Explained with ayahs 48–51
نا امیدی کے اندھیروں میں امید کے اجالے رحمت وزحمت کی ہوائیں
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا تو سمندر پر سے یا جس طرح اور جہاں سے اللہ کا حکم ہو۔ پھر رب العالمین ابر کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے اسے بڑھا دیتا ہے تھوڑے کو زیادہ کردیتا ہے تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بالشت دوبالشت کا ابر اٹھا پھر جو وہ پھیلا تو آسمان کے کنارے ڈھانپ لئے۔ اور کبھی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ سمندروں سے پانی کے بھرے ابر اٹھتے ہیں۔ اسی مضمون کو آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يُرْسِلُ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ 57) 7۔ الاعراف :57) میں بیان فرمایا ہے پھر اسے ٹکڑے ٹکڑے اور تہہ…
Read the full tafseer →سورة الروم 73
یہاں جس انداز سے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا گیا ہے اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ نبی کی آمد بھی انسان کی اخلاقی زندگی کے لیے ویسی ہی رحمت ہے جیسی بارش کی آمد اس کی مادی زندگی کے لیے رحمت ثابت ہوتی ہے۔ جس طرح آسمانی بارش کے نزول سے مردہ پڑی ہوئٰ زمین یکایک جی اٹھتی ہے اور اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں، اسی طرح آسمانی وحی کا نزول اخلاق و روحانیت کی ویران پڑی ہوئی دنیا کو جلا اٹھاتا ہے اور اس میں فضائل و محامد کے گلزار لہلہانے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ کفار کی اپنی بدقسمتی ہے کہ خدا کی طرف سے یہ نعمت جب ان کے ہاں آتی ہے تو وہ اس کا کفران کرتے ہیں اور اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
معارف و مسائل
فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ، ہم نے مجرموں کافروں سے انتقام لے لیا اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مومنین کی مدد کرتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو، حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف بھی ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مومنین سے مراد وہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے کفار سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہی انتقام اللہ تعالیٰ مجرمین سے لیتے ہیں…
Read the full tafseer →فانظرالی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا، ان ذلک لمحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر (50)
قیامت کا یہ ذکر مسلمانوں کی تسلی ہی کے ضمن میں ہے۔ اہلِ ایمان کی تمام امیدوں کا مرجع چونکہ آخرت ہی ہے اس وجہ سے اوپر کی آیات میں اس دنیا کے اندر ان کی کامیابی کے آثار کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آکرت کی رحمت کے ظہور کی طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ جس طرح زمین میں اس کی رحمت کے آثار دیکھتے ہو کہ وہ اس کے خشک ہوجانے کے بعد اس کو دوبارہ باغ و بہار کردیتا ہے اسی طرح وہ دوبارہ مردوں کو بھی زندہ کردے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار آخرت کو جو جھٹلاتے اور اس کو محض تمہارا خواب و خیال قرار دیتے ہیں۔…
Read the full tafseer →50-1آثار رحمت سے مراد غلہ جات اور میوے ہیں جو بارش سے پیدا ہوتے اور خوش حالی و فراغت کا باعث ہوتے ہیں۔ دیکھنے سے مراد نظر عبرت سے دیکھنا ہے تاکہ انسان اللہ کی قدرت کا اور اس بات کا قائل جائے کہ قیامت والے دن اسی طرح مردوں کو زندہ فرما دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
21: ہوائیں چلانے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، اور بادلوں کو اٹھا کر پانی برسانے کا سبب بنتی ہیں، اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیوں کو چلاتی ہیں، بادبانی کشتیوں کا تو سارا دارومدار ہی ہواؤں پر ہوتا ہے، لیکن مشینی جہاز بھی ہوا کی مدد سے بےنیاز نہیں ہوتے، اور سمندروں میں کشتیاں چلانے کا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے لوگ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں، جیسا کہ بار بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد تجارت اور روزگار کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے، لہذا قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے کہ اگر یہ ہوائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
ومن ایتہ ان یرسل ۔۔۔۔۔ من بعدہ یکفرون (46 – 51)
ان آیات میں بظاہر نہایت مختلف النوع موضوعات کو جمع کیا گیا ۔ بشارت دینے والی ہوائیں ، رسولوں کو معجزات اور نشانیوں کے ساتھ بھیجنا ، مومنین کا رسولوں کے ذریعہ مدد کرنا ، ایسی بارشوں کا نزول جو مردہ زمین کو زندہ کردیتی ہیں اور بعث بعد الموت کا مسئلہ۔ یہ اجتماع بامقصد ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب سنت الہیہ کے مظاہر ہیں ، یہ سب اس کائنات کے نظام کے تحت ہیں ، رسولوں کو ہدایت کے ساتھ بھیجنے اور مومنین کی نصرت کے درمیان گہرا تعلق ہے اور یہ سب آیات الہیہ کے مختلف نمونے ہیں۔ یہ سب امور اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں سے متعلق ہیں۔ لوگوں…
Read the full tafseer →5 یعنی چند گھنٹے پہلے ہر طرف خاک اڑ رہی تھی اور زمین خشک، بےرونق اور مردہ پڑی تھی ناگہاں اللہ کی مہربانی سے زندہ ہو کر لہلہانے لگی۔ بارش نے اس کی پوشیدہ قوتوں کو کتنی جلد ابھاردیا۔ یہ ہی حال روحانی بارش کا سمجھو، اس سے مردہ دلوں میں جان پڑیگی اور خدا کی زمین " ظہر الفساد فی البرو البحر " والی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو جائیگی۔ ہر طرف رحمت الٰہی کے نشان اور دین کے آثار نظر آئینگے جو قابلیتیں مدت سے مٹی میں مل رہی تھیں، باران رحمت کا ایک چھینٹا ان کو ابھار کر نمایاں کر دیگا۔ چناچہ حق تعالیٰ نے بعثت محمدی کے ذریعہ سے یہ جلوہ دنیا کو دکھلا دیا۔ ہمارے صوبہ کے شاعر حکیم نے کیا خوب کہا ہے۔
ہے یہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 51 وَلَءِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْہُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْم بَعْدِہٖ یَکْفُرُوْنَ ”
اگر کسی جھکڑ وغیرہ سے کھیتی تباہ ہوجائے یا لو اور باد صر صر کے اثرات سے اچھی بھلی فصل مرجھا جائے تو فوراً یہ لوگ اللہ کی نا شکری کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ ہماری قسمت تو ہمیشہ ہی پھوٹ جاتی ہے ‘ ہمیں تو کبھی بھی اچھے دن دیکھنے کو نہیں ملے ‘ ہمارے حصے میں تو کبھی کوئی خوشی آئی ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
57 پھر اس کے بعد جب خزاں کا موسم آتا ہے۔ اور نباتات سرد پڑنے لگتی ہے تو انسان پھر سے مایوسی ہوجاتا ہے اور اللہ کے حق میں کفریہ کلمات بکنے اور شکوے شکایات کرنے لگ جاتا ہے۔
ان آیات میں دراصل ایک دنیادار اور خدا فراموش انسان کی فطرت بیان کی گئی ہے کہ جب کسی دنیا دار پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو اس وقت خوش تو ہوتا ہے مگر اللہ کا شکر پھر بھی ادا نہیں کرتا اور جب نعمت کے زوال کا وقت آتا ہے تو اس وقت اسے اللہ یاد تو آتا ہے مگر شکرگزاری کے لئے نہیں بلکہ اسے کفریہ اور ناشکری کے کلمات کا ہدف بنانے کے لئے۔ نعمت ملنے پر اللہ کا احسان ماننے کے لئے تو قطعاً تیار نہ تھا۔ زوال نعمت پر اور بھی برگشتہ ہوگیا…
Read the full tafseer →66۔ (اور یہ خود ایک نظیر ہے قدرت علی البعث کی) (آیت) ” رحمت اللہ “۔ سے یہاں بھی مراد بارش ہے یا اس کے اثرات عالم میں نباتات پر۔ اے اثر الغیث من النبات والاشجار و انواع الثمار (بیضاوی)
67۔ (قیامت کے دن، اور وہی روز مرہ تجدید حیات کی نظیریں دکھاتا رہتا ہے) مطلب یہ ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ اور اس کی خلاقی کا استحضار اگر رکھو تو امکان بعث میں کوئی اشکال ہی نہ رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیت نمبر 41 تا 53
ترجمہ : خشکی یعنی میدانوں میں خشک سالی اور نباتات کی کمی کی وجہ سے اور تری یعنی ان شہروں میں جو نہروں (سمندروں) کے
کنارے واقع ہیں پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد ظاہر ہوگیا تاکہ ہم ان کو ان کے بعض اعمال کی سزا کا مزہ چکھائیں ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں توبہ کریں، آپ مکہ کے کافروں سے کہئے کہ زمین میں چلو پھرو دیکھو پہلوں کا کیا انجام ہوا ؟ جن میں اکثر لوگ مشرک کے سبب ہلاک کردیئے گئے اور ان کے گھر اور مکانات گرے پڑے ہیں آپ اپنی توجہ دین قیم یعنی اسلام کی جانب رکھئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس کو اللہ (ہرگز) نہیں ٹالے گا اس روز سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے…
Read the full tafseer →فانظرا الی اثر رحمت اللہ کیف یحی الارض بعد موتھا ان ذلک لمحی الموتی . سو اللہ
کی رحمت کے آثار دیکھو کہ وہ زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔
اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللہ یعنی بارش کے نتائج ‘ سبزہ ‘ درخت ‘ غلہ ‘ پھل۔
یُحْیِ الْاَرْضَ زمین کو سرسبز کر کے حیات بخشتا ہے۔
بَعْدَ مَوْتِھَا اس کے خشک ہونے کے بعد۔
لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ضرور مردوں کو زندہ کرے گا جب حیات بعد الموت نظروں کے سامنے ہے تو پھر اسی کی طرح دوبارہ زندہ ہونے کا انکار بےدلیل ہے۔
وھو علی کل شیء قدیر . اور وہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی تمام ممکنات پر اس کی قدرت ایک جیسی ہے۔
Read the full tafseer →اے محمد ﷺ بارش سے پہلے اور بارش کے بعد ذرا رحمت خداوندی کے آثار تو دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے سے زمین کے مردہ اور بنجر ہوجانے کے بعد کس طرح اس کو پھر زندہ کرتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جو ذات زمین کے خشک ہوجانے کے بعد پھر اسے تروتازہ کرتی ہے وہی حشر کے لیے مردوں کو زندہ کرنے والی ہے اور وہ ہر ایک چیز مثلا موت وحیات اور مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ۔۔ : اس آیت میں بارش کے ساتھ مردہ زمین کے زندہ کردینے کو قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے۔
وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ : یعنی وہ صرف مردوں ہی کو زندہ کرنے والا نہیں بلکہ وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ مردوں کو زندہ کرنا تو اس کی قدرت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے، جس کا نمونہ تم بارش کے بعد زمین کے زندہ ہونے کی صورت میں دیکھتے ہو۔
Read the full tafseer →یعنی بارش کی طرف دیکھو یعنی عبرت اور استدلال کی نظر سے دیکھو یعنی اس سے یہ استدلال کرو کہ جو اس پر قادر ہے تو وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے ابن عامر حفص اور حمزہ اور کسائی نے آثار جمع کا صیغہ پڑھا ہے باقی قراء نے واحد کا صیغہ پڑھا ہے کیونکہ یہ مضرد کی طرف مضاف ہے کا فاعل ہے یہ بھی جائز ہے کہ فاعل اللہ تعالیٰ کا اسم ہو جس نے آثار جمع کا صیغہ پڑھا ہے تو وہ اس لئے کہ رحمت سے مراد کثرت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (النحل 18) حجدری، ابو حیوہ اور دوسرے علماء نے پڑھا کے ساتھ پڑھا ہے تانیث لفظ رحمۃ کے اعتبار سے ہے کیونکہ رحمت کا اثر اس کے قائم مقام ہوتا ہے گویا یہ بھی رحمت ہی ہے یعنی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
1۔ ابو الشیخ نے العظمۃ میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بادلوں کو خافقین کے درمیان سے لاتی ہیں یعنی آسمان کے کنارے جب وہ ملتے ہیں اسے نکالتی ہیں پھر پھیلاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس کو آسمان پر پھیلا دیتا ہے جس طرح چاہتا ہے پھر پانی بادل پر بہتا ہے پھر اس کے بعد بارش برساتا ہے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجتے ہیں وہ بادلوں سے پانی کو اٹھاتی ہے اور پانی کے ساتھ بادل کے پاس سے گزرتی ہے اسے نچوڑا جاتا ہے جیسے اونٹنی کو دھویا جاتا ہے اور موسلا دھار بارش مشکیزے کا منہ کھولنے کی طرح مگر وہ جدا جدا ہوتی ہے۔
3۔ ابو یعلی وابن…
Read the full tafseer →فَانْظُرْ [پس تو دیکھ ] اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ [اللہ کی رحمت کے نشانات کی طرف ] كَيْفَ يُـحْىِ [کیسے وہ زندہ کرتا ہے ] الْاَرْضَ [زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا ۭ [اس کے مردہ ہونے کے بعد ] اِنَّ ذٰلِكَ [بے شک وہ ] لَمُحْيِ [یقینا زندہ کرنے والا ہے ] الْمَوْتٰى ۚ [مردوں کو ] وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [اور وہ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [قدرت رکھنے والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَانْظُرْ الآی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ ) (الآیۃ) (کہ اے مخاطب تو اللہ کے آثار کو دیکھ لے کہ وہ زمین کو اس کی موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے) اس زمین کو بار بار زندہ فرماتا ہے، بلاشبہ وہی مردوں کو زندہ فرمانے والا ہے۔ زمین کی نظیر سب کے سامنے ہے پھر مردوں کو زندہ کیے جانے میں تردد اور تامل کیوں ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی نے زمین کو بار بار زندہ فرمایا ہے وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا۔ اس میں منکرین بعث بعد الموت کو تنبیہ ہے کہ بار بار اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہو پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکلنے کا کیوں انکار کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–57
ذکر بعض دلائل قدرت برائے اثبات قیامت
قال اللہ تعالیٰ اللہ الذی یرسل الریح۔۔۔ الی۔۔۔ ولاہم یستعتبون۔
(ربط) گذشتہ آیات میں زیاد تر ایسے دلائل قدرت ذکر کئے جو الوہیت اور وحدانیت کے مثبت تھے اب ایسے چند دلائل قدرت ذکر کرتے ہیں کہ جو قیامت اور فنا عالم اور بعث بعد الموت اور حیات ثانیہ کے لئے مثبت ہوں اور بعد ازاں کچھ احوال قیامت کو بیان کیا۔
چناچہ فرماتے ہیں خدا برحق وہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں پھر اٹھاتی ہیں وہ ہوائیں ابر کو پھر پھیلاتا ہے اللہ اس ابر کو آسمان کی جانب میں جس طرح چاہے کہیں کم اور کہیں زیادہ اور کہیں سفید اور کہیں سیاہ پھر اس کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش اس ابر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
38:۔ یعنی باران رحمت پر رحمت الٰہی کے جو آثار مرتب ہوتے ہیں انہیں غور سے دیکھو کس طرح خشک اور بنجر زمین کو اس نے حیات نو، رونق اور شادابی عطا فرمائی یہ اس کی قدرت و صنعت اور اس کی عظمت ووحدانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ان ذلک لمحی الموتی۔ جملہ معترضہ ہے یعنی اس دلیل سے جہاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ظاہر ہوتی ہے وہاں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو تازگی اور زندگی عطا کرسکتا ہے وہ قیامت کے دن مردوں کو بھی دوبارہ زندہ کرلے گا۔ وھو علی کل شیء قدیر۔ یہ ماقبل کے لیے علت ہے وہ چونکہ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی قدرت تمام ممکنات پر حاوی ہے اس لیے وہ حشر و نشر پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا ردّ فرمایا اور ساتھ ساتھ اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں جو اثبات توحید اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو چلاتا ہے ، فضا میں بادل اٹھتے ہیں اور پھر ان سے بارش برسا کر اپنی مخلوق کو خوش کرتا ہے اگرچہ لوگ قبل از بارش مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔ پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کے لیے خوراک بنتے ہیں اور اسی لیے یہ ان کے لیے راحت کا سامان ہوتا ہے۔
مردہ سے زندہ
اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فانظر الی…
Read the full tafseer →فَانْظُرْ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللہِ كَيْفَ يُـحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا 0 ۭ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتٰى 0 ۚ وَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 50
نظر
النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا .
والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
اللہ الذی یرسل الریح الخ یہاں سے اور دوسری نعمت ظاہر فرماتا ہے کہ جس پر نظام عالم منحصر ہے، وہ کیا ؟ بارش کا بھیجنا پھر اس سے زمین کا شاداب کرنا، پھر اس نعمت کے بیان میں کیا کیا اشارات لطیفہ ہیں۔ (1) الذی سے شروع کیا کہ یہ کام جس کا ہے وہ اللہ ہے نہ کہ تمہارے خیالی معبود (2) یرسل الریح کو مقدم ذکر کیا کہ مینہ سے پہلے ہم کیسی ہوائیں چلاتے ہیں، پھر وہ ہوائیں بدلیاں اٹھا لاتی ہیں، پھر اس کو آسمان پر ابر بناکر کس طرح پھیلاتی ہیں۔ کیف یشاء مگر جس طرح اللہ چاہتا ہے کہیں کم ‘ کہیں زیادہ، کبھی ہر جگہ مساوی ‘ کبھی سیاہ رنگ کے بادل، کبھی اور رنگ کے پھر سب کو گھنگھور گھٹا کردیتا ہے، پھر اس میں سے مینہ…
Read the full tafseer →فَانْظُرْ اِلٰٓی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ط اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی ج وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (الروم : 50)
(پس اللہ کی رحمت کے آثار کو دیکھو کہ وہ مردہ پڑی ہوئی زمین کو کس طرح جِلا اٹھاتا ہے، بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
بارش سے بعث بعدالموت پر استدلال
گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بارش کا ذکر یکے بعد دیگرے کیا ہے۔ اس میں شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس طرح بارش کے نزول سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور ہر طرف زندگی کے آثار دکھائی دینے لگتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : بارش پر مزید غور کرنے کا حکم۔
اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ پھر اللہ کی رحمت پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ بارش کے بعد مردہ زمین کو کس طرح زندہ کرتا ہے جو ” اللہ “ مردہ زمین کو زندہ کرتا ہے جس سے کئی قسم کی نباتات اور کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں وہی مردوں کو زندہ فرمائے گا کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ جن ہواؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اگر انہی ہواؤں کو بادصرصر بنادے جو ہر چیز کو جلا کر رکھ دیں تو انسان ناشکری کرنے کے سوا کیا کرسکتے ہیں ؟ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بارش سے نباتات اور دیگر چیزوں کی تخلیق کا حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جو ذات کبریا بارش کے ذریعے…
Read the full tafseer →اعادہ مقدورات میں ابتداء کی طرح ہے :
50: فَانْظُرْ اِلٰٓی ٰاثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ (تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار ملاحظہ کرو۔ کس طرح وہ) یُحْیِ الْاَرْضَ (زمین کو زندہ کرتا ہے) ۔
قراءت : ٰاثِرَ امی، کوفی قراء نے پڑھا سوائے ابوبکر کوفی کے اور دیگر قراء نے اَثَرْ پڑھا ہے۔ رحمت سے یہاں بارش مراد ہے۔ احیائے ارض سے نبات اور انواع و اقسام کے اثمار سے زمین کا آباد ہونا ہے۔
بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ (اس کے مرجانے کے بعد بیشک وہی) یعنی اللہ تعالیٰ ذلک کا مشار الیہ ذات باری تعالیٰ ہے۔ لَمُحْیِی الْمُوْتٰی (ضرور مردوں کو زندہ فرمائے گا) ۔ یعنی بیشک وہ قادر مطلق جس نے زمین کو مردہ و بنجر ہونے…
Read the full tafseer →50۔ ، فانظرالی آثاررحمۃ اللہ، یہ قرأۃ اہل حجاز بصرہ اور ابوبکر اور دوسرے قراء نے ، الی آثارحمۃ اللہ ، جمع ذکر کیا مراداس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت بارش ہے۔ اللہ رب العزت کی رحت کی تاثیرز مین پر کیسے ہوئی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ، اثررحمۃ اللہ ، اس کی نعمت سبزہ وغیرہ کا اگنا۔ ، کیف یحییٰ الارض بعد موتھا ان ذلک لمحی الموتی، جس طرح زمین کو زندہ کیا اسی طرح مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ ، وھو علی کل شیء قدیر،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت نمبر : 48 ۔ 50
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور نعمت تامہ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ (یرسل الریح فتثیر سحابا) ” وہ ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں “ زمین سے (فیبسطہ فی السمآء) پھر اللہ تعالیٰ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے (کیف یشآء) جس حالت میں چاہتا ہے (ویجعلہ) ” اور اس کو کردیتا ہے “ یعنی اس لمبے چوڑے بادل کو (کسفا) ایک گہرا بادل بنا دیتا ہے جو ایک دوسرے کے اوپر جما ہوا ہوتا ہے۔ (فتری الودق یخرج من خللہ) پھر تم اس بادل میں سے چھوٹے چھوٹے قطرے گرتے دیکھتے ہو۔ بارش کے یہ قطرے بیک وقت نہیں گرتے ‘ تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ قطرے جس پر گریں اسے خراب کردیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–60
جوانی ، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے غنیمت ہے
قول باری ہے : (اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعدقوۃ ضعفا وشیبۃ۔ اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے رحم مادر میں ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتداء کی۔ پھر تمہیں اطفال بنایا کہ عہد طفولیت میں تم اپنی ذات کے لئے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں تھے۔ پھر تمہیں طاقت وربنایا اور تمہیں اتنی استطاعت ، عقل وفہم اور سمجھ بوجھ عطا کی کہ تم دنیاوی امور میں تصرف کے ذریعے جلب منفعت اور دفع مضرت کرسکو۔ پھر اس نے تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
70 لفظِ " ریاح " اور " ریح " کے درمیان فرق : " ریاح " کا اطلاق عموماً ان ہواؤں پر ہوتا ہے جو رحمت کا ذریعہ ہوتی ہیں اور " ریح " کا ان پر جو کہ عذاب کا باعث ہوتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ ہوا چلنے کے موقع پر یوں دعا فرمایا کرتے تھے ۔ " اللَّھُمَّ اجْعَلْہا رِیَاحًا وََّلَا تَجْعَلْہَا رِیْحًا " ۔ " اے اللہ ان کو نفع دینے والی ہوائیں بنانا نہ کہ نقصان پہنچانے والی " (جامع البیان، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ عام لوگوں کی تنگ ظرفی کا حال یہ ہے کہ ذرا دیر میں مایوس اور ذرا دیر میں مست و مگن ہوجاتے ہیں۔ بارش میں ذرا توقف اور بندش ہوجائے تو وہ مایوس ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
باران رحمت اور انسان کی ناشکری
تشریح : اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور قدرتوں میں سے ہوائیں، بادل، پانی، زمین اور انسان کا مرنے کے بعد زندہ ہوجانا شامل ہے یہ تمام موضوعات تفصیل سے بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر حال سوچنے والوں کے لیے ان تمام باتوں میں بڑے بڑے سائنسی معجزات موجود ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جو کئی اور کاموں کے علاوہ ایک بہت بڑا کام یہ کرتی ہیں کہ بادلوں کو اپنے زور سے دور دراز علاقوں میں پہنچا دیتی ہیں جہاں بارش ہوتی ہے اور سرد علاقوں میں وہی بادل درجہ حرارت کے تبدیل ہونے سے بجائے پانی کے قطروں کے برف کے ذرات میں بدل کر برف باری کرتے ہیں۔ سمندر میں ہواؤں کے زور پر ہی بادبانی کشتیاں چلتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–53
آیات 41 تا 53
اسرارومعارف
کفر و شرک کی مصیبت اللہ کی ناراضگی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس سے نظام عالم میں خرابی پیدا ہو کر خشکی و تری میں فساد پھیلتا ہے اگرچہ رحمت باری انسان کے سب گناہوں کی سزا اس پر فورا نہیں ڈالتی اور اللہ انسان کو مہلت دیتا ہے مگر اس کے باوجود گناہوں کے اثراتبد کا اظہار ہوتا رہت ہے جسے کافر دنیا ہیں بےحیائی کو عورت کی آزادی کا نام دے کر رواج کردیا گیا آج وہی مصیبت ان کے لیے ہت بڑا عذاب ہے ہر گر کا سکون تباہ ہورہا ہے اولاد کا کوئی نصب نہیں ملتا اور ایڈز جیسے موذی امراض بدکاری کا پھل ہیں ایسے معاش میں سودی نظام کے بڑے برے نتائج دیکھ کر لوگ توبہ کریں اور واپس آجائیں۔ ان سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 5 یعنی جب بارش کی وجہ سے کھیتیاں سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی ہیں اس وقت اگر ہم کوئی ایسی ہوا بھیج دیں جو ان ہری بھری کھیتوں کو جلا کر زرد یعنی خشک کر دے تو یہ لوگ پھر ناشکری پر اتر آئیں اور رونا پیٹنا شروع کردیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ (کافر) نہایت ہی کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوئے ہیں۔ دم بھر میں خوشیاں منانے لگتے ہیں اور دم بھر میں رونے پیٹنے بیٹھ جاتے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(30:50) اثر۔ اثرات، نشانیاں ۔ علامتیں (جو کوئی شے پیچھے چھوڑ جائے) لیکن مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلا :۔
(1) نقش قدم۔ جیسے فھم علی اثارھم یھرعون (37:70) سو وہ انہی کے نقش قدم پر ثلے جاتے ہیں۔
(2) طریقہ۔ جیسے ہم اولاء علی اثری (20:85) وہ میرے طریقہ پر کاربند ہیں۔
(3) بطور استعارہ بمعنی فضیلت جیسے تاللہ لقد اثرک اللہ علینا (12: 91) بجدا اللہ نے تجھ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے۔
رحمۃ اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی رحمت بصورت بارش۔
یحی۔ میں ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے۔ ذلک : ای اللہ الزی قدر علی احیاء الارض بعد موتھا۔
لمحی۔ میں لام تاکید کا ہے۔ الموتی ، المیت کی جمع ہے۔ مردے۔ (بےشک وہی خدا مردوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لغات آیت نمبر 46 تا 50
مبشرات (کوش خبری دینے والیاں) ۔ اجرموا (جنہوں نے جرم کیا) ۔ حق (حق ہے۔ ذمہ داری ہے) ۔ تشیر (وہ پھیلاتا ہے) ۔ سحاب (بادل) ۔ کسف (ٹکڑا۔ تقسیم کرنا ) ۔ ودق (بارش) ۔ اثر (اثر) (نشایاں) ۔
تشریح : آیت نمبر ( 46 تا 50)
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے خزاں کے بعد بہار، مصیبت کے بعد راحت، دکھ کے بعد آرام و سکون اور ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح کفرو شرک اور اللہ کی نافرمانیاں جب حد سے برھ جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیجتا ہے جو اپنی قوم کے لوگوں کو یہ بات بتاتے ہیں کہ اگر انہوں نے کفر و شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ مردے اور بہرے کی مانند ہیں اور بہرہ بھی وہ جس کی پیٹھ پھیری ہوئی ہو کیونکہ اگر بہرے آدمی کا منہ کسی بات کرنے والے شخص کی طرف ہو تو ہونٹوں کی حرکت یا اشارہ سے بھی کچھ سیکھے ان لوگوں میں وہ بات بھی نہیں یہ ایسے بہرے ہیں کہ ان کا منہ بھی بات کرنے والے شخص کی طرف نہیں بلکہ پیٹھ پھری ہوئی ہے جب کفار جنگ بدر میں مارے گئے تو نبی ﷺ نے ان مردوں کے نام لے کر پکارا اور فرمایا کہ ہم نے تو خدا کا وعدہ سچا پالیا، تم لوگوں کو بھی خدا کے فرمانے کا ظہور معلوم ہوگیا، اور اب تم کو معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے تو یہ دن آج نہ دیکھتے۔ حضرت عمر نے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
[25] یعنی جو اللہ مردہ زمین کو زندہ کرسکتا ہے وہ یقینا مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–51
حشرونشر
1: قرآن کا طرز استدلال اتباسا اور اتنا موثر ہے کہ اس میں زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہی نہیں ۔ جہاں آپ نے سنا دل میں اتر گیا مظاہر قدرت کو قرآن پیش کرتا ہے ۔ جن کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں ۔ اور کوئی حرف مدار کا پہلو ہمارے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا ۔ پھر ان سے اتنے چھوٹے انداز میں بڑے بڑے فلسفیانہ مسائل کا استباط کرتا ہے کہ وہی معمولی واقعات منطق کی شہادتیں معلوم دیتی ہیں ۔ مکہ والوں میں ایک گروہ احیاء موتیٰ کا منکر تھا ۔ یعنی اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کیونکر فنائے عام کے بعد پھر انسانوں کے عساکر اٹھ کھڑے ہونگے ۔ وہ حشرونشر کے واقعات کو محض افسانہ سمجھتے تھے ۔ اور ان کی رائے میں یہ…
Read the full tafseer →50۔ سوائے مخاطب ! اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نشانات کو دیکھ کہ وہ زمین کو اس کے خشک ہوئے اور مرے پیچھے کس طرح زندہ اور تر و تازہ کردیتا ہے بلا شبہ یقینا وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا ہے۔ یعنی بارش سے مردہ زمین کے زندہ ہوجانے پر غور و فکر کر کے اس نتیجہ پر پہنچو کہ انسان جو زمین سے پیدا ہوا ہے اسی طرح مرنے کے بعد زندہ ہوجائیگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 7۔ اور پچھلی نعمتیں سب طاق نسیان میں رکھ دیں۔
Read the full tafseer →رحم الہی کے آثار پر غور کرو کہ وہ کس طرح مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے :
50۔ جون کے مہینے کے آخر پر ذرا زمین پر نظر ڈالو تو تم کو سبزے کا نام ونشان بھی نظر نہیں آئے گا اور جدھر نظر دوڑاؤ گے صاف اور چٹیل میدان نظر آئیں گے خصوصا ان علاقوں میں جو بارانی علاقے کہلاتے ہیں کہ ہر طرف زمین مردہ ہی مردہ نظر آرہی ہوتی ہے لیکن اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور آسمان زمین پر لوٹ آتا ہے اور مردہ نظر آنے والی زمین میں زندگی کی روح پھونک دیتا ہے اور وہ تروتازہ ہو کر دیکھتے ہی دیکھتے پھٹنے لگتی ہے اگرچہ اس کا پھٹنا تو نظر نہیں آتا لیکن اس کے پھٹنے کا عمل اس طرح نظر آنے لگتا ہے کہ ہر طرف ہریاول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (Then We took vengeance upon those who were guilty. And it was due on Us to help the believers. -30:47). This verse tells us that Allah Ta’ ala has taken it upon Himself to help the believers. On the face of this statement, one would have expected that Muslims would never be defeated against the infidels. But on many occasions, results have been exactly opposite. Answer to this confusion is at hand in this very verse, that by the word 'believers' those believers are intended who fight with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
73 There is a subtle allusion in the mention of the Prophethood and the rain, one after the other, to the reality that the advent of a Prophet is a blessing for man's moral life even as the coming of the rain proves to be a blessing for his material life. Just as the dead earth awakens to life by a shower of the rain from the sky and starts blooming and swelling with vegetation, so is the morally and spiritually desolate human world quickened to life at the coming down of Divine Revelation and starts blossoming with moral excellences and virtues. This is the disbelievers' own misfortune that…
Read the full tafseer →