور اسی کی…
Read the full tafseer →ویوم یحشرھم جمیعا ثم یقول للملئکۃ اھولاء ایاکم کانو یعبدون . اور یاد کرو اس دن کو جب
ا اللہ ان سب کو جمع کرے گا اور فرمائے گا : کیا یہ سب تمہاری پوجا کرتے تھے۔ جَمِیْعًا یعنی مغرور سرداروں اور نچلے طبقہ والوں کو سب کو ھٰٓؤُلَآء یعنی یہ کافر جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔
ملائکہ سے یہ خطاب مشرکوں کو ذلیل کرنے اور شفاعت ملائکہ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا (کافروں کے معبود تو اور بھی ہیں ‘ اصنام و کواکب وغیرہ کی بھی وہ پوجا کرتا ہیں لیکن) خصوصیت کے ساتھ ملائکہ کو خطاب اس لئے کیا جائے گا کہ خطاب کیصلاحیت انہی میں ہے ‘ پھر وہ دوسرے فرضی شرکاء سے افضل بھی ہیں نیز…
Read the full tafseer →اور جس روز اللہ تعالیٰ بنو ملیح اور فرشتوں کو جمع فرمائے گ پھر فرشتوں سے ارشاد ہوگا کیا یہ لوگ تمہارے حکم سے تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ۔۔ : اس کا عطف ”وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ“ پر ہے۔ پہلے مستکبرین کے مستضعفین سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کی بری حالت کا نقشہ کھینچا ہے، اب فرشتوں کے ان سے بری ہونے کا ذکر فرما کر اس دن ان کے ذلیل و خوار اور بےیارو مددگار ہونے کا ذکر فرمایا۔
3 مفسر عبدالرحمان کیلانی ؓ لکھتے ہیں : ”مشرکین خواہ دور نبوی کے ہوں یا اس سے پہلے دور کے یا مابعد کے دور کے، وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو پوجتے ہیں، یا ان قبروں کو پوجتے ہیں، بلکہ ان کے اعتقاد کے پیچھے ان کا ایک پورا گھڑا ہوا فلسفہ ہوتا ہے۔…
Read the full tafseer →آیت : و یوم یحشر ھم جمیعا یہ اللہ تعالیٰ اس فرمان کے ساتھ متصل ہے : آیت : و لو تری اذالظالمون موقوفون (سبا : 31) یعنی اگر آپ انہیں اس حالت میں دیکھتے تو خوفناک امر دیکھتے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مراد وہ اور اس کی امت ہے۔ پھر فرمایا : کاش آپ انہیں اس دن بھی دیکھتے جس روز ہم ان تمام عبادت گزاروں اور معبودوں کو جمع کریں گے، یعنی حساب کے لیے جمع کریں گے۔ آیت : ثم یقول الملئکتہ ا ھئو لاء ایا کم کا نو یعبدون سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے : یہ استفہام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : آیت : ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ (المائدہ : 116) نحاس نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ثم یقول للمئکۃ اھء لاء ایاکم کانوا یعبدون پھر ہم فرشتوں سے کہیں گے کیا یہ لوگ خاص کر تمہاری عبادت کرتے تھے یعنی یہ بطور استفہام کے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ءانت قلت للناس (المائدہ آیت 116) کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنالو)
2۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بل کانوا یعبدون الجن (بلکہ یہ جنات کی عبادت کرتے تھے) یعنی شیاطین کی۔
3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کی۔ آیت وما اتینہم من کتب یدرسونہا اور ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں کہ ان کو پڑھنے…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ [اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [وہ اکٹھا کرے گا ان کو ] جَمِيْعًا [سب کے سب کو ] ثُمَّ يَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ [فرشتوں سے ] اَهٰٓؤُلَاۗءِ [کیا یہ لوگ ] اِيَّاكُمْ [تم لوگوں کی ہی ] كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ [بندگی کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ ) (الآیۃ) اس میں اہل ایمان کو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب بھی ہے اور جو کچھ للہ فی اللہ خرچ کریں گے اس کا بدلہ دئیے جانے کا وعدہ بھی ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بہت کچھ ملتا ہے، دنیا میں بھی صلہ دیا جاتا ہے اور آخرت میں تو بہت زیادہ دیا جائے گا۔ (وَھُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ) (اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے) حقیقی رازق تو وہی ہے، عربی کے محاورات میں غیر اللہ کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کہتے ہیں کہ (رزق الامیر الجندی) اسی لیے مفسرین نے (خیر الرازقین) کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ رزق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–45
عیش پرستوں کے ایک شبہ کا جواب
قال اللہ تعالی۔ وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قال مترفوھا۔۔۔ الی۔۔۔ فکیف کان نکیر۔
(ربط) اوپر کی آیتوں میں ان عیش پرستوں کے وبال اور نکال کا ذکر تھا کہ جو نبوت کے منکر تھے اب ان آیات میں ان عیش پرستوں کا ایک شبہ ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ متکبرین کی اس قسم کی باتوں سے رنجیدہ اور ملول نہ ہوں۔ مشرکین اور کفار اپنے مال و دولت کی کثرت پر فخر کرتے تھے اور اس کو اپنی مقبولیت کی دلیل قرار دیتے تھے ان آیات میں ان کے اس شبہ کو نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا کہ مال و دولت اور جاہ و حشمت اور کثرت اولاد کو اپنی مقبولیت اور افضلیت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
42:۔ و یوم یحشرھم الخ : یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جنہوں نے فرشتوں کو سفارشی اور کارساز سمجھ رکھا ہے۔ قیامت کے دن جب عابدین و معبودین کو جمع کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا، کیا یہ (فرشتوں کے پجاریوں کی طرف اشارہ ہے) دنیا میں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور حاجات میں تمہیں پکارا کرتے تھے ؟ ، قالوا سبحنک الخ : فرشتے جواب میں عرض کریں گے۔ بارے الٰہا ! تو تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان ولایت و موالات کا کوئی تعلق نہیں تو ہی ہمارا ولی و ناصر ہے ای انت الذی توالیہ من دونھم لا موالاۃ بیننا و بینہم (روح ج 22 ص 151) ۔ سبحنک ننزھک عن ان یکون غیرک معبودا وانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يَحْشُرُہُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰۗىِٕكَۃِ اَہٰٓؤُلَاۗءِ اِيَّاكُمْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ 40
حشر
، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة .
( ح ش ر ) الحشر ( ن )
اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
اور مال و اولاد کہ جس پر تم کو تفاخر ہے، اللہ کے نزدیک اس سے تمہارا کوئی مرتبہ بلند نہیں ہوجاتا ہے۔ ایماندار اس دنیا میں مسافر ہے، اس کا گھر اوپر ہے، اس کا عیش و آرام اور اس کی زینت و تجمل کی ہمیشہ رہنے والی چیزیں وہیں ہیں، اس کی طرف اس جملہ میں اشارہ فرماتا ہے۔ الامن آمن وعمل صالحا الخ اور وہ اس غرور میں آکر یسعون فی آیتنا معاجزین ہماری آیات کے ابطال میں کوشش کرتے ہیں، وہ وہاں عذاب دائمی میں گرفتار رہیں گے۔ یہ مال و اولاد کچھ کام نہ آوے گا اور یہ بھی خیال نہ کرو کہ کفر کرنے سے دنیا ملتی ہے اور نیکوں کو یہاں کچھ ملتا ہی نہیں بلکہ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء الخ میرا رب جس کو چاہتا…
Read the full tafseer →وَیَوْمَ یُحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَھٰٓـؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ۔ (السباء : 40)
(اور اس دن کو یاد کرو جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے۔ )
قیامت کے دن فرشتوں کی گواہی
انسانی عقائد کی جو تاریخ دستیاب ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کے مشرکین فرشتوں کو دیوی اور دیوتا قرار دے کر ان کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ کسی کو وہ بارش کا دیوتا سمجھتے تھے اور کسی کو ہوا کا، کوئی ان کے یہاں دولت کی دیوی تھی اور کوئی علم اور موت و ہلاکت کی، ہر رسول نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن یہ شرک کبھی انسانوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں مال کو کفر و شرک کا ایک سبب قرار دیا ہے جس پر اترا کر لوگ کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد مال کا انجام ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی نیکو کار مخیرحضرات کا تذکرہ فرمایا کہ وہ جو خرچ کرتے ہیں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب ان مشرکوں کا عقیدہ اور انجام ذکر کیا جاتا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔
مشرکین میں ہمیشہ سے ایک طبقہ ایسا رہا ہے جو ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتا اور ان سے مدد طلب کرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ قیامت کے دن ملائکہ ہماری سفارش کریں گے۔ ایسے لوگوں کے سامنے ملائکہ کو کھڑے کر کے سوال کیا…
Read the full tafseer →محشر کا ایک منظر :
40: وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ (اور جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائے گا پھر فرمائے گا) ۔ لِلْمَلٰٓپکَۃِ اَھٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ (فرشتوں کو کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے) ۔
قراءت : یحشر اور یعبدون کو یاء سے حفص ‘ یعقوب نے پڑھا ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر ‘ ابو عمرو نے تاء سے پڑھا ہے۔ اس میں فرشتوں کو خطاب کر کے کفار کو خبردار کیا گیا یہ مثل مشہورہ کے مطابق لایا گیا ایاک اعنی واسمعی یا جارۃُ یہ مثال اس کے لئے بیان کی جاتی ہے جو مخاطب اور کو کرے اور مراد دوسرے کو سنانا ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ئَ انت قلت للناس اتخذونی الایۃ…
Read the full tafseer →تفسیر 40۔ ، ویوم نحشرھم، یعقوب اور حفص نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ ، نحشرھم، پڑھا ہے ۔ ، جمیعا، تمام کفار کو جمع کیا جائے گا ۔ ثم نقول للمائکۃ اھولا اء یا کم کانوا یعبدون، دنیا میں ۔ جو لوگ ملا ئکۃ کی پوجا کرتے اور نعوذباللہ کو خدا کی بیٹیاں قراردیتے ۔ ملائکہ سے یہ خطاب مشرکین کی تذلیل اور شفاعت ملائکۃ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ استفہام تقریری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی تذلیل اور شفاعت ملائکۃ سے مایوس بنانے کیلئے کیا جائے گا ۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ استفہام تقریری ہے۔ جیسا کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا :، ء انت قلت للناس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
40 تا 42۔ اوپر گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگوں میں کا ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشت اپنی پوجا کرنے والوں کی شفاعت بارگاہ الٰہی میں کر کے انہیں عذاب دوزخ سے بچالیں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پر ستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے خفگی کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے یا اللہ تو اس سے پاک ہے کہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہو تو ہمارا کارساز ہے اور ہم تیرے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–41
آیت 34
اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنہوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھات یپیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انہوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا (وقالوا نحن اکثر اموالاً و اولاداً ) ” اور انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں “ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے حق کی اتباع کی۔ (وما نحن بمعذبین) ” اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔ “ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–54
اسلام میں مصوری کی ممانعت
قول باری ہے (یعملون لہ مایشآء من محاریب وتماثیل۔ سلیمان کے لئے وہ وہ چیزیں بنادیتے جو انہیں بنوانا منظور ہوتیں مثلاً بڑی عمارتیں اور مجسمے) آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں تصاویر اور مجسمے بنانے کی اباحت تھی لیکن حضور ﷺ کی شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ آپ سے مروی ہے (لا یدخل الملائکۃ بیتا فیہ صورۃ۔ جس کھر میں کوئی تصویر ہوا اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے) نیز ارشاد ہے (من صورصورۃ کلف یوم القیمۃ ان یحیھا ولا فالنار ۔ جس شخص نے کوئی تصویر بنائی ہوا سے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں زندگی پیدا کردے ورنہ جہنم میں جائے) ۔
نیز ارشاد ہے (لعن اللہ المصورین۔…
Read the full tafseer →90 حشر کے روز فرشتوں سے ایک سوال کا ذکر : سو اس ارشاد میں روز حشر کی تذکیر و یاددہانی اور اس ضمن میں فرشتوں سے ایک سوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس روز اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ سو فرشتوں سے یہ سوال اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس طرح حق اور حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے۔ کیونکہ دنیا میں فرشتوں کے نام سے بھی بہت شرک کیا گیا اور مختلف ناموں کی دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا کی گئی اور مشرکین تو قرآن کی تصریح کے مطابق فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں دیگر متعدد مقامات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور یہ پوچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
مشرکین اللہ کے سامنے
تشریح : یہاں ان مشرکین کا ذکر ہے جو غلط تعلیم و تربیت کی وجہ سے مشرک بنے رہے۔ ایسے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ کوئی فرشتہ کوئی دیوی، کوئی دیوتا تمہیں اس آگ کے عذاب سے ہرگز نہ بچاسکے گا جس کا ذکر دنیا میں بیشمار دفعہ ہوتا رہا ہے اور تم نے نہ توجہ دی نہ اس کو سچ سمجھا۔ قیامت کے دن یہ چیزیں یعنی اللہ کے سوا ان کے بنائے ہوئے معبود مثلاً جن، دیو، پتھر وغیرہ وغیرہ، ان کے نہ تو کچھ کام آسکیں گے نہ اور نہ ہی عذاب سے بچا سکیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں اللہ ہے مگر پوجتے غیروں کو ہیں اور انہیں ہی اپنا مشکل کشا، حاجت روا، بگڑی بنانے والا، اولاد دینے ولا سمجھتے ہیں اور پھر انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–45
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 37 ۔ تا۔ 45
اسرار و معارف :
دنیا کی نعمتوں میں مال اور اولاد بیشک بہت بڑی نعمت ہیں لیکن یہ سب کچھ طاقتور اقتدار اور صحت وغیرہ سب عظیم نعمتیں ہیں مگر انہیں اللہ کی رضا مندی کی دلیل سمجھ لینا سب سے بڑی جہالت ہے کہ یہ سب سب کچھ تو کفار و مشرکین کے پاس بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنی حکمت سے تقسیم فرماتا ہے اور اس کی حکمت سے وہ خود ہی واقف ہے ہاں اس کی رضامندی کی دلیل یہ ہے کہ ایمان کامل نصیب ہو اور نیک اعمال کی توفیق ارزاں ہو ایسے لوگوں کو یقینا ان کے اعمال سے کئی گنا زیادہ اجر دیا جائے گا اور یہ لوگ خوبصورت بالا خانوں کے جھروکوں میں مزے سے بیٹھے ہوں گے بغیر کسی قسم کے…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی کیا تم نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ ہم تمہارے معبود ہیں، تم ہماری عبادی کیا کرو ؟ اور کیا تم اس سے خوش تھے کہ وہ تمہاری پوجا کریں ؟ قیامت کے روز یہ سوال فرشتوں ہی سے نہیں ہوگا بلکہ ان تمام ہستیوں سے کیا جائے گا جن کی دنیا میں عبادت ہوتی تھی۔ سورة فرقان میں ہے ( ویوم یحشر ھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول انتم اضللتھم عبادی ام ھم ضلوا السبیل) جس روز انہیں اور ان کے باطل معبودوں کو جمع کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ کیا تم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا یا وہ خود گمراہ ہوئے۔ ( آیت 17) اور سورة مائدہ میں ہے ( واذا قال اللہ یعیسی ابن مریم انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ) اور جب اللہ…
Read the full tafseer →(34:40) یوم۔ ای اذکر یوم۔ فعل مضمر کا مفعول ہے یاد کر وہ دن۔ یحشرہم۔ مضارع واحد مذکر غائب حشر مصدر (باب نصر) وہ جمع کرے گا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب یہاں ہم ضمیر کا مرجع المستکبرین۔ المستضعفین اور ما کانوا یعبدون من دون اللہ ہے۔ یعنی متکبر لوگ (جو لوگوں کر گمراہ کیا کرتے تھے) ادنی لوگ (جو اپنی کم فہمی یا کمزوری سے بڑوں کہے پر گمراہ ہوگئے تھے ) اور وہ جن کی اللہ کے سوا یہ دونوں فریق پوجا کیا کرتے تھے ۔ (اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کردیں گے ) ۔
اھؤلاء میں ہمزہ استفہام کا ہے۔ ھؤلاء اسم اشارہ جمع یہ سب لوگ۔ وہی لوگ جن کے لئے آیت سابقہ میں ہم آیا ہے۔
ایاکم۔ تم سب کو۔ جمع مذکر حاضر کی ضمیر منصوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–45
لغات القرآن : آیت نمبر 39 تا 45
یخلف : کسی چیز کے بعد دیتا ہے
تتلی : تلاوت کی گئی
یصد : وہ روکتا ہے
افک : جھوٹ
مفتری : گھڑا ہوا۔ بنا یا ہوا
یدرسون : وہ پڑھتے ہیں
بلغوا : وہ پہنچے
معشار : دسواں حصہ
نکر : عذاب
تشریح آیت نمبر 39 تا 45
اللہ تعالیٰ عزت و سر بلندی اور قربت و نجات ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ انہیں جو کچھ دیا گیا ہے اس کی وہ قدر کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے جو احکامات نازل کئے گئے ہیں اس کی پابندی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں ۔ وہ مال و دولت کی کثرت اور کمی کو ایک آزمائش سمجھتے ہیں اللہ کے نزدیک یہی کامیاب اور با…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
خدا کے رسول کو جھٹلانے کا انجام۔
(ف 1) مکہ کے مشرک لوگوں میں ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشتے اپنی پوجا کرنے والوں کی سفارش کرکے انہیں عذاب سے بچالیویں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پرستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے اللہ تعالیٰ یہ دریافت کرے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے ؟ اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے خدایا تو تو پاک ہے تیرا دوسراشریک کیا ہوسکتا ہے، ہمارا تو ہی کارساز ہے اور ہم تیرے بندے ہیں تو خوب جانتا ہے وہ توشیطانوں کی…
Read the full tafseer →[28] یہ سوال فرشتوں کے حق میں الزام نہیں بلکہ مشرکین ہی کی مزید رسوائی و فضیحت کے لئے ہوگا کیونکہ مشرکین دنیا میں فرشتوں کو بھی معبود قرار دیتے تھے اور ان کی پرستش کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
تقلید آباء
قرآن حکیم اپنے مطالب کی وضاحت میں اور دلائل کے استحکام میں بےنظیر کتاب ہے ۔ حضور ﷺ کی نبوت اس درجہ تابان اور روشن ہے کہ اس میں شک وشبہ قطعاً راہ نہیں پاسکتا ۔ بالخصوص ان لوگوں کے لئے جنہوں نے یہ معجزہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو کہ کیونکر ایک شخص چالیس سال کی عمر کے بعد الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور یکایک فلسفہ و حکمت کے دریا بہانے لگتا ہے ۔ وہ جو کتاب پیش کرتا ہے شیریں ہے ۔ اس کی تعلیم دل میں اترجانے والی ہے ۔ اور خواب عفلت سے چونکا دینے والی ہے ۔ اس کا انداز بیان بالکل نرالا اور اچھوتا ہے اس کو پیش کرنے والا صادق القول اور صحیح العقل ہے اس کا چہرہ سچائی کے نور سے چراغ کی طرح روشن…
Read the full tafseer →(40) اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو میدان قیامت میں جمع فرمائے گا پھر فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اور تم کو پوجتے تھے۔ یعنی کیا تمہاری رضامندی اور تمہاری اجازت سے تم کو پوجتے تھے کیونکہ اکثر مشرکین فرشتوں کو روحانی قوت سمجھ کر پوجتے تھے بعض کواکب پرست فرشتوں کو ستاروں کی روح سمجھ کر پوجتے تھے۔ حق تعالیٰ کے اس سوال پر فرشتے عرض کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ف 4۔ اس صورت میں امساک سے رزق بڑھ نہیں سکتا، اور انفاق سے حسب الشرع سے گھٹ نہیں سکتا، پس مال سے زیادہ تعلق مت رکھو، بلکہ جہاں جہاں حقوق اللہ و حقوق العیال و حقوق الفقراء وغیرہا میں خرچ کرنے کا حکم ہے بےدھڑک خرچ کرتے رہو کہ اس سے رزق مقسوم میں تو کمی کا ضرر نہ ہوگا اور آخرت کا نفع ہوگا۔
5۔ رازقین جمع لانا اس اعتبار سے ہے کہ جو لوگ ظاہر میں اپنے ہاتھ سے دیتے دلاتے ہیں ان کو مجازا رازق قرار دے دیا گیا، اور چونکہ اللہ تعالیٰ رازق حقیقی ہے اس لئے اس کا خیر الرازقین ہونا ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرکے فرشتوں سے پوچھے گا کہ بتائو یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے ؟
40 ۔ فرشتے کیا ہیں ؟ اس بات کی وضاحت پیچھے اتنی بار ہوچکی کہ اب قارئین عروہ کو اس میں یقینا کوئی ابہام نہیں ہوگا بلکہ سب کو معلوم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں اور قوتیں ہیں جن میں شرموجود نہیں اور ان کا جب بھی اور جہاں بھی اور جیسا بھی جسم ووجود قائم ہوتا ہے وہ خیالی ہوتا ہے اور حکم الٰہی سے وہ سرتابی نہیں کرسکتیں بس ہر دور میں ان کے اس خیالی جسم کو لوگوں نے اپنے ہی خیال سے کوئی شکل دی ہے اور پھر کسی نے ان کو اللہ کی بیٹیاں ، کسی نے اللہ کے دوست اور کسی نے چھوٹے چھوٹے قد کے خوبصورت بچے تشکیل دے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–45
Commentary
The word: مِعْشَارَ (mi'shar) in verse 45: وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ (while these (infidels of Makkah) have not reached even one tenth of what We gave to those (before them) has been taken to mean: عُشُر ('ushr: a tenth) by some early commentators. Some scholars have interpreted it as: عُشرُ العُشر (ushr-ul-` ushr: a hundredth) while others call it: عُشرُ العَشِیر (` ushr-ul ` ashir: a thousandth). Obviously, the later has a higher degree of exaggeration as compared to 'ushr or ten. The sense of the verse is that not even a tenth, rather a thousandth, of the…
Read the full tafseer →61 Since the earliest times the polytheists in every age have been looking upon the angels as gods and goddesses and carving their idols and worshipping them. One has been regarded as the god of rain, another of lightning and another of wind; one is the goddess of wealth, another of knowledge and another of life and death. About this Allah says that on the Day of Resurrection the angels will be asked: °Were you being worshipped as deities by these people?" This question is not meant merely to find out the truth, but to ask, "Did you approve of their worship? Did you tell the people that you…
Read the full tafseer →